Sunday, 31 March 2019

خطرناک امراض پر تحقیق میں بچوں کے دودھ کے دانت اہم قرار

پنسلوانیا: ابتدائی عمر میں بچوں کے ٹوٹے ہوئے دانتوں کو سنبھال کر رکھنے کا عمل طبی تحقیق اور جان بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

امریکی قومی مرکز برائے بایو ٹیکنالوجی کے مطابق ننھے بچوں کے دانتوں میں موجود خلیاتِ ساق (اسٹیم سیلز) ایک جانب تو ماحولیاتی نقصان سے بڑی حد تک دور ہوتے ہیں تو دوسری جانب وہ دیگرجسمانی اعضا کی تیاری میں بہت مدد دے سکتے ہیں۔ پھر ان کی بدولت کینسر کے علاج کے لیے بدن کے دوسرے حصوں سے گودے (بون میرو) حاصل کرنے کی ضرورت بھی کم ہوگی۔

اگرچہ یہ تحقیق ابتدائی درجے میں ہیں لیکن اس کی مدد سے امراضِ قلب، دماغی بیماریوں اور کینسر کے علاج میں بہت مدد ملے گی۔ دانتوں کے اندر خاص قسم کے خلیاتِ ساق پائے جاتے ہیں جنہیں ’ہیومن ڈیسی ڈیئس پلپ اسٹیم سیلز‘ ( ایچ ڈی پی ایس سی) کہا جاتا ہے۔

اس کیفیت میں ان کے خلیات ہر جسمانی عضو میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس درجے پر یہ جگر، ہڈیوں کی دوبارہ افزائش اور آنکھوں کے متاثرہ ٹشو بھی بناسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دس سال تک کے بچوں کے ٹوٹے ہوئے دانت بہت کارآمد رہتے ہیں۔

چین میں اس کا دلچسپ تجربہ کیا گیا جس میں بچوں کے دانتوں کے خلیات سے ایسے بالغ افراد میں دانت اگانے کا فیصلہ کیا گیا جن کے دانت گر چکے تھے۔ 30 مریضوں پر آزمائش کی گئی تو ان میں دانت اُگ آئے لیکن دانت آدھے اور جزوی طور پربنے تھے۔

یونیورسٹی آف پینسلوانیہ کے ماہرین نے بچوں کے دانتوں سے خلیات لے کر جب دانت کھو دینے والے افراد میں لگا کر انہیں مصنوعی دانت نصب کیا گیا تو مریضوں نے دانتوں کے اندر حساسیت محسوس ہوئی جس سے ظاہر ہے کہ یہ عمل منتقل شدہ دانتوں میں بھی حساسیت پیدا کرسکتا ہے۔

یہ بات بھی زیر غور رہے کہ بچوں کے دودھ کے دانت سے حاصل شدہ خلیات کو دیگر کئی اقسام کے امراض میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

The post خطرناک امراض پر تحقیق میں بچوں کے دودھ کے دانت اہم قرار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2HRhPQq

Medical News Today: The 'burden of disease' in those who recover from addiction

A recent investigation into health conditions that develop in people recovering from addiction reveals that more than one-third have a chronic disease.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2U4TuwS

Medical News Today: Could reused cooking oil trigger breast cancer spread?

A new study in mice finds that reused cooking oil may encourage breast cancer metastases. These preliminary results are sure to spark more research.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2uC8Slm

Saturday, 30 March 2019

پہلی بار مردوں کے لیے مانع حمل دوا تیار

نیو اور لینز: سائنس دان مردوں کے لیے مضر اثرات سے پاک مانع حمل دوا بنانے میں کامیاب ہوگئے جس کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔

ریاست نیو اورلینز میں ہونے والی طبی کانفرنس میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ مردوں کے لیے بنائی جانے والی نئی مانع حمل گولی نے ابتدائی حفاظتی مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ 40 مردوں پر کی گئی یہ تحقیق نہ صرف نہایت کامیاب رہی بلکہ کورس کی تکمیل کے بعد ان مردوں کے ہارمون کی سطح بھی عمومی سطح پر واپس آگئی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن یونیورسٹی اور بائیو میڈ کی تخلیق کردہ دوا کی ایک گولی پورے 24 گھنٹے اسپرم بنانے والے ہارموں پروجیسٹن کو روک دے گا۔ پروجیسٹن مردانگی سے متعلق ہارمون ہے جس کے فوطوں سے خارج ہونے کا عمل رک جانے سے اسپرم نہیں بنیں گے اور سب سے خاص بات یہ کہ اس دوا کے کوئی مضر اثرات بھی نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ محدود تجربے میں حوصلہ افزا نتائج ملے ہیں کہ دوا بچوں کی پیدائش پر قابو پانے میں کس طرح مددگار ثابت ہو پائے گی، اس کے لیے دوا کو بڑے پیمانے پر اور زیادہ عرصے کے لیے تجرباتی طور استعمال کرایا جائے گا، یہی وجہ ہے کہ اس دوا کو بازار میں لانے میں ابھی ایک دہائی تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ عورتوں کے لیے مانع حمل گولی 50 سال پہلے برطانیہ میں بنائی گئی تھی تاہم مردوں کے لیے مانع حمل دوا پر پہلی مرتبہ تجربات کیے جا رہے ہیں۔

The post پہلی بار مردوں کے لیے مانع حمل دوا تیار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2CImC2c

Medical News Today: What causes bloody urine in men?

Seeing blood in the urine is a symptom of many underlying problems in males, including infections, an enlarged prostate, and kidney stones. Learn about the causes and their treatments here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2uxzWSG

Medical News Today: How to stop getting sick

Some people find that they keep getting sick. Potential causes of frequent sickness include stress and lack of sleep. Lifestyle changes can help reduce the likelihood of a person becoming ill. Learn more about why some people keep getting sick and what to do about it here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2I7MQin

Medical News Today: What are the most healthful oils?

Healthful oils are an essential part of all diets. In this article, we compare some of the most popular oils, looking at their health benefits, nutrition, and uses in cooking. We include olive oil, coconut oil, canola oil, and vegetable oil.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2THtnqB

Medical News Today: Wishing others well may boost your own well-being

New research has found a simple psychological technique that could reduce stress and anxiety and make people happier in just 12 minutes.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2CFZQYD

Medical News Today: Music may enhance the effect of pain relievers

Can music soothe pain? A new study in mice finds that listening to Mozart alongside taking standard pain medication works better than drugs alone.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2FBJAJ8

Medical News Today: What does herpes look like?

Herpes is a condition caused by the herpes simplex virus. People may notice herpes symptoms across the body, including in the mouth, on the genitals, or in the eyes. This article discusses what herpes looks like, describes the symptoms, and provides pictures to help identify herpes.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OGQyAN

Friday, 29 March 2019

وٹامن سی، آئی سی یو سے جلد چھٹکارا دلائے

فن لینڈ: سائنسدانوں نے کہا ہےکہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ٹھہرنے والے مریضوں کی جلد بحالی اور ان کو وہاں سے باہر نکالنے میں وٹامن سی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

نارنجی، کینو، لیموں اور دیگر کھٹے رسدار پھلوں میں پایا جانے والا وٹامن سی بعض مریضوں کو آئی سی یو سے باہر نکالنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کا انکشاف آسٹریلیا اور فن لینڈ کے ماہرین نے کیا ہے جن میں جامعہ فِن لینڈ کے ڈاکٹر ہیری ہیمیلیا اور سڈنی یونیورسٹی کی ایلزبتھ چاکر شامل ہیں۔

انہوں نے درجنوں مطالعوں کے بعد کہا ہے کہ اگر انتہائی بیمار اور تشویشناک کیفیت میں مبتلا مریضوں کو وٹامن سی دیا جائے تو آئی سی یو میں ان کے وقت میں 8 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔ تاہم انہوں نے آئی سی یو مریضوں اور وٹامن سی کے براہِ راست اثرات پر مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔

ماہرین نےکہا ہے کہ وٹامن سی ایک جادوئی شے ہے جس کے فوائد سائنسی طور پر ثابت شدہ ہیں۔ یہ جسم میں کئی کام کرتا ہے جن میں خلیات میں توانائی کی پیداوار بڑھانا، بلڈ پریشر کو برقرار رکھنا، دل کو بحال رکھنا ، اچھے جینیاتی افعال میں اضافہ اور ناقص جینیاتی عمل کو کم کرنا شامل ہے۔

وٹامن سی عام سردی لگنے کی شدت اور مدت کم کرتا ہے، ذیابیطس کے مریضوں میں گلوکوز کی سطح کم  رکھتا ہے اور سانس کی نالیوں کو ہمواربنانے میں مدد دیتا ہے۔ ان تمام باتوں کی وجہ سے مریض وٹامن سے بحال ہوتے ہیں اور شدید مرض کی کیفیت سے جلد باہر آجاتے ہیں۔

ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ حادثوں، سرجری، انفیکشن، دماغی تناؤ اور دیگر کیفیات میں جسم میں وٹامن سی تیزی سے کم ہونا شروع ہوجاتا ہے اور یوں تمام جسمانی افعال شدید متاثر ہونا شروع ہوجاتےہیں۔

اسی بنا پر ڈاکٹروں نے انتہائی بیمار افراد کو روزانہ 4 گرام وٹامن سی دینے کی تجویز پیش کی ہے جبکہ صحتمند فرد کو روزانہ0.1  گرام وٹامن سی درکار ہوتا ہے۔ دوسری جانب سائنسدانوں نے 18 مطالعات میں 2004 ایسے مریضوں کو دیکھا جو آئی سی یو میں منتقل کئے گئے تھے اور ان میں سے 13 افراد دل کی جراحی سے گزرے تھے۔

اس مطالعے سے معلوم ہوا کہ جن مریضوں نے وٹامن سی کی مناسب مقدار کھائی ان کے آئی سی یو میں رہنے کے اوقات میں 8 فیصد کمی واقع ہوئی۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ وٹامن سی استعمال کرنے والے مریض وینٹی لیٹر پر رہتے ہوئے بھی جلد ہی بہتر ہوئے اور وینٹی لیٹر کی ضرورت سے آزاد ہوئے۔

The post وٹامن سی، آئی سی یو سے جلد چھٹکارا دلائے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Yy1BR6

Medical News Today: Causes and treatment of foot cramp

There are several possible causes of foot cramps, including overexercising, nutrient deficiencies, and dehydration. In this article, we explore the causes of foot cramps and their treatments.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2V3WqGw

’’موتیوں جیسے دانت‘‘

ڈیئر کرنیں فرینڈز! کیسے ہیں آپ؟ آپ میں سے کون کون اپنے دانتوں کی حفاظت کا صحیح طریقہ جانتا ہے؟ اور کن بچوں کے دانتوں میں درد رہتا ہے؟ آج ہم آپ کو یہ بتائیں گے کہ دانتوں میں درد کیوں ہوتا ہے اور دانتوں کی حفاظت کیسے کی جائے؟

دوستو! اگر آپ دانت باقاعدگی سے صاف نہیں کرتے، مسواک بھی استعمال نہیں کرتے تو آپ کے دانتوں میں کیڑا لگ سکتا ہے۔ پھر ان میں شدید درد بھی ہوتا ہے اور اس صورت میں دانتوں کے ڈاکٹر کو دکھانا ضروری ہوجاتا ہے۔

اپنے دانتوں کو روزانہ رات سونے سے قبل اور صبح جاگنے کے بعد اور ناشتے کے بعد اچھی طرح صاف کرنا چاہیے۔ ہمارے پیارے نبیؐﷺ نے مسواک کرنے کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ اکثر بچے صرف صبح برش کرتے ہیں۔ کبھی کبھی جلدی میں صرف کُلّی کرلیتے ہیں اور مسواک نہیں کرتے، اسی لیے ہمارے یہ دوست بیمار پڑ جاتے ہیں۔ ان کے منہ کی گندگی کھانے کے ساتھ پیٹ میں چلی جاتی ہے، لیکن باقاعدگی سے مسواک کرنے والوں کے دانت کبھی خراب نہیں ہوتے۔

دوستو! اگر آپ کا دانت ٹوٹ گیا تو اس کی جگہ پکا دانت نکل آئے گا، لیکن اگر پکا دانت خراب ہوجائے تو پھر اس کی جگہ مصنوعی دانت ہی لگوانا پڑتا ہے، لیکن یہ مصنوعی دانت قدرتی دانت کا مقابلہ نہیں کرسکتا، کیوں کہ مصنوعی دانت انسان کے بنائے ہوئے ہوتے ہیں، ان کا کوئی تعلق ہمارے جسم سے نہیں ہوتا اور نہ وہ مسوڑھوں میں مضبوطی سے جمے ہوئے ہوتے ہیں، لہٰذا دوستو! ہمیں اپنے دانتوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

نبی کریمؐ ﷺنے ارشاد فرمایا:’’اگر مجھے امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو میں حکم دیتا کہ ہر وضو میں مسواک کیا کرو۔‘‘ لہٰذا مسواک کرنے سے آپ کو سنت نبویؐؐ پر عمل کرنے کا ثواب بھی ملے گا۔ آپ شاید یہ سوچ رہے ہوں گے کہ مسواک کس درخت کی ہوتی ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ مسواکیں مختلف ہوتی ہیں، لیکن ہمارے ہاں سب سے زیادہ پیلو کی مسواک استعمال ہوتی ہے۔ درحقیقت مسواک کے بہت سے فائدے ہیں۔ اس کے ریشے نرم اور ملائم ہوتے ہیں جن کے مقابلے پر نرم ٹوتھ برش بھی مسوڑھوں میں چبھن پیدا کرے گا۔ پھر مسواک جس درخت سے حاصل کی جاتی ہے، اس کے قدرتی اور مفید خواص بھی اس میں شامل ہوتے ہیں، جب کہ ٹوتھ برش میں کوئی طبی خواص نہیں ہوتے۔ پیلو کی مسواک دانتوں کا میل کچیل صاف کردیتی ہے۔

سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پیلو کے درخت کی لکڑی میں بڑی مقدار میں کلورین پائی جاتی ہے جو گلنے سڑنے اور زہریلے اثرات والی اشیا کے خلاف کام کرتی ہے اور ان کو بے اثر کردیتی ہے۔ یہ زخموں کو بھرتی اور دانتوں کو پالش کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس میں ٹینک ایسڈ بھی ہوتا ہے جو بہتے ہوئے خون کو بند کرنے، زخموں کو بھرنے اور مسوڑھوں کو سکیڑ کر ان میں موجود خراب رطوبت کو خارج کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ مسوڑھے سکڑتے ہیں تو دانت ان میں مضبوطی سے جم جاتے ہیں۔ ہلتے ہوئے دانت بھی مضبوطی سے جڑ پکڑ لیتے ہیں۔ دوستو! آپ بھی آج سے اپنے دانتوں کی صفائی کا خیال رکھیے اور استعمال کے بعد اپنی مسواک کو ڈھک کر رکھ دیں، تاکہ یہ ہر طرح کے جراثیم سے محفوظ رہے۔

The post ’’موتیوں جیسے دانت‘‘ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2OzBuES

شدید گرمی سے شہری پیٹ کے امراض میں مبتلا ہونے لگے

 کراچی: کراچی میں شدید گرمی شروع ہوگئی جب کہ گرمی میں پیٹ کے امراض اور ڈائریا کا مرض تیزی سے سراٹھارہا ہے۔

ماہرین طب نے کہا ہے کہ ڈائریا سے محفوظ رہنے کے لیے شہری بازارکی تلی ہوئی اشیا، سڑے گلے پھلوں اورکھلے ٹھیلوں پر بکنے والی کھانے پینے کی اشیا سے گریز کریں، ٹھیلوں پر فروخت کیے جانے والے مشروبات مضر صحت ہوتے ہیں، دھوپ میں رکھے مشروبات میں جراثیم نشونما پاتے ہیں، شدید گرمی میں بیسن کی تلی ہوئی اشیاکھانا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شدید گرمی میں پسینے نکلنے کی صورت میں گھرکا ابلا ہوا ٹھنڈا پانی پئیں، شہری دوپہر کو کھانے میں ہلکی غذاکے ساتھ دہی استعمال کریں، رات کومرغن کھانوں سے گریز کیا جائے۔

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ گرمی میں سب سے زیادہ ڈائریا کا مرض لاحق ہوتا ہے، ڈائریا کا مرض مضر صحت کھانے پینے کی اشیا سے جنم لیتا ہے گرم موسم میں زیادہ کھانے سے پیٹ اور آنتوں کے مسائل جنم لیتے ہیں۔

جناح اسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں کھانے پینے میں لاپرواہی سے ڈائریا کا مرض جنم لیتا ہے، جسم میں پانی کی کمی سے ڈی ہائیڈریشن ہوجاتی ہے، جسم میں پانی کی شدید کمی سے چکر آنا اور قے ہوسکتی ہے شہری گرم موسم میں غیر ضروری دھوپ میں نکلنے سے گریزکریں، دھوپ میں کام کرنے والے سر ڈھانپ کررکھیں، گرمی کی شدت میں اضافے کے پیش نظر سر پرگیلا کپڑا رکھا جائے۔

سول اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹرخادم حسین قریشی کا کہنا ہے کہ شہری شدید گرم موسم میں بازار کے مضر صحت کھانے پینے کی اشیا سے گریز کریں، گھرکا ابلا ہوا ٹھنڈا پانی پئیں کھانوں میں دہی شامل کی جائے ہلکی غذاؤں کے استعمال سے پیٹ کی بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے، گرمی میں زیادہ پسینے نکلنے سے جسم میں نمکیات کی کمی ہوجاتی ہے جسم سے جتنا پسینہ نکلے اتنا ہی پانی پئیں شہری گرمی میں کم کھائیں پانی زیادہ پئیں، پورے دن گرمی میں15گلاس پانی لازمی پئیں والدین اسکول جانے والے بچوںکو پانی کا تھرماس لازمی دیں۔

The post شدید گرمی سے شہری پیٹ کے امراض میں مبتلا ہونے لگے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2I26Tia

Medical News Today: Ulcerative colitis medications and other options

Ulcerative colitis medications include corticosteroids and immunomodulators. Other medical and natural treatments, such as surgery or nutrition, may also help. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2FLuTV7

Medical News Today: Possible reasons weight loss is not working

Efforts to lose weight may not work for a range of reasons. A person may be following an ineffective fad diet, or consuming sugary drinks, or exercising more but making no dietary changes, for example. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2YwTtR3

Medical News Today: Hematoma: Everything you need to know

A hematoma occurs when blood leaks from a large blood vessel. In this article, learn about the causes and symptoms of hematomas as well as the different types and when to see a doctor.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2V44uHp

Medical News Today: Dark spots on the skin: Causes and how to treat them

Dark spots on the skin are usually the result of hyperpigmentation. They are usually harmless. In this article, we look at the symptoms, causes, and treatments for dark spots on the skin.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2uB6HOO

Medical News Today: Can you get pregnant on your period?

A person can get pregnant at any point in their menstrual cycle, but it is much less likely during their period. In this article, we look at the factors affecting whether someone can get pregnant before, during, and after their period.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2FBJfWI

Medical News Today: How can you make your period come faster?

People have tried many methods to induce periods using traditional and modern medicine. In this article, we look at the evidence behind various ways to make a period come faster, risks, and methods that have no scientific backing.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2V5GNOL

Medical News Today: What does science say about the effects of meditation?

In this Spotlight feature, we look at the benefits of practicing meditation or mindfulness, and we weigh up some of the potential unwanted effects.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2UoAZmA

Medical News Today: Vitamin C can cut time spent in intensive care units

An analysis of published trials calls for research into vitamin C's effects on critically ill patients after finding it can cut time in ICU by 8 percent.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2HXTYh6

Medical News Today: Could probiotics evolve in the gut and cause harm?

New research shows how bacteria adapt inside the gastrointestinal tract of mice and suggests that the effectiveness of probiotics might change over time.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2YzrEr5

Medical News Today: What can cause stomach pain when breathing?

Stomach pain when breathing is often due to a problem with the diaphragm or the tissues in the chest cavity. Possible causes include injuries, hiatal hernia, pregnancy, pleurisy, and gastroesophageal reflux disease (GERD). Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2U2cwE5

Medical News Today: 15 healthful gluten-free meals to try

Making healthful, filling gluten-free meals is easier than many people think. In this article, we provide 15 gluten-free recipes that people can use to make breakfasts, lunches, and dinners.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2VaKoeg

Medical News Today: Using artificial intelligence to predict mortality

Newly published research compares the accuracy of machine learning algorithms in predicting mortality with that of conventional mathematical models.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2FIhnkR

Medical News Today: This drug failed to treat cancer, but it could improve dementia

Scientists have found that an experimental drug that failed against cancer may treat dementia instead. However, can they test it in clinical trials?

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OwdvXa

Thursday, 28 March 2019

Medical News Today: What to know about cupping therapy

Cupping therapy involves placing cups on the body and creating suction. Benefits include pain relief and sports recovery. There are also some potential side effects, such as nausea and headaches. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2JMvFoF

کانگو میں ایبولا کی وبا پھوٹنے سے سیکڑوں افراد ہلاک

کانگو: ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری ایبولہ وائرس کی وبا ہولناک صورتحال اختیار کرچکی ہے جس میں اب تک 1000 سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اور ان کی دو تہائی تعداد لقمہ اجل بھی بن چکی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ڈاکٹروں اور طبی عملے پر عوام کے عدم اعتماد اور جھوٹی افواہوں کی وجہ سے ایبولہ کو قابو کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہورہی ہیں جس سے ڈی آر سی میں یہ مہلک وبا پھوٹ پڑی ہے۔ اس ضمن میں کانگو کے دو شہروں بینی اور بیوٹیمبو میں ایک سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ تین میں سے ایک فرد ہی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ حکومت اس بیماری سے لڑنے میں اس کی کوئی مدد کرسکتی ہے جبکہ 25 فیصد افراد نے کہا کہ ایبولہ وائرس کا کوئی وجود نہیں۔

اس سروے میں 36 فیصد لوگوں نے کہا کہ یہ ایک خودساختہ بیماری ہے جس کا مقصد کانگو کو غیرمستحکم کرنا ہے۔ جبکہ 1000 میں سے 961 افراد نے کہا کہ انہوں نے اس مرض کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں سن رکھی ہیں۔ یہ تحقیق ممتاز طبی جریدے لینسٹ میں شائع ہوئی ہے۔

مطالعے کے سربراہ اور ہارورڈ میڈیکل اسکول سے تعلق رکھنے والے اسکالرپیٹرک ونک نے یہ بھی کہا کہ کانگو میں ایبولہ سے متاثرہ افراد کسی ڈاکٹر کی بجائے اپنے محلے اور برادری میں ہی اس کا علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ’اس طرح مریض ایبولہ کے مصدقہ مراکزی کی بجائے عطائی ڈاکٹروں کے پاس جارہے ہیں جس سے انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے،‘

سال 2014 سے 2016 تک ایبولہ وائرس پہلے مغربی افریقہ میں نمودار ہوا تھا جس میں 11 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور اب کانگو میں اس کے حملہ دوسری بڑی مہلک وبا کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ 2014 میں ایبولہ کی وبا پھوٹنے کے بعد اس کی ویکسین پر کروڑوں ڈالر خرچ کئے گئے۔

کانگو میں جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ آیا وہ اس بیماری کی ویکسین آزمانا چاہیں گے تو صرف 60 فیصد لوگوں نے ہی ایبولہ ویکسین استعمال کرنے کی حامی بھری۔

1974 میں پہلی مرتبہ کانگو میں ایبولہ وائرس دریافت ہوا تھا اور ایبولہ نامی دریا کے پاس دریافت ہونے کی وجہ سے اس کا نام ایبولہ وائرس رکھا گیا تھا۔

The post کانگو میں ایبولا کی وبا پھوٹنے سے سیکڑوں افراد ہلاک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2FI5DPA

Medical News Today: Hypothyroidism: Foods to eat and avoid

Certain diets can improve hypothyroidism, or an underactive thyroid, while others can make the symptoms worse. In this article, we look at which foods and nutrients to eat and avoid to improve the symptoms of hypothyroidism.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2V1nCpp

Medical News Today: Normal sperm count: Everything you need to know

A sperm count is part of a larger test called semen analysis. A doctor may test a person’s sperm count if they have fertility concerns. Learn about average, low, and high sperm counts here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2YqsuGy

Medical News Today: Rectal pressure: Causes and when to see a doctor

Rectal pressure is a common symptom of a variety of problems, from constipation to ulcerative colitis. Learn more about the causes and possible treatments here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Ow49uj

Medical News Today: Why do I wake up hungry?

A person may wake up hungry because they did not eat enough or exercised heavily the day before. There are several other possible reasons. Here, learn more about waking up hungry and how to prevent it.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2WrmxY8

Medical News Today: Smoking may not be related to dementia risk after all

Study of 531 cognitively healthy older adults over 11.5 years finds no link between smoking and dementia after accounting for 'competing risk' of death.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2HIVy77

Medical News Today: Letter from the Editor: Looking to the future

This month, MNT attended the Future Healthcare 2019 Conference and Exhibition. Managing Editor Honor Whiteman discusses some exciting new technologies.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2U3TJs4

Medical News Today: Depression: Brain stimulation may be a good alternative treatment

A new review of clinical trials delves deeper into the benefits of various forms of non-invasive brain stimulation for treating severe depression.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Fx4BVc

Medical News Today: Plant compound could fight eye cancer

A toxin present in the coralberry plant can stop the division of cancer cells, a new study has found. The findings may lead to enhanced treatment.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2uxoXsg

Medical News Today: Is this a better way to deliver drugs to the brain?

According to a new study in mice, shorter-wave ultrasound pulses could help scientists deliver drugs straight into the brain more safely and efficiently.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Oul2Wo

Medical News Today: Musical training may improve attention

New research finds that people who have had musical training are better at controlling their attention and blocking out distractions.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2JND72U

Wednesday, 27 March 2019

بڑھاپے میں بھی دماغ میں نئے خلیات بنتے رہتے ہیں

اسپین: سائنسدانوں نے 43 سے 87 سال تک کی عمر کے لوگوں کے دماغ کا مطالعہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ ہرعمر بلکہ بڑھاپے تک بھی نئے دماغی خلیات ’نیورونز‘ کی تشکیل ہوتی رہتی ہے۔ اس سے یہ مفروضہ بھی مضبوط ہوا ہے کہ بالغ افراد دماغی چوٹ یا حادثے کے بعد دوبارہ ٹھیک ہوسکتے ہیں اور ان کی بحالی کی شرح بلند ہوسکتی ہے۔

اگرچہ پوری زندگی نئے خلیات اور بافتیں تشکیل پاتی رہتی ہیں لیکن دماغی ماہرین کا خیال تھا کہ عمررسیدگی میں نئے عصبی خلیات یا نیورونز بننا بند ہوجاتے ہیں۔ تاہم اسپین میں سیویرو اوکوا مالیکیولر بائیالوجی سینٹر سے وابستہ ڈاکٹر ماریہ لورینز مارٹن نے 13 ایسے افراد کے دماغوں کا مطالعہ کیا جو اس دنیا سے گزرچکے تھے۔ ان افرد کی عمریں 43 سے 87 برس تک تھیں۔ ماہرین نے احتیاط سے ان دماغوں کو دیکھا اور ان میں نئے خلیات کے بننے کا جائزہ لیا۔

مطالعے میں دماغ کے ایک اہم حصے ’’ہپوکیمپس‘‘ کا جائزہ بھی لیا گیا جہاں نئے خلیات جنم لیتے ہیں۔ ماہرین نے نیورون بنانے والے پروٹین کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ پروٹین بھی بن رہے ہیں اور دماغ میں ہزاروں نئے خلیات بننے کا عمل بھی دیکھا گیا ہے۔ یہ نیورون کئی اشکال اور جسامت کے تھے اور بعض بڑھوتری کے درجے سے گزررہے تھے۔

ماہرین نئے دماغی خلیات کی تشکیل کو ’’نیوروجنیسس‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ڈاکٹر ماریہ کے مطابق ان کی ٹیم نے بوڑھے افراد کے دماغوں میں بھی نئے خلیات بنتے ہوئے دیکھے ہیں۔ اس سے قبل یہ دریافت کیا جاچکا ہے کہ 90 سالہ افراد بھی نئی یادداشتوں کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں کیونکہ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ ان میں نئے ِخلیات بنتے رہتے ہیں۔

تاہم یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو سے تعلق رکھنے والے دماغ کے ایک اور ماہر، آرتورو ایلواریز بائلیا اس تحقیق کے نتائج سے متفق نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مردہ افراد کے دماغوں میں خلیات پہلے سے موجود ہیں۔ انہیں دیکھ کر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ آخر وقت تک بن رہے تھے۔ انسانی دماغ میں نئے خلیات کی تشکیل کو ناپنے والا اب تک کوئی طریقہ سامنے نہیں آسکا ہے۔ اس لیے مزید تحقیق تک اس مفروضے کو ماننا مشکل ہوگا۔

The post بڑھاپے میں بھی دماغ میں نئے خلیات بنتے رہتے ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2uwEDMo

جب خون کا دباؤ بڑھتا ہے!

’’ڈاکٹر صاحب! میرا بلڈ پریشر چیک کریں، بلڈ پریشر زیادہ ہو گیا ہے، اس بلڈ پریشر نے تو مجھے چکرا دیا ہے‘‘۔

جنرل پریکٹس میں اس طرح کی باتیں عام سننے کو ملتی ہیں۔ خون ہمارے جسم میں ایک خاص دباؤ کے تحت گردش کرتا ہے، جس سے زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ اگر مختلف وجوہات کی بنا پر اس کے دباؤ یا پریشر میں اضافہ ہو جائے تو پھر انسان ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشار خون کا شکار ہو جاتا ہے، جو انسان کو واقعی چکرا کر رکھ دیتا ہے۔

اس کی بڑی وجوہات میں گردوں کی بیماری، کچھ ہارمون وغیرہ کی زیادتی یا پھر آج کل کے ماڈرن دور کی الجھنیں اور پریشانیاں ہو سکتی ہیں۔ زیادہ غصے اور پریشانی کی حالت میں بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے، جس خاندان میں ایک آدمی کو یہ تکلیف ہو وہاں دوسروں میں بھی یہ ہو سکتی ہے، اس کے علاوہ سگریٹ پینے والوں اور نشہ کرنے والوں میں اس کا احتمال زیادہ ہوتا ہے، دورانِ حمل بھی بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کیعلامات اور تشخیص

جب خون کا دباؤ بڑھتا ہے تو اس کی بڑی علامات سرچکرانا، سر درد اور پیشاب کا بار بار آنا شامل ہیں، مگر اکثر اوقات ہائی بلڈ پریشر میں کوئی خاص علامات نہیں ہوتیں یا پھر یہ جس بیماری کی وجہ سے ہو، اس کی علامات ہو سکتی ہیں۔ بلڈپریشر کی صحیح تشخیص کے لیے کسی اچھے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہت ضروری ہے۔ مختلف عمروں میں نارمل بلڈ پریشر کی Reading مندرجہ ذیل لیول تک ہو سکتی ہے۔

20 سال سے زیادہ اور 50 سال سے کم

100۔140/70۔90

50 سال سے زیادہ اور 75 سال سے کم

100۔160/70۔95

75 سال اور اس سے زیادہ

110۔170/80۔105

ہائی بلڈپریشر کنٹرول پروگرام

ہائی بلڈ پریشر کوئی خاص مسئلہ نہیں اس سے بالکل گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ زندگی کو ایک خاص نہج پر لا کر اور تھوڑا سا باقاعدہ بنا کر ہائی بلڈ پریشر پر آسانی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کریں اور بلڈ پریشر اور بعض دوسری بیماریوں سے بچیں۔

(1) باقاعدہ نماز کی اہمیت

پریکٹس میں یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ جو لوگ اللہ پر پورا یقین رکھتے ہیں اور دن میں پانچ بار خضوع و خشوع سے اس کی بارگاہ میں جھکتے ہیں، وہ کبھی ذہنی تناؤ یا دباؤ کا شکار نہیں ہوتے اور ان کا بلڈ پریشر بھی کنٹرول رہتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دنیاوی و اخروی نجات کے لیے اللہ پر بھروسہ کریں اور پنج وقتہ نماز کے فرض کی ادائیگی اور پابندی کو معمول زندگی بنائیں۔

(2) زندگی کے معمولات

میں تبدیلی

ہر کام توجہ، دھیان، یکسوئی اور صبر کے ساتھ کریں، کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے اللہ سے مدد مانگیں اور جب ایک کام کا تہیہ کر لیں تو پوری دل جمعی سے اس میں جُت جائیں اور پریشانیوں اور تفکرات کو ذہن سے نکال دیں۔ اس سے زندگی میں ٹھہراؤ آئے گا، اور بلڈ پریشر بڑھنے جیسی مصیبتوں سے بھی جان چھوٹے گی۔

(3) ورزش کی اہمیت

جسم کو تروتازہ اور ذہن کو صاف رکھنے کے لیے جسمانی ورزش اور سیر کی بہت اہمیت ہے۔ صبح کی سیر سارے دن کے کام کے لیے بہت ضروری ہے، اس سے خون کی گردش اپنی صحیح حالت میں آ جاتی ہے اور اس کے دباؤ میں بھی اضافہ نہیں ہوتا۔

(4) موٹاپا سے بچئے

موٹاپا بلائے جان ہے اور بہت سی بیماریاں کا شاخسانہ، موٹے آدمی کسی کام کے نہیں رہتے۔ اپنے آپ سے بھی فارغ اور دوسروں کے لیے تفریح طبع کا سامان اس لیے ضروری ہے کہ ہمیشہ بھوک رکھ کر سادہ اور متوازن غذا کھائیں اور زیادہ گھی اور تیل والی چیزوں سے پرہیز کریں۔

(5)سگریٹ نوشی سے پرہیز

تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سگریٹ نوش حضرات میں بلڈ پریشر بڑھنے کے امکانات نارمل لوگوں سے 10 گناہ زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سگریٹ نوشی سے آج ہی توبہ کیجیے، کل کیوں؟ زندگی اللہ پاک کی نعمت ہے اور اچھی صحت اس کا انمول خزانہ، صحت کو اچھا رکھنے کے لیے آج ہی سگریٹ نوشی کو خدا حافظ کہیں، ایسا آپ کر سکتے ہیں۔ انسان اپنی خود اعتمادی سے تمام بد عادتوں بشمول سگریٹ نوشی سے چھٹکارہ حاصل کر سکتا ہے۔

(6) خوراک میں نمک کا استعمال کم سے کم کریں

نمک میں جو سوڈیم ہوتا ہے وہ بلڈ پریشر بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ نمک والی اشیاء مثلا پنیر، پکوڑے، سموسے، چٹ پٹے کھانے، نمکین بسکٹ وغیرہ کھانے سے مکمل پرہیز کیا جائے اور خوراک میں ایسی چیزیں شامل نہ کی جائیں، جس طرح سوڈیم بلڈ پریشر بڑھاتا ہے اس طرح پوٹاشیم اس کو گھٹانے میں مدد دیتا ہے، اس لیے ایسی اشیاء جن میں پوٹاشیم زیادہ ہو ان کو خوراک میں شامل کرنا چاہیے، مثلاً گوبھی، مکئی، کھجوریں، کیلا، انگور، آڑو، ناشپاتی، پھلیاں وغیرہ۔

ہائی بلڈ پریشر میں دواؤں کا استعمال

بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے اور اس کو کم کرنے کے لیے مندرجہ ذیل مختلف قسم کی دوائیں استعمال کی جاتی ہیں۔ چند مشہور دوائیں درج ذیل ہیں:

انڈیرول (Inderol)، ایٹینولول (Atenolol)

الڈومیٹ (Aldomet)، کیپوٹین (Capoten)

نارویسک (Norvasc)، کیلان (Calan)

مضر اثرات

٭سانس کی رفتار میں کمی ہونا

٭سر درد، اونگھ، جلد پر الرجی

٭موڈ میں اتار چڑھاؤ، نیند میں کمی

٭چھاتی میں درد، گردوں کی خرابی، پیشاب کی رکاوٹ

٭ڈیپریشن، آنکھوں میں خرابی

٭مردانہ قوت میں کمی، بلڈ پریشر میں زیادہ کمی

٭ڈائریا، متلی اور قے

احتیاط

٭جن مریضوں میں دل کی رفتار آہستہ ہو وہ اٹینولول استعمال نہ کریں۔

٭ہائی بلڈ پریشر کم کرنے والی دوائیں استعمال کرتے وقت بلڈ پریشر کو مانیٹر کرنا اور ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ ان کے بے قاعدہ اور ڈاکٹر کے مشورہ کے بغیر استعمال سے بہت سی دوسری مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

٭گردوں کی خرابی کے مریض، حاملہ عورتیں اور دودھ پلانے والی مائیں بلڈ پریشر میں استعمال ہونے والی دوائیں استعمال کرتے وقت ڈاکٹر سے مشورہ کرتی رہیں۔

دوا کی نوعیت، ضرورت اور اہمیت:

ہائی بلڈ پریشر آج کل بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مختلف قسم کی پریشانیوں، فکر اور نفسانفسی کے اس دور میں ویسے ہی موڈ میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ ذرا سی بات برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ غصہ کنٹرول نہیں ہوتا اور دوسروں سے لڑنے مرنے پر ہر آدمی تیار نظر آتا ہے۔ اس طرح کے عوامل بلڈ پریشر میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ چٹ پٹی مرغن غذاؤں کے استعمال سے جسم پر اضافی بوجھ بڑھنے سے بھی بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔

بلڈ پریشر کم کرنے کے لیے بہت سی دوائیں موجود ہیں لیکن دوا استعمال کرنے سے پہلے اس بات کا تعین کرنا بہت ضروری ہے کہ واقعی آپ کو ہائی بلڈ پریشر کی تکلیف کا سامنا ہے بھی کہ نہیں۔ کبھی کبھار ہونے والا ہائی بلڈ پریشر زیادہ خطرناک ثابت نہیں ہوتا اور اس کے لیے کسی قسم کی دوا استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔

سب سے پہلے آپ کے بلڈ پریشر کا حساب رکھنا ضروری ہے۔ دوا استعمال کرنے سے پہلے کم از کم ایک ہفتہ اپنا بلڈ پریشر صبح و شام ضرور چیک کروائیں۔ اس سے آپ کا اوسطاً بلڈ پریشر نکل آئے گا اور ڈاکٹر کے لیے فیصلہ کرنا آسان ہوگا کہ بلڈ پریشر کے لیے دوا استعمال کرنے کی ضرورت ہے کہ نہیں۔

اگر آپ کا بلڈ پریشر 140/100 / 90/70 کے درمیان ہے تو کسی قسم کی فکر کی ضرورت نہیں اور کسی قسم کی کوئی دوا استعمال کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ آپ اپنا بلڈ پریشر سکون سے چیک کروائیں۔ اگر آپ متفکر ہو کر چیک کروائیں گے تو بلڈ پریشر کی ریڈنگ زیادہ آئے گی۔ اس کے علاوہ بلڈ پریشر چیک کرنے والے اور اس کے لیے استعمال ہونے والے آلے پر بھی منحصر ہوتا ہے کیونکہ آلے میں خرابی اور چیک کرنے میں غلطی سے بھی صحیح بلڈ پریشر کا پتہ نہیں چلتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ بلڈ پریشر کی دوائیں استعمال کرنے سے پہلے مکمل تسلی کر لی جائے۔

پہلی دفعہ بلڈ پریشر چیک کرواتے وقت زیادہ ریڈنگ سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ پرسکون ہوکر دوبارہ چیک کروائیں اور ڈاکٹر سے ایک ہفتہ صبح و شام چیک کروا کر اس کے مشورے سے دوا کا استعمال شروع کریں۔

آسان اور متبادل علاج:

ہائی بلڈ پریشر سے بچنے اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے مندرجہ ذیل آسان ہدایات پر عمل کریں:

٭سادہ اور متوازن غذا استعمال کریں۔ مرغن غذاؤں سے پرہیز کریں۔

٭اپنی غذا میں نمک والی چیزوں کا استعمال کم سے کم کر دیں۔ اس ضمن میں آپ سوڈیم سے پاک نمک بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

٭زیادہ پوٹاشیم والی سبزیاں اور پھل مثلاً: لوبیہ، آڑو، ناشپاتی، کیلا، پھلیاں وغیرہ زیادہ استعمال کریں۔

٭سیر کو معمول بنائیں اور روزانہ ورزش ضرور کریں۔

٭زیادہ دیر بیٹھ کر کام کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ روزانہ کچھ نہ کچھ وقت سیر کے لیے ضرور نکالیں۔

٭اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھیں، اپنا کام دلجمعی سے کریں، خوب محنت کریں، اپنے مسائل کے حل کے لیے اللہ سے مدد مانگیں، انشاء اللہ مسائل حل ہوں گے اور کامیابی آپ کا مقدرہوگی۔

٭نہار منہ دو گلاس گھڑے کا پانی اور دو یا تین عدد لہسن کے جوے (Raw Cloves) کیپسول کی طرح بغیر چبائے نگل جائیں، یہ ہائی بلڈپریشر کا موثر ترین علاج ہے۔

٭دو عدد تازہ آملہ کے جوس میں مناسب شہد ملا کر صبح ناشتہ سے قبل استعمال کرنے سے بلڈپریشر بہت جلد کنٹرول ہوتا ہے۔

٭نماز کے بعد دل پر ہاتھ رکھ کر پہلے درود شریف پھر گیارہ مرتبہ یَاحَیُّ یَا قَیُّوْم دوبارہ پھر درود شریف پڑھ کر دل سے ہاتھ ہٹا لیں۔اس کے بعد سورۃ الم نشرح کی تلاوت کریں اور اللہ سے خلوص دل سے دعا مانگیں۔ ان شاء اللہ شفا ہوگی۔

The post جب خون کا دباؤ بڑھتا ہے! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2JJrDxj

کیا آپ ’چائے‘ کے نقصانات سے واقف ہیں؟

آج کا انسان ارتقائی مراحل کے عروج پر ہے،اسے سائنسی اور مشینی ایجادات سے بے شمار آسانیوں کے حصول کے ساتھ ساتھ لا تعداد دشواریوں سے بھی پالا پڑا ہے۔

مادی لحاظ سے بے شک انسان نے کامرانیوں کے کئی معرکے سر کر لیے ہیں مگر روحانی اور جسمانی لحاظ سے بہت سی گھمبیر الجھنوں میں الجھ کر رہ گیا ہے۔وہ موذی امراض پر قابو پاتے پاتے مزید مہلک امراض کے نرغے میں پھنستا جا رہا ہے۔یہ مہلک امراض انسان کی اپنی کاوشوں اور دریافتوں کا نتیجہ ہیں۔

چائے انیسویں صدی کی معروف دریافت ہے اور شروع میں اسے بطور دوا استمعال کروایا جاتا تھا لیکن بعد ازاں کاروباری ذہن رکھنے والے افراد نے اسے بطور کنزیومر پروڈکٹ متعارف کروا کر لوگوں کو اس کے پلانے کی رغبت دلائی۔فی زمانہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی موثر تشہیری مہم نے چائے کو گھر کے ہر فرد کی لازمی ضرورت بنا دیا ہے۔ یہی مشروب ایسے عوارض کا باعث ہے جن کے ہاتھوں آج کا انسان بہت زیادہ پریشان ہے۔چائے ترقی یافتہ زمانے کا ایسا زہر ہے جس سے چند خوش نصیب ہی محفوظ ہوں گے۔

روزانہ لاکھوں لوگ لاکھوں کروڑوں روپے کا یہ مضر صحت مشروب پیتے ہیں اور اپنی صحت میں مزید بگاڑ پیدا کر رہے ہیں۔ ہم بھی کمال دوہرے معیار کے لوگ ہیں کہ پہلے بیماری خریدتے ہیں اور پھر اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ اور یہ ایک تلخ حقیقت بھی ہے کہ روزانہ ہزاروں لوگ اس کی بھینٹ بھی چڑھتے ہیں۔ ہم باوثوق طور پر یہ کہتے ہیں اگر دنیا سے صرف چائے نکال دی جائیں تو انسان 50% سے زیادہ امراض کے خطرات سے محفوظ ہو جائے۔

چائے ایک عام استعمال کی چیز ہے۔یہ طبی خواص کے لحاظ سے گرم اور خشک مزاج کی حامل ہے۔یہ پیاس کو بجھاتی اور پیشاب آور ہے۔اس میں ایک زہریلا اور نشیلا مادہ کیفین پایا جاتا ہے، جو جدید طبی و سائنسی تحقیقات کی رو سے بلڈ پریشر میں نہ صرف اضافہ کرتا ہے بلکہ بلڈ پریشر کے مرض کا باعث بھی بنتا ہے۔کیلشیم کو جسم کا حصہ بننے سے روکتا ہے۔RNA اورDNA کی پیدائش میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے،ذیابیطس،کینسر اور گردوں کے امراض کا سبب بھی چائے بنتی ہے۔

چائے کے زیادہ استعمال سے جسم میں تیزابیت وافر مقدار میں پیدا ہونے لگتی ہے،جو بعد ازاں تیزابی مادوں کا ذریعہ بن کر جسم میں یورک ایسڈ کی افزائش کرنے لگتی ہے۔ یوں چائے کے عادی افراد نقرص،گنٹھیااور جوڑوں کے د رد جیسے موذی امراض میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔چائے اپنی پیشاب آور خصوصیات کی وجہ سے جسم سے پانی کو خارج کرتی ہے ،جس کے نتیجے میں انسانی جسم میں پانی کی مطلوبہ مقدار میں کمی واقع ہونے لگتی ہے ،جس سے خون گاڑھے پن کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ خون گا ڑھا ہو نے کی وجہ سے خون کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور یوں دورانِ خون کے عوارض سامنے آنے لگتے ہیں۔گردوں کی کار کردگی متاثر ہونے لگتی ہے۔خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھنے لگتی ہے۔نتیجتاََ ہارٹ اٹیک،انجائنا،گردوں کا فیل ہونا بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کے خطرات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔

چائے میں شامل کیفین کی زیادتی ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے اور بچوں میں چائے کا زیادہ استعمال ان کی جسمانی نشو ونما کو متاثر کرتا ہے۔جس سے قد کا چھوٹا رہ جانا معمولی سی بات ہے۔چائے کے مزاج میں شامل گرمی اور خشکی سے اعصاب کمزور ہونے لگتے ہیں۔ چائے نوش آ ہستہ آ ہستہ دائمی قبض میں مبتلا ہو کر دوسرے کئی امراض معدہ ،امراض جگر اور گردوں کی بیماریوں میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔علاوہ ازیں بکثرت چائے پینے کے عادی افراد بے خوابی کا شکار ہو جاتے ہیں ،طبیعت میں اضطرابی کیفیت رہنے لگتی ہے،ڈپریشن اور انزائٹی سے جینا اجیرن ہوجاتا ہے۔موجودہ دور کی سب سے خطرناک بیماریاں ڈپریشن،انزائٹی اور انجانا خوف ہیں ،جو ہر چوتھے فرد کو لاحق ہیں۔مذکورہ امراض کی سب سے بڑی وجہ چائے نوشی کی کثرت ہے۔

چائے نوشی کی بری عادت سے بچنے کے لیے درج ذیل طریقے اپنائیں۔ چائے کا بکثرت استعمال کرنے والے افراد کو چاہیے کہ روزانہ چائے پینے کے معمول میں تبدیلی لائیں اور چائے کی مقدار میں بتدریج کمی کرتے جائیں۔ قارئین کرام نوٹ فرمالیں کہ 24گھنٹوں میں ایک آدھا چائے کا کپ پینے میں قباحت نہیں ہے،کیونکہ انسانی جسم کو کیفین کی مخصوص مقدار کی لازمی ضرورت ہوتی ہے جو کہ چائے کے ایک کپ سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

چائے کی عادت سے چھٹکارا حاصل کرتے وقت ضروری ہے کہ اپنی خوراک کو متوازن اور متناسب کیا جائے،تاکہ کیفین کے ما بعد اثرات سے بچا جاسکے۔غذاؤں میں مغزیات،روغنیات اور مقویات کا استعمال معمول سے زیادہ کیا جائے۔موسمی پھلوں اور خالص دودھ کو روز مرہ غذا کا لازمی حصہ بنائیں۔علاوہ ازیں اعصابی و دماغی کمزوری کو دور کرنے کے لیے درج ذیل طبی مرکب بھی بے نظیرفوائدکاحامل ہے۔

مغز بادام50گرام،مغز اخروٹ 50گرام،مغز پستہ 50گرام،مغز چلغوزہ 50 گرام، مغز  فندق50گرام،مصری کوزہ150گرام باریک پیس کر سفوف بنا کر صبح شام ایک چمچ دودھ میں ملا کر پینے سے اعصابی کمزوری اور جسمانی تھکن سے نجات ملے گی۔علاوہ ازیں آسگند ناگوری پیس کر 2گرام تک دودھ میں اچھی طرح پکا کر پینے سے ہر قسم کی جسمانی دردوں سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے۔ جسمانی کمزوری سے بھی نجات ملتی ہے۔ اسی طرح شہد کا ایک چمچ دودھ میں ملا کر پینے سے بھی جسم فوراََ چست و توانا ہو جاتا ہے۔بادام روغن، روغنِ کلونجی اور زیتون کا تیل بھی اعصابی دردوں اور کمزوری دور کرنے میں اپنی مثال آپ ہیں۔یاد رہے کہ چائے کی مقدار میں کمی کرنے سے اعصاب ڈھیلے پڑ جاتے ہیں،جسم پر تھکاوٹ کا غلبہ ہوجاتا ہے،طبیعت میں بیزاری اور بے چینی سی پیدا ہونے لگتی ہے۔مذکورہ غذاؤں کا استعمال مندرجہ بالا تمام عوارضات سے محفوظ رکھتا ہے۔

علاوہ ازیں 25گرام کشمش اور5عدد مغز بادام رات کو ایک پاؤ دودھ میں بھگوکر صبح نہار منہ کھانے کے بعد دودھ پی لیاجائے تو چائے نوشی ترک کرنے کے ما بعد اثرات سے بچیں رہیں گے۔اسی طرح کلونجی اور ریش برگد ہم وزن باریک پیس کر دو گنا شہد ملا کر قوام بنا لیں اور صبح و شام ایک چمچ نیم گرم دودھ کے ساتھ کھانے سے قوتِ مدافعت میں بے بہا اضافہ ہوتا ہے۔کثرت چائے نوشی کی عادت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ ہلکی پھلکی اور جلد ہضم ہونے والی غذا ؤں کا استعمال کریں،پیاز و ٹماٹر اور دیگر سلاد کو غذا میں لازمی شامل کریں،ورزش کو روزانہ کا معمول بنائیں اور ایسی ورزش کریں، جس سے بدن میں حدت پیدا ہو۔اسی طرح پنجگانہ نماز کو شعار بنائیں ،مثبت اندازِ فکر اپنائیں اور اللہ کی ذات پر یقینِ کامل اور مکمل بھروسہ کریں ،کیونکہ اللہ پر بھروسہ انسان کو تمام روحانی و جسمانی مسائل سے بچائے رکھتا ہے۔

حکیم نیاز احمد ڈیال
niazdayal@gmail.com

The post کیا آپ ’چائے‘ کے نقصانات سے واقف ہیں؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2UgRpxc

فضائی آلودگی سے ہر سال 88لاکھ انسان ہلاک ہوجاتے ہیں

ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یورپ میں فضائی آلودگی کے سبب سالانہ 790,000 افراد قبل از وقت موت کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ دنیا میں بھر میں ہونے والی ایسی اموت کی تعداد 88 لاکھ ہے۔

محققین کے مطابق قبل از وقت ہونے والی اموات میں سے 40 سے 80 فیصد کی وجہ ہارٹ اٹیک، اسٹروک اور دل سے متعلق دیگر بیماریاں بنتی ہیں اور اب تک اسموگ فضائی آلودگی کے سبب پیدا ہونے والے اسموگ کو ان بیماریوں کی وجہ سمجھنے میں کم اندازے لگائے گئے تھے۔

ان ماہرین کے مطابق گاڑیوں، صنعت اور زراعت کے شعبوں سے خارج ہونے والی ضرر رساں گیسوں کا مرکب لوگوں کی زندگی میں کمی کا باعث بن رہا ہے اور ماہرین کے اندازوں کے مطابق اس وجہ سے کسی کی عمر میں اوسطاً 2.2 برس کی کمی واقع ہوتی ہے۔

اس تحقیقی رپورٹ کے سینیئر مصنف اور جرمنی کی مائنز یونیورسٹی میڈیکل سنٹر کے پروفیسر تھوماس مْنزل کے مطابق، ’’ اس کا مطلب ہے کہ فضائی آلودگی اْن اموات کے علاوہ ہلاکتوں کی وجہ بن رہی ہے جو سگریٹ نوشی کے سبب ہوتی ہیں اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2015ء کے دوران سگریٹ نوشی 7.2 ملین زائد ہلاکتوں کی وجہ بنی تھی۔‘‘

تھوماس مْنزل کے مطابق سگریٹ نوشی کو چھوڑا جا سکتا ہے مگر فضائی آلودگی سے بچنا ممکن نہیں۔ یورپیئن طبی جریدے ’ہارٹ‘ میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق کا مرکز تو یورپ تھا مگر ان محققین کے مطابق اس کے بہتر بنائے گئے شماریاتی طریقہ کار کو باقی دنیا پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔

اس تحقیق میں شریک جرمنی کے ماکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار کیمسٹری کے محقق جوس لیلی فیلڈ نے خبر رساں ادارے ایسوی ایٹڈ پریس کو ایک ای میل کے جواب میں بتایا، ’’اعداد و شمار کی ترامیم کے بعد اب اندازوں کے مطابق چین میں فضائی آلودگی کے سبب ہونے والی زائد اموات کی تعداد 2.8 ملین ہو چکی ہیں جو قبل ازاں لگائے گئے اندازوں سے ڈھائی گنا سے زیادہ ہے۔‘‘

اس تحقیق کے مطابق اموات کی وجہ دراصل فضا میں موجود خوردبینی ذرات ہیں جن کا قطر 2.5 مائیکرونز ہے۔ یہ ذرات کتنے چھوٹے ہوتے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک انسانی بال کا قطر 60 سے 90 مائیکرونز تک ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں نئی دہلی کو ایک مرتبہ پھر سب سے آلودہ دارالحکومت قرار دیا گیا۔ گو کہ فضائی آلودگی کے لحاظ سے نمایاں شہروں کی فہرست میں نئی دہلی دسویں نمبر پر رہا۔ گرین پیس کی تازہ رپورٹ کے مطابق سن 2018 میں دنیا بھر میں سب سے آلودہ شہر گرْو رام ہے، جو نئی دہلی کے قریب ہی واقع ہے۔ آلودگی کے اعتبار سے سر فہرست تیس شہروں میں سے بائیس کا تعلق بھارت سے ہے جبکہ اس فہرست میں شامل دیگر شہر پاکستان، بنگلہ دیش اور چینی ہیں۔ پاکستان کے پشاور، راولپنڈی اور کراچی سب سے آلودہ شہر قرارپائے ہیں۔

سن 2018 کی ’ورلڈ ایئر کوالٹی رپورٹ‘ گرین پیس اور IQAir AirVisual  نامی اداروں نے ترتیب دی۔ فضائی آلودگی سالانہ بنیادوں پر اوسطاً سات ملین افراد کی قبل از وقت موت کا سبب بنتی ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق یہ ماحولیات کے سبب صحت کو لاحق ہونے والا سب سے بڑا خطرہ ہے۔

رپورٹ میں شامل تین ہزار سے زائد شہروں میں سے چونسٹھ فیصد شہروں میں فضائی آلودگی کا تناسب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے بیان کردہ PM 2.5 سے زیادہ رہا۔ البتہ ایک مثبت پیش رفت یہ دیکھنے میں آئی کہ چینی شہروں کی آب و ہوا میں ضرر رساں ذرات کے تناسب میں سن 2017 کے مقابلے میں سن 2018 میں اوسطاً بارہ فیصد کی کمی نوٹ کی گئی۔

گرین پیس کے جنوب مشرقی ایشیائی خطے کے لیے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر یب سانو نے بتایا، ’’انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ فضائی آلودگی طبی اخراجات اور مزدوری کی مد میں سالانہ 225 بلین ڈالر کے مالی نقصان کا سبب بھی بنتی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ رپورٹ میں فضائی آلودگی کے لحاظ سے سر فہرست ملک بنگلہ دیش کو قرار دیا گیا ہے جبکہ پاکستان، بھارت، افغانستان اور منگولیا بھی دس سر فہرست ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ فضائی آلودگی اور اس سے لاحق طبی خطرات کے بارے میں آگہی کی کمی ہے، بالخصوص جنوبی امریکی اور افریقی ریاستوں میں۔

The post فضائی آلودگی سے ہر سال 88لاکھ انسان ہلاک ہوجاتے ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2JKw2A6

Medical News Today: What to eat on the Indian diet

The Indian diet consists of eating vegetables, legumes, and rice. It can be healthful when people follow the diet in a balanced way. Learn more about the Indian diet here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2FEVnaQ

Medical News Today: Everything you need to know about antifreeze poisoning

People who suspect that they or someone else has antifreeze poisoning should seek immediate medical care. Symptoms develop slowly, so it is important to seek help even if no symptoms are present. Early symptoms may be similar to alcohol intoxication. Learn more, including treatment and prevention, here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2TA4r4s

Medical News Today: Why do antidepressants fail for some?

Differences in genes and structures of nerve cell that make and use serotonin could explain why some people with major depression do not respond to SSRIs.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2UisZDi

Medical News Today: Knee osteoarthritis: A low-carb diet may relieve symptoms

A new study compares the effects of a low-carb diet with those of a regular diet and a low-fat diet on knee osteoarthritis in older adults.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2JT6yRs

Medical News Today: Can changes in brain energy pathways cause depression?

Scientists repurposed an accessible bioinformatics tool to find DNA mutations, some of which occur at high levels in people with major depressive disorder.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2HGqzsp

Medical News Today: What really happens in the brain during a hallucination?

A new study reveals a surprising brain mechanism tied to the experience of drug-induced hallucinations. These findings may even have wider implications.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2HXKVwv

Tuesday, 26 March 2019

توانائی سے بھرپور ناشتہ صحت مند دل کی ضمانت

ایتھنز: طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دن کا آغاز اگر توانائی سے بھر پور ناشتے سے کیا جائے تو دل کے امراض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک تازہ تحقیقی مقالے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ توانائی سے بھرپور ناشتہ کرنے والے افراد کا دل ناشتہ نہ کرنے والے یا نسبتاً کم ناشتہ کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ صحت مند رہتا ہے۔ یہ تحقیق یونان کی ایتھنز یونیورسٹی کے ماہرین امراض قلب کے شعبے کی جانب سے کی گئی جس کے لیے 2 ہزار افراد کا انتخاب کیا گیا۔

ماہرین قلب نے ان 2 ہزار افراد کے قلب کی صحت مندی کا جائزہ لیا، جس سے ثابت ہوا کہ معمول کی خوراک کے دوران پانچواں حصہ توانائی سے بھرپور ناشتہ کرنے والے افراد کے دل کی دیواریں اور شریانیں زیادہ مضبوط و صحت مند ہوتی ہیں۔ صحت مند دل والے افراد کے ناشتے میں دودھ، پنیر، زرعی اجناس، روٹی اور شہد شامل ہوتا ہے۔

ریسرچ کے نتائج سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ناشتہ نہ کرنے والے افراد میں سے 15 فیصد کی دل کی شریانوں میں غیر معمولی تبدیلی رونما ہوگئی تھی اور ایسے افراد میں دل کی دیواریں کمزور ہوگئی تھیں۔ اسی طرح ناشتہ سے گریز کرنے والے افراد میں گردن سے گزرنے والی شہہ رگ کے گرد چربی کی زیادہ مقدار جمع ہوجاتی ہے جو دل کے عارضہ کا سبب بن سکتی ہے۔

ریسرچ ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر سوتیریوس نے بتایا کہ تحقیق کے مکمل نتائج آئندہ ہفتے امریکن کالج آف کارڈیالوجی (اے سی سی) کے سالانہ اجلاس کے دوران پیش کیے جائیں گے۔ ڈاکٹر سوتیریوس دل کے امراض سے محفوظ رہنے کے لیے توانائی سے بھرپور ناشتہ تجویز کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق صحت مند خواتین کو 2 ہزار جب کہ مردوں کو ڈھائی ہزار یومیہ کیلوریز درکار ہوتی ہیں جس کا بیشتر دن کے پہلے کھانے میں لینا چاہیئے۔

The post توانائی سے بھرپور ناشتہ صحت مند دل کی ضمانت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2WqAGVo

آگاہی اور سہولتوں کی شدید قلت، سالانہ 12 ہزار خواتین اور 16700 بچے دوران زچگی ہلاک

پشاور: خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی گل سنگا کی پہلے ہی 6بیٹیاں ہیں اپنی خراب صحت اور زچگی مسائل کی وجہ سے اب وہ مزید بچے پیدا نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن معمول کے چیک اپ کے دوران لیڈی ڈاکٹر نے انھیں بتایاکہ وہ دوبارہ حاملہ ہیں ۔

کلینک سے باہر نکلتے ہوئے روایتی شٹل کاک برقعے میں ملبوس گل سنگا نے غمزدہ لہجے میں کہا کہ ڈاکٹر نے انھیں واضح بتایا ہے کہ ایک اور بچہ پیدا کرنے سے میری موت واقع ہو سکتی ہے لیکن مجبوری یہ ہے کہ میرے شوہر بیٹے کی پیدائش کے خواہشمند ہیں۔گل سنگا نے مزید کہا کہ میں نے آنیوالے بچے کو ہر صورت جنم دینا ہے کیونکہ میرے شوہر نے دھمکی دی ہے کہ اگر میں نے اس حمل کو جاری نہ رکھا تو وہ دوسری شادی کر لیں گے ۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال لگ بھگ 12000خواتین دوران زچگی جاں بحق ہوجاتی ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں دوران زچگی ہلاک ہونے والی ایسی خواتین کی سالانہ تعداد 1700 کے قریب ہے ۔

پاپولیشن کونسل آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال لگ بھگ 5 لاکھ 60ہزار خواتین نے اپنی مرضی کے بغیر بچوں کو جنم دیا جس کی بڑی وجہ پسماندہ علاقوں میں مانع حمل ادویات کے استعمال کا فقدان ہے۔

صوبائی بہود آبادی کے ڈی جی فضل نبی نے بتایا کہ مشترکہ مفادات کونسل اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اب ہم نے صوبے بھر میں قبل از شادی کونسلنگ کمیٹٰی قائم کر دی ہے جس میں مکحمکہ بہبود آبادی اور صوبائی خواتین کمیشن کی اہلکار شامل ہیں۔

پاپولیشن کونسل کی پراجیکٹ ڈائریکٹرصائمہ علی شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان فیملی پلاننگ بارے اگاہی پیدا کرنے پر فی کس ڈیڑھ ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ بنگلہ دیش میں فی کس 3 ڈالر سے زیادہ خرچ کر رہاہے ۔ پاکستان کی اس مسلے پر پیچھے رہ جانیکی وجہ بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان پہلے مانع حمل ادویات باہر سے منگواتا تھا اب جبکہ تمام ادویات پاکستان میں تیار کی جارہی ہیں ۔

انھوں نے مزید بتایا کہ کے پی میں آبادی میں اضافے کی بڑی وجہ فیملی پلاننگ بارے قائم سنٹرزکی کمی اور صوبے میں دائیوں کی جانب سے گھروں میں دیسی طریقے سے ڈیلیوری کروانا ہے جس وجہ سے زچہ بچہ کی شرح اموات میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن پاکستان کے پروگرام مینجر گوہر زمان کا کہنا ہے کہ لندن میں ہونے والے فیملی پلاننگ سمٹ میں پاکستان نے عہد کیا تھاکہ وہ ملک میں مانع حمل اداویات کی موجودگی کی شرح کو تیس فیصد سے بڑھا کرپچپن فیصد کریگا تاہم پاکستان نے ابھی تک یہ ٹارگٹ حاصل نہیں کیا ۔

The post آگاہی اور سہولتوں کی شدید قلت، سالانہ 12 ہزار خواتین اور 16700 بچے دوران زچگی ہلاک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2HJ6FNs

Medical News Today: The effects of going more than 24 hours without sleep

It is not clear how long a person can go without sleep, but in a famous 1964 experiment, a person managed to stay awake for 264 hours. Sleep deprivation can negatively affect energy levels, mood, and cognitive functioning. In the long term, it can increase a person's risk of several chronic conditions. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2HNOINV

Medical News Today: Is it safe to take Humira and alcohol together?

Humira is a biologic medication that treats inflammatory conditions. In this article, we look at the safety and risks associated with taking Humira and drinking alcohol. We also discuss other Humira side effects and interactions.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2CCaUGw

Medical News Today: Home remedies for getting rid of hickeys

Hickeys, or love bites, are bruises that can appear when someone sucks on another person's skin. Hickeys tend to disappear on their own after several days, but some home remedies may help get rid of them faster. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2HGP4Wh

Medical News Today: What causes Achilles tendon pain?

Achilles tendon pain can result from tendonitis or a tear or rupture of the tendon. Problems with the Achilles tendon are more common in people who play sports. They typically occur from excessive use of the calf muscles but can also result from acute injuries. Learn more about Achilles tendon pain here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2CzMOfd

Medical News Today: Atherosclerosis: Scans spot inflammation in arteries before they harden

Using advanced imaging to scan people with some atherosclerotic plaques, scientists detected inflammation in arteries that had not yet developed plaques.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2UaHo4E

Medical News Today: Time-restricted eating may prevent tumor growth

New research in mice suggests that eating all daily meals within a restricted window of time may be a good preventive strategy against cancer tumor growth.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2CCuPVG

Medical News Today: Relieving sciatica pain during pregnancy

During pregnancy, the uterus can put extra pressure on the sciatic nerve, causing sciatica pain in the low back and legs. In this article, we look at how to relieve sciatica using stretches, exercise, massage, and other methods.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2FsZG7Q

Medical News Today: Keto diet: New study unearths sex differences

A recent study investigates how the keto diet affects male and female mice. The researchers find that in females, the diet's benefits are absent.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2YlW6oJ

Medical News Today: Why your household dust could fuel the growth of fat cells

Is there a link between the dust in our homes and the accelerated growth of fat cells in our bodies? New research suggests that the answer may be 'yes.'

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OqkSPL

Medical News Today: Colloidal silver: Does it work and is it safe?

Colloidal silver is a popular home remedy, and people use it to treat or prevent a range of health issues. However, the solution may not be safe to ingest, and it can have serious side effects. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2TVjKtz

Monday, 25 March 2019

Medical News Today: What causes a constant urge to pee?

Infections and other bladder issues can affect the way a person urinates. Some conditions can cause a constant urge to pee, even when doing so produces little urine. In this article, we look at causes, treatments, and when to see a doctor.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2FrFfbk

جدید طب کا کمال، ماں کے پیٹ میں دل کے مرض میں مبتلا بچی کا علاج

 لندن: ماہرین نے ماں کے پیٹ میں موجود بچے کے دل کی تصاویر لینے کے لیے ناصرف جدید ٹیکنالوجی تخلیق کی بلکہ بچے کا علاج کر کے طب کی دنیا میں حیران کن عمل سرانجام دے دیا۔

لندن کے کنگ کالج میں حاملہ خاتون کے ایم آر آئی میں دل کی حرکت غیر ترتیب محسوس ہوئی جس پر بچے کی دل کی تصاویر لینے کا سوچا گیا تاہم یہ عمل نہایت دشوار گزار تھا کیوں کہ ماں کے پیٹ میں ننھے سے بچے کے نہایت چھوٹے سے دل کی تصایور لینا ناممکن تھا جب کہ بچہ اپنی پوزیشن بھی بار بار تبدیل کررہا ہو۔

ماہرین نے بچے کے دل کی تصاویر کے لیے ایم آر آئی مشین اور ایک نہایت طاقت ور 3- ڈی کمپیوٹر کی مدد حاصل کی گئی، پہلے 2-ڈی تصاویر مختلف زاویوں سے لی گئیں لیکن وہ بہت نمایاں نہیں تھیں جس کے بعد دل کی دھڑکن کی مدد سے تھری ڈی تصاویر بنائی گئیں جس سے ڈاکٹرز مرض کی تہہ تک پہنچ گئے۔

تصاویر سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ ماں کی پیٹ میں موجود 20 ہفتے کی بچی کے دل کو خون مہیا کرنے والی شریان میں خرابی تھی جب کہ اس کے دل میں دو سوراخ بھی تھے۔ ڈاکٹرز نے پیدائش سے قبل دوائیوں کے ذریعے بچے کے دل کے پٹھوں کو مضبوط اور شریان کی خرابی کو دور کیا۔

پیدائش کے بعد ڈاکٹرز نے بچی کے دل کا آپریشن کرکے دل کے سوراخ کی پیچیدگی بھی دور کردی اور اب بچی 11 ماہ کی صحت مند بچی ہے جس کے دل کو کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ قبل ازیں دل کی بیماری بچوں کے جوان ہونے پر ظاہر ہوتی  تھیں اور جب تک مرض پیچدہ شکل اختیار کرلیتا تھا۔

The post جدید طب کا کمال، ماں کے پیٹ میں دل کے مرض میں مبتلا بچی کا علاج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2HGzoCv

بیماریوں میں مبتلا افراد معالج کے مشورے سے روزہ رکھ سکتے ہیں، ماہرین طب

 کراچی:  امراض دل، گردہ اور شوگر کے مریض ڈاکٹروں کے مشورے سے آسانی کے ساتھ رمضان کے روزے رکھ سکتے ہیں مریضوں کو چاہیے کہ وہ رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے اپنے معالجین سے مشورہ کر لیں، اتائیوں کے پاس جانے سے گریز کریں۔

ماہرین طب نے کالج آف فزیشن اینڈ سرجن پاکستان میں پانچویں رمضان اور زیابطیس کانفرنس کے اختتامی روز بتایا کہ روزے کی حالت میں آنکھ اور کان میں دوا ڈلنے، خون کے ذریعے شوگر چیک کرنے ، انسولین یا کسی بھی قسم کا انجکشن لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، حاملہ خواتین روزہ رکھ سکتی ہیں لیکن اگر ان کی اور ان کے بچے کی جان کو خطرہ ہو تووہ روزہ توڑ سکتی ہیں۔

کانفرنس کا انعقاد بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبٹالوجی اینڈ کرائنالوجی ،رمضان اور حج اسٹڈی گروپ نے ڈار انٹرنیشنل الائنس کے تعاون سے کیا تھا۔ کانفرنس سے پروفیسرعبد الصمد شیرا، ڈاکٹر شبین ناز مسعود ، متحدہ عرب امارات سے آئے ڈاکٹر اسمادیب، برطانوی ماہر زیابطیس ڈاکٹر عظمیٰ خان، ڈاکٹر عبد الجبار اور پروفیسر یعقوب احمدانی نے خطاب کیا۔

پروفیسر ریاض ملک کہا کہ گردے کے امراض میں مبتلا افراد حتیٰ کہ وہ لوگ جو ڈائیلاسز کرارہے ہیں وہ بھی روزہ رکھ سکتے ہیں لیکن انہیں اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

ماہر امراض قلب ڈاکٹر کلیم اللہ شیخ نے کہا کہ دل کے مریضوں کے لیے روزے کے فوائد بے تحاشہ ہیں کیونکہ روزہ رکھنے سے انسان کے کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور وزن میں کمی ہوتی ہے جس سے دل کے دورے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

دارالعلوم کراچی سے وابستہ مفتی نجیب خان نے کہا کہ کہ روزے داروں کو اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کرنا چاہیے اور اگر ان کا ڈاکٹر انہیں کسی بات سے منع کرے تو انھیں اس کی رائے کو مقدم جاننا چاہیے شرعی طور پر کانوں اور آنکھوں میں دوا ڈالنے ، روزے کی حالت میں سوئی چبھوکر شوگر چیک کرنے، انجکشن اور ڈرپ لگوانے اور دانت نکلوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

پروفیسر خالد مسعود گوندل نے کہا کہ زیابطیس اور رمضان کانفرنس کروڑوں مسلمانوں میں آگہی پھیلانے کا سبب بن رہی ہے جس کیلیے منتظمین مبارکباد کے مستحق ہیں، ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر ڈاکٹر عبد الباسط نے کہا کہ پاکستان کو ہزاروں پرائمری کیئر ڈاکٹروں کی ضرورت ہے ۔

The post بیماریوں میں مبتلا افراد معالج کے مشورے سے روزہ رکھ سکتے ہیں، ماہرین طب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2uqOuDs

ٹی بی سے اموات کی شرح کم ہورہی ہے، پروفیسر مسرور

 کراچی:  ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پرووائس چانسلر پروفیسر محمد مسرور نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹی بی سے اموات کی شرح سالانہ 68 سے کم ہو کر سالانہ 27 رہ گئی ہیں۔

پروفیسر محمد مسرور نے اوجھا انسٹی ٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیز کے زیرِ اہتمام ورلڈ ٹی بی ڈے کے حوالے سے آگہی واک کے شرکا سے سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ٹی بی سے اموات کی شرح سالانہ 68 سے کم ہو کر سالانہ 27 رہ گئی ہیں، تاہم ٹی بی سے اموات کی شرح مزید کم کرنے کے لیے عوام میں اس مرض کے خلاف آگہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر اوجھا انسٹیٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیز کے سربراہ پروفیسر نثار احمد راؤ، ٹی بی کنٹرول پروگرام سندھ کی ڈائریکٹر عصمت آرا خورشید، برج این جی کی نمائندہ شاہینہ قیوم، ڈاکٹر سیف اللہ اور ڈاکٹر ندیم احمد نے خطاب کیا۔

آگاہی واک ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج تک کی گئی، پروفیسر محمد مسرور نے کہا کہ ٹی بی سے متاثرہ ایک مریض 8 سے 10افراد کو یہ مرض پھیلانے کا سبب بنتا ہے یہ مرض چونکہ پھیپھڑوں کا مرض ہے اس لیے مریض کے کھانسے ، چھینکنے سے یہ مرض دوسرے افراد کو لگتا ہے اور اس کے خاندان کے افراد ہی سب سے پہلے اس مرض کا نشانہ بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ٹی بی سے متاثرہ25 فیصد افراد خود ہی ٹھیک ہوجاتے ہیں تاہم ٹی بی کے مرض میں مبتلا 35 فیصد افراد مسنگ کیسز بھی موجود ہیں جو کہ اس بیماری کو ملک میں بڑھانے کا سبب ہیں۔

اوجھا انسٹی ٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیز کے سربراہ پروفیسر نثار احمد راؤ نے کہا کہ ادارے میں گزشتہ برس 2 لاکھ سے زائد مریض رجسٹرڈ ہوئے ہیں شہر میں ہمارے 5 مراکز قائم ہیں جہاں مفت علاج کی سہولت موجود ہے۔

The post ٹی بی سے اموات کی شرح کم ہورہی ہے، پروفیسر مسرور appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Ysak7c

Medical News Today: When to consume protein: The facts

Consuming protein is necessary for muscle growth and repair. There is no single best time for this, but rather it depends on individual goals. Learn more about when to have protein here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2UR8RW8

Medical News Today: What are the symptoms of ADHD in adults?

The symptoms of ADHD in adults vary depending on the type of ADHD, but they may include disorganization and restlessness. Learn more about adult ADHD symptoms here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2uvj7b4

Medical News Today: What are the health benefits of jackfruit?

Jackfruit is a healthful source of essential nutrients, including vitamin C, potassium, and dietary fiber. Research suggests that substances in the fruit and plant may have a variety of health benefits. Cooked, unripe jackfruit is a popular meat substitute among vegetarians and vegans. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OsgUpH

Medical News Today: What to know about smoking and ulcerative colitis

Smoking has links to major health issues, but nicotine replacement products may help with ulcerative colitis. Some studies suggest that nicotine can ease symptoms in some people. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2UUqu7j

Medical News Today: The best ways to get rid of acne scars

Acne scars can form as a result of moderate-to-severe acne. Many home remedies and medical treatments can help smooth the skin and reduce scarring. Learn about how to get rid of acne scars here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Ynk0jt

Medical News Today: What to know about tooth cavities

Tooth cavities can occur when there is a buildup of plaque on the teeth. People can prevent cavities by practicing good oral hygiene. Learn more about tooth cavities, including their possible symptoms, here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Wk53wM

Medical News Today: Osteoporosis: New tools help pinpoint potential risk genes

Genome analysis and 3D DNA studies helped scientists to identify two new genes that impact bone-producing cells to potentially alter osteoporosis risk.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2JCM52V

Medical News Today: More evidence links weight gain to meal times

A recent study on obesity and weight gain finds that it is not just what we eat but when we eat it that is important. Evidence for this theory is mounting.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OrrhKz

Medical News Today: The key to brain health: Light but frequent exercise

New research shows that light and moderate exercise benefits the brain both immediately and in the long run, providing a person is active frequently.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2FpLhcj

Medical News Today: Why too much vitamin D can be a bad thing

Vitamin D is essential for good health. However, a new study has found that too much can have a negative effect on some members of the population.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2UbsYkA

Medical News Today: Sugary drinks can be a factor in cardiovascular disease

A recent study finds an association between sugary drinks and higher rates of mortality from cardiovascular disease, as well as higher cancer rates.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Fyo2hy

Sunday, 24 March 2019

جلد کو نم رکھ کر بڑھاپے کی بیماریوں کو دور رکھا جاسکتا ہے

سان فرانسسکو: ماہرین نے جلد کی مسلسل خشکی اورعمررسیدگی کے درمیان ایک ایسا تعلق دریافت کیا ہے جو بظاہرِ ناقابلِ یقین لگتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو (یوسی ایس ایف) کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ خشک اور متاثرہ جلد بڑھاپے میں حملہ آور کئی امراض کی وجہ بن سکتی ہے جن میں امراضِ قلب اور الزائیمربھی شامل ہیں۔

جامعہ کے ماہرین نے بزرگ افراد پر اپنی دیرینہ تحقیق کے بعد یورپیئن اکیڈمی آف ڈرماٹولوجی اینڈ وینرویئلوجی میں اس کی رپورٹ شائع کرائی ہے۔ تحقیق سے وابستہ ڈاکٹر ماؤ چیانگ مان، نے کہا کہ بڑھاپا جسم کی اندرونی سوزش یا جلن کو بھی بڑھاتا ہے جسے ہرگز نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کیفیت امراضِ قلب، ٹائپ ٹو ذیابیطس، الزائیمر اور گٹھیا جیسی بیماریوں کی وجہ بنتی ہے۔

جلد کے متاثرہ اور خشک حصوں میں جلن کی خبردینے والا پروٹین سائٹوکائنز خارج ہوتا ہے۔ پھر سائٹوکائنزجسم کے اندر جگہ جگہ ہلکی یا تیز جلن کی وجہ بنتے ہیں۔ اس کیفیت میں بزرگ افراد دن میں دومرتبہ تین تین ملی لیٹر موئسچرائزر کریم استعمال کریں تو اس طرح مضر سائٹوکائنز کی پیداوار میں نمایاں کمی ہوتی ہے۔

اس تحقیق پر عالمی ماہرین نے ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ الزائیمر کی ایک بین الاقوامی ماہر ڈاکٹر گیاتری دیوی نے کہا ہے کہ جلد کو چکنا اور نم رکھ کر اندرونی سوزش کو کم کرنے کی تحقیق بہت دلچسپ ہے لیکن اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ تاہم دیگر ماہرین نے اسے بوڑھے افراد کے لیے ایک اچھی خبرقرار دیا ہے جس میں وہ آسان اقدامات کے ساتھ خود کو بیماریوں سے بچاسکتے ہیں۔

اگرچہ یہ تحقیق باقاعدہ طور پر بزرگوں پر کی گئی ہے لیکن اس میں بہت کم افراد نے حصہ لیا تاہم ماہرین کا مشورہ ہے کہ بغیر خوشبو کے صابن اور کریموں کا استعمال کرکے جلد کو خشکی سے بچایا جائے ۔ اگر نہانے کے بعد جلد پر تیل ، کریم یا لوشن لگایا جائے تو یہ سب سے بہتر عمل ہوگا۔

The post جلد کو نم رکھ کر بڑھاپے کی بیماریوں کو دور رکھا جاسکتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2TukZef

Medical News Today: Cystic fibrosis: Existing drug may improve lung function

According to a recent study, a commonly used antifungal medication could be useful for treating lung infections related to cystic fibrosis.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2HLGTr7

Medical News Today: Stroke: Rewiring eye-brain connection may restore vision

Groundbreaking research finds that some vision loss after a stroke may be reversible. The researchers hope that this finding may inform future treatments.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2CCM0pY

Saturday, 23 March 2019

بھاپ اُڑاتی تیز گرم چائے کینسر کا سبب بن سکتی ہے، تحقیق

تہران: محققین نے انکشاف کیا ہے کہ بھاپ اُڑاتی گرما گرم چائے پینے کے عادی افراد غذا کی نالی کے کینسر کے مرض میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

امریکن کینسر سوسائٹی نے سائنسی جریدے ’انٹرنیشنل جرنل آف کینسر‘ میں شائع ہونے والی اپنی تحقیقی رپورٹ میں 60 سینٹی گریڈ تک گرم چائے کے 2 کپ پینے والے افراد کے غذا کی نالی کے کینسر میں مبتلا ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ اس سے قبل عالمی ادارہ صحت نے بھی 65 سینٹی گریڈ تک گرم چائے پینے سے باز رہنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی تحقیقی مقالوں میں تیز گرم چائے اور کینسر کے درمیان تعلق کا تذکرہ کیا جاچکا ہے تاہم پہلی بار اُس خطرناک درجہ حرارت کا تعین کیا گیا ہے جو کینسر کا سبب بن سکتا ہےجو کہ 60 سینٹی گریڈ ہے۔

یہ تحقیقی مقالہ تہران یونیورسٹی برائے طبی سائنس کی مدد سے ایران میں مکمل کیا گیا ہے جہاں امریکا میں کئی گنا زیادہ درجہ حرارت والی چائے پینے کا رجحان عام ہے۔ سائنس دانوں نے 2004 سے 2017 کے درمیان 50 ہزار ایرانیوں کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا۔

Cancer

تحقیق میں 40 سے 45 سال کی عمر کے 50 ہزار افراد کو رکھا گیا تھا، مطالعے کے دوران خوراک کی نالی (ایسوفیگس) کے کینسر کے 317 نئے کیس سامنے آئے۔ ان افراد میں بار بار تیز گرم چائے پینے سے غذا کی نالی میں خراشیں پڑ جاتی ہیں اور زخم گہرا ہوتے ہوتے کینسر میں تبدیل ہو گیا تھا۔

سائنس دانوں نے تجویز دی ہے کہ روزانہ 700 ملی لیٹر سے زیادہ اور 60 سینٹی گریڈ تک گرم چائے پینے سے اجتناب برتیں کیوں کہ اس مقدار اور درجہ حرارت کی چائے پینے والوں میں 90 فیصد تک کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

The post بھاپ اُڑاتی تیز گرم چائے کینسر کا سبب بن سکتی ہے، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2OnPfGD

بیمار ہوں، نہیں ہوں!

تندرستی کو ہزار نعمت کہا جاتا ہے اور یہ بات صحیح بھی ہے کیونکہ صحت وہ انمول شے ہے جو دولت کے عوض نہیں ملتی۔

اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ امیر لوگ پیسہ ہونے کے باوجود مختلف بیماریوں کی وجہ سے اپنے من پسند کھانے کھانے سے بھی محروم رہتے ہیں اور نیند کی روٹھی دیوی کو منانے کے لیے گولیاں کھانے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن پھر بھی آرام دہ، پُرسکون اور میٹھی نیند کو ترستے ہی رہتے ہیں جبکہ دوسری طرف ایک غریب مزدور روکھی سوکھی کھا کر رات کو گھوڑے گدھے بیچ کر آرام سے سوتا ہے۔ ذیل میں چند ایسے امراض کا ذکر کیا جارہا ہے جو دنیا میں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ سب کو ہر طرح کی بیماریوں سے محفوظ رکھے اور تمام بیماروں کو اپنی رحمت سے شفائِ کاملہ وعاجلہ عطا فرمائے۔ آمین۔

1 ۔ کوٹارڈ ڈیلوژن (Cotard’s delusion)
یہ وہ بیماری ہے جس میں مریض کو یہ وہم ہو جاتا ہے کہ وہ مر چکا ہے یا یہ کہ وہ اپنے خون، جسم کے مختلف حصوں (ناک، کان، ہاتھ یا ٹانگ) یا اندرونی اعضاء (دل، جگر، گردے اور پھیپھڑے وغیرہ) سے محروم ہو گیا ہے۔ 1880ء کے اوائل میں فرانس کے دماغی امراض کے ماہرِ ’ڈاکٹرجیولِس کوٹارڈ‘ (Dr. Jules Cotard) نے پہلی بار اس مرض کی تفصیلات کے متعلق وضاحت کی۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندہ لاشوں یعنی زومبی (zombies) کو محض سائنس فکشن اور ڈرائونی فلموں کے کردار سمجھتے ہیں لیکن جو افراد اس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں انہیں اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ وہ مر چکے ہیں اور اُن کا جسم گل سَڑ رہا ہے یا کم از کم بھی یہ کہ وہ آہستہ آہستہ اپنے جسمانی اؑعضاء سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ اکثرو بیشتر اسی فکر میں غلطاں وپیچاں رہتے ہیں کہ اگر وہ نہائیں گے تو اُن کے خراب اعضاء بھی پانی کے ساتھ ہی بہہ جائیں گے اور اگر انہوں نے کھانا کھایا تو وہ کہاں جائے گا کیونکہ اُن کے خیال میں اُن کا معدہ تو ہے ہی نہیں۔ اسی وجہ سے وہ نہانے اور کھانے سے گریز کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ اس بیماری کی وجہ دماغ کے اُن حصوں کی کمزوری ہے جو جذبات کو کنٹرول کرتے ہیں اور یوں اُن کا دماغ احساسات سے لاتعلق ہوتا چلا جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے اس مرض کے تدارک کے لیے استعمال کروائی جانے والی ادویات اکثر کارگر ثابت ہوتی ہیں۔

2 ۔ فارن ایکسنٹ سینڈروم (Foreign Accent Syndrome)
اس بیماری میں انسان اچانک ہی کوئی غیرملکی زبان بولنے لگتا ہے۔ آپ تصور کریں کہ کسی دن جب آ پ صبح سو کر اُٹھیں اور بالکل صحیح تلفظ کے ساتھ کوئی غیرملکی زبان فراٹے کے ساتھ بولنا شروع کر دیں تو کیا ہو گا ؟ پہلے تو یقیناً آپ کے آس پاس موجود افراد اور گھر والے ششدر رہ جائیں گے اور پھر وہ آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کو کیا ہوگیا ہے اور آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ پھر اس کے بعد وہ تشویش کا شکار ہو کر کچھ بھاگ دوڑ شروع کریں گے کہ آپ میں آئی اس حیرت انگیز تبدیلی کا سبب جاننے کے لیے کسی سے معلوم کریں یا کسی ڈاکٹر کو دکھائیں۔ یہ مرض بہت کم افراد میں پایا جاتا ہے۔ امریکا بھر میں اس کے محض 60 کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ پہلے پہل ڈاکٹر اس مرض کو اختباطِ ذہنی کا مسئلہ سمجھتے تھے لیکن 2002ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے یہ دریافت کیا کہ اس مرض کے متاثرین کے دماغ کے بول چال اور الفاظ کی ادائیگی ولہجے کو کنٹرول کرنے والے حصوں میں رونما ہونے والی خلافِ معمول تبدیلیاں ایک جیسی تھیں۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ بیماری دماغی دورے یا چوٹ کی صورت میں بھی لاحق ہو سکتی ہے۔

3 ۔ ایکواجینِک اُرٹیکاریا (Aquagenic Urticaria)
اس بیماری کے مریض کو پانی سے الرجی ہوتی ہے۔ تالاب میں تیراکی کرتے یا غسل خانے میں نہاتے ہوئے عام طور پر ہم میں سے اکثر لوگوں کے ذہن میں کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہوتی لیکن اس مرض میں مبتلا لوگوں کے لیے پانی کے پُرسکون اور آرام دہ لمس سے محظوظ ہونا بھِڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہوتا ہے۔ یہ مرض بھی عام نہیں اور ’سی این این‘ (CNN) کے مطابق پورے امریکا میں اس کے صرف 30 ہی مریض ہیں، جن میں سے زیادہ تر خواتین ہیں۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ اس مرض کے متعلق زیادہ معلومات میسر نہیں اسی وجہ سے ابھی تک اس کا علاج بھی دریافت نہیں ہو سکا۔ امریکا کے ’نیشنل اِنسٹیٹوٹ آف ہیلتھ‘ (National Institutes of Health) کے مطابق اس بیماری کے متاثرین اس سے نمٹنے کے لیے مختلف کریموں کا لیپ کر کے اپنے جسموں کو ڈھانپے رکھتے ہیں اور اکثر ’بیکنگ سوڈے‘ (baking soda) سے نہاتے ہیں۔

4 ۔ پورفیریا (Porphyria)
یہ مرض اعصابی نظام اور جِلد کو متاثر کرتا ہے اور اس کے مریض کے پیشاب کا رنگ جامنی ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ جسم ایک خاص قسم کا پروٹین ’ہیم‘ (heme) بنانا چھوڑ دیتا ہے۔ اس پرٹین کا کام خلیوں کو آکسیجن پہنچانے میں مدد فراہم کرنا اور ہیموگلوبن کو اس کا مخصوص رنگ دینا ہے۔ ’ہیم‘ (heme) کی عدم موجودگی کے باعث جِگر میں ’پورفِرنز‘ (porphyrins) نامی زہریلے مادے پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور خطرناک سطح پر پہنچ کر جسم سے اخراج کے وقت پیشاب کا رنگ تبدیل کر دیتے ہیں۔ چند تاریخ دانوں کے نزدیک 19 ویں صدی کے مشہور ولندیذی مصور ’وِنسینٹ وین گوہ‘ (Vincent Van Gogh) اور انگلستان کے بادشاہ ’جارج سوئم‘ (King George III)، جس کو ’پاگل بادشاہ‘ بھی کہا جاتا ہے، میں ایک غیر معمولی بات مشترکہ ہے اور وہ یہ کہ وہ اِن دونوں اشخاص کے پاگل پن کی حد تک پل پل بدلتے مزاج کو اسی بیماری کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں جبکہ اس نظریئے کے ناقدین ’وِنسینٹ وین گوہ‘ (Vincent Van Gogh) کی حد تک یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ اس کے ’پل میں تولہ پل میں ماشہ‘ مزاج کی وجہ یہ بیماری تھی بلکہ وہ اسے اس کی ذہنی کج روی سمجھتے ہیں جو اکثر فنکاروں کی طبیعت کا خاصہ ہوتی ہے۔ اس بات کا ثبوت وہ یہ دیتے ہیں کہ ’وِنسینٹ وین‘ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ہسپتال میں زیرِعلاج رہ کر گزارا لیکن ڈاکٹروں کی رپورٹ میں اس کے پیشاب کا رنگ جامنی ہونے کے بارے میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ’وِنسینٹ وین‘ کی جانب سے اپنے بھائی ’تھیو‘ (Theo) کو لکھے گئے خطوط میں بھی اس نے ایسی کوئی چیز نہیں بتائی۔

5 ۔ پیکا سینڈروم (Pica syndrome)
اس بیماری میں مریض کا دل پینٹ(paint) اور مٹی وغیرہ کھانے کو کرتا ہے۔ جس طرح ’نیل کنٹھ‘ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ہر چیز کھا جاتا ہے اسی طرح اس مرض میں مبتلا افراد بھی کھانے پینے کے معاملے میں کسی تخصیص کے قائل نہیں ہوتے اور پینٹ(paint) ، چکنی مٹی، چونا، صابن، دیواروں کا پلسٹر اور تو اور کچے چاول اور آٹے جیسی عام لوگوں کو نامرغوب اشیاء بھی نگلنے سے نہیں چوکتے۔ کیا کریں بے چارے ؟ ان کا دل جو یہ سب کھانے کو چاہتا ہے۔ اگر کسی کو اِن سب چیزیں کی طلب مسلسل ایک ماہ تک محسوس ہوتی رہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ’پیکا سینڈروم‘ کا شکار ہو چکا ہے۔ اس مرض کی علامات عام طور پر بچوں اور حاملہ خواتین میں دیکھی گئی ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ بیماری جسم میں ایک معدنی عنصر کی کمی کے باعث جنم لیتی ہے تاہم میڈیکل کے ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔

6 ۔ ایلس ان ونڈرلینڈ سینڈروم (Alice in Wonderland syndrome)
اس مرض کے نام سے شاید آپ نے اندازہ لگا لیا ہو کہ اس کا نام ’لیوِس کارول‘ (Lewis Carroll) کی مشہور کتاب ’ایلسز ایڈونچرز اِن ونڈرلینڈ‘ (Alice’s Adventures in Wonderland) کے نام پر کیوں رکھا گیا ہے۔ ’آکسفورڈ ہینڈ بُک آف کلینکل میڈیسن‘ (Oxford Handbook of Clinical Medicine) کے مطابق اس بیماری کے متاثرین کو ہوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ تیزی سے سکڑتے یا پھیلتے جا رہے ہیں یا اکثر انہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ اُن کے سامنے پڑی چیزوں کا اصل حجم اس کے برعکس یعنی چھوٹا ہے جو انہیں دکھائی دے رہا ہے۔ تحقیق کار اس مرض کا تعلق آدھے سر کے درد ’مگرین‘ (دردِ شقیقہ) migraine سے جوڑتے ہیں۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ ’لیوِس کارول‘ خود بھی دردِ شقیقہ کا مریض تھا، اسی لیے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی اس بیماری کے کچھ ناکچھ اثرات اس کی کتاب کے چند حصوں پر نظر آتے ہیں۔

7 ۔ پروگیریا (Progeria)
اس بیماری کے متاثرہ شخص کی عمر سات گُنا تیزی سے بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اس مرض کا شکار ایک یا دو سالہ بچے اپنی ظاہری شباہت کی وجہ سے اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑے لگنے لگتے ہیں۔ یعنی اُن کی جسمانی نشونما تو عام بچوں سے بھی کم رفتار سے ہو رہی ہوتی ہے لیکن بوڑھوں کی طرح اُن کے بال گِر کر کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ بالاخر وہ اپنے جسم کی زیادہ تر چربی کھو بیٹھتے ہیں اور اُن کی کھال پر جھریاں پڑ جاتی ہیں جس کے سبب وہ اپنی اصل عمر سے بیسیوں برس بڑے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ لفظ ’پروگیریا‘ یونانی زبان سے اخذ کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے ’قبل از وقت بڑھاپا‘۔ یہ ایک جینیاتی بیماری ہے۔ ’پروگیریا ریسرچ فائونڈیشن‘ (Progeria Research Foundation) کے مطابق ابھی تک اس مرض کا کوئی علاج دریافت نہیں کیا جا سکا اور اس کے مریض اوسطاً 14 برس کی عمر میں جہانِ فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔

8 ۔ ایکسپلوڈِنگ ہیڈ سینڈروم (Exploding Head syndrome)
اس بیماری میں مبتلا لوگوں کا کہنا ہے کہ جب وہ سو جاتے ہیں یا سو کر اُٹھتے ہیں تو انہیں انتہائی اُونچی آوازیں سُنائی دیتی ہیں جیسے بندوقوں سے گولیاں برسائی جا رہی ہوں یا پھر بہت تیز آواز میں جھنکار والے ساز بج رہے ہوں، حالانکہ اُس وقت اُن کے آس پاس کوئی بھی موجود نہیں ہوتا۔ میڈیکل سائنس کے ماہرین میں اس مرض کی وجوہات پر اتفاق نہیں پایا جاتا تاہم وہ اس کو کسی ذہنی دبائو یا تھکن کی وجہ سے پیدا ہونے والی نیند کی خرابی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اس بیماری کے متاثرین میں سے بیشتر کو پوری زندگی میں بس ایک یا دو بار ہی ایسی آوازیں سُنائی دیتی ہیں البتہ جن لوگوں کو یہ شکایت مستقل رہے تو اُن کے لیے ادویات کا استعمال ضروری ہے۔

9 ۔ ’کینیٹیز سبیٹا‘ یا میری اینٹواِنیٹ سینڈروم  (canities subita or Marie Antoinette syndrome)
آپ کے بال خدانخواستہ کسی پریشانی یا بُری خبر سُننے کی وجہ سے اگر اچانک سفید ہونا شروع ہو گئے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ ’کینیٹیز سبیٹا‘ (canities subita) جسے ’میری اینٹواِنیٹ سینڈروم‘ (Marie Antoinette syndrome) بھی کہتے ہیں، کا شکار ہو گئے ہوں۔ یہ اختراع فرانس کے انقلاب کے موقعے پر ’ملکہ میری اینٹواِنیٹ‘ (Queen Marie Antoinette) کے لیے گھڑی گئی تھی کیونکہ جس دن اُس کی گردن ماری جانی تھی، اُس سے پہلے راتوں رات اُس کے سر کے سارے بال اچانک سفید ہو گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور سابق امریکی صدر بارک اوباما جیسی مشہور شخصیات بھی اس مسئلے سے دوچار ہوئیں۔ اس کی وجوہات میں مختلف عوامل اس کا سبب ہو سکتے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ جسم کا قدرتی مدافعتی نظام کسی خرابی کے باعث جلد کے رنگ کو کنٹرول کرنے والے نظام کو نشانہء ہدف بنا لیتا ہے جس سے بالوں کے رنگ کی پیداوار متاثر ہو جاتی ہے۔

10 ۔ کانجینیٹل اینالجیزیا (Congenital Analgesia)
آپ اس بات پر یقین کریں یا ناں کہ دنیا میں ایک محدود تعداد ایسے لوگوں کی بھی پائی جاتی ہے کہ جنہیں اگر آپ کوئی چیز چبھوئیں تو اُنہیں درد محسوس نہیں ہوتا۔ دراصل انہیں ایک وراثتی جینیاتی مسئلہ درپیش ہوتا ہے جو جسم کو درد کے سگنلز دماغ کو بھیجنے نہیں دیتا، اس مرض کو ’کانجینیٹل اینالجیزیا‘ (Congenital Analgesia) کہتے ہیں۔ گو سُننے میں یہ بہت اچھا لگتا ہے کہ شاید ایسے انسان ، سُپر مین کی طرح کی خصوصیات کے حامل ہوتے ہوں گے مگر ایسا ہرگز نہیں ہے اور ناں ہی یہ کوئی فائدہ مند بات ہے، بلکہ اُلٹا اس کا نقصان ہی ہے کیونکہ ایسے شخص کو اگر کوئی چوٹ وغیرہ لگ جائے یا لاعلمی میں اس کے جسم کاکوئی حصہ آگ کی لپیٹ میں آ جائے تو اُسے معلوم ہی نہیں ہوتا اور اگر خدانخواستہ کسی حادثے میں اُن کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے تو درد نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کے علاج کی طرف سے لاپرواہی کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ نیشنل اِنسٹیٹوٹ آف ہیلتھ (National Institutes of Health) کے مطابق یوں بار بار لگنے والی چوٹیں اُن کی زندگی کا دورانیہ کم کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔

11 ۔ ہائپرتھیمیزیا (Hyperthymesia)
اگر آپ کسی سے پوچھیں کہ آج سے ٹھیک 8 برس قبل، آج ہی کے دن وہ کیا کر رہا تھا ؟ تو یقیناً بہت سے لوگ اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہوں گے تاہم ’ہائپرتھیمیزیا‘ کے متاثرین آپ کو اُس دن کے ایک ایک لمحے کا احوال فَر فَر سُنا دیں گے۔ یہ مرض بھی بہت کم افراد میں پایا جاتا ہے۔ پورے امریکا میں اس کے صرف 33 مریض ہیں جن کو اپنی گزری ہوئی زندگی کے ہر ہر دن کی مکمل تفصیل یاد ہے۔ آپ اُن کی نوجوانی کے کسی بھی دن کی تاریخ کا حوالہ دیں اور پھر آرام سے بیٹھ کر اُن کی روداد سُنیں۔ اس مرض کے عام نہ ہونے کی وجہ سے اس پر زیادہ تحقیق نہیں کی گئی، اس لیے ماہرین کے پاس اس کی وجوہات اور علاج کے متعلق زیادہ معلومات نہیں ہیں۔

12 ۔ فائبروڈائیسپلازیا اوسیفیکینز پروگریسیوا (Fibrodysplasia Ossificans Progressiva)
عجیب بیماریوں کی اس فہرست میں یہ مرض سب سے زیادہ عام ہے۔ امریکا کے ’نیشنل اِنسٹیٹوٹ آف ہیلتھ‘ کے مطابق ایک تا دو ملین افراد میں اس مرض کی تشحیص کی جا چکی ہے۔ یہ بھی جینیاتی خرابی کے باعث لاحق ہونے والی بیماری ہے جس میں کوئی چوٹ یا زخم لگنے کی صورت میں جسم کی نرم بافتیں، ہڈیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور مرض بڑھتے بڑھتے بالآخر جسم کے جوڑوں اور پٹھوں کو اکڑنے پر مجبور کر کے باہم پیوست کردیتا ہے اور مریض کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اس بیماری کے متاثرین کی کافی بڑی تعداد ہونے کے باوجود ابھی تک اس کا علاج دریافت نہیں ہو سکا۔

13 ۔ ٹری مین سینڈروم (Tree Man Syndrome)
اس مرض میں مریض کے جسم کی کھال درخت کی چھال کی مانند ہو جاتی ہے۔ درحقیقت یہ جلد پر بننے والے لاتعداد ’مسے‘ (warts) ہوتے ہیں جو اسے یہ شکل دے دیتے ہیں۔ یہ بیماری بھی جینیاتی خرابی کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ اس بات میں کوئی ابہام نہیں کہ ہر سال اس طرح کے 600 کیسیز منظرِعام پر آنے نے ڈاکٹروں کو الجھا کے رکھ دیا ہے۔ گو آپریشن کے ذریعے اِن مسوں کو عارضی طور پر ختم کرنے میں کامیابی ہوئی ہے لیکن طب دانوں کو اس کا مکمل علاج ڈھونڈنا ہو گا۔

14 ۔ موبائل فون سے دھپڑ (Rash from Cellphones)
ذرا تصور کریں کہ موبائل فون، وائی فائی رئوٹر یا کسی بھی ایسے ہی آلے، جن سے برقناطیسی لہروں کا اخراج ہوتا ہو، کے نزدیک جاتے ہی اگر کسی کے سر میں درد شروع ہو جائے یا جسم پر دھپڑ پڑنے لگیں تو کیا ہو ؟ آپ کو اس بات پر شاید یقین نہ آئے لیکن کچھ لوگوں کو روزانہ یہ تجربہ ہوتا ہے۔ برقناطیسی لہروں سے ہونے والی حساسیت کے بارے میں طبی حلقوں میں پائے جانے ابہام و اختلاف کے باعث 2004ء تک ’ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن‘ (World Health Organization) نے اسے سرکاری طور پر بحیثیت ایک مرض کے تسلیم نہیں کیا۔ ماہرین کے خیال میں ابھی تک اس الرجی اور برقناطیسی لہروں کے درمیان کسی تعلق کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے تاہم اس بیماری کی اصل وجوہات کا پتا لگایا جانا ابھی باقی ہے۔

15 ۔ مورگیلنز (Morgellons)
مورگیلنز ریسرچ فائونڈیشن (Morgellons Research Foundation) کے مطابق اس مرض میں مبتلا افراد اپنے جسم پر کسی چیز کے رینگنے، کاٹنے، چبھنے یا ڈنک مارے جانے جیسا احساس محسوس کرتے ہیں۔ انہیں یوں لگتا ہے کہ جیسے اُن کے سارے جسم کو کیڑوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ چند مریضوں کو ایسا احساس بھی ہوتا ہے کہ جیسے گہرے رنگ کے عجیب سے دھاگے یا ریشے اُن کی جِلد سے باہر کو نکل رہے ہوں۔ شروع شروع میں ڈاکٹروں نے اس کیفیت کو محض مریض کے دماغ کی کاررستانی قرار دیتے ہوئے زیادہ اہمیت نہیں دی مگر اب جدید تحقیق یہ بتاتی ہے کہ شاید یہ عجیب وغریب بیماری، چچڑی کے انسانی خون چوسنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی انفیکشن (tick-borne illness) کے باعث ہو سکتی ہے۔

16 ۔ مِرر ٹَچ سائنیستھیزیا (Mirror-touch Synesthesia)
ہم سب کے دماغوں میں ننھے ننھے عصبے موجود ہوتے ہیں۔ اُنہیں کی وجہ سے جب ہم دوسروں کو کسی دکھ درد یا تکلیف میں مبتلا دیکھتے ہیں تو ہماری آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہو جاتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ’مِرر ٹَچ سائنیستھیزیا‘ (Mirror-touch Synesthesia) سے متاثرہ لوگوں کے دماغ میں موجود یہ ننھے عصبے اوروں کی نسبت زیادہ حساس ہونے کی وجہ سے دوسروں کی مصیبت وپریشانی پر اُن کا ردِعمل زیادہ شدید ہوتا ہے۔ اس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس طرح کے افراد جب کسی کو تکلیف میں مبتلا دیکھتے ہیں تو اُن کو وہ درد اپنے جسم میں بعینہٖ اسی طرح اور اسی جگہ پر محسوس ہوتا ہے جہاں متاثرہ شخص محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ اس مرض کے بعض مریض تو اتنے حساس ہوتے ہیں کہ دوسروں کی ناک پر دھری عینک کا بوجھ بھی انہیں اپنی ناک پر محسوس ہوتا ہے۔

17 ۔ فیٹل فیمیلیَل اِنسومنیا   (Fatal Familial Insomnia)
اس بیماری کا نام ہی سُن کر پتا چل جاتا ہے کہ یہ کیا مرض ہو سکتا ہے۔ جینز میں پائی جانے والی اس مورثی خرابی، مریض کو پُرسکون اور گہری نیند سے محروم کر دیتی ہے اور بے خوابی کے باعث وہ ذہنی دبائو، اُکتاہٹ وبیزاری اور دماغی خلجان وہذیان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نیشنل اِنسٹیٹوٹ آف ہیلتھ (National Institutes of Health) کے مطابق گو اس بیماری کے متاثرین کی تعداد بھی انتہائی کم ہے تاہم وہ بے چارے ایک برس یا اس سے کچھ زائد کی نیند سے محرومی کے بعد اس مرض کا خراج ادا کرتے کرتے ابدی نیند سو جاتے ہیں۔

ذیشان محمد بیگ
zeeshan.baig@express.com.pk

The post بیمار ہوں، نہیں ہوں! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2upsjNQ

جس میں دو سو برس کے بُڈھے ہوں۔۔۔

مرزاغالب نے بہادرشاہ ظفر کے لیے دُعا کی تھی:
تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

خود بہادر شاہ ظفر تو سال بھر جینے میں بھی دل چسپی نہیں رکھتے تھے۔ وہ تو ’’عمرِدراز مانگ کے لائے تھے چار دن‘‘، اگر ان کی مانگ پوری ہوجاتی تو وہ بن کِھلے مُرجھا جاتے، لیکن اگر غالب کی دعا قبول ہوتی تو بے چارے بہادر شاہ ظفر کو فلم ’’مغل اعظم‘‘ میں اپنے اجداد کی دُرگت بنتے دیکھنا پڑتا، مغل کریانہ اسٹور، مغل پان شاپ، مغل ہیئرڈریسر کے سائن بورڈ دیکھ کر جانے آخری مغل تاج دار پر کیا گزرتی، شاہی قلعے میں ’’رعایا‘‘ کو پان کی پیک مارتے اور لال قلعے میں نریندر مودی کو تقریر جھاڑتے دیکھ کر تو وہ دل پکڑ کر کہتے ’’ہم تو اِس جینے کے ہاتھوں مرچلے۔‘‘

غالب کی دعا تو خیر پوری نہ ہوئی، لیکن آپ اگر کسی کے لیے ہزار برس تو نہیں البتہ دو سو سال سلامت رہنے کی دعا مانگیں تو قبولیت کا امکان ہے، کیوں کہ اب برطانوی سائنس دانوں نے ایک ایسا طریقہ دریافت کرلیا ہے جس کے ذریعے انسان کے 200 سال تک زندگی پانے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ برطانیہ کی ایسٹ اینگلیا یونیورسٹی کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان کے دریافت کردہ طریقے کے تحت اگر ڈی اے ایف 2(DAF-2) نامی جین کو سوئچ آف کردیا جائے تو تمام جان داروں، بشمول انسان، کی زندگی دوگنا تک بڑھ جاتی ہے۔

یوں تو ہم حال کے آئن اسٹائن یا آئزک نیوٹن ہوسکتے تھے، لیکن مسلمانوں کے خلاف ہونے والی عالمی سازش کے تحت جب ہمیں میٹرک سائنس میں ڈی گریڈ دے کر پاس کیا گیا تو ممتحنوں کے یوں ’’ڈی گریڈ (Degrade) کرنے پر ہمیں اتنا غصہ آیا کہ ہمیں سائنس سے چِڑ ہوگئی، اسی لیے ہم پوری ہٹ دھرمی سے اس کے قائل ہیں کہ زمین ساکت ہے بلڈرز اور قبضہ مافیا کی طرح سورج زمین کے گِرد گھومتا ہے، کسی بچے کے ہونے میں کسی ’’گندی بات‘‘ کا عمل دخل نہیں ہوتا، ہر ننھے کو پَری لاتی اور جھولے میں ڈال جاتی ہے، زمین گائے کی سینگوں پر کھڑی ہے۔

جب گائے زمین کو ایک سے دوسرے سینگ پر منتقل کرتی ہے تو زلزلہ آتا ہے، یقیناً اسی گائے کے دودھ دینے سے سیلاب آتا ہے، کیوں کہ اسے گوالا میسر نہیں اسی لیے یہ خود ہی اپنے دودھ میں پانی ملاتی ہے، اب گائے تو ٹھہری گائے۔۔۔اتنا پانی ملا دیتی ہے کہ سارا دودھ شرم سے پانی پانی ہوجاتا ہے۔ اس ساری بک بک کا مقصد سائنس سے اپنی بے رغبتی کے بارے میں بتانا تھا، اور یہ بتانے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پَلے نہیں پڑا کہ عمر بڑھانے کے لیے سائنس دانوں نے اپنے دریافت کردہ جس طریقے کا ذکر کیا ہے اس کے کیا معنی ہوئے؟ ہم تو بس یہ سوچ رہے ہیں کہ انسانوں کی عمر دو سو سال ہونے لگی تو ہوگا کیا۔

داغ دہلوی نے کہا تھا:

جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں

ایسی جنت کا کیا کرے کوئی

اگرچہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں، لیکن داغ کا یہ شعر ہمیں اچھا نہیں لگا۔ بھئی اگر گاڑی کا انجن، باڈی سب صحیح حالت میں ہیں تو اس سے کیا لینا دینا کہ ماڈل کب کا ہے؟ بہ ہرحال، داغ دہلوی آج ہوتے تو یہ خبر پڑھ کر کہتے

جس میں دو سو برس کے بُڈھے ہوں

ایسی دنیا کا کیا کرے کوئی

یہ دوسو برس کی ممکنہ عمر داغ ہی کا نہیں ہمارے لیے بھی دل دہلادینے والی ہے۔ اتنا جینے کا مطلب ہے کہ اگر کسی کی شادی پچیس سال کی عمر میں ہوئی ہے تو وہ بیوی کے ساتھ ایک سو پچھتر سال گزارے، اُسے ایک سو پچھتر مرتبہ شادی اور بیوی کی سال گرہ یاد نہ رکھنے پر ذلیل ہونا پڑے، یہ جینا بھی کوئی جینا ہوا۔

اگر دو سو سالہ عمر کا دور آگیا تو سینچری کرکے دارفانی سے کوچ کرنے والوں کو جواں مَرگ کہہ کر افسوس کیا جائے گا، نوے سال تک ’’ویلے‘‘ رہنے والے یہ سوچ کر مطمئن رہیں گے کہ عمر پڑی ہے کچھ کرنے کے لیے، ہوسکتا ہے پچاس برس کی عمر میں بیاہ کم عمری کی شادی قرار پائے۔ ہمیں رہ رہ کر یہ خیال بھی ستا رہا ہے کہ ایسا ہوا تو گورکنوں اور کفن فروشوں کا کیا بنے گا۔ امید یہی ہے کہ گورکن قبرستانوں میں چائنا کٹنگ کرکے پلاٹ بیچ دیں گے اور کفن فروش لٹھے کو رنگوا کر ان کی کُرتیاں بنا کر مارکیٹ میں لے آئیں گے، جس کے ساتھ ہی ’’کفن کُرتی‘‘ فیشن میں آجائے گی۔

طویل عمروں کے بعد موت ایسی نایاب ہوجائے گی کہ پچھتر سال کے ’’بچے‘‘ سوا سو سال کے باپ سے پوچھا کریں گے ’’ابو ابو! یہ جنازہ کیا ہوتا ہے‘‘ جواب ملے گا ’’بیٹا! اب تو یاد نہیں، یوٹیوب پر دیکھ لو۔‘‘ محلوں میں وفات کا اعلان یوں ہوا کرے گا،’’مکان نمبر چار سو بیس میں رہنے والے لُڈن بھائی کا اﷲ اﷲ کرکے انتقال ہوگیا ہے۔ نماز جنازہ بعد نمازعصر ادا کی جائے گی۔ جنھیں محلے کے ان پہلے مرحوم کے ساتھ سیلفیاں بنانی ہوں دوپہر دو بجے تک بنالیں۔‘‘ یہ خبر چینلوں پر بریکنگ نیوز بن کے نشر ہوگی۔ دور دور تک ’’دھوم‘‘ مچ جائے گی کہ شہر میں کوئی انتقال ہوا ہے۔ گھرگھر میں شورمچا ہوگا،’’بچوں کو تیار کردو جنازہ دیکھنے جانا ہے، کہیں شوہر سے شکوہ کیا جارہا ہوگا،’’پہلا پہلا جنازہ ہے اور میرے پاس نئے کپڑے بھی نہیں ہیں پہن کر جانے کے لیے‘‘،کہیں کہا جارہا ہوگا ’’موبائل فُل چارج کرلو وڈیو بنائیں گے۔‘‘

سوال یہ ہے کہ یہ سائنس داں لوگوں کو اتنی طویل عمر کیوں دینا چاہتے ہیں۔ دو صدیوں تک زندہ رہنے کا تو سوچ کر بھی بے زاری ہونے لگتی ہے، اگر یہ نوبت آگئی تو سو سال جی کر لوگ دعا کے طور پر اپنے پیاروں سے نہیں بہ طور بددعا اپنے دشمن سے کہہ رہے ہوں گے ’’تم کو ہماری عمر لگ جائے۔‘‘

The post جس میں دو سو برس کے بُڈھے ہوں۔۔۔ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2YfMjjL

Medical News Today: Can scientists learn to remove bad memories?

New research in human participants explores a novel intervention that aims to weaken traumatic memories and lessen their psychological impact.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2U2lOzg

Medical News Today: Could prescription vegetables be the future of healthcare?

A recent study investigates whether prescribing healthful food could, in time, save money and improve health. The results are surprising.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2FvlWz5

Friday, 22 March 2019

آنکھوں کے زخم دور کرنے کیلئے ’’جیلی نما گوند‘‘ ایجاد

بوسٹن: آنکھوں میں زخم اور دیگر نقصانات کی صورت میں ایک سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تاہم اب ماہرین نے حیاتیاتی طور پر ایک ایسا جیل (گوند) تیار کیا ہے جو آنکھوں کی چوٹ کو ٹھیک کرسکتا ہے بلکہ اس کی بدولت آنکھوں کے قرنیہ کی منتقلی کے آپریشن کی ضرورت بھی ختم ہوجاتی ہے۔

سائنس ایڈوانسز میں شائع ایک ایک رپورٹ میں ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک نئی ٹیکنالوجی ’جیل کور‘ کے بارے میں لکھا ہے جو ایک گوند نما جیل پر مبنی ہے اور روشنی سے متحرک ہوکر جیل قرنیہ کے زخم بھرکر زخم اور کٹنے کے عمل کو دور کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ جیل قرنیہ کی بافتوں (ٹشوز) کو افزائش کرتا ہے۔ تاہم اسے انسانوں پر نہیں آزمایا گیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے جلد یا بدیر یہ ایجاد قرنیے کے سرجری سے بھی نجات دلائے گی جن میں قرنیہ کی منتقلی جیسے پیچیدہ آپریشن بھی شامل ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر کلائس ایچ دولمان اور اور میساچیوسیٹس آنکھ اور کان ہسپتال کے محقق رضا دانا نے امید ظاہر کی ہے یہ بایومٹیریل ہے جو قرنیہ کے زخم سے چپک جاتا ہے اور وہاں خلیات کی افزائش کرتا ہے اور قرنیے کی بڑھوتری عین قدرتی عمل کی طرح ہوتی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال متاثر قرنیے سے نابیناپن کے 15 لاکھ سے زائد واقعات رونما ہوتے ہیں۔ فی الحال قرنیے میں سوراخ ، کمزوری، زخم اور پتلے پن سمیت دیگر خامیوں کو دور کرنے کے لیے لیزر اور دیگر طریقوں سے جراحی کی جاتی ہے۔ اسی لیے یہ گوند ایک بہترین بصارت دوست متبادل ہے۔ پھر قرنیے کی منتقلی میں انفیکشن اور مسترد کرنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

تجرباتی طور پر اس جیل کو بہت ہی مؤثر قرار دیا گیا ہے ۔ جب متاثرہ قرنئے پر اسے لگایا گیا تو 3 ملی میٹر کا زخم اس نے درست کردیا۔ چند دنوں بعد آنکھ بہتر اور ہموار ہوگئی اور جلن کے آثار بھی نہیں دیکھے گئے۔ سب سے بہتر بات یہ ہے کہ جب اس جیل پر روشنی ڈالی جاتی ہے تب ہی یہ سرگرم ہوتا ہے اور یوں روشنی قابو کرکے اسے بھی اپنے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے۔

The post آنکھوں کے زخم دور کرنے کیلئے ’’جیلی نما گوند‘‘ ایجاد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Ok2mIU

نرسنگ کا 3 سالہ ڈپلومہ ختم 4 سالہ گریجویشن کورس متعارف

 کراچی: وفاقی حکومت نے ملک میں پہلی بار نرسنگ ڈپلومہ کورس ختم کردیاگیا اوراس کی جگہ 4 سالہ گریجویشن جنرنک نرسنگ کورس متعارف کرا دیا گیا۔

پاکستان نرسنگ کونسل حکومت پاکستان کی جانب سے چاروں صوبائی سیکریٹریز و ڈائریکٹران صحت ،چاروں صوبوں کے نرسنگ ڈائریکٹران، حکومت کے ماتحت چلنے والے سرکاری اسکولوں و کالجوںکے پرنسپلز، پرائیویٹ نرسنگ اسکولوں سمیت آرمڈفورسز کے تحت چلنے والے نرسنگ اسکولوں کی انتظامیہ کو 19 مارچ کو لیٹر نمبر F.7.184.Admin جاری کر دیا یہ لیٹرپاکستان نرسنگ کونسل کی رجسٹرارکے دستخط سے جاری کیاگیا ہے جوصوبہ سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سیکریٹری صحت اور ڈائریکٹران صحت کوبھیجاگیا ہے۔

مکتوب میں کہاگیا ہے ملک بھرکے سرکاری وپرائیویٹ اور آرمڈ فورسزکے ماتحت چلنے والے نرسنگ اسکولوں میں3 سالہ نرسنگ ڈپلومہ کورس ختم کر دیا گیا ہے اوراب ڈپلومہ کورس میں داخلے نہیں دیے جائیںگے اور اس کورس کی جگہ 4 سالہ جنرنک نرسنگ (بیچلرآف سائنس ان نرسنگ) ڈگری کورس شروع کیاجارہا ہے جس میں انٹرسائنس بیالوجی میں کم سے کم 50 فیصد نمبرحاصل کرنے والے امیدوار داخلوںکے لیے درخواست دینے کے اہل ہوںگے اس سے قبل 3 سالہ نرسنگ ڈپلومہ کورس میں میٹرک سائنس امیدواروں کو داخلے دیے جاتے تھے۔

صوبائی محکمہ صحت سندھ نے پاکستان نرسنگ کونسل کے لیٹرپر عمل درآمد کرتے ہوئے کراچی کے3 نرسنگ اسکولوں جس میں سندھ گورنمنٹ لیاقت آباد سندھ نرسنگ، سندھ گورنمنٹ کورنگی اسکول اورسندھ گورنمنٹ لیاری نرسنگ اسکول میں4سالہ جنرنک نرسنگ میں کورس متعارف کرادیا۔

واضح رہے کہ انٹرنیشنل کونسل آف نرسنگ نے دنیا بھر سے 3 سالہ نرسنگ ڈپلومہ کورس ختم کرنے کی سفارش کی تھی جس کے بعد 3 سالہ نرسنگ ڈپلومہ کورس دنیا کے دیگر ممالک سے ختم کردیا تاہم پاکستان میں 5سال بعد انٹرنیشنل کونسل آف نرسنگ کے احکام پر عملدرآمد شروع کیاگیا۔

The post نرسنگ کا 3 سالہ ڈپلومہ ختم 4 سالہ گریجویشن کورس متعارف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Yf80QW

Medical News Today: What is the difference between a cyst and a boil?

Cysts and boils are both lumps that appear under the skin. Although the symptoms are similar, the causes and treatments are different. Learn more about the differences between cysts and boils and how to identify each of them here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2UMSDND

Medical News Today: Can home remedies help regulate your period?

Certain home remedies and lifestyle changes, such as diet and exercise, can help people to regulate irregular periods. In this article, we look at home remedies that are backed by science, along with those that are not, such as eating turmeric and pineapple.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2uolVXe

Medical News Today: What causes pain in the testicles?

A range of medical conditions can cause testicular pain, from infections to testicular torsion, a medical emergency. Learn about these and other causes of pain in the testicles here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2FqJC6f

Medical News Today: How to get rid of tonsil stones

Tonsil stones occur when bacteria, food, and other debris collect in the folds of the tonsils. In this article, learn how to remove tonsil stones at home.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OmUTbP

Medical News Today: 6 innovations from Future Healthcare 2019

Medical News Today attended the Future Healthcare 2019 conference and exhibition. Here, we outline a handful of the innovations that piqued our interest.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Oll5np

Medical News Today: Surgery with ultrasound treats high blood pressure in trial

A minimally invasive procedure that disables nerves leading to the kidneys maintained reduced blood pressure for 6 months with less prescribed medications.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2WhFmx2

Medical News Today: How sugary drinks can fuel and accelerate cancer growth

New research in mouse models reveals that consuming sugary drinks can boost the growth of cancer tumors, and it also explains the underlying mechanisms.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2TUvaxJ

Medical News Today: Weight loss: 'Telling someone to improve their diet doesn't work'

Many doctors often only offer their patients generic advice about weight loss strategies. New research, however, shows that this approach is unsuccessful.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2WfNgGW

Medical News Today: Hot tea may raise esophageal cancer risk

A new, large prospective study suggests that people who regularly drink very hot tea may raise their risk of developing esophageal cancer.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2TrwAuB

Thursday, 21 March 2019

روزانہ ایک گلاس نارنجی کا جوس فالج کے خطرے کو کم کرتا ہے

ہالینڈ: ایکسپریس نیوز نارنجی کے رس کے فوائد پہلے بھی بتاتا رہا ہے اور اب ایک بہت بڑے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدگی سے ایک گلاس نارنجی کا رس پینے والوں میں فالج کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

یہ مطالعہ ہزاروں افراد پر کیا گیا جو دس سال سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ لیکن مغربی ممالک میں شکر سے دور بھاگنے کے رحجان سے نارنجی کے رس کو وہ اہمیت نہیں دی جارہی ۔

ہالینڈ میں نیشنل انسٹٰی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ اینوائرمنٹ نے یورپی کینسر اینڈ نیوٹریشن پروگرام کے تحت 35000 افراد کا 15سال سے زائد عرصے تک سروے کیا جن میں 20 سے لے کر 70 سال تک کے افراد شامل تھے۔ اس سروے کا مقصد غذا، صحت یا اس سے ہونے یا نہ ہونے والی بیماریوں کے بارے میں معلوم کرنا تھا۔

تاہم تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نہ صرف نارنجی کے جوس سے فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ دیگر اقسام کے تازہ پھلوں کا رس بھی اسے روکنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر ہفتے میں 8 مرتبہ نارنجی کا رس پیا جائے تو فالج کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ ایک دن چھوڑ کر ایک دن یہ رس پینے سے فالج کا خطرہ 20 فیصد تک ٹلتا ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ اورنج جوس دل کے امراض کے خطرے کو بھی دور کرتا ہے اور اس سے  دل کی شریانوں کے متاثر ہونےکا خدشہ 12 سے 13 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ اس کے رس میں پھل کے تمام اہم کیمیکلز اور فلے وینوئڈز پائے جاتے ہیں جس سے خون کے لوتھڑے بننے کی شرح کم ہوتی ہے اور یوں فالج یا لقوے کا خطرہ کم سے کم ہوتا جاتا ہے۔

فالج کے اکثر واقعات میں خون کا لوتھڑا جسم سے گھومتا ہوا دماغ کی باریک رگوں میں پھنس جاتا ہے اور یوں دماغ کو خون کی فراہمی متاثر ہوجاتی ہے جس سے فوری موت واقع ہوجاتی ہے یا بچ جانے والے کسی نہ کسی معذوری کے شکار ہوجاتے ہیں۔

اسی لیے ماہرین نے کہا ہے کہ شکر سے پرہیز کرنے والے افراد نارنجی کا رس پینے سے دور نہ ہٹیں کیونکہ اس کے بے پناہ فوائد ہیں۔

The post روزانہ ایک گلاس نارنجی کا جوس فالج کے خطرے کو کم کرتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2UKAobK

Medical News Today: Symptoms of caffeine withdrawal

Caffeine withdrawal symptoms can occur when a person abruptly stops consuming caffeine. Symptoms can last for a week or more and include headaches, fatigue, mood changes, concentration difficulties, and constipation. Learn more about caffeine withdrawal here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2YaKg0B

Medical News Today: What are speech disorders?

Speech disorders affect a person's ability to produce sounds that create words, and they can make verbal communication more difficult. Types of speech disorder include stuttering, apraxia, and dysarthria. Learn more about speech disorders here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2WfKS3e

Medical News Today: What to know about a bulging disc in the neck

Potential causes of a bulging disc in the neck include being overweight and being inactive. Exercising may help. Learn more about bulging discs in the neck, including why they develop and how to soothe them, here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Yfvqph

Medical News Today: Is popcorn a healthy snack?

Popcorn can be a healthful food choice with a good nutritional profile, including fiber, protein, and vitamins. In this article, we look at the benefits and nutrition of popcorn, the healthiest ways to eat it, and how to make the most nutritious version of popcorn at home.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2YfzVjF

Medical News Today: How does tumor acidity help cancer spread?

A pH-probe helps scientists map acidity in tumors and see how acidification alters gene expression in ways that increase cancer's invasiveness and spread.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2FrtiDR

Medical News Today: Why your gut may hold the key to cardiovascular health

A new study examines the link between gut bacteria, aging, and cardiovascular health. The authors conclude that 'the fountain of youth may lie in the gut.'

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OhgClI

Medical News Today: Do people with Parkinson's disease smell different?

With the help of a 'super smeller,' researchers conclude that those with Parkinson's disease smell subtly different. The results may aid earlier diagnosis.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2TTJiqP

Medical News Today: This 'caterpillar fungus' may help treat osteoarthritis

A compound derived from a parasitic fungus could lead to the development of new, better treatments for osteoarthritis, according to recent research.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OjLlhL

Wednesday, 20 March 2019

یہ خاتون پارکنسن کا مرض سونگھ سکتی ہیں

 لندن: ایک برطانوی خاتون کو ’مشاق قوتِ شامہ‘ کی حامل خاتون کا خطاب دیا گیا ہے کیونکہ وہ صرف بو سونگھ کر پارکنسن کے مریضوں کو پہچان سکتی ہے۔

جوئے ملن اپنی عمر کی ساتویں دہائی میں ہیں اور انہوں نے اپنے شوہر میں پارکنسن کا مرض دس سال قبل سونگھ لیا تھا اور آخر کار 1985 میں ان کے شوہر میں اس مرض کی تشخیص ہوئی۔ جوئی ایک عرصے تک نرس رہی ہیں اور اب اپنے گھر میں رہتی ہیں لیکن ماہرین ان کی خدمات سے فائدہ اٹھارہے ہیں اور اس ضمن میں انہیں کئی تجربات کا حصہ بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پارکنسن ایک ایسا مرض ہے جو صحتمند شخص کو مفلوج بنادیتا ہے۔ لیکن اب مانچسٹر یونیورسٹی میں یہ خاتون مریضوں کے جسم سے ملے ہوئے خوشبودار تیل کی بو سونگھ کر پارکنسن کی خاص بو سونگھ سکتی ہیں۔ ان تحقیقات کی نگرانی ڈاکٹر پرڈیٹا بیرن کررہی ہیں۔

ڈاکٹروں نے اس کے لیے پہلے مریضوں کی کمر کے اوپری حصے پر انتہائی چکنا مومی موسچرائزر استعمال کیا جسے سیبم کہا جاتا ہے۔ حال ہی میں پارکنسن کے 43 مریضوں اور اس کے ساتھ 21 صحتمند افراد کی پشت پر سیبم لگایا گیا اور پھر اسے جمع کرکے خاتون کو سونگھنے کے لیے دیا گیا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس عمل میں کمر کی جلد سے ایلفا سائنیوکلائن پروٹین خارج ہوتا ہے اور جوئی اسے کامیابی سے سونگھ سکتی ہیں۔ اس کے بعد ماہرین نے سیبم (تیل) کے نمونے سے بو پیدا کرنے والے مرکبات الگ کئے اور انہیں ایک خاص بو والے برتن (اڈر پوٹ) میں رکھ کر خاتون کو سونگھایا تو انہوں نے کامیابی سے پارکنسن کے مریضوں کی شناخت کرلی۔

اس تحقیق کے نتائج اے سی ایس سینٹرل سائنس جرنل میں شائع ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جوئے دنیا کے ان چند انتہائی حساس لوگوں میں شامل ہیں جو سونگھنے کی غیرمعمولی حس رکھتے ہیں اور انہیں ’سپر اسنفر‘ کہا جاتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ دماغی مریضوں سے بعض کیمیکل خارج ہوتے ہیں جو اس مرض کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ اس تحقیق کی بنا پر ان امراض کی شناخت کا کیمیائی نظام بھی بنایا جاسکتا ہے۔

The post یہ خاتون پارکنسن کا مرض سونگھ سکتی ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2ThGoal

Medical News Today: What are the health benefits of guava?

Guava is a traditional remedy for a variety of ailments. Initial research suggests that compounds in guava leaf extract could help treat a number of conditions, such as type 2 diabetes, menstrual cramps, diarrhea, the flu, and cancer. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OhoJPh

آپ اپنا کولیسٹرول کیسے کم کرسکتے ہیں؟

زندگی مزے سے گزر رہی تھی، چٹ پٹے مرغن کھانے‘ پھجے کے سری پائے‘ گردے کپورے‘ مغز‘ نہاری اور ناشتے میں انڈا اور مکھن کھانا معمول تھا۔

اس طرح کے کھانے اور کھابے کھانا مزیدار لگتا، خود کھانے کے  ساتھ  اور دوسروں کو کھلانا بہت اچھا لگتا۔ صحت بھی خوب تھی۔ ڈاکٹر کے پاس کم کم  جانا ہوتا۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے سینے میں گھٹن محسوس ہوئی۔ ڈاکٹر کے پاس پہنچے ECG اور دوسرے ٹیسٹ ہوئے تو پتہ چلا کہ خون میں کولیسٹرول کی مقدار کافی حد تک بڑھ چکی ہے۔ECG میں بھی گڑبڑ ہے۔

خون میں کولیسٹرول بڑھنا خاصا تشویشناک ہوتا ہے اس کے بڑھنے اور مضمرات کے بارے میں ذہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔جن دوستوں کا کولیسٹرول لیول زیادہ ہوچکا ہے اور جو لوگ مرغن غذاؤں کے زیادہ شوقین ہیں، ذیل میں ان سب کیلئے کولیسٹرول کے بارے میں تمام بنیادی معلومات دی جا رہی ہیں تاکہ وہ اپنے طرز زندگی میں تھوڑی سی تبدیلی لاکر اور کھانے پینے میں احتیاط کرکے، اپنا کولیسٹرول لیول کم کرکے صحت مند زندگی گزارنے کے قابل ہوسکیں۔

 کولیسٹرول کیا ہے؟

کولیسٹرول چربی کی ایک قسم ہے جس کی مناسب مقدار کا جسم میں ہونا ضروری ہے۔ ایک نارمل آدمی کے جسم میں کولیسٹرول کی مقدار تقریباً 100 گرام یا ا س سے تھوڑی سی زیادہ ہوتی ہے۔ کولیسٹرول جسم میں بنتا اور جمع ہوتا ہے، اس کی مناسب مقدار جسم میں ضروری ہارمونز پیدا کرنے کے لیے اور نظام ہضم میں مدد دینے کے لیے ضروری ہے۔

مختلف قسم کی خوراک مثلاً گوشت، انڈے، دودھ، مکھن اورگھی وغیرہ میں کولیسٹرول کی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ اسی طرح کی غذا کھانے سے خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ جب خون میں کولیسٹرول کی مقدار حد سے بڑھ جائے تو پھر یہ خون کی نالیوں کے اندرونی حصے میں جمع ہو کر اور چکنائی کی تہیں بنا کر خون کے نارمل بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کر کے ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے جس سے فوری موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

 کولیسٹرول کی اقسام

کولیسٹرول خون میں گردش کرتا ہے۔ جسم میں موجود چکنائی اور لحمیاتProtein  کے چھوٹے چھوٹے مرکبات کولیسٹرول کو اس کے استعمال کی جگہ پر لے جاتے ہیں۔ ان مرکبات کو Lipo proteins  کہتے ہیں۔ ان کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں:

(1)      Very Low Denity Lipoproteins (VDVL)

(2)      Low Density (LDL)  Lipoproteins

(3)      High Density  Lipoproteins (HDL)

LDL اور VLDL جسم میں موجود کولیسٹرول کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں جبکہ HDL اصل میں خون میں موجود کولیسٹرول کو کم کرنے کا کام کرتے ہیں کیونکہ یہ جسم سے زیادہ کولیسٹرول کو جگر تک پہنچاتے ہیں جہاں سے وہ صفرا وغیرہ بنانے کے کام آتا ہے۔ اگر خون میں LDL اور VLDL کی مقدار زیادہ ہوگی تو پھر لازماً کولیسٹرول کی زیادہ مقدار خون میں شامل ہو کر اس کی (Arteries) وریدوں یا شریانوں کو تنگ کرنے کا باعث بنے گا۔ مرغن غذائیں یا کولیسٹرول والی زیادہ خوراک کھانے سے جسم میں مختلف قسم کی چربی Triglycerdies بھی زیادہ ہو جاتی ہے جس کی و جہ سے خون کی نالیوں میں Clot آنے کا خطرہ مزیدبڑھ جاتا ہے۔

 کولیسٹرول کا لیول

جسم میں کولیسٹرول اور مختلف قسم کے Lipoproteins اور چکنائی کی مقدار معلوم کرنے کیلئے خون کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اسے Lipid profile کا نام دیاجاتا ہے۔یہ ٹیسٹ  کرانے کے لیے کم از کم بارہ گھنٹے بھوکا رہنا ضروری ہے۔ تبھی خون میں کولیسٹرول وغیرہ کی مقدار کا صحیح پتہ چلتا ہے۔ ایک تندرست آدمی کا Lipid profile مندرجہ ذیل ہونا چاہیے۔

کولیسٹرول           200 – 120ملی گرام/ ڈیسی لٹر

HDL   41-52ملی گرام/ ڈیسی لٹر

LDL   108-188ملی گرام/ ڈیسی لٹر

ٹرائی گلیسرائیڈ ز     150ملی گرام تک

خون میں کولیسٹرول کی زیادتی کے مضمرات

خون میں کولیسٹرول کی زیادتی کے باعث دل کے دورے کے امکانات 10-8 گنا بڑھ جاتے ہیں۔ خون میں کولیسٹرول زیاہ ہونے کے ساتھ ساتھ اگر سگریٹ نوشی یا شراب نوشی کی بھی لت ہو تو پھر ہر وقت دل کے دورے کا خطرہ ہوتا ہے۔ زیادہ کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز دل کو خون پہنچانے والی نالیوں میںCLOT  بن کر دل کو خون کی سپلائی بند کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں  دل کے دورے سے واپسی کے تمام امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔ موٹاپے کے ساتھ اگر ذیابیطس بھی ہو تو دل کے دورے کے امکانات اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔

خون میں کولیسٹرول کم کرنے کا آسان پروگرام

کولیسٹرول کی خون میں زیادتی نہ صرف خطرناک ہے بلکہ خون کی شریانوں میںPlaque یا Clot بن کر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ خوش آئند بات یہ ہے کہ طرز زندگیLife Style  میں مثبت تبدیلی اور کھانے پینے میں اعتدال کر کے نہ صرف اس پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ نارمل زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ موٹاپے کی وجہ سے بھی خون میں کولیسٹرول میں زیادتی ہوتی ہے۔ جتنا وزن زیادہ ہوگا اتنا ہی کولیسٹرول بڑھنے کا امکان زیادہ ہوگا۔

ایک اندازے کے مطابق ہر ایک کلوگرام زیادہ وزن کیلئے جسم کو تقریباً22  ملی گرام زیادہ کولیسٹرول روزانہ پیداکرنا پڑتا ہے۔ یعنی اگر کسی دوست کا وزن نارمل (وزن) سے 20 کلو گرام زیادہ ہے تو اس کا جسم روزانہ440  ملی گرام زیادہ کولیسٹرول بنائے گا۔ اس لئے ضرورت ہے کہ کولیسٹرول کم کرنے کیلئے سب سے پہلے موٹاپے کو کنٹرول کیا جائے۔ علاوہ ازیں کولیسٹرول کم کرنے کے لئے ایسی غذا سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے جس میں کولیسٹرول کی زیادتی ہو۔ زیادہ چکنائی والی اور تمام مرغن غذاؤں سے لازمی طور پر پرہیز کیا جائے۔

کولیسٹرول صرف جانوروں سے حاصل کی جانے والی خوراکوں میں پایا جاتا ہے۔ اچھی صحت کے لئے ایک دن میں ایک شخص کو 100 ملی گرام سے زیادہ کولیسٹرول نہیں کھانا چاہیے۔ جسم میں کولیسٹرول کو کم رکھنے کیلئے جن غداؤں میں زیادہ کولیسٹرول ہو ان سے مکمل  پرہیز کریں۔

قارئین کی دلچسپی اور رہنمائی کے لئے ذیل میں مختلف کھانوں میں کولیسٹرول کی مقدار کا چارٹ دیا جا رہا ہے تاکہ اس کے مطابق خوراک کا استعمال کیا جا سکے۔

غذا        مقدار     کولیسٹرول

پھل اور سبزیاں    کوئی بھی مقدار       0  ملی گرام

دودھ(بالائی کے بغیر )         250ملی لیٹر          5ملی گرام

فرنچ فرائیز          185 گرام           20  ملی گرام

ہیمبرگر   1 عام سائز           26  ملی گرام

دودھ (فل کریم)   250   ملی لیٹر       34ملی گرام

مکھن     ایک چمچ   35  ملی گرام

گھی        ایک چمچ   45  ملی گرام

مچھلی      درمیانی   60  ملی گرام

مرغی کا گوشت      190 گرام           65  ملی گرام

بڑا یا چھوٹا گوشت    190 گرام           95  ملی گرام

ڈرم سٹک (چکن)     90  گرام            100  ملی گرام

آئس کریم           ایک کپ 110  ملی گرام

فروٹ کیک          ایک سلائس         165  ملی گرام

انڈہ       1 گرام   225  ملی گرام

بیف / چکن لیور     160 گرام           250  ملی گرام

انڈے اور فرائڈ نوڈلز          ایک پلیٹ            270  ملی گرام

کولیسٹرول کم رکھنے کیلئے مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کریں:

(1) اپنی خوراک میں زیادہ کولیسٹرول والی غداؤں کو بالکل ختم یا کم کردیں

٭        انڈوں کا استعمال بند کردیں یا صرف انڈے کی سفیدی لیں۔

٭        گوشت کا استعمال کم کریں چربی والا گوشت بالکل استعمال نہ کریں۔

٭        کریم، مکھن، چیز، کریم والے دودھ اور دیسی گھی کھانے سے پرہیز کریں۔

٭        گردے، کپورے، کلیجی، مغز، سری پائے اور نہاری وغیرہ کھانے سے اجتناب کریں۔

(2)  سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں

مختلف تازہ سبزیاں اور پھل بہترین غذا ہیں اس لئے سبزیوں اور پھلوں کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے کیونکہ پھلوں اور سزیوں میں کولیسٹرول بالکل نہیں ہوتا۔ ویسے بھی سبزیاں کھانے سے آدمی زیادہ صحت مند توانا اور سمارٹ رہتا ہے۔ اس لئے تندرست اور چاق و چوبند رہنے کیلئے زیادہ سے زیادہ پھل اور سبزیاں استعمال کریں کھانے میں سادہ سلاد اور ریشے والی سبزیاں زیادہ شامل کریں۔ مختلف تجربات سے ثابت ہوچکا ہے کہ روزانہ ناشتے میں لہسن اور کچی گاجروں کا استعمال بھی کولیسٹرول کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ روزانہ کچی گاجریں کھانے سے معدہ بھی ٹھیک رہتا ہے۔ بھوک بھی زیادہ نہیں لگتی اور کولیسٹرول کی مقدار بھی ٹھیک رہتی ہے۔

(3)  چکنائی سے مکمل پرہیز

(i)خون میں کولیسٹرول اور چربی یعنی ٹرائیگلسٹرائیڈز کی مقدار کم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ غذا میں زیادہ چکنائی کی مقدار بالکل ختم کردی جائے، ہر قسم کے گھی اور مکھن سے مکمل پرہیز کیا جائے، پورے جسم کو چربی کی ضرورت بہت کم ہوتی ہے۔ اگر جسم میں چربی کی مقدار پہلے ہی زیادہ ہو تو اس کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لئے ضروری ہے کہ کھانے میں چکنائی کی مقدار بالکل کم یا ختم کر دیں اس کیلئے مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کریں۔

چکنائی کا استعمال کرنے کے لئے ہر قسم کی چکنائی والی اشیاء کھانا بند کر دیں۔

(ii)صرف غیر سیر شدہ Unsaturated تیل مثلاً مکئی کا تیل سویا بین تیل زیتون کا تیل سورج مکھی کا تیل اور مونگ پھلی کا تیل شامل ہیں۔ زیتون کا تیل بہت فائدہ مند ہے۔ اس کا استعمال کولیسٹرول کم کرنے کیلئے مسلمہ ہے۔ عرب میں زیادہ لوگ اس کا استعمال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان علاقوں میں ہارٹ اٹیک بہت کم ہوتے ہیں۔ عربوں کے ہر کھانے اور ناشتے میں زیتون کا تیل استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآن پاک میںبھی اللہ نے زیتون کی قسم کھائی ہے۔ یوں زیتون کے تیل کی افادیت مسلمہ ہے۔

(iii)کولیسٹرول کم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ بازار سے کھانے نہ کھائے جائیں، اس کے علاوہ مختلف قسم کی مٹھائیاں میٹھے بسکٹ کیک برگر ہیمبرگر وغیرہ کھانے سے مکمل پرہیز کریں۔ اس کے علاوہ مختلف قسم کے کولڈ ڈرنکس کافی اور کیفین والے دوسرے مشروبات لینے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔ مختلف قسم کی غذا کو اس کی اصلی حالت میں استعمال کرنا چاہیے۔ اَن چھنا آٹا بھی مفید ہے۔

(vi)ریشے دار غذائیں کھانے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔ خوراک میں ریشے کی مقدار کولیسٹرول ا ور چربی کو خون میں جذب ہونے سے روکتی ہے اور یوں خون میں کولیسٹرول کا لیول مناسب حد تک رہتا ہے۔

(4)  سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کریں:

سگریٹ نوشی بھی ایک طرح سے کولیسٹرول زیادہ کرنے کا سبب بنتی ہے کیونکہ سگریٹ نوشی خون میں شامل ہو کر HDL کو کم کرنے کا سبب بنتی ہے۔ خون میں شامل HDL  اصل میں خون میں کولیسٹرول کم کرنے کا سبب بنتا ہے اس لئے اس کی موجودگی ضروری ہے۔ اسی وجہ سے سگریٹ نوشی سے پرہیز بہت ضروری ہے۔

(5)  شراب نوشی سے بچاؤ

سگریٹ نوشی کی طرح شراب نوشی بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ خون میں موجود الکوحل خون سے چکنائی دور کرنے کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے جس کے نتیجہ میں خون میں چکنائی اور کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ کولیسٹرول کم کرنے کیلئے غذائی احتیاطوں کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی اور شراب نوشی سے بھی پرہیز کیا جائے۔

ایک تحقیق کیمطابق صرف غذا میں مناسب تبدیلی کر کے2،3 ماہ کے اندر تقریباً60-50ملی گرام کولیسٹرول کم کیا جا سکتا ہے۔ یعنی6 ماہ کی احتیاط سے کولیسٹرول میں 150-100 ملی گرام تک کی کمی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ خوراک میں جو کا آٹا Oatmeal پھلیاں، کریم نکلی ہوئی دہی کا استعمال بھی فائدہ مند ہے۔ روزانہ صبح لہسن کا استعمال کولیسٹرول کم کرنے میں مدد گار ہوتا ہے۔ بعض تجربات کے مطابق روزانہ ایک گاجر کا استعمال بھی فائدہ مند ہے۔

(6) لائف سٹائل میں تبدیلی:

کولیسٹرول کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ لائف سٹائل میں تبدیلی کی جائے۔ مستقل مزاجی کے ساتھ کھانے میں تبدیلی اور اس کے ساتھ مثبت سوچ بھی کولیسٹرول کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔اسکے علاوہ مندرجہ ذیل خصوصی ہدایات کو بھی پیش نظر رکھیں۔

(i)اللہ پہ پورا یقین رکھیں، مثبت سوچ اپنائیں۔ یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ یقین کامل اور مثبت سوچ کے ساتھ آپ ہر قسم کے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ رسول پاک ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اگر کھانا بھوک رکھ کر کھایا جائے تو بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ضروری ہے کہ ذہن کو تفکرات سے خالی رکھا جائے۔ ذہنی ا نتشار، دماغی الجھنوں سے بچنے کی کوشش کی جائے۔ روحانی بالیدگی کے لئے پانچ وقت نماز کی پابندی کی جائے۔

(ii)یاد رکھیں کہ کولیسٹرول کی خون میں زیادتی بڑا مسئلہ نہیں۔ اسے کم کرنے کا حل آپکے پاس ہے۔ طرز زندگی میں تبدیلی کرکے، مثبت سوچ اپنا کر، سادہ غذا استعمال کرکے آپ نہ صرف خون میں کولیسٹرول کو بڑھنے سے روک سکتے ہیں بلکہ دوسری بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں۔

(iii)ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں۔ اس زریں اصول پر عمل کریں کہ کھانا صرف زندہ رہنے کے لیے کھایا جائے نہ کہ صرف کھانے کے لیے زندہ رہا جائے۔ موٹاپے سے صرف اس صورت میں بچا جاسکتا ہے۔ موٹاپا کولیسٹرول میں زیادتی کا تو سبب بنتا ہے اسکے ساتھ ساتھ مزید کئی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے کھانا ہمیشہ کم کھایا جائے بالخصوص رات سونے سے پہلے تو بہت ہی ہلکا پھلکا کھانا لیا جائے تاکہ نظام انہضام اور جسم کے دوسرے افعال پر خوامخواہ بوجھ نہ پڑے۔ اس سلسلے میں حضورﷺ کی حدیث مبارکہ کو ذہن میں رکھیں کہ ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں۔ کھانا کھاتے وقت  پیٹ کے تین حصے کر لیں۔ ایک کھانے کے لیے ایک پانی کے لئے اور ایک ہوا کے لیے۔ اس حساب سے کھانا کھائیں گے تو موٹاپا ہوگا نہ کولیسٹرول بڑھے گا اور نہ دوسری بیماریاں ہوںگی۔

(iv)روزانہ ورزش کو معمول بنائیں، یہ آدمی کو چست و توانا رکھتی ہے۔ ورزش خواہ کسی قسم کی ہو، اگر  باقاعدگی کے ساتھ کی جائے تو یہ موٹاپا کم کرنے کے ساتھ ساتھ آدمی کو صحت مند رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے اور اس سے لازماً خون میں کولیسٹرول کی مقدار بھی کم ہو سکتی ہے۔

(v)ذیابیطس، بلڈپریشر اور ہارٹ اٹیک کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اگر ان دونوں بیماریوں کا صحیح علاج نہ کروایا جائے تو دل کے دورے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ اگر آپ کو کسی قسم کی کوئی اور بیماری ہے تو ڈاکٹر کے مشورہ سے اسکا مناسب علاج کیا جائے۔

The post آپ اپنا کولیسٹرول کیسے کم کرسکتے ہیں؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2ThDzpL

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن:  چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا م...