Tuesday, 30 April 2019
Medical News Today: What causes a smell behind the ear?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2GLbMd4
اچھی طرح ہاتھ دھوئیے اور 11 امراض سے محفوظ رہیے
لندن: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہاتھ دھونے کے عمل کو اتنی اہمیت دی ہے کہ ہرسال ’ہینڈ واشنگ ڈے‘ منایا جاتا ہے۔
اچھی طرح ہاتھ دھونے کے عمل سے کئی اقسام کےجراثیم، بیکٹیریا اور وائرس ہم سےدور ہوتے ہیں جو گردوغبار، جانوروں یا دیگر انسانوں سے ہمارے ہاتھوں تک منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
لیکن ماہرین ان امراض سے بچانے کا بہترین حل یہی بتاتے ہیں کہ ہاتھ دھونے کے معمول کو کسی بھی طرح نظر انداز نہ کیا جائے۔ مثلاً ہاتھ دھونے سے ڈائریا کا خطرہ 58 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ لیکن اقوامِ متحدہ کے مطابق صرف 5 فیصد افراد ہی ایسے ہیں جو درست طریقے سے ہاتھ دھوتے ہیں۔ اسی لیے ہاتھوں کو درست انداز سے دھونے کے پختہ عادت اپنا کر درج ذیل امراض سے بچاجاسکتا ہے۔
پیٹ کے امراض
نورووائرس اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ اس کا ایک وائرس بھی آنتوں اور معدے کا مرض پیدا کرسکتا ہے۔ اگر ہاتھ دھولیجئے یا الکحل والے ہینڈ واشر (سینی ٹائزر) سے ہاتھ دھولیجئے تو اس مرض کا پھیلاؤ 60 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔
فلو
بہت چھوٹے اور بہت بزرگ افراد دونوں کے لیے فلو کی وبا جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ صرف 2017 اور 2018 میں پوری دنیا میں فلو سے 80 ہزار اموات ہوئی تھیں کیونکہ یہ تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے۔ ہاتھ دھونے سے فلو کے جراثیم دور ہوجاتے ہیں اور یوں آپ اس موذی بلکہ جان لیوا انفیکشن سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔
گلابی آنکھ
صبح کے وقت آنکھیں چپکنا اور ان پر پپڑیاں جم جانے کا عمل گلابی آنکھ یا پِنک آئی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ انفکیشن عموماً بچوں میں ہوتا ہے۔ ہاتھ دھونے اور انہیں صاف رکھنے سے اس مرض سے بچا جاسکتا ہے۔
سالمونیلا وائرس اور امراض
سالمونیلا وائرس آنتوں کے علاوہ بھی دیگر کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے۔ بچوں کے پیمپرز کی تبدیلی، متاثرہ خوراک اور گلے سڑے پھلوں، کچے گوشت کو دھونے یا ہاتھ لگانے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں تاکہ سالمونیلا وائرس ختم ہوجائیں۔ اس طرح آپ اس خطرناک وائرس کے حملے سے محفوظ رہ سکیں گے۔
بخار، نقاہت اور مونونیوکلیوسِس
اگر کوئی شخص مونو نیوکلیوسِس کے مرض میں مبتلا ہے تو بخار، دردِ سر، بدن کا درد، نقاہت اور کمزوری اس کی عام علامات ہوں گی۔ اس کا مریض تھوکے، چھینکے یا لعاب گرائے تو دوسرے افراد اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے ہاتھ دھونے کا عمل آپ کو اس کے جراثیم سے بچاتا ہے اور یوں آپ مونونیوکلیوسِس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
منہ، پیر اور ہاتھوں کے انفیکشن
بچوں میں کوکسیکی وائرس سے ان کے ہاتھوں اور پیروں میں تکلیف دو سوزش ہوجاتی ہے جس ازالہ اچھی طرح ہاتھ دھوکر ہی کیا جاسکتا ہے۔ اسکولوں میں ایک سے دوسرے بچے میں یہ مرض عام طور پر پھیلتا ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے اپنے بچے کو اچھی طرح ہاتھ دھونا سکھائیں اور اس امر کو لازمی بنائیں۔
اپنے حمل کو بچائیں
حاملہ خواتین اگر صفائی ستھرائی میں احتیاط نہ برتیں تو چھالوں اور کھجلی جیسے ایک مرض، ہرپس کی نسل کے جراثیم جسم کے اندر جاکر نامولود بچے کو رحم میں بھی متاثر کرسکتے ہیں۔ اس کے خطرناک جراثیم بچے کی دماغی صلاحیت، بصارت اور سماعت کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔ اس کی وجہ سائٹو میگلو وائرس ہے جو صابن سے ہاتھ دھونے پر ختم ہوجاتا ہے۔
اسٹاف اور ایم آر ایس اے وائرس
اسٹاف Staph وائرس کی ایک قسم ایم آر ایس اے وائرس ہے جو عام طور پر جلد اور ناک کی رطوبت میں پلتا ہے ۔ ایم آر ایس اے اینٹی بایوٹکس کو ناکام بنانے کے لیے عالمی شہرت رکھتا ہے یعنی اس پر دوا اثر نہیں کرتی۔۔ اگر یہ جسم کے اندر چلاجائے تو خون، جوڑوں اور قلب کو متاثر کرکے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
اس کی علامات میں جلد پر سرخ دھبے اور پھپھولے بن جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ زخموں کو ڈھانپ کر رکھا جائے اور اچھی طرح ہاتھ دھوئے جائیں تاکہ اس مرض سے بچا جاسکے۔
ہیپاٹائٹس اے
اچھی خبر تو یہ ہے کہ ہیپاٹائٹس اے اپنے رشتے دار بی اور سی کے مقابلے میں جگر کو دیرینہ مرض کا شکار نہیں کرتا لیکن بری خبر یہ ہے کہ ہیپاٹائٹس اے یرقان، کمزوری اور بخار کا شکار بناکر انسانوں کو طویل عرصے تک بستر سے تو ضرور لگا سکتا ہے۔ ہاتھ دھونے کا عمل ہیپاٹائٹس اے وائرس سے آپ کو محفوظ رکھتا ہے۔
گلے میں خراش
اے اسٹریپٹو کوکس بیکٹیریا کا حملہ گلے میں خراش کی وجہ بنتا ہے۔ یہ تیزی سے ایک مریض سے دوسرے صحتمند شخص تک پھیلتا ہے۔ کیفیت شدید ہوجائے تو بخار، درد اور بسا اوقات گردے کے مرض کی وجہ بھی بن جاتے ہیں۔ ہاتھ دھونے کے عادت بھی اے اسٹریپٹو کوکس بیکٹیریا سے بچاتی ہے۔
جیارڈیاسِس
ایک قسم کا طفیلیہ (پیراسائٹٌ) جیارڈیاسِس کی وجہ بنتا ہے جو ڈائریا، کمزوری اور پانی کی کمی جیسے کیفیات میں مبتلا کرتا ہے۔ کھانے کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے سے اس مرض سے بچا جاسکتا ہے۔

لیکن ان بیماریوں کی فہرست یہاں ختم نہیں ہوتی جو ہاتھ دھونے سے دور بھاگتی ہیں۔ اسی لیے اچھی طرح ہاتھ دھونے کو اپنا معمول بنائیں۔ اوپر کی تصویر میں ہاتھ دھونے کا درست طریقہ بتایا گیا ہے جسے اپناکر آپ بھی صحت کا خیال رکھنے والے افراد کی فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں۔
The post اچھی طرح ہاتھ دھوئیے اور 11 امراض سے محفوظ رہیے appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2WfoUNX
Medical News Today: What causes sharp stomach pain that comes and goes?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2vwYcog
Medical News Today: What to know about a broken nose
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2LgTbLx
Medical News Today: How to calculate the calories a person burns while sleeping
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2GVJlub
Medical News Today: What is liver fibrosis?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2LfKilm
Medical News Today: What are the best foods for vitamin C?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2vrekb5
Medical News Today: Experts draft guidelines for Alzheimer's-like condition
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2GRVDlY
Medical News Today: Poor sense of smell linked to increased mortality risk
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2IPjXIJ
Medical News Today: Chronic fatigue syndrome: New test in sight
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2WaKN0W
Medical News Today: Obesity may put young people at risk of anxiety, depression
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2DEOqFg
Medical News Today: Psoriasis on black skin: What to know
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2ZN3KJd
Medical News Today: Can 'forest bathing' reduce stress levels?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2WgjBOu
Monday, 29 April 2019
Medical News Today: What is lymphangitis?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2PAwMHz
ذہنی تناؤ میں کھانا، موٹاپے کو بڑھانا
آسٹریلیا: اگر آپ کھانا کھاتے وقت اکثر پریشان اور ذہنی تناؤ کے شکار رہتے ہیں تو اس کا نتیجہ زائد وزن اور موٹاپے کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔
اگرچہ ماہرین اس متعلق ایک عرصے سے کہتے آرہے ہیں کہ ذہنی تناؤ انسان کو اندھا دھند کھانے کی جانب راغب کرتا ہے اور یوں وزن میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اب چوہوں ر کئے گئے تجربات سے اس کے ثبوت مل گئے ہیں۔ اگرچہ بعض افراد ایسے بھی دیکھے گئے جو ذہنی تناؤ(اسٹریس) میں کم کھاتے ہیں لیکن اکثریت اس کیفیت میں زیادہ کھاتی ہے۔
آسٹریلیا کے شہرڈارلنگ ہرسٹ میں واقع گارون انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ نےتجربہ گاہ میں چوہوں پرغورکیا اور اس کی تفصیلات سیل میٹابولزم میں شائع ہوئی ہیں۔ تحقیق کے دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تناؤ کے دوران انسولین کی دماغی رہ گزر سرگرم ہوجاتی ہے اور انسانی موٹاپے کی جانب مائل ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر ذہنی تناؤ میں کیلوریز سے بھرپور مرغن کھانا کھایاجائے تو وزن میں تیزی سے بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کا اصرار ہے کہ ذہنی تناؤ کے شکار ان کے مریضوں میں غذا کا توازن بگڑجاتا ہے اور کھانے کا انتخاب بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔ وہ متوازن غذا چھوڑکر زیادہ کیلیوری والی خوراک کی جانب مائل ہوتے ہیں۔
اب اس کی سائنسی وجہ جان لیجئے کہ ڈپریشن اور پریشانی میں جسم سے کارٹیسول ہارمون کا اخراز ہوتا ہے جو بھوک بڑھاتا ہے اور انسان چینی، چکنائی اور روغنیات سے بھرپور کھانے کی جانب راغب ہوتا ہے جسے اسٹریس ایٹنگ بھی کہتے ہیں۔ تاہم ایک سے دوسرے شخص میں اس کا رحجان، کیفیت اور شدت مختلف ہوسکتی ہے۔
اس طرح کی کیفیت میں اندھا دھند کھانے سے لوگ تیزی سے موٹاپے کی طرف جاتے ہیں۔ اسی بنا پر ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ تناؤ میں کھانے سے سیر نہ ہوں اور کچھ جگہ ضرور رکھیں لیکن کیوں نہ تناؤ سے چھٹکارے کی ہر تدبیر اختیار کی جائے کیونکہ یہ جسم و دماغ دونوں کے لیے ایک وبال ہی ہے۔
The post ذہنی تناؤ میں کھانا، موٹاپے کو بڑھانا appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2vC2H1b
Medical News Today: What to know about potassium deficiency symptoms
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2XQSUQI
Medical News Today: Eczema on black skin: What to know
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2WdnljB
Medical News Today: How long does the flu last?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2GHSfdA
Medical News Today: What to know about vitamin K-2
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2J3xETS
Medical News Today: What to know about urethral syndrome
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2VCOy24
Medical News Today: What causes watery semen, and does it affect fertility?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2GTrCDQ
Medical News Today: Why does insomnia worsen distress of unpleasant memories?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2INhi2b
Medical News Today: Letter from the Editor: Transparency and trust
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2UPlMXI
Medical News Today: How religious experiences may benefit mental health
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2GQ5tpD
Medical News Today: Is it better to 'contain' rather than destroy cancer?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2ZK1ceU
Medical News Today: How stress eating might prime the body to store fat
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2UO2q54
Potato juice for glowing and fair skin in just 7 days
Potato is favourite fruit of everyone. It will make you fat but, it’s so tasty that, no one can stay away from it. Did you know, you can get fair and glowing skin with it as well? Yes, potato contains some chemicals that polish our skin and make them bright. It will help you to …
The post Potato juice for glowing and fair skin in just 7 days appeared first on Life Care Tips.
from Life Care Tips http://bit.ly/2vojDbh
Medical News Today: Does it matter what time of day you exercise?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2vogTdZ
Lose belly fat in just 2 days
Belly fat looks so ugly if, your other parts of body are slim. It is natural to have belly fat after pregnancy and it is hard to reduce but, if you un-married and still have huge belly then, you should worry about it and do something to minimize it. You can do workout or dieting …
The post Lose belly fat in just 2 days appeared first on Life Care Tips.
from Life Care Tips http://bit.ly/2vsPU0U
Sunday, 28 April 2019
دانت صاف کرنے والے خردبینی روبوٹ
پینسلوانیہ: اگر آپ خردبینی روبوٹ سے اپنے دانتوں کا میل کچیل صاف کروانا چاہتے ہیں تو یہ خبر آپ کے لیے ہے۔
یونیورسٹی آف پینسلوانیا کے بایومیڈیکل کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے ایسے خردبینی روبوٹ تیار کیے ہیں جو دانتوں کی گہری صفائی کرتے ہیں اور انہیں دیگر کئی کاموں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
جامعہ نے دو طرح کے انتہائی چھوٹے روبوٹ تیار کیے ہیں جو دانتوں کے علاوہ بند نالیوں اور پائپوں کی صفائی بھی کرسکتے ہیں۔ ان میں سے ایک اوپری سطح پر کام کرتا ہے تو دوسری طرح کے روبوٹ اندرونی کونے کھدروں میں جاکر صفائی کے اہل ہیں۔
ان کا اہم مقصد کسی شے مثلاً دانت پر چڑھ جانے والی حیاتی پرت (بایو فلم) کو صاف کرنا ہے انہیں جسم کے اندر لگائے جانے والے پیوند اور برقی آلات کی صفائی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
دانتوں کے اندر یہ بیکٹیریا اور دیگر میل کچیل کو بھی دور کرسکتے ہیں لیکن اس میں کچھ وقت ضرور لگے گا۔ یونیورسٹی کے شعبہ دنداں سے وابستہ ڈاکٹر ہیون مائیکل کوُ کے مطابق انہیں ایسی طبی بایو فلمز کے خلاف بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جو کسی بھی دوا سے دور نہیں ہوتیں۔

دانت ہو یا جسمانی برقی پیوند وقت کے ساتھ ساتھ پہلے ان پر حیاتی تہہ چڑھ جاتی ہے اور اس کے بعد وہاں بیکٹیریا اور دیگر جراثیم جمع ہونے لگتے ہیں۔ ایک مثال دانتوں پر جمع ہونے والی تہہ در تہہ ہے جو اتنی سخت ہوجاتی ہے کہ دانتوں کو صاف کرنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔
اپنی ایجاد کو ماہرین نے کیٹے لیٹک اینٹی مائیکروبیئل روبوٹس ( سی اے آر) کا نام دیا ہے۔ اس کے لیے آئرن آکسائیڈ نینو ذرات کا ایک محلول بنایا جاتا ہے جسے مقناطیسی رہنمائی سے میلی سطح پر چلایا جاتا ہے اور ننھے منے روبوٹ عین اسی طرح کام کرتے ہیں جس طرح ہل کھیتوں میں چل کر مٹی اٹھاتا ہے۔
دوسرے نظام میں تھری ڈی شکلوں کے سانچوں میں نینو ذرات کے ڈلے بنائے گئے جو دشوارگزار جگہوں پر جاکر وہاں کی صفائی کرسکیں گے۔ لیکن ان کے کام کرنے کا عمل خاصہ پیچیدہ ہے جس میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ خارج ہوتی ہے اور اس سے فری ریڈیکلز بنتے ہیں جو بیکٹیریا تباہ اور گندگی صاف کرتے ہیں۔ اب اس اختراع کو تجارتی پیمانے پر تیار کرنے کی ابتدا ہوچکی ہے۔
The post دانت صاف کرنے والے خردبینی روبوٹ appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2J9qGgb
Medical News Today: Just how effective is hypnosis at relieving pain?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2ULTbCH
Medical News Today: How elderberries can help you fight the flu
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2ZFpNli
Saturday, 27 April 2019
اینٹی بایوٹکس اور دل کے امراض کے درمیان تعلق دریافت
واشنگٹن: ایک سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ بالخصوص خواتین اگر اینٹی بایوٹکس کا بے تحاشا استعمال کرتی ہیں تو اس کا خدشہ ہے کہ وہ آگے چل کر امراضِ قلب کی شکار ہوسکتی ہیں۔
اس تفصیلی سروے میں کئی خواتین کا 8 سالہ سروے کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ 40 سے 59 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین اگر مسلسل دو ماہ اس سے زائد عرصے تک اینٹی بایوٹکس کا استعمال کریں تو اس سے دل کے امراض میں 32 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے لیکن 20 سے 39 سال کی خواتین میں اینٹی بایوٹکس کے زائد استعمال سے امراضِ قلب کا کوئی تعلق دریافت نہیں ہوا۔
اپنی نوعیت کے اس پہلے سروے میں خواتین میں اینٹی بایوٹکس اور امراضِ قلب کے درمیان تعلق کو نوٹ کیا گیا ہے۔ لیوزیانا میں واقع ٹیولین یونیورسٹی کے ماہر یوریکو ہایئانزا نے یہ تحقیق کی ہے جس میں انہوں نے 8 سال کا عرصہ لگایا ہے۔
اینٹی بایوٹکس کا استعمال محدود رکھیں
ان ماہرین کا اصرار ہے کہ اینٹی بایوٹکس کا استعمال نہایت مجبوری میں ہی کیا جائے، خواتین عموماً انفیکشن، منہ کے امراض اور پیشاب کی نالی کی تکالیف میں اینٹی بایوٹکس کھاتی ہیں لیکن پاکستان میں تو معمولی مرض پر بھی اینٹی بایوٹکس لکھ دی جاتی ہیں لیکن اس سروے میں خواتین سے رضاکارانہ طور پر اینٹی بایوٹکس کھانے کا رجحان پوچھا گیا جس میں غلطی کی گنجائش موجود ہے۔
اسی بنا پر ماہرین نے محتاط اندازے سے کہا ہے کہ ضروری نہیں کہ اینٹی بایوٹکس دل کی بیماری کی وجہ بنتی ہیں بلکہ یہ کہ ان کے غیر ضروری استعمال اور امراض قلب کے درمیان ایک تعلق ضرور ہے۔ اسی بنا پر ماہرین کا سختی سے اصرار ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو اینٹی بایوٹکس سے پرہیز کریں، صرف ضرورت کے تحت ہی کھائیں اور کم وقفے کے لیے اس کا استعمال کریں۔
The post اینٹی بایوٹکس اور دل کے امراض کے درمیان تعلق دریافت appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2GPxm1f
تحقیق کرو۔۔۔ نیند کیوں کر آتی ہے؟
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کی نیند کے بارے میں بنائے جانے والے قصے کہانیاں نہ صرف ہماری صحت اور موڈ دونوں کو تباہ کرتے ہیں بلکہ ہماری زندگی کو بھی کم کرتے ہیں۔
نیو یارک یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے انٹرنیٹ پر دیے جانے والے رات کی نیند کے سب سے زیادہ مقبول نسخوں کا پتا لگایا۔ رپورٹ کے مطابق نیند لانے کے لیے آزمائے جانے والے نسخوں میں ٹی وی دیکھنا، اسمارٹ فون کا استعمال، الارم بجنے کے بعد ’’اسنوزبٹن‘‘ دبا کر جھپکی لینا شامل ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ان نسخوں پر عمل سے نیند اچھی نیند نہیں آتی اور صحت پر مضر اثرات مُرتب ہوتے ہیں۔
محققین کی تحقیق اپنی جگہ لیکن ہمارا اس سے پوری طرح متفق ہونا ضروری نہیں۔ ویسے تو بعض لوگوں کو بیوی دیکھ کر بھی نیند آجاتی ہے، لیکن ٹی وی دیکھ کر خوابوں میں کھوجانا تو بڑی عام سی بات ہے، بشرط یہ کہ ٹی وی پر حکومت کا کوئی حامی اینکر حالات کی منظر کشی کر رہا ہو یا کوئی وزیر مستقبل کا نقشہ کھینچ رہا ہو، پھر تو دل ودماغ کو وہ سکون ملتا ہے کہ ناظر آنکھیں بند کرکے یقین کرتا اور سوجاتا ہے۔ اس کے برعکس کوئی حکومت مخالف تجزیہ کار حکومتی کارکردگی کا احوال پیش کر رہا ہو تو دیکھنے والے کو صبح دیکھ کر لگتا ہے ’’یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا‘‘ کا قصہ ہوگا، لیکن وہ استفسار پر جھنجھلا کر کہتا ہے ’’مجھ کو ایک تجزیہ کار نے سونے نہ دیا۔‘‘ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ سوتے سمے ٹی وی پر ’’مثبت خبریں‘‘ دینے والے چینل اور پھر رات بھر سُہانے خواب دیکھیں۔
جس طرح ’’دوست یاں کم ہیں اور بھائی بہت‘‘ اس طرح ہمارے ہاں نیند لانے والے عوامل بہت کم ہیں اور اسے بھگانے والے افراط سے، جن کی فہرست میں ٹی وی سے پہلے بیوی کا نام آتا ہے۔ یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ بیویوں کو اپنے نصیب کے سونے کا خیال عین شوہر کے سونے کے اوقات میں آتا ہے، پھر شکوے شکایات اور خاندان کی حکایات نہ سُنو تو ’’ہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمھیں پیاری ہے‘‘ کا گِلہ سُننے کو ملتا ہے۔ بڑے جگر والے ہیں جو اس توتو میں میں، جس میں بیوی توتو اور شوہر میں میں کر رہا ہوتا ہے، کے بعد بھی ’’اب آؤ مل کے سو رہیں تکرار ہوچکی‘‘ کا ارادہ باندھتے ہیں، ورنہ اس تکرار میں نیند فرار ہوچکی ہوتی ہے۔
نیند کی راہ کا روڑا وہ ایس ایم ایس بھی بنتے ہیں جن میں عین سوتے وقت آپ کو موت یاد دلائی جاتی ہے۔ یوں تو موت کا ایک دن معین ہے، لیکن ایسے ایس ایم ایس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آدمی اس خوف میں گرفتار ہوجاتا ہے کہ کہیں کل کا دن ہی متعین نہ ہو۔ ہم جیسے سیاہ کار اس خوف کا شکار ہوکر نیکی کی طرف مائل ہونے کے بجائے اس فکر میں غلطاں ہوجاتے ہیں کہ کون کون سے گناہ سرزد ہونے سے رہ گئے؟
اگر آپ کا گھر کسی ’’لاؤڈاسپیکر‘‘کی زد پر ہے تو جوش سے بھری ہوش اُڑاتی آواز رات گئے تک آپ کی نیند اُڑائے رکھتی ہے۔ کان بند کرنے کے لیے تکیے پر تکیہ کرنے سے بھی بات نہیں بنتی۔ محلے کی شادی میں گانوں کی ریکارڈنگ اور ڈھول کی تھاپ کے ساتھ پھٹے ڈھول سی آوازوں کا شور آپ کو پَرائی شادی میں عبداﷲ دیوانہ بنائے رکھتا ہے، یہ شادی کئی دن تک آپ کی نیند کی بربادی بنی رہتی ہے۔ کسی شادی میں جانا بھی اپنے ہاتھوں نیند کو بھگانا ہے، جس کی وجہ رات بارہ بجے ملنے والا کھانا ہے۔ یہ مُرغن کھانا ڈکاروں کی صورت میں خراٹوں کو آپ سے دور رکھتا اور جاگنے پر مجبور رکھتا ہے۔
اب اتنے سارے نیند بگاڑ عوامل کے ہوتے ہوئے تحقیق یہ ہونی چاہیے کہ کسی کو نیند آتی ہے تو کیوں کر آتی ہے؟
The post تحقیق کرو۔۔۔ نیند کیوں کر آتی ہے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2XWmC77
ذیابیطس آنکھوں کی بینائی بھی ختم کردیتی ہے، ماہرین امراض چشم
کراچی: دنیا بھر میں بالغ افراد میں بینائی میں کمی اور محرومی کی سب سے بڑی وجہ ذیابطیس ہے۔
ماہرین امراض چشم نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ایک اندازے کے مطابق سال2030 تک دنیا بھر میں کروڑوں افراد ذیابطیس کا شکار ہوجائیں گے۔ کانفرنس کا مقصد پاکستان میں ذیابطیس کی وجہ سے ہونے والے آنکھوں کے مرض، ڈائبیٹک میکیولر ایڈیما کا بہتر علاج اور روک تھام تھا،ڈی ایم ای جو ڈائیبیٹک ریٹینوپیتھی کا حصہ ہے،اس میں میکیولا میں مائع جمع ہوجاتا ہے،میکیولا آنکھ کے پردے کا وہ حصہ ہے جس پر ہماری دیکھنے کی صلاحیت کا انحصار ہے۔
کانفرنس میں بتایا گیا کہ ڈی ایم ای سے متاثرہ مریضوں کی آدھی تعداد بیماری کی شناخت کے دو سال میں ہی بینائی میں کمی کاشکارہونے لگتی ہے،اس کانفرنس کا انعقاد بائر پاکستان کے فارما سیوٹیکل ڈویژن نے کیا تھا جس کے کراچی اور راولپنڈی میں ہونے والی نشستوں میں ماہرین امراض چشم نے شرکت کی۔
ڈاکٹر ایگور کوزک، سینئر کنسلٹنٹ اوپتھالمولوجسٹ، مور فیلڈ آئی اسپتال ، یو اے ای، خصوصی مقرر تھے، ڈاکٹر کوزک، آنکھ کے پردے کی بیماری کے سرجیکل پراسیجر کے ماہر ہیں،جس میں بچوں کی آنکھوں کی سرجری اور ریٹینل لیزرٹکنیک شامل ہیں، انھوں نے اس کانفرنس میں جدید اور مؤثر طریقہ علاج مثل ایفلی برسیپٹ ، پر اپنی تحقیق اور تجربہ پیش کیا،انھوں نے کہا کہ سادہ کھانا ،میٹھے کاکم استعمال، پانی کا وافر مقدار میں پینا،مچھلی اور سبزسبزیوں کوکھانے میں شامل رکھنا بیماری سے بچتا ہے۔
’’ذیابطیس کی وجہ سے ہونے والی آنکھوں کی بیماریوں میں علاج پر توجہ نہ دی جائے تو بینائی کم ہونے کے ساتھ مکمل طور پرختم بھی ہوسکتی ہے، خوش قسمتی سے ہمارے پاس آج ایسے علاج موجود ہیں جو نہ صرف بینائی کم ہونے سے روکتے ہیں بلکہ متاثرہ بینائی واپس لانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں‘‘۔
اس موقع پر دیگر مقامی ماہرین نے بھی مثالوں کی روشنی سے زیابطیس سے آنکھ کے پردے کی بیماری میں مؤثر اور جدید علاج کے بارے میں بتایا اور ساتھ ہی ڈی ایم ای بیماری کے علاج کے لیے تحقیق پر مبنی تجاویز بھی دیں۔
ڈاکٹر عمران احمد خان نے اختتامی کلمات میں کہا کہ ’’بائر پاکستان اس بیماری کے جدید علاج اور اس کی آگاہی کے بارے میں ماہرین امراض چشم کے درمیان معلومات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے، بائر پاکستان معلومات کی بنیاد پر ڈی ایم ای کے علاج اور اس کے بارے میں آگاہی آگے بڑھارہی ہے، ہمیں امید ہے کہ اس بیماری کا موثر علاج ممکن ہوسکے گا اور مریضوں کو ان سے فائدہ پہنچے گا جس سے وہ عمر بھر کے لیے بینائی کی محرومی سے بچ سکیں گے،ہمیں بہت خوشی ہے کہ ڈاکٹر ایگور کوزک نے جدید طریقہ علاج سے متعلق اپنے تجربات اور تجاویز حاضرین مجلس تک پہنچائیں۔
The post ذیابیطس آنکھوں کی بینائی بھی ختم کردیتی ہے، ماہرین امراض چشم appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2WbJIpy
Medical News Today: Why pet antibiotics could make their owners sick
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2GLPLvH
Medical News Today: How might obesity affect the brain?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2vrdOtI
Remedy to remove wrinkles naturally
Do you have wrinkles or fine lines on your face under the eyes or around the lip then, you are at the right place. You should use this remedy to remove wrinkles naturally. It is best for anti-aging. The skin start getting loose before it’s aged because the excess use of local skin products damage …
The post Remedy to remove wrinkles naturally appeared first on Life Care Tips.
from Life Care Tips http://bit.ly/2UIlv8Q
DIY mango cream for skin whitening, dark spots and anti-aging
It would be great to have one solution for all of your problems. People having different skin tones suffer from different skin issues like dark spot, acne marks, dark circles or darker complexion. Today, I’m going to share an amazing mango cream for skin whitening, dark spots and anti-aging. It is great cream and you …
The post DIY mango cream for skin whitening, dark spots and anti-aging appeared first on Life Care Tips.
from Life Care Tips http://bit.ly/2VrrSC1
Friday, 26 April 2019
روزہ انسانی قوتِ مدافعت کو توانا کرتا ہے
کراچی: روزہ انسانی قوتِ مدافعت کے نظام کو بہت حد تک توانا کرتا ہے۔ روزہ رکھنے سے وزن میں کمی اور فشارِخون (بلڈ پریشر) بھی معمول پر رہتا ہےٹائپ ٹو زیابیطس کے مریض معالج کے مشورے سے روزہ رکھیں کیونکہ اس مرض میں روزہ رکھنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ زیابطیس کے مریض دوپہر میں شدید تھکادینے والے کاموں سے گریز کریں جبکہ روزہ داروں کوتلی ہوئی اشیا سے مکمل پرہیزکرنا چاہیے۔
یہ بات جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے پوائزن کنٹرول کے قومی مرکز کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر جمال آرا نے جمعہ کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) جامعہ کراچی کے سیمینار روم میں انتالیسویں عوامی آگاہی پروگرام کے تحت ”رمضان اور صحت کے مسائل“ کے موضوع پراپنے خطاب کے دوران کہی۔ لیکچر کا انعقاد ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ ورچؤل ایجوکیشنل پروگرام برائے پاکستان کے باہمی تعاون سے ہوا۔

پروفیسر ڈاکٹر جمال آرا نے کہا کہ روزے کے جہاں فوائد ہیں وہیں پر زیابطیس، گردے اور جگر کے امراض میں مبتلا افراد کو اپنے معالج کے مشورے کے مطابق روزہ رکھنا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بیمار افراد کو تقریباً تین مہینے پہلے اپنے معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر جمال آرا کے مطابق زیابطیس کے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی مرض کی مینجمنٹ کے حوالے سے آگاہی دینی چاہیے۔انھوں نے کہا قرآنی تعلیم کے مطابق بھی بیمار و لاغر افراد، مسافروں، حاملہ خواتین اور خواتین کو اُن کے مخصوص ایّام میں روزہ رکھنا نہیں چاہیے۔
روزہ داروں کے لیے تلی ہوئی روغنی اشیا بہت سے مسائل پیدا کرسکتی ہیں جن سے گریز لازمی ہے۔ تاہم روزہ وزن گھٹانے، برداشت پیدا کرنے، اورزندگی میں نظم وضبط کے لیے نہایت بہترین نسخہ ہے۔ اس ماہِ مقدس میں غذائی نظم وضبط بقیہ مہینے اپنا کر غذائی عادات و اطوار میں مثبت تبدیلی پیدا کی جاسکتی ہے۔
تاہم انہوں نے دوبارہ زور دے کر کہا کہ کہ ذیابیطس کے مریض اگر روزے رکھ رہے ہیں تو اپنے معالج سے ضرور رابطہ کریں اور شوگر لیول پر خاص نظر رکھیں جبکہ ادویات کے استعمال میں بھی احتیاط کریں۔
The post روزہ انسانی قوتِ مدافعت کو توانا کرتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2XQvLhj
Medical News Today: Dry skin around the mouth: Causes and remedies
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2W8tLR1
Medical News Today: Which meals are low in carbs?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2VrUdbs
Medical News Today: What are the benefits of neem?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2vpPwQJ
Medical News Today: What is the best time to take statins and why?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2L62c9S
Medical News Today: What are the health benefits of buckwheat?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2GJAUSI
Medical News Today: What is the GAPS diet? A complete overview
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2GLS2r6
Medical News Today: Scientists confirm blood test could track Alzheimer's disease
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2IZ4Xao
Medical News Today: This neurotransmitter helps aggressive tumors spread
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2XF6S8a
سونگھنے کے اعصاب زبان پر بھی پائے جاتے ہیں
فلاڈیلفیا: انسانوں کی زبان بھی عجائبات سے بھری ہوئی ہے کیونکہ اب زبان پر عین وہی ریسیپٹر اور عضلات دریافت ہوئے ہیں جو ناک میں ہمیں سونگھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس تحقیق سے ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کھانے کی خوشبو اور ذائقہ محسوس کرنے کا عمل پہلے ناک اور دماغ کی بجائے زبان سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔
ہماری ناک میں خوشبو اور بدبو کا احساس دلانے والے خاص قسم کے حساس اجزا (فنکشنل اولفیکٹری ریسپٹرز) پائے جاتے ہیں۔ اب عین یہی ریسپٹرز انسانی زبان پر بھی ملے ہیں۔ اس دریافت سے خوشبو اور ذائقے کے عمل کو نئے سرے سے سمجھنے میں مدد ملے گی۔
فلاڈیلفیا میں واقع مونل انسٹی ٹیوٹ میں خلوی سالمات کے ماہر اور اس تحقیق کے سینئر سائنس داں محمت ہاکان اوزدینیر نے کہا کہ ’ہماری تحقیق واضح کرتی ہے کہ بو کے سالمات کس طرح ذائقے پر اثرانداز ہوتے ہیں، اس تحقیق سے بو محسوس کرنے والے ایسے آلات بنائے جاسکیں گے جو اضافی نمک، چینی اور چکنائی کو محسوس کرکے اس کی زیادتی کو روک سکیں گے‘۔
سائنس دان محمت ہاکان کے مطابق ہماری زبان پر نمکین، مٹھاس، ترشی ، کڑواہٹ اور نمکیات کو محسوس کرنے والے لاتعداد غدود ہوتے ہیں جنہیں ٹیسٹ بڈز کہا جاتا ہے، کھانے کی بو ہمیں کسی شے کو زبان پر رکھنے سے قبل اس کی کیفیت اور معیار سے آگاہ کرتی ہے پھر زبان پر رکھتے ہیں دماغ ذائقے اور بو کو باہم ملاتا ہے جس سے شے کا ذائقہ معلوم ہوتا ہے، اسی وجہ سے اب سونگھنے اور چکھنے کی حِس کو الگ الگ سمجھا جاتا رہا تھا۔
سائنس دانوں نے اس کے لیے ایک خاص طریقہ اپنا اور انسانی زبان میں ذائقہ محسوس کرنے والے خلیات کو ایک تجربہ گاہی ڈش میں پروان چڑھایا تو معلوم ہوا کہ ذائقے والے خلیات میں سونگھنے والے ریسپٹر بھی چھپے ہیں تاہم اب تک ماہرین مکمل طور پر نہیں جانتے کہ اس کی کیا وجہ ہے اور مزید تحقیق سے حیرت انگیز دریافتیں سامنے آسکتی ہیں۔
The post سونگھنے کے اعصاب زبان پر بھی پائے جاتے ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2IWWvbL
Medical News Today: Marijuana users less likely to be overweight, obese
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2ZBv5hG
How to get long, thick and silky hair in 7 days
Mostly, girls work really hardtop get long, thick and shiny hair but, get disappointed. If, you are one of them and wants to stop your hair fall then, you should use this amazing remedy for how to get long, thick and silky hair in 7 days. It’s a magical hair mask that contains some special …
The post How to get long, thick and silky hair in 7 days appeared first on Life Care Tips.
from Life Care Tips http://bit.ly/2UJX1Ml
Medical News Today: Patterns of antibiotic use may predict cardiovascular risk
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2ZD0W19
Only 1 ingredient to remove brown spots in 15 days
The brown spots or pigmentation is common skin problem nowadays. It can be occur due to lack of calcium in a body. The heavy sun rays can damages your skin and cause brown spots so, it is important to apply sunblock when, you go out especially day time. Now, the question is how to remove …
The post Only 1 ingredient to remove brown spots in 15 days appeared first on Life Care Tips.
from Life Care Tips http://bit.ly/2ILqS5x
Medical News Today: Innovative patch may reduce muscle damage after a heart attack
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2Pv2lm1
Thursday, 25 April 2019
ایک سالہ بچوں کیلئے اسکرین ٹائم ’صفر‘ اور 5 سال سے کم کیلئے صرف ایک گھنٹہ، عالمی ادارہ صحت
واشنگٹن: پہلی مرتبہ عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے نومولود سے لے کر پانچ سال سے کم عمر تک کے بچوں کے لیے ٹی وی، ٹیبلٹ اور موبائل فون دیکھنے کی ایک حد مقرر کی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر بچہ 5 سال سے کم ہے تو اسے ایک گھنٹے تک اسکرین دکھایا جاسکتا ہے جبکہ ایک سال سے کم عمر بچے کو سختی سے اسکرین سے دوررکھا جائےناکہ انہیں گھنٹوں کارٹونوں سے بہلایا جائے۔
اقوامِ متحدہ کے تحت عالمی ادارہ برائے صحت امریکی اکادمی برائے اطفال کی ہدایات کی روشنی میں یہ تفصیلات جاری کی ہیں جنہیں اب ایک کانفرنس میں بھی پیش کیا جائے گا۔ اقوامِ متحدہ نے باضابطہ طور پر کہا ہے کہ ایک سال سے کم عمر کےبچوں کی بصارت تشکیل پارہی ہوتی ہے اور اس لیے انہیں ایک منٹ کے لیے بھی ٹی وی یا اسکرین کو دیکھنے نہ دیں جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ اسکرین دکھایا جائے۔ بچے کو چپ کرانے کے لیے بار بار ٹیبلٹ یا فون دینے سے گریز کیا جائے۔
اسی طرح ایک سال سے کم عمر بچوں کو بھرپور نیند بھی ملنی چاہیے۔ ہاں اگر بچے کی عمر ایک سے دو سال ہوجائے تو اسکرین ٹائم ایک گھنٹے سے بھی کم رکھا جائے جبکہ اسے کم ازکم تین گھنٹے کی کوئی جسمانی سرگرمی یا کھیل میں مصروف رکھا جائے۔
لیکن امریکی ماہرین اس سے بھی سخت واقع ہوئے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ 18 ماہ سے کم عمر کے بچوں کو ہرطرح کے اسکرین سے دور رکھا جائے۔
The post ایک سالہ بچوں کیلئے اسکرین ٹائم ’صفر‘ اور 5 سال سے کم کیلئے صرف ایک گھنٹہ، عالمی ادارہ صحت appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2ZAGL43
Medical News Today: Is drinking cold water bad for a person?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2IWR5xs
Medical News Today: How to recognize and treat an infected wound
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2UG2fcf
Medical News Today: What causes dry skin on a baby's face?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2UU7WYW
Medical News Today: What to know about Piaget's stages of cognitive development
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2Gzo6gh
Medical News Today: Could invigorating the immune system prevent lung cancer?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2Zrwx5Y
Medical News Today: Does your tongue have a sense of smell?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2IFWdXr
Medical News Today: This common food additive may fuel weight gain, diabetes
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2IVUTPw
Medical News Today: Study explores the neuroscience of overindulging
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2GwDY3a
Medical News Today: How the brain adapts to hear better after vision loss
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2XIrOLs
Medical News Today: Exercises and stretches for hip pain
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2W5dNHx
Potato eye mask to remove dark circles and wrinkles in 5 days
Dark circles and wrinkles under eyes look so unattractive. If, you have fine lines and dark circles under your eyes and you want to get rid of it then, you should use potato eye marks to remove dark circles naturally at home. It is very easy to make and gives you quick result within 5 …
The post Potato eye mask to remove dark circles and wrinkles in 5 days appeared first on Life Care Tips.
from Life Care Tips http://bit.ly/2UYyY1h
Homemade magical oil for grey white hair
As you age old, the skin start getting old and your hair start converting from black to white well, its natural but, if you have white or grey hair at your young age then, it is a matter of worrying and you have to take action to recover it. There are many reason of having …
The post Homemade magical oil for grey white hair appeared first on Life Care Tips.
from Life Care Tips http://bit.ly/2GvDJoX
Wednesday, 24 April 2019
پھل اور سبزیوں کا استعمال ہارٹ فیل کا خطرہ 41 فیصد تک کم کرتا ہے
سبزیوں، پھلوں، پھلیوں اور مچھلی کا باقاعدگی سے استعمال دل کے امراض بالخصوص جان لیوا ہارٹ فیل کے خطرے کو 41 فیصد تک کم کردیتا ہے۔
اس امر کا انکشاف برطانیہ کے مشہور مایو کلینک کے ماہرین نے ایک طویل سروے کے بعد کیا ہے۔ ڈاکٹروں کا اصرار ہے کہ اگر آپ دل کے جان لیوا دورے سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو گوشت، روغنی کھانے ، میٹھے مشروبات، کولااور فاسٹ فوڈ کو ترک کرکے سبزیوں، پھل، پھلیوں اور مچھلی کھانے کو اپنا شعار بنائیں۔
واضح رہے کہ ہارٹ فیل کی کیفیت میں دل کو خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے اور پوری دنیا میں اس مرض میں خوفناک اضافہ ہورہا ہے اور اب یہ عالمی وبا کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ روچیسٹر میں واقع مایو کلینک کی ماہرِ قلب ڈاکٹر کائلا لارا نے پانچ اقسام کی غذائی عادات یا طریقوں اور دل کے امراض کے درمیان تعلق کا مشاہدہ کیا ہے ۔ اس کےلیے انہوں نے ایسے مریضوں کا انتخاب کیا جو اب دل کے مریض بن چکے ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ جنوبی غذا (سدرن ڈائیٹ) سے دل کے دورے کا خطرہ 72 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جن میں انڈے، فرائیڈ فوڈ، روغنی غذائیں، پروسیس شدہ گوشت اور شکر سے بھرپور مشروبات شامل ہیں۔ اس کے برخلاف پودوں سے حاصل ہونے والی سبزیاں اور پھل دل کے لیے بہتر ثابت ہوتے ہیں اور دل کے امراض کے خطرے کو 41 فیصد کم کرتے ہیں۔
مایو کلینک کے ماہرین نے کہا ہےکہ ہزاروں مریضوں پر تحقیق کے بعد معلوم ہوا ہے کہ تازہ پھل اور سبزیاں اپنے کئی خواص کی بنا پر دل کوکئی امراض سے محفوظ رکھتی ہیں۔ اسی لیے اپنی خوراک میں سبزیوں کا استعمال ضرور بڑھائیں۔
The post پھل اور سبزیوں کا استعمال ہارٹ فیل کا خطرہ 41 فیصد تک کم کرتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2L0luO3
Medical News Today: Is an itchy scalp linked with hair loss?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2UW8NbG
ادویات استعمال کرتے ہوئے احتیاط اور مشورہ لازم
مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ایلو پیتھک ادویات اس صدی کی بہت بڑی دریافت ہیں۔اگرچہ یہ ادویات جلدی اثر کر کے صحت بخشتی ہیں لیکن بیماری کو ختم کرتے کرتے کچھ ایسے اثرات بھی چھوڑ سکتی ہیں جن کا بیماری کے علاج سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان اضافی اور غیر ضروری اثرات کو مضر اثرات (Side Effects) کہتے ہیں۔ تقریباً تمام ایلوپیتھک ادویات کھانے سے مختلف قسم کے مضر اثرات ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
یہ اثرات معمولی نوعیت کے بھی ہو سکتے ہیں اور بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ پرائیویٹ پریکٹس میں ادویات کے اندھا دھند اور غیر ضروری استعمال سے انسانی صحت کو بہت سارے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مختلف قسم کی ایلو پیتھک ادویات ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کی جائیں اور استعمال کے دوران ڈاکٹر کی بتائی ہوئی ہدایات کو پیش نظر رکھا جائے۔ عوام الناس کی آگہی کے لیے اس لکھے گئے مضمون میں مختلف قسم کی ایلوپیتھک ادویات اور اُن کے مضر اثرات کے بارے میں ضروری معلومات دی جا رہی ہے تاکہ اِن کے استعمال کے دوران ہونے والے کسی قسم کے مضر اثرات ہونے کی صورت میں احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اِن پہ قابو پایا جا سکے۔
عام طور پر مضر اثرات ادویات کے کیمیائی اثر سے ہوتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ادویات ایسی ہیں جن کے اثرات معمولی نوعیت کی تکلیف کا سبب بنتے ہیں لیکن بعض دفعہ کوئی ایک مضر اثر خطرناک حدتک پہنچ جاتا ہے اور اگر بروقت اس کا تدارک نہ کیا جائے تو موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے کہ کسی دواکے تمام کے تمام مضر اثرات ایک ہی مریض میں ظاہر نہیں ہوتے۔ کچھ مریضوں میں ایک طرح کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں تو دوسرے مریضوں میں دوسری طرح کے۔ بعض مریضوں میں ایسے مضر اثرات سرے سے نمودار ہی نہیں ہوتے۔ ان اثرات کے ظاہر ہونے کی الگ الگ وجوہات ہوتی ہیں جو مریض کی جنس، عمر، وزن، خوراک، دوا کی مقدار اور بیماری کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہیں۔ بعض دفعہ دوا کی مقررہ مقدار سے زیادہ خوراک لینے سے بھی مضر اثرات ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر دوا کے ساتھ کھانے پینے کے بارے میں بتائی گئی ہدایات پر عمل نہ کیا جائے تو بھی مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔
آپ جب بھی کوئی دوا اکیلی یا دوسری ادویات کے ساتھ استعمال کر رہے ہوں تو ڈاکٹر سے ان کے ممکنہ مضر اثرات اور احتیاط کے بارے میں ضرور پوچھ لیں۔ بعض اوقات صرف دوا کی خوراک بدلنے یا اسے کھانے کے ساتھ لینے سے بھی مضر اثرات سے بچا جا سکتا ہے؛ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر ڈاکٹر کسی اور طریقے سے ان اثرات کو ختم یا کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
سات حفاظتی تدابیر:
-1دوا ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورہ سے لیں، نسخہ کے مطابق استعمال کریں اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں۔
-2دوا لیتے وقت ڈاکٹر سے اس کے ممکنہ مضر اثرات کے بارے میں ضرور پوچھ لیں تا کہ آپ کو غیر ضروری پریشانی نہ ہو۔ عام طور پر ادویات کی پیکنگ کے اوپر یا اس کے اندر ایک کاغذ پر اس طرح کے مضر اثرات کی تفصیل اور دوسری معلومات لکھی ہوتی ہیں۔
-3یاد رکھیں اگر آپ حاملہ ہیں، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس (شوگر) یا کسی اور پرانی بیماری کی مریضہ ہیں تو کوئی دوا کھانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔
-4اگر آپ کو کسی دوا سے الرجی ہے تو ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔
-5اگر دوا لیتے وقت یا اس کے فوراً بعد آپ کی طبیعت خراب ہونے لگے تو مزید دوا نہ لیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
-6مختلف ادویات کو آپس میں نہ ملائیں۔ اگر آپ ایک سے زیادہ ادویات استعمال کر رہے ہوں، چاہے وہ اسپرین (Aspirin) یا تیزابیت دور کرنے والی دوا (Antacid) ہی کیوں نہ ہو، ڈاکٹر کو اس کے بارے میں بھی ضرور بتائیں۔ دواؤں کو الکحل کے ساتھ کبھی استعمال نہ کریں۔
-7دوا کو ڈاکٹر کی تجویز کردہ مدت تک کھائیں۔ اپنی مرضی سے اس مدت میں کمی بیشی نہ کریں۔
بچوں کے لیے ادویات کا استعمال:
بچوں کے معاملہ میں ادویات کے استعمال میں اور بھی زیادہ توجہ اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑوں کے برعکس، مختلف عمر کے بچوں کیلئے دوا کی خوراک مختلف ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض ایسی ادویات جو بڑوں کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں، بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ مثلاً اسپرین (Aspirin)کا استعمال بچوں میں جگر کی بیماریوں اور دماغی امراض کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے بچوں کو اسپرین کبھی نہ دیں۔ اسی طرح 10 سال سے کم عمر کے بچوں کو اگر ٹیڑا سائیکلین (Tetracycline) دی جائے تو ان کے دانت پیلے ہو جاتے ہیں اور ان کی ہڈیوں کی نشوونما بھی رک جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو مختلف ادویات دیتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
٭ تمام ادویات کو ہمیشہ بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔
٭ دوا ہمیشہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ خوراک و مقدار کے مطابق دیں۔
٭ بچوں کو دوا ہمیشہ اپنی موجودگی میں دیں ورنہ وہ زیادہ مقدار میں خوراک لے سکتے ہیں۔
٭ بچوں کو میٹھی یا شوخ رنگوں والی دوا کبھی مٹھائی یا جوس کہہ کر نہ پلائیں بلکہ دوا ہی بتا کر دیں۔
اسہال یا ڈائریا (Diarrhoea) میں ادویات کا استعمال:
جب دن میں تین یا تین سے زیادہ پتلے پاخانے آئیں تو اسے اسہال یا ڈائریا (Diarrhoea) کہتے ہیں۔ ہر سال بہت سے بچے ڈائریا کے نتیجے میں جسم میں پانی اور نمکیات کے ساتھ ساتھ غذائیت کی کمی سے مر جاتے ہیں۔
اچانک ہونے والا ڈائریا تو چند دنوں میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے ڈائریا روکنے والی مختلف ادویات اور اینٹی بائیوٹکس (Antibiotics) لینے کا بالکل کوئی فائدہ نہیں۔ تحقیق سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈائریا میں ادویات کا استعمال بالکل غیر ضروری ہے۔ بلکہ ڈائریا روکنے والی ایک مشہور دوا سے کئی بچوں کی اموات بھی واقع ہوئیں۔ اس صورت میں ادویات استعمال کرنے سے پیسے ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ مریض کو نقصان پہنچنے کا بھی امکان ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی انفیکشن کی وجہ سے ڈائریا ہو تو پھر اس انفیکشن کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
اچانک ہونے والے ڈائریا کے زیادہ تر مریضوں کو کافی مقدار میں جوس، نمکول (ORS)، پانی اور سوپ وغیرہ دینا فائدہ مند ہے۔ صرف چند مریض ایسے ہوتے ہیں جنھیں پانی اور نمکیات کی شدید کمی اور نہ رُکنے والی بہت زیادہ قے کی صورت میں ہسپتال داخل کرانے کی اشدضرورت ہوتی ہے، جہاں ان کے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی کو ڈرپ کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔
جب آپ کے بچے کو ڈائریا ہو جائے تو اسے پینے والی چیزیں زیادہ دیں۔ دودھ پلانا جاری رکھیں اور اسے ابلا ہوا پانی، نمکول (ORS) اور ہلکی غذا دیں۔ ڈائریا کے ذریعہ جو پانی خارج ہو رہا ہے اس سے زیادہ بچے کو منہ کے ذریعے دینا چاہیے۔ اگر پانی اور نمکیات کی کمی پوری ہوتی رہے تو پھر ڈائریا سے کسی قسم کے فوری نقصان کا خطرہ نہیں رہ جاتا۔
حمل کے دوران ادویات کا استعمال:
حمل کے دوران کسی بھی مرحلے پر ادویات استعمال کرنے سے ہونے والے بچے پر ان کے نقصان دہ اثرات پڑ سکتے ہیں۔ آسانی کے لیے حمل کی مدت کو 3 برابر مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
٭پہلی سہ ماہی: پہلے تین ماہ
٭دوسری سہ ماہی:چوتھے ماہ سے چھٹے ماہ تک
٭تیسری سہ ماہی:ساتویں ماہ سے نویں ماہ تک
پہلی سہ ماہی کے دوران ادویات کا استعمال بچوں میں کوئی پیدائشی نقص پیدا کر سکتا ہے۔ حمل کے شروع کے 3 سے 11 ہفتوں کے دوران بچے کو نقصان پہنچنے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ دوسری اور تیسری سہ ماہی کے دوران دواؤں کے استعمال سے بچے کی نشوو نما رک سکتی ہے یا پھراس کے جسم پر ادویات کے زہریلے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں۔ حمل کے آخری دنوں یا زچگی کے دوران لی گئی ادویات کا مضر اثر بچے پر پیدائش کے بعد بھی ظاہرہو سکتا ہے۔ حمل کے دوران صرف اسی صورت میں دوا استعمال کریں جب آپ کو پورا یقین ہو جائے کہ اس سے ماں یا بچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اگر ممکن ہو تو پہلی سہ ماہی کے دوران کسی قسم کی دوا استعمال نہ کریں۔
رضاعت (Lactation) کے دوران ادویات کا استعمال:
رضاعت وہ مدت ہے جس کے دوران ماں بچے کو اپنا دودھ پلاتی ہے۔
دودھ پلانے والی ماؤں کو ادویات استعمال کرنے کے معاملہ میں بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کیوں کہ بہت سی ادویات ماں کے دودھ میں شامل ہو کر بچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
اگر ماں کے لیے دوا استعمال کرنا لازمی ہو اور دوا بھی کسی حد تک محفوظ ہو تو اسے دودھ پلانے کے تقریباً ایک گھنٹہ بعد اور دوبارہ دودھ پلانے سے تین گھنٹے پہلے استعمال کرنا چاہیے۔
ایسی ادویات جن کے دودھ پینے والے بچوں پر ہونے والے اثرات کے بارے میں تحقیق مکمل نہیں ہوئی انہیں استعمال کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ آپ کو یہ مشورہ ڈاکٹر ہی دے سکتا ہے، اس لیے کوئی بھی دوا استعمال کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ بے حد ضروری ہے۔ ماں کے دودھ کے ذریعے بچے پر اثر انداز ہونے والی چند مشہور ادویات میں کلورم فینی کال (Chloramphenicol) ڈائزی پام (Diazepam)، مارفین (Morphine)، ایسٹروجن (Oestrogen) وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
اپنی مرضی سے ادویات استعمال کرنے کے نقصانات :
ڈاکٹر کے مشورہ کے بغیر اور اپنی مرضی سے ادویات استعمال کرنا صحت کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ ان ادویات کے مضر اثرات سے زندگی کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اسپرین (Aspirin) کا زیادہ استعمال کرنے سے معدے کا السر ہو سکتا ہے۔ پینسلین اور مختلف قسم کی اینٹی بائیوٹک ادویات کی وجہ سے ہونے والے صدمہ (Shock) سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اسی طرح یرقان اور گردے کی پتھری ہونے کی ایک وجہ اپنی مرضی سے ادویات لینا بھی ہو سکتا ہے۔ مختلف قسم کی ادویات کے غیر ضروری استعمال سے سب سے زیادہ جگر متاثر ہوتا ہے۔ کیونکہ جگر انسانی جسم کی بائیو کیمیکل لیبارٹری کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خود سے ادویات استعمال کرنے سے پرہیز کیا جائے اور مختلف بیماریوں کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات کا استعمال کیا جائے۔
اس کے علاوہ اپنی مرضی سے ادویات استعمال کرنے سے مریض ان کا عادی ہو جاتا ہے۔ شروع میں درد یا پریشانی دور کرنے کیلئے اپنے طور پر ہی کوئی نہ کوئی دوا مسلسل لی جاتی ہے۔ اس کے بعد جسم اس دوا کا عادی ہو جاتا ہے اور آخر کار انجام یہ ہوتا ہے کہ اس کے بغیر زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے جیسا کہ ہیروئین کے نشہ میں ہوتا ہے۔ اینٹی بائیوٹکس (Antibiotics)، سٹیرائیڈز (Steroids)، سکون آور دواؤں (Tranquillisers) کا بغیر سوچے سمجھے اور غیر ضروری استعمال جو معمولی امراض کیلئے کیا جائے بہت ہی خطرناک ہے۔ اس عادت سے وقتی طور پر آرام ضرور محسوس ہوتا ہے لیکن بعد میں زندگی بھر کیلئے پریشانی کا باعث بن جاتاہے۔ ان ادویات کے مسلسل استعمال سے گردے، جگر اور جسم کے دوسرے اعضا کو نقصان پہنچنا شروع ہو جاتا ہے۔ ان تمام نقصانات سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ دوا ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورہ کے بعدلیں۔
The post ادویات استعمال کرتے ہوئے احتیاط اور مشورہ لازم appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2GybIxf
پروسٹیٹ گلینڈ کی سوزش سے بچاؤ کے فطری طریقے
انسانی زندگی کو عام طور پر تین بڑے ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے، بچپن،جوانی اور بڑھاپا۔ان ادوار کے بدنی مسائل،غذائی ضروریات اور معمولات کی نوعیت بھی جداہوتی ہے جبکہ بیماریاں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ ہاں ایک حقیقت جس سے طبی نقطہ نظر سے انکار ممکن نہیں کہ بچپن اور بڑھاپے میں ایک قدر مشترک ہے، وہ ہے کمزوری۔ بچپن میں بچے کی قوتِ مدافعت کمزور ہوتی ہے، بڑھاپے میں بھی جسمانی اعضاء کی کارکردگی میں ضعف واقع ہونے سے بیماریوں کے خلا ف قوتِ مدافعت کمزور پڑجاتی ہے۔
بچے اور بوڑھے کی زندگی کے مابین ایک واضح فرق یہ ہوتا ہے کہ بچے کو والدین انتہائی توجہ،تحفظ اور پیار دیتے ہیں جبکہ بوڑھے افراد اکثر بے توجہی اور اولاد کی لا پرواہی کا شکار ہونے کی وجہ سے امراض کے نرغے میں زیادہ پھنستے ہیں حالانکہ بزرگوں کی صحت بھی بچوں کی طرح ہی توجہ،تحفظ اور بہتر نگہداشت کی متقاضی ہو تی ہے۔ بڑھاپا تو بذاتِ خود ایک بہت بڑا مرض ہے، جب اس سے بے توجہی برتی جائے تو بڑھاپے سے جڑے دیگر عوارض اس کی شدت میں مزید اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ یوں تو بڑھاپے میں کئی ایک امراض بڑی شدت سے حملہ آور ہوتے ہیں ان میں جسمانی کمزوری،عضلاتی و اعصابی کمزوری، ضعفِ بصارت وسماعت،امراضِ قلب و گردہ،دماغی مراض اور بلڈ پریشر وغیرہ شامل ہیں۔
بوڑھے افراد کے امراض میں سب سے زیادہ اذیت ناک اور تکلیف دہ بیماری غدہ قدامیہ(پروسٹیٹ گلینڈ) کی سوزش یا عظمِ غدہ قدا میہ ہے۔ یہ دورِ جدید کا ایک کثیر الوقوع اور صرف مردوں کا مرض ہے۔دنیا کے ہر خطے میں یکساں طور پایا جاتا ہے،عام طور پر 50 سال کی عمر کے بعد سامنے آتا ہے۔ایسے افراد جو صحت کے حوالے سے بے احتیاطی اور لا پرواہی کے مرتکب ہوتے ہیں انہیں یہ مرض40 سال کے بعد لاحق ہونے کے خطرات موجود ہوتے ہیں۔اسے تکلیف دہ اس لیے بھی سمجھا جاتا ہے کہ یہ بوڑھے اور ضعیف افراد کا مرض ہے جبکہ ضعیف افراد تو پہلے ہی انحطاط پزیر ہوتے ہیں، قوتِ مدافعت کمزور پڑجانے سے ان میں بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی سکت بہت کم رہ جاتی ہے۔
عظمِ غدہ قدامیہ کے اسباب
یہ غدود مثانے کے منہ پر پایا جاتا ہے اور پیشاب کی نالی اس میں سے گزرتی ہے۔جب یہ غدود بڑھتا ہے تو پیشاب کی نالی پر دباؤ پڑ جاتا ہے جس سے پیشاب آنے میں رکاوٹ پیدا ہونے لگتی ہے۔غدہ قدامیہ کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ مردانہ ہارمونز کی افزائش میں بتدریج کمی ہوتی ہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ وقوع پزیر ہوتی ہے۔مائکرو سکوپی کے ذریعے تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ پراسٹیٹ گلینڈکے اندرونی حصہ کے خلیات کا سائز بڑھ جاتا ہے،اور غدود کی فائبرس مسکولر بافتوں کی ساخت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔غدہ قدامیہ کے بڑھنے سے پیشاب کی نالی کی ساخت میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے جس سے پیشاب کے اخراج میں رکاوٹ اورتنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ پیشاب پوری طرح سے خارج نہ ہونے کی وجہ سے مثانہ بھرا بھرا سا رہتا ہے جس سے مثانہ اور گردے متاثر ہوتے ہیں۔
طب قدیم کی رو سے غدہ قدامیہ کی سوزش کے اسباب میں بوڑھے افراد کو ٹھنڈ لگ جانا،پیشاب کو زیادہ دیر تک روکے رکھنا، بدہضمی، تیزابیت، تبخیر، قبض اور بعض بخاروں کا شدید حملہ شامل ہیں۔آج کل ادھیڑ عمر افراد میں بھی غدہ قدامیہ کی سوزش سامنے آرہی ہے۔ایسے افراد جو جنسی عمل میں بہت زیادتی کا مرتکب ہوتے ہیںانھیں اس پریشانی سے پالا پڑسکتا ہے۔
علامات
پیشاب کی شدید رکاوٹ اچانک غدود کے بڑھنے سے ہوتی ہے۔اس کی وجہ غدود کی انفیکشن اور سوزش ہوتا ہے۔مریض کو پیشاب کی حاجت ہوتی ہے لیکن وہ اسے خارج کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔مثانہ پیشاب سے بھرجاتا ہے اور اس میں سخت کھچاؤ اور شدید درد ہوتا ہے۔عام طور پر پیشاب میں خون کی آمیزش ہوتی ہے۔غدہ قدامیہ کی سوزش کی علامات میں دو پہلو زیرِ غور رہنے چاہئیں۔ اول: مریض کو پیشاب کی شدید حاجت ہوتی ہے لیکن جب وہ پیشاب کرنے لگتا ہے تو پیشاب خارج نہیں ہوتا اور اسے پیشاب کے اخراج کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔پیشاب کی دھار بھی بہت کمزور ہوتی ہے۔دوم: مریض کو پیشاب کی حاجت بار بار ہوتی ہے۔ایسی حالت میں پیشاب تھوڑا تھوڑا اور با ر بار آتا ہے ۔بعض اوقات پیشاب آنے کا درمیانی وقفہ صرف پانچ یا دس منٹ تک ہوتا ہے۔
تشخیص
اس مرض کی تشخیص میں علامات کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور معالج علامات کو مدِ نظر رکھ کر ہی تشخیص کر تاہے۔ پروسٹیٹ کی انفیکشن کی تشخیص کا سب سے بڑا ذریعہ تو پیشاب کی رکاوٹ ہی ہوتی ہے لیکن بسا اوقات یہ علامت کافی نہیںسمجھی جاتی یا یہ مرض کی پوری کیفیت کو ظاہر نہیں کر پاتی۔ تاہم تشخیصی نظام کی جدید ایجادات الٹرا سونو گرافی اور سسٹو سکوپی سے اس مرض کی تشخیص میں کافی مدد لی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مقعد کے ذریعے امتحان بھی تشخیص میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر مزید تشخیص درکار ہو تو ہڈیوں کا سکین، ایکسرے LFT وغیرہ Test کروانے سے مرض کی تشخیص میں آسانی ہوجاتی ہے۔
نیچرو پیتھی علاج
طبِ قدیم غدہ قدامیہ کی سوزش کا مکمل،شافی اور کامیاب علاج موجو دہے۔ وقتی افاقہ کے لییِ کیسو کے پھولوں کو پانی میں پکا کر بیرونی طور پر ٹکور کرنے سے فوری آرام ملتا ہے۔ اسی طرح تمباکو کو پانی میں ابال کر نیم گرم باندھنے سے بھی فوری طور پر درد سے نجات حاصل ہوتی ہے۔ گلِ بنفشہ5 گرام، بادیاں5گرام ،جڑ کاسنی5گرام ،مکو خشک 5 گرام،بیج قرطم5 گرام،خطمی5 گرام اور منقیٰ 9 عددکو ایک پاؤپانی میںپکا کر چھان لیں۔ دن میں دو بار شربتِ بزوری کے چار چمچ ملا کر استعمال کریں۔سماق دانہ کو باریک پیس کر ہموزن مصری ملا کر نہار منہ 5 گرام کی خوراک دینے سے بھی مرض کی شدت میں کمی واقع ہوتی ہے۔علاوہ ازیں بازار میں دستیاب ادویات بھی کمال نتائج کی حامل ہیں۔عرقِ مکو ،عرقِ کاسنی وغیرہ بھی بہترین نتائج کی حامل ادویات ہیں۔
جدیدعلاج
جدید طب میں غدود کے سائز کو کم کرنے کے لیے الفا بلاکرز ڈرگز دی جاتی ہیں۔یہ ایسی ادویات ہوتی ہیں جنہیں مسلسل استعمال کیا جائے تو افاقہ ، دوا چھوڑتے ہی مرض دوبارہ ظاہر ہو کر تکلیف کا باعث بن جاتا ہے۔علاوہ ازیںان ادویات کے ذیلی اور ما بعد اثرات بھی ہوتے ہیں۔جیسے بلڈ پریشر اور سر چکرانا۔ جدید طب میں اس کا سب سے اچھا اور آسان حلTUR ہے۔اس سے پیشاب کی رکاوٹ فوری دور ہوجاتی ہے۔اس آپریشن کو عام طور پر چھوٹے آپریشنز میں شمار کیا جاتا ہے جس سے مریض جلد ہی صحت یاب ہوجاتا ہے لیکن مرض کے دوبارہ حملہ آور ہونے کے امکانات بہر حال موجود رہتے ہیں۔دھیان رہے کہ اس مرض سے بے توجہی برتی جائے تو مرض شدت اختیار کرکے کینسر کے مراحل میں بھی داخل ہوسکتا ہے۔لہٰذا مرض کی ہلکی سی علامت ظاہر ہونے پر ہی اس کے علاج پر بھرپور توجہ دی جانی چاہیے تاکہ بعد ازاں کسی بھی خطرناک صورتِ حال سے بچا جاسکے۔
پرہیز
دورانِ مرض مریض کو چاہیے کہ مکمل طور پر آرام و سکون کرے۔جسمانی حرکات و سکنات سے باز رہے۔وظیفہ زوجیت کی ادائیگی سے بھی دور رہے۔چاہے،کولا مشروبات، شراب، گوشت، تیز مصالحہ جات،سرخ مرچ، چاول، گوبھی، بینگن، چکنائیاں،مٹھائیاں،ترش اور بادی اشیا کے استعمال سے مکمل پرہیز کیا جائے۔پیشاب آور مشروبات، پھلوں کے جوس وغیرہ کثرت سے استعمال کیے جائیں۔حفظ ما تقدم کے طور پر بچاؤ کے لیے’’سدا بہار جوانی‘‘ اور مخصوص لمحات سے محظوظ ہونے کے نسخوں سے بہر صورت دور رہا جائے۔طاقت بڑھانے کے شوقیہ فارمولوں سے بھی پرہیز کیا جائے۔مرغن اور تلی ہوئی غذاؤں سے بھی اجتناب کیا جائے۔حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل پیرا ہوکر روزانہ صبح کی سیر تواتر سے کی جائے۔ہم وثوق سے کہتے ہیں کہ آپ اس اذیت ناک مرض سے محفوظ رہنے میں کامیاب ہوںگے۔ n
حکیم نیاز احمد ڈیال
niazdayal@gmail.com
www.hkniaz.com
The post پروسٹیٹ گلینڈ کی سوزش سے بچاؤ کے فطری طریقے appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2USjA6F
Medical News Today: Hair breakage: 10 causes and ways to repair
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2DyS3wf
Medical News Today: How to recognize the early signs of lupus
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2Zp4Vym
Medical News Today: Best ways to remove facial hair at home
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2vkRsK9
Medical News Today: Best ways to remove upper lip hair
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2PrnNs6
Medical News Today: Study reveals how general anesthetics affect the brain
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2DrDLxB
Medical News Today: What to know about diabetic shock
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2UBJVkc
Medical News Today: Ginkgo seeds may help keep skin blemish-free, but there's a catch
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2ICph25
Medical News Today: How ketamine can change the brain to fight depression
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2DvQi30
Medical News Today: Using small molecules to regenerate heart tissue
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2vgKWnK
Tuesday, 23 April 2019
الرجی کے مریضوں کو ہنگامی حالت میں دوا فراہم کرنے والی ٹیکہ گھڑی
نیویارک: الرجی کے بعض مریضوں کو کسی بھی وقت ٹیکے کی ضرورت پڑتی ہے جو ان کی جان بچاتا ہے۔ اب اس ٹیکے کو تھری ڈی پرنٹر سے تیار ایک گھڑی نما آلے میں سمویا گیا ہے تاکہ وقت پڑنے پر فوری طور پر دوا کو جسم میں داخل کیا جاسکے۔
رائس یونیورسٹی میں بایو انجینیئرنگ کے طالبعلم جسٹن ٹینگ خود مونگ پھلی کی الرجی کے شکار ہیں۔ اس سے بچاؤ کے لیے وہ بھاری بھرکم سامان اٹھائے پھرتےہیں جس میں انجیکشن اور اس کی خوراک موجود ہوتی ہے۔
اگرچہ اس کے جواب میں ایپی پین بنائے گئے ہیں جو بہت مہنگے ہیں اور اسی کمی کو دیکھتے ہوئے جسٹن نے ایپی ویئر ڈیزائن کیا ہے۔ یہ گھڑی نما نظام تین تہوں پر مشتمل ہے جسے کلائی پر باندھ کر کہیں بھی گھوما جاسکتا ہے۔ اسطرح کسی الرجی کے ایسے مریض کی مدد مل جاتی ہے جسے فوری طور پر مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
گھڑی میں ٹیکہ اسپرنگ کے ذریعے کام کرتا ہےجو الرجی کی صورت میں جسم میں انجیکشن کے ذریعے خوراک شامل کردیتا ہے۔ ایپی ویئرکے ذریعے ایک وقت میں 0.3 ملی لیٹر ایپی نیفرائن دوا جسم کے اندر جاتی ہے جبکہ گھڑی کو مزید خوراک سے بھی بھراجاسکتا ہے۔
یہ آلہ الرجی کی شدید کیفیت میں مبتلا ایسے لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جنہیں کسی بھی وقت انجیکشن کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ کھلنے پر ایپی ویئر روایتی پین کی طرح لمبا ہوجاتا ہے اور سیفٹی لیور دباتے ہی اسپرنگ نیچے جاتا ہے اور یوں سرنج ران میں پیوست ہوکر دوا خارج کرتی ہے۔ ایپی ویئر میں لیور اور اسپرنگ کو الگ الگ رکھا گیا ہے اور اس طرح غلطی سے لیور دبنے پر بھی انجیکشن فعال نہیں ہوتا۔ اگلے مرحلے پر لیور بٹن کو ڈھانپنے والا ایک حفاظتی نظام بھی بنایا جارہا ہے۔
The post الرجی کے مریضوں کو ہنگامی حالت میں دوا فراہم کرنے والی ٹیکہ گھڑی appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2vpgibH
قومی ادارہ اطفال صحت کراچی میں پیچیدہ آپریشن کامیاب، ڈیڑھ سالہ بچی کی جان بچ گئی
کراچی: قومی ادارہ برائے اطفال صحت میں ملک کی تاریخ میں انتہائی پیچیدہ اوراپنی نوعیت کی پہلی منفرد سرجری کرکے ڈھائی سالہ بے بی کی جان بچالی۔
بے بی عریشہ کی پیدائشی طورپر جگر کی نالی خراب تھی جس کی وجہ سے پیٹ میں شدید درد رہتا تھا اورتڑپتی رہتی تھی ، مختلف اسپتالوں میں دھکے کھانے کے بعد والد اپنی بچی کو قومی ادارہ برائے اطفال صحت (این آئی سی ایچ) لائے جہاں ڈاکٹروں نے مختلف طبی ٹیسٹوں اور الٹراساؤنڈ سے معلوم چلایا کہ بچی کے جگرکی نالی شدید متاثر ہوچکی ہے جس کی وجہ سے بے بی کو پیٹ میں شدید درد اور پیلیاکی شکایت رہتی تھی۔
اسپتال کے سربراہ پروفیسر جمال رضانے انتہائی پیچیدہ سرجری کرنے کیلیے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور بچوں کے سرجن ڈاکٹرمحمد انورکی سربراہی میں بچوں کے ماہرین سرجنز پر مشتمل میڈیکل ٹیم تشکیل دی جس میں ڈاکٹر ساجد، ڈاکٹر بصیر، ڈاکٹر ولی اللہ ڈاکٹر ایم ساجد سمیت نیم طبی عملہ بھی شال تھا۔
بے بی ماہراین ستھسیا نے بے ہوش کرنے کے فرائض انجام دیے، 6 گھنٹے کے دوران کی جانیو الی کامیاب سرجری میں جگر کی خراب نالی کو نکالا گیا اور بے بی کی آنت کاٹ کرجگر میں نالی کی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ) کی گئی جس کے بعد بے بی بتدریج صحت مند ہوئی اورگزشتہ روز اسپتال سے گھر جانے کی اجازت دیدی گئی۔
طبی زبان میں اس مرض کو Choledochal کہاجاتا ہے جو پاکستان میں پہلی بار لیپرواسکوپک تیکنیک کی مدد سے کامیاب سرجری کی گئی،ادارے کے سربراہ پروفیسر جمال رضا نے کامیاب سرجری پر ڈاکٹر انور سمیت ٹیم کو مبارکباد دی ہے۔
کٹی پہاڑی کے رہائش بے بی کے والد عمرزیب کی ڈھائی سالہ بے بی عریشا جو پیدائشی طورپر جگر اور جگر کی نالی کی خرابی کی وجہ سے انتہائی تکلیف می رہتی تھی مختلف سرکاری ونجی اسپتالوں میں دھکے کھانے کے بعد 4اپریل کوقومی اداہ اطفال برائے صحت میں لائی گئی جہاں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد انور نے معائنہ کیا اور ضروری ٹیسٹ تجویز کیے ایک ہفتے بعد دوبارہ بچی کو اسپتال لایاگیاتھا۔
رپورٹس درست نہ آنے پر بچی کو اسپتال میں داخل کرلیاگیا جہاں ماہرین صحت نے بچی کی رپورٹس کے بعد جگرکی نالی کو انتہائی پیچیدہ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا، بچی کی آنت کاٹ کر پہلی بار جگر کی نالی بنائی گئی جوبے بی عریشا کوکامیابی کے ساتھ لگادی گئی۔
ایسوسی ایٹ پروفیسر اور بچوں کے سرجن ڈاکٹر محمد انور نے ایکسپریس کو بتایا کہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا منفردکامیاب آپریشن کیاگیا انتہائی پیچیدہ آپریشن تھا جس میں 6گھنٹے لگے اور کوشش کی گئی تھی کہ عریشہ کا جگر متاثر نہ ہو، اس میں لیپرواسکوپک تیکنیک استعمال کی گئی تھی جس میں بے بی کا پیٹ اوپن کیے بغیر سرجری کی گئی، بچی کے پیٹ میں عمولی نوعیت کے تین سوراخ کرکے کیمرے کی مدد سے خراب نالی کو نکالا گیا اور آنت کاٹ کرکے نئی نالی بے بی کے جگر میںکامیابی کے ساتھ ڈالی گئی اور اس طرح بے بی کے جگرکو بھی بچالیاگیا۔
اس پیچیدہ سرجری کے حوالے سے اسپتال کے سربراہ پررفیسر جمال رضا کا کہنا تھا کہ این آئی سی ایچ میں بچوںکے ماہرسرجنز کی فیکلٹی موجود ہے ، ہمارے اسپتال میں بچوں کے انتہائی پیچیدہ نوعیت کے کیسسز رپورٹ ہوتے ہیں جو ہم اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے کررہے ہیں۔
عریشہ کے والد عمر زیب نے ایکسپریس کو بتایا کہ میں گارمنٹ فیکٹری میںکام کرتا ہواورمیری بیٹی پیدائشی کے بعد مسلسل روتی تھی، مختلف ڈاکٹروں کے پاس علاج کی غرض سے جاتے رہے، وقتی آرام آجاتا تھا تاہم گزشہ ماہ سے میری بیٹی پیٹ کے درد میں تڑپتی تھی جس پرسول اسپتال، عباسی اسپتال بھی رجوع کیا لیکن سب نے قومی ادارہ اطفال برائے صحت میں جانے کا مشورہ دیا جس کے بعد این آئی سی ایچ رابطہ کیا،آپریشن کے بعد اب میری بچی صحت مند ہے اور اس نے کھانا پینا بھی شروع کردیا ہے ۔
The post قومی ادارہ اطفال صحت کراچی میں پیچیدہ آپریشن کامیاب، ڈیڑھ سالہ بچی کی جان بچ گئی appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2DwqhR1
Medical News Today: Is this chest pain from GERD or a heart attack?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2VeTzOr
Medical News Today: How is the pancreas involved in diabetes?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2GtVFjT
Medical News Today: What is a chocolate cyst?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2PrU2ap
Medical News Today: What to know about hair follicle drug tests
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2KYDqbY
Medical News Today: Is it safe to mix Flagyl and alcohol?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2vj8kRv
Medical News Today: Can a blood pressure drug protect the brain from Parkinson's?
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2UvDsrj
Medical News Today: Cancer: Highly personalized therapy can improve outcomes
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2IQVaDb
Medical News Today: Plant-based diet cuts heart failure risk by over 40 percent
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2IQNWz3
تیزی سے سیکھنے والے تیز رفتار نیورون کے مالک ہوتے ہیں
سنگاپور: جس رفتار سے کوئی بھی شخص معلومات حاصل کرتا، سمجھتا اور پروسیس کرکے اسے جمع کرنے کے بعد استعمال کرتا ہے تو اس کا انحصار دماغی اعصابی خلیات (نیورون) کی فائرنگ پر ہوتا ہے۔
یعنی دماغ سے ایک نیورون کے بعد دوسرے نیورون کے خارج ہونے میں وقفہ جتنا کم ہوگا اسی رفتار سے دماغ میں معلومات وصول، محفوظ، پروسیس اور اسے استعمال کرنے کا عمل تیز ہوگا۔ بآلفاظ دیگر فوری اور بروقت سوچنے کے عمل میں نیورون فائر ہونے کا وقت بہت اہمیت رکھتا ہے۔
یہ اہم تحقیق یادداشت اور حافظے کے عمل کو سمجھنے میں نہایت اہم تصور کی جارہی ہے۔ نیورون یعنی دماغی خلیات طبعی طور پر جن تاروں سے جڑے ہوتے ہیں انہیں سائناپسِس کہا جاتا ہے اور اسی کی بدولت آپس میں معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔
سنگاپور میں واقع این یو ایس یونگ لو لِن اسکول آف میڈیسن کے ماہرین نے انسانی دماغ میں یادداشت کے مرکز ہیپو کیمپس کا بغور جائزہ لیا ہے۔
ماہرین نے سمجھنے اور سیکھنے کے ایک اہم دماغی مکینزم ’اسپائک ٹائمنگ ڈپینڈنٹ پلاسٹی سِٹی (ایس ٹی ڈی پی)‘ کو آزمایا جس میں ایک نیورون سے دوسرے نیورون کے درمیان سگنل یا رابطے کو دیکھا جاتا ہے۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ دو نیورون کے درمیان سگنل کے تبادلے کا وقت جتنا کم تھا معلومات نیورون میں معلومات اتنی ہی دیرپا اور مضبوط دیکھی گئی۔
عصبی سائنس دانوں کے ماہرین نے ایک جانب تو یہ بتایا ہے کہ قدرتی طور پر تیز رفتاری سے سیکھنے والے افراد کے دماغ میں عصبی رابطے بہت تیز ہوتے ہیں۔ عین اسی تحقیق کو دیکھتے ہوئے انسانی دماغ کی طرز پر کام کرنے والے نیورل نیٹ ورک اور مصنوعی ذہانت کے نظام کو بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
The post تیزی سے سیکھنے والے تیز رفتار نیورون کے مالک ہوتے ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2GxDWYG
Medical News Today: Study identifies a hormone that may hinder weight loss
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2Dx5Bsd
Medical News Today: Using stem cells to combat osteoarthritis
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2GzfN4m
Multani mitti mask for fair and glowing skin
Fair and glowing skin is need of almost every girl nowadays. You can use whitening products to get artificial fairness for short period of time but, for lifetime fair skin, you need to work hard for it. It is necessary to use as less as makeup you can because, the more you make your skin …
The post Multani mitti mask for fair and glowing skin appeared first on Life Care Tips.
from Life Care Tips http://bit.ly/2Zs4QtT
Monday, 22 April 2019
ذیابیطس پر کنٹرول، صحت مند گردوں کی ضمانت
سڈنی آسٹریلیا: ایک عالمی سروے رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ دنیا بھر میں گردوں کے مریضوں کی تعداد بڑھنےکی ایک بڑی وجہ ذیابیطس اور موٹاپے کا مرض ہے۔ اسی لیے خون میں شکر کی مقدار کو سختی سے کنٹرول کرکے پوری دنیا میں گردوں کے مرض کے بوجھ کو کم کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ شوگر کنٹرول کرکے گردے کے امراض کے واقعات میں ایک تہائی کمی کی جاسکتی ہے۔
اس وقت ذیابیطس کی وجہ سے لاکھوں مریض گردوں کی ایک شدید مرض کے شکار ہیں جسے اینڈ اسٹیج کڈنی ڈیزیز (ای ایس کے ڈی) کہا جاتا ہے اور 2030 میں پوری دنیا میں اس کے مریضوں کی تعداد 14 کروڑ 50 لاکھ تک جاپہنچے گی لیکن افسوس یہ کہ ان میں سے صرف 55 لاکھ مریضوں کو ہی طبی سہولیات فراہم ہوسکیں گی جس کی وجہ غربت، ڈاکٹروں اور ہسپتال کی کمی، لاعلمی اور لاپرواہی ہے کیونکہ مریضوں کی اکثریت کا تعلق غریب ممالک سے ہوگا۔
ای ایس کے ڈی کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن پوری دنیا میں بہت کم مریضوں کو ڈائلائسِس اور مناسب طبی سہولیات حاصل ہے۔ انٹرنیشنل سوسائٹی آف نیفرولوجی نے اس بات کا انکشاف 160 ممالک میں تفصیلی سروے کے بعد کیا ہے اور بتایا ہے کہ ہرسال 20 لاکھ افراد گردوں کے مرض سے مررہے ہیں جن کی اکثریت غریب ممالک میں رہتی ہے۔
کم آمدنی والے ممالک میں ای ایس کے ڈی کے صرف 4 فیصد مریض ہی اپنا علاج کراپاتے ہیں کیونکہ سرکاری طور پر اتنے مہنگے علاج کی کوئی سہولت فراہم نہیں کی جاتی اور نجی ہسپتالوں میں اس کا علاج بہت مہنگا ہے۔
سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ ذیابیطس کے تیزی سے اوپر جاتے ہوئے گراف کی وجہ سے گردوں کا مرض بڑھ رہا ہے۔ سال 2001 سے 2014 کے درمیان تھائی لینڈ میں گردوں کے امراض میں 1000 فیصد، فلپائن میں 190 فیصد اور ملائیشیا میں 162 فیصد بڑھا ہے۔
اس وقت دنیا میں 16 کروڑ لوگ ایسے ہیں جنہیں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے بعد ہی گردوں کا مرض لاحق ہوا ہے اور اگر خون میں شکر کی مقدار کو برقرار رکھا جائے تو اس سے مرض میں ایک تہائی کمی کی جاسکتی ہے اور اموات کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔
The post ذیابیطس پر کنٹرول، صحت مند گردوں کی ضمانت appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2IAPFJM
دنیا کا نایاب ترین خون کا گروپ ’ گولڈن بلڈ‘
کراچی: آر ایچ نل دنیا کا نایاب ترین خون کا گروپ ہے جسے ’گولڈن بلڈ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ گزشتہ 50 برس میں اب تک یہ صرف 43 افراد میں ہی دریافت ہوا ہے۔ دیرینہ سائنسی تحقیق اور خون کی منتقلی کے بعد ہی اس قسم کے خون کی تصدیق ہوئی ہے۔ تاہم اس نایاب خون کے مالک خواتین و حضرات کی زندگی بھی کسی خطرے سےکم نہیں ہوتی کیونکہ اس کا عطیہ کنندہ ملنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
نایاب ترین خون کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ بلڈ گروپ کیسے وجود میں آتے ہیں۔ تمام اقسام کے خون ایک سے سرخ دکھائی دیتے ہیں لیکن خون کے سرخ خلیات (آربی سی) کی سطح پر 342 مختلف اقسام کے اینٹی جِن پائے جاتےہیں۔ یہ مالیکیول (سالمات) خاص قسم کے پروٹین بناتے ہیں جنہیں اینٹی باڈیز کہا جاتا ہے۔ اسی لیے کسی اینٹی جِن کی موجودگی یا غائب ہونے سے کسی شخص کا بلڈ گروپ ترتیب پاتا ہے۔
342 میں سے 160 اینٹی جِن عام پائے جاتے ہیں۔ اب اگر کسی شخص میں تمام انسانوں کے مقابلے میں واضح اینٹٰی جن غائب ہوں تو اس کاخون نایاب قرار پائے گا ۔ دوسری جانب کسی شخص میں 99.99 فیصد اینٹی جِن نہ ہوں تو اس کا خون نایاب ترین بلڈ گروپ میں شمار ہوگا۔ تاہم ایک دو اینٹی جن کم ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
اب تک دنیا میں ایسے 43 افراد ہی دریافت ہوئے ہیں جن کا بلڈ گروپ گولڈن بلڈ کہلاتا ہے۔ ایک جانب تو یہ مٹھی بھر لوگوں میں خون کا گروہ ہے تو دوسری جانب سائنسی تحقیق کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کا مطالعہ خون کے پیچیدہ نظام کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
آر ایچ نل بلڈ ماہرین کے نزدیک سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے لیکن کسی حادثے میں اس کے مریض کو جب خون کی ضرورت ہو تو جان کے لالے بھی پڑسکتے ہیں کیونکہ ان کے خون میں 61 کے قریب آر ایچ اینٹی جن نہیں پائے جاتے۔
The post دنیا کا نایاب ترین خون کا گروپ ’ گولڈن بلڈ‘ appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2KWrWFC
گرتے ہیں، چوٹ بھی لگتی ہے!
اس روز میں نے جو کچھ دیکھا وہ میرے لیے تعجب خیز تھا۔
وہ کراچی کی ایک معروف تفریح گاہ تھی جہاں ٹہلتے ہوئے میں بچوں کے لیے مخصوص ’’پلے ایریا‘‘ میں چلی آئی تھی۔ ننھے منے چہرے خوشی سے نہال تھے۔ بہت سے بچے اپنے بہن بھائیوں اور فیملی کے ساتھ کھیل کود میں مصروف تھے۔
کوئی جھولا جھول رہا تھا تو کوئی سلائیڈنگ کا مزہ لے رہا تھا۔ کچھ اپنی ماؤں کی انگلی تھامے ارد گرد کے نظارے دیکھنے میں مگن تھے۔ اسی دوران میری نظر ایک چار پانچ سالہ بچے پر پڑی جو جھولے سے اترتے ہوئے پیر پھسل جانے سے گر پڑا تھا۔ موقع پر موجود سبھی افراد نہایت فکرمندی اور پریشانی کے ساتھ اس بچے کی طرف متوجہ ہوگئے۔ جھولے سے ذرا فاصلے پر کھڑی اس کی ماں فوراً بچے کی طرف دوڑی، مگر لمحہ بھر بعد ہی سب نے دیکھا کہ وہ بچے کو اٹھانے یا بہلانے کے بجائے ہنستے ہوئے تالیاں بجارہی ہے۔
سبھی کی طرح میں حیران ہورہی تھی کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ یہ تو سبھی سمجھ گئے تھے کہ بچے کو کوئی ایسی چوٹ نہیں لگی جو تشویش کا باعث ہو۔ یقیناً وہ ٹھیک تھا۔ مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے بچے کی ماں سے پوچھا، ’’آپ کا بچہ گرگیا ہے اور آپ ہنس رہی ہیں۔‘‘ اس نے مجھے مسکراتے ہوئے دیکھا اور اپنے گرے ہوئے بچے کی طرف اشارہ کیا جو اب سنبھل چکا تھا اور اپنے پیروں پر کھڑا ہوا تھا۔ اور اب اپنی ماں کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اس دوران ماں نے بچے کے کپڑے جھاڑے اور یہ یقین کرلیا کہ اسے کوئی خاص تکلیف نہیں ہے اور جسمانی نقصان نہیں پہنچا ہے۔
اب وہ اسے دوسرے جھولے میں بٹھا کر میری طرف پلٹی اور کہا کہ ’’آج میں اپنے بچے کو سہارا دے کر اٹھا دیتی تو یہ ساری زندگی سہاروں کی تلاش میں رہتا اور میں اس لیے ہنسی تاکہ وہ نہ روئے بلکہ پریشانی اور مشکل حالات میں خود کو سنبھالنا سیکھے۔ وہ اگر رو دیتا تو کم زور پڑجاتا۔ میں نے لمحوں میں جان لیا تھاکہ اس کا پیر پھسلا ہے اور وہ صرف زمین پر گرا ہے۔ اس کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ اچانک گر جانے پر حیرت زدہ ہے اور بس۔ تبھی میں نے بہت زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرنے سے گریز کیا۔‘‘ اس واقعہ کو ایک عرصہ بیت گیا مگر میں آج تک اس ماںکے کہے گئے جملے بھول نہیں سکی۔ وہ ایک سبق تھا جس نے نہ صرف میری سوچ کا زاویہ بدل ڈالا۔
یہ عام مشاہدہ ہے کہ جہاں بچے کو ذرا سی چوٹ لگی، معمولی اور چھوٹا سا بھی زخم لگ گیا یا کہیں بچہ کھیل کود کے دوران گر گیا تو مائیں بہت زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ وہ دوڑ کر بچے کو اٹھا لیتی ہیں اور بار بار اس سے سوال کرتی ہیں کہ کہاں چوٹ لگی، تکلیف تو نہیں ہو رہی اور چند گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی اس کیفیت سے باہر نہیں نکلتیں۔ گھر کے دیگر افراد سے بھی باری باری الفاظ کے رد و بدل کے ساتھ بچے کی چوٹ کا ذکر ہوتا ہے۔
یوں بچہ یہ سب سن کر اور گھر والوں کی اپنے لیے ہم دردی دیکھ کر اپنی چوٹ اور اس وقتی اور معمولی تکلیف کو ایسی انوکھی بات سمجھ لیتا ہے کہ آئندہ بھی ہر شخص سے ہم دردی اور خود ترسی کا متقاضی رہتا ہے۔ اگر بچے اس طرح جذباتی طور پر کم زور پڑ جائیں تو وہ ذرا ذرا سی تکلیف پر ماں کی طرف لپکتے ہیں۔
اس ہم دردی کے نتیجے میں یہ اس قابل بھی نہیں رہتے کہ اسکول گلی یا محلے میں کوئی ہم عمر بچہ انہیں کسی طرح ڈرائے دھمکائے یا جسمانی تکلیف پہنچانے کی کوشش کرے تو کم از کم وہ اپنا دفاع ہی کرسکیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ انہیں کس طرح اس مار سے بچنا چاہیے اور کیا طریقہ اپنایا جائے کہ وہ اس سے محفوظ رہ سکیں۔ وہ اس موقع پر کسی بڑے کی مدد چاہتے ہیں جب کہ تھوڑی سی ہمّت اور بہادری سے وہ اس کا مقابلہ کرتے ہوئے خود کو محفوظ بھی رکھ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوسرے بچے کو نقصان پہنچا کر، اسے شکست دے کر ہی گھر لوٹے بلکہ یہ کہ وہ ایسی صورتِ حال کا مقابلہ کرنا اور کسی کے شَر سے بچنا جانتا ہو۔
جو مائیں بچوں کے معاملے میں غیرضروری حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہیں اور ان کے لیے ہر معاملے میں ہم دردی اور جذباتی جملوں کا سہارا لیتی ہیں، ان میں بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ اہلیت اور صلاحیت کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ انہیں اپنے آس پاس کوئی ہم درد نہ ملے تو یہ اپنی کسی بات کا اظہار بھی کھل کر نہیں کر پاتے۔ یہ خوف کا شکار رہتے ہیں۔ ابتدائی عمر میں وہ سوچتے ہیں کہ باہر جانے یا کسی میدان میں کھیلنے کے دوران ہم گر جائیں گے اور اگر ایسا ہوا تو کیا ہو گا؟
کیا یہاں کوئی میری مدد کرے گا؟ اس قسم کی باتیں ان کو خاص قسم کی مشکل میں ڈال دیتی ہیں جو ان کو آگے بڑھنے اور خود پر بھروسا کرنے سے روک دیتی ہیں۔ یہ اپنی زندگی کا طویل حصہ سہاروں کی تلاش میں گزار دیتے ہیں۔ یہ گرتے تو ہیں، مگر اٹھ نہیں پاتے، اور انتظار کرتے ہیں کہ کوئی ان کی مدد کرے۔ کیا کوئی ماں یہ چاہے گی کہ اس کا بچہ یوں الجھی ہوئی زندگی گزارے؟ یقیناً نہیں۔ یاد رکھیے زندگی میں خوشی اور غم، مسکراہٹیں اور ٹھوکریں بھی ہماری منتظر رہتی ہیں۔ اپنے بچے کو وہ اعتماد اور حوصلہ بخشیں کہ یہ ٹھوکریں اس کے لیے سبق بن جائیں اور وہ سہارے ڈھونڈنے کے بجائے خود کو سنبھالنا اور کام یاب ہونا سیکھے۔ بچے گرتے ہی ہیں اور یہ جاننا ضروری ہے کہ اسے کہاں چوٹ لگی اور اس کی نوعیت کیا ہے، یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ بچے کو کتنی تکلیف محسوس ہو رہی ہے، مگر یہ بھی دیکھیں وہ کس بلندی سے گرا ہے یا کس چیز سے ٹکرایا اور الجھا ہے۔
آپ اس کے چہرے کے تاثرات سے لمحہ بھر میں جان سکتی ہیں کہ وہ کتنی تکلیف محسوس کر رہا ہے اور اسے کوئی جسمانی نقصان پہنچا ہو گا یا نہیں۔ اس کا اندازہ کرنے کے بعد غیر ضروری طور پر ہم دردی کرنا اور جذباتی ہونے کے بجائے اسے سنبھلنے کا کہیں۔ ضروری ہدایات دیں اور بتائیں کہ کس طرح احتیاط سے کام لے کر وہ کوئی کام انجام دے تو کسی بھی چوٹ اور حادثے سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ بچے کو سینے سے لگاکر اسے یہ جملہ ضرور کہیے کہ میرا بچہ تو بہت بہادر ہے۔ بہادر بچے روتے نہیں۔ یہ جملہ آپ کے بچے کی شخصیت مضبوط بنائے گا۔ بچپن میں چھوٹی چھوٹی چوٹیں لگتی ہیں مگر بڑے ہونے کے بعد بڑے بڑے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے تو بچے کو ان کے لیے تیار کریں۔ اسے مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی شخصیت کی تعمیر بھی کیجیے تاکہ کبھی وہ حالات سے گھبرا کر ٹوٹنے یا بکھرنے کے بجائے خود کو سمیٹ سکے۔ اسے کسی کے سہارے کی ضرورت نہ پڑے۔
The post گرتے ہیں، چوٹ بھی لگتی ہے! appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2ICoTki
Medical News Today: Study finds that many people diagnosed with MS do not have the condition
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2IAgXzG
Medical News Today: Replacing red meat with plant protein reduces heart disease risk
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2XwGwoU
Whitening cream for oily skin to remove dark spots, pimples and acne scars
It is very important to understand your skin type before using any whitening cream because every skin type has different ways to handle. Mostly, pimples and acne occurs in oily skin so, it is very difficult to take care of this type of skin. You need to avoid using local fairness creams; it may react …
The post Whitening cream for oily skin to remove dark spots, pimples and acne scars appeared first on Life Care Tips.
from Life Care Tips http://bit.ly/2KUDHg0
Sunday, 21 April 2019
چاکلیٹ کے دماغی فوائد کے سائنسی ثبوت بھی مل گئے
روم، اٹلی: بعض ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ چاکلیٹ کھانا دماغ کےلیے بہتر ہوتا ہے اور اب اس کے بعض سائنسی ثبوت بھی ملے ہیں۔
اس سے قبل 2017 میں بعض ماہرین نے ثابت کیا تھا کہ کوکوکا باقاعدہ استعمال دماغی قوت کی وجہ بنتا ہے اور دماغ میں بصری معلومات کی پروسیسنگ کو بھی بڑھاتا ہے۔ تاہم بعض افراد پر ہی اسے کے اچھے اثرات دیکھے گئے تھے۔
اٹلی میں واقع یونیورسٹی آف لاکویلا کے ماہرین ویلنٹینا سوکی اور مشیل فریرا نے کہا ہے کہ چاکلیٹ کے اہم مرکزی جزو کوکو میں بعض اہم فلیوینول پائے جاتے ہیں جو عملی یادداشت (ورکنگ میموری)، ارتکاز، دماغی پروسیسنگ کے عمل کو تیز کرتے ہیں ۔ تاہم اس کے فوائد ایسے بزرگوں میں زیادہ پائے گئے جن میں دماغی کمزوری اور حافظہ متاثر ہونا شروع ہوگیا تھا۔
سیاہ چاکلیٹ میں خاص فلیوینول ایک جانب تو کھانے والے کو سکون اور اطمینان دیتے ہیں تو دوسری جانب بزرگوں میں عمررسیدگی کی باعث یادداشت کی کمی کو بھی روکتے ہیں۔
چاکلیٹ کے فوائد کا چرچا تو بہت ہوتا رہا ہے لیکن اس کے ثبوت میں سائنسی لٹریچر کی بہت کمی ہے۔ اب اٹلی کے ماہرین کا خیال ہے کہ فلے وینولز کے دماغ فوائد کے ثبوت مل چکے ہیں۔ دوسری جانب صحتمند افراد پر بھی چاکلیٹ کھانے کے بہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسی خواتین جو نیند کی کمی کی شکار رہتی ہیں اگر وہ چاکلیٹ کھائیں تو اس سے نیند کی کمی سے لاحق ہونے والا دماغی نقصان کم ہوجاتا ہے اور اعصاب کی مرمت ہوتی ہے۔
دیگر سائنسدانوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ چاکلیٹ کھانا دل کے لیے بھی مفید ہے اور اس سے دماغ کے اہم حصوں تک خون کی فراہمی بھی اچھی ہوتی ہے۔
The post چاکلیٹ کے دماغی فوائد کے سائنسی ثبوت بھی مل گئے appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2Gq5HCL
انسانی جلد کی تیاری کیلیے یوایچ ایس، ادویہ ساز اداروں میں معاہدہ
لاہور: پاکستان میں ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی محنت سے تیارکی جانے والی حیاتیاتی جلد اب بڑے پیمانے پر نجی لیبارٹری میں بھی تیار کی جا سکے گی۔
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور پاکستان فارما سوٹیکل مینوفیکچرز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے ) کے درمیان معاہدہ طے پا گیا، 900 ڈالر فی انچ میں درآمدکی جانیوالی مصنوعی انسانی جلد پاکستانی ایک ہزار روپے میں مل سکے گی جس سے 70 فیصد سے زیادہ جلے ہوئے افراد کی جان بھی بچائی جا سکے گی، پاکستان میں ڈاکٹرز اور سائنسدانوں کے اشتراک سے 2015 میں مقامی سطح پر انسانی جلد کا حیاتیاتی نعم البدل تیار کیا گیا تھا۔
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اکرم کے مطابق جھلس جانے والے زیادہ تر افراد کی اموات انفیکشن اور جسم سے پانی اور نمکیات کے تیزی سے اخراج وغیرہ کی وجہ سے ہوتی ہیں، 70 فیصد سے زیادہ جلے ہوئے افراد کی شرح اموات 90 فیصد ہے لیکن اب جب بیالوجیکل انسانی جلد دستیاب ہوگی تو اس سے یہ شرح اموات 20 فیصدتک رہ جائے گی اور بڑ ے پیمانے پر انسانی جانوں کوبچایا جا سکے گا، ڈاکٹر جاویداکرم نے کہاکہ پاکستان میں اب تک انسانی جلد کا بائیولوجیکل نعم البدل تیار نہیں کیا جا رہا تھا اور اسے درآمد کرنا پڑتا تھاجوعام لوگوں کی پہنچ سے دور تھا، انھوں نے بتایا کہ جب احمدپورشرقیہ کے قریب آئل ٹینکرالٹنے اورپٹرول کو آگ لگنے سے بڑے پیمانے پرلوگ جل گئے تھے اور متبادل انسانی جلدنہ ہونے کی وجہ سے چل بسے تھے۔
کئی زخمیوں کی جان بچانے کیلیے بیرون ملک سے مصنوعی جلد منگوانا پڑی تھی جس پر اربوں روپے خرچ ہوئے۔ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہاکہ تقریباً ایک مربع انچ درآمد شدہ بیالوجیکل مصنوعی جلد کے پیوند کی قیمت 900 امریکی ڈالر یعنی تقریباً ایک لاکھ پاکستانی روپے سے زیادہ پڑتی ہے لیکن اب چند پاکستانی ڈاکٹروں نے مقامی سطح پر بیالوجیکل مصنوعی جلد تیارکی ہے جس کی پیوند کی قیمت ایک ہزار پاکستانی روپے سے کم ہے۔مصنوعی انسانی جلد تیارکرنے میں سب سے اہم کردار ڈاکٹر رؤف احمد کا ہے۔
انھوں نے ایکسپریس کو بتایا مصنوعی جلد سرجری کے دوران بچ جانے والی اضافی انسانی جلد یا پھر گائے یا بھینس کی جلد سے بھی تیار کی جاسکتی ہے۔ پہلے مرحلے میں مختلف کیمیکلز کی مدد سے جلد کے اوپری حصے سے تہہ ہٹائی جاتی ہے یعنی تکنیکی اصطلاح میں اسے ڈی ایپی ڈرملائز کیا جاتا ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے ڈی سیلولیرائز کیا جاتا ہے، پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچرزایسوسی ایشن کے نمائندے حسیب خان نے ایکسپریس کوبتایا کہ انھوں نے ایم او یو سائن کیا ہے۔
The post انسانی جلد کی تیاری کیلیے یوایچ ایس، ادویہ ساز اداروں میں معاہدہ appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2IKzAAl
Medical News Today: Increased muscle power may prolong life
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2Gq4tap
Medical News Today: MS: High-strength MRI may predict disease progression
from Featured Health News from Medical News Today http://bit.ly/2IxmFCz
Saturday, 20 April 2019
مایوسی کو اُمید میں بدل لیجیے؛ 21 مشورے جو زندگی گزارنا سکھائیں
پچھلے دنوں ایک امریکی خاتون لورین جیلمین کی مرتب کردہ کتاب ’’بہترین نصیحتیں‘‘(Best Advices) زیر مطالعہ رہی۔ اس کتاب میں مرتب خاتون نے ایسی نصیحتیں ‘ تجاویز اور مشورے جمع کر ڈالے ہیں جو انسان کو ڈھنگ سے زندگی گزارنا سکھاتے ہیں۔
قارئین ایکسپریس کے لیے اس کتاب سے چیدہ مشوروں کا انتخاب پیش ہے۔ یہ نصیحتیں اور مشورے امریکا میں مقیم ماہرین تعلیم، دانشوروں ‘ صنعت کاروں‘ ادیبوں ‘ ڈاکٹروں‘ اداکاروں وغیرہ کے بیش قیمت تجربات کا نچوڑ ہے۔
دنیا والوں سے برتاؤ
یہ کئی سال پہلے کی بات ہے‘ میں نے فیصلہ کیا کہ شراب نوشی ترک کر دی جائے۔ میں عرصے سے اس لت میں مبتلا تھا لہٰذا اسے چھوڑتے ہوئے خاصی مشکل پیش آئی۔ ایک دن میں باہر چہل قدمی کر رہا تھا کہ میرے پڑوسی بوڑھے چچا ملے۔ مجھے کچھ پریشان دیکھا تو بولے ’’نوجوان! آج تم دنیا والوں سے کیا برتاؤ کرو گے؟‘‘
یہ سوال سن کر میں کچھ حیران ہوا۔ پوچھا’’چچا‘ آپ شاید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دنیا میں میرے ساتھ کیسا سلوک کرے گی؟‘‘
انہوں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا ’’ارے بھئی‘ میں نے جو پوچھا اس کا مطلب وہی تھا۔ یاد رکھو‘ دنیا چاہے تم سے کیسا ہی بُرا سلوک رکھے‘ تم نے اس سے محبت آمیز ‘ رحم دلانہ اور پُرشفقت برتاؤ ہی کرنا ہے۔ فائدہ یہ ہے کہ یوں زندگی کا تمہارا سفر آسان ہو جائے گا۔‘‘
اس واقعے کو کئی سال بیت چکے مگر جب بھی میں کسی مصیبت میں مبتلا ہوں تو بوڑھے پڑوسی کی قیمتی نصیحت مجھے حوصلہ و ہمت عطا کرتی ہے۔
(پال ولیمز ‘ شاعر‘ موسیقار اور اداکار)
مفروضے نہ سوچو!
میرا خاندان مقبوضہ کشمیر میں آباد تھا۔ میں دیہی ماحول میں پہلا پڑھا۔ میرے دادا سیبوں کے ایک باغ کے مالک تھے۔ مہینے میں دو تین باروہ سب پوتے پوتیوں کو اپنے باغ میں لے جاتے۔ میں دیکھتا کہ جس سیب کو کسی پرندے نے کھایا ہوتا،وہ صرف اسے توڑتے‘ پانی سے دھوتے اور پھر کسی بچے کو تھما دیتے۔
ایک دن میں نے دادا سے پوچھا’’آپ پرندوں کا کھایا جھوٹا سیب ہمیں کیوں کھلاتے ہیں؟ صاف ستھرا سیب کیوں نہیں دیتے؟‘‘ مجھے یقین تھا کہ دادا اپنے ستھرے سیب بچانے کے لیے ہم بچوں کو پرندوں کے ادھ کھائے سیبوں پر ٹرخا دیتے ہیں۔
میرا سوال سن کر دادا مسکرائے۔ میرے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرااور بولے ’’بیٹے‘ پرندہ صرف وہی پھل کھاتا ہے جو میٹھا ہو۔ لہٰذا میں تمہارے لیے اپنے باغ کے سب سے شیریں سیب توڑتا ہوں۔یاد رکھو‘ کبھی مفروضے کو سامنے رکھ کر عمل نہ کرو‘ ہمیشہ پوچھ لیا کرو تاکہ سچ جان سکو۔‘‘
میں اپنی نجی اور پیشہ وارانہ زندگی میں ہمیشہ دادا ابو کی نصیحت پر عمل کرتا ہوں۔
(ڈاکٹر خورشید احمد گرو، ڈائریکٹر روبوٹک سرجری ‘ روزویل پارک کینسر انسٹی ٹیوٹ‘ بفلو ‘ نیویارک)
غیر یقینی حالات کا مقابلہ
جب سوویت یونین کے حالات خراب ہوئے تو میرے والدین ہجرت کر کے آسٹریا چلے آئے۔ وہاں ایک ریفیوجی کمیپ میں ہمیں جگہ ملی۔ حالات بہت غیر یقینی تھے۔ ہمیں کچھ علم نہ تھا کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ ہم سبھی بچے خوفزدہ اور پریشان رہے۔ تمام تر پریشانی کے باوجود ایک دن ابا نے اعلان کیا کہ ہم سب اوپیرا دیکھنے ویانا ہاؤس جائیں گے۔
میں بچوں میں سب سے بڑی تھی۔ ابا سے کہا ’’ ہمارے پاس رقم کم ہے۔ ہم یہاں بے یارو مددگار پڑے ہیں۔ کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں۔ پریشانی و مصیبت کے اس عالم میں میں آپ کو اوپیرا دیکھنے کی کیا سوجھ گئی؟
میرے والد مسکرائے اور کہا ’’بیٹی! زندگی بہت مختصر ہوتی ہے۔ یہ بے وقوفی ہے کہ انسان بیٹھ کر ہر وقت اپنی مصیبتوں پہ ماتم کرتا رہے۔‘‘
آج میں جان چکی کہ ان کا کہنا درست تھا۔
(نٹالے کوگان‘ سی ای او ہپئیر کمپنی)
کوئی جھگڑا کرے تو…
جب میں چھ سات کی تھی، تو ایک میگزین میں انوکھی تصویر دیکھی۔ تصویرمیں ایک پولیس افسر نے ایک لڑکی پر بندوق تان رکھی ہے۔ مگر وہ لڑکی خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے پھول پیش کر رہی ہے۔ یہ تصویر عشرہ 1970 ء میں ایک جنگ مخالف امن مارچ کے دوران کھینچی گئی تھی۔ تاہم اس تصویر میں پائے جانے والے تناقص نے مجھے متجسس اور حیرت زدہ کر دیا ۔ آخر اپنی والدہ سے اس تناقص کا ذکر کیا۔انہوں نے بتایا کہ یہ لڑکی نفرت دکھانے کے بجائے محبت اور دوستی کا مظاہرہ کر کے پولیس افسر کو اپنا دوست بنانا چاہتی ہے۔ والدہ کے الفاظ یہ تھے:’’اس نے انہیں سُپر محبت دے ماری‘‘۔(“Zap them back with super love.”)
آنے والے برسوں میں جب کبھی مجھے نفرت‘ جھگڑے اور دشمنی کا سامنا کرنا پڑا تو مجھے اپنی ماں کے الفاظ یاد آجاتے ہیں۔ سچ ہے کہ دوسرے پہ بہترین محبت دے مارنے پر میں نے کبھی پچھتاوا محسوس نہیں کیا۔
( شیرل اسٹریڈ‘ مشہور ناول نگار‘ اور ادیب)
جیت ،مگر کیسے؟
’’بحث کرتے ہوئے یہ نہ سوچو کہ تم نے ہر حال میں جیتنا ہے ۔ تمہاری کوشش ہونی چاہے کہ تمہیں اپنا راستہ مل جائے۔‘‘
برسوں پہلے میری ساس‘ دیا میکنا نے مجھے یہ مشورہ دیا تھا۔ جب بھی میں کسی مشکل میں پھنسا ہوں تو یہ مشورہ چراغ بن کر میری راہ منور کرتا رہا۔ میںنے ہمیشہ اس سے فائدہ ہی حاصل کیا۔
(پال اسٹیگر ‘ سابق منیجنگ ایڈیٹر‘ دی وال اسٹریٹ جنرل)
دھیان سے سنو!
میرے والدین اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے تھے لیکن جب بھی انہیں موقع ملتا وہ ہمیں زندگی گزارنے کے ڈھنگ بھی بتاتے۔ ایک بار امی کہنے لگیں ’’بیٹا ایک بات یاد رکھنا! جب تم کوئی اہم فیصلہ کرنے لگو، تو پہلے ہر جاننے والے سے مشورہ کرو۔ اور وہ جو باتیں کرے، انہیں دھیان سے سنو۔ جب ہر ایک باتیں سن لو، تم کسی نتیجے پر پہنچو۔‘‘
یہ نصیحت آگے چل کر میرے بہت کام آئی۔ وجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی دوسرے کی باتیں غور سے سنے، تو وہ کچھ نہ کچھ سیکھتا اور نئی معلومات حاصل کرتا ہے۔ اسی لیے میری سعی ہوتی ہے کہ میں خود بولنے کے بجائے دوسروں کی باتیں سنوں اور کچھ سیکھنے کی سعی کروں۔ اس طرز عمل سے مجھے بہت فائدہ پہنچا۔
(سٹیون اسپیل برگ، فلم ڈائریکٹر اور پروڈیوسر)
حد سے نہ بڑھو
میں نے تعلیم مکمل کی، تو ایک سکول میں پڑھانے لگا۔ تمنا تھی کہ میں سکول میں بہترین استاد بن جاؤں۔ اس لیے میں چھٹی ہونے کے بعد بھی دیر تک سکول میں بیٹھتا اور نت نئے سوال تیار کرتا رہتا۔ تعلیم کے مختلف انداز بھی سوچتا۔مگر مجھے محسوس نہیں ہوا کہ حد سے زیادہ کام کرنے کے باعث میری صحت گرگئی۔ آنکھوں کے گرد حلقے پڑگئے اور میں کچھ غائب الدماغ رہنے لگا۔ میری یہ حالت اس وقت اجاگر ہوئی جب میرے ایک چچا بیرون شہر سے ہمارے گھر آئے۔ وہ ایک ریٹائرڈ ٹیچر تھے۔
انہوں نے محسوس کرلیا کہ میں ضرورت سے زیادہ جان ماری کررہا ہوں۔ وہ مجھے لے کر بیٹھے اور بولے ’’بیٹا! انسان کو یقیناً بہترین کام کرنے کی سعی کرنی چاہیے۔ لیکن اگر تم حد سے زیادہ بڑھو گے تو ذہنی و جسمانی طور پر تھک جاؤ گے۔ تب تم سے قطعاً بہترین کام نہیں ہوسکتا۔‘‘
میں نے اس نصیحت پر غور کیا، تو مجھے یہ بہت صائب نظر آئی۔ چناں چہ میں ایک معین وقت پر ہی غور و فکر کرنے لگا۔ اس طرح مجھے اپنی جماعت کے سبھی طلبہ پر زیادہ دھیان دینے کا موقع ملا۔ یہی تبدیلی مجھے کامیاب استاد بنانے کا ذریعہ بن گئی۔
(سین میکومب جنھیں امریکا کے نیشنل ٹیچر کا ایوارڈ ملا)
وقت ترجیح نہیں…
یہ اس زمانے کی بات ہے جب میں ایک اخبار میں کام کرتی تھی۔ تب میں نے تھریسا ڈینئر نامی ایک خاتون کا انٹرویو کیا۔ وہ ایک کنسٹریکشن کمپنی کی مالک اور چھ بچوں کی ماں تھی۔ ان میں دو بچے جڑواں تھے۔مجھے تعجب تھا کہ وہ کاروبار کرانے اور بچے سنبھالنے کی خاطر وقت کیونکر نکال لیتی ہے؟
انٹرویو دیتے ہوئے تھریسا نے بتایا ’’میں کبھی اپنے آپ یا دوسروں سے یہ بھی نہیں کہتی ’’میرے پاس وقت نہیں۔‘‘ بلکہ میرا جواب ہوتا ہے ’’یہ میری ترجیح نہیں‘‘۔ ظاہر ہے، اگر میرے بچے مجھ سے کہیں کہ ہمارے ہم جماعتوں کی خاطر کیک بنادو تو یہ کام میری ترجیح نہیں ہوگا۔ لیکن مجھے کہا جائے کہ کیک بنانے پر ایک ہزار ڈالر ملیں گے، تو میں یہ کام کرنے کے لیے ہر حال میں وقت نکال لوں گی۔‘‘
تھریسا کی بات مجھے دل کو لگی۔ انسان جس کام کو ترجیح دے، اسے فوری انجام دے ڈالتا ہے۔ گویا کام کرنے کے معاملے میں وقت نہیں یہ بات سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ وہ کتنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے، اب میں ٹائم مینجمنٹ یعنی اپنے کاموں کو انجام دینے کا نظام الاوقات بتاتے ہوئے وقت نہیں اپنے کاموں کی ترجیحات کو مدنظر رکھتی ہوں۔ اس انداز کار کا نتیجہ ہے کہ میرا ہر کام بہترین طریقے سے مکمل ہوتا ہے۔
(لارا وینڈرکم، ناول نگار)
ناقدین کی منفی باتیں
یہ کئی برس پہلے کی بات ہے، ایک تقریب سے موٹیویشنل مقرر، ہیری ہنٹن ’’زگ‘‘ زکلر نے خطاب کرنا تھا۔ مجھے بھی تقریر کرنے کی ذمے داری سونپی گئی۔ تقریب میں بیس ہزار لوگوں کا جم غفیر موجود تھا۔ میں سٹیج کے پیچھے زگ زکلر کے ساتھ بیٹھی تھی۔موقع سے فائدہ اٹھا کر میں نے ان سے دریافت کیا ’’جو مردوزن آپ کو سننے آتے ہیں، وہ ان میں سے یقیناً سبھی آپ کے پرستار نہیں ہوں گے۔ ممکن ہے کہ وہ آپ کے ناقد ہی ہوں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ آپ کا رویّہ کیسا ہوتا ہے؟‘‘
وہ مسکرا کر بولے ’’بھئی میں ان مردوزن پر کم ہی توجہ دیتا ہوں جو منفی طرز فکر رکھیں اور کسی قیمت پر اپنے آپ کو بدلنے پر آمادہ نہ ہوں۔ اس لیے میں اپنی توانائی ایسے لوگوں پر خرچ کرتا ہوں جو اچھی اچھی باتیں سننے اور اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے یہاں آتے ہیں۔‘‘
یہ نصیحت میرے دل میں کھب سی گئی۔ اس سے میں نے یہ سیکھا کہ اپنے ناقدین کی منفی باتوں کو نظر انداز کردو اور ان لوگوں کی بہتری پر اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کرو جو آپ کے ساتھ گانا اور ناچنا چاہتے ہیں۔
(بسیتھ گوڈین، ادیبہ و پبلک اسپیکر)

استقامت اور ہمت نہ ہارنا
یہ پچاس سال پہلے کی بات ہے، میں فونیکس شہر کے ایک اخبار سے منسلک تھا۔ ایڈیٹر نے میری ذمے داری لگا دی کہ ہائی کورٹ جاکر رپورٹنگ کرو۔ چناں چہ میں مختلف عدالتوں میں جاکر مقدمات کی سماعت سنتا۔ جب مقدمہ ختم ہوتا، تو وکلاء ملزمان اور کبھی کبھی ججوں سے بھی سوال کرتا۔مجھے کورٹ رپورٹنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا، اس لیے شروع میں کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اکثر لوگ میرے سوالات کو ٹال جاتے اور میں مطلوبہ جواب حاصل نہ کرپاتا۔ یوں میری رپورٹنگ ادھوری اور کمزور رہتی۔ اس کوتاہی پر ایڈیٹر نے چند بار ڈانٹ ڈپٹ بھی کی۔
ہائی کورٹ میں ایک خاتون بھی بحیثیت جج کام کرتی تھیں۔ ایک دن جب مقدمے کی سماعت ختم ہوچکی تھی اور وہ اپنے چیمبر سے نکل رہی تھیں، تو انہوں نے مجھے بنچ پر افسردہ بیٹھے دیکھا۔ وہ میرے قریب آئیں اور کہا ’’نوجوان! تم کچھ پریشان نظر آتے ہو۔ کیا بات ہے؟‘‘
میں نے انہیں بتایا کہ ناتجربے کاری کے باعث میں کورٹ رپورٹنگ صحیح طرح نہیں کرپاتا جس پر ایڈیٹر ناراض ہوتا ہے۔ یہ سن کر خاتون جج نے کچھ سوچا اور پھر بولیں ’’بہترین رپورٹنگ کرنے کا ہنر استقامت اور ہمت نہ ہارنے میں پوشیدہ ہے۔ مطلب یہ کہ تم متعلقہ شخص سے مسلسل سوال کرتے رہو تاایں وہ جواب دے ڈالے۔ مطلوبہ جوابات حاصل کرنے تک اس کا پیچھا نہ چھوڑو۔‘‘
آج میں الزائمر مرض میں مبتلا ہوں۔ میری یادداشت رفتہ رفتہ کمزور ہورہی ہے۔ پھر بھی میں اس دانش مندانہ نصیحت پر عمل کرتا ہوں جو برسوں قبل سینڈرا اوکونر نے دی تھی۔ انہی کو آگے چل کر امریکی سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ سینڈرا کے شوہر، جان بھی دو عشروں تک الزائمر مرض سے نبرد آزما رہے اور پھر اسی بیماری میں چل بسے۔ لیکن میں سوالات کرنے کی قوت سے اپنی یادداشت توانا رکھنے کی پیہم کوششوں میں مصروف ہوں۔
(گریگ اومبرائن، صحافی اور ادیب)
جان لڑا دو
جب میں پچیس برس کا تھا تو طبی معائنے سے انکشاف ہوا کہ میں ڈائی سیلسیا کی نرم قسم میں مبتلا ہوں۔ یہی وجہ ہے، میں پڑھنے لکھنے میں دقت محسوس کرتا تھا۔ تاہم اس انکشاف کے بعد بھی میں نے طب کی تعلیم پڑھنا جاری رکھی۔ میں نے بچپن سے سرجن بننے کا خواب دیکھ رکھا تھا۔
مگر جب پتا لگا کہ میں ڈائی سیلسیا میں مبتلا ہوں، تو میرے بعض اساتذہ اور کالج انتظامیہ بھی مجھ پر زور دینے لگی کہ میں طب کی تعلیم چھوڑ دوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اس بیماری کے باعث کبھی سرجن نہیں بن سکتا۔ تاہم میں ان کی باتوں سے دل برداشتہ نہیں ہوا… کبھی کبھی وہ نصیحت یا مشورہ بہترین ثابت ہوتا ہے جس پہ آپ عمل نہ کریں۔دراصل میری مستقل مزاجی کا راز ایک چھوٹے سے جملے میں چھپا تھا۔ یہ جملہ میں نے اخبار میں پڑھا تھا۔ مجھے اتنا پسند آیا کہ اسے کاٹ کر اپنی ڈائری میں رکھ لیا۔ جب بھی روزانہ رات کو ڈائری لکھتا تو اسے پڑھ لیا کرتا۔ جملہ یہ تھا ’’جس خیال کو سوچا جاسکے، اسے تخلیق کرنا بھی ممکن ہے۔‘‘(“What can be conceived can be created.”)
میں نے لوگوں کے کہنے کی پروا نہیں کی اور طبی تعلیم پاتا رہا۔ آخر میں سرجن بننے میں کامیاب رہا۔ کئی سال بعد مجھے علم ہوا کہ درج بالا جملہ کار کے ایک اشتہار کا حصہ تھا۔ بہرحال میں مرتے دم تک یہ جملہ نہیں بھول سکتا۔ یہ انسان کو بتاتا ہے کہ اگر تم بلند و بالا تصّورات رکھتے ہو تو پھر انہیں عملی روپ دینے کی خاطر جان لڑا دو۔
(ڈاکٹر ٹوبی کوسگریو، سی ای او کلیولینڈ کلینک)
امی ابو، خبردار!
جب میں زچگی کرانے ہسپتال میں داخل ہوئی تو ایک نن بھی وہاں مقیم تھی۔ وہ اپنے کسی مرض کا علاج کرانے آئی ہوئی تھی۔ ہمارے بستر ساتھ ساتھ تھے لہٰذا وہ میری سہیلی بن گئی۔ جب ٹام نے جنم لیا، تو نن نے میرے شوہر کو ایک ننھی یہ نظم دی:
’’نوجوان، اب جہاں بھی جاؤ، محتاط رہو
جو بھی کچھ کرو، احتیاط سے کرو
اب دو ننھی آنکھیں تمہیں تک رہی ہیں
دو ننھے پیر تمہارے نقش قدم پر چلیں گے‘‘
جب میں نے یہ نظم پڑھی تو اشکبار ہوگئی۔ والدین عام طور پر دھیان نہیں دیتے کہ بچے بڑی توجہ سے ان کی حرکات دیکھتے اور سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہ اہل خانہ ایک دوسرے کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ دن میں کتنی بار ’’پلیز‘‘ اور ’’شکریہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ آپ اشارہ تو نہیں توڑتے اور ٹریفک قوانین پر عمل کرتے ہیں۔ یاد رکھیے، بچے بظاہر لاپروا نظر آتے ہیں مگر وہ والدین کے ہر اٹھتے قدم کو بھی بغور دیکھتے ہیں۔
(پاؤلا سپنسر، صحافی اور ادیب)
چھوٹی چھوٹی خوشیاں
جب میں نے ہارورڈ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرنے کا آغاز کیا توتین بچوں کی ماں بن چکی تھی۔ بچوں کو سنبھالنے اور ساتھ ساتھ تعلیم پانے کے دوہرے بوجھ نے مجھے ذہنی و جسمانی طور پر خاصا تھکا دیا۔ اخر میں طبی مشورہ کرنے ایک سن رسیدہ ڈاکٹر کے پاس پہنچی۔
ڈاکٹر نے مجھے ایک نظر دیکھا پھر پوچھا ’’یہ بتاؤ‘ تم نے آخری بار کب کتاب پڑھ کر لطف اٹھایا تھا؟‘‘ بتایا کہ عرصہ ہی ہوگیا۔ وہ مسکرائے اور بولے ’’بیٹی، اپنی زندگی میں لطف اٹھانا سیکھو۔ کوئی کتاب پڑھو، کوئی کھیل کھیلو۔ لطف کے یہ لمحات زندگی میں رنگ ہی نہیں لاتے بلکہ اسے بدل بھی ڈالتے ہیں۔‘‘
میں اسی دن بچوں کو لینے سکول گئی، تو راستے میں ایک بک سٹور سے کتاب بھی خریدلی۔ رات کو اس کا مطالعہ کیا، تو واقعی کئی دن بعد بہت مزہ آیا۔ میں نے پھر ڈاکٹر صاحب کی نصیحت پلّے سے باندھ لی۔ اب میں روزمرہ زندگی میں لطف حاصل کرنے کے چھوٹے چھوٹے بہانے ڈھونڈتی رہتی ہوں تاکہ میرا دماغ اور جسم یکسانیت و بوریت کا نشانہ بن کر بنجر نہ ہوجائے۔
(مارتھا بیک، پی ایچ ڈی عمرانیات)
عمدہ ازدواجی زندگی کا راز
ایک بار میں سیروتفریح کرنے ریاست جارجیا گئی۔ وہاں میری ملاقات ایک ایسی خاتون سے ہوئی جو پچھلے ساٹھ برس سے اپنے خاوند کے ساتھ نباہ کررہی تھی۔ باتوں باتوں میں، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی شادی کو طویل عرصہ گزر گیا۔اس دوران آپ کو ازدواجی زندگی گزارنے کے تجربات بھی ملے ہوں گے۔کیا آپ نوجوان نسل کوان تجربات کا نچوڑ بتا سکتی ہیں؟ وہ مسکرائیں اور گویا ہوئی:
’’ ہرگز ایسا انسان بننے سے مت گھبراؤ جسے سب سے زیادہ چاہا جائے۔‘‘
(نیٹ بگیلے، مصنف و کاروباری)
اپنی موجودگی کو کارآمد بناؤ
میری والدہ ایک جہاں دیدہ اور ہمدرد خاتون تھیں۔ وہ اکثر مجھے کہتیں ’’انسان کو چاہیے کہ وہ آپ کو ہرجگہ کارآمد اور بامقصد بنائے۔‘‘ مثال کے طور پر آپ کے دفتر میں میٹنگ ہے تو اسے یادگار بنانے کی خاطر کوئی نیا کام کیجیے۔ کوئی منصوبہ بن رہا ہے تو اپنی ذہانت و صلاحیت سے اس میں جدت لائیے۔ انسان میز صاف کرتے یا کوڑا پھینکنے سے بھی اپنے آپ کو کارآمد بناسکتا ہے۔ اسی طرح نہ صرف انسان کو دلی سکون ملتا ہے بلکہ وہ دوست احباب میں مقبولیت بھی پالیتا ہے۔
(سین شمین، صنعتکار)
جیتنے اور ہارنے والوں میں بنیادی فرق
یہ کئی سال پہلے کی بات ہے، میں ساتویں جماعت میں زیر تعلیم تھا۔ میرے سکول میں کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لڑکے پڑھتے تھے۔ میں سکول کی فٹ بال ٹیم کا کپتان تھا۔ ایک دن ہمارا مقابلہ ایسی ٹیم سے ہوا جس کے سبھی لڑکے یتیم خانے میں رہتے تھے۔ ان کے کپڑے معمولی تھے۔ بعض نے ٹیپ سے اپنی ٹی شرٹس پر نمبر چپکا رکھے تھے۔میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ لٹے پٹے سے لڑکے ہمارا کیا مقابلہ کریں گے؟ ہم نے تو انہیں خوب گول مارنے ہیں۔ غرض ہم نے مخالف ٹیم کا خاصا مذاق اڑایا۔ آخر میچ شروع ہوا۔ معلوم ہوا کہ حریف تو فٹ بال کھیلنے میں طاق ہیں۔ انہوں نے ہمیں تھکا ڈالا اور میچ جیت گئے۔جب میچ ختم ہوگیا، تو ابو قریب آئے اور مسکراتے ہوئے بولے ’’بیٹے! اس میچ سے تم نے دیکھ لیا کہ جیتنے کی امنگ بہت طاقت رکھتی ہے۔ جیتنے اور ہارنے والوں میں بنیادی فرق یہی ہے کہ فاتح جیت کی امنگ رکھتے اور فتح پانے کے لیے جان لڑا دیتے ہیں۔‘‘
اس واقعے سے مجھے سبق ملا کہ انسان کامیابی چاہتا ہے، تو سخت محنت کرے اور اپنے آپ میں فتح کی امید کا ولولہ جگائے رکھے۔ دوسری صورت میں ٹیپ سے نمبر چپکانے والا لڑکا ہی کامیاب ہوجائے گا۔
(ڈاکٹر فل میگریو، ٹی وی پرسنیلٹی)
دلی اطمینان
چالیس سال پہلے میں پانچویں جماعت کی طالبہ تھی۔ ایک دن میں اپنی والدہ کے ساتھ چہل قدمی کرنے نکلی۔ ہم باغ میں ٹہل رہے تھے کہ میں امی کو بتانے لگی کہ ریاضی کی ٹیچر، مس الزبتھ مجھے بہت پسندکرتی ہیں۔ پوری جماعت میں، میں ہی ان کی پسندیدہ ترین شاگرد ہوں۔ غرض میں اس قسم کی شیخیاں مارتی رہی۔ مجھے قطعاً علم نہ تھا کہ مس الزبتھ کی والدہ ہمارے پیچھے ٹہل رہی تھیں۔ انہوں نے میری ساری گفتگو سن لی۔
اگلے دن جب چھٹی ہوئی، تو مس الزبتھ نے مجھے اپنی جماعت میں بلوالیا۔ پھران کی والدہ نے جو میری باتیں سنی تھیں، وہ دہرائیں۔ میں تو شرمندگی کے مارے پانی پانی ہوگئی۔ مجھے یقین تھا کہ اتراہٹ اور شیخی دکھانے پر وہ مجھے ڈانٹ ڈپٹ کریں گی مگر انہوں نے کہا:’’جوڈتھ، یاد رکھو، ہر انسان اپنا ہی سب سے بڑا پرستار ہوتا ہے اور سب سے بڑا ناقد بھی، اسے کسی کی نظروں میں پسندیدہ ترین بننے کی خاص ضرورت نہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ انسان ہمیشہ ایسے کام کرے جن سے اس کے من کو شانتی و سکون ملے۔ اگر انسان کو دلی اطمینان ہی میسر نہیں تو پھر ہر بات بیکار ہے۔‘‘
(جوڈتھ روڈن، صدر راک فیلر فاؤنڈیشن)
حقیقی ماہر
یہ چند سال پہلے کی بات ہے، مجھے موٹی ویشنل مقرر، ڈاکٹر نیندو قوبین کا ایک لیکچر سننے کو ملا۔ وہ کہنے لگے ’’اگر آپ ایک حقیقی ماہر (ایکسپرٹ) کی باتیں سن رہے ہیں، تو آپ آسانی سے اس کی ہر بات سمجھ لیں گے۔ اگر آ پ کو اس کی باتیں سمجھ نہیں آرہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ حقیقی ماہر نہیں ہے۔‘‘
ایک انسان روزمرہ زندگی میں کئی ما ہرین سے ملتا ہے اور ان کی باتیں سنتا ہے۔ عام مشاہدہ یہ ہے کہ جب انسان کو کئی ماہر کی باتیں سمجھ میں نہیں آئیں، تو وہ خود کو قصور وار سمجھتا ہے لیکن ڈاکٹر بندو قوبین کی نصیحت نے تو میرا دماغ روشن کردیا۔ اب میری جانچ پرکھ کا پیمانہ بالکل سادہ ہے… اگر کسی ماہر کی باتیں مجھے سمجھ میں نہ آئیں، تو میں اس کا لیکچر نہیں سنتا۔
(کپلنگ ایپل، استاد و مصنف)
اصل میں ہم کون!
ایک رات مجھ پر کام کا خاصا بوجھ تھا۔ جب مجھے بوریت ہوئی تو اس سے نجات پانے کی خاطر اپنی سہیلی لڈیا کو فون کردیا۔ طویل عرصے بعد ہماری بات چیت ہوئی۔ میں نے اسے بتایا کہ کام کی زیادتی نے مجھے بدحال کررکھا ہے۔ ذمے داریوں سے چھٹکارا بھی ممکن نہیں۔
لڈیا کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی ’’میری! تمہیں یاد ہے، تم اکثر مجھے ایک جملہ کہا کرتی تھیں۔ وہ یہ کہ جب میں مروں گی، تو میری تمنا ہوگی، میری قبر پر کھڑے لوگ یہ مت کہیں کہ اس نے اپنا گھر پرفیکٹ حالت میں رکھا۔ بلکہ میں یہ سننا چاہوں گی، واہ اس عورت نے تو دنیا کو مسخر کرلیا۔‘‘
جب لڈیا نے یہ بات سنائی، تو مجھے بھی یاد آگئی ورنہ میں اسے بھول چکی تھی۔ اس یاد نے میری مایوسی کافور کر ڈالی اور مجھے پھر تازہ دم کردیا۔ ساتھ ساتھ یہ بھی احساس ہوا کہ پرانے دوست اور ان سے بندھے رشتے عظیم نصیحت ہیں کہ وہ گمشدہ یادوں کے خزینے کو سامنے لے آتے ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل میں ہم کون ہیں… وہ نہیں جنہیں ذمے داریوں کا بوجھ برسوں کے عرصے میں جنم دے ڈالتا ہے۔
(میری باؤنڈز، صحافی اور ادیب)
امتحان کے لیے تیار
1980ء میں جب میں نے گریجویشن کرلی تو تقریبات میں اپنی مزاحیہ گفتگو کے جوہر دکھانے لگا۔ میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اگلے دس برس میں اتنا مشہور ضرور ہونا ہے کہ جونی کارسن مجھے اپنے پروگرام ’’دی ٹونائٹ شو‘‘ میں مدعو کرلے۔ یہ تب امریکا کا مشہور ترین مزاحیہ پروگرام تھا۔ اس میں وہ مختلف شخصیات کو بھی بلاتا تھا۔
1990ء کے اوائل میں میرے آٹھ آڈیشن ہوئے مگر مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ آخر نویں آڈیشن میں کامیابی ملی اور مجھے پروگرام میں شامل کرلیا گیا۔ یوں میرا دس سالہ خواب پورا ہو گیا۔دی ٹونائٹ شو کے آڈیشن دیتے ہوئے ہی میری ملاقات جم میکولے سے ہوئی۔ وہ پروگرام کا پروڈیوسر تھا۔ وہ اکثر آڈیشن دینے آئے نوجوانوں سے کہتا تھا ’’بہتر ہے،جونی کارسن کے ساتھ پرفارم کرنے کی خاطر پانچ سال دیر سے آؤ جاؤ نہ کہ ایک دن پہلے آن ٹپکو۔‘‘
جم میکولے کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ کامیابی کے لیے یہ ضروری نہیں کہ انسان درست وقت پر درست جگہ جاپہنچے بلکہ ضروری یہ ہے کہ جب وقت آئے، تو وہ مقابلے یا امتحان کے لیے پوری طرح تیار ہو۔
(جم ڈینہیم، اسٹینڈ اپ کامیڈین)
سچ کا سامنا کرو
میں پندرہ سال کی تھی کہ میں نے اپنی سہیلی کو بتایا، میرے اندر ایچ آئی وی وائرس موجود ہے۔ یہ وائرس مجھے اپنے ایڈز زدہ باپ سے ملا تھا۔ جب میں آٹھ سال کی تھی تو وہ چل بسا تھا۔ سہیلی کو اپنا راز بتانا میرے لیے مصیبت بن گیا۔
سہیلی کے ذریعے سکول میں سب لڑکے لڑکیوں کو پتا چل گیا کہ میرے جسم میں ایڈز پیدا کرنے والا خطرناک وائرس پل رہا ہے۔ اب وہ مجھ سے بات کرتے ہوئے بھی کترانے لگے۔ میں جہاں جاتی میرا مذاق اڑایا جاتا۔ میرے گھٹیا نام بھی رکھ دیئے گئے۔ اس ذہنی ٹارچر کو میں برداشت نہیں کرسکی لہٰذا ایک دن نیند کی گولیاں کھالیں۔
میری زندگی باقی تھی، اس لیے خودکشی کی کوشش ناکام ثابت ہوئی۔ ہسپتال میں میری ملاقات ایک ماہر نفسیات سے ہوئی۔ اس نے مجھے کہا ’’بیٹی، جو لڑکے لڑکیاں تمہیں تنگ کرتے ہیں، انہیں نظر انداز کردیا کرو۔‘‘
میں نے کہا، میں ایسا ہی کرتی ہوں اور وہ ان کی باتوں پر دھیان نہیں دیتی۔ ماہر نفسیات کہنے لگی ’’دیکھو، نظر انداز کرنا اور نظر انداز کرنے کی اداکاری کرنا… یہ دو بالکل مختلف رویّے ہیں۔ اب تم خود فیصلہ کرو کہ تم کس قسم کا رویہ اختیار کروگی۔‘‘
ماہر نفسیات کی بات نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ لڑکے لڑکیوں کی طنزیہ باتوں سے مجھے سخت تکلیف پہنچتی تھی۔ لیکن میں ظاہر یہی کرتی کہ مجھ پر ان کا کچھ اثر نہیں ہوا۔ اگر میں ردعمل دکھاتی، تو یہ طنزیہ گفتگو کرنے والوں کی جیت ہوتی۔
اسی دن مگر میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے تسلیم کرنا ہوگا کہ لوگوں کی باتیں مجھ کو دکھ دیتی ہیں۔ اس فیصلے نے مجھے ذہنی سکون عطا کرڈالا۔ اب مجھے کسی قسم کی اداکاری کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ یوں میں دکھ و غم سے نجات پاکر آزاد ہوگئی۔
(ہیگی رول، سماجی کارکن اور لکھاری)
The post مایوسی کو اُمید میں بدل لیجیے؛ 21 مشورے جو زندگی گزارنا سکھائیں appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » صحت http://bit.ly/2VXKBSH
کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ
لندن: چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا م...
-
کراچی: پاکستان کے شمالی علاقوں ہنزہ، گلگت بلتستان، اسکردو میں پائی جانے والی جنگلی بیری ”سی بک تھورن“ نے اپنی طبی افادیت اور حیرت انگیز خص...
-
It’s been a tough year for our whole world because of everything that’s happening as a result of the coronavirus disease 2019 (COVID-19) pan...
-
سنگاپور سٹی: آنکھوں کو بے شمار بیماریاں لاحق ہوتی ہیں ان میں سے کئی امراض میں آنکھ کے اندر گہرائی تک دوا کی رسائی ضروری ہوتی ہے اسی لیے م...