Monday, 31 December 2018

سال 2019 میں خوش رہنے کے 10 آسان ٹوٹکے

 لندن: امریکا میں شائع ہونے والی ایک کتاب ’ وین لائکس آر ناٹ اینف، اے کریش کورس ان دی سائنس آف ہیپینیس‘ کا ہرجگہ چرچہ ہے جسے واشنگٹن یونیورسٹی ان سینٹ لوئی کے پروفیسرٹم بونونے تحریرکیا ہے۔ اس کتاب میں خوش رہنے کے سائنسی طریقے بیان کئے گئے ہیں۔

اس کتاب کے چند اہم طریقے آپ کوسال 2019 میں مسرور اور خوش رکھنے میں مدد فراہم کریں گے۔ تو پہلے اس کتاب سے اخذ کردہ 10 ٹوٹکے یہ ہیں جو آپ کی مسکراہٹوں میں اضافے کی وجہ بنیں گے۔

چہل قدمی کے لیے باہر جائیں

کئی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہےکہ فطری ماحول میں جاکر چند منٹوں کی چہل قدمی سے موڈ اور توانائی بہتر ہوتی ہے۔ تاہم ورزش کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ ورزش سے دماغ کو سکون پہنچانے والے کیمیکلز خارج ہوتے ہیں اور پورے بدن پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

دولت ہی کافی نہیں

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ دولت سے خوشی نہیں خریدی جاسکتی۔ اس لیےاس سال رقم کے بدلے کوئی مادی شے کی بجائے علم اور تجربہ حاصل کرنے کی کوشش کیجئے۔ رقم خرچ کرکے کسی پرفضا مقام پر جائیں اور زندگی کو قریب سے دیکھیں۔ کسی کی مدد کرکےدلی سکون حاصل کیجئے۔ نفسیات داں ثابت کرچکے ہیں کہ خیر کے کام اور دیگر لوگوں کی مدد سے دماغی، جسمانی اور نفسیاتی فوائد حاصل ہوتےہیں۔

اپنے لیے وقت نکالیے

روزانہ 30 منٹ اپنے لیے نکال کر کوئی اچھا کام اپنے لیے انجام دیجئے۔ یہ وقت آپ کسی کی مدد کے لیے بھی مختص کرسکتے ہیں اورخوشی پاسکتے ہیں۔ تاہم اپنی فلاح کے لیے کام کرنے سے وقت کی تنگی کا احساس ختم ہوتا ہے اورزندگی پر آپ کا کنٹرول بڑھتا ہے۔ اس طرح حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہے۔

ناکامی کا اعتراف کیجئے!

ناکامی پر ردِ عمل کا طریقہ ہمیں خوش یا اداس کرتا ہے۔ ناکامی ایک بہترین استاد ہے جو تجربہ ضرور دیتی ہے۔ یاد ہے کہ آئی بی ایم کے سربراہ تھامس واٹس نے کیا کہا تھا ، ’ اگر تم کامیابی کی شرح بڑھانا چاہتے ہوتو ناکامیوں کی شرح دوگنی کردو۔‘

نیند پوری کیجئے

نیند دماغ کی مرمت کرتی ہے اور پوری نیند لینے کو مسلسل معمول بنائیں۔ اس سے موڈ بہتر ہوتا ہے اور جسم میں محنت کرنے کی توانائی اور جذبہ بڑھتا ہے۔ نیند کی کمی دماغی صلاحیتوں کے لیے انتہائی مضر ہے۔ اسی لیے نیند کو اہمیت دیجئے تاہم آٹھ گھنٹے سے زائد کی نیند سے بھی اجتناب کیجئے۔

عزم و حوصلے کو بڑھائیں

جس طرح ہم ورزش کرکے تن کو مضبوط کرتے ہیں عین اسی طرح عزم (وِل پاور) کو بڑھانے کی مشق بھی کیجئے۔ روزمرہ کاموں میں ہمارا رویہ اور موڈ مضبوط ہو تو ہم کاموں پر متوجہ رہتے ہیں۔ بار بار فون دیکھنے سے اجتناب کیجئے اور بازار یا اسٹور میں جاتے ہوئے میٹھا کھانے یا چاکلیٹ خریدنے سے دور رہیں۔ یہی عزم مضبوط کرنے کی مشق ہے۔ عزم و حوصلہ بڑھائیں اور خوشیاں حاصل کیجئے۔

خود کا دوسروں سے موازنہ نہ کیجئے

دوسروں کو دیکھ کر اپنا موازنہ کرنا اداسی اور موڈ خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دوسروں کی مالی حیثٰیت اور طرزِ زندگی دیکھ کر کبھی اپنا موازنہ نہ کیجئے کیونکہ یہ بلا کی طرح آپ پر حاوی ہوکر مستقل مایوس کرنے کا رحجان ہے۔ اپنے معیارات قائم کیجئے جو حقیقت سے قریب ہوں۔

ملاقات کے لیے وقت نکالیے

کسی سے ملاقات اور بات چیت کے لیے ضرور وقت نکالیے جو نفسیاتی صحت کے لیے ایک عمدہ نسخہ ہے۔ دوستوں سے بات کرنا ایسا ہے جیسا کہ کوئی درد کُش دوا لیتا ہے۔ سائنسی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ ہم خیال دوستوں سے ملاقات خوشی کے کئی لمحات فراہم کرتی ہے۔ ہفتے میں ایک گھنٹہ کسی نہ کسی دوست، احباب یا رشتے داروں میں گزاریئے۔

سوشل میڈیا کا وقت کم کیجئے

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنا الجھن اور اداسی کو جنم دیتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر وقت کو کم سے کم کیا جائے۔ کئی مطالعوں سے انکشاف ہوا ہے کہ فیس بک کے استعمال سے خود اعتمادی کم ہوتی ہے اور اداسی بڑھتی ہے۔ اس لیے باہر نکل کر لوگوں سے حقیقی انداز میں جاکر ملیں جس کا ہم اوپر بھی ذکر کرچکے ہیں۔

شکر اداکرنا سیکھیں

زندگی کے پرسکون معاملات اور صحت کو یاد کرکے اللہ کا شکر ادا کیجئے۔ ساتھ ہی دوستوں اور ہمدردوں کا بھی اعتراف کرکے ان کے شکرگزار بنیں۔ شکروقناعت ایک سادہ لیکن طاقتور شے ہے جو آپ کی زندگی میں مسرت بکھیرسکتی ہے۔

The post سال 2019 میں خوش رہنے کے 10 آسان ٹوٹکے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2SutZAl

Medical News Today: Diabetes and erectile dysfunction may be genetically linked

A new, large-scale genomic analysis suggests that having a genetic predisposition to type 2 diabetes may cause erectile dysfunction.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2LHBHVd

Medical News Today: Can exercise lower blood pressure as effectively as drugs?

The most common treatment for high blood pressure consists of taking specific medication, but could regular exercise bring the same benefits?

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2LIJmCv

Sunday, 30 December 2018

سبزے کے درمیان رہائش، دل کو رکھے صحتمند

کینٹکی، امریکہ: ایک چھوٹے سے عملی مشاہدے سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ سرسبز مقامات کے پاس رہتے ہیں اور درختوں کے قریب ہوں وہ دماغی تناؤ کے کم کم شکار ہوتے ہیں ۔ اس سے دل کی شریانوں کی صحت اچھی رہتی ہے اور وہ دل کے امراض اور فالج کے خطرے سے دور رہتے ہیں۔

دوسری جانب آبادی کی سطح پر سبزے میں رہنے والے افراد کو ہسپتال جانے کی ضرورت بھی کم پیش آتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک چھوٹے پیمانے کا  مطالعہ ہے تاہم اس کی تفصیلات جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہوئی ہے۔ تاہم ماہرین ہر فرد پر اس کے یکساں اثرات کا دعویٰ نہیں کررہے۔

اس تحقیق کے لیے لوئی ویلی کینٹکی کے ایک ہسپتال میں 408 مریضوں کی خون اور پیشاب میں تناؤ اور امراضِ قلب کے بایومارکرز دیکھے گئے ۔ ساتھ ہی ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا اور یوایس جی ایس سے ہر شخص کے قریب موجود سبزے کی تفصیلات بھی اس کےڈیٹا کے ساتھ جمع کرکے پیش کی گئیں۔

ان میں سے جو لوگ سب سے زیادہ درختوں اور سبزے والےمقام پر رہتے تھے ان میں پیشاب میں ایپی نیفرائن کی مقدار سب سے کم تھی جو ذہنی تناؤ کو ظاہر کرتی ہے۔ جبکہ ان کی پیشاب میں آکسیڈیٹو اسٹریس کا ایک اور علامتی بایومارکر ایف ٹو آئسوپروسٹین بھی کم تھا۔ اگر یہ دونوں علامات زیادہ ہوں تو مریض اتنا ہی تناؤ کا شکار ہوسکتا ہے۔

ایک اور بات سامنے آئی کے ہرے بھرے ماحول میں رہنے والے افراد کی قلبی شریانیں بہت اچھی حالت میں رہتی ہیں۔ اس رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ارونی بھٹناگر نے کہا کہ فطری نظاروں کے قریب وقت گزارنے سے صحت پر حیرت انگیز اثرات مرتب ہوتےہیں۔

سروے میں شامل افراد کی اوسط عمر 51 برس تھی اور ان میں سے جو لوگ سبزے کے اطراف نہیں رہتے تھے ان میں کولیسٹرو، بلڈ پریشر اور تناؤ کی کیفیات دیکھی گئی تھیں۔ اسی بنا پر ماہرین نے کہا ہے کہ شہروں میں شجرکاری کی جائے اور سبزے کے قریب وقت گزارنے کو ترجیح دی جائے۔

The post سبزے کے درمیان رہائش، دل کو رکھے صحتمند appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2TpcgdJ

Medical News Today: Mindfulness 'has huge potential' as a weight loss strategy

New evidence supports the idea that mindfulness techniques can enhance and facilitate weight loss efforts by encouraging better eating habits.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2GNT73H

Medical News Today: Does magnesium hold the key to vitamin D benefits?

Research has linked low vitamin D levels with a range of conditions, including bowel cancer. But, without magnesium, vitamin D may not function properly.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2AlTeh4

Saturday, 29 December 2018

دوسروں کی مدد دماغ پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے

پٹس برگ: قدرت نے انسان کو دردِ دل کے واسطے پیدا کیا ہے اور اب معلوم ہوا ہے کہ دوسروں کی مدد خواہ وہ اخلاقی ہو یا مالی اس کے جسم، ذہن اور نفسیات پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اگرچہ ماہرین ایک عرصے سے مدد اور رحم دلی کو انسانی نفسیات کے لیے مفید قرار دیتے آرہے ہیں تاہم اب یونیورسٹی آف پٹسبرگ نے اسے عملی طور پر بھی ثابت کیا ہے۔

یونیورسٹی کے ماہرین نے 45 ایسے افراد کو بھرتی کیا جنہیں کوئی فلاحی کام سونپا گیا جس میں کسی کی مدد کرنا، خیرات کرنا یا کچھ بھی بہتر کام شامل تھا۔ ان میں سے جن شرکا نے مدد کا ارادہ کیا ان کے دماغ کے دو گوشوں میں سرگرمی نوٹ کی گئی جسے خاص اسکین اور ایم آر آئی کے ذریعے دیکھا گیا۔

دوسری حیرت انگیز بات یہ بھی نوٹ کی گئی کہ خیر کا کام کرنے والوں کے دماغ کے تین اہم گوشوں میں وہ سرگرمی کم ہوئی جو جسمانی درد، تناؤ، بلڈ پریشر اور اندرونی جلن کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے بعد یونیورسٹی آف پٹس برگ نے مزید 400 رضاکاروں کا جائزہ لیا جو کسی نہ کسی خیراتی اور مدد کے کام میں شامل رہتے تھے اور ان کے دماغ میں بھی یہی مثبت سرگرمی دیکھی گئی۔

یونیورسٹی آف پٹس برگ سے وابستہ اور مطالعے میں شامل نفسیات کی ماہر پروفیسر ٹریسٹین اینا گاکی نے بتایا کہ انسان دوسرے انسان کا محتاج ہے، ہم اپنی پیدائش سے لے کر زندہ رہنے تک کسی نہ کسی سے مدد چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مدد کرنا ہمارے دماغوں میں لکھا ہے اور اس سے ہی انسان کا دماغی سرکٹ اور نفسیاتی ذمے داریاں پوری ہوتی ہیں لیکن خیرات اور مدد کرنے سے خود ہمارے جسم پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ دوسروں کی مدد کرنے والے رضاکار بیمار کم ہوتے ہیں اور طویل عمر پاتے ہیں۔ اس سے خود اعتمادی بڑھتی ہے اور ڈپریشن جیسے منفی رجحانات کم ہوتے ہیں۔

ماہرین نے زور دیا کہ والدین اپنے بچوں کے سامنے رحم دلی اور مدد کا عملی مظاہرہ کریں اور انہیں کم عمری سے ہمدردانہ امور کی جانب راغب کریں۔

The post دوسروں کی مدد دماغ پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2AmRaW1

Medical News Today: How coffee might protect against Parkinson's

Over recent years, it has been clear that coffee protects against Parkinson's disease. A recent study tries to pin down the exact molecules involved.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2BLPipN

Medical News Today: Bipolar: Physical activity may boost mood and energy

New research suggests that physical activity may treat depressive symptoms in bipolar disorder, as scientists find a link between motor activity and mood.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2SmfvlH

Friday, 28 December 2018

درخت کی چھال جو زخم بھرنے میں تمام مرہموں سے زیادہ مؤثر

 لندن: کٹے پھٹے زخم، جلی ہوئی جلد، ناسور اور دیگر نشانات ختم کرنے کے لیے مہنگی کریمیں اور لوشن استعمال کیے جاتے ہیں مگر ایک درخت ایسا ہے جس کی چھال سے بنا مرہم ان سب پر حاوی ثابت ہوا جس کی افادیت سائنس نے بھی تسلیم کرلی ہے۔

برطانیہ میں مڈ ایسکس اسپتال کے سینٹ اینڈریو مرکز برائے جلن و پلاسٹک سرجری کے ڈاکٹروں نے سُندر(بِرچ) کے درخت کی چھال سے جیل نما مرہم بنایا ہے جسے استعمال کرکے 86 فیصد مریضوں کے زخم و ناسور روایتی مرہموں کے مقابلے میں قدرے تیزی سے مندمل ہوئے۔ اس کی وجہ درخت کی چھال میں موجود ایک خاص کیمیکل ’بیٹیولِن‘ پایا جاتا ہے۔

اگرچہ افریقا اور ایشیا میں سُندر کی چھال صدیوں سے زخم بھرنے میں استعمال ہوتی رہی ہے تاہم اب ایک جرمن کمپنی نے اس مرکب کو ’اولیو جیل ایس ٹین‘ کے نام سے تیار کرنا شروع کردیا ہے جو اگلے سال کے وسط تک بازار میں عام دستیاب ہوگا۔  اب امریکا اور آسٹریلیا میں اس کی منظوری کے لیے درخواستیں بھی دائر کردی گئی ہیں۔

برطانوی ماہرین نے حال ہی میں مرہم کا فیز تھری (آخری) ٹرائل پورا کیا ہے جو انسانوں پر آزمایا جاتا ہے۔ اکثر مریضوں نے تمام مرہموں اور کریم کے مقابلے میں اسے بہتر قراردیا ہے۔

اس کی اہم بات یہ بھی ہے کہ سندر چھال کا مرہم ایک نایاب موروثی مرض، ایپی ڈرمائلوسِس بُلوسا (ای بی) کی شفا میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس مرض میں جلد کچی ہوجاتی ہے اور اس پر جگہ جگہ آبلے پڑجاتے ہیں۔

بعد ازاں ماہرین نے اسے 57 مریضوں پر آزمایا جن کے زخم ٹھیک ہونے میں عموماً تین ہفتے درکار تھے۔ ہر مریض کے آدھے زخم پر روایتی مرہم اور بقیہ نصف پر سُندردرخت کی چھال کا جیل لیپا گیا۔ جہاں چھال کا مرہم لگا اس جگہ کا زخم دوسرے دن سے ہی ٹھیک ہونے لگا۔

چھال کے مرہم پر بنی اولیو جیل ایس ٹین کریم نے اوسط 7.6 روز میں زخم بھردیا جبکہ روایتی مرہم نے اس میں 8.8 دن لگائے۔ اس کے علاوہ درخت کے جیل میں بیکٹیریا، جلن اور زخموں کے نشانات دور کرنے والے اثرات بھی نوٹ کیے گئے۔

The post درخت کی چھال جو زخم بھرنے میں تمام مرہموں سے زیادہ مؤثر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2EU895Z

Medical News Today: Through my eyes: Addiction and recovery

I had what appeared to be the perfect life. Then my life spiralled into substance abuse and depression. This is the story of my addiction and my recovery.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2Q8DZNt

Medical News Today: Moderate drinking tied to lower risk of hospitalization

A new study finds that moderate drinking has associations with a lower risk of hospitalization. The results also confirm the health risks of heavy drinking.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2BI6lcb

Thursday, 27 December 2018

دل کے مریضوں کیلیے پہنی جانے والی ای سی جی مشین تیار

کیمبرج: دل کے بعض مریضوں کی پل پل بدلتی جسمانی کیفیات اور دل کے دھڑکن پر نظر رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ معمولی غفلت دل کے جان لیوا دورے اور فالج وغیرہ کی وجہ بن سکتی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کے ایک پروفیسر اور کیمبرج سائنس پارک کے ماہرینِ قلب نے مشترکہ طور پر’ہارٹ ویئر‘ نامی ایک سینسر بنایا ہے جو دل کی بے ترتیب اور خطرناک دھڑکن کو نوٹ کرتا ہے اور اس کی پشت پر مصنوعی ذہانت موجود ہے جو ایک بہت بڑے ڈیٹا بیس سے وابستہ ہے۔

سینے پر پہنے جانے والے اس ہلکے پھلکے اور کم خرچ آلے کو ڈاکٹر امین شکور، پروفیسر رابرٹو کیپولہ اور جیمز چارلس نے ڈیزائن کیا ہے اور اب اس آلے کو انسانوں پر آزمایا جارہا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ وائرلیس آلہ ہے جس کی تفصیلات فون یا کسی اور آلے پر وصول کی جاتی ہیں۔ دوسری خاص بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے یہ مریض میں فالج کے خطرے کی نشاندہی بھی کرسکتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں دل کی بے ترتیب دھڑکن اور فالج کے خطرے سے دوچار ہزاروں لاکھوں مریض موجود ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر شکور کے مطابق یہ آلہ فالج اور دل کی بگڑتی ہوئی کیفیت کی فوری نشاندہی کرسکتا ہے۔ 24 گھنٹے کی ای سی جی میں بھی دل کی بے قاعدگی کو ڈھونڈ نکالنا بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے کے مترادف ہوتا ہے اسی لیے پورے نظام کو مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) سے مدد لینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ہارٹ ویئر میں درستی کی شرح 95 فیصد ہے۔ یہ ای سی جی کے علاوہ آکسیجن کی مقدار، نبض، درجہ حرارت اور دیگر جسمانی کیفیات بھی نوٹ کرتا رہتا ہے اور مکمل طور پر واٹر پروف ہے۔

The post دل کے مریضوں کیلیے پہنی جانے والی ای سی جی مشین تیار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2ETZNe1

Medical News Today: Prostate cancer: New, quicker test to assess metastasis risk

A newly developed test can detect the risk of metastasis in people with prostate cancer at a quicker rate, lower cost, and using smaller tissue samples.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2LBXNbp

Medical News Today: Study finds link between obesity and sense of smell

A recent review investigates the surprising links between the sense of smell and obesity risk. The findings have implications for future treatments.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2RhaY70

Wednesday, 26 December 2018

ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے والی چند غذائیں

ہائی بلڈ پرییشر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے جب کہ ذہنی دباؤ اور اسٹریس اس میں اضافہ کردیتا ہے تاہم ماہرین طب کاکہنا ہے کہ چند ایسی غذائیں ہیں جن کے استعمال سے بآسانی بلڈر پریشر کے لیول کو کم کیا جاسکتا ہے۔

پالک کا استعمال: پالک میں میگنیشیم اور پوٹاشیم بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے جو جسم میں بلڈ پریشر کو کم کرکے اسے نارمل رکھتا ہے اس کے علاوہ دیگر سبزیوں کا استعمال بھی بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد گار ہوتا ہے ان میں سلاد، بند گوبھی اور کھیرا شامل ہے۔

سیاہ چاکلیٹ: سیاہ چاکلیٹ کا استعمال بھی بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دن میں 25 سے 30 کلوریز لینے سے بلڈ پریشر کو نارمل کیا جا سکتا ہے اور یہ مقدار سیاہ چاکلیٹ میں پائی جاتی ہے اس لیے چاکلیٹ کھانے کے شوقین عام طور پر بلڈ پریشر کا شکار نہیں ہوتے۔

بالائی سے الگ کیا ہوا دودھ: ایسا دودھ جس سے بالائی نکال لی گئی ہو اپنے اندر بلڈ پریشر کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایسے دودھ میں کیلشیم، پوٹاشیم اور وٹامن ڈی ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں جو بلڈ پریشر کو نارمل رکھ کر جسم کو صحت مند بناتے ہیں۔

ٹماٹر کا استعمال: ٹماٹر اینٹی آکسی ڈنٹ سے بھر پور ہوتا ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سویا بین: سویا بین میں بھی پوٹاشیم پایا جاتا ہے جو جسم کے بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

بلیو بیریز اور رس بھری : ان میں قدرتی طور پر فلاوونائڈز موجود ہوتا ہے جو ہائپر ٹینشن اور بلڈ پریشر کو کم کرنے میں بہت اہم ہے۔

آلووؤں کا استعمال:  آلو میں پوٹاشیم اور میگنیشم بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو بلڈ پریشر کا نارمل رکھنے میں مدد دیتا ہے  جب کہ آلو میں فائبر بھی پایا جاتا ہے جو اچھی صحت کا اہم عنصر ہے۔

چقندر کا جوس: لندن کی کوئین یومیری نیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جب ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو چقندر کا جوس پلایا گیا تو ان کے بلڈ پریشر میں واضح کمی دیکھی گئی۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ اس میں موجود نائٹریٹس 24 گھنٹے میں بلڈ پپریشر کو کم کردیتا ہے۔

جو کا استعمال:  جو میں ہائی فائبر، کم چکنائی اور کم مقدار میں سوڈیم موجود ہوتا ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر جو کے دلیہ سے ناشتہ کیا جائے تو جسم کو سارا دن بھر پور توانائی فراہم کرتا ہے۔

کیلے: کیلوں میں پوٹاشیم بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے اس کے مسلسل استعمال سے انسان سارا دن چست اور توانا رہتا ہے جب کہ کیلے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

The post ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے والی چند غذائیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2RhJAWs

موسم سرما میں جلدی مسائل سے کیسے بچا جائے؟

مختلف بیماریاں بدن انسانی پر موسم کی مناسبت سے اثرات بھی مختلف چھوڑتی ہیں۔خارش ہی کو لے لیں، گرمی کے موسم میں ہونے والی خارش اور سردی کے موسم کی خارش کے اثرات اور اسباب مختلف ہوتے ہیں۔عام طور پر دیکھاگیاہے کہ سردی کے موسم میں پوشیدہ جگہوں جیسے رانیں، بغلیں اور کنج رانیں اکثر  پھوڑے اور پھنسیوں کی زد میں رہتی ہیں۔آج کل ملنے والوں کی اکثریت اسی شکایت کے ساتھ مطب آرہی ہے۔ مذکورہ بالا تمام جگہوں پر پھوڑے اور پھنسیاں نکلنے کی سب سے بڑی وجہ انسانی جسم کے جلدی مساموں کا بند ہونا ہے۔

مسام بند ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ سردی کی شدت کے ڈر سے اکثر لوگ نہانے، دھونے میں سستی کرجاتے ہیں۔دوسری وجہ بند جگہوں پر رہنا بھی ہے یعنی سردی سے بچاؤ کے لیے ہم اکثر گھروں، گاڑیوں اور دفتروں تک محدود ہوجاتے ہیں،تیسری وجہ مرغن غذاؤں کا وافر استعمال بھی بنتا ہے۔ چوتھی وجہ واش روم جانے سے بچنے کی غرض سے پینے کے پانی کا کم سے کم استعمال ہوتا ہے اور سب سے بڑی وجہ مسلسل گرم لباس پہنے رکھنا ہے جس سے جسمانی مساموں کو مناسب آکسیجن کی فراہمی کا عمل رک جاتا ہے۔

جسمانی مساموں کو باقاعدہ اور مطلوبہ آکسیجن کی دستیابی میں تعطل آجانے سے جلد پر خشکی کا غلبہ ظاہر ہونے لگتا ہے۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ مساموں کی بندش کے باعث جلدی خلیات میں فاضل رطوبات کے جمع کے رد عمل کے طور پر جلدی مسام انہیں خارج کرنے کے لیے پھوڑوں اور پھنسیوں کے نکلنے کا سہارالیتے ہیں۔علاوہ ازیں انسانی بدن پہ خارش کا حملہ ہونے کی کئی ایک وجوہات ہوسکتی ہیں۔ خون کی خرابی،فنگس،ایگزیما،برص،چنبل،دھدھر، دائمی قبض،ذیابیطس،قوت مدافعت کی کمی،کسی دوا یا غذا کا رد عمل اور کسی دوسرے مرض کی وجہ سے بھی خارش کا حملہ ہو سکتا ہے۔

سب سے پہلے اپنے مرض کا سبب اور وجہ تلاش کریں۔اگر کسی بیماری کی وجہ سے ایسا ہے تو بیماری کا علاج کروائیں ۔بیماری کا خاتمہ ہوتے ہی خارش خود بخود ختم ہو جائے گی۔اگر کسی غذا یا دوا کے رد عمل کی وجہ سے خارش ہے تو اپنے معالج سے مل کر روز مرہ کھائے جانے والی غذاؤں اور دواؤں پہ نظر ثانی کروائیں۔ انشا ء اللہ خارش سے نجات مل جائے گی۔

جن حضرات کو جلدی مسام بند ہونے، خشکی بڑھنے ،کم نہانے ، متواتر مرغن غذائیں استعمال کرنے اور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے پھوڑوں اور پھنسیوں کا سامنا ہو تو انہیں چاہیے کہ سب سے پہلے پورے بدن پر اچھی طرح بادام روغن کا مساج کرنے کے بعد پانچ کلو گرام پانی میں 50 ملی گرام کیسٹر آئل اور دو کھانے کے چمچ نمک پکاکر پورے بدن کو بھاپ دیں۔ بھاپ لینے کے ایک گھنٹہ تک گرم حمام میں ہی رہیں۔ بعد ازاں اسی ابلے ہوئے پانی سے نہا کر کھلی ہوا میں آنے سے دور رہیں۔ایسا ایک دو بار کرنے سے ہی بدن کے مسام کھل کر اس سے جڑے عوارض سے چھٹکارا مل جائے گا۔

خون کی خرابی ہونے سے پیدا شدہ خارش سے نجات حاصل کرنے کے لیے چرائتہ بہترین نیچرل ریمڈی ہے ۔چرائتہ دو قسم کا ہوتا ہے،میٹھا اور کڑوا جسے طبی زبان میں چرائتہ شیریں اور چرائتہ تلخ کہا جاتا ہے۔آپ چرائتہ شیریں ایک گرام رات کو پانی میں بھگو کر نہار منہ پانی پی لیا کریں۔صندل سرخ،شاہترہ اور دھماسہ ہم وزن پیس کر آدھی چمچی رات کو بھگو کر صبح نہار منہ پینا بھی جلدی مسائل سے نجات دلاتا ہے۔ دھیان رہے جس برتن میں چرائتہ بھگویا جائے وہ سلور،سٹیل اور پلاسٹک کا نہ ہو بلکہ برتن مٹی،شیشہ اور چینی کا ہونا چاہیے۔ بیرونی استعمال کے لیے رتن جوت10 گرام اور  25 گرام کٹی ہوئی پیاز کو دیسی گھی میں جلا کر جلد پر لگائیں۔بفضلِ خدا ایک دو بار لگانے سے ہی افاقہ ہوجائے گا۔

دواساز اداروں کی طرف سے خو ن صاٖ ف کر نے والے طبی مرکبات صافی، مصفین،شربت مصفی، سارسپریلا،اطریفل شاہترہ، معجون عشبہ،عرقِ عشبہ، عرقِ شاہترہ اور عرق مصفی بسہولت مارکیٹ سے دستیاب ہیں۔ طبی معالج سے مشورے کے بعد بتائی گئی ہدایات کے مطابق دوا کا ستعمال کرنے سے جلدی مسائل سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ پانی بھلے ابال کر ہلکا نیم گرم ہی ہو کم از کم چار سے چھ گلاس بہر صورت روزانہ پینے کا معمول بنائیں۔ہلکے نیم گرم پانی سے روزانہ لازمی نہانا شروع کردیں۔جن حضرات کو خارش،خون کی خرابی یا بدن پر پھوڑے پھنسیاں نکلنے کا عارضہ لاحق ہو انہیں پانی میں نیم یا بیری کے پتے ابال کر یا ڈیٹول کے چند قطرے ملا کر نہانا چاہیے۔اسی طرح خارش اور پھوڑے پھنسیوں والے افراد کو ہیٹر وغیرہ سے بھی مکمل دور رہنا چاہیے۔

گھر اور دفتر کی چار دیواری میں گرم لباس کی بجائے بدن پر نرم اور سادہ لباس ہی پہنیں۔البتہ نرم لباس کے اوپر گرم کوٹ، شال اور جیکٹ وغیرہ پہننے میں کوئی قبا حت نہیں ۔جو لوگ خارش کا شکار قبض کی وجہ سے ہوں انہیں چاہیے کہ روزانہ رات سوتے وقت ایک چمچ روغن بادام اور ایک چمچ اطریفل زمانی نیم گرم دودھ کے ایک کپ میں ملا کر ضرور پیا کریں۔بادام روغن کے دو سے تین قطرے ناف میں اور دو دو قطرے کانوں میں ڈالنے کو معمول بنائیں۔اس عمل سے نہ صرف قبض دور ہوگی بلکہ پورے بدن کی خشکی کا خاتمہ ہوجائے گا۔

جب تک جلدی مسائل سے مکمل پیچھا نہ چھوٹ جائے خشک میوہ جات، چکن،فاسٹ فوڈز، کافی، قہوہ زیادہ چائے، تیز نمک،سرخ مرچ،تیز مصا لحہ جات ،انڈہ،گوشت،مچھلی،چاول۔بیگن،تلی اور بھنی ہوئی غذاؤں سے پرہیز کریں۔علی الصبح تازہ آب وہوا میں تیز قدموں کی لمبی سانسوں کے ساتھ سیر ضرور کریں تاکہ بدن کو فریش آکسیجن کی وافر مقدار میسر آئے۔صبح کی سیر ہمیشہ سر سبز اور ہرے بھرے ماحول میں کی جانی چاہیے ۔ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ لوگ بڑی شاہراؤں کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے ہوتے ہیں جو کہ اصولِ صحت کے سرا سر منافی عمل ہے۔ سڑکوں پر بھاگتی دوڑتی ٹریفک کی وجہ سے اٹھنے والی گردو غبار تازہ آکسیجن کے حصول کے عمل کو تہس نہس کر دیتی ہے۔لہٰذا صبح کی سیر مکمل فوائد کے حصول کے لیے سر سبز وشاداب اور کھلے ہوادار پارکوں میں جانا لازمی ہے۔

The post موسم سرما میں جلدی مسائل سے کیسے بچا جائے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2EPoNUp

کیا پاکستانی قوم یونہی مضرصحت غذائیں کھانے پر مجبور رہے گی؟

اقوامِ متحدہ کے ادارے ’ورلڈفوڈپروگرام‘ نے مجموعی طور پر پوری دنیا کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایاہے کہ ناقص غذا کے سبب دنیا میں ہر تین میں سے ایک شخص کی صحت کو خطرات لاحق ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کی 2 ارب آبادی کو جسم کے لیے ضروری وٹامن اور معدنیات میسر نہیں جو انھیں صحت مند رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہوتے ہیں، نتیجتاً عالمی آبادی مختلف امراض سے دوچار ہورہی ہے جن میں امراضِ قلب، بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دیگر بیماریاں بھی شامل ہیں، ان بیماریوں کی وجہ سے دنیا کا معاشی اور معاشرتی نقصان ہورہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق پروسیسڈ غذا اگرچہ امیر ممالک میں بیماریوں کی وجہ بن رہی ہے تاہم اب ان کے اثرات کم ترقی یافتہ اور غریب ممالک میں بھی عام ہورہے ہیں۔ ماہرین نے خبردارکیاہے کہ آئندہ 20 برس میں یہ صورتحال مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔  ماہرین کا کہنا ہے اگر اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو یہ بھی ملیریا اور ایڈز کی طرح عالمی بحران بن جائے گا۔  یادرہے کہ دنیا میں 80 کروڑ افراد کو روزانہ کی بنیاد پر بھوک اور کھانے کی کمی کا سامنا ہے، بھوک کی شکار خواتین ایسے بچوں کو جنم دے رہی ہیں جو عمر بھر بیماریوں کی زد میں رہتے ہیں۔

اگرغذائی کمی کے اسباب کا جائزہ لیاجائے تو معاشی استطاعت میں کمی سب سے بڑی وجہ معلوم ہوتی ہے ، ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق دنیا میں 80 کروڑ افراد کو روزانہ کی بنیاد پر بھوک اور کھانے کی کمی کا سامنا ہے۔ اس کی شکار خواتین ایسے بچوں کو جنم دے رہی ہیں جن کے امراض زندگی بھر ان بچوں سے چمٹے رہتے ہیں۔  ماہرین نے کہا ہے کہ بھوک اور اس سے جڑی بیماری اقوام کی معیشت کو شدید نقصان پہنچارہی ہے یعنی صرف افریقا اور ایشیا میں ہی جی ڈی پی کا 3 سے 16 فیصد ضائع ہورہا ہے۔

دراصل ہماری انتڑیوں میں لاکھوں، کروڑوں، اربوں نہیں بلکہ کھربوں چھوٹے چھوٹے جرثومے پائے جاتے ہیں؟ مگر ہماری انتڑیوں میں اتنے جرثومے کیوں ہوتے ہیں اور یہ کیا کرتے ہیں؟یہ جرثومے دراصل ہمارے جسم میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان جرثوموں کی وجہ سے ہم اپنی خوراک سے طاقت اور غذائیت حاصل کرتے ہیں اور خوراک کی قلت کے باعث ہمارے جسم میں انتڑیاں اپنا یہ عمل درست طور پر ادا نہیں کر پاتیں اور غذائی قلت ہی کے باعث ہماری انتڑیوں میں موجود یہ جرثومے ختم ہو جاتے ہیں۔ بچوں کو غذائی قلت کا سامنا ہوتو یہ مسئلہ گھمبیر صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔ یادرہے کہ ترقی پذیر ممالک میں ناقص غذا یا غذائی قلت ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

واشنگٹن یونیورسٹی سے منسلک مائیکروبائیولوجسٹ، جیفری گورڈن جیسے ماہرین کا کہنا ہے کہ ناقص غذا سے بہت سے پیچیدہ اور طویل المدتی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔جیفری گورڈن کا کہنا ہے کہ، ’ناقص غذا کے باعث قوت ِمدافعت کمزور پڑ جاتی ہے اور بعض اوقات تو ختم بھی ہو جاتی ہے؛ آئی کیو لیول میں نمایاں کمی ہوتی ہے اور دیگر بہت سے مسائل بھی لاحق ہو سکتے ہیں‘۔ ماہرین کے مطابق، ایسے بچے جو ایک عرصے تک ناقص غذا کھاتے ہیں، انہیں مستقبل میں کئی عوارض لاحق ہو سکتے ہیں اور وہ بہت سی مستقل بیماریوں میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔جیفری گورڈن اور ان کے ساتھیوں نے بنگلہ دیش میں DNAاستعمال کرتے ہوئے، انتڑیوں میں موجود جرثوموں پر تحقیق کی۔ ان جرثوموں کو microbiota کہا جاتا ہے، جو بچے کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ہیئت بدلتے رہتے ہیں۔

تحقیق سے پتہ چلا کہ جو بچے ناقص غذا کھاتے تھے ان میں یہ جرثومے پوری طرح بنے نہیں تھے یا بہت کمزور تھے۔ ان بچوں میں اینٹی باڈیز اور فوڈ سپلیمنٹس کے باوجود، ان جرثوموں کو بہتر نہیں کیا جا سکا تھا۔ جیفری گورڈن کا کہنا ہے کہ ناقص غذا کے اثرات ختم کرنے کے لیے محض اچھی اور صحت بخش غذا کافی نہیں، بلکہ ایسی آنت بھی ضروری ہے جس کے جرثومے صحت بخش ہوں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق اور اس کے نتائج ایک طرف، مگر ناقص غذا کھانے والے بچوں کو ان اثرات سے نکالنا ایک مشکل امر ہوگا جس میں اچھے بیکٹیریے والی خوراک کے ساتھ ساتھ اچھی اور صحت بخش غذا ضروری ہے۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگوں کو سب کچھ میسرہوتاہے لیکن وہ محض اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے سے لاپروائی برتتے ہیں حالانکہ اپنی غذا کا خیال نہ رکھنا انسان کو جان لیوا حد تک بیمار کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ کینیڈا  کی میک ماسٹر یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ناقص غذا جسم کے اندر ورم بڑھنے کا باعث بنتی ہے جو مختلف جان لیوا امراض کا باعث بنتی ہے، جن میں فالج اور ہارٹ اٹیک قابل ذکر ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ چینی اور چربی سے بھرپور غذائیں معدے کے بیکٹیریا کا توازن بگاڑ دیتی ہیں جس کے نتیجے میں انتڑیوں کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایسا ہونے پر انتڑیوں سے ایسے بیکٹریا خارج ہوتے ہیں جو امراض کے خلاف جسمانی دفاعی نظام کو کمزور کرکے خلیات کی عمر تیزی سے بڑھا دیتے ہیں جبکہ موت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران چوہوں پر تجربات کیے گئے جن سے معلوم ہوا کہ غذا کس حد تک جسم میں تباہی کا باعث بنتی ہے۔ تحقیق کے مطابق جسم میں ورم بڑھنے سے ذیابیطس، کینسر، امراض قلب اور دیگر امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔ دہی، کیلے اور بلیو بیریز وغیرہ معدے کے بیکٹیریا کے لیے فائدہ مند غذائیں ہیں جس کی وجہ ان میں وٹامنز، منرلز، پوٹاشیم اور میگنیشم کی مقدار کی موجودگی ہے۔ اس کے مقابلے میں چینی سے بھرپور غذا ہیضے، گیس اور کھچاؤ کا باعث بنتی ہے۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ناقص غذا سے ہونے والے انفیکشن ڈیمینشیا اور خون کی شریانوں میں مسائل کا باعث بھی بنتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ناقص غذائی عادات کے نتیجے میں خواتین کے مقابلے میں مردوں میں فالج، دل کے امراض یا ذیابیطس کے نتیجے میں اموات کی شرح زیادہ ہوتی ہے اور ان میں بھی نوجوانوں کی اکثریت ہے جو جنک فوڈ کے شیدائی ہوتے ہیں۔

ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر گھرانہ اپنی اوسط آمدن کا 50فیصد سے زائد خوراک کے حصول پر صرف کردیتاہے ، اس قدرخطیر بجٹ رکھنے کے باوجود پاکستانیوں کی اکثریت مضرصحت غذا استعمال کرتی ہے۔  پاکستان میں صحت مند غذائیں صرف طبقہ اشرافیہ ہی کو میسر ہیں جو مکمل طور پر قدرتی اندازمیں میں اگائی جاتی ہیں، جس زمین پر وہ اگائی جاتی ہیں وہاں کسی قسم کی کوئی مصنوعی کھاد استعمال نہیں ہوتی نہ ہی دوران کاشت کسی بھی مرحلے پر ان پر کیمیائی چھڑکاؤ ہوتاہے۔

اس طبقہ کو جو دودھ میسر ہے، وہ بھی ایسے مویشیوں کا ہوتاہے جو کیمکلز اور اس کے اثرات سے بہت دور ہوتے ہیں۔  تاہم کروڑوںپاکستانیوں کو میسرغذاؤں میں کوئی ایک بھی چیزایسی نہیںہوتی جو مضرصحت نہ ہو۔ ا ٓئے روز بعض صوبوں میں فوڈاتھارٹی کا عملہ کبھی کبھار چھاپے مارتاہے اور کھانے کے چند ایک مراکز سیل کرکے باور کراتاہے کہ حکومتیں اس بات کو یقینی بنارہی ہیں کہ عوام کو صحت مند خوراک ملے۔ حالانکہ ایسا ہرگزنہیں، پاکستان میں مضر صحت خوراک اس قدر بڑے پیمانے پر فروخت ہورہی ہے کہ چاروں صوبوں میں فوڈاتھارٹیز کا عملہ متحرک کیاجائے تو بھی اس سنگین مسئلہ پر قابو پانے میں ناکامی کا سامنا کرناپڑے گا کیونکہ  لوگوں کو سنگین بیماریوں میں مبتلا کرنے والی غذائی اشیا بہت بڑے پیمانے پر فروخت کی جارہی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ حکومت کیا کرے؟

انسانی صحت کا مسئلہ ریاست میں سب سے اہم ہوتاہے، اس لئے اسے سب سے پہلی ترجیح کے طور پر رکھنا ہوگا۔صوبہ پنجاب میں فوڈاتھارٹی سن 2011ء میں قائم ہوئی، سندھ میں گزشتہ برس قائم ہوئی،خیبرپختونخوامیں سال رواں کے اوائل میں یہ ادارہ قائم ہوچکا جبکہ بلوچستان میں فوڈاتھارٹی قائم کرنے کا قانون 2014ء میں منظورہوا تاہم ابھی تک ایسا کوئی ادارہ معرض وجود میں نہیں آیا۔ اطلاعات ہیں کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی جلد ہی فوڈاتھارٹی قائم ہوجائے گی۔ امید واثق ہے کہ پاکستان میں قائم مذکورہ بالا ادارے پاکستان میں صحت مند خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے تمام تر ضروری اقدامات کریں گے۔ تاہم اس موقع پر چندپہلوؤں کا یاد کرانا ازحدضروری ہے۔

٭حکومت فوڈاتھارٹی کے عملہ پر کڑی نظر رکھنے کا ایک نظام قائم کرے تاکہ اوقات کار کا بہترین استعمال کرے، کم ازکم وقت میں زیادہ سے زیادہ کھانے کے مراکز کی چیکنگ کرے۔

٭کھانے کا ایک مرکز جب سیل ہوجائے تو اس کی دوبارہ بحالی کسی بھی قیمت پر نہ ہو۔ عموماً دیکھاگیاہے کہ محکمہ فوڈاتھارٹی کے ساتھ سازباز کرکے وہی مرکز دوبارہ مضرصحت اشیا فروخت کرنا شروع کردیتاہے۔

٭صرف چند ایک بیکریوں یا ریستوانوں پر چھاپے مارنا کافی نہیں ہے، فوڈاتھارٹی والے بازارمیں فروخت ہونے والی سبزی ، پھل سمیت کھانے پینے کی ہرچیز کو چیک کریں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ایسا ہوجائے تو ان اقدامات کے پاکستانی قوم کی صحت پر شاندار اثرات مرتب ہوں گے۔ یاد رہے کہ ایک صحت مند پاکستانی قوم ہی پاکستان کا شاندارمستقبل تعمیر کرسکتی ہے۔

٭عوام کو شعور فراہم کرنے کا بھی بڑے پیمانے پر انتظام ہوناچاہئے تاکہ وہ جہاں بھی مضرصحت چیزفروخت ہوتے دیکھیں، فوراً اس کی اطلاع متعلقہ حکام تک پہنچائیں۔ اس کے لئے نہایت آسان طریقہ کار ہوناچاہئے جسے  ایک عام اور ان پڑھ فرد بھی اختیار کرسکے۔

٭ اس کے ساتھ ہی ساتھ حکومت نظر رکھے کہ فوڈاتھارٹی والے رشوت بٹورنے کے چکر میں کسی بے گناہ کو تنگ نہ کریں، اگرایسا کوئی کیس سامنے آئے تو متعلقہ حکام کو کڑی سزا دی جائے۔

The post کیا پاکستانی قوم یونہی مضرصحت غذائیں کھانے پر مجبور رہے گی؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2CBdZqM

Medical News Today: Combo of existing drugs fights bowel cancer and reduces side effects

By combining two common cancer drugs, researchers have found a more effective way to treat colorectal cancer and reduce unpleasant side effects.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2EKk2dX

Medical News Today: How do relationship breakups impact physical activity?

According to a recent study, an individual's level of physical activity changes after a divorce. Interestingly, this change is different for men and women.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2TbzVOl

Tuesday, 25 December 2018

جیون ساتھی سے بچھڑنے کا صدمہ امراض اور وفات کی وجہ بھی بن سکتا ہے

 واشنگٹن: ہم نے دیکھا ہے کہ سارسوں کے جوڑے کا ایک رکن فوت ہوجاتا ہے تو دوسرا اس کے غم میں گھل کو وہ بھی جان کی بازی ہار جاتا ہے۔ لیکن ماہرین نے بیوگی کا اثر (وڈو ہُڈ) خود انسانوں میں بھی جان لیوا ہوتا ہے۔

امریکہ میں رائس یونیورسٹی میں سائیکو نیورو امیونولوجی کے ماہر کرس فیگیونڈس نے ایسے 99 افراد کا سروے کیا ہے جو حال ہی میں اپنے شریکِ حیات کے صدمے سے گزرے ہیں۔ مطالعے کا مقصد اس غمِ جدائی کے دوران جسم پر پڑنے والے اثرات اور دیگر حیاتی اشاروں (بایومارکرز) کی نشاندہی بھی کرنا تھا۔

ڈاکٹر کِرس کے مطابق جسم کی اندرونی سوزش کئی امراض کی وجہ بنتی ہے جن میں بلڈ پریشر سے لے کر کینسر اور عارضہ قلب سبھی شامل ہیں۔ اور عمررسیدہ افراد میں ڈپریشن بھی اس سوزش (انفلیمیشن) کی وجہ بن سکتی ہے۔

ماہرین نے دیکھا کہ اپنے جیون ساتھی کی رحلت کے صدمے سےدوچار مردوخواتین میں ایسے بایومارکرز دیکھے گئے جو جسم کے اندر سوزش اور جلن کو بڑھاتےہیں۔ اس کے ساتھ ان سے سوالنامے بھروائے گئے اور انٹرویو بھی لیے گئے۔ غمِ تنہائی سے دوچار اکثر افراد کے خون میں اندرونی سوزش سے وابستہ پروٹین سائٹوکائنس کی شرح زیادہ تھی۔

جیون ساتھی کی وفات کے بعد خصوصاً عمررسیدہ افراد میں سائٹوکائنز بڑھانے والے سگنل پروٹین بھی زیادہ تھے جن میں IFN-γ اور TNF-α قابلِ ذکر ہیں۔ جو لوگ صدمے کے زیادہ شکار رہے ان میں سوزش کی شرح دیگر کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ تھی۔ انہی افراد کے بدن کے اندرونی جلن کی شکایت بھی کی جس سے اداسی اور سوزش کا باہمی تعلق سامنے آیا۔

اپنی نوعیت کے اس پہلے اہم مطالعے سے انکشاف ہوا کہ شریکِ حیات سے بچھڑنے کا غم نہ صرف نفسیاتی اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ جسمانی صحت کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ اس طرح سوزش سے عارضہ قلب، فالج اور کینسر جیسے امراض بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ اپنے شریکِ حیات سے بچھڑنے والے افراد غم و اندوہ کے مسلسل چکر سے پیچھا چھڑانے کے لیے نفسیاتی معالج سے رابطہ ضرور کریں، زندگی کےمثبت پہلو پر توجہ دیں اور خود کو سنبھالنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔

The post جیون ساتھی سے بچھڑنے کا صدمہ امراض اور وفات کی وجہ بھی بن سکتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2AfMBg4

Medical News Today: High-tech epilepsy warning device could save lives

An innovative piece of wearable tech could reduce the risk of death from nighttime seizures for individuals with therapy-resistant epilepsy.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2QRLOwg

Medical News Today: Strong link found between back pain and mortality

Back pain can significantly reduce people's quality of life. A recent study asks whether back pain might also reduce lifespan in older woman.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2VadHhv

Monday, 24 December 2018

ڈرون کے ذریعے دنیا کے پہلے بچے تک ویکسین کی کامیاب ترسیل

آسٹریلیا: ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا کے پہلے بچے کو ویکسین پہنچائی گئی جو ایک دور افتادہ اور دشوار گزار جزیرے پر پیدا ہوا تھا۔

کمرشل ڈرون کے ذریعے بحرالکاہل میں واقع جزیروں کے مجموعے وانوٹو میں ایک ماہ قبل پیدا ہونے والے بچے جوئے نووائی کو یہ ویکسین پہنچائی گئی جہاں ہر پانچ میں سے ایک بچہ ویکسین سے محروم ہے اور خطرناک امراض کا شکار ہوسکتا ہے۔

کمرشل ڈرون نے 40 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور 25 منٹ میں سنگلاخ اور مشکل سے عبور کیے جانے والے پہاڑوں تک پہنچ کر کُک بے خطے  پر ویکسین اتاریں جہاں بجلی تک نہیں ہے اور ہسپتال کا نام بھی کسی نے نہیں سنا۔ یہاں پہنچنے کے لیے پیدل یا چھوٹی کشتیوں تک جانا پڑتا ہے جس میں کئی گھنٹے لگتے ہیں۔

ویکسین ملتے ہی وہاں موجود ایک نیم تربیت یافتہ نرس نے پانچ حاملہ خواتین اور 13 مقامی بچوں کو پولیو، ویکسین، ہیپاٹائٹس بی ، خسرہ اور ایبیولا سے بچاؤ کی ویکسین لگائیں۔

15 نومبر کو پیدا ہونے والے ’جو‘ کو اپنی پیدائش کے ایک روز بعد فوری طور ٹی بی اور ہیپا ٹائٹس بی کی ویکسین تو مل گئیں مگر چند روز کے اندر اسے مزید امراض کے خلاف ویکسین لگانا تھیں جو نرس کی عدم موجودگی کی وجہ سے ممکن نہیں ہوسکا۔

اس کی ماں اپنے بچے کے متعلق پریشان تھی اور اسے ویکسین نہ ملنے پر مضطرب تھی۔ اب ڈرون ویکسین ملنے پر وہ بہت خوش ہے کہ  اسے گھنٹوں کا سفر نہیں کرنا پڑا جبکہ قریبی نرس صرف 15 منٹ کی مسافت پر موجود تھی۔

یہ سارا انتظام اقوامِ متحدہ کے تحت بچوں کی صحت و تعلیم کی ذیلی تنظیم یونیسیف نے کیا تھا۔ ڈرون کو ایک قدرے آباد اور ترقی یافتہ جزیرے ایرو مانگو کے گاؤں سے اڑایا گیا تھا جو وناٹو کے مغرب میں واقع ہے۔

ڈرون نے کئی پہاڑ عبور کیے۔ ڈرون میں ویکسین ٹھنڈی رکھنے کا پورا انتظام تھا اور جب یہ ڈرون اپنی منزل پر پہنچا تو مقامی افراد نے رقص کرکے اس کا استقبال کیا اور لوگوں کی بڑی تعداد نے ڈرون دیکھا۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو عالمی صحت کے مسائل حل کرنے میں اہم قدم قرار دیا ہے۔

The post ڈرون کے ذریعے دنیا کے پہلے بچے تک ویکسین کی کامیاب ترسیل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2rQ07m8

Medical News Today: Letter from the Editor: Enjoy every moment

In this month's letter, Managing Editor Honor talks about the importance of stepping back to appreciate the smaller things in life.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2ENCsL1

Medical News Today: Left brain vs. right brain: How does one dominate?

For certain tasks, one side of the brain will dominate the other. Although this is well known, exactly how one side takes control has been a mystery.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2EKd4FJ

Medical News Today: Health benefits of gold, frankincense, and myrrh

Gold, frankincense, and myrrh are famous for one festive reason. In this feature, we ask whether any of them might harbor any health benefits.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2V3QQUW

Sunday, 23 December 2018

کان کے اندربال نما خلیات کی دوبارہ افزائش سے سماعت کی بحالی

روچیسٹر، منی سوٹا: انسانوں میں عمر کے ساتھ ساتھ سماعت سے محرومی مکمل بہرے پن کی جانب لے جاتی ہے اور اس بیماری کو ختم کرنے کا اب تک کوئی طریقہ دریافت نہیں ہوسکا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ کان کے اندر پائے جانے والے بعض بال نما خلیات کو دوبارہ اگا کر سماعت کو لوٹایا جاسکتا ہے اور بعض جانوروں پر تجربات میں کامیابی بھی ملی ہے۔ سننے کے عمل میں آواز کی لہریں کان کے اندر داخل ہوتی ہیں اور ایک سفر طے کرکے طبلِ گوش (ایئرڈرم) تک پہنچتی ہیں۔  اس سے طبلِ گوش پر ارتعاش پیدا ہوتا ہے جو کان کی درمیانی ہڈی سے گزر کر مزید بڑھتا ہے۔ آخری مرحلے میں اندرونی کان میں بال نما خلیات (کوکلیہ) ان ارتعاشات کو برقی سگنل میں بدلتے ہیں اور اس طرح ہم آواز سنتے ہیں۔

اب بڑھاپے یا تیز آوازوں میں رہتے ہوئے کوکلیہ بالکل تباہ ہوجاتا ہے اور عالمی ادارہ صحت کےمطابق اس وقت دنیا میں 40 کروڑ سے زائد افراد اس کےشکار ہیں جن کی سماعت لوٹائی نہیں جاسکتی۔

یونیورسٹی آف روچیسٹر میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹر پیٹریشیا وائٹ نے 2012 میں ایسے ریسپٹرز کا گروہ دریافت کیا جو بعض جانوروں (مثلاً پرندوں اور مچھلیوں) میں سماعت کے اعصاب کی دوبارہ افزائش میں مدد دیتے ہیں۔ انہیں ایپی ڈرمل گروتھ فیکٹر (ای جی ایف) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ خلیات سماعت میں مددگار بالوں کے خلیات دوبارہ بنانے میں مددگار ہوتے ہیں۔ لیکن قدرے پیچیدہ جانداروں میں یہ عمل ممکن نظر نہیں آرہا تھا۔

اب ڈاکٹر پیٹریشیا اور ان کے ساتھیوں نے میساچیوسیٹس ایئر اینڈ آئی انفرمیری کے تعاون سے ممالیوں میں ان ریسپٹرز کو دوبارہ اگانے کے تجربات کئے ہیں۔ ان کے مطابق ای آر بی بی ٹو نامی ایک خاص ریسپٹر کوکلیہ میں سماعت والے خلیات کو دوبارہ پیدا کرتے ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے پورے عمل کے طریقے کو بحال کرنے کے تین اہم طریقے بھی ڈھونڈ نکالے ہیں۔

اس کوشش کے نتیجے میں ماہرین کو دودھ پلانے والے (ممالیہ) جانوروں میں پہلی مرتبہ تمام ضروری بال نما خلیات اگانے میں کامیابی ملی ہے۔ اس کے لیے ماہرین نے خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) کو استعمال کرکے انہیں مخصوص خلیات میں ڈھالا ہے اور سماعت میں ان کا غیرمعمولی مقام ہوتا ہے۔

ڈاکٹر پیٹریشیا وائٹ کے مطابق اس طریقے سے سماعت سے محروم افراد کے لیے امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے لیکن یہ سماعت کی بحالی ایک پیچیدہ اور صبرآزما طریقہ ہے جس کے لیے پورا نظام سمجھنا ہوگا۔

The post کان کے اندربال نما خلیات کی دوبارہ افزائش سے سماعت کی بحالی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2GAC3Ow

Medical News Today: Gold nanoparticles could destroy prostate cancer

By coating nanoparticles with gold, researchers have successfully destroyed prostate cancer cells in people without damaging surrounding tissue.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2SiB0nE

Medical News Today: Reversing hearing loss by regrowing hairs

A revolutionary form of treatment for hearing loss may be on the horizon. A recent study investigates ways to regrow the ear's all-important sensory hairs.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2PZGHoq

Saturday, 22 December 2018

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، صحت کے نام پر کاروبار کرنے والا ادارہ

اقوام متحدہ کے اہم ترین ادارے’ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن ‘(ڈبلیوایچ او) کی طرف سے صحت عامہ کے حوالے سے روزانہ کوئی نہ کوئی خبردار کرنے والی رپورٹ جاری ہوتی ہے، بتایاجاتاہے کہ  فضائی آلودگی کیسے ہماری صحت کو تباہ وبرباد کررہی ہے، ڈبلیوایچ او کو دنیا بھر کے مختلف حصوں میں موجود پناہ گزینوں کی فکر بھی بہت زیادہ ستا رہی ہے۔

یہ ادارہ دنیا والوں کو بتا رہاہے کہ  ہرسال پانچ سال سے کم عمر 6.6 ملین بچے صرف اس لئے جاں بحق ہورہے ہیں کہ وہ ماؤں کا دودھ نہیں پیتے، معمولی قیمت کی ویکسی نیشن اور ادویات استعمال نہیں کرتے، انھیں صاف پانی میسر نہیں اور سینی ٹیشن کی محفوظ سہولت دستیاب نہیں۔ ہرسال15ملین بچے وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں اور ان میں سے 10لاکھ سے زیادہ موت کے گھاٹ اترجاتے ہیں۔ پوری دنیا میں ہر10میں سے تین افراد  امراض قلب میں مبتلا ہوکر جاں سے گزرجاتے ہیں، ہر روز800 خواتین  زچگی کے دوران میں پیش آنے والی پیچیدگیوں کے باعث ہلاک ہوجاتی ہیں، پوری دنیا میں معذوری کے20 بڑے اسباب میں سے ایک  نفسیاتی بیماریاں بھی ہیں۔ یہ اور ایسے بہت سے اعدادوشمار عالمی ادارہ صحت کی صحت عامہ کی بابت فکرمندی کا ظاہر کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ  یہ ادارہ دنیا بھر کے انسانوں کی صحت کی محض فکر کرتا ہے یا انھیں صحت کا شعور بھی فراہم کرتا ہے، انھیں بیماریوں سے دور رہنے میں معاونت فراہم کرتا ہے، ان کا علاج بھی کرتا ہے۔

ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن 1948ء میں اس عزم کے ساتھ قائم ہوئی تھی کہ  دنیا میں ہر ایک کے لئے ، ہرجگہ ایک صحت مندانہ مستقبل کی تعمیر کی جائے گی۔ اس وقت تنظیم کا ہیڈکوارٹر جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں موجود ہے، اس کے ملازمین کی تعداد سات ہزارسے زائد ہے، اس کے دنیا میں چھ ریجنل دفاتر ہیں،  پوری دنیا کے ممالک میں تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد دفاتر ہیں۔ اقوام متحدہ کے نظام کے تحت 194ممالک اس تنظیم کے قواعدوضوابط کے پابند ہیں۔ چاہے سگریٹ نوشی کے اثرات ہوں، سوائن فلو کی وبا ہو یا پھر نیوکلئیرتباہی کا معاملہ ہو، یہ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن ہی ہے کہ ہم اپنے لوگوں کی صحت کی بحالی کے لئے اسی کی طرف دیکھتے ہیں اور اسی کی نصیحت پر عمل کرتے ہیں۔تاہم سوال کیا اس ادارے پر اعتماد کیا جاسکتاہے؟ اورسوال یہ بھی ہے کہ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن یہ ہدایات کیسے تیار کرتی ہے؟ کیا اس کی ہدایات قابل اعتماد ہوسکتی ہیں؟ ان سوالات کے جوابات ہمیں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سٹرکچر اور کام کرنے کے موجودہ مقاصد سے بخوبی آگاہ کریں گے۔

ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے حکام مختلف سائنسی ماہرین پر بھروسہ کرتے ہیں، یہ ماہرین عالمی ادارہ صحت کو  ایسے ممالک اور تنظیمیں فراہم کرتی ہیں جو اس ادارے کو فنڈز فراہم کرتی ہیں۔ ان سائنسی ماہرین میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے مفاد میں فیصلے کرتے ہیں۔ اب ایک طفل مکتب بھی سمجھ سکتاہے کہ بیماریاں پیدا کرنے والی انڈسٹری جب عالمی ادارہ صحت کی فنانسر ہوگی تو صحت کے مسئلے کس اندازمیں حل ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا بھر سے ایسی آوازیں بلند ہونا شروع ہوچکی ہیں جن سے ظاہر ہوتاہے کہ  ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کی صحت کے عالمی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت پر زیادہ اعتماد نہیں کیاجاتا۔

اس ادارے پر اعتماد کیوں نہیں کیاجاتا، یہ کہانی بھی جان لیجئے جو پچاس کی دہائی یعنی ادارے کے قیام کے فوراً بعد شروع ہوتی ہے۔ تب عالمی ڈبلیو ایچ او کے تعلقات تمباکو انڈسٹری کے بڑے کھلاڑیوں سے قائم ہوئے۔ سوئٹزرلینڈ کے سابق وزیرصحت تھامس زیٹنر کا کہناہے :’’تمباکو انڈسٹری والوں نے ادارے قائم کئے اور ایسے سائنسی ماہرین خریدے جو اپنی نمائندگی تو کریں لیکن کہیں پر اپنی شناخت ظاہر نہ کریں۔ ایسے میں کوئی کیسے جان سکتاتھا کہ یہ ادارے دراصل تمباکو انڈسٹری کے لئے کام کررہے ہیں‘‘۔

کس قدر سنگین بات ہے کہ سائنسی ماہرین بیک وقت تمباکوانڈسٹری کے بڑے کھلاڑیوں اور ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے لئے کام کریں۔ اس کی ایک مثال علم سموم(زہروں سے متعلقہ) کے ایک ماہر تھے جو ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے مشیر کے طور پر اُس وقت کام کررہے تھے جب تمباکونوشی کے خلاف عالمی مہم زوروں پر تھی۔

دوسری طرف یہی صاحب فلپ موریس جیسی  ملٹی نیشنل سگریٹ بنانے اور بیچنے والی کمپنی  سے بھی تنخواہ لیتے تھے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب اِن صاحب کے مذکورہ بالا تعلقات لوگوں پر ظاہر ہوگئے  تاہم اس کے باوجود وہ عالمی ادارہ صحت کے مشیر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک فرد ایک طرف عالمی ادارہ صحت کے ملازم کی حیثیت سے اسی ادارے کے اغراض ومقاصد کی تکمیل کے لئے کام کرے اور عین اسی وقت ایک دوسرے ادارے سے تنخواہ وصول کرکے انہی مقاصد کے خلاف اپنی خدمات فراہم کرے۔ ایسا ممکن ہی نہیں، وہ زیادہ معاوضہ فراہم کرنے والوں کے لئے اصل کام کرے گا اور دوسرے ادارے کی جڑیں کاٹے گا۔ فلپ موریس کے ملازم کی  صرف ایک مثال نہیں ہے، ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں کہ سائنسی ماہرین نے عالمی ادارہ صحت کے قیام کے اغراض ومقاصد کے برخلاف کام کیا اور اس وقت بھی کررہے ہیں۔

گزشتہ دنوں عرب دنیا  ’الجزیرہ‘ ٹی وی چینل نے اسی موضوع پر ایک ڈاکومنٹری فلم بھی دکھائی تھی جس میں بتایاگیاتھا کہ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے سائنسی ماہرین کا ’گلیکسو‘ اور ’نووارٹز‘ جیسی فارماسیٹیکل کمپنیوں سے بھی تعلق نکل آیا، ایسی کمپنیوں کے ساتھ جو سوائن فلو کی ویکسینیشن تیار کرتی ہیں۔  یہ معاملہ اس وقت زیادہ سنگین ہوگیا جب  سن 2009ء میں ڈبلیوایچ او نے  ایک وبا سے خبردار کرنے کے لئے  مبالغہ آرائی پر مبنی مہم چلائی۔ اس مہم کے پہلے تین ماہ کے دوران میں  فرانس کے سب سے بڑے ادویہ ساز ادارے نے منافع کی مد میں  1.95بلین ڈالرز(امریکی) زیادہ کمائے۔

بعدازاں ایسی رپورٹس سامنے آئیں جن سے ظاہر ہوا کہ  سوائن فلوسنگین مسئلہ نہیں تھا جیسا کہ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن نے لوگوں کو بتایاتھا۔ جب یہ فلو ظاہر ہواتھا تو پہلے سال کے دوران میں سوائن فلو کے نتیجے میں258 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ تعداد عام فلو سے ہونے والے اموات سے بہت زیادہ نہیں تھی۔ یادرہے کہ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن  نے اس’وبا‘ سے خبردار کرنے کے لئے 1.8 بلین ڈالر مختص کیاتھا۔ اس کے نتیجے میں دنیا میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو خوف کا شکار کرکے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی ویکسین اور ادویات فروخت کی گئیں۔  بعدازاں ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن نے اعتراف کیا کہ اس نے اس وبا کا خطرہ بتانے کے لئے مبالغہ آرائی سے کام لیاتھا۔ اس ادارے نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ ایسی ویکسینیشنز اور ادویات نے لوگوں کو دیگر موذی امراض میں مبتلا کیا، یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ نتیجتاً فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی مزید ادویات فروخت ہوں گی اور ان کے وارے نیارے ہوں گے۔

جرمن ویلاسکس  کا کہناہے :’’جب سوائن فلو کی وبا پھوٹی تھی، میں ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے ’ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ہیلتھ، انٹلیکچوئل پراپرٹی اینڈ میڈیکیشن‘ کا سیکرٹری جنرل تھا، ہمارے ہاں کوئی بھی خوفزدہ نہیں تھا‘‘۔ مسٹر ویلاسکس آج کل گرین کلائیمیٹ فنڈ کے لئے کام کررہے ہیں۔ان کا کہناہے:’’ میں نے ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں دیکھا جس نے سوائن فلو کی ویکسینیشن لی ہو حتیٰ کہ ڈائریکٹرجنرل نے بھی نہیں۔ جب  صحافیوں نے ڈائریکٹر جنرل سے پوچھا کہ سوائن فلو اس قدر خطرناک ہے تو کیا آپ نے بھی ویکسینیشن کرائی ہے ؟ انھوں نے جواباً کہا : ’’ابھی میرے پاس اس کے لئے وقت نہیں، میں بعد میں ویکسینیشن کراؤں گی‘‘۔

یورپین کونسل میں سابق نمائندے ’ولف گینگ ووڈارگ ‘کہتے ہیں کہ ڈبلیو ایچ او  کے لوگ فنڈنگ کے بدلے میں طے کئے جانے والے معاملات کے باب میں آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ ان کا کہناہے:’’ ڈبلیو ایچ او کے حکام ان معاملات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ وہ سائنسی ماہرین پر انحصار کرتے ہیں جو  اس ادارے کو فنڈنگ کرنے والی تنظیموں  اور ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں سے بہت سے ایسی سفارشات پیش کرتے ہیں جو فارماسیٹیکل انڈسٹری کے مفاد میں ہوتی ہیں‘‘۔ اس کا دوسرا یہ مطلب ہے کہ ادویہ ساز کمپنیوں کے کاروبار کو بڑھانے چڑھانے کے لئے دنیا کے بعض حصوں میں لوگوں کو خوفزدہ کیاجائے اور پھر ادویات بیچی جائیں۔

گزشتہ کئی برسوں سے ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن سمیت اقوام متحدہ کے دیگراداروں  اور  کاروباری کمپنیوں اور تنظیموں کے درمیان تعلقات فروغ پارہے ہیں۔ان میں سے بعض اداروں کے باہمی تعلقات چرنوبل تباہی جیسے سنگین ادوار میں قائم ہوئے۔کہاجاتاہے کہ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن  نے جان بوجھ کر  نیوکلیائی دھماکوں کے نتیجے میں متاثرہونے والوں سے متعلق اعدادوشمار کم ظاہر کئے تھے۔

واضح رہے کہ ڈبلیوایچ او انٹرنیشنل  اٹامک انرجی ایجنسی کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ ثانی الذکر ادارہ  ’ایٹمز فار پیس‘ کے نعرے کی بنیاد پر قائم ہواتھا۔ اگرچہ ان دونوں اداروں کے راستے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، ایک کا مقصد عالمی صحت ہے اور دوسرے کا مقصد اٹامک انرجی کا محفوظ استعمال ہے۔

جس طرح اقوام متحدہ کے بارے میں دنیا میں ایک تاثر عام ہورہاہے کہ وہ دنیا کی بعض حکومتوں یا ملکوں کے مفادات کے لئے کام کرنے والا ادارہ بن کے رہ گیاہے، اسی طرح اس کے ذیلی ادارے جیسے ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن بھی بعض حکومتوں کے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔ اپریل2017ء میں ایک برطانوی جریدے ’برٹش سائنس جرنل‘ نے ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے ادارے  ’انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر‘ نے اس موذی مرض کے اسباب کاجائزہ لینے کے لئے ریسرچ کا جو انداز اختیار کیا، اس کے سیاسی محرکات تھے۔ ظاہر ہے کہ جو ممالک ان اداروں کو زیادہ فنڈنگ کرتے ہیں، وہ انھیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال بھی کریں گے۔ یادرہے کہ اس وقت ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کو سب سے زیادہ فنڈ امریکا 300ملین ڈالر فراہم کرتاہے، اس کے بعد برطانیہ 195 ملین ڈالرز۔  بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن 300ملین ڈالرز عالمی ادارہ صحت کو فراہم کرتی ہے۔ اس کے بجٹ کا تیسرا حصہ انتظامیہ کی تنخواہوں، مراعات اور دیگراخراجات پر خرچ ہوتاہے۔

آخر میں یہ بھی جان لیں کہ ہماری صحت کے لئے فکر مند ہونے والے اس ادارے کے اہلکار اپنے سیرسپاٹوں پر خوب اخراجات کرتے ہیں، حالانکہ فکرمندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ ادارے کو ملنے والی ہرپائی ایک ایک مریض پر خرچ کرتے ۔ آپ شاید یہ جان کر بہت حیران ہوں گے کہ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے اہلکاروں کے مختلف ممالک کے دوروں پر اخراجات زیادہ  لیکن بیماریوں کی روک تھام اور علاج پر اخراجات کم ہوتے ہیں۔ گزشتہ برس جون میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ڈبلیوایچ او کے اہلکاروں کے دوروں پر سالانہ 200ملین ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ یہ رقم نفسیاتی بیماریوں، ایچ آئی  وی، ایڈز،  تپدق اور ملیریا پر مجموعی ہونے والے اخراجات سے دوگنا زیادہ ہے۔ ادارے کی جنرل سیکرٹری مارگریٹ شان جو نومبر2006ء  سے جون 2017ء تک  اس عہدے پر کام کرتی رہیں،  مغربی افریقہ کے ممالک کے دوران میں ایسے ہوٹل میں قیام پذیر رہیں جہاں ایک رات گزارنے کے 1000ڈالر یعنی ایک لاکھ 39 ہزار 110روپے خرچ آتاہے۔

The post ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، صحت کے نام پر کاروبار کرنے والا ادارہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2EJH31q

سوئی نہ چبھوئیں، کاغذی سینسر سے بلڈ شوگر معلوم کریں

ریاض: سعودی عرب کے ماہرین نے انک جیٹ پرنٹر سے کاغذ پر چھاپے جانے والا سینسر تیار کیا ہے جو تھوک کی مدد سے خون کے اندر شکر کی مقدار بتاسکتا ہے۔ اس طرح بار بار انگلی میں نوک چبھو کر ذیابیطس کے اتار چڑھاؤ معلوم کرنے کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔

’ فلیکسیبل الیکٹرونکس‘ نامی جریدے میں شائع رپورٹ کے مطابق کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے حیاتیاتی ماہر ساہیکا عنال، انجینئر خالد سلامہ اور مٹیریل کے ماہر دریا باران نے مشترکہ طور پر یہ اہم شے ایجاد کی ہے۔

سب سے پہلے انہوں نے اِنک جیٹ پرنٹر کی عام روشنائی (انک) میں ایسے پالیمر شامل کیے جن سے بجلی گزرسکتی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے چمکیلے کاغذ کی پٹیوں پر خردبینی برقیرے (الیکٹروڈ) چھاپے۔ اس کے بعد ہر الیکٹروڈ کے اوپر ایک خامرہ (اینزائم) لگایا جس کا نام گلوکوز آکسیڈیز ہے اور اس کے بعد پوری سطح کو نیفیون پالیمر کی جھلی سے ڈھانپ دیا گیا اس طرح انقلابی کاغذی سینسر تیار ہوگیا۔

اب اس پر مریض کا تھوک لگایا گیا تو اس نے گلوکوز آکسیڈیز کے ساتھ ملتے ہی ایک برقی سگنل خارج کیا جو برقیروں تک گیا۔ اسے الگ سے کسی دستی آلے (مثلاً فون) پر بھی وصول کیا جاسکتا ہے۔ اس سگنل کی شدت بتاتی ہے کہ خون میں شکر کی مقدار کس درجے پر ہے۔

ماہرین کے مطابق تھوک میں موجود اسکاربک ایسڈ پالیمر سے تعامل کرتا ہے جس سے خون میں شکر کی مقدار پتا کی جاسکتی ہے تاہم خامرے جلدی ختم ہوجاتے ہیں لیکن اسے ایک پیکٹ میں بند کرکے ایک ماہ تک کارآمد رکھا جاسکتا ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ یہ سفر جاری رہے گا اور اسے جسمانی مائعات میں دیگر بیماریوں کی شناخت کے قابل بھی بنایا جاسکتا ہے۔

The post سوئی نہ چبھوئیں، کاغذی سینسر سے بلڈ شوگر معلوم کریں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2T173IC

بعداز مرگ اعضا عطیہ کرنے والے کئی جانیں بچاتے ہیں، مقررین

کراچی: ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بعداز مرگ اعضا عطیہ کرنے والے کئی جانیں بچاتے ہیں۔

ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف پاکستان نارتھ امریکا اور سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے باہمی اشتراک سے پہلی گلوبل ہیلتھ کئیر سَمِٹ کے آخری دن ’’بعد ازمرگ عطیہ اعضا ‘‘ کی اہمیت کے ساتھ موجود عوامل اور دشواریوں پر روشنی ڈالنے کے لیے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں پروفیسرز، ڈاکٹرز اور دیگر نے شرکت کی۔

اس موقع پر ایس آئی یو ٹی کے پروفیسر انورنقوی نے اعضا ناکارہ ہونے کے باعث انتقال کرنے والوں کے حوالے سے کہا کہ قیمتی انسانی جانیں بچانا ممکن ہے جوکہ بعد از مرگ اعضا عطیہ پروگرام پر عمل درآمد کرنے سے ہو سکتا ہے، انھوں نے 5 اہم عوامل کا ذکر بھی کیا جس میں گورنمنٹ، علما ، میڈیا، معاشرے میں آگہی اور طبی پیشہ ور شامل ہیں، انھوں نے کہا کہ ان عوامل کی باہمی کوششوں سے مریضوں کی بڑی تعداد کو زندگی مل سکتی ہے،بعد ازمرگ اعضا عطیہ کرنے والے کئی جانیں بچاتے ہیں۔

انھوں نے بعد از مرگ پروگرام کے بین الاقوامی اعداد وشمار بھی پیش کیے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس فہرست میں شامل نہیں ہے جبکہ اسپین اور کروشیا کا شمار کامیاب ترین ممالک میں ہوتا ہے جبکہ اس میں 5 اسلامی ممالک کے نام شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ نہ صرف لوگوں میں آگہی اور تحریک بیدار کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اس کے ساتھ اسپتال اور ان کے مقرر کردہ ٹرانپسلانٹ کوآرڈینیٹر کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

ورکشاپ سے ایس آئی یو ٹی کے پروفیسر مرزا نقی ظفر نے بھی خطاب کیا اور شرکا کو لا اور جسٹس کمیشن کی جانب سے کئے گئے قانونی اقدامات سے آگاہ کیا،انھوں نے عطیہ اعضا پروگرام کو کامیاب بنانے کے سلسلے میں قانونی اقدامات کا ذکر کیا جس میں ڈرائیونگ لائسنس اور قومی شناختی کارڈ میں عطیہ اعضا کی خواہش اور سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں کو اس بات کو پابند کرنا کہ وہ تمام دماغی اموات کو 6 گھنٹوں کے اندر رپورٹ کرنا شامل ہے۔

ایس آئی یو ٹی کے ڈاکٹر ناصر حسن، ڈاکٹر فرینہ حنیف اور ڈاکٹر سعدیہ نشاط نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے دماغی موت اور عطیہ اعضا کے بارے میں میڈیا اورعوامی آگہی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

علاوہ ازیں دن بھر پر محیط ورکشاپس میں کارڈیالوجی، فالج، گائنی کے موضوعات شامل تھے، کانفرنس کے اختتام پر شرکانے سوال و جواب کی نشست میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

واضح رہے کہ کانفرنس کا بنیادی مقصد پاکستان کے نظام صحت اور اس سے متعلقہ طبی تعلیم میں بہتری لانا اور دونوں اداروں کے باہمی رابطوں کو استوار کرنا تھا۔

 

The post بعداز مرگ اعضا عطیہ کرنے والے کئی جانیں بچاتے ہیں، مقررین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2ENdsEv

Medical News Today: Why do we love coffee when it is so bitter?

Scientists have found a genetic link that explains why some people love the bitter taste of coffee. The findings might also offer clues to disease risks.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2CsyHJ1

Medical News Today: Our ancestors were enjoying cocoa over 5,000 years ago

Cocoa was very important to our ancestors, and a new study reveals just how early they started to relish this treat, and where it really originated.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2Lyyc2Y

Friday, 21 December 2018

ہرے پتوں والی سبزیاں جگر کی بہترین محافظ

سویڈن: ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرے پتوں والی سبزیاں جگر کی بہترین محافظ ہوتی ہیں کیوں کہ ان میں نائٹریٹ بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے جو ایک جانب تو دل کو طاقت دیتا ہے تو دوسری جانب جگر کے ایک عام مگر بسا اوقات جان لیوا مرض فیٹی لیور کو دور رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

پالک، سلاد اور پھول گوبھی جیسی سبزیوں میں نائٹریٹ وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جس کے بہت سے طبی فوائد ہیں۔ اب معلوم ہوا ہے کہ یہ بالغوں میں جگر کی سب سے عام کیفیت ’نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز‘ (این اے ایف ایل ڈی) یا ’لیور اسٹیٹوسس‘ کو روکتا ہے۔ اس مرض میں جگر کے اندر چربی جمع ہونا شروع ہوجاتی ہے اور بسا اوقات قبل ازوقت موت سمیت بہت سے مسائل پیدا کرتی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر کے بالغ افراد کی بہت بڑی تعداد ’این اے ایف ایل ڈی‘ کی شکار ہے اور صرف امریکا میں ہی 30 سے 40 فیصد افراد اس کیفیت میں مبتلا ہیں۔ اس مرض کا تعلق موٹاپے اور غیرمعمولی میٹابولک کیفیات سے بھی ہوسکتا ہے۔ اب بھی اس کا علاج صرف ورزش اور احتیاط ہی ہے کیوں کہ این اے ایف ایل ڈی کی شدید کیفیات میں جگر فائبروسس اور سورسِس شامل ہیں جو کہ جان لیوا ہیں۔

سویڈن میں واقع کیرولِنسکا انسٹی ٹیوٹ کے سائنس دانوں نے ہرے پتے والی سبزیوں میں موجود نائٹریٹ کے بارے میں تحقیق کے بعد کہا ہے کہ اس کے باقاعدہ استعمال سے جگر میں چربی کی افزائش بہت حد تک کم ہوسکتی ہے۔

اس تحقیق کے لیے ماہرین نے چوہوں کے تین گروہوں پر تجربات کیے، پہلے گروہ کو معمول کے مطابق خوراک دی گئی، دوسرے گروہ کو صرف چکنائیوں سے بھری اور تیسرے گروہ کو چکنائیوں بھری خوراک کے ساتھ ساتھ نائٹریٹ کے سپلیمنٹ بھی دئیے گئے۔

نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ جب زائد چکنائی اور شکر سے بھرپور غذائیں کھانے والے چوہوں کو نائٹریٹ دیا گیا تو ان کے جگر میں چربی کے تمام آثار (مارکر) بڑی حد تک کم ہونے لگے۔ علاوہ ازیں چوہوں میں بلڈ پریشر بہتر رہا اور انسولین سے حساسیت بھی بہتر ہوئی جو ایک بہتر کیفیت ہے۔

اگلے مرحلے پر اس موضوع کی مزید تجربہ گاہی تحقیق کی جائے گی اور انسانوں پر اس کے اثرات معلوم کیے جائیں گے۔

The post ہرے پتوں والی سبزیاں جگر کی بہترین محافظ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2AaPAXp

Medical News Today: What do night sweats mean?

Sweating at night may be a sign of low testosterone in males or menopause in females. Treatment often involves supplementing the hormone to correct an imbalance. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2PVd2gi

Medical News Today: What to know about acanthosis nigricans

Acanthosis nigricans is a common skin condition often caused by diabetes or hormonal conditions. Learn about the causes, symptoms, and treatments of acanthosis nigricans here.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2EDZLqw

Medical News Today: What is fibrocystic breast disease?

Fibrocystic breast disease causes a person to have lumpy, and sometimes painful, breasts. It is a very common condition and not harmful. Learn more in this article.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2BxYVZd

Medical News Today: How to treat paronychia (an infected nail)

Paronychia is the medical term for an infection in the skin around the nail, which becomes inflamed, swollen, and painful. People can treat mild paronychia at home, and a doctor can provide medication for more severe cases. In this article, we look at the causes and treatments of paronychia.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2R9F8ZQ

Medical News Today: Mediterranean diet nutrients tied with healthy brain aging

A study of older adults links blood markers of certain nutrients that are present in the Mediterranean diet to better cognition and brain connectivity.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2AcwmAr

Medical News Today: What were the most intriguing medical studies of 2018?

As 2018 slowly but surely draws to a close, we give you an overview of some of the most read and thought-provoking medical research of this year.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2SfE2cr

Medical News Today: The 12 best ways to lose butt fat

People can reduce their overall body fat and strengthen and tone their butt and upper leg muscles by doing certain exercises and making lifestyle changes. In this article, we discuss exercises and other methods to help a person lose butt fat.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2rOlzI8

Medical News Today: What does a wolf spider bite look like? Is it dangerous?

A wolf spider bite is rarely dangerous and does not usually require treatment. If a wolf spider bites a human, they can often treat it as they would any other insect bite. Learn more about wolf spiders, their bites, ways to treat them, and how to avoid them.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2rNggZw

Medical News Today: 6 months of exercise may reverse mild cognitive impairment

A new study finds that 6 months of exercise, when added to dieting, can reverse 9 years of decline in certain cognitive functions.

from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2EHrIOL

Thursday, 20 December 2018

گیارہ سالہ بچی کی لاعلاج دماغی رسولی اچانک غائب

آسٹن، ٹیکساس: حال ہی میں طبی تاریخ کا ایک عجیب واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک 11 سالہ بچی کے دماغ میں کمیاب، لاعلاج اور جان لیوا رسولی چند روز قبل اچانک غائب ہوگئی جس پر ماہرین اب تک حیران ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس سال کے شروع میں راکسلی ڈوس نامی بچی کے دماغ میں ایک رسولی دیکھی گئی تھی جسے ’ڈفیوز انٹرنسک پونٹائن گلائیوما‘ (ڈی آئی پی جی) کہتے ہیں۔ بہت ہی کم مریض اس کمیاب اور حملہ آور کیفیت سے نکل پاتے ہیں اور ان کی زندگی چند برس کی رہ جاتی ہے۔

ڈاکٹروں نے بچی کے والدین سے کہا کہ اس کا آپریشن ممکن نہیں اور کہا کہ وہ اسے گھر لے جائیں تاہم چند ہفتوں قبل بچی کی صحت بہتر ہونے لگی اور اب آسٹن میں واقع ڈیل چلڈرن میڈیکل سینٹر کے ماہرین نے یہ حیران کن تصدیق کی ہے کہ بچی کی رسولی معجزانہ طور پر 100 فیصد غائب ہوچکی ہے۔

ڈاکٹروں نے شعاعوں کے ذریعے بچی کے علاج کی چند کوششیں کی تھیں جس کے بعد انہوں نے بچی کی زندگی تین سے چھ ماہ تک بڑھنے کی پیشگوئی کی گئی تھی تاہم یہ علاج اس بچی کے لیے خوشی کی نوید لایا اور اس کی رسولی مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے حالانکہ ریڈیالوجی کے بعد بھی رسولی ختم نہیں ہوتی۔

اسپتال میں بچوں کے دماغی سرطان کی ماہر ڈاکٹر ورجینیا ہیروڈ کہتی ہیں کہ ٹیومر ختم ہوچکا ہے اور اس کے کوئی آثار موجود نہیں۔ یہ ایک ایسا نایاب واقعہ ہے کہ جس پر ہم سب بہت خوش ہیں۔ اس سال جون میں بچی کے سر میں شدید درد تھا اور اس کی نظر تیزی سے کمزور ہورہی تھی۔ اس کے بعد رسولی کی شناخت ہوئی تو ڈاکٹروں نے صرف اتنی کوشش کی کہ اسے جینے کے لیے مزید چند ماہ مل جائیں تاہم ریڈی ایشن علاج کے ایسے نتائج کہیں بھی نہیں دیکھے گئے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس عجیب و غریب واقعے کے پیچھے رسولی کی حیاتیاتی کیفیت اور ترکیب بھی ہوسکتی ہے تاہم اس کے لیے مریضہ کی بایوپسی ضروری ہے جس کی والدین اجازت نہیں دے رہے تاہم تمام ڈاکٹروں نے اسے ایک معجزہ قرار دیا ہے۔

The post گیارہ سالہ بچی کی لاعلاج دماغی رسولی اچانک غائب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2LuBi8u

Medical News Today: What to do when a pill gets stuck in the throat

Having a pill stuck in the throat can be both alarming and irritating. However, there are some steps to ensure that the pill dislodges safely, as well as several prevention methods. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2PSiQqK

Medical News Today: Can chemotherapy help treat Crohn's?

When traditional treatments for Crohn's disease are unsuccessful, a doctor may prescribe chemotherapy. Learn about whether chemo is safe, the different types available, and whether there are any side effects here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2ECILRw

Medical News Today: How to tell the difference between lice and dandruff

Lice and dandruff may look similar but have very different causes and treatments. In this article, learn how to tell them apart with visual aids, as well as about the treatment options.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2rQ7VEA

Medical News Today: What to know about peritonsillar abscesses

Peritonsillar abscesses form around the tonsils. They usually occur as a complication of tonsillitis and are often caused by the same bacteria. Learn about the causes, symptoms, and treatments of peritonsillar abscesses here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2S8ngfe

Medical News Today: Can HIV live and spread outside the body?

HIV cannot live for long outside the body. Several factors, such as temperature, humidity, and sun exposure, can affect how long the virus can live. Learn more about how long HIV lives outside the body here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2A8T3pn

Medical News Today: MS: Disease impact is greater in those with food allergies

People with MS and a reported history of food allergy had more relapses and were likelier to have active lesions on MRI scans than those without allergy.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2rLxTZL

ایک عام غذائی جزو کی کمی ڈپریشن کی بڑی وجہ قرار

آئرلینڈ: ماہرین نے کہا ہے کہ عمر رسیدہ افراد میں ایک انتہائی عام جزو ’وٹامن ڈی‘ کی کمی ڈپریشن کی وجہ بنتی ہے اور 75 فیصد کیسز میں وٹامن ڈی جیسے اہم جزو کی کمی ہی ڈپریشن کا مرض پیدا کرتی ہے۔

چارسالہ تحقیق اور سروے کے بعد ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کس طرح معمولی سی احتیاط کرکے ذہنی تناؤ سے محفوظ رہ سکتے ہیں, اگر نوجوان بھی وٹامن ڈی کی مناسب مقدار کو یقینی بنائیں تو آگے چل کر ڈپریشن کے شکار نہیں بنتے۔

درمیانی عمر یا ضعیفی میں ڈپریشن معیار زندگی کو مشکل بنا دیتا ہے اور یہاں تک وقت سے قبل موت سے ہمکنار کرسکتا ہے۔ اس تناظر میں وٹامن ڈی کا کردار ابھر کر سامنے آتا ہے جو ضعیف افراد کو اس خوفناک کیفیت سے باہر نکال سکتا ہے۔ اسی بنا پر ماہرین بزرگوں کے لیے باقاعدہ طور پر وٹامن ڈی سپلیمنٹ تجویز کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

ٹرینٹی کالج ڈبلن کے ماہرین نے یہ اہم تحقیق کی ہے جو اپنی نوعیت کا اہم مطالعہ ہے جس میں وٹامن ڈی اور ڈپریشن میں کمی کا واضح تعلق دکھایا گیا ہے۔ اس سروے میں 50 سے زائد عمر کے 4 ہزار کے قریب لوگ شامل تھے اور ان کا دو سال اور چار سال بعد دوبارہ جائزہ لیا گیا۔

اس عرصے میں 400 افراد ڈپریشن کے شکار ہوئے اور ان کی اکثریت میں وٹامن ڈی کی کمی نوٹ کی گئی تھی جس کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ بوڑھے افراد میں ڈپریشن کی سب سے بڑی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہے۔ ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ روزانہ صبح 10 سے 12 بجے کی دھوپ میں کم سے کم نصف گھنٹہ گزارا جائے تاکہ جسم کو وٹامن ڈی سازی کے اجزا مہیا ہوسکیں۔

The post ایک عام غذائی جزو کی کمی ڈپریشن کی بڑی وجہ قرار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2GxA1ym

Medical News Today: Alzheimer's: Study zeroes in on brain's weakest link

In a new study, researchers find out which brain cells are most vulnerable to the accumulation of toxic plaques that drive Alzheimer's and speculate why.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2SaVtL6

Medical News Today: Why green leafy vegetables can protect liver health

Inorganic nitrate, a compound present in celery, spinach, and rocket, may protect against nonalcoholic fatty liver disease, a new study shows.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2SboshT

Wednesday, 19 December 2018

بچوں میں بڑھوتری کے مسائل

پیدائش سے عمر بلوغت تک انسان زندگی کے مختلف مراحل اور ادوار سے گزرتا ہے۔ انھیں عمومی طور پر ’بڑھوتری کے مراحل‘ کہا جاتا ہے۔ ان مراحل سے گزرتے ہوئے بچہ  اپنی تمام ضروریاتِ زندگی کیلیے کسی اور پر انحصار کرنے والے سے مکمل طور پر آزاد انسان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ عمر کے لحاظ سے ان مراحل کو مختلف ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

پیدائش کے فوراً بعد اسے ’’نوزائیدہ‘‘ کہتے ہیں اور اس کے بعد شیر خوار، ٹاڈلر، مکتب سے پہلے والی عمر، مکتب جانے کی عمر اور سن بلوغت وہ مختلف ادوار ہیں جن سے ہر بچہ گزرتا ہے۔ مختلف ادوار میں بچے کی ذہنی اور جسمانی نشوونما مختلف ہوتی ہے۔

جسمانی نشوونما میں وزن اور قد کا بڑھنا شمار کیا جاتا ہے اور ذہنی نشوونما میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ بچہ اپنی عمر کے مطابق کام کرنے کی مہارت حاصل کرچکا ہے یا نہیں۔ ذہنی نشوونما کے ان مراحل کو ذہنی ترقیاتی سنگ میل کہتے ہیں، مثلاً تین ماہ کے بچے کا عمومی وزن چھ کلوگرام ہوتا ہے اور یہ جسمانی نشوونما ہے۔

اسی طرح ایک تین ماہ کا بچہ اپنی گردن بغیر کسی سہارے کے سنبھالنا شروع کردیتا ہے، یہ ذہنی نشوونما کا ترقیاتی سنگ میل ہے جسے ہر بچے نے تین ماہ کے قریب قریب عبور کرنا ہے۔ اگر کوئی بچہ ایک ترقیاتی سنگ میل ایک متوقع عمر تک عبور نہیں کرتا تو یہ واقعی پریشانی کی بات ہے، اس کی وجہ اگر جلدی ڈھونڈ کر صحیح علاج کیا جائے تو بہت سے پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ بچے کی ذہنی اور جسمانی نشوونما میں تاخیر کسی جان لیوا اور انتہائی خطرناک بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔

ذہنی نشوونما میں تاخیر کے صحیح اعدادوشمار شاید ناپید ہیں لیکن مختلف محققین کے مطابق اس کی شرح چار فیصد سے سات فیصد تک ہے۔ پاکستان میں شاید حالات اس سے بھی ابتر ہوں گے۔ بچوں میں ذہنی اور جسمانی نشوونما اور بڑھوتری کے ترقیاتی سنگ میل کے علاوہ قوت سماعت اور قوت بصارت کے سنگ میل بھی بہت اہم ہیں اور بڑھوتری کے مراحل میں شامل کیے جاتے ہیں۔

ایک ماہ کا بچہ عموماً گردن نہیں سنبھال سکتا، جانی پہچانی آوازوں کی طرف مڑ کر دیکھتا ہے، زیادہ سے زیادہ 12 انچ دور تک دیکھ سکتا ہے اور آنکھیں ملاتا ہے۔ اگر الٹا لٹائیں تو گردن ایک طرف موڑسکتا ہے اور ایک ماہ کے بچے کو یہ سنگ میل عبور کر لینے چاہیے۔ اگر  ایک ماہ کا بچہ آواز سے بالکل متاثر نہ ہو اور آنکھوں میں روشنی سے بھی ڈسٹرب نہ ہو تو یہ شدید خطرے کی علامات ہیں۔

اسی طرح تین ماہ کے بچے کے متوقع سنگ میل گردن سنبھالنا، چیزوں کو دیکھ کر مڑنا، انسانی چہروں کی طرف متوجہ ہونا وغیرہ ہیں۔ سات ماہ کے بچے کو بغیر سہارے کے بیٹھنا چاہیے، نام بلائے جانے پر متوجہ ہونا چاہیے اور لیٹے ہوئے کروٹ بدلنی چاہیے۔

ایک سال کے بچے کے متوقع سنگ میل میں ماما، بابا کہنا، سہارے سے کھڑا ہونا، رینگنا وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اگر کوئی بچہ اپنی عمر کے لحاظ سے متوقع مہارت نہ رکھتا ہو تو ایسا بچہ نشوونما میں تاخیر کا شکار ہوتا ہے۔ اس کی وجوہات خوراک کی کمی، دماغی امراض، دماغی کمزوری اور جسمانی بیماریاں ہوسکتی ہیں۔ اگر کوئی بھی بچہ بڑھوتری کے مراحل میں تاخیر کا شکار ہو تو اسے غیر اہم نہ سمجھا جائے۔ اگر صحیح وقت پر صحیح علاج نہ ہو تو بچہ ذہنی طور پر مفلوج ہونے سے موت تک کی پیچیدگیوں کا شکار ہوسکتا ہے۔

اگر بچے کا وزن عمر کے لحاظ سے کم ہو، یا اپنے ہم عصر بچوں سے دیر میں چلنا پھرنا، بیٹھنا یا بولنا شروع کرے  یا سکول میں اپنے ہم کلاس بچوں کے ساتھ پڑھنے میں مشکل کا شکار ہو تو فوراً قریبی ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور اس کے مشورے پر سختی سے عمل کریں۔ بڑھوتری کی عمر کے معمولی نظر آنے والے مسائل اکثروبیشتر غیر معمولی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر ان معمولی نظر آنے والے مسائل کو صحیح وقت پر حل کرلیا جائے تو غیر معمولی نقصان اور زندگی بھر کی پریشانی سے بچا جا سکتا ہے۔

The post بچوں میں بڑھوتری کے مسائل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2LpQYtq

’سگریٹ نوشی‘ سے سالانہ ایک لاکھ پاکستانی موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں

پاکستان کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں ایک لاکھ سے زائد افراد سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والے امراض میں مبتلا ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یعنی ہر روز 298 ہلاکتوں کی ذمہ داری صرف ایک تمباکونوشی پر عائد ہوتی ہے۔

گزشتہ دنوں وفاقی  پارلیمانی سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر نوشین حامد نے بتایا کہ تمباکو نوشی کے باعث سالانہ ایک لاکھ  پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اسی لیے وزارت قومی صحت سروسز تمباکو نوشی کے استعمال میں کمی لانے کے لیے طلب اور رسد میں کمی کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

پاکستان نے تمباکو نوشی کو کنٹرول کرنے کے فریم ورک کنونشن پر دستخط کررکھے ہیں اور صحت عامہ کی پالیسیوں میں بھی تمباکو نوشی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے نوشین حامد نے بتایا کہ تمباکو کی صنعت کی طرف سے نوجوانوں کو سگریٹ نوشی کا عادی بنایا جارہا ہے تاکہ یہ نوجوان سگریٹ نوشی چھوڑنے والوں کی جگہ لے سکیں۔ تمباکو انڈسٹری کا مذکورہ بالا طریقہ واردات بہت پرانا ہے، اقوام متحدہ کا اہم ترین ادارہ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن(ڈبلیو ایچ او) 1948ء میں قائم ہوئی اور اس کے فوراً بعد تمباکو انڈسٹری  کے شکنجے میں جکڑی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پچاس کی دہائی میں تمباکو انڈسٹری کے بڑے کھلاڑیوں نے عالمی ادارہ صحت میں اپنا اثرورسوخ قائم کرلیا۔ انھوں نے ایسے ادارے قائم کئے جن سے ڈبلیو ایچ او استفادہ کرتاتھا اور خفیہ طریقے سے ایسے ماہرین اس ادارے کو فراہم کئے جو بظاہر ڈبلیو ایچ او کے لئے کام کرتے تھے تاہم اصلاً وہ تمباکوانڈسٹری کے مفادات کے محافظ تھے۔ سوئٹزرلینڈ کے سابق وزیرصحت تھامس زیٹنر نے اسی قسم کے انکشاف کئے تھے۔

کس قدر سنگین بات ہے کہ سائنسی ماہرین تمباکوانڈسٹری کے بڑے کھلاڑیوں اور ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے لئے  بیک وقت کام کریں۔ اس کی ایک مثال علم سموم(زہروں سے متعلقہ علم ) کے ایک ماہر تھے جو ڈبلیوایچ او کے مشیر کے طور پر اُس وقت کام کررہے تھے جب تمباکونوشی کے خلاف عالمی مہم زوروں پر تھی۔

دوسری طرف یہی صاحب فلپ موریس جیسی ملٹی نیشنل سگریٹ بنانے اور بیچنے والی کمپنی  سے بھی تنخواہ لیتے تھے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب اِن صاحب کے مذکورہ بالا تعلقات لوگوں پر ظاہر ببھی ہوگئے، اس کے باوجود وہ عالمی ادارہ صحت کے مشیر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں کہ سائنسی ماہرین نے عالمی ادارہ صحت کے قیام کے اغراض ومقاصد کے برخلاف کام کیا۔ جب عالمی ادارہ صحت لوگوں کی صحت کو تحفظ دینے کی آڑ میں بیماریاں پھیلانے والوں کے کاروبار کے فروغ کے لئے مہمات چلائے گی تو آپ اندازہ کریں کہ لوگوں کی صحت کا عالم کیا ہوگا؟

ایک اندازے کے مطابق دنیا میں ایک ارب سگریٹ نوش موجود ہیں جو روزانہ 18ارب سگریٹ پیتے ہیں۔ اس اعتبار سے ماہرین اسے دنیا کا سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار قراردیتے ہیں۔ پوری دنیا میں موجود سگریٹ نوش حضرات وخواتین  میں سے 80 فیصد لوئراورمڈل کلاس معاشروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ 33ملین افراد تمباکو کے کھیتوں میں مزدوری کرتے ہیں، ان کی بڑی تعداد انتہائی غریب علاقوں اور طبقات سے آتی ہے۔ ان مزدوروں میں چھوٹے بچے بھی شامل ہوتے ہیں جو انتہائی کم معاوضے پر کام کرتے ہیں لیکن کبھی چائلڈلیبر کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کی نظریں ان بچوں پر نہیں پڑتی۔

سگریٹ نوشی سے پیداہونے والی بیماریوں سے متعلق شعور پیدا نہیں ہونے دیا جارہا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ تمباکو پیدا کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر چین ہے، وہاں صرف 38فیصد افراد جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی دل کے امراض بھی پیدا کرتی ہے اور صرف 27 فیصد جانتے ہیں کہ سگریٹ نوش بالآخر دل کے دورے کا شکار ہوجاتاہے۔

اسی طرح بنگلہ دیش، بھارت، نیدرلینڈ، روس، تھائی لینڈ اور ویت نام میں صرف 25 فیصد آبادی مذکورہ بالا حقیقت سے بے خبر ہے۔ نیوزی لینڈ میں17 فیصد، فرانس میں 14فیصد، امریکا میں 13فیصد لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ دنیا میں امراض قلب انسانوں کے سب سے بڑے قاتل ہیں، پھیپھڑوں کا کینسر نہیں۔

یہ حقیقت بھی جان لیں کہ تمباکو آدھے سے زائد سگریٹ نوشوں کو ہلاک کردیتاہے۔ پوری دنیا میں ہرسال  60سے70 لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں، ان میں 6لاکھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو سگریٹ نہیں پیتے لیکن سگریٹ نوشی کے اثرات ان کے لئے زہرقاتل ثابت ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر سگریٹ نوشی کا رجحان یہی رہا تو 2030ء تک ہلاکتوںکی تعداد 80لاکھ سالانہ تک پہنچ جائے گی۔ ایک فرد جو ایک سگریٹ پھونکتا ہے، وہ اس کی زندگی کے پانچ سے11منٹ کم کردیتاہے۔مجموعی طور پر ایک فرد سگریٹ نوشی کرکے اپنی  زندگی کے 12سال کم کردیتا ہے۔ اور یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ دل کے امراض میں مبتلا ہونے والے 25فیصد افراد  اور پھیپھڑوں کے کینسرزدہ 75فیصد افراد کی ہلاکت کا براہ راست سبب سگریٹ نوشی ہوتاہے۔

یہ خاصی عجیب بات ہے کہ  سگریٹ نوشی کے خلاف تمام تر اقدامات اور مہمات کے باوجود پاکستان میں بھی سگریٹ نوشوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ وزارت صحت کی طرف سے سگریٹ کی ہرڈبیہ پر لکھاہوتاہے کہ  یہ انسانی صحت کے لئے مضر ہے اور یہ منہ کے کینسر کا باعث بنتی ہے۔ اس کے ساتھ  منہ کے کینسر میں مبتلا فرد کی ایک خوفزدہ کرنے والی تصویر بھی شائع ہوتی ہے تاہم اس کے باوجود یہاں لڑکے جوانی کے دور میں داخل ہونے کا اعلان سگریٹ نوشی کے ذریعے کرتے ہیں۔

اب حکومت نے اعلان کیاہے کہ یکم جون 2019ء سے ڈبیہ پر منہ کے کینسر کی تصویر کا سائز بڑھا کر 60فیصد کردیاجائے گا۔ دیگر اقدامات میں تمباکو کی مختلف مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں مزید اضافہ  کی تجاویز بھی زیرغور ہیں۔ یادرہے کہ  ضمنی بجٹ 2018ء  میں سگریٹ کے تیسرے درجہ کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں تقریباً 46فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ایسے اقدامات کے نتیجے میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوسکے۔کیا نئی حکومت کے اقدامات موثر ثابت ہوں گے؟

تحریک انصاف کی حکومت نے ’گناہ ٹیکس‘ کی صورت میں ایک نیا قدم اٹھانے کی اعلان بھی کیا ہے۔  یہ تجویز اس تناظر میں بہترین ہے کہ جومصنوعات انسانی صحت میں خرابی پیداکرتی ہیں ، اس خرابی کا علاج بھی انہی کمپنیوں کی ذمہ داری ہوناچاہئے، چنانچہ حکومت نے میٹھے مشروبات پر بھی یہ ٹیکس عائد کیاہے،کیونکہ چینی سے تیار ہونے والے مشروبات بھی انسانی صحت پر برے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

حکومت اس وقت بجٹ میں صحت کے شعبے پر جی ڈی پی کا 0.6 فیصد مختص کرتی ہے۔ سگریٹ نوشی سمیت ایسی تمام مصنوعات جو انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب کرتی ہیں، پر ’ گناہ ٹیکس‘ عائد کرنے کی تجویز خاصی پرانی ہے ، حکومتوںکو ان مضراثرات سے نمٹنے  یعنی صحت عامہ کے لئے ایک بڑی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔  ’گناہ ٹیکس‘دنیا کے45 ممالک میں وصول کیا جارہاہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ  یہ ٹیکس تمام ممالک میں اِسی نام سے وصول کیاجاتا ہے۔

امریکا میں سگریٹ کے ایک پیکٹ پر ڈیڑھ ڈالر وصول کیاجاتاہے، یعنی200 پاکستانی روپے ۔ برطانیہ میں چینی سے تیارشدہ ایک لیٹر مشروب پر 100 پاکستانی روپے کے برابر ٹیکس وصول کیاجاتاہے۔ پاکستان میں ’گناہ ٹیکس‘ کس قدر وصول کیاجائے گا، تاحال فیصلہ نہیں ہوسکا۔ ماہرین صحت کا مطالبہ ہے کہ حکومت مضرصحت مصنوعات پر بھاری بھرکم ٹیکس عائد کرے تاکہ ایک طرف حکومت پر صحت عامہ پر اخراجات کرنے کا بوجھ کم ہو، دوسری طرف عوام الناس پر بھی بوجھ کم پڑے اور پاکستانی ایک صحت مند قوم بن سکیں۔

ماہرین کا کہناہے کہ بھاری بھرکم ٹیکس عائد کرنے کا فائدہ ہوگا کہ مضرصحت مصنوعات کم عمر یا نوجوانوں کی استطاعت سے باہر ہوجائیں گی۔ ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1500نوجوان یا کم عمر لڑکے سگریٹ نوشی میں مبتلا ہوتے ہیں، حکومت چاہتی ہے کہ اس تعداد میں کمی آئے۔  پاکستان میں صحت عامہ کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے بعض ادارے ایک طویل عرصہ سے مسلسل حکومت پر زور دے رہے تھے کہ وہ ’گناہ ٹیکس‘ عائد کرے۔

صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی سے ماہرین صحت کا ایک وفد ملا جہاں یہ مطالبہ ایک بارپھر پیش کیاگیا، صدرمملکت نے یقین دلایا کہ وہ اسکے لئے ہرممکن کردار ادا کریں گے۔  یہ تجویز مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں بھی پیش کی گئی لیکن اسے منظور نہ کیاگیا۔ پاکستانیوں کو مکمل صحت مند قوم بنانا، شاید یہ ہماری سابقہ حکومتوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھا۔

ماہرین کا کہناہے کہ  حکومت گناہ ٹیکس نافذ کرتے ہوئے پوری طرح ہوشیار رہے کہ  سگریٹ تیار کرنے اور فروخت کرنے والے اس ٹیکس کا بوجھ خریداروں پر نہ ڈال سکے۔ ویسے بعض حلقوں کا کہناہے کہ گناہ ٹیکس کا نفاذ اس قدر آسان نہیں، جتنا سمجھاجاتا ہے کیونکہ ملک میں تمباکو انڈسٹری غیرمعمولی طور پر موثر اور طاقتور ہے۔ اب یہ وزیراعظم عمران خان جیسے مضبوط قوت ارادی کے مالک حکمران کا امتحان ہے، آیا وہ اپنی قوم کا تحفظ کرنے اور اسے ایک مکمل صحت مند قوم بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا تمباکوانڈسٹری فتح یاب ہوتی ہے!۔

The post ’سگریٹ نوشی‘ سے سالانہ ایک لاکھ پاکستانی موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2rLwwdv

ورزش بلڈ پریشر کم کرنے کی نئی ’دوا‘ ثابت

 لندن: ماہرین نے ایک دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ اگر بلڈ پریشر کے مریض ورزش، تیراکی، وزن اٹھانے یا پیدل چلنے کو اپنی عادت بنائیں تو اس کا اثر عین دواؤں جیسا ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین نے یہ ضرور کہا ہے کہ وہ ورزش کے ساتھ ساتھ دوائیں کھانے کو ترک نہ کریں۔

لندن اسکول آف اکنامکس کے حسین نقی اور ان کے ساتھیوں نے دواؤں کے بلڈ پریشر پر اثرات کے 194 مطالعات اور خاص ورزشوں کے 197 سروے کا بغور مطالعہ کیا جس میں مجموعی طور پر 40 ہزار افراد شامل تھے۔ تاہم اس سے قبل بلڈ پریشر کے علاج کے لیے ورزش بمقابلہ دوا پر غور نہیں کیا گیا تھا۔

اس سروے سے ماہرین نے معلوم کیا کہ بلڈپریشر گھٹانے والی بعض (اسٹرکچرل) ورزشیں مثلاً پیراکی اور وزن اٹھانے کے مریض پرعین دواؤں جیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں یعنی ورزش خود دوا بن جاتی ہے۔ تاہم یہ بات ان افراد کے لیے ہے جن کا بلڈ پریشر معمول سے زیادہ ہو۔ ورزشوں میں سائیکل چلانا، پیدل چلنا، وزن اٹھانا اور تیراکی جیسے کام بلڈ پریشر کم کرتے ہیں۔

تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ اس مثبت رپورٹ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دوا کو چھوڑ دیا جائے بلکہ دوا کے ساتھ ساتھ ورزش جاری رکھی جائے تو اس کے دوہرے فائدے ہوتے ہیں۔

The post ورزش بلڈ پریشر کم کرنے کی نئی ’دوا‘ ثابت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2EHSWVA

Medical News Today: 12 foods to boost brain function

The diet can have a significant impact on the brain's function. A brain-healthy diet, rich in antioxidants and omega-3 fatty acids, can boost memory and learning while staving off neurodegenerative disorders, such as Alzheimer's disease. Here, we look at the evidence for some of the best brain foods.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2A5cQWM

Medical News Today: What are the benefits of petroleum jelly?

Petroleum jelly has a variety of uses, including for diaper rash, as a moisturizer, to treat skin conditions such as eczema, and as a lubricant. Learn more about the benefits of petroleum jelly here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2S5Zb8Q

Medical News Today: Intestinal worms in humans and their symptoms

Intestinal worms are small organisms that can live in the human body. They usually enter the body in contaminated foods, drinks, and soil, and can cause gastrointestinal symptoms. Antiparasitic medication will often resolve any issues quickly. Learn more about the different types of intestinal worm here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2BtTF8S

Medical News Today: What is bowel obstruction?

A bowel obstruction occurs when something blocks part of the small or large intestine. This blockage can be a serious problem if it is left untreated, so a person should speak to a doctor if they experience any of the symptoms. Learn more about these symptoms, the causes, treatment options, and diet tips here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2EGZuUg

Medical News Today: What are the best cornstarch substitutes?

People can use cornstarch in cooking to thicken and stabilize foods. Substitutes include wheat flour, rice flour, xanthan gum, and arrowroot flour. Learn more about cornstarch substitutes here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2LpvUDn

Medical News Today: Does apple cider vinegar help with acid reflux?

Apple cider vinegar is a popular home remedy for acid reflux. In this article, we look at the research, potential benefits, and side effects of using apple cider vinegar for acid reflux.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2STDRTY

Medical News Today: Multiple sclerosis: Could this be why myelin fails to regenerate?

A study finds a previously unknown mechanism that quietens adult stem cells and could be a disruptor of myelin repair in inflammatory diseases, such as MS.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2SWQYDK

Medical News Today: What is the secret to women's longevity?

Women tend to have longer lives than men, but why is that the case? The results of a new study in mice may offer an answer to this question.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2EC3DsT

Medical News Today: Síntomas, causas y tratamiento para el herpes

Existen dos tipos de herpes: VHS-1 (herpes tipo 1 u oral) y VHS-2 (herpes tipo 2 o genital). Descubra las diferencias entre ellos y las opciones de tratamiento.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2SWgkSf

Medical News Today: Todo lo que necesita saber sobre las hemorroides

Las hemorroides aparecen debido a conjuntos de tejido inflamados que se desarrollan en la zona anal. Pueden ser irritantes y dolorosas. Descubra más información en este artículo.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2CnqoOK

Medical News Today: Todo lo que necesita saber sobre los herpes labiales

Los herpes labiales son pequeñas lesiones similares a las ampollas que aparecen alrededor o dentro de la boca y la nariz. El herpes oral es la principal causa que las origina.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2SVJEZa

Medical News Today: Todo lo que necesita saber sobre la varicela

La varicela es una infección muy contagiosa provocada por el virus varicela-zóster. No tiene cura, pero si existe una vacuna contra ella.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2CnzpYk

Medical News Today: Cefaleas: Causas, tipos y tratamiento

Este artículo presenta cinco tipos de cefaleas, los diferentes síntomas que presentan y la forma de tratarlos con medicación y remedios alternativos.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2SVWEOl

Medical News Today: Diez remedios para las aftas

Este artículo presenta varias maneras para curar las aftas y úlceras bucales de forma más rápida. Descubrirá remedios caseros y las circunstancias en las que debe visitar al médico.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Bs6lwZ

Medical News Today: Taquicardia: Causas, síntomas y tratamientos

Descubra toda la información necesaria sobre los cinco tipos más comunes de taquicardia o frecuencia cardíaca más rápida de lo normal, la forma de prevenirla y las opciones para tratarla.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2QGjugn

Medical News Today: 12 remedios naturales para acabar con las tos

Los episodios de tos son muy frecuentes entre la población. Descubra toda la información necesaria sobre los remedios naturales y cómo prevenirlos.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2BvYj6p

Medical News Today: Could a tiny implant boost weight loss?

A recent study tested a small, battery-free implant that can shut down feelings of hunger by stimulating a nerve that runs from the stomach to the brain.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2EGisKS

Tuesday, 18 December 2018

کیا مسلسل کھجلی کا علاج روشنی سے ممکن ہے؟

روم: ایکزیما اور مسلسل خارش انسان کو بے حال کردیتی ہے اور اب ممکنہ طور پر اس کا علاج روشنی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

روم میں واقع مالیکیولر بایولوجی لیبارٹری (ای ایم بی ایل) کے ماہرین نے مسلسل تحقیق سے دیرینہ خارش کا ایک نیا اور کم تکلیف دہ علاج دریافت کیا ہے۔ جب چوہوں پر ان کا علاج کیا گیا تو اس کے بہت مؤثر نتائج برآمد ہوئے۔ اس طریقہ علاج کی انسانوں پر افادیت کے بعد تکلیف دہ ایکزیما سمیت کئی امراض کی راہ ہموار ہوسکے گی۔

17 درسمبر کو نیچر بایو میڈیکل انجینئرنگ میں شائع ایک رپورٹ میں سائنس دانوں نے کہا ہے کہ اس طریقہ علاج میں روشنی سے حساس بعض کیمیکل جسم میں داخل کیے جاتے ہیں جو فوری طور پر بیرونی جلد پر کھجلی کی وجہ بننے والے اعصابی خلیات (نروسیلز) سے جڑ جاتے ہیں۔

تجرباتی طور پر خارش کے شکار چوہوں میں کیمیکل ٹیکوں کی مدد سے شامل کیا گیا۔ اس کے بعد نزد زیریں سرخ (نیئر انفرا ریڈ لائٹ) جلد پر ڈالی گئی۔ اس روشنی کی بدولت خارش کی وجہ بننے والے اعصاب جلد کی اوپری سطح سے دور ہوگئے اور چوہوں کی کھجلی ختم ہوگئی۔

یہاں ایک بات ضروری ہے کہ انسان اور چوہوں میں کھجلی کی وجہ بننے والا مالیکیول یکساں ہوتے ہیں جو ایک طرح کا پروٹین ہے اور اس کا نام انٹرلیوکِن 31 (آئی ایل 31) ہے۔ اسے وضع کرنے والے سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ ایک مرتبہ انجکشن اور روشنی ڈالنے کے بعد کئی مہینوں کے لیے خارش سے نجات مل جاتی ہے اور اب یہ علاج انسانوں پر آزمائش کے لیے تیار ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تجربہ گاہ میں اس علاج کے بعد چوہوں پر کوئی منفی اثر نہ ہوا اور ان کی جلد روز بہ روز بہتر ہوتی چلی گئی اور خارش بتدریج کم ہوتی گئی اور امید ہے اس سے ایکزیما جیسے پریشان کن مرض کا علاج بھی ممکن ہوسکے گا۔

The post کیا مسلسل کھجلی کا علاج روشنی سے ممکن ہے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2ExsT2G

Medical News Today: How can I balance my hormones?

There are many ways to help balance hormones, including managing stress and maintaining healthful sleep, exercise, and dietary habits. Learn more about natural ways to balance hormones here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2ErWcn7

Medical News Today: What are the benefits of spirulina?

Spirulina is blue-green algae often hailed as a superfood. It contains many key nutrients and may have wide-ranging benefits, including for blood pressure, diabetes, and removing toxic chemicals from the body. Learn more about the benefits of spirulina here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2BryRic

Medical News Today: Losartan potassium: Uses and warnings

Losartan potassium is a drug that effectively treats high blood pressure and diabetic neuropathy. This article provides an overview of the benefits, effectiveness, side effects, and warnings associated with losartan potassium.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2BreOk2

Medical News Today: Type 2 diabetes: How do migraines affect risk?

Women with current migraine have a lower risk of type 2 diabetes compared with those with no history of migraine, according to a large observational study.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2STVW48

Medical News Today: How do anxiety and depression affect physical health?

New research investigates the physical health risks associated with anxiety and depression and compares them with those of smoking and obesity.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Bqu2pr

Medical News Today: What are the health benefits of 5-HTP?

L-5 hydroxytryptophan (5-HTP) is a naturally occurring compound in the body. It is related to the production of serotonin, so some people think that it may aid weight loss, treat sleep problems, and help manage depression. Learn more about 5-HTP supplements in this article.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2LmxE0j

Medical News Today: Simply receiving DNA test results can alter your physiology

A fascinating new study demonstrates that simply being told we have a genetic risk can alter the way our body behaves, even if the risk does not exist.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2GrzVIy

Medical News Today: Type 2 diabetes: Gut bacteria may influence drug effectiveness

A new review of existing research examines the effect of the gut bacteria composition on the effectiveness of type 2 diabetes medications.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2S2sWaA

Monday, 17 December 2018

ٹائپ ٹو ذیابیطس سے دماغ بھی کمزور ہوجاتا ہے، ماہرین

آسٹریلیا: ہم جانتے ہیں کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس، شوگر کے مرض کی سب سے عام قسم ہے اور پورے جسم پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اب ماہرین نے پہلی مرتبہ ایک طویل سروے میں ٹائپ ٹو ذیابیطس اور دماغی انحطاط کے درمیان ایک تعلق دریافت کیا ہے۔

یورپی ذیابیطس تنظیم کی اشاعت ’ڈایبیٹائلوجیا‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے شہر ہوبارٹ میں تسمانیہ یونیورسٹی کے ماہرین نے مسلسل پانچ سال تک ذیابیطس کے مریضوں کا جائزہ لیا۔ اس میں انہوں نے اس مرض میں دماغی کیفیات اور دماغی سرگرمی میں کمی کو بطورِ خاص ہدف بنایا۔

ماہرین نے 55 سے 90 سال کے ایسے 705 مریضوں کا جائزہ لیا جو ڈھلتی عمر کے ساتھ ساتھ گرتی دماغی صلاحیتوں کے شکار تھے۔

ان میں 348 افراد ذیابیطس کے شکار تھے جبکہ 357 کو ایسا کوئی مرض نہ تھا۔ تمام مریضوں کے ایم آر آئی اسکین لیے گئے اور ان کے دماغی حجم کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد مسلسل 5 برس تک تمام مریضوں کے 7 اقسام کے معیاری دماغی ٹیسٹ لیے گئے لیکن مرض کے ساتھ اور مرض کے بغیر دونوں گروہوں میں دماغی حجم میں کمی یکساں نوٹ کی گئی۔

ماہرین نے کہا کہ جن افراد کو ذیابیطس تھا ان میں گفتگو کی تیزی اور باتوں سے متعلق یادداشت میں واضح کمی دیکھی گئی تاہم ماہرین نے کہا کہ ورزش، طرزِ زندگی اور خوراک سے اس نقصان کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔

The post ٹائپ ٹو ذیابیطس سے دماغ بھی کمزور ہوجاتا ہے، ماہرین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2QAwjJ4

Medical News Today: All you need to know about metoprolol

Metoprolol is a beta-blocker that doctors often prescribe to treat cardiovascular issues, such as high blood pressure and angina. Different types of metoprolol have different uses. Learn more about how this drug works, when a doctor may prescribe it, and what the potential side effects can be here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2A6PKyK

Medical News Today: What are the health benefits of lysine?

Lysine is an essential amino acid that people need to obtain from their diet. In this article, we discuss the function, benefits, and risks of lysine and lysine supplements.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2GjCVXs

Medical News Today: What is best to eat after food poisoning?

When someone has food poisoning, they may want to limit themselves to a bland diet to avoid irritating the stomach further. Many people recommend the BRAT diet as a good one to follow after food poisoning. Learn more about the best foods and drinks to consume and avoid after food poisoning here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2QC9818

Medical News Today: Kava kava: Benefits and safety concerns

Kava kava is an herbal remedy that people use to relieve anxiety and promote sleep. However, there are concerns about its safety, as research suggests that it can cause serious liver damage. In this article, we will discuss the safety, uses, possible benefits, and best dosage of kava kava.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2LtSWcx

Medical News Today: Breast infections: What to know

Breast infections can happen for a variety of reasons. They are more common when a person is breastfeeding, but they can also affect people who are not. Learn more in this article.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2GqxyG2

Medical News Today: Endometriosis and weight gain: What's the link?

Some people with endometriosis experience weight gain and bloating. In this article, we look at the possible reasons why and explain how to manage weight effectively.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2rGyrA1

Medical News Today: Recalled 'weight history' can predict heart failure risk

While obesity can raise heart failure risk at any age, the risk is higher in those with a lifetime history of obesity compared with only recent obesity.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Scjb9X

Medical News Today: Type 2 diabetes and cognitive decline: Study finds link

New research examines cognitive function and brain atrophy in both people with and without type 2 diabetes over the course of approximately 5 years.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2BlWM2y

Medical News Today: How does ART work?

HIV medication involves the use of antiretroviral drugs, which suppress viral activity in the body. Learn more about the types and side effects of these drugs here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Boq0xQ

Medical News Today: What causes a loss of appetite?

Loss of appetite can have many causes, including short-term infections, psychological or mental health conditions, cancers, and certain medications. In this article, we look at the causes and symptoms of appetite loss, along with treatments and home remedies.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2rF7QmW

Medical News Today: How to prevent festive weight gain without exercising

A new study investigates whether a simple, brief intervention might help people avoid putting on extra pounds over the holiday season.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2A5dIuj

ناشتے میں آئسکریم کھائیں اور ذہین بن جائیں !

ٹوکیو: ناشتے میں اگر کوئی آئسکریم کھانے کی پیش کش کرے تو انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ بھلا ناشتے میں آئسکریم کب کھائی جاتی ہے لیکن اب ماہرین کا کہنا ہے کہ ناشتے میں آئسکریم کھانے سے انسان کی ذہانت میں اضافہ ہوتا ہے۔

جاپان سے تعلق رکھنے والے سائنسدان کا کہنا ہے کہ ناشتے میں باقاعدگی سے آئسکریم کھانے والے افراد دیگر لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ذہین اور حاضر دماغ ہوتے ہیں۔ پروفیسر یوشی ہیکو کوگا کے مطابق ناشتے میں آئسکریم کھانے سے جسم میں ایلفا ویوز میں اضافہ کرتا ہے جس کا تعلق انسان کی دماغی پھرتیوں سے ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے دماغ کی ایلفا ویوز کی فریکوئنسی زیادہ ہوگی وہ اتنا ہی زیادہ حاضر دماغ اور ذہین ہوگا۔

پروفیسر یوشی ہیکو کوگا نے ٹوکیو کی “کیورین یونیورسٹی” میں طالبعلموں کے 2 گروپوں پر ریسرچ کی جن میں سے ایک گروپ کو روزانہ ناشتے میں آئسکریم کھلائی گئی جب کہ دوسرے گروپ کو ناشتے میں دیگر اشیا کھلائی گئیں جس کے بعد دونوں گروپوں میں شامل طالبعلموں کی ذہنی صلاحیت کا کمپیوٹر پر جائزہ لیا گیا۔ دونوں گروپوں کی ذہنی صلاحیت اور پھرتیوں کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ صبح ناشتے میں آئسکریم کھانے والے افراد ذہنی دباؤ کا شکار نہیں ہوتے اور وہ عام فرد کے مقابلے میں زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔

اسی کے ساتھ پروفیسرکوگا نے اپنی تحقیق میں شامل افراد کو صبح ناشتے میں ٹھنڈا پانی دیا جس کے بعد ان کی ذہنی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا توان کی بھی حاضردماغی اور ذہنی صلاحیت میں اضافہ نوٹ کیا گیا۔ اپنی ریسرچ میں پروفیسر یوشی ہیکوگوکا کا کہنا ہے کہ ناشتے میں آئسکریم کھانے کے صحت پر ہونے والے نقصانات سے متعلق مزید تحقیق کی ضرورت ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ ناشتے میں آئسکریم کھانے سے ذہنی صلاحیت نکھرتی ہے۔

The post ناشتے میں آئسکریم کھائیں اور ذہین بن جائیں ! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Ez6hzo

Medical News Today: There's more to blinking than meets the eye

In an unusual experiment, researchers demonstrate that the duration of a blink during conversation can influence the length of someone's answer.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2SU3BQe

Sunday, 16 December 2018

Medical News Today: How to make kefir more healthful using sound

Kefir is credited with a range of health benefits. Recently, researchers tried to boost levels of one of its active ingredients using ultrasound.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2PB7fwd

Medical News Today: Internet-based CBT effective for treating severe depression

A large review of existing studies confirms that Internet-based CBT apps are an effective way of treating mild, moderate, and severe depression.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2ElbTMR

Saturday, 15 December 2018

ماہرین درد کے علاج کا انقلابی طریقہ ڈھونڈنے میں کامیاب

ہارورڈ: محققین جسمانی درد کی جڑ اور اس کے جسم میں پھیلاؤ کا ’نیورو لوجیکل پاتھ‘ ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالے نے درد کے علاج میں انقلابی تبدیلی کی راہ ہموار کردی ہے۔ ماہرین ان سوالات کے جواب جاننے میں کامیاب ہوگئے کہ چوٹ لگنے کے بعد نیورون دماغ سے پیغامات کی ترسیل کس طرح انجام دیتے ہیں اور کیسے درد کا احساس زخم مندمل نہ ہونے تک برقرار رہتا ہے۔

ہارورڈ میڈیکل اسکول کے تحقیق کار چوہوں پر تحقیق کے دوران درد کے ’نیورو لوجیکل پاتھ‘ کا پتا چلانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ وہ گزر گاہ ہے جہاں سے درد کا احساس لیے ہوئے نیورون سفر کرتے ہیں اور جن کا اسٹیشن دماغ ہے۔ نیورون کا ایک سیٹ پر مشتمل گچھا جسم میں درد کے احساس کی ترسیل کا کام انجام دیتا ہے۔

جب چوٹ لگتی ہے تو دفاعی نظام بھی متحرک ہوجاتا ہے، یہ نظام دہرا ہوتا ہے اور دونوں نظام الگ الگ نیورونز سے کنٹرول کیے جاتے ہیں۔ ایک نظام چوٹ کے نتیجے میں جراثیم کے حملے کو روکتا ہے تو دوسرا چوٹ کے مضمرات کو کم کردیتا ہے۔ اگر اس عمل کو زیادہ متحرک کردیا جائے تو چوٹ بھی فوری مندمل ہوسکتی ہے اور درد کا احساس بھی کم ہوجائے گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ قبل ازیں درد کے لیے دی جانے والی ادویات صرف درد کے احساس کو ختم کردیتی تھیں، زخم کے مندمل ہونے کے فطری عمل میں تیزی یا مستعدی لانے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر پاتی تھیں۔ اس نئی تحقیق سے زخم کے جلدی مندمل ہونے اور درد کے احساس کو مکمل طور پر ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

The post ماہرین درد کے علاج کا انقلابی طریقہ ڈھونڈنے میں کامیاب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2QXOlUX

Medical News Today: How meditation impacts the way we learn

Meditation can influence many aspects of health and well-being. Now, new evidence suggests that it also affects how the brain learns from past experience.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2rEYyrb

Medical News Today: Diabetes and hypertension drug combo kills cancer cells

New research finds that combining the drug metformin with an antihypertensive drug cuts off the energy supply to cancer cells and inhibits tumor growth.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2rCn9wT

Friday, 14 December 2018

کولیسٹرول گھٹانے والی بہترین غذائیں

 لندن: ماہرینِ غذائیت کا خیال ہے کہ بعض غذائیں کولیسٹرول گھٹانے میں مددگار ہوتی ہیں اور ان کا باقاعدہ استعمال دل اور جسم کی صحت کا ضامن ہوسکتا ہے۔  ذیل میں دی گئی غذائیں سائنسی لحاظ سے صحتمند اور مضر یعنی ایل ڈی ایل کولیسٹرول گھٹانے میں اپنا اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اخروٹ اور دیگر گری دار میوے

بادام، پستے، اخروٹ اور ہیزل نٹ، لو ڈینسٹی لائپو پروٹین کولیسٹرول اور غیر سیر شدہ چکنائیوں کو کم کرسکتےہیں۔ برسوں کی تحقیق سے ان کی افادیت سامنے آچکی ہے۔

پھلیاں اور جو

جو (اوٹس) اور مختلف اقسام کی پھلیاں (بینز) پورے جسم سے کولیسٹرول نکالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دوپہر یا شام کے کھانے میں مختلف پھلیوں اور جو کے سیریل کو ضرور استعمال کیا جائے اور گوشت ترک کردیا جائے۔

مگرناشپتی (ایواکیڈو)

مگرناشپتی(ایواکیڈو)اب پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی دستیاب ہے۔ مگرناشپتی امائنو ایسڈز سے بھرپور ہے اور اس میں کئی طرح کے کیمیکل ایل ڈی ایل کولیسٹرول گھٹاتے ہیں۔

اسٹیرول اور اسٹینول والی غذائیں

پودوں میں معمولی مقدار ایسے کیمیکل پائے جاتے ہیں جو کولیسٹرول گھٹانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ ان کیمیکلز کو اسٹیرول اور اسٹینول کہتے ہیں۔ ان کی دو یا تین گرام مقدار سے بھی ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی شرح میں 10 سے 15 فیصد کمی واقع ہوجاتی ہے۔ تاہم یہ دودھ اور دہی کی مصنوعات یا نارنجی کے رس کے ڈبوں میں شامل کرکے فروخت کئے جاتے ہیں۔ اگر بڑے اسٹور پر آپ کو یہ مل جائیں تو ضرور آزمائیں۔

اس کے علاوہ ہرے پتوں والی سبزیاں اور رنگ برنگی پھل بھی کولسٹرول بھگانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور ان کا باقاعدہ استعمال آپ کو بہت سے امراض سے بچاتا ہے۔

The post کولیسٹرول گھٹانے والی بہترین غذائیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Bnyg0O

Medical News Today: What to know about encephalopathy

Encephalopathy refers to a range of conditions that damage the brain's structure or function. This includes brain damage and brain disease. In this article, we look at the types, causes, symptoms, and treatments of encephalopathy.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2ExARt4

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن:  چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا م...