Thursday, 12 November 2020

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن: چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا مؤثر حل نکالا ہے۔ اس عمل میں حلق کے اندر بجلی کے ہلکے جھماکے ڈالے جاتے ہیں جس کے بعد مریض کھانا نگلنے میں بہتری محسوس کرتا ہے۔

یہ آلہ روایتی علاج کے مقابلے میں بہت مؤثر ہے جسے برطانوی کمپنی ’فیجینیسِس‘ نے تیار کیا ہے۔ آلے کو فیجینِکس کا نام دیا گیا ہے جو نگلنے کے دائمی اور شدید مرض میں آرام کی وجہ بنتا ہے۔ اس میں ایک تار ناک کے ذریعے حلق کے اندر ڈالا جاتا ہے۔ ٹچ اسکرین سے اسے قابو کیا جاتا ہے اور تار میں ہلکی بجلی پیدا ہوتی ہے جس سے حلق کےاندرونی پٹھے متحرک ہوتے ہیں۔

ٹچ اسکرین پر وقت سیٹ کرکے اگر روزانہ 10 منٹ تک بجلی دی جائے تو جلد ہی مریض کھانے پینے میں آرام وآسانی محسوس کرنے لگتا ہے۔ اکثر مریض صرف تین روز میں بہتر ہونے لگتے ہیں کیونکہ حلق کے متاثرہ حصے کے اعصاب کی تحریک دماغ تک جاتی ہے۔ دماغ میں وہ اس حصے پر اثر ڈالتی ہے جوہمارے کھانے اور نگلنے کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے بعد مریض آرام سے کھانے لگتا ہے اور اسے غذائی نلکی کی ضرورت نہیں رہتی۔

اس ضمن میں برطانوی جامعات سے ملحق کئی ہسپتالوں میں آزمایا گیا ہے اور کل 255 مریضوں پر آزمائش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جرمنی اور آسٹریا میں بھی ایسے مریضوں کو لگایا گیا جو پانچ مختلف اعصابی عارضوں کی وجہ سے کھانے پینے میں شدید تکلیف محسوس کررہے تھے۔

ہر مریض کو تین ماہ تک روزانہ تین مرتبہ دس دس منٹ کے لیے آلے سے بجلی دی گئی اور نگلنے میں مشکل کے مرض ، ڈس فیگیا میں بہت کمی واقع ہوئی۔

یہ تحقیق شاہین حامدی نے کی ہے جو اس ادارے میں چیف ٹیکنکل آفیسر بھی ہیں۔ شاہین کہتے ہیں کہ فیجینِکس کو استعمال کرنا بہت آسان ہے اور مریضوں کو کھانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

The post کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2JWvM1u

سورائسز صرف جلدی بیمار نہیں، علاج میں تاخیر سے اندرونی اعضا متاثر ہوسکتے ہیں، ماہرین امراض جلد

 لاہور: سورائسز صرف جلدی بیماری نہیں اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو دل ، دماغ، جگر، گردے اور دیگر اندرونی اعضا متاثر کر کے زندگی بھر کے لیے معذور بنا سکتی ہے، یہ موروثی بیماری ہونے کے علاوہ شراب، منشیات، تمباکو نوشی اور پروٹین کازیادہ استعمال کرنے والے افراد کو زیادہ لاحق ہو سکتی ہے۔

سورائسز کا جدید ترین طریقہ علاج ’’فوٹو تھراپی‘‘ ہمارے ملک میں بھی دستیاب ہے تاہم اسے مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کی آگاہی کیلیے ڈاکٹرز کے ریفریشر کورسز وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے پروٹوکول کے مطابق سورائسز کی جلد تشخیص، معالج و علاج تک رسائی اور مریض کو نفسیاتی مسائل سے نکالنا ضروری ہے۔ یہ سیمینار سورائسز کے حوالے سے آگاہی دینے میں انتہائی اہم ہے، اس طرح کے آگہی سیمینارز سے اس مرض پر قابو پانے میں خاصی مدد ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین امراض جلد نے ایکسپریس میڈیا گروپ اور نووارٹس فارما کے زیر اہتمام ’’سورائسز‘‘ کے حوالے سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ آگاہی سیمینار سے کیا جس کی میزبانی کے فرائض ایڈیٹر فورم اجمل ستار ملک نے سرانجام دیے۔

میو ہسپتال لاہور کے شعبہ امراض جلد کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ سورائسز دنیا میں عام پائی جانے والی بیماری ہے جس سے 2 فیصد افراد متاثر ہیں، شمالی یورپ اور امریکا میں یہ زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس بیماری میں جسم کے مختلف حصوں پر سرخ رنگ کے دھبے پڑ جاتے ہیں۔

مچھلی کی طرح سفید جھلی بن جاتی ہے۔ سورائسز کا جدید طریقہ علاج ’’فوٹو تھراپی‘‘ پاکستان میں موجود ہے،سربراہ شعبہ امراض جلد لاہور جنرل اسپتال پروفیسر انیلہ اصغر نے کہا کہ مرض کی علامات ظاہر ہونے پر فوری ماہر امراض جلد سے رجوع کرنا چاہیے۔

اگر ابتدا میں ہی تشخیص اور علاج ہوجائے تو پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے۔ مرض بچوں کو بھی متاثر کرتا ہے، 16 سے 22 برس اور 40 سے 50 برس کی عمر کے لوگ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اتائیوں کی وجہ سے درست علاج نہیں ہورہا، حکومت کو ان کیخلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ امراض جلد لاہور جنرل اسپتال ڈاکٹر کہکشاں طاہر نے کہا کہ جلدی امراض سے لوگوں کو زیادہ آگاہی نہیں۔ جنرل پریکٹیشنرز بھی سورائسز جیسی بیماریوں سے لاعلم ہیں یا انتہائی کم آگاہی رکھتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا یہ ایجنڈا ہے کہ جنرل پریکٹیشنرز کو آگاہی دی جائے تاکہ وہ اس کی درست تشخیص کرکے ماہر امراض جلد کو ریفر کرسکیں۔

یہ اچھوت کی بیماری نہیں ہے، یہ مریض کو چھونے سے کسی دوسرے کو نہیں لگتی ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ امراض جلد لاہور جنرل اسپتال ڈاکٹر طاہر کمال نے کہا کہ اگر مرض کو 1 سے 2 برس ہوئے ہیں تو نارمل طریقہ علاج ہے لیکن اگر پیچیدہ ہوگیا ہے اور اس نے دیگر اعضا کو بھی متاثر کیا ہے تو پھر طریقہ علاج بھی اسی لحاظ سے ہوگا۔

The post سورائسز صرف جلدی بیمار نہیں، علاج میں تاخیر سے اندرونی اعضا متاثر ہوسکتے ہیں، ماہرین امراض جلد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Unw9nQ

بیکٹیریا اور خردنامیوں کی مزید 12 ہزار اقسام دریافت

 واشنگٹن: اگرچہ تجربہ گاہوں میں بھی بہت سے بیکیٹریا، خرد نامیوں (مائیکرو آرگنزم) اور یک خلوی آرکیا پیدا کیے جاسکتے ہیں لیکن ان کی تعداد یہیں تک محدود رہی تاہم اب ایک نئے طریقے کے تحت لگ بھگ 12500 خردنامیوں، بیکٹیریا اور آرکیا کی شناخت ہوئی ہے جو اس سے قبل سائنس کی نگاہ سے اوجھل تھے۔

بین الاقوامی ماہرین نے میٹا جینومکس کے ذریعے اس عمل کو انجام دیا ہے۔ ماہرِ جینیات اسٹیفن نے فیش کہتے ہیں کہ ’  میٹاجینوم میں براہِ راست کسی ماحول یا نمونے کو دیکھا جاتا ہے اور اس میں شامل تمام جان داروں کی جینیاتی اور ڈی این اے ترتیب کے تحت انہیں دیکھا جاتا ہے، ضروری نہیں کہ تمام خرد نامیے تجربہ گاہ میں پیدا کیے جائیں کیونکہ میٹا جینومکس کسی بھی قدرتی جگہ سے جینوم کا احوال بتاتا ہے، خواہ وہ کھیت کی مٹی ہو کوئی تالاب ہی کیوں نہ ہو‘۔

ماحول کے میٹاجینومکس عمل سے براہِ راست ہزاروں نئے خرد نامیے سامنے آئے ہیں جو ہماری نگاہوں سے اوجھل تھے لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ 10 ہزار میٹا جینوم کا ڈیٹا جمع کرنے اور اسے دیکھنا بہت مشکل اور وقت طلب عمل ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ کسی بھی ماحول میں تمام جینوم کا ایک ساتھ مطالعہ اور شناخت میٹا جینومکس میں عام ہوتا ہے۔ اس میں جینوم کے آدھے، پونے ٹکڑے ہوتے ہیں جنہیں بعد ازاں جگسا پزل کی طرح جوڑ کر شناخت کیا جاتا ہے۔

اس ڈیٹا میں 52,515 جینیاتی پارچے دیکھے گئے اور اس طرح کئی خردنامیوں کا 50 فیصد جینوم مکمل کرکے نوٹ کیا گیا ہے۔ یہ میٹاجینوم دنیا بھر سے لیے گئے ہیں جن میں سمندر، ریگستان، کھیت اور جانوروں کے مسکن شامل ہیں۔ اس طرح اب بیکٹیریا اور خرد نامیوں کا کیٹلاگ 44 فیصد تک وسیع ہوگیا ہے جو ایک بہت بڑا اضافہ ہے۔

The post بیکٹیریا اور خردنامیوں کی مزید 12 ہزار اقسام دریافت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2UmcDIo

Planning Your Holidays During the COVID-19 Pandemic

Credit: Getty Images With the holiday season fast approaching and coronavirus disease 2019 (COVID-19) surging in most parts of the country, millions of Americans—including me and my family—will break with tradition this year to celebrate in ways that we hope will help to keep us all safe and healthy. Granted, this may present some difficult emotional and logistical challenges, but I’m confident that the American can-do spirit will rise to meet those challenges. I also recognize that this will be hard for many of us. Celebrating holidays alone or with your immediate household members can sound rather dreary. After all, who wants to roast and carve a turkey for just a few people? But, if you look at it another way, the pandemic does offer opportunities to make this holiday a season to remember in new and different ways. Here are a couple of ideas that you may want to consider: Send Gifts. Although COVID-19 has changed our lives in many ways, sending cards or gifts remains a relatively easy way to let loved ones know that you’re thinking of them. Who wouldn’t want to receive some home-baked goodies, a basket of fresh fruit, or a festive wreath? If you enjoy knitting, candle making, or other ways of crafting gifts for the holidays, now’s the time to start planning for Thanksgiving through the New Year. Make Videos. When I’m visiting family, there is often music involved—with guitar, piano, and maybe some singing. But, this year, I’ll have to be content with video recording a few songs and sending them to others by text or email. Come to think of it, the kids and the grandkids might enjoy these songs just as much—or even more—if they can watch them at a time and place that works best for them. (On the other hand, some of them might roll their eyes and decide not to open that video file!) If you don’t play a guitar or like to sing, you can still make your own holiday-themed videos. Maybe share a dance routine, a demonstration of athletic skill, or even some stand-up comedy. The key is to have fun and let your imagination run free. Share a Meal Remotely. Most of our end-of-the-year holidays involve the family sitting around a table overflowing with delicious food. With all of the videoconferencing platforms now available, it is easy to set aside a block of time to share a meal and good conversation remotely with friends and family members, whether they live nearby or across the country. Rather than one cook slaving over a hot stove or a certain person monopolizing the dinner table conversation, everyone gets a chance to cook and share their stories via their smartphone, tablet, or laptop. You can compare your culinary creations, swap recipes, and try to remember to leave room for dessert. If you have a tradition of playing games or giving thanks for your many blessings, you can still do many of these activities remotely. Take an After-Dinner Walk. Due to the physical demands and psychological impacts of the COVID-19 pandemic, it’s been difficult for many of us to stay physically active. The key is making exercise a daily priority, and the holidays are no different. After your holiday meal, go on a virtual group walk through your respective neighborhoods to work off the food. Thanks to your smartphone’s camera, you can share your time outdoors and all of the interesting sights along the way. (Yes, the new playground in the local park looks fantastic, and the neighbors really did just paint their house purple!) Stay Safe. If you plan to go ahead and join a holiday gathering in person, it’s important to remain vigilant, even when interacting with dear friends and loved ones. The greatest risk for spread of COVID-19 right now is these family gatherings. Remember there are risks associated with travel and with interacting with people who’ve not been tested for the coronavirus prior to the event, especially if they reside in a COVID hot spot—which is almost everywhere these days. Try to keep any family gatherings brief and relatively small, about five people or less. If the weather permits, hold the get-together outdoors. To protect yourself and your loved ones, both now and over the holidays, please follow these 3 W’s: • Wear a mask when you are out in public and when you are indoors with people who are not part of your immediate household. The only exception is while eating or drinking!
Watch your distance, staying at least 6 feet away from people who are not part of your immediate household.
Wash your hands thoroughly and frequently. Making all of these adjustments is a lot to consider when you’re trying to have a good time and there are children and older adults in the mix. That’s why I and my wife Diane decided the best plan for us this holiday season is to stay home in Maryland and forgo our traditional trips to family in Michigan and North Carolina. Not only did we want to reduce the risk of possibly contracting COVID-19 from—or transmitting it to—our faraway loved ones, we want to do everything we can to protect our local friends and co-workers from the coronavirus. While this holiday season is likely to be memorable in ways that we never could have imagined, I’m confident that, thanks to the rapid advances being made by medical research, we ultimately will get the COVID-19 pandemic under control so we can once again give everyone we love a big hug in person. Until then, please stay safe. Wishing each of you a wonderful and healthful holiday season, starting with a Happy Thanksgiving! Links: Coronavirus (COVID) (NIH)

Your Health: Holiday Celebrations and Small Gatherings (Centers for Disease Control and Prevention, Atlanta)

Your Health: Personal and Social Activities (CDC)

Post Link

Planning Your Holidays During the COVID-19 Pandemic

NIH Blog Post Date



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/3kjOdty

Wednesday, 11 November 2020

یورک ایسڈ کا علاج غذا سے کیجئے

تیزابیت، تبخیر،گیس اور قبض جیسے عوارض اس قدر عام ہوچکے ہیں کہ ہر دوسرا فرد ان کے ہاتھوں تنگ دکھائی دیتا ہے۔

ملاوٹ سے بھرپور اور مصنوعی غذائی اجزاء کے استعمال سے معدے کی قدرتی کارکردگی بری طرح متاثر ہوکر رہ گئی ہے۔ سگریٹ و چائے نوشی،بازاری مشروبات و بیکری مصنوعات،مرغن اور چٹخارے دار خوراک اور تیز مسالہ جات و فاسٹ فوڈز کے بے دریغ استعمال نے معدے اور انتڑیوں کے افعال واعمال کا ستیا ناس کر دیا ہے۔ تیزابیت،تبخیر اور گیس کی ایک بڑی وجہ قبض سمجھی جاتی ہے۔

جب قبض کے سبب انتڑیوں میں فاسد مادوں کا اجتماع ہوتا ہے تو طبیعت میں ناگواری،بے چینی اور اضطرابی کیفیت کا اظہار سامنے آتا ہے۔ معدے میں تیزابی مادے بہت زیادہ جمع ہوجاتے ہیں تو ان کا اخراج گردوں کے رستے بذریعہ بیشاب مشکل ہوجاتا ہے اور یہی تیزابی مادے بعد ازاں جسم کے مختلف جوڑوں میں جمع ہو کر نقرص،گھنٹیا، شائیٹیکا پین، کمر درد،گردے ناکارہ کرنے ،کولیسٹرول کی افزائش، بلڈ پریشر ،امراض قلب اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا باعث بنتے ہیں۔

جسم میں بڑھے ہوئے تیزابی مادوں کو طبی اصطلاح میں یورک ایسڈ کہا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر سرخ گوشت(Red meet)  گائے کے گوشت، بکرے کے گوشت،کلیجی، پائے، مغز، نہاری، گردوں، کپوروں  میں زیادہ پایا جاتا ہے لیکن جب میٹا بولزم کی کارکردگی درست طور پر کام نہ کر پا رہی ہو تو ٹماٹر،پالک، دالیں، لوبیا اور چنوں وغیرہ کا استعمال بھی یورک ایسڈ کا سبب بن جاتا ہے۔ ایک صحت مند جسم میں 2.4 سے 6.5 ملی گرام تک یورک ایسڈ کی موجودگی لازمی سمجھی جاتی ہے۔

جب یورک ایسڈ مطلوبہ مقدار سے بڑھتاہے تو جسم میں مختلف امراض کی علامات رو پزیر ہونے لگتی ہیں۔ ایک صحت مند انسان کے جسم سے اضافی یورک ایسڈ کی مقدار کو گردے پیشاب کے رستے خارج کرتے رہتے ہیں لیکن جب اس کی مقدار زیادہ بڑھ جائے تو گردے بھی اسے خارج کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ یورک ایسڈ کی بڑھی ہوئی مقدار یوریا کی شکل میں گردوں کی کارکردگی کو متاثر کرنے سمیت جسم کے جوڑوں میں کرسٹل بن کر جمع ہونے لگتی ہے جو بعد ازاں جوڑوں کی حرکات و سکنات میں رکاوٹ کا باعث بن کر درد اورسوجن کا سبب بن جاتی ہے۔

یورک ایسڈ کے مسائل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ بدن میں اس کی مطلوبہ مقدار سے زیادہ جمع نہ ہونے دیا جائے۔ یورک ایسڈ کی غیر ضروری افزائش سے بچنے کے لیے معدے اور انتڑیوں کی کار کردگی کا درست ہونا لازمی ہے۔ معدے میں تیزابیت، تبخیراور گیس کی علامات کو پیدا ہونے سے روکا جائے۔اس کا بہترین حل یہی ہے کہ کم از کم 8  گھنٹے کے وقفے سے کھانا کھایا جائے۔کھانے کے فوری بعد سونے اور نہانے سے بچا جائے۔کھانا کھاتے ہی مشقت والا کام بھی نہ کیا جائے ۔ سخت محنت والا کام کرنے کے فوراً بعد ٹھنڈا پانی پینے سے بھی پرہیز کیا جائے۔رات کا کھانا کھاتے ہی لیٹنے اور سونے سے بھی احتیاط کرنی چاہیے۔

پانی صرف اتنا ہی پیا جائے جتنی طلب ہو،کھانے کے فوری بعد پانی کم سے کم پیا جائے، کولڈ ڈرنکس اور ٹھنڈے پانی کا استعمال بالکل نہ کیا جائے۔ چائے، کافی اور قہوہ وغیرہ کھانے کے بعد مناسب وقفے سے استعمال کیے جائیں۔ چکنائیوں سے لبریز پکوان ، تیز مسالہ جات اور بھنے ہوئے سالن کا استعمال کرنے سے بھی گریز لازم ہے۔

قبض سے بچنے کے لیے ریشے دار غذائی اجزاء جیسے جو اور گندم کا دلیہ، کچی سبزیاں، پھل اور پھلوں کے جوسز وغیرہ بکثرت استعمال کیے جائیں۔معدے اور انتڑیوں کی کارکردگی کو مناسب اور متواتر رکھنے کے لیے نہار منہ تیز  قدموں کی سیر ورزش کرنا بھی ضروری ہے۔سیر اورو رزش کو بھی روز مرہ معمولات کا لازمی حصہ بنائیں۔

ایسے افراد جو یورک ایسڈ کی زیادتی میں مبتلا ہوچکے ہوں انہیں چاہیے کہ سب سے پہلے چائے اور سگریٹ نوشی پر قابو پائیں اور ان کا استعمال کم سے کم کرنے کی کوشش کریں۔گاجر، مسمی اور سیب کا مرکب جوس روزانہ ایک گلاس لازمی پینا شروع کریں۔ ناشتے میں جو کا دلیہ پانی میں بنا ہوااستعمال کیا جائے،دوپہر میں مولی کے شوربے کے ساتھ چپاتی کھائی جائے۔ مولی ،کھیرا، سلاد کے پتے اور پیاز بطور سلاد کھانا بھی مفید ہوتا ہے۔ رات کو ہلکا پھلکا کھانے کے بعد اجوائن کا قہوہ پینا بے حد فوائد پہنچاتا ہے۔

سوتے وقت مربہ ہرڈ تین سے چار دانے دھوکر کھائیں اور گٹھلیوں کو دیر تک چوستے رہیں۔ ایسے افراد جنھیں یورک ایسڈ کی زیادتی کے باعث کمر درد کا عارضہ لاحق ہوگیا ہے،انہیں چاہیے کہ وہ بطورِ علاج نہار منہ معجونِ فلاسفہ کا ایک چھوٹا چمچ صبح و شام کھانا شروع کردیں۔ جن لوگوں کے جوڑوں میں درد کی کیفیت اور سوجن ہوگئی ہو وہ سورنجاں شیریں کا سفوف بنا کر چھوٹے چمچ کا ایک چوتھائی حصہ صبح و شام کھانے کے ایک گھنٹہ بعد نیم گرم پانی کے ساتھ کھایا کریں۔ پانی میں سونف ابال کر پینے کے لیے استعما ل کریں۔

گھریلو طبی تراکیب سے یورک ایسڈ کا خاتمہ

ہمارے گھروں میں عام استعمال ہونے والے اجزاء یورک ایسڈ کا خاتمہ کرنے کے لیے بہترین ثابت ہوتے ہیں۔ ہر گھر کے کچن میں اجوائن لازمی پائی جاتی ہے۔اجوائن ایک چوتھائی چھوٹاچمچ ایک کپ پانی میں پکا کر بطور قہوہ پینا یورک ایسڈ اور اس سے جڑے عوارض سے فوری نجات دلاتا ہے۔

اجوائن کا قہوہ دن میں ایک پینا کافی ہوتا ہے۔ایک پاؤ اجوائن کو لیمن کے پانی میں اچھی طرح بھگو کر خشک کر لیں۔ جب اجوائن خشک ہوجائے تو اس میں آدھ پاؤ کالا نمک اور آدھ پاؤ خوردنی سوڈا (میٹھا سوڈا) ملا کر مرکب بنا لیں۔ دن میں دو بار کھانے کے ایک گھنٹہ بعد نیم گرم پانی کے ساتھ آدھا چھوٹا چمچ کھا لیا جائے۔ تیزابیت، تبخیر، گیس، قبض سمیت یورک ایسڈ کا خاتمہ کرنے کا بہترین آسان اور گھریلو فارمولہ ہے۔

موسم سرما میں اکثر گھروں میں السی کی پنیاں بنانے کا رواج عام ہے۔السی کا عام اور آسان استعمال یہ ہے کہ اسے ہلکا سو بھون کر محفوظ رکھ لیں۔ صبح نہار منہ ایک چمچ السی ایک گلاس نیم گرم پانی میں دو چمچ خالص قدرتی سرکہ ملا کر کھا لیا جائے۔ چند دنوں میں ہی یورک ایسڈ کے عوارض سے نجات مل جائے گی۔ سوہانجنے کے نرم پتوں کو سائے میں خشک کر کے سفوف بنا کر آدھی چمچی نہار منہ نیم گرم پانی میں آدھا لیموں نچوڑ کر کھانے سے بھی یورک ایسڈ کے مسائل سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔

ادرک ہمارے کچن کا تقریباً لازمی حصہ مانی جاتی ہے۔ایک گرام ادرک کو ایک پانی میں اچھی طرح پکا کر اس میں خالص شہد کی آدھی چمچی ملا کر پینا بھی یورک ایسڈ کے خاتمے کا بہترین ذریعہ ہے۔ سبز چائے ایک گرام اور ادرک ایک گرام کو ایک کپ پانی میں پکا کر بطور چائے پینا بھی بے حدمفید ثابت ہوتا ہے۔

سنا مکی کے چند پتے ،چند گلاب کی پتیاں اور ایک گرام ادرک ایک کپ پانی میں پکا کر پینا قبض سمیت یورک ایسڈ کے لیے بہت مفید طبی ترکیب ہے۔ آسگند ایک مشہور نبات ہے،اس کا سفوف بنا کر نہار منہ دودھ کے ساتھ کھانے سے بھی یورک ایسڈ اوراس کے پیدا کردہ مسائل جوڑوں کا درد، کمر درد وغیرہ سے مکمل شفاء نصیب ہوتی ہے۔یورک ایسڈ کی زیادتی کے باعث جوڑوں کی سوجن اور درد میں افاقہ کے لیے سورنجاں شیریں ایک تولہ کو سبز دھنیا کے ساتھ پیس کر پیسٹ بنا لیں۔

متاثرہ جگہوں پر لیپ کرنے سے درد اور سوجن سے فوری افاقہ ہوگا۔گاجر، مسمی، سیب،مولی، کھیرا، بند گوبھی، کریلے وغیرہ کا روز مرہ خوراک میں استعمال لازمی طور پر کیا جانا چاہیے۔قبض سے چھٹکاراپانے کے لیے رات سوتے وقت روغن بادام کے چار چمچ نیم گرم دودھ میں ملا کر پینا معمول بنا لیں۔ دھیان رہے اسپغول کے چھلکے کا زیادہ استعمال پیٹ کے منجملہ امراض کا سبب بنتا ہے،لہٰذا اسپغول کا استعمال کبھی کبھار ہی کیا جا نا چاہیے۔

روز مرہ پرہیز

روز مرہ غذاؤں میں گوشت، چاول، دالیں، لوبیا، مٹر، پالک، بیگن، چائے، سگریٹ وشراب نوشی، کولا مشروبات،بیکری مصنوعات اوربادی و ترش اشیا کے استعمال سے مکمل طور پر پرہیز لازم ہے۔درد دور کرنے والی ادویات کا غیر ضروری استعمال کرنا بھی مناسب نہیں ہوتا۔ اسی طرح کسی مستند معالج کی مشاورت کے بغیر اینٹی بائیوٹیک اوراسٹیرائیڈز ادویات کا استعمال بھی یورک ایسڈ کی افزائش کا سبب بنتا ہے اور گردوں کے لیے مضر صحت ثابت ہوسکتا ہے۔

غیر ضروری طور پر پروٹینز (گوشت ، انڈا ، دالیں، لوبیا مٹر، مکئی ) شوقیہ کیلشیم( ملٹی وٹامنز) اور سدا جوان رکھنے والی بازاری دواؤں اور غذاؤں(فوڈ سپلیمنٹس) سے اجتناب بھی یورک ایسڈکی افزائش سے بچاتا ہے۔

ورزش ہمارے جسم میں غیر ضروری جمع ہونے والے زہریلے مادوں کو (Burn) ختم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔روز مرہ ورزش کو اپنی زندگی میں ایسے ہی شامل کریں جیسے ہم اپنی خوراک اور لباس کا اہتمام کرتے ہیں۔دو کھانوں کے درمیان کم از کم 6 سے 8 گھنٹوں کا وقفہ لازمی کریں تاکہ معد ہ اپنے نظامِ ہضم کو متواتر اور متوازن رکھ سکے۔

موسم کی مناسبت سے خورونوش کا انتخاب کریں۔ سبزیوں اور پھلوں کو اپنی غذا کا لازمی حصہ بنائیں۔ پالک ،ٹماٹر،آڑو،بیگن،اروی، آلو، پھول گوبھی اور دیگر بادی اجزا کے حامل غذائیںاگرچہ یورک ایسڈکی افزائش اور زیادتی کا سبب بنتی ہیں لیکن اپنے معالج کے مشورے سے ان کے استعمال کا طریقہ ،مقدار اور وقت طے کیا جا سکتا ہے۔

The post یورک ایسڈ کا علاج غذا سے کیجئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2UgDVzM

شوگر: وجوہات، اثرات اور پیچیدگیاں

محمد اکرم کے چہرے سے پریشانی اور خوف کے تاثرات عیاں تھے۔ زندگی سے بیزاری اور غربت کے بھیانک احساس نے اُسے بے بس اور مجبور کر دیا تھا۔

تین بچوں کا باپ، کرائے کے گھر پر رہائش پذیر اندرون لاہور کا ایک مزدور، شوگر کی وجہ سے پاؤں پر بننے والے زخم (Ulcer) کے باعث میوہسپتال کے ڈائبیٹیز اینڈ فٹ کیئرکلینک (DFC) میں سرجھکائے ایک کونے میں بیٹھا تھا۔

’’ڈاکٹر صاحب! زخم سے میں تھک چکا ہوں ۔ گزشتہ چھ ماہ سے مختلف ہسپتال، کلینک اور ڈاکٹروں سے علاج کے باوجود زخم ٹھیک نہیں ہوا۔ خدارا! اس کا علاج کریں تاکہ میں گھر کا خرچ اُٹھا سکوں۔‘‘

آنکھوں میں آنسو، لہجے میں تھکاوٹ اور مزاج میں مایوسی واضح طور پر نمایاں تھی۔ چھ ماہ میں زخم اس قدر گہرا اور خراب ہو چکا تھا کہ اگر فوری طور پر اس کی ٹانگ نہ کاٹی جاتی تو یہ تعفن (Septicemia) اس کی جان لے سکتا تھا۔

یہ کہانی صرف اکرم کی نہیں بلکہ دنیا میں ہر 20 سیکنڈز کے بعد کسی اور جگہ پر انہی حالات و واقعات کی وجہ سے شوگر کے باعث ایک مریض اپنی ٹانگ ضائع کر دیتا ہے۔ یاد رہے کہ چند سال قبل تک یہ شرح ہر 30 سیکنڈز تھی جو اب 20 سیکنڈز ہو چکی ہے۔

14 نومبر کو ہر سال عالمی دن برائے شوگر منایا جاتا ہے، جس کا مقصد جہاں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی شوگر کے علاج کے حوالے سے مہارت کو بڑھانا ہے، وہاں عوام میں شوگر کے مرض کی وجوہات، اقسام، طریقہ ہائے پرہیز ،علاج اور اس کی وجہ سے جنم لینے والی پیچیدگیوں (Complications) کو رفع کرنا بھی ہے۔

شوگر کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں

1۔ T1DM(Type 1 Diabetes Mellitus)

یہ قسم عام طور پر بچوں میں پائی جاتی ہے۔ شوگر کے کل مریضوں میں اس کی شرح 5سے 10فیصد ہوتی ہے۔ اس کا دنیا بھر میں علاج کے دسیتاب طریقوں میں سوائے انسولین کے کوئی موثر اور دیر پاعلاج نہیں۔

2۔ T2 DM(Type 2 Diabetes Mellitus)

یہ عام طور پر بڑوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے وجوہات میں خاندانی/ موروثی اثرات کے ساتھ موٹاپا بھی شامل ہے۔ شوگر کے کل مریضوں میں اس کی شرح 90سے95فیصد ہوتی ہے۔ گولیوں کے ساتھ انسولین بھی اس کے علاج میں شامل ہے۔

3۔ GDM  (Gestational Diabetes Mellitus)

یہ حاملہ خواتین میں پائی جاتی ہے۔ حاملہ خواتین میں اس کی شرح 10فیصد ہوتی ہے۔

انتہائی دلچسپ اور قابل عمل بات یہ ہے کہ T2DM مریضوں میں سے کم وبیش 90 فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی شوگر، ہفتے میں پانچ دن موثر ورزش، صحت مند متوازن خوراک اور مناسب وزن اختیار کرنے سے مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ 2015ء تک یہ شرح 80 فیصد تھی جو کہ اب بڑھ کر 90 فیصد ہو چکی ہے۔

دوسرے نیشنل ڈائبیٹیز سروے آف پاکستان (2nd National Diabetes Survey of Pakistan) منعقدہ 2016-17 ء کے مطابق پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی شرح تقریباً 27 فیصد ہے، جن میں سے تقریباً 20 فیصد اپنے مرض کے بارے میں علم رکھتے ہیں جب کہ 7 فیصد شوگر کے مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود لاعلم ہیں، مزید برآں پاکستان میں Pre-Diabetes کی شرح تقریباً 15 فیصد ہے اور یہ وہ افراد ہیں جو بداحتیاطی اور لاعلمی کے باعث اگلے تین سے پانچ سالوں میں شوگر کے مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

شوگر کی وجہ سے جسم کا کوئی عضو (Organ) اور حصہ (Tissue)ایسا نہیں ہوتا کہ جو اس کی (Complication) یعنی پیچیدگی سے محفوظ رہے بہت سی (Complications) کے ساتھ پاؤں میں ہونے والی Diabetic Foot Disease پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کی شدت (Morbidity) بہت زیادہ ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان بھر میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر Diabetes  کی وجہ سے ہونے والی پاؤں کی complication کا علاج کرنے کے لیے فٹ کیئر کلینکس (Foot Care Clinics)  نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند سال قبل تک ہر 30 سیکنڈ کے بعد شوگر کی وجہ سے جو ٹانگ کاٹی جا رہی تھی اب بڑھ کر 20 سیکنڈ ہو چکی ہے۔ اس complication کا علاج کرنے کے لیے ہمیں حکومتی سطح پر موثر ترجیحی پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔

صحت کے پالیسی ساز اداروں کو درج ذیل اقدامات فوری طور پر کرنے کی ضرورت ہے۔

۱۔عوام اور اداروں میں شوگر کے حوالے سے آگاہی دینے کے لیے مہمات (Campaigns) کا آغاز

۲۔الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال

۳۔ہیلتھ کیئر پروفیشنلز (Healthcare Professionals) جن میں پیرا میڈکس اور ڈاکٹرز شامل ہیں، ان کی پیشہ وارانہ مہارت میں اضافہ (Capacity Building)کرنے کے لیے ورکشاپس کا انعقاد

۴۔ ہر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) کی سطح پر ڈائبیٹیز اینڈ فٹ کیئر کلینکس کا انعقاد ہونا چاہیے۔

(انچارج ڈائبیٹز اینڈ فٹ کیئر کلینک، میو ہسپتال، لاہور)

The post شوگر: وجوہات، اثرات اور پیچیدگیاں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/38Ea7FF

شوگر: وجوہات، اثرات اور پیچیدگیاں

محمد اکرم کے چہرے سے پریشانی اور خوف کے تاثرات عیاں تھے۔ زندگی سے بیزاری اور غربت کے بھیانک احساس نے اُسے بے بس اور مجبور کر دیا تھا۔

تین بچوں کا باپ، کرائے کے گھر پر رہائش پذیر اندرون لاہور کا ایک مزدور، شوگر کی وجہ سے پاؤں پر بننے والے زخم (Ulcer) کے باعث میوہسپتال کے ڈائبیٹیز اینڈ فٹ کیئرکلینک (DFC) میں سرجھکائے ایک کونے میں بیٹھا تھا۔

’’ڈاکٹر صاحب! زخم سے میں تھک چکا ہوں ۔ گزشتہ چھ ماہ سے مختلف ہسپتال، کلینک اور ڈاکٹروں سے علاج کے باوجود زخم ٹھیک نہیں ہوا۔ خدارا! اس کا علاج کریں تاکہ میں گھر کا خرچ اُٹھا سکوں۔‘‘

آنکھوں میں آنسو، لہجے میں تھکاوٹ اور مزاج میں مایوسی واضح طور پر نمایاں تھی۔ چھ ماہ میں زخم اس قدر گہرا اور خراب ہو چکا تھا کہ اگر فوری طور پر اس کی ٹانگ نہ کاٹی جاتی تو یہ تعفن (Septicemia) اس کی جان لے سکتا تھا۔

یہ کہانی صرف اکرم کی نہیں بلکہ دنیا میں ہر 20 سیکنڈز کے بعد کسی اور جگہ پر انہی حالات و واقعات کی وجہ سے شوگر کے باعث ایک مریض اپنی ٹانگ ضائع کر دیتا ہے۔ یاد رہے کہ چند سال قبل تک یہ شرح ہر 30 سیکنڈز تھی جو اب 20 سیکنڈز ہو چکی ہے۔

14 نومبر کو ہر سال عالمی دن برائے شوگر منایا جاتا ہے، جس کا مقصد جہاں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی شوگر کے علاج کے حوالے سے مہارت کو بڑھانا ہے، وہاں عوام میں شوگر کے مرض کی وجوہات، اقسام، طریقہ ہائے پرہیز ،علاج اور اس کی وجہ سے جنم لینے والی پیچیدگیوں (Complications) کو رفع کرنا بھی ہے۔

شوگر کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں

1۔ T1DM(Type 1 Diabetes Mellitus)

یہ قسم عام طور پر بچوں میں پائی جاتی ہے۔ شوگر کے کل مریضوں میں اس کی شرح 5سے 10فیصد ہوتی ہے۔ اس کا دنیا بھر میں علاج کے دسیتاب طریقوں میں سوائے انسولین کے کوئی موثر اور دیر پاعلاج نہیں۔

2۔ T2 DM(Type 2 Diabetes Mellitus)

یہ عام طور پر بڑوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے وجوہات میں خاندانی/ موروثی اثرات کے ساتھ موٹاپا بھی شامل ہے۔ شوگر کے کل مریضوں میں اس کی شرح 90سے95فیصد ہوتی ہے۔ گولیوں کے ساتھ انسولین بھی اس کے علاج میں شامل ہے۔

3۔ GDM  (Gestational Diabetes Mellitus)

یہ حاملہ خواتین میں پائی جاتی ہے۔ حاملہ خواتین میں اس کی شرح 10فیصد ہوتی ہے۔

انتہائی دلچسپ اور قابل عمل بات یہ ہے کہ T2DM مریضوں میں سے کم وبیش 90 فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی شوگر، ہفتے میں پانچ دن موثر ورزش، صحت مند متوازن خوراک اور مناسب وزن اختیار کرنے سے مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ 2015ء تک یہ شرح 80 فیصد تھی جو کہ اب بڑھ کر 90 فیصد ہو چکی ہے۔

دوسرے نیشنل ڈائبیٹیز سروے آف پاکستان (2nd National Diabetes Survey of Pakistan) منعقدہ 2016-17 ء کے مطابق پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی شرح تقریباً 27 فیصد ہے، جن میں سے تقریباً 20 فیصد اپنے مرض کے بارے میں علم رکھتے ہیں جب کہ 7 فیصد شوگر کے مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود لاعلم ہیں، مزید برآں پاکستان میں Pre-Diabetes کی شرح تقریباً 15 فیصد ہے اور یہ وہ افراد ہیں جو بداحتیاطی اور لاعلمی کے باعث اگلے تین سے پانچ سالوں میں شوگر کے مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

شوگر کی وجہ سے جسم کا کوئی عضو (Organ) اور حصہ (Tissue)ایسا نہیں ہوتا کہ جو اس کی (Complication) یعنی پیچیدگی سے محفوظ رہے بہت سی (Complications) کے ساتھ پاؤں میں ہونے والی Diabetic Foot Disease پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کی شدت (Morbidity) بہت زیادہ ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان بھر میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر Diabetes  کی وجہ سے ہونے والی پاؤں کی complication کا علاج کرنے کے لیے فٹ کیئر کلینکس (Foot Care Clinics)  نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند سال قبل تک ہر 30 سیکنڈ کے بعد شوگر کی وجہ سے جو ٹانگ کاٹی جا رہی تھی اب بڑھ کر 20 سیکنڈ ہو چکی ہے۔ اس complication کا علاج کرنے کے لیے ہمیں حکومتی سطح پر موثر ترجیحی پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔

صحت کے پالیسی ساز اداروں کو درج ذیل اقدامات فوری طور پر کرنے کی ضرورت ہے۔

۱۔عوام اور اداروں میں شوگر کے حوالے سے آگاہی دینے کے لیے مہمات (Campaigns) کا آغاز

۲۔الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال

۳۔ہیلتھ کیئر پروفیشنلز (Healthcare Professionals) جن میں پیرا میڈکس اور ڈاکٹرز شامل ہیں، ان کی پیشہ وارانہ مہارت میں اضافہ (Capacity Building)کرنے کے لیے ورکشاپس کا انعقاد

۴۔ ہر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) کی سطح پر ڈائبیٹیز اینڈ فٹ کیئر کلینکس کا انعقاد ہونا چاہیے۔

(انچارج ڈائبیٹز اینڈ فٹ کیئر کلینک، میو ہسپتال، لاہور)

The post شوگر: وجوہات، اثرات اور پیچیدگیاں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/38Ea7FF

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن:  چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا م...