Saturday, 30 November 2019

یہ مشین الٹراساؤنڈ سے رعشہ ختم کرتی ہے!

شکاگو: اطالوی اور امریکی سائنسدانوں نے دماغی آپریشن کی جگہ خاص طرح کی الٹرا ساؤنڈ لہریں استعمال کرتے ہوئے پارکنسن اور دیگر دماغی امراض کے باعث ہاتھوں اور دوسرے جسمانی حصوں میں رعشہ کا کامیاب علاج کیا ہے۔

اس کامیابی کی تفصیلات گزشتہ دنوں شکاگو میں منعقدہ ’’ریڈیولاجیکل سوسائٹی آف نارتھ امریکا‘‘ کے سالانہ اجلاس میں پیش کی گئیں۔

رعشے کے اس علاج میں جسے ’’الٹرا ساؤنڈ تھراپی‘‘ بھی کہا جاتا ہے، دماغ کے ایک حصے ’’تھیلیمس‘‘ میں ایک مختصر سے مقام کو آواز کی مرکوز لہروں سے گرم کرکے تباہ کیا جاتا ہے (کیونکہ یہ مقام ہی رعشے کی وجہ بنتا ہے)۔

واضح رہے کہ الٹرا ساؤنڈ درحقیقت آواز ہی کی لہریں ہوتی ہیں مگر ان کی فریکوینسی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ انسانی کان انہیں سن نہیں سکتے، جبکہ ’’رعشہ‘‘ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں عام طور پر ہاتھ اور بازو لرزنے لگتے ہیں۔ البتہ، رعشے کی بعض اقسام ایسی بھی ہیں جن میں متاثرہ فرد کا بالائی دھڑ بھی لرزنے لگتا ہے اور وہ شدید اذیت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

پارکنسن یا کسی دوسری دماغی تکلیف کی وجہ سے پیدا ہونے والے رعشے کا علاج عام طور پر دماغی سرجری سے کیا جاتا ہے جس میں کھوپڑی کے اندر باریک سوراخ کرکے دماغ کے متعلقہ حصے میں باریک الیکٹروڈز اتارے جاتے ہیں جو وہاں پر موجود، رعشہ کی وجہ بننے والے حصے کو بجلی کے جھٹکوں سے ناکارہ بنا دیتے ہیں۔ تاہم، دماغی آپریشن کا یہ عمل بہت خطرناک ہوتا ہے جس میں ناکامی کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں الٹرا ساؤنڈ کا استعمال خاصا آسان ہے، لیکن یہ بھی کچھ کم مہنگا نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اس میں دماغ کے تھیلیمس پر الٹراساؤنڈ لہروں کی رہنمائی کرنے کےلیے مقناطیسی گمگ (میگنیٹک ریزونینس) کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے آلات بہت مہنگے ہیں۔ اسی بنا پر یہ ٹیکنالوجی ’’میگنیٹک ریزونینس گائیڈڈ فوکسڈ الٹرا ساؤنڈ‘‘ (MRgFUS) کہلاتی ہے۔ اگرچہ آج یہ ٹیکنالوجی بہت مہنگی ہے لیکن پھر بھی اس میں کامیابی کی شرح بہت زیادہ ہے جبکہ خطرات نہایت کم۔

اگرچہ یہ ٹیکنالوجی آج سے دس سال پہلے وضع کرلی گئی تھی لیکن ایف ڈی اے سے اجازت ملنے کے بعد اس کی آزمائشیں 2015 سے شروع کی گئیں جن میں اس ٹیکنالوجی کو رعشے میں مبتلا مریضوں پر آزمایا جارہا تھا۔ مطالعے کی غرض سے الٹرا ساؤنڈ پر مبنی علاج کو ایسے 39 افراد پر آزمایا گیا جن کی اوسط عمر 64 سال تھی جبکہ وہ سب کسی نہ کسی وجہ سے شدید رعشے میں مبتلا تھے۔ ان سب کی یہ کیفیت کم از کم پچھلے دس سال سے تھی جبکہ اس دوران انہیں کسی علاج سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا تھا۔

الٹرا ساؤنڈ کے استعمال سے ایک طرف تو ان مریضوں کا رعشہ فوری طور پر خاصا کم ہوگیا بلکہ، ایک بار اس عمل سے گزرنے کے بعد، آئندہ تین سال تک بھی ان میں رعشہ بہت کم رہا۔ علاوہ ازیں، اس علاج کے ضمنی اثرات (سائیڈ ایفیکٹس) بھی خاصے معمولی نوعیت کے رہے۔

چونکہ اس ٹیکنالوجی میں الٹرا ساؤنڈ اور ایم آر آئی مشین کو یکجا کیا گیا ہے، اس لیے فی الحال یہ بہت مہنگی ہے۔ لیکن امید ہے کہ آنے والے برسوں میں اسے مزید بہتر اور کم خرچ بنا کر رعشے کے علاج میں اہم پیش رفت کی جاسکے گی۔

The post یہ مشین الٹراساؤنڈ سے رعشہ ختم کرتی ہے! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2OBbudN

پاکستان میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے پھیلاؤ کی شرح 13 فیصد

کراچی: پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج اتوار(یکم دسمبر)کوایچ آئی وی ایڈز وائرس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنے کیلیے عالمی دن منایا جارہا ہے۔

پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ افراد ایچ آئی وی پازیٹو ہیں۔ ان میں سے 36902 افراد رجسٹرڈ ہیں۔نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ افراد ایچ آئی وی پازیٹو ہیں، جن میں سے 36,902 افراد رجسٹراڈ ہیں۔ ان رجسٹرڈ افرا میں سے تقریباً 20994 افراداینٹی ریٹرووائرل علاج کروارہے ہیں۔

صوبے سندھ میں60ہزار سے زائد افراد اس مرض کا شکار ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں 4266 افراد، بلوچستان میں 5000 سے زائد افراد جبکہ پنچاب کے کوئی اعدادو شمارنہیں موجود نہیں۔

سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام کے مطابق کراچی میں سب سے زیادہ ایچ آئی وی ایڈزکے مریض پائے جاتے ہیں۔2015 تک کراچی میں ایڈزکی تشخیض ہونے والے کیسوںکی تعداد 8085 تھی لیکن اب سندھ میں اس کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سندھ میں ان مریضوںکی شرح 8.3فیصد سے تجاوزکرکے 17.7فیصد تک پہنچ گئی ہے۔کراچی اور لاڑکانہ میں اس مرض کا شرح سب سے زیادہ ہے۔

کراچی اور لاڑکانہ میں منشیات کے عادی افراد اور خواجہ سراؤں  میں یہ مرض بہت زیادہ ہے۔ صرف کراچی میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد42 فیصد جبکہ خواجہ سراؤں میں اس کی تعداد20 فیصدہے۔

ایچ آئی وی وائرس کے حوالے سے سندھ کو بدترین صورتحال کا سامنا ہے، 2019 ایچ آئی وی  ایڈز وائرس نے پاکستان کا نام عالمی سطح پر اس وقت ایک بار پھر متاثرکیا جب لاڑکانہ کوایچ آئی وی وائرس نے اپنے لپیٹ میں لے لیا، اس وقت بھی سندھ ایڈزکنٹرول نے حکومت اورعوام کودرست اعداد وشمارظاہرکرنے کی بجائے  چھپائے جس کی وجہ سے صرف لاڑکانہ کی تحصیل رتوڈیرو سمیت دیگر ملحقہ علاقوں میں اس مرض نے وبائی صورت اختیارکی تھی جس پر پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹوکومداخلت کرنا پڑی تھی جس کے بعد بھی سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام نے رتوڈیرو میںکی جانے والی اسکریننگ کا عمل التوا کاشکارکردیا تاکہ حکومت اورعوام کو اسکریننگ کے درست اعداوشمار ظاہر نہ کیے جاسکیں۔

صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سکندر میمن نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایاکہ رواں سال 2019 کے دوران رتوڈیرو میں1195 افراد ایچ آئی وی میں رپورٹ ہوئے ان میں 950بچے بھی شامل ہیں جبکہ لاڑکانہ میں اس وبا کی زد میں آنے والے 13افراد بھی جاں بحق ہوگئے۔

حکومت سندھ نے لاڑکانہ میں ایچ آئی وی وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کے علاج ومعالجے کیلیے رتوڈیرومیں 2 علاج گاہیں بھی قائم کردی ہیں متاثر ہونے والے بچوں کیلیے علیحدہ علاج گاہ قائم ہے جبکہ حکومت سندھ نے متاثر ہونے والے افراد کی فلاح وبہبود اور ان کی بحالی کیلیے ایک ارب روپے کا اینڈومنٹ فنڈ بھی قائم کیا ہے جس کی  چیئرمین صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر عذرا پیچو ہیں،  5رکنی کمیٹی فیصلہ کریگی کہ لاڑکانہ میں ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والے افرادکی کس طرح  مالی مدد کی جائے تاہم ابھی کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوسکا۔

ڈاکٹر سکندر میمن کا کہنا تھا کہ اینڈومنٹ فنڈ سے ملنے والی آمدنی متاثرہ افراد پر خرچ کی جائیگی ، انھوں نے مزید بتایا کہ حکومت سندھ نے سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کو 60کروڑ روپے بھی فراہم کردیئے ہیں جس سے متاثر مریضوں کو ادویات کی فراہمی بھی شروع کردی گئی ہے اوررواں سال 25اپریل سے اب تک لاڑکانہ میں37ہزار5  افرادکی اسکریننگ کا کام مکمل کیاجاچکا ہے۔

انھوں نے لاڑکانہ کی صورتحال کے براے میں بتایا کہ لاڑکانہ کے علاقے رتوڈیرو میں ایچ آئی وی ایڈز کا پہلا کیس 25 اپریل 2019 کو رپورٹ ہوا اور بڑے پیمانے پر اس کی اسکریننگ کا مرحلہ 25اپریل کو شروع کیاگیا۔

رواں سال لاڑکانہ میں 37,272 افرادکی ایچ آئی وی اسکریننگ کی گئی جس میں سے 1195 افرادکوایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی جبکہ سندھ کے دیگر اضلاع کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کی مارچ 2019کی اعدادوشمار کے مطابق صوبے سندھ میں15876 افراد اس مرض میں متبلا ہیں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی ایک  رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ پاکستان میں 13 فیصدکے ساتھ ایچ آئی وی اور ایڈزکے بڑھنے کی شرح  دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2010 میں پاکستان میں 1000 مریضوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص کی شرح 0.08 فیصد تھی جو سال 2018 میں بڑھ کر 0.11 فیصد ہوگئی۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ مریضوںکی تعداد 1 لاکھ 60 ہزار ہے۔

 

The post پاکستان میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے پھیلاؤ کی شرح 13 فیصد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/37Q3Pjs

Medical News Today: Do past medicines hold the answer to antibiotic resistance?

As the effectiveness of antibiotics wanes, scientists are looking at medications that preceded them, such as those involving metals and metalloids.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2R3wueO

Medical News Today: Cancer survivors report an information gap in treatment side effects

According to a survey of people who had undergone treatment for cancer, about one-third wished that they had received more information on the side effects.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2rCqLCj

Medical News Today: Causes and treatment of a split lip

A split lip is a common minor injury with a range of possible causes, including cold weather, skin picking, and dehydration. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2R4jqWE

Medical News Today: What to know about tooth extraction

A person may need a tooth extraction for various reasons. Here, learn about the different types of extraction and what to expect during and after the procedure.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2q3TG1w

Medical News Today: Causes of right shoulder and arm pain

There are several potential causes of right shoulder and arm pain. Read on to find out the various causes and when to see a doctor.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2P0S7d0

Medical News Today: Constipation in breastfeeding babies: What to know

Constipation is very uncommon in breastfed babies, but it does sometimes happen. Learn about the causes and treatment of constipation in breastfed babies here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2qPiOcW

جوڑوں پر دباؤ ناپنے والی اسمارٹ پٹی

جرمنی: گٹھیا کے مرض میں خصوصاً گھٹنے بہت شدید تکلیف دیتے ہیں، اب گھٹنوں میں دباؤ ناپنے والی ایک الیکٹرونک پٹی بنائی گئی ہے جو گھٹنے میں مسلسل دباؤ یعنی اسٹریس (اسٹریشن) کو نوٹ کرتی رہتی ہے۔

جرمنی کے کارل سراہے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف بریمن نے مشترکہ طور پر یہ بینڈیج بنائی ہے اور اسے ’اینتھرو کائنامیٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ حقیقی وقت میں گھٹنے کے اندر بننے والے دباؤ کو نوٹ کرتی رہتی ہے اور کسی بھی مشکل صورتحال سے خبردار کرسکتی ہے۔

گٹھیا کے مرض میں جوڑوں کی لجلجی ہڈی (کارٹیلج) ٹوٹ پھوٹ اور گھساؤ کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہڈیاں براہِ راست ایک دوسرے پر رگڑنے لگتی ہیں اور یوں درد کی شدت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ بعض دوائیں اور ورزش اس میں فائدہ پہنچاتی ہیں لیکن یہ عارضہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی جاتا ہے۔

اس ایجاد میں کئی طرح کے سینسر لگے ہیں جو ہر طرح سے گھٹنے کی حرکت کو نوٹ کرتے ہیں۔ یہ ڈیٹا فوری طور پر ایک مائیکرو پروسیسر میں جاتا ہے جس سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ گھٹنے میں دباؤ کی کتنی شدت ہے اور کس طرح سے وہ صورتحال کو مزید بگاڑسکتی ہے۔

کسی بھی قسم کی خرابی اور غلط انداز سے گھٹنے کو حرکت دینے کی صورت میں سینسر اسمارٹ فون کو ایپ کے ذریعے فوری طور پر خبردار کرتی ہے۔ اسی طرح حفاظتی اقدامات اور دواؤں وغیرہ سے بھی آگاہ کرتی ہے۔ یہ سافٹ ویئر مشین لرننگ سے سیکھتا ہے اور مرض کی پیشگوئی بہتر سے بہتر بناسکتا ہے۔

The post جوڑوں پر دباؤ ناپنے والی اسمارٹ پٹی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Y4gUkx

بلوچستان میں ایڈز کی مریضوں کی تعداد 6 ہزار سے تجاوز کرگئی، محکمہ صحت

کوئٹہ: صوبائی ڈائریکٹرجنرل محکمہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 6000 سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔ 

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی ڈی جی محکمہ صحت بلوچستان ڈاکٹر کمالان گچکی نے انکشاف کیا کہ صوبے میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 6 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، ایڈز کے عالمی دن پر آگاہی کے حوالے سے کل عوامی فیسٹیول کا انعقاد کیا جائےگا ۔

ڈی جی محکمہ صحت کے مطابق رواں برس کوئٹہ میں 1035 افراد میں ایڈز کے مریضوں کی تشخیص ہوئی، رواں برس ایڈز میں مبتلا حاملہ خواتین کی تعداد50 تک جا پہنچی، 9 جیلوں میں اسکیننگ کے دوران 36 قیدیوں میں ایڈز کا وائرس پایا گیا جب کہ 20خواجہ سراہوں میں بھی مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔

The post بلوچستان میں ایڈز کی مریضوں کی تعداد 6 ہزار سے تجاوز کرگئی، محکمہ صحت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2spcU2m

Friday, 29 November 2019

اندازِ تحریر سے پارکنسن کی پیش گوئی کرنے والا ٹیسٹ

 میلبورن: پارکنسن کا مرض ابتدائی درجے میں تحریر کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے اور طرزِ تحریر سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کیا کوئی شخص مستقبل میں اس مرض کا شکار ہوسکتا ہے یا نہیں۔

انہی خطوط پر تحقیق کے بعد آسٹریلوی ماہرین نے ایک سافٹ ویئر بنایا ہے جو لکھائی کے نمونوں کو دیکھ کر فوری طور پر یہ بتاتا ہے کہ کس شخص میں پارکنسن کا خطرہ موجود ہے۔ اس بنا پر شناخت ہونے کے بعد مرض کے بہتر علاج کی راہیں کھلیں گی۔

آسٹریلوی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کسی شخص کو کئی پہلوؤں سے لکھوایا جائے تو اس کی لکھائی کو بغور دیکھ کر ہی پارکنسن جیسے مرض کو قبل ازوقت بھانپا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے ماہرین نے الزائیمر کی شناخت کےلیے ایسا ہی سافٹ ویئر بنایا تھا جس کی آزمائش بھی جاری ہے اور اب انہوں نے ایک کاروباری کمپنی سے اس کا معاہدہ کیا ہے ۔ اس کے بعد توقع ہے کہ یہ ٹیسٹ 2022 تک پوری دنیا میں دستیاب ہوسکے گا۔

ہم جانتے ہیں کہ ابتدائی درجے میں پارکنسن کا مرض شناخت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور جب حتمی طور پر یہ مرض سامنے آتا ہے تو اس وقت تک علاج مشکل ہوچکا ہوتا ہے۔ اگر تحریر سے یہ مرض شناخت ہوسکے تو ابتدائی درجے میں ہی اس کا علاج کرکے مرض کی شدت اور کیفیت کو کم کیا جاسکتا ہے۔

اس وقت پارکنسن کی شناخت کے لیے بہت دلچسپ ٹیسٹ بھی کئے جارہے ہیں جن میں آنکھوں ، سونگھنے کی حس اور آنسوؤں کے ٹیسٹ بھی شامل ہیں۔

آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے پروفیسر دنیش کمار کے مطابق پارکنسن کا مرض انسانی ہاتھوں کی حرکات کو بھی متاثر کرتا ہے اور تحریر کے انداز سے اس کی ہلکی سی شدت بھی معلوم کی جاسکتی ہے۔ اس مرحلے میں مریض کا علاج قدرے آسان ہوجاتا ہے۔ ایسے مریض لکھتے ہوئے کانپتے ہاتھوں سے الفاظ درج کرتے ہیں۔

سائنسدانوں نے جو ٹیسٹ بنایا ہے اس پر مریض کو ایک ٹیبلٹ پر کچھ لکھنے کو کہا جاتا ہے اور کچھ خاکے بنوائے جاتے ہیں۔ سافٹ ویئر حقیقی وقت میں مریض کی کیفیت ناپتا رہتا ہے۔ آرایم آئی ٹی کا دعویٰ ہے کہ ان کا سافٹ ویئر 93 فیصد درستگی سے پارکنسن کی پیشگوئی یا تشخیص کرسکتا ہے۔

اس ٹیسٹ میں سات مختلف طریقے سے مریض اپنی تحریر لکھتا ہے جسے سافٹ ویئر پڑھتا ہے اور اپنا تجزیہ دیتا ہے۔

The post اندازِ تحریر سے پارکنسن کی پیش گوئی کرنے والا ٹیسٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Ozfony

Medical News Today: Everything you need to know about fluoride treatment

Fluoride treatment may offer benefits to those at risk of tooth decay. Natural health advocates, however, question the safety of fluoride. We look at the benefits and side effects of fluoride and fluoride treatment.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2r1zU7p

Medical News Today: Vitamins and supplements for athletes

Many athletes look for safe and efficient ways to boost their performance. In this article, we look at six vitamins and supplements that may help.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OQsf3u

Medical News Today: Tips for healing a sprained ankle fast

An ankle sprain is an injury to ligaments in the ankle. Read on to learn about first aid and long-term methods of supporting recovery.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OxHEqv

Medical News Today: What to know about newborn respiratory rates

A newborn’s respiratory rate may vary, but it should fall within a healthy range. Here, learn about this range and what to do if the rate is faster or slower.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/35JK4Z0

Medical News Today: What does it mean when acne is itchy?

Acne can cause pain and skin irritation, but is it normal for acne bumps to itch? Here, we discuss the causes and treatment of itchy acne.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/37Sk4MK

Medical News Today: How fruit and vegetable compounds help prevent colorectal cancer

While scientists have known for some time that flavonoids can help fight colorectal cancer, the mechanisms have not been clear. Now, a study has found one.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/37QuZqz

Medical News Today: Letter from the Editor: Feeling grateful

Thanksgiving is a time to express gratitude. In this month's letter, Managing Editor Honor talks about the importance of gratitude all year round.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/33yUR6R

Medical News Today: Do soft drinks affect women's bone health?

People in the United States drink more than almost every other country. A new study asked if this might impact the bone health of postmenopausal women.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/33yiywb

Medical News Today: Fixing bird wings with sheep bones

The current method of fixing broken bird bones is not ideal. A recent study investigates whether pins made of dog or sheep bone might be more effective.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OVBJL9

Medical News Today: One ketamine shot could help heavy drinkers cut down

An experimental study shows that a single shot of ketamine helps reduce drinking cravings, particularly after the retrieval of associated reward memories.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OVOEfZ

Medical News Today: Black tongue: Causes and what to do

Black tongue is a temporary and harmless condition in which the tongue appears to be covered in hair. In this article, learn about the causes of black tongue, as well as how to treat and prevent it.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/33zrSj8

Medical News Today: What to know about blood thinners for heart disease

Blood thinners help reduce the risk of blood clots and heart disease. Learn more about the different types and their effects in this article.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Ovh4yn

Medical News Today: When should I use a humidifier vs. a vaporizer?

Humidifiers and vaporizers are two options for adding moisture to the air. This article provides guidance about which one to choose for different uses and why.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OwQnJL

Medical News Today: Should people use tea tree oil on piercings?

Tea tree oil is a natural antibacterial and anti-inflammatory substance. Some sources suggest that it can help with piercings and keloid scars. Learn more about tea tree oil for piercings here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/33wWu51

باقاعدہ ورزش موروثی ڈپریشن کو بھی دور کرتی ہے، تحقیق

بوسٹن: ایک تحقیقی سروے سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ 35 منٹ کی چہل قدمی یا ورزش موروثی دماغی تناؤ یا ڈپریشن کو بھی دور کرتی ہے خواہ وہ آپ کے بزرگوں کی جانب سے آپ کے جین میں ہی کیوں نہ شامل ہوں۔

تحقیقی جرنل ڈپریشن اینڈ اینزائٹی میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بوسٹن میں واقع میسا چیوسیٹس جنرل ہسپتال کے قومی رجسٹری اور بایو بینک سے 8 ہزار مریضوں کا ڈیٹا حاصل کیا گیا۔ اس میں تمام مریضوں کا جینیاتی ریکارڈ، دیگر امراض اور ورزش کے متعلق معلومات حاصل کی گئیں۔ اس تحقیق سے لوگوں کی نفسیاتی صحت، جینیات اور طرزِ زندگی کے دوران تعلق جاننے میں مدد ملی ہے۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ کرمل چوئی نے دوسال تک ڈیٹا کا مشاہدہ کیا جس میں لوگوں میں ڈپریشن کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ سائنسدانوں نے ہر شخص کے جینیاتی خواص کی بنا پر مستقبل میں کسی ذہنی تناؤ کی پیشگوئی پر بھی کام کیا ہے۔

جن افراد کے جین میں ڈپریشن کا خدشہ زیادہ تھا اگلے دو برس میں کسی نہ کسی موقع پر ان میں ڈپریشن پیدا ہوا لیکن عین اسی طرح کے جینیاتی خواص رکھنے والے وہ افراد جو باقاعدگی سے ورزش کرتے تھے ان میں ڈپریشن کی بہت کم علامات دیکھی گئیں مگر ان میں اس کیفیت میں مبتلا ہونے کا خطرہ بہت زیادہ تھا۔

اس طرح معلوم ہوا کہ فی ہفتے 4 گھنٹے ورزش کرنے والوں میں ڈپریشن کا خدشہ 17 فیصد تک کم ہوگیا۔ اگر شرکا نے یوگا اور جسم کو کھینچنے والی اسٹریچنگ جیسی ہلکی پھلی ورزشیں کی تھیں ان میں بھی اس کے بہترین نتائج برآمد ہوئے۔

اس طرح تحقیق سے معلوم ہوا دنیا پھر میں ہر 10 میں سے ایک شخص کسی نہ کسی طرح کے ڈپریشن کا شکار ہے اور یوں اس مرض نے دنیا بھر کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے لیکن جسمانی سرگرمی، یوگا، ایئروبکس اور جاگنگ وغیرہ سے ڈپریشن کو کم کیا جاسکتا ہے۔

The post باقاعدہ ورزش موروثی ڈپریشن کو بھی دور کرتی ہے، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2rz9km6

Thursday, 28 November 2019

تیمارداروں کو اپنا خیال رکھنے کی بھی اشد ضرورت ہے، ماہرین

نیویارک: نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ مسلسل کسی کی تیمارداری میں مصروف ہیں تو آپ کو خود اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنے کی بھی اشد ضرورت ہے ورنہ ڈپریشن اور بے جا اضطراب (اینگژائٹی) جیسے دماغی مسائل کےلیے تیار رہیے۔

حالیہ مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر کوئی شخص لمبے عرصے تک کسی ایک ہی فرد کی مسلسل تیمارداری میں مصروف رہے اور اپنے آپ پر مناسب توجہ نہ دے تو وہ خود بھی مختلف نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوسکتا ہے جن میں ڈپریشن اور اضطراب سرِفہرست ہیں۔

طویل عرصے تک مسلسل تیمارداری کرنے والے 40 سے 70 فیصد افراد میں ڈپریشن کی نمایاں علامات دیکھی گئی ہیں جبکہ 25 سے 50 فیصد تیماردار شدید ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ بات نہ ان کی صحت کےلیے بہتر ہے اور نہ ہی اس بیمار فرد کےلیے کہ جس کی تیمارداری وہ کررہے ہیں۔

’’اپنا خیال رکھنے کےلیے وقت نکالنا خود غرضی نہیں، بلکہ ایسا کرنے سے آپ میں اپنے پیاروں کا خیال رکھنے کی ہمت مضبوط ہوتی ہے۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ تیماردار خود اپنی ذہنی و جسمانی صحت کا خیال رکھے،‘‘ ڈاکٹر ویسولیوس لاتوساکس نے کہا جو نیویارک سٹی کے گریسی اسکوائر ہاسپٹل میں نفسیاتی معالج بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طویل عرصے تک مسلسل تیمارداری کرنے والوں کو ہر وقت شدید اعصابی تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو نیند کے مسائل، سر میں درد، دل کے مسائل، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے میں اضافے اور ذیابیطس خطرات کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس لیے اگر کسی تیماردار کو اعصابی تناؤ محسوس ہونے لگے، تو اسے فوراً کسی اچھے نفسیاتی معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔

پاکستان کی مناسبت سے تیمارداروں کے مسائل کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اس حوالے سے صرف ایک مطالعہ ہی دستیاب ہے جو ’’جرنل آف پاکستان سائیکیاٹرک سوسائٹی‘‘ کے ششماہی تحقیقی مجلے کے شمارہ جنوری تا جون 2010 میں شائع ہوا تھا۔ اس میں بھی صرف 100 تیمارداروں کا تجزیہ کرنے کے بعد نہایت مبہم انداز میں ڈپریشن اور اینگژائٹی کے ایسے ہی مسائل بیان کیے گئے تھے۔

The post تیمارداروں کو اپنا خیال رکھنے کی بھی اشد ضرورت ہے، ماہرین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2rzlbk4

Medical News Today: What to know about angioplasty

Angioplasty is a medical procedure that opens a blocked or narrowed artery close to the heart. Learn about the procedure, the types, recovery, and risks here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2L3o8jQ

Medical News Today: What causes pain under the left armpit?

Causes of pain under the left armpit can range from minor skin infections to nerve damage. Learn about these and other causes, as well as when to see a doctor.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/34sdGdi

Medical News Today: What does high blood pressure in the morning mean?

Some people may have abnormally high blood pressure in the morning. Here, learn about its causes and treatment, as well as how to measure blood pressure at home.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2XUAO1s

Medical News Today: What is obsessive-compulsive personality disorder?

Obsessive-compulsive personality disorder (OCPD) causes a person to feel an overwhelming need for order. Read about the symptoms, causes, and treatment of OCPD here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2L1mwHh

Medical News Today: Humans and autoimmune diseases continue to evolve together

As humans have evolved the ability to fight pathogens, these same adaptations have led to the emergence of inflammatory diseases, new research suggests.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2L3tiMr

Medical News Today: Through my eyes: Living with an invisible illness

My name is Sylvia Arotin, and I have an invisible illness. This is my story of living with dysautonomia, and why I won't let it get in the way of my dreams.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Otjb5F

Medical News Today: Board games may stave off cognitive decline

Newly published research finds a strong association between playing non-digital games and experiencing less cognitive decline in older age.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2QY3s0c

Medical News Today: How personality traits affect the placebo response

In a recent review, the authors attempt to identify personality traits that enhance the placebo effect. It seems that optimism is particularly important.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2qJ0FNV

Medical News Today: Causes and removal of eyelid skin tags

Having skin tags develop on the eyelids can be irritating. Learn about why they develop, as well as how to remove them safely and effectively, here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/34vR9w3

Medical News Today: What to know about salpingectomy

Salpingectomy is the surgical removal of one or both fallopian tubes. Here, learn about the reasons for this surgery, what to expect, and more.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OwR1qN

Medical News Today: Vasectomy side effects: Everything you need to know

A vasectomy is a common surgical procedure that works as an effective form of male contraception. We look at side effects, risks, and recovery following on from the procedure.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2L4m5Mm

Medical News Today: What to know about diphallia (double penis)

Diphallia, or double penis, is a very rare genetic condition. Learn about its symptoms, causes, and treatment options, as well as its effects on a male's life, here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OsODBi

دنیا کے 80 فیصد بچے سستی اور کاہلی کے شکار ہیں، تحقیق

جنیوا: عالمی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 11 سے 17 سال کی عمر کے 80 فیصد بچے بہت کم جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں جس سے ان کی ذہنی اور جسمانی، دونوں طرح کی نشوونما متاثر ہورہی ہے۔

واضح رہے کہ بڑھتے بچوں میں 11 سے 17 سال تک کا زمانہ ’’نوبلوغت‘‘ بھی کہلاتا ہے کیونکہ اسی دوران وہ بچپن سے آگے بڑھ کر بالغ ہونے کی سمت بڑھتے ہیں۔ یہ مرحلہ 16 سے 17 سال تک کی عمر تک مکمل ہوجاتا ہے جس کے بعد ’’جوانی‘‘ کا زمانہ شروع ہوتا ہے۔

نوبلوغت کو اس وجہ سے بھی اہمیت دی جاتی ہے کہ اس دوران بچوں میں جسمانی، دماغی، نفسیاتی اور جذباتی طور پر کئی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جو بالغ ہونے تک مکمل ہوجاتی ہیں۔ تاہم، اگر ان تبدیلیوں میں کسی بھی وجہ سے رکاوٹ آجائے یا ان کی سمت صحیح نہ رہے تو پھر یہ ساری زندگی کا مسئلہ بن کر رہ جاتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ نوبلوغت کے مرحلے پر بچوں کو روزانہ کم سے کم ایک گھنٹے تک جسمانی سرگرمیوں میں ضرور مصروف رہنا چاہیے، خواہ وہ اوسط درجے کی ہوں یا شدید نوعیت کی۔ لیکن حالیہ مطالعہ اس حوالے سے تشویشناک صورتِ حال پیش کررہا ہے۔

معروف طبی تحقیقی جریدے ’’دی لینسٹ چائلڈ اینڈ ایڈولیسینٹ ہیلتھ‘‘ کے تازہ شمارے میں ماہرین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے 146 ممالک کے 16 لاکھ بچوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جو 2001 سے 2016 کے دوران جمع کیے گئے تھے۔ اس تجزیئے کی روشنی میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں نوبلوغت کے مرحلے سے گزرنے والے 81 فیصد بچے روزانہ ضروری جسمانی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے رہے اور کسی نہ کسی وجہ سے سستی اور کاہلی میں مبتلا ہیں۔

یہ صورتِ حال اس وجہ سے تشویشناک ہے کیونکہ 11 سے 17 سال کی عمر میں بچے کی درست نشوونما کا انحصار بڑی حد تک ان جسمانی سرگرمیوں پر بھی ہوتا ہے کہ جن میں وہ روزانہ حصہ لیتا ہے؛ اور اگر عمر کے اس حصے میں بچے کی نشوونما متاثر ہوجائے تو اس کے منفی اثرات ساری زندگی برقرار رہتے ہیں۔

اسی مطالعے میں دوسرا اہم انکشاف یہ بھی ہوا کہ نوبالغ لڑکوں کے مقابلے میں نوبالغ لڑکیوں میں جسمانی سرگرمیوں (ورزش اور کھیل کود وغیرہ) میں حصہ نہ لینے کی شرح اوسطاً 10 فیصد زیادہ تھی۔ یہ رجحان صرف چار ممالک (ٹونگا، ساموآ، افغانستان اور زیمبیا) میں نہیں دیکھا گیا۔ علاوہ ازیں، 2001 سے 2016 تک، جسمانی سرگرمیوں کے حوالے سے لڑکوں اور لڑکیوں میں فرق بھی مسلسل بڑھتا گیا، جو 2016 میں 90 فیصد تک پہنچ گیا۔

اس مطالعے کے مصنفین نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ نوبالغ بچوں میں جسمانی سرگرمیاں بڑھانے اور عالمی ادارہ صحت کے مقرر کردہ اہداف حاصل کرنے پر خصوصی توجہ دیں کیونکہ یہ سنگین مسئلہ کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ ساری دنیا کی نئی نسل کا ہے جسے آنے والے برسوں میں باگ ڈور سنبھالنی ہے۔

The post دنیا کے 80 فیصد بچے سستی اور کاہلی کے شکار ہیں، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2XV8qMy

Wednesday, 27 November 2019

فضائی آلودگی بصارت اور یادداشت کے لیے بھی خطرناک

 لندن: فضائی آلودگی کی تباہ کاریوں سے ایک دنیا پریشان ہے لیکن اب بری خبر یہ ہے کہ انتہائی آلودہ فضا میں مسلسل رہنے والے افراد میں دیگر کےمقابلے میں نابینا پن کی وجہ بننے والے ایک خطرناک مرض گلوکوما یا سبز موتیا کے زیادہ شکار ہوسکتے ہیں۔  

دوسری جانب ایک اور تحقیق میں فضائی آلودگی کو یادداشت کے لیےبھی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین نے اس کی ناقابلِ تردید وضاحت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ فضا میں آلودہ ذرات سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں جاتے ہیں اور وہاں سے خون میں پہنچتے ہیں ۔ جب وہ آنکھوں کی باریک رگوں تک آتے ہیں تو دھیرے دھیرے خون کی نالیوں کو مزید تنگ کردیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ بصارت میں کمی اور گلوکوما کی صورت میں نکلتا ہے۔

اس ضمن میں یونیورسٹی کالج آف لندن کے سائنسدانوں نے برطانیہ کے بایوبینک سے 111,370 کا ڈیٹا لیا اور مسلسل چار سال تک ان افراد کے آنکھوں کے ٹٰیسٹ لیے گئے۔ ان تمام شرکا کے گھر کے پاس فضائی آلودگی اور دیگر کیفیات کا جائزہ بھی لیا گیا ۔ آخر میں ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر کوئی فرد مسلسل فضائی آلودگی والی جگہہ پر رہائش اختیار کرتا ہے تو اس میں عمر کے ساتھ ساتھ گلوکوما کے خطرات میں چھ فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔

واضح رہے کہ سبزموتیا کا علاج بہت مشکل ہوتا ہے اور یہ اب بھی نابینا پن کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔

ایک اور مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ فضائی آلودگی دماغ میں کچھ ایسی تبدیلیاں پیدا کرتی ہے جس سے یادداشت میں کمزوری کے ساتھ ساتھ الزائیمر جیسے مرض کو بھی بڑھاوا ملتا ہے۔

یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے کیک اسکول آف میڈیسن کے پروفیسر اینڈریو پیٹکس اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہےکہ فضائی آلودگی اور یادداشت متاثر ہونے کا سائنسی تعلق دریافت ہوا ہے۔ جسے شماریاتی ماڈل قرار دیا گیا ہے۔

اگرچہ اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے لیکن فضائی آلودگی انسانی دماغ میں ایسی بنیادی تبدیلیاں پیدا کرتی ہے جو کمزور حافظے کی وجہ بن سکتی ہے۔

The post فضائی آلودگی بصارت اور یادداشت کے لیے بھی خطرناک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2OuTe65

پھلوں کے ذریعے صحت مند بنیے

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ رنگ برنگے، رسیلے پھل اللہ کی خاص نعمتوں میں سے ہیں۔ پاکستان میں ہر طرح کے موسمی پھل دستیاب ہیں۔ پھلوں میں تمام غذائی اجزاء، وٹامنز اور معدنیات وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ پھل کھانے سے آدمی تندرست و توانا رہتا ہے۔

مثل مشہور ہے کہ سیب کا روزانہ استعمال ڈاکٹر اور بیماری سے دور رکھتا ہے۔ بیماری کے دوران پھلوں کے استعمال کی خاص طور پر تاکید کی جاتی ہے۔ کیلا، آڑو، ناشپاتی کا استعمال ہائی بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے کیونکہ ان پھلوں میں پوٹاشیم ہوتا ہے جو بلڈ پریشر کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔

صحت مند اور تروتازہ رہنے کے لیے تازہ اور رس بھرے پھلوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ ذیل میں عوام الناس کی رہنمائی کے لیے مشہور پھلوں کے خواص اور ان کے استعمال کے فوائد اور مختلف بیماریوں کے دوران ان کے استعمال کے بارے میں ضروری معلومات دی جا رہی ہیں:

کھجور:

کھجور میں بے حد غذائیت ہے، تازہ خون پیدا کرتی ہے، ہاضم ہے۔ معدہ، جگر اور باہ کو قوت بخشتی ہے، جسم کو فربہ کرتی ہے، لقوہ اور فالج جیسے امراض میں بہت مفید رہتی ہے۔ کھجور میں تمام غذائی اجزاء، وٹامنز اور معدنیات شامل ہوتے ہیں۔

کھجور کی گٹھلیاں بھی کئی امراض کا علاج ہیں۔ مثلاً اسہال بند کرتی ہیں۔ جلی ہوئی گٹھلیوں کا سفوف بہتا ہوا خون بند کر دیتا ہے اور زخم کو صاف کرتا ہے، اس سفوف کو بطور منجن استعمال کرنے سے دانت مضبوط ہوتے ہیں۔ (کتاب المفردات)

علماء نے لکھا ہے کہ مدینہ شریف کی کھجوروں میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ دل کے درد، دل کے دورے کے لیے مفید ہوتی ہیں۔ احادیث میں ہے کہ جو شخص مدینہ کی سات کھجوریں صبح کھایا کرے اس کو زہر اور جادو کبھی اثر نہیں کرے گا۔ کھجور کے دیگر فوائد درج ذیل ہیں:

-1جسمانی کمزوری کے لیے خاص طور پر جب کسی کو کچھ عرصہ کھانے کو نہ ملے تو توانائی جلد بحال کرنے کے لیے کھجور کا باقاعدہ استعمال کیا جائے۔ -2دبلا پن دور کرنے کے لیے کھجور کے ساتھ کھیرا، ککڑی، تربوز اور آلو کا استعمال کریں۔ -3پیٹ کے کیڑے مارنے کے لیے نہار منہ کھجور کھائیں۔ -4گردوں، مثانہ، پتہ، آنتوں میں قولنجی دردوں کو دور کرنے کے لیے بکثرت کھجور استعمال کریں۔

انجیر:

خوش ذائقہ پھل ہے۔ اس کا ذکر قرآن پاک میں بھی ہے۔ جلد کی بیماریوں میں مفید ہے، انجیر کھانے سے معدہ اور جگر ٹھیک کام کرتے ہیں، ورم تلی دور ہوتا ہے۔ گلے کی خراش کے لیے دو  دانے کھائیں، سخت پھوڑے کے لیے دودھ میں انجیر پکا کر پلٹس باندھیں۔ اس سے جلدی گندا مواد نکل آئے گا۔ بچے کے سر پر بال نہ ہوں انجیر کی چھال اور سمندری جھاگ پیس کر گاڑھا لیپ کریں۔ انجیر کھانے سے بچوں کا قد بڑھتا ہے۔ بوڑھے روزانہ تین، چار دانے دودھ کے ساتھ کھائیں، نظر تیز ہوگی۔ تازہ انجیر توڑنے پر سفید دودھ نکلتا ہے۔ یہ دودھ برص Leucoderma کے داغوں پر لگانے سے نشانات مٹ جاتے ہیں۔

انگور:

انگور مزے دار پھل ہے اور اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ منقیٰ سوکھا انگور دردوں میں مفید ہے۔ درد شقیقہ میں انگور کا جوس آہستہ آہستہ پئیں افاقہ ہوگا۔ بچوں کو رس پلائیں دانت آسانی سے نکلیں گے۔ زیادہ چکر آتے ہوں اور دماغ گھومتا ہوا محسوس ہو تو انگور اور اس کا رس چکر کم کرنے کے لیے مفید ہے۔ اس کی لکڑی جلا کر پانی کے ساتھ پینے سے گردے کی پتھری نکل جاتی ہے۔ کٹھے ڈکار، گیس کی شکایت اور تیزابیت دور کرنے کے لیے دن میں دو، تین  بار انگور کھائیں۔

پپیتا:

پپیتا قدرت خداوندی کا انمول تحفہ ہے۔ اس کے پتوں کا رس ڈینگی بخار کا موثر علاج ہے اور اس سے خون میں پلیٹلٹس کی مقدار فوراً بڑھ جاتی ہے۔ پپیتا کا پھل پیٹ کی بیماریوں کے لیے اکسیر ہے۔ پھوڑا پھنسی ٹھیک نہ ہو رہا ہو تو اس کے اوپر پپیتا کاٹ کر باندھیں جلد ہی اس سے گندہ مواد نکل آئے گا۔ تلی کے ورم میں کچے پپیتہ کا گودا لیں اور سیاہ مرچ، نمک، لیموں نچوڑ کر کھلائیں۔ پپیتا کھانے سے جلد، دانت، ہڈیوں کی بیماریوں میں فائدہ ہوتا ہے۔ پتے ابال کر اعصابی دردوں اور جوڑوں پر باندھیں آرام آئے گا، قبض کشا ہے، کچے پپیتے کا دودھ داد پر لگائیں، تو چند روز میں ٹھیک ہو جائے گا۔ بچھو کاٹ لے اس کا تازہ دودھ لگائیں، آرام آئے گا۔ پیٹ میں اپھارہ، ریاح، درد میں پپیتا یا کچے پپیتے کا پوڈر ایک چٹکی بھر کھلائیں۔ کھانے کے ساتھ پپیتا ضرور استعمال کریں۔ پیٹ پر کبھی بوجھ نہیں پڑے گا۔

رس بھری:

رس بھری کے کھانے سے بلڈ پریشر کم، کمزوری دور اور پیٹ و آنتوں کے کیڑے ختم ہو جاتے ہیں۔

سٹریس پھل:

سٹریس پھل میں سنگترہ، مالٹا، میٹھا، نارنگی، کینو، گریپ فروٹ وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے کھانے اور جوس پینے سے وٹامن سی کی کمی سے پیدا ہونے والی بیماری سکروی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے۔ ذیابیطس کے لیے مفید ہے۔ سنگترہ پیٹ کی تیزابیت ختم کرتا ہے اور جگر کے افعال کو ٹھیک رکھتا ہے۔ مالٹے اور سنگترے کھانے سے پیٹ کی بیماریوں سے نجات ملتی ہے۔ منہ سے آنے والی بدبو اور کھٹے ڈکار ختم ہو جاتے ہیں۔

سیب:

مثل مشہور ہے کہ ’’ایک سیب روزانہ کھانے سے آدمی صحت مند، چست و توانا رہتا ہے۔ یہ جگر کو طاقت دیتا ہے۔ گھبراہٹ دور کرتا ہے۔ نیا خون بناتا ہے۔ خون میں کولیسٹرول کم کرنے کے لیے چھلکے سمیت کھائیں۔ سیب کینسر کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے۔ قبض کشاء ہے، اس کے کھانے سے جسم کے تمام نظام اور افعال ٹھیک رہتے ہیں۔

اس کے جوس میں مصری ملا کر پینے سے کھانسی دور ہوتی ہے، دماغی کمزوری اور بلڈ پریشر میں مفید ہے، ایرانی سیب ذیابیطس میں مفید ہے۔ نشہ کی عادت دور کرتا ہے، اس کے لیے دن میں کئی بار سیب کھلائیں اور نشے کی یا شراب کی مقدار کم کرتے جائیں، عادت بالکل چھوٹ جائے گی۔ سیب کے چھلکوں کی چائے میں لیموں ڈال کر پینا مفید ہے۔ سیب کا باقاعدہ استعمال خون کی نالیاں صاف کرتا ہے، معدے کا السر ٹھیک کرتا ہے، پٹھوں اور دماغ کے لیے سیب کا جوس اکسیر ہے۔ بھوک نہ لگے اور پیاس زیادہ ہو تو سیب کھائیں۔ ان شاء اللہ افاقہ ہوگا۔

انناس:

انناس کا خوبصورت پھل دیکھ کر فوراً اسے کھانے کو دل کرتا ہے۔ انناس پیشاب آور ہے۔ باقاعدہ کھانے سے گردے مثانے کی پتھریاں اور جسم میں موجود مضر صحت مادے سب خارج ہو جاتے ہیں۔ یرقان میں کھلانے سے جگر کے افعال درست ہو جاتے ہیں۔ جن عورتوں کے حمل بار بار گرتے ہیں انہیں چاہے کچا انناس کھلائیں یا پکا انناس دیں۔

حمل میں کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔ جسم میں موجود مضر صحت گلٹیوں کا خاتمہ کرتا ہے۔ گلے کا غدود بڑھ جانے کی وجہ سے کھانے کی نالی پر دباؤ ہوتا ہے اور کھانا پینا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ آیوڈین کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انناس میں آیوڈین ہوتی ہے۔ اس لیے اس مرض میں انناس کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے کھانے سے دردیں دور ہوتی ہیں اور بلڈ پریشر نارمل رہتا ہے۔ دل و دماغ کو طاقت ملتی ہے۔ انناس پیاس بجھاتا ہے۔ کھانسی زکام میں فائدہ دیتا ہے۔ اگر طبیعت گھبرائے کام میں دل نہ لگے تو مزے لے لے کر انناس کھائیں۔ طبیعت میں فرحت اور تازگی آئے گی۔

شریفہ:

شریفہ خوش ذائقہ پھل ہے۔ یہ دل کو طاقت دیتا ہے۔ گھبراہٹ اور چڑچڑا پن دور کرتا ہے۔ پیشاب کی تکالیف دور کرتا ہے۔ وہم دور کرتا ہے۔ پیچش میں فائدہ دیتا ہے، خون کی نالیاں صاف کرتا ہے۔ دماغ اور پٹھوں کے لیے اکسیر ہے۔ شریفہ کھانے سے معدے کا السر ٹھیک ہوتا ہے۔

شہتوت:

شہتوت کا خوبصورت اور فرحت بخش پھل کھانے سے طبیعت ایک دم بحال ہو جاتی ہے۔ اس کی سینکڑوں اقسام ہیں۔ بعض اقسام تو ایسی ہیں کہ شہتوت کا داد منہ میں رکھتے ہی شیرینی کی طرح گھل جاتا ہے اور مزید کھانے کو دل کرتا ہے۔ منٹوں میں پلیٹ صفا چٹ ہو جاتی ہے۔ شہتوت کا پھل بیماریوں سے پیدا شدہ گندے مادے خارج کرتا ہے۔ جگر کا فعل درست کرتا ہے، خون صاف کرتا ہے۔ پھوڑے پھنسیوں سے حفاظت، گلے کی تکلیف اور خناق Diphtheria کا علاج ہے۔ گھبراہٹ بے چینی اور چڑ چڑے پن کو ختم کرتا ہے۔ اسے کھانے سے اعصاب پرسکون ہو جاتے ہیں۔ دل و دماغ میں ترو تازگی آتی ہے۔

سفید شہتوت جگر اور پھیپھڑوں کو طاقت دیتا ہے۔ آج کل شربت توت سیاہ کھانسی کا مجرب علاج ہے۔ منہ میں چھالے پڑ گئے ہوں تو کالے شہتوت کا شربت استعمال کریں، گلے کے غدود ٹانسلز بڑھ جائیں، آواز بھاری ہو جائے تو شہتوت کا شربت دیں، آپریشن کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ تمباکو نوشی میں گلے کو صاف رکھتا ہے، گردے صاف کرتا ہے، پیاس گرمی دور کرتا ہے، شہتوت کھانے سے گلے کے غدود ٹانسلز بڑھ نہیں سکتے، گرمی کے دنوں میں متواتر دو ماہ صبح و شام 200 گرام شہتوت کھائیں تو خناق سے چھٹکارا ہو جاتا ہے۔

کیلا :

کیلے میں پوٹاشیم ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اس کے کھانے سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے۔ کیلا کھانے سے جسم میں طاقت آتی ہے، بھوک لگتی ہے۔ جما ہوا بلغم پتلا ہو کر آسانی سے خارج ہو جاتا ہے۔ خشک کھانسی ٹھیک ہوتی ہے۔ آنتوں کا فعل درست ہوتا ہے۔ دست اور پیچش میں فائدہ ہوتا ہے۔ تھکن دور کرتا ہے۔ رنگ صاف کرتا ہے۔ گردوں کو طاقت دیتا ہے۔ گلے کی خراش دور کرتا ہے، کچے کیلے کے سفوف سے معدے کا السر ٹھیک ہوتا ہے، نکسیر والے کو ملک شیک پلائیں، دل میں درد محسوس ہو۔ دو پکے کیلے شہد میں پھینٹ کر کھا لیں۔ ورم اور سوزش کی صورت میں کیلے کے پتے باندھنے سے آرام آ جاتا ہے۔ جہاں کیلے کا درخت ہو وہاں سانپ نہیں آتا۔ خارش اور گنج میں لیموں یا سرکے کے ساتھ اس کا لیپ کریں۔ آواز کی بندش میں کیلا کھلائیں فوراً آرام ہوگا۔ نیند نہ آ رہی ہو تو سونے سے پہلے رات کو کیلے کے ساتھ آدھ چمچ پسا سفید زیرہ اور ایک چمچ شہد کھائیں۔ ان شاء اللہ میٹھی نیند آئے گی۔

گریپ فروٹ:

یہ جوڑوں کے دردوں میں بہت مفید ہے۔ اس کے کھانے سے بال گرنا بند ہو جاتے ہیں۔ جسم سے زہریلے مادے خارج ہوکر درد کو آرام آ جاتا ہے۔ اس کے کھانے سے جسم کے تمام افعال صحیح کام کرتے ہیں۔ گریپ فروٹ روزانہ کھانے سے موٹاپا کم ہوتا ہے۔ نزلہ بخار سے نجات ملتی ہے۔ اس کے چھلکے سایہ میں سکھا لیں۔ سردیوں میں زکام میں چھلکوں کے ساتھ چائے بنائیں اور دن میں تین چار مرتبہ پئیں، سردی کی تکالیف دور ہو جائیں گی۔ دل کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہے۔ زخم پر اس کی پھانک، درمیان سے کاٹ کر رکھ کر پٹی باندھ دیں۔ زخم خراب ہونے سے بچ جائے گا۔ گیس، جلن، بھوک کم، متلی ہو، پیاس لگے تو رس یا چکوترے کی پھانکیں تھوڑا سا نمک لگا کر کھائیں۔ ان شاء اللہ افاقہ ہوگا۔

لیچی:

لیچی ایک خوش ذائقہ، فرحت بخش اور لذید پھل ہے۔ یہ پیاس بجھاتی ہے۔ دل و دماغ کے لیے مفید ہے اور غذائیت کا بھرپور خزانہ ہے۔ پیشاب کی جلن دور کرتی ہے۔ دانتوں کو طاقت بخشتی ہے اور امراض قلب کے لیے مفید ہے۔

لیموں :

لیموں ذائقہ بخش پھل ہے جو ہر کھانے کا لازمی جزو ہوتا ہے۔ یہ ہاضم ہے۔ قے اور متلی میں لیموں کاٹ کر تھوڑا سا نمک اور کالی مرچ چھڑک کر چٹائیں، لیمن جوس، گلاب کا عرق ہم وزن میں ایک چمچ گلیسرین یا شہد ملا کر لگانے سے کیل اور مہاسے ختم ہو جاتے ہیں۔ لیموں کی سکنجین پینے سے گرمی دور ہوتی ہے۔ ڈی ہائیڈریشن کنٹرول ہو جاتی ہے۔ بخار کم ہوتا ہے۔

الٹیاں ختم ہوتی ہیں۔ پیٹ کے افعال درست رہتے ہیں۔ دانتوں کی بیماری، پائیوریا یا ماسخورہ میں عرق گلاب میں رس ملا کر پلائیں۔ ملیریا میں لیموں کی سکنجین دیں۔ عرق میں بیسن ملا کر چہرے پر لگانے سے داغ دور ہوتے ہیں۔ دمہ میں لیمن جوس دن میں تین بار پلائیں۔ جگر و تلی کے امراض میں بہت فائدہ مند ہے۔ یرقان میں سکنجین بار بار پلائیں۔ سر درد ہو تو قہوہ میں لیموں نچوڑ کر پلائیں، نزلہ زکام میں لیموں کے گرم گودے میں شہد ملا کر کھلائیں۔ موٹاپا دور کرنے کے لیے روزانہ نہار منہ لیمن گراس قہوہ میں ایک لیموں نچوڑ کر لیں۔

ناشپاتی :

ناشپاتی کا خوبصورت پھل دیکھ کر دل للچاتا ہے کہ اسے چھلکے سمیت فوراً منہ میں ڈال لیا جائے۔ اس میں موجود پوٹاشیم خون کی گرمی دور کرتا ہے۔ یہ ہاضم بھی ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے۔ قبض کشا ہے۔ مثانہ کی گرمی دور کرتی ہے۔ ناشپاتی کھانے سے خون کی نالیوں میں لچک Elasticity آتی ہے۔ دل ڈوبتا ٹھیک ہو جاتا ہے۔ پتھری نکل جاتی ہے۔ یرقان میں بھی بہت مفید ہے۔

لسوڑا:

لسوڑے کا اچار بہت ہی مزیدار اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ اس کے کھانے سے بھوک بڑھتی ہے۔ یہ قبض کشا بھی ہے اور اس کا استعمال بار بار پیشاب آنے کو روکتا ہے۔ بڑھاپے میں بہت مفید ہے۔ کھانسی، دمہ کو فائدہ ہوتا ہے۔ خون صاف کرتا ہے۔

شکر قندی:

شکر قندی آلو کی بہن ہے۔ اس میں نشاستہ زیادہ ہوتا ہے۔ محنت کرنے والوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ طاقت دیتی ہے اور وزن بڑھانے کے لیے بہت مفید ہے۔

سنگھاڑہ:

دل کی کمزوری، کھانسی اور دستوں میں مفید ہے۔ پیٹ کے افعال کو درست رکھتا ہے۔

جاپانی پھل:

جاپانی پھل بہت ہی مزیدار پھل ہے۔ اس کے کھانے سے معدہ اور جگر کے افعال درست ہوتے ہیں۔ ڈینگی بخار کے مریض کو کھلانے سے اس کے خون میں پلیٹلٹس کی مقدار نارمل ہوتی ہے اور ہیمو گلوبن بھی ٹھیک رہتا ہے۔

امرود:

امرود بہت ہی ذائقہ بخش اور غذائیت سے بھرپور پھل ہے۔ امرود کا گودا چاول اور گندم سے تقریباً ایک تہائی زیادہ گلوکوز اپنے اندر رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پیٹ بھرنے اور جسم کی ضرورت کے مطابق ایندھن کا کام کرتا ہے۔ امرود بے شمار طبی کرشمات کا حامل ہے۔ اس کا استعمال اکثر امراض میں فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ منہ کی سوجن دور کرنے کے لیے امرود کے پتے اکسیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

پچاس گرام امرود کے پتے ایک لیٹر پانی میں ڈال کر خوب اچھی طرح جوش دیں۔ جب پانی کافی اُبل جائے تو برتن کو چولہے سے نیچے اتار لیں اور چھان لیں۔ اس پانی کو نیم گرم حالت میں لے کر غرارے کریں۔ منہ کی سوجن میں افاقہ حاصل ہوگا اور منہ سے آنے والی بدبو دور ہو جائے گی۔ متلی کی کیفیت میں امرود کا تازہ پھل سونگھنے سے متلی کی کیفیت دور ہو جاتی ہے اور طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔دائمی قبض کو دور کرنے کے لیے صبح نہار منہ حسب منشا سو گرام سے سات سو گرام تک کھانے سے قبض کے مرض سے چھٹکارا حاصل ہو جاتا ہے۔ امرود کے ساتھ پسی ہوئی تھوڑی سی اجوائن کا استعمال بلغم کو روکتا ہے۔ بلغمی طبیعت والے افراد ہمیشہ امرود کے ساتھ کالی مرچ، سیاہ زیرہ، بڑی الائچی اور نمک چھڑک کر کھائیں۔ اس سے اُن کی بلغم آسانی کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔

پھلوں کا رس:

پھل قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ ان میں نشاستہ، پروٹین، وٹامنز، نمکیات اور فائبر (ریشہ) ہوتے ہیں جو جسم کی نشوونما کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کی کمی بیشی سے انسان مختلف امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہر پھل میں ان اجزاء کی ترکیب الگ الگ خاص طریقے پر ہوتی ہے۔ اناج کے برعکس پھلوں میں جو شکر ہوتی ہے۔ اسے Fructose کہتے ہیں جو جسم کو قوت اور توانائی پہنچاتی ہے۔ پ

ھلوں کے جوس کے روزانہ استعمال سے انسان سمارٹ، حسین اور چست رہتا ہے۔ صحت مند آدمی کے لیے بھی پھل کھانا ضروری ہے اور بیماریوں میں ان کی افادیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ جو خوبیاں پھلوں میں ہوتی ہے۔ وہی ان کے رس میں ہوتی ہے۔ پھلوں کا رس جسم سے زہریلے مادے خارج کر کے اس کو طاقت اور توانائی پہنچاتا ہے۔ اس لیے تازہ پھلوں اور ان کے جوس کا باقاعدہ استعمال کریں۔

The post پھلوں کے ذریعے صحت مند بنیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2ryLkzc

ہم گردوں کے امراض سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

غذاء کا تغیر و تبدل جہاں مثبت نتائج برآمد کرتاہے وہاںغذا کی بیاعتدالی پُرخطر نتائج کا سبب بھی بنتی رہی ہے۔

دورحاضر میں پاکستان میں2.4 ملین اموات کا سبب بننے والی بیماری گردے کی بیماری (امراض کلیہ) ہے اور اس کی تعداد بڑھ رہی ہے، تعدادکے بڑھنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس مرض میں مبتلا شخص سمجھتا ہے کہ اسے کوئی دوسرا مرض لاحق ہے، یوں وہ گُردوں پر توجہ نہیں دیتا کیونکہ ان کے نزدیک انہیں بول وبراز کی مقدار معتدل آتی ہے بلکہ اصل بات بول کے قوام ،بو،اور رنگ(لُون)پر منحصر ہوتی ہے۔بار بار مداومت کرنے پرجواب ملتا ہے کہ فلاں بوڑھے طبیب کا قول ہے کہ معدے میںورم ہے مگر چند سال بعد وہ’’نیفرولوجی ڈیپارٹمنٹ ‘‘ کے بستر پر نظر آتے ہیں۔ گردے کی بیماری کبھی یکدم  لاحق نہیں ہوتی،رفتہ رفتہ لاحق ہوتی ہے، جو بھی بیماری ٹھہرٹھہر کے پیدا ہوتی ہے وہ کافی دیر سے جاتی ہے۔

اسباب:

1۔ موٹاپا ، 2۔ فشارالدم،3۔ پکوان کا بے جا استعمال،4۔ گدلا پانی پینا، 5۔ ذیابیطس،6۔ کم معیار کی غذاء،7۔ زیادہ گرم ادویہ کا استعمال، 8۔جگر کے امراض،9۔ کم پانی پینا اور زیادہ مشقت، 10۔ زیادہ تیزابیت پیدا کرنے والی خوراک۔

وضاحت:

1۔ پانی ہمیشہ صاف اور معتدل القوام استعمال کریں،جس کی نشانی یہ ہے کہ صحت افزاء پا نی جلد ٹھنڈا اور اُبالنے پر جلد گرم ہوتا ہے، نیز اس کا ذائقہ لیس دار نہیں ہوتا، اصطلاح میں قابل استعمال پانی کو’’سافٹ واٹر اور غیر قابل استعمال پانی کو ہارڈ واٹر ‘‘ کہتے ہیں ۔

2۔ نمک کا معتدل استعمال کریں یعنی بعض حضرات کو سستی ہوتی ہے تو سمجھتے ہیں کے ان کا بلڈپریشر کم ہے،چیک کیے بغیر نمک کا زیادہ استعمال شروع کر دیتے ہیںجس کے نتیجے میںبرق  پاشیدوں کا توازن (الیکٹرولائٹ بیلنس) خراب ہوجاتا ہے، اور گردہ متاثر ہوتا ہے، ایسے حضرات ’’ہائی بلڈپریشر‘‘ میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، یہ اشخاص امراضِ قلب کی ادویہ لینے لگتے ہیں،اکثر ادویہ قلب گردے کے لیئے مضر ہوتی ہیں۔

3۔ موٹاپا: دیکھنے میں مریض موٹا دکھائی دیتا ہے مگر طبی نگاہ میں موٹے اشخاص میں ’’ان فلٹریشن‘‘ کا انعقاد ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ تم دیکھو گے کہ اکثر موٹاپے کے شکار حضرات ’’یورک ایسڈ‘‘کے مسائل سے دوچار ہیں۔

4۔گدلا پانی: مسافر حضرات کو چاہیے کہ اپنے ساتھ پانی اور خوراک ضرور لے جایا کریں کیونکہ زیادہ پیاس کی موجودگی اس امر پر مجبور کرتی ہے کہ جو پانی میسر ہے وہی پئیں۔ اکثر گدلا پانی گرد یمیں پتھری پیدا کرتا ہے جسم میں خشکی لاتا ہے۔ یہی حال غذا کا ہے۔ کم معیاری غذا سے ہماری مراد ایسی غذا ہے جس میں گھی اور مصالحے کی غلط مقدار کا استعمال ہے جو اکثر باورچی کر لیتے ہیں، گھی کی زیاد ہ مقدارہ خلیات، معدے اور آنتوں پر بھی بوجہ بنتی ہیں،بالکل  اسی طرح کہ کوئی گھی کو کپڑے سے چھاننے کی کوشش کرے،جو کیفیت کپڑے کی ہو گی وہی ہماری اعضاء کی ہوتی ہے۔

5۔ادویہ ہوں یا اغذیہ، ان کی ایک تاثیر اور مزاج ضرور ہوتا ہے، علم طب میںہر طالب علم کو چار مزاج کا علم سکھایا جاتا ہے،کچھ اشخاص کثرت سے کالی پتی کے قہوے ، بغیر اصلاح کیے استعمال کرتے ہیں، کچھ اشخاص گرم مصالحے بکثرت استعمال کرتے ہیں،جس سے گردے کی چربی متاثر ہوتی ہے۔اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ ایلو پیتھک ادویہ سردی، گرمی، تری اور خشکی جیسی کیفیات کی حامل نہیں ہیں۔  اگر وہ درست ہیں تو ان میں بعض ادویہ معدے میں ایسا السر پیدا کرتی ہیں جن کا مندمل ہونا دشوار ہوتا ہے۔ طب میں ایسی دوا گرم خشک چہارم درجے میں کہلاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایلو پیتھی ادویہ بھی ایک خاص کیفیت ضرور رکھتی ہیں ان کا لحاظ رکھ کر استعمال کرانا چاہیے۔

6۔ گردہ اور جگر ایک دوسرے کے اثرات کوقبول کرتے ہیں ، جب گردہ متاثر ہوتو جگر ضرور اثر پاتا ہے، اسی طرح اگر جگر متاثر ہو تو گردہ اثر قبول کرتا ہے اسی لیے دیکھناکہ  یرقان میں مبتلا فرد کے بول کا  لُون (رنگ) اُترجی (مالٹائی)ہوتا ہے۔

7۔ زیادہ تیزابیت پیدا کرنے والی اشیاء کے استعمال سے خون میں تیزابیت بڑھتی ہے، لہذا گردے کو زیادہ کام کرنا ہوتا ہے،کیونکہ گردہ خون کو قلوی یا تیزابی ہونے سے بچاتا ہے۔

احتیاط:

1۔ پانی کی کثیر مقدار استعمال کریں، پانی کا معیار ی ہونالازمی ہے۔

2۔بول وبراز کے رنگ کو ضرور ی مدِّنظر رکھیں۔

3۔ پھل،سبزیاں ضرور استعمال کریں۔

4۔کوئی بے اعتدالی ہو جائے تو تدارک لازمی کریں مثلاََگدلاپانی پی لیا جائے تو مدّرِ بول (بول آور) یا غذا ضرور کھائیں۔

5۔ میوہ جات استعمال کرتے وقت یہ ضرور خیال رکھیں کہ ایک میوہ اگلے کی اصلاح کرے جیسے بادام لیں تو ساتھ پستہ،اخروٹ  کے ساتھ کشمش وغیرہ۔

6۔نمک کا زیادہ  استعمال نہ کریںتاہم حسب ذائقہ استعمال صحت مند رہنے کے لئے ضروری ہے۔

7۔ پوٹاشیم ملی ادویہ کا بے جا استعمال غلط ہے۔

8۔ تمباکو سے پرہیز کریں۔

9۔ جو اشخاص سمجھتے ہیں کہ ان کا گردہ کمزور ہے یا ان کے آباء و اجداد میںگردے کے مبتلا حضرات گزرے ہیں، انہیں ہفتے میں کم ازکم ایک بار ضرورگردہ صاف کرنا چاہئے، اس کا طریقہ کار درج ذیل ہے: ۔

رات سوتے وقت ککرنڈا کی جڑ، اجمود،سونف، ادرک کا قہوہ تیار کریں اور گوکھرو خورد کے سفوف کے ساتھ استعمال کریں۔

گردے کی کمزوری کی علامات:

1۔ بول کی مقدار کا بدلنا۔گاہے بکثرت آتا ہے گاہے قلیل آتا ہے۔

2۔غذا کے ہضم میں خرابی۔

3۔ معدے میں درد۔

4۔ گردے کے مقام ، کبھی مثانے کے اور کبھی حالبین (یوریٹر) کے مقام میں جلن۔

5۔ہتھیلی اور تلوؤں  میں گرمی کا احساس (کیونکہ خون میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے)۔

6۔ بول کی بو میں غیر معمولی تبدیلی۔

7۔ خون کی کمی۔

8۔جسم میں بھر بھراہٹ اور ورم (ایڈیما)۔

9۔ بائی کاربونیٹ کی زیادتی۔

لیب ٹیسٹ:

بنیادی طور پر دو لیب ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں:

1۔ ایلبومینٹ ٹو کری ٹی نائن ریشو یورین  ٹیسٹ، 2۔گلومیولر فلٹریشن ریٹ بلڈٹیسٹ

امراض گردہ کا علاج:

سوائے موت کے ہر بیماری کا علاج ربّ نے پیدا فرمایا ہے (الحدیث)۔ گردے ناکارہ ہونے کا علاج ڈائیالیسز کے علاوہ مدّرِ بول ادویہ مع مصفی خون سے ممکن ہے مگرمریضا اور معالج دونوں میں استقامت اختیار کریں۔ یاد رکھیں کہ شفاء رب کے ہاتھ میں ہے معالج کے پاس کچھ نہیں ، دواء استعمال کرنا سنت سے ثابت ہے۔ درج ذیل ادویہ مجرب ہیںہر حال پر رب پر بھروسہ رکھیں اور انہیں استعمال کریں۔

طب یونانی کے ذریعے علاج:

اگر گردہ ناکارہ  ہو جائے تو اکثر ’’ڈائیالیسز‘‘کرایا جاتا ہے، جو گردے کے بدل کے طور  پر کام انجام دیتا ہے۔ مگر اکثر نتیجہ بہتر نہیں نکلتا ۔ گردے کا مرض ثابت ہو جائے تو درج ذیل نسخہ استعمال کریں:

زنجبیل،پودینہ،پوست ہلیلہ زرد،پوست بہیڑہ، ناگر موتھا، فلفل سیاہ، برادہ دندان فیل،سونف تمام اجزاء  ہم وزن لیں اور قہوہ تیار کریں۔

طب مغربی کے ذریعے علاج:

وٹامین ڈی، سوڈیم بائی کاربونیٹ(اگر ہتھیلیوں اور تلوؤں پر جلن ہو )،  فولاد (کمزور گردے والے اشخاص کے جسم میں فولاد کی کمی ہوتی ہے)، بول آور ادویہ (مثلاََتھایازائیڈ: کلورتھالیڈون 50 ملی گرام، میٹولاذون2.5 ملی گرام،  اِنڈاپامائیڈ 1.5 ملی گرام)

انتباہ: ان ادویہ کے نقصانات فائدے کی نسبت زیادہ ہیں، بہتر ہے کہ طب یونانی نسخہ استعمال کریں۔

The post ہم گردوں کے امراض سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2QTfDLQ

Medical News Today: Herpes symptoms: How long do they take to show up?

Herpes is a viral infection. People with this virus may experience symptoms shortly after contracting it or many years later. Learn about the symptoms to look out for, and when they may show up, here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/35PGexJ

Medical News Today: Types of coughs: What do they mean?

There are many different types of coughs, and it can be hard to know what each one means. Learn more about the different types, their causes, and how to get better.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/34BhuZT

Medical News Today: Rapamycin has anti-aging effect on human skin

A small study reveals that rapamycin, a drug with a long history as an immune suppressor, can improve tone and reduce wrinkles and sagging in human skin.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/35EGz5Z

Medical News Today: Osteoporosis: Could selenium reduce risk?

A recent study concludes that consuming higher levels of dietary selenium shows an association with a reduced risk of developing osteoporosis.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/35EfLTt

Medical News Today: Causes and treatments for twitching fingers

Many issues can cause finger twitching. Some are harmless, while others are more serious. Read on to learn about the potential causes and their treatments.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2skXOeh

Medical News Today: Extra virgin olive oil may protect against various dementias

A new study in mice finds that extra virgin olive oil prevents the toxic accumulation of tau protein in the brain and keeps memory intact.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/35zAzve

Medical News Today: E. coli outbreak: CDC warn about romaine lettuce from Salinas, CA

The Centers for Disease Control and Prevention have issued a food safety alert about romaine lettuce that may be contaminated with E. coli.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2pVxqXA

Medical News Today: Trigger finger: 7 home remedies

Trigger finger is a condition in which a person’s finger locks or catches if they try to straighten or bend it. Home remedies can often treat it. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2DoMpws

Medical News Today: What to know about muscle soreness

Muscle soreness after exercise can be uncomfortable and disrupt a person’s fitness routine. Read on for why sore muscles happen plus some treatments and research into their effectiveness.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OlZBZd

Medical News Today: What to know about proctitis

Proctitis is the inflammation of the lining of the rectum. Here, learn about the causes and treatment of proctitis, as well as the difference between proctitis and colitis.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/37GT9DF

Medical News Today: What to know about thoracic outlet syndrome

Thoracic outlet syndrome occurs when something compresses the nerves, arteries, or veins that pass through the thoracic outlet. Learn more about this condition, including symptoms and treatment options, here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2QUT5Ks

Tuesday, 26 November 2019

کیل مہاسوں کو بھول جائیے، اسپرے سے نئی جلد لگائیے

ٹوکیو: اس سال چار دسمبر کو جاپانی کاسمیٹک کمپنی ایک حیرت انگیز مصنوعہ متعارف کرارہی ہے جسے مستقبل کا میک اپ قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک اسپرے ہے جو چہرے پر ٹھہر کر داغ دھبے، کیل مہاسے چھپا کر خوبصورت اور ہموار جلد فراہم کرتا ہے۔ تاہم یہ اسپرے بعد میں کسی ماسک کی طرح اتر جاتا ہے۔

مشہور کاسمیٹک کمپنی کاؤ نے ای ایس ٹی نامی ایک پروڈکٹ تیار کی ہے۔ یہ ایک مائع اسپرے ہے جسے چہرے پر چھڑکا جاتا ہے تو چہرے پر جلد کی ہلکی سی پرت بن جاتی ہے جسے کوئی بھی شناخت نہیں کرسکتا۔ اس کے نیچے چہرے کے مہاسے اور دھبے وقتی طور پر چھپ جاتے ہیں کیونکہ اسپرے بہت مہارت سے جلد پر ایک ملی میٹر کے بھی ہزارویں حصے جتنی تہہ لگاتا ہے۔

اسپرے جلد پرپڑتا ہے تو اس میں فائبر(ریشے) جلد پر جمع ہوجاتے ہیں اور پھیل کر جلد کی ناہمواری کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ ای ایس ٹی اسپرے میں ایک ڈیفیوزر ہے جو اسپرے کرتا ہے اور دوسری جانب ایک مائع بھری شیشی ہے جو بار بار بھری جاسکتی ہے۔

ای ایس ٹی مصنوعی جلد والے اسپرے کو پہلے جاپان میں متعارف کرایا جائے گا اور اس کے بعد دنیا بھر میں فروخت کےلیے پیش کیا جائے گا۔ اس کی ابتدائی قیمت 532 ڈالر رکھی گئی ہے جو پاکستانی 80 ہزار روپے ہے۔

کمپنی اگلے مرحلے میں اسپرے کو لوشن کی شکل میں بھی تیار کرے گی جس کی قیمت قدرے کم یعنی 110 ڈالر رکھی گئی ہے۔

The post کیل مہاسوں کو بھول جائیے، اسپرے سے نئی جلد لگائیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/33leEX9

Medical News Today: What to know about sharp lower back pain

There are many possible causes of sharp lower back pain, from a mild muscle strain to some potentially more serious underlying conditions. Read this article for information, treatment options, and when to see a doctor.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OND5Yg

Medical News Today: Lazy bowel: What to know

Lazy bowel is a term for slowed digestion. Here, learn about the causes and treatment of a lazy bowel and the other symptoms that may accompany it.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2KUK93W

Medical News Today: What happens if you stop taking birth control pills mid pack?

Some people may choose to stop taking birth control pills. Read on to discover if stopping these pills mid pack has any associated risks or side effects.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/33stdsl

Medical News Today: Study links some antibiotics to a raised risk of Parkinson's disease

New research suggests that certain antibiotics in common use may increase the risk of Parkinson's disease, likely because of their effect on gut microbes.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/37K5fMz

Medical News Today: Peas and beans: Can they improve heart health?

A new analysis concludes that eating more legumes may reduce heart disease risk. However, according to the authors, the evidence is not of high quality.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OpQerD

Medical News Today: How fast does a blue whale's heart beat?

Scientists have recorded a blue whale's heart rate for the first time. The findings may explain why no other animal has ever been larger than a blue whale.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2qQTi6O

Medical News Today: Sleep loss may contribute to heart disease in those with low incomes

Recent evidence suggests that insufficient sleep may mediate the link between a low socioeconomic status and a higher risk of coronary heart disease.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OIV5CV

Medical News Today: 6 home remedies for obstructive sleep apnea

Sleep apnea is a common condition. Without treatment, it can lead to more serious health issues. Here, learn about the causes of sleep apnea and six home remedies for it.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/35veYEc

Medical News Today: Epiploic appendagitis: Everything you need to know

Epiploic appendagitis occurs when something cuts off the blood supply to small pouches in the digestive system. Learn more about the symptoms, causes, and treatment options in this article.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2DeO0oo

Medical News Today: Weed: Can it kill you?

Most medical experts agree there is very little risk of death from using marijuana alone. Read this article to learn more about the potential health risks of cannabis use and what the research says about the risk of dying.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2pR605f

Medical News Today: Everything you need to know about choline

Choline is an essential nutrient that humans need for neurodevelopment and many other bodily functions. Learn more about choline here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/33jFaAg

حرارتی سینسر کے ذریعے گٹھیا کے مرض کا پتا لگانا ممکن

مالٹا: ماہرین کے مطابق گٹھیا (آرتھرائٹس) کے مرض میں اندرونی سوزش کی وجہ سے تکلیف والی جگہوں کا درجہ حرارت دیگر پرسکون مقامات کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے جسم میں حرارت محسوس کرنے والے سینسر گٹھیا کے مرض کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔

اس ضمن میں ایک نیا سروے کیا گیا ہے جس سے اس بات کی مزید توثیق بھی ہوئی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ گٹھیا کے مرض میں بالخصوص جوڑوں میں شدید اندرونی سوزش پیدا ہوتی ہے اور ماہرین نے ایک جدید تھرمل امیجنگ سسٹم سے اس کی آزمائش کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

تمام ترقیوں کے باوجود گٹھیا کی کیفیت اب بھی بہت مشکل سے ہی تشخیص کی جاتی ہے اور اس کے مستند ٹیسٹ اب بھی موجود نہیں۔ اس ضمن میں یونیورسٹی آف مالٹا اور اسٹیفرڈ شائر یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے خاص تھرمل کیمرے بنائے ہیں۔ یہ تھرمل کیمرے انسانی ہاتھ میں درجہ حرارت کی کمی بیشی کو نوٹ کرسکتے ہیں۔ یہ کیمرے انہوں نے 80 افراد پر آزمایا ہے۔

رضا کاروں میں 51 افراد صحت مند تھے اور 31 ایسے تھے جو گٹھیا اور جوڑوں کے دیگر امراض کے شکار تھے۔ ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جس جگہ مریضوں نے اپنی تکلیف کا ذکر کیا عین انہی مقامات کا درجہ حرارت بڑھا ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بافتوں میں سوزش سے وہاں گرمی پیدا ہورہی تھی اور یہ کیفیت کسی بھی ٹیسٹ سے واضح نہیں کی جاسکتی۔

حرارتی یا تھرمل سینسر کی کامیابی سے اب یہ سہولت ملی ہے کہ ابتدائی درجے میں ہی گٹھیا کی کیفیت معلوم کی جاسکتی ہے اور اس وجہ سے ابتدائی علاج بروقت شروع ہوسکتا ہے۔ اس طرح علاج کی راہ نکل آتی ہے اور مرض پیچیدہ نہیں ہوپاتا۔

ماہرین کے مطابق اگر گٹھیا کا مرض شدت اختیار کرجائے تو یہ ہڈیوں کے ٹیڑھے پن، معذوری اور امراضِ قلب کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

The post حرارتی سینسر کے ذریعے گٹھیا کے مرض کا پتا لگانا ممکن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/35Ai9e0

Monday, 25 November 2019

کیچوے کے پیٹ میں اینٹی بایوٹک کی دریافت

بوسٹن: جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور امریکی سائنسدانوں کی تحقیقی ٹیم نے ’’نیماٹوڈز‘‘ (ایک خاص قسم کے کیچووں) کے پیٹ میں ایک ایسا مادّہ دریافت کیا ہے جو انتہائی سخت جان بیکٹیریا کو بھی ہلاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر اس پر مشتمل اینٹی بایوٹک دوا بنا لی جائے تو وہ دنیا بھر میں کروڑوں انسانوں کی جانیں بچانے کے کام آسکے گی۔

جرثوموں (بیکٹیریا) میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مسلسل بڑھتی ہوئی مزاحمت نے سائنسدانوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں اور وہ دن رات اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ جلد از جلد کوئی ایسی نئی اینٹی بایوٹک دوا بنا لیں جو ان سخت جان بیکٹیریا کا خاتمہ بھی کرسکے۔ ان ہی کوششوں میں وہ زمینی مٹی سے لے کر سمندر کی اتھاہ گہرائیوں تک کی خاک چھان چکے ہیں۔ یہ دریافت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

اب کی بار ماہرین نے جو ممکنہ اینٹی بایوٹک دریافت کی ہے، اس کا نام ’’ڈیروبیکٹن‘‘ ہے اور یہ فوٹورہیبڈس جرثوموں میں تیار ہوتی ہے جو خود بھی مختلف قسم کے نیماٹوڈ کیچووں کے پیٹ میں پائے جاتے ہیں۔

ابتدائی تجربات میں اس اینٹی بایوٹک نے چوہوں کو ای کولائی اور نمونیا کی مختلف اقسام کے انفیکشن سے نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ اس کے کوئی ضمنی اثرات (سائیڈ ایفیکٹس) بھی مشاہدے میں نہیں آئے۔

تاہم، اس دوا کی اصل آزمائش انسانوں میں ہوگی جو متوقع طور پر آئندہ برس شروع ہوجائے گی۔ اس کے بعد یہ یہ فیصلہ کیا جاسکے گا کہ یہ دوا انسانوں کےلیے بھی اتنی ہی مفید ہے جتنی یہ ابتدائی آزمائشوں کے دوران چوہوں پر پائی گئی تھی۔

اس تحقیق کی تفصیلات ہفت روزہ تحقیقی مجلے ’’نیچر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

The post کیچوے کے پیٹ میں اینٹی بایوٹک کی دریافت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2XNW9te

پاکستان میں ٹائیفائیڈ کا جرثومہ عالمی شکل اختیار کرنے لگا، عالمی ادارہ صحت کی ہیلتھ ایڈوائزری جاری

کراچی:  پاکستان میں ٹائیفائیڈکا جرثومہ پولیو وائرس کی طرح عالمی شکل اختیار کر رہا ہے، عالمی ادارہ صحت نے بھی پاکستان میں XDR ٹائیفائیڈ وبائی صورت اختیارکرنے کے حوالے سے ہیلتھ ایڈوائزری جاری کردی جبکہ امریکی حکام نے بھی حکومت پاکستان کوٹائیفائیڈ جراثیم کے خاتمے کے لیے اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں 2016 میں ٹائیفائیڈ کا نیا اور طاقتور جراثیم XDR سامنے آیا ہے جس پر ملک میں دستیاب ادویات بے اثر ہو گئی اور مذکورہ جراثیم نے دستیاب دواؤں کے خلاف مزاحمت بھی اختیارکر لی جس پرملک بھر کے معالجین کو تشویش اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، یہ جراثیم گزشتہ سال حیدرآباد اورکراچی میں رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد یہ جراثیم مسلسل حملہ آور ہو رہا ہے۔

تازہ ترین صورتحال کے مطابق XDR جراثیم ملک بھر میں حملہ آور ہے، یہی وجہ ہے کہ حکومت سندھ نے پہلے مرحلے میں 9 ماہ سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں کو مفت ٹائیفائیڈ ویکسین لگانے کی مہم شروع کی جس کے بعد اب اس ویکسین کوبچوں کے قومی حفاظتی ٹیکے پروگرام ( EPi ) پروگرام میں بھی شامل کر لی گئی ہے، عالمی ادارہ صحت اور ویکسین ڈویلپمنٹ کے مطابق پاکستان میں ٹائیفائیڈ ویکیسن کو ای پی آئی پروگرام میں شامل کیے جانے کے اقدام کو خوش آئند قراردیا ہے۔

حال ہی میں عالمی ادارہ صحت نے دنیا کے تمام ممالک کو متنبہ کرتے ہوئے ایک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر XDR ٹائیفائیڈ جراثیم تیزی سے پھیل رہا ہے اور XDR جراثیم نے پاکستان میںٹائیفائیڈکی وبائی صورت اختیارکرلی ہے اور پاکستان سے بیرون ممالک جانے والے مسافروں میںٹائیفائیڈکے کیسسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

ادھر امریکی حکام نے بھی پاکستان میں XDR ٹائیفائیڈ جراثیم کی وبائی صورت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اورحکومت پاکستان کو اپنے تعاون کی بھی یقین دہانی کرائی ہے ،پاکستان میں ٹائیفائیڈ کے جراثیم نے نئی شکل اختیار کیے جانے کے بعد دنیا میں بھی تشویش کی لہر دوڑگئی ، دنیا کے ممالک اس پر بات غورکررہے ہیں کہ پاکستان میں ٹائیفائیڈ کا نیا جرثومہ XDR دیگر ممالک تک نہ پھیل جائے ۔

دریں اثناء قومی ادارہ برائے اطفال صحت کے سربراہ پروفیسر جمال رضا اور پاکستان پیڈیا ٹرکس ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹرخالد شفیع نے ایکسپریس کو بتایا کہ پاکستان ٹائیفائیڈکے نئے جراثیم کی وباء کی لپیٹ میں ہے اس جراثیم کیخلاف دستیاب ادویات بے اثر ہوگئی ہیں جس کے بعد نئی اور ریزوف ادویات استعمال کرنا پڑرہی ہیں اس سے قبل ٹائیفائیڈکے جراثیم پر Cefixime کیمیکل گروپ والی ادویات استعمال کی جاتی تھی جو نئے جراثیم پر اثر انداز نہیں ہورہی اور جراثیم نے اس گروپ کی ادویات کیخلاف مزاحمت اختیارکرلی ہے جوایک خطرناک صورت ہے۔

ٹائیفائیڈ کا جراثیم اب خطرناک صورت اختیارکرگیا ہے، انھوں نے کہاکہ خطرہ اس بات کا ہے کہ یہ جراثیم پاکستان میں اپنا حب نہ بنالے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان پیڈیا ٹرکس ایسوسی ایشن نے حکومت سندھ سے درخواست کی تھی کہ ٹائیفائیڈکے موجودہ جراثیم نے ادویات کیخلاف مزاحمت اختیارکرلی ہے لہذا نئے جراثیم کے خاتمے کیلیے نئی ویکسین کوای پی آئی پروگرام میں شامل کیا جائے۔

The post پاکستان میں ٹائیفائیڈ کا جرثومہ عالمی شکل اختیار کرنے لگا، عالمی ادارہ صحت کی ہیلتھ ایڈوائزری جاری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/37FAsA7

خواتین کے ’ذہنی عارضوں‘ کو تسلیم کیجیے۔۔۔

ہمارے سماج میں اکثر و بیش تر لڑکیوں اور خواتین کی ذہنی بیماری کو آسیب کا شاخسانہ قرار دے کر پیروں اور فقیروں کے پاس لے جانے کا رواج پایا جاتا ہے، یہ نہیں سوچا جاتا کہ اِسے کوئی ذہنی عارضہ بھی ہوسکتا ہے۔

دراصل ہمارے سماج میں ذہنی بیماریوں کو  بیماری ہی تصور نہیں کیا جاتا اور اگر اس میں کوئی مبتلا ہوجائے، تو فوراً عاملوں وغیرہ سے ہی رجوع کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی کی انتہا دیکھیے کہ اگر انہیں ڈاکٹر کے پاس جانے کا مشورہ دیا جائے، تو اسے انتہائی ناگواری سے رد کر دیا جاتا ہے اور اتنی نکتہ چینی کی جاتی ہے کہ پھر اگلے کا حوصلہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ دوبارہ کسی کو اس طرح کا مشورہ دے سکے۔

میں سوچتی ہوں کہ کیا برصغیر کے سماجوں میں کیا اس قدر خوب صورتی پائی جاتی ہے کہ جنوں کو ساری دنیا چھوڑ کر یہیں کی لڑکیوں میں دل چسپی ہوتی ہے؟ یا پھر یہ جن بھوت وغیرہ اتنے ’فارغ‘ ہیں کہ انہیں بس یہی تنگ کرنے کا ہی کام رہ گیا ہے۔۔۔

ذہنی مسائل کے حوالے سے کسی ’عامل‘ کے پاس جانے میں بھی اچھا خاصا خرچ آجاتا ہے، یعنی یہ بھی کوئی آسان اور سستا عمل نہیں ہے، اس پر بھی اتنے ہی روپے لگ جاتے ہیں، جتنے کسی مستند ’سائیکائٹرسٹ‘ کے پاس صرف ہوتے ہیں، لیکن یہ ہماری توہم پرستی ہی ہے، جو ہمیں ڈاکٹر کی نسبت کسی عامل کے پاس لے جاتی ہے۔ یہاں  ہمارا وقت، پیسہ، صحت، عزت سب برباد ہو جاتا ہے، مگر مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہوتا، بلکہ یہ مزید خرابی کی طرف ہی بڑھتا چلا جاتا ہے۔

یہ صرف توہم پرستی نہیں، بلکہ ہماری ذہنی خلفشار، فکری بحران، اور عدم تحفظ کے احساس کا ثبوت بھی ہے اور اس کا شکار سب سے زیادہ ہماری عورت ہے، کیوں کہ کسی پسند کرنے، من چاہی شادی، اپنا ٹوٹنے سے بچانے، بیٹے کی ولادت نہ ہونے سے خاوند کو بے راہ روی سے بچانے جیسے سارے معاملات میں اسی عورت کو ہی سمجھوتا کرنا ہوتا ہے۔ یہ صرف ان پڑھ عورت کا مسئلہ نہیں، بلکہ بہت سی پڑھی لکھی خواتین بھی اس ’مرض‘ میں مبتلا ہیں اور جہالت کا یہ سفر کسی جگہ رکتا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔

بعض ماہرین کے بقول صنف نازک کی اس کیفیت کی ایک وجہ انہیں زندگی میں نظرانداز کیا جانا بھی ہوتا ہے، اسی لیے شاید آپ نے بھی غور کیا ہو کہ جن خاندانوں میں صحت مند سرگرمیاں اور اچھا ماحول موجود ہو، جہاں بات کرنے سے پہلے بات سنی بھی جاتی ہو، سمجھی جاتی ہو، وہاں پر کبھی سننے میں نہیں آیا کہ کسی عورت پر آسیب کا سایہ ہو گیا ہو۔

یہ  گھٹن زدہ اور جہالت کے سایے میں پروان چڑھتے رویوں کو سہتے سہتے جب ایک خاتون یا لڑکی آنکھیں گھما کر مردانہ آواز میں بولتی ہے تو سامنے والوں کو اپنے ردعمل سے خوف زدہ اور جھکا ہوا پاتی ہے، اس وقت جب اس کے حکم کی بجاآوری کی جاتی ہے، تو اسے لاشعور میں ایک تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس کی اس شخصیت کو نہ صرف تسلیم کیا جا رہا ہے، بلکہ اس کی آنے والی زندگی کی بقا بھی اسی میں ہے، لیکن کیا  اس طرح سے گھر کا سکون دائمی طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے؟

کیا اس طرح سے خاندان کے افراد کے درمیان فاصلے کم کیے جا سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں، کیوں کہ نقصان جلد یا بدیر عورت کا ہی ہوتا ہے، کیوں کہ ایسی خواتین کو زیادہ دیر تک برداشت کیا جاتا ہے نہ ان کے ساتھ رہا جاتا ہے۔

دوسری طرف اس کی انتہائی صورت ہوتی ہے، جب وہ کسی ذہنی عارضے کی انتہاپر ہوں، جس میں وہ خود کو یا دوسروں کو نقصان پہچانے جیسے افعال کا ارتکاب تک کرنے لگے، جسے دیکھ کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس پر کوئی جن وغیرہ آ گیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ فوراً یہ کیوں تسلیم کر لیا جاتا ہے کہ لڑکی پر جن یا آسیب کا سایہ ہے؟ کیا اسے ذہنی بیماری نہیں ہو سکتی، جس کے علاج کے لیے سنجیدہ طور پر کوشش نہیں کی جانی چاہیے؟ کیا اسے بند کمرے میں عامل کے حوالے کر دینا درست عمل ہے؟

دیگر ذہنی بیماریوں کی طرح ’شیزوفرینیا‘ یا ’ہسٹریا‘ کو بیماری سمجھ کر اس کا بروقت علاج کراونے میں سنجیدہ پیش رفت کیوں نہیں دکھاتے؟

ذہنی بیماروں کے لیے ہم ’لبِ سڑک‘ کھولے گئے کھوکھوں میں بیٹھے ہوئے ان نام نہاد عاملوں پر ہی کیوں اتنا بھروسا کر جاتے ہیں کہ بے تحاشا پیسے کے ضیاع کے بعد بھی یہ نہیں سمجھتے کہ یہ شعبدے بازی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

عام طور پر لوگ ان کی علامات سے ناتو واقف ہوتے ہیں اور نہ ہی اسے مانتے ہیں اور بدقسمتی سے اس طریقہ علاج سے مطمئن بھی نہیں ہوتے، کیوں کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنے مریض کو جلد صحت یاب ہوتا دیکھنا چاہتا ہے، لیکن بعض پیچیدہ اور پرانے مرض کے علاج میں سالوں بھی لگ سکتے ہیں جس کے لیے مریضہ کے گھر والے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتے اور ’شارٹ کٹ‘ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں ان کے مریض کے لیے صرف بربادی ہوتی ہے۔

یہ وہ ذہنی بیماریاں ہیں جن کا علاج کسی دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹر کے پاس بروقت لے جانے سے ہی حل ہو سکتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے جب تک ہمیں یہ بات سمجھ میں آتی ہے اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

The post خواتین کے ’ذہنی عارضوں‘ کو تسلیم کیجیے۔۔۔ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2XJiYyu

Medical News Today: Chronic Lyme disease: Everything you need to know

Chronic Lyme disease occurs when a person who has already received treatment for Lyme disease continues to have symptoms in the long term. Learn more about this condition here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2DcNp6N

Medical News Today: Vitamins for constipation: Do they work?

While increasing fiber intake and taking over-the-counter laxatives are commonplace constipation treatments, vitamins may also work for some people. Learn more in this article.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/35CxWJp

Medical News Today: Microvascular ischemic disease: What to know

Microvascular ischemic disease refers to conditions that affect small blood vessels in the brain. Learn more about the causes and symptoms in this article.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/34krXIF

Medical News Today: Everything you need to know about the Noom diet

The Noom diet, named after the phone app it is available through, is a personalized weight loss plan. This article provides information on the efficacy of the Noom diet and its potential risks.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2sgFqTX

Medical News Today: Racial disparities in premature deaths from power plant emissions

A new study has found that air pollution from power plants caused 16,000 premature deaths in the U.S. in 2014, with disparities across racial groups.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OI0CKa

Medical News Today: How bacteria 'act as one' to escape antibiotics

New research reveals a mechanism by which several conspecific bacteria 'unite' to become more resistant in the fight against antibiotics.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2DhLjCp

Medical News Today: Lung cancer: AI shows who will benefit from immunotherapy

A team of researchers has developed a machine learning model able to predict which individuals with lung cancer will most benefit from immunotherapy.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2KQIxsf

Medical News Today: Should we worry about an eastern equine encephalitis outbreak?

This year has seen a surprising upsurge in cases of a rare viral infection in humans. Specialists warn that we need a strategy to prevent an outbreak.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2KOw4F9

Medical News Today: Study shows the progression of multiple sclerosis can be slowed

New research in mice finds that blocking a key molecule can slow the progression of multiple sclerosis. The findings pave the way for new treatments.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2DdAcKL

یہ پروٹین موٹاپے اور کئی بیماریوں کے خلاف مدد کرسکتا ہے

کیلیفورنیا: اسکرپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، امریکا کے ماہرین نے ایک پروٹین کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ یہ موٹاپے کے علاوہ مختلف بیماریوں سے لڑنے میں ہماری مدد کرسکتا ہے۔

اس پروٹین کا نام پی جی آر ایم سی 2 (PGRMC2) ہے جو اگرچہ برسوں پہلے دریافت ہوچکا ہے لیکن استحالہ (میٹابولزم) اور موٹاپے کو قابو کرنے میں اس کا کردار پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔ رحم (یوٹرس) اور جگر کے علاوہ، یہ پروٹین ہمارے جسم کے کئی حصوں میں پایا جاتا ہے لیکن اسکرپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں سالماتی طب (مالیکیولر میڈیسن) کے ایسوسی ایٹ پروفیسر، ڈاکٹر اینرک سائز اور ان کے ساتھیوں نے چربی میں اس پروٹین کی سب سے زیادہ مقدار کا مشاہدہ کیا۔

تحقیق آگے بڑھانے پر معلوم ہوا کہ پی جی آر ایم سی 2 پروٹین نہ صرف غذا کو ہضم کرنے اور جزوِ بدن بنانے کے عمل (استحالہ یا میٹابولزم) میں اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ صحت مند چربی (براؤن فیٹ) کو برقرار رکھنے میں بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

بھوری چربی یا براؤن فیٹ سردی کے موسم میں تحلیل ہوجاتی ہے اور گرمی خارج کرکے ہمیں سرد موسم کی سختی سے بچاتی ہے۔ البتہ، چوہوں پر کیے گئے تجربات سے یہ بھی پتا چلا کہ پی جی آر ایم سی 2 پروٹین کچھ اضافی کام بھی کرتا ہے: یہ ’’ہیم‘‘ کہلانے والے ایک اہم مالیکیول کو اپنے اندر ’’حفاظتی حراست‘‘ میں لے کر، خلیے کے مرکزے (نیوکلیئس) میں پہنچاتا ہے جہاں پہنچ کر یہ مالیکیول کئی ایسے کاموں میں ہاتھ بٹاتا ہے جو ہماری صحت بہتر بناتے ہیں، جن میں غذا کو ہضم کرنے سے لے کر انسولین کو بہتر طور پر برتنے تک، کئی کام شامل ہیں۔

لیکن اگر ہیم آزاد حالت میں ہو تو یہ بہت خطرناک ہے اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کردیتا ہے؛ یعنی فائدے کی جگہ نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔

چوہوں پر مزید تجربات سے معلوم ہوا کہ اگر پی جی آر ایم سی 2 پروٹین سرگرم ہو تو انسولین کے خلاف مزاحمت کم ہوجاتی ہے جبکہ گلوکوز برداشت کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ چربی گھلانے میں اس پروٹین کا کردار پہلے ہی ثابت شدہ ہے کیونکہ اس کی غیر موجودگی میں بھوری چربی جلد ہی تبدیل ہو کر سفید (مضر صحت) چربی میں تبدیل ہوجاتی ہے جو موٹاپا بڑھانے کی وجہ بنتی ہے۔

اب ماہرین کی یہ ٹیم اسی پروٹین کو استعمال کرتے ہوئے مختلف بیماریوں کے خلاف دوائیں بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’نیچر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

The post یہ پروٹین موٹاپے اور کئی بیماریوں کے خلاف مدد کرسکتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/35Cc9Bz

Sunday, 24 November 2019

ڈائلیسس کے مریض اب مشینی گردہ ساتھ رکھ سکیں گے

سنگاپور: گردوں کی ناکارگی اور مسلسل عارضے کے شکار افراد کےلیے اب ایک اچھی خبر ہے کہ پوری ڈائلیسس مشین اب ایک بیگ میں سماسکتی ہے جسے آپ اٹھاکر دفتر اور دیگر مقامات تک لے جاسکتے ہیں۔ اسے ’مشینی گردہ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

سنگاپورین اور امریکی ماہرین نے مشترکہ طور پر یہ انقلابی ایجاد کی ہے جسے ’آٹومیٹڈ ویئرایبل آرٹیفیشل کڈنی‘ یا ’’اویک‘‘ کا تکنیکی نام دیا گیا ہے۔ اس کا وزن صرف دو کلوگرام ہے اور اسے کندھے پر بیگ کی طرح لٹکا کر گھوما پھرا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب اسے رات کے وقت بستر کے سرہانے رکھ کر بھی سویا جاسکتا ہے۔ اسے ڈائلیسس مشین کا متبادل قرار دیا جاسکتا ہے۔

ایک تھراپی میں 6 سے 8 گھنٹے لگتے ہیں اور خون میں سے زہریلے مادے، نمکیات باہر نکل جاتے ہیں۔ اسمارٹ گردے میں مریض کی حفاظت کےلیے ہنگامی الارم بھی نصب ہے جو خطرے کے وقت آواز خارج کرتا ہے اور مریض کے ڈاکٹر سے رابطہ بھی کرتا ہے۔ لیکن اس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مریض پوری ڈائلیسس مشین اپنے ساتھ لے کر چل سکتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں مریض اپنے مرض کی شدت کے لحاظ سے ایک ہفتے میں کم ازکم ایک مرتبہ اپنے خون کا ڈائلیسس کراتے ہیں۔ اس عمل میں گردے ناکارہ ہونے سے بننے والے زہریلے مرکبات صاف کئے جاتے ہیں۔ ڈائلیسس عموماً اسپتالوں میں ہوتا ہے اور مریض گویا آزاد نہیں رہتا کیونکہ اسے بار بار اسپتال جانا پڑتا ہے۔

اس کے برخلاف اویک کو ایک بیگ میں بند کرکے باہر بھی لے جایا جاسکتا ہے اور مشینی گردہ خودکار طریقے سے ڈائلیسس کا عمل انجام دیتا رہتا ہے۔

The post ڈائلیسس کے مریض اب مشینی گردہ ساتھ رکھ سکیں گے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/34jC1BP

اینٹی مائیکروبائل ریسزٹنس عالمی صحت کیلیے خطرہ ہے، عالمی ماہرین

کراچی:  ماہرین صحت کاکہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) نے 2019 میں عالمی صحت کو لاحق 10خطرات میں سے ایک اینٹی مائیکرو بائل ریسزٹنس (اے ایم آر) کو بھی قرار دیا ہے۔

اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس انفیکشن ہر سال7 لاکھ افراد کو ہلاک کرتا ہے جو کینسر یادیگربیماریوں سے مرنے والے افراد کی تعداد سے زیادہ ہے، اینٹی بائیوٹک ریسزٹنس معاشرے کے لیے ایک حقیقی خطرہ بن رہا ہے جبکہ لوگوں کی اکثریت کواس بارے میں علم ہی نہیں ہے،ان خیالات کا اظہار انھوں نے اینٹی بائیوٹک دوائیوںکی آگہی سے متعلق پریس بریفنگ میں کیا،ماہرین نے بتایا کہ اینٹی بائیوٹک یااینٹی مائیکروبائل ریسزٹنز (اے ایم آر) اس وقت ابھرتا ہے جب انفیکشنز پیدا کرنے والے جراثیم جیساکہ بیکٹیریا پر ادویہ اثر دکھانا چھوڑ دیتی ہیں جبکہ یہ ادویات عام طور پران بیکٹیریاکوختم کردیتی ہیں، اس طرح یہ بیکٹیریا ’’سپربگ‘‘ (Superbug) بن جاتے ہیں۔

ڈاکٹر ظفرمحمود نے کہاکہ اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مدافعت بڑھنے کے پیچھے ایک اہم وجہ اینٹی بائیوٹکس دوائیوں کا زیادہ مقدار میں استعمال ہے، اینٹی بائیوٹکس کے زیادہ اور غیر ضروری استعمال سے بیکٹیریا زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں اور ان کی مدافعت میں اضافہ ہوا ہے تاہم اینٹی بائیوٹکس عام نزلہ اور زکام کے جراثیم کے علاج میں معاون نہیں ہیں لیکن ان کا عام غیر ضروری استعمال کیا جاتا ہے۔

اس لیے عوام میں آگہی پھیلانا ضروری ہے کیونکہ ایسی صورت میں اینٹی بائیوٹک یا اینٹی مائیکروبائل ریسزٹنس (اے ایم آر) پیدا ہوتا ہے،ڈاکٹر فیصل فیاض زبیری کاکہنا تھاکہ اینٹی بائیوٹک یا اینٹی مائیکروبائل ریسزٹنس کے کردار کو سمجھنے کے لیے اس کے پھیلاؤ کو روکنا ہوگا، اینٹی بائیوٹک مدافعت کو کم کرنے کے لیے مریض کو ہمیشہ کسی بھی صورت میں مکمل اینٹی بائیوٹک کورس کرنا چاہیے۔

عوام کو چاہیے کہ صرف ڈاکٹرکی تجویز کردہ مقدار میں اینٹی بائیوٹکس کی خوراک استعمال کریں ،پروفیسراقبال احمد میمن نے کہا کہ عام انفیکشن خطرناک ہوسکتے ہیں ہمیں اس وبائی بیماری سے بچنے کے لیے فوری طور پر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، عوام کو اینٹی بائیوٹکس کی مناسب خوراک کی اہمیت کے بارے میں آگاہی دینے کیلیے آگاہی سیشنز اور پروگراموں کا انعقاد کیا جانا چاہے جبکہ جلد تشخیص کے اقدامات کو بھی عملی جامہ پہنانا چاہیے، ایک اندازے کے مطابق 2050 تک ہر 3 سیکنڈ میں ایک فردکی موت کا باعث یہ اینٹی مائیکروبائل ریسزٹنس ہو سکتا ہے۔

The post اینٹی مائیکروبائل ریسزٹنس عالمی صحت کیلیے خطرہ ہے، عالمی ماہرین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2OhM7O4

Medical News Today: Sleep deprivation 'triples the number of lapses in attention'

Accumulating evidence shows that sleep loss can severely hamper our ability to handle complex tasks, which, researchers note, can be 'risky.'

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OgN3lV

Medical News Today: Can the gut microbiome unlock the secrets of aging?

A new study finds that gut bacteria from old mice can help rejuvenate the neurons of younger ones, suggesting that gut bacteria are key to aging.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2qwhcVl

انسولین سے مچھروں کو بے ضرر بنایا جانا ممکن

واشنگٹن: ’’ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنادیتا ہے!‘‘ لیکن سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ انسانی جسم میں بننے والی انسولین استعمال کرتے ہوئے مچھر کو بے ضرر بنایا جاسکتا ہے، وہ بھی اس طرح کہ یہ بیماری کی وجہ بننے والے وائرسوں اور طفیلیوں (پیراسائٹس) کو اپنے جسم میں پلنے ہی نہ دے۔

واضح رہے کہ مچھر درجنوں بیماریوں کی وجہ بنتا ہے جن سے ہر سال لاکھوں لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اگر ہم ان امراض کی بنیاد کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ مچھر پہلے خود ہی بیماری پھیلانے والے کسی وائرس یا طفیلیے (پیراسائٹ) سے متاثر ہوتا ہے، جسے اپنے اندر پروان چڑھا کر انسانوں میں منتقل کردیتا ہے۔ نتیجتاً انسانوں میں مختلف بیماریاں پھیلتی ہیں جو اکثر اوقات وبائی شکل اختیار کرکے ہمارے قابو سے باہر بھی ہوجاتی ہیں۔

ریسرچ جرنل ’’سیل رپورٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی میں طبّی ماہرین کی ایک ٹیم نے دریافت کیا ہے کہ اگر مچھروں کے جسم میں انسانی انسولین موجود ہو تو ان میں زیکا وائرس اور ویسٹ نائل وائرس کے خلاف مزاحمت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ اپنے اندر ان وائرسوں کی تعداد بڑھنے نہیں دیتے۔

یہ تحقیق لارا ایلرز اور ان کے ساتھیوں نے انجام دی ہے جس کی نگرانی واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی میں وائرولوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ایلن گڈمین کررہے تھے۔

کیونکہ مچھر اور عام گھریلو مکھی کا اندرونی دفاعی نظام (امیون سسٹم) ایک جیسے ہوتے ہیں، اس لیے پہلے مکھیوں کی غذا میں انسولین کی مقدار بڑھایا گیا۔ معلوم ہوا کہ ایسا کرنے پر مکھیوں میں ویسٹ نائل وائرس اور زیکا وائرس کے خلاف، اندرونی دفاعی نظام کا ایک خاص حصہ سرگرم ہوگیا جس نے ان دونوں وائرسوں کی تعداد بڑھنے نہیں دی۔

پھر یہی تجربہ مچھروں پر دہرایا گیا، جس میں انہیں زیادہ انسولین والا انسانی خون بطور غذا دیا گیا۔ بعد ازاں جب ان مچھروں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ مکھیوں کی طرح ان مچھروں میں بھی ویسا ہی مکینزم حرکت میں آگیا تھا جس نے زیکا اور ویسٹ نائل وائرس کی بڑھوتری روک دی تھی۔

مچھر سے پھیلنے والی کئی بیماریاں آپس میں ملتے جلتے وائرسوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ زیکا اور ویسٹ نائل وائرس کے علاوہ ڈینگی اور اسی قسم کی دیگر بیماریوں کی روک تھام کے لیے بھی مچھروں کے جسموں میں انسولین کی مقدار بڑھا کر جنگ جیتی جاسکتی ہے۔

The post انسولین سے مچھروں کو بے ضرر بنایا جانا ممکن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2rpuYZD

Saturday, 23 November 2019

88 لاکھ افراد کا گلوکوز ٹالرنس ٹیست نارمل نہیں، ماہرین ذیابیطس

کراچی: ماہرین ذیابیطس نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ذیابیطس کے مرض میں تشویشناک اضافہ ہورہا ہے، پاکستان 19.4 ملین مریضوں کی تعداد کے ساتھ دنیا بھرکے ملکوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔

ماہرین نے سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن میں عالمی یوم ذیابیطس کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہا کہ عوام میں ذیابیطس کی وجوہات، علامات، پیچیدگیاں اور بچاؤ کے لیے آگاہی کی کوششوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے،

اس موقع پر مریضوں کے لیے خون و پیشاب کے ٹیسٹ، بی ایم آئی، بلڈ پریشر چیک کرنے کی مفت سہولتیں فراہم کی گئیں تھیں،ماہرین ذیابیطس اور ماہرین غذائیت کے معائنے اور طبی مشورے، آگہی لیکچرز، دستاویزی فلم بھی تقریب کا حصہ تھی ،ماہرین ذیابطیس ڈاکٹر ثوبیہ قریشی، ڈاکٹر فوزیہ مشتاق، شعبہ امراض چشم کی ڈاکٹر فاطمہ علی لین والا، شعبہ امراض سے گردہ کے ڈاکٹر ساجد بھٹی، ماہر غذائیت تبسم، ڈاکٹر وردا اور اسٹاف ممبرز تقریب میں شریک تھے۔

ایس آئی یو ٹی کے ماہرین ذیابیطس نے کہا کہ ملک میں 8.8 ملین افراد ایسے ہیں جن کا گلوکوز ٹولرینس ٹیسٹ نارمل نہیں ہے اور تقریبا 8.5 ملین افراد ایسے ہیں جو ذیابیطس کی بیماری میں مبتلا ہیں مگران کی تشخیص ابھی تک نہیں ہوئی، اس خطرناک صورتحال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے منفی اثرات اور پیچیدگیاں عوام کو بے حد متاثرکررہی ہیں، دنیا بھر میں ذیابیطس کی دو قسم عام ہیں ،تقریبا 240 ملین مرد جبکہ 230 ملین خواتین ذیابطیسسے متاثر ہیں۔

ماہرین نے 2019 کی اب تک کے اعدادوشمار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس مرض اور اس کی پیچیدگیوں سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 4.2 ملین ہے، ایس آئی یو ٹی کے شعبہ ذیابیطس کی سربراہ ڈاکٹر فاطمہ جواد نے سوال و جواب کی نشست میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ ذیابیطس ایک موذی مرض ہے جس سے بچاؤ اور پیچیدگیوں کے ازالے کے لیے صحت مند زندگی، ورزش، غذائی احتیاط، معالج کی ہدایات پر سختی سے عمل اور مرض کے بارے میں مکمل آگہی سے ممکن ہے۔

اس مرض کی پیچیدگیوں کے جو خطرات دیکھنے میں آتے ہیں ان میںگردے فیل ہونا، فالج، بصارت کا خراب ہونا، دل اور شریانی نظام کی خرابیاں، گینگرین اور جگر پر چربی آنا شامل ہے، بچپن سے ہی اچھی صحت کی عادات اپنانا بیماری سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے، ایس آئی یو ٹی میں مریضوں کو تمام طبی سہولتیں مفت اور عزت نفس کے ساتھ فراہم کی جاتی ہیں۔

 

The post 88 لاکھ افراد کا گلوکوز ٹالرنس ٹیست نارمل نہیں، ماہرین ذیابیطس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2pMtzfx

السی کے بیج کے چند حیرت انگیز فوائد

 کراچی: السی کے بیج یا فلیکس سیڈ اب پاکستان میں بھی دستیاب ہیں ایک عرصے سے یہ بیج کئی طرح سے ہماری غذا کا حصہ ہیں اور جدید تحقیقی نے السی کے بیج کے فوائد کو دوچند کردیا ہے، اس کے جادوئی فوائد درج ذیل ہیں۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے بھرپور

السی کے بیج میں نباتات میں پائے جانے والا انتہائی مفید اومیگا تھری فیٹی ایسڈ پایا جاتا ہے جسے ایلفا لائنولک ایسڈ یا اے ایل اے بھی کہا جاتا ہے۔ یہ انسان میں خون کی گردش بہتر کرتا ہے۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کے فوائد بھی لاتعداد ہیں اور السی کے بیج اس سے مالا مال ہیں۔

فائبر اور پروٹین سے بھرپور

یہ بات پیش نظر رہے کہ السی کے بیچ کی بہت تھوڑی مقدار ہی کھانا ہوتی ہے۔ دو چمچے فلیکس سیڈ میں 6 گرام فائبر، 5 گرام پودوں کا پروٹین اور تانبہ، میگنیشیئم، مینگانیز، فاسفورس اور تھایامن کی خاطر خواہ مقدار موجود ہوتی ہے۔ اس میں موجود خرد غذائی اجزا یا مائیکرو نیوٹریئنٹس ہڈیوں کو طاقت بخشتے ہیں، نیند اور موڈ بہتر کرتے ہیں، خون میں آکسیجن کو جذب کرنے میں مدد دیتے ہیں مختصراً یہ کہ السی کے بیج ہر طرح سے فائدہ مند ہیں۔

السی کے بیج دل کے دوست

السی میں موجود مفید چکنائیاں بلڈ پریشر کم کرتی ہیں۔ جسم کے لیے مضر یعنی ایل ڈی ایل کولیسٹرول گھٹاتی اور امراضِ قلب یا فالج سے بچاتی ہیں۔ ایک تجربے میں مریضوں کو تین ماہ تک السی کے بیج کھلائے گئے تو ان میں تین ماہ بعد ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی شرح 20 فیصد تک کم دیکھی گئی۔

ذیابیطس میں مددگار

فلیکس سیڈز میں لائگنن نامی جزو بلڈ پریشر معمول پر رکھتا ہے۔ ایک چھوٹے سے مطالعے میں 12 ہفتوں تک ذیابیطس کے قریب پہنچنے والے خواتین و حضرات کو روزانہ 13 گرام السی کے بیج دیئے گئے۔ اس کا نتیجہ برآمد ہوا کہ تمام افراد میں انسولین کا افراز بڑھا اور خون میں شکر کی مقدار بھی کم دیکھی گئی۔

وزن گھٹانے میں لاجواب

السی کے بیج میں ایک اہم جزو میوسلیج بھی پایا جاتا ہے جو پانی میں مل کر معدے میں جگہ گھیرتا ہے اور پیٹ بھرے ہونے کا احساس دیتا ہے۔ اس طرح وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور انسان اندھا دھند کھانے سے بچ جاتا ہے۔

 السی کے بیج کیسے کھائے جائیں

طبِ مشرق میں السی کے بیچ کو توے پر بھون کر کھانے کے فوائد بیان کیے گئے ہیں تاہم السی کے بیج کو پیس کر رائتے اور سلاد پر بھی چھڑک کر کھایا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ کسی بھی طرح بیج کو مکمل طور پر نہ کھائیں کیونکہ کسی فائدے کے بغیر یہ نظامِ ہاضمہ سے گزر جاتے ہیں۔ اس لیے انہیں باریک پیس کر ہی کھانا بہتر ہے۔

The post السی کے بیج کے چند حیرت انگیز فوائد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2D8Qdle

Medical News Today: Anal cancer mortality rates have more than doubled in the US

Researchers warn that the incidence and mortality rates of anal cancer have been increasing steeply in the United States over a period of only 15 years.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/37vuXUL

Medical News Today: How dormant herpes springs back to life

Researchers have now uncovered a cellular mechanism that may explain how the herpes simplex virus goes into and comes out of hiding.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/349PiNj

Medical News Today: Flu in toddlers: Everything you need to know

Toddlers can catch the flu, just like other people, and it can be hard to know when to seek help. Learn more about flu signs and symptoms in toddlers and treatments available.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OaMD0i

Medical News Today: What is a preauricular pit?

A preauricular pit is a second hole in the ear that forms before birth. This is not usually a cause for concern, but infection may lead to mild complications. Read this article to learn more.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2OGU8ef

Medical News Today: What are the benefits of aerobic exercise?

Aerobic exercise reduces the risk of many health conditions. National guidelines recommend at least 150 minutes of aerobic activity per week. Here, learn more about the benefits of aerobic exercise on the body and brain.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/33bLYQr

Friday, 22 November 2019

الزائیمر کا لاعلاج مرض چھوٹی تبدیلیوں سے شروع ہوتا ہے، ماہرین

 کراچی: دماغی و ذہنی امراض کے ماہرین نے کہا ہے کہ حافظے کی کمزوری (الزائمر) میں انسان کے معمولاتِ زندگی، مزاج اور رویّے میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں آنے لگتی ہیں جن پر توجہ نہ دینے سے یہ مرض الزائمر میں تبدیل ہوجاتا ہے جو ایک لاعلاج بیماری ہے۔ الزائمر کے لاحق ہونے کا کوئی معروف سبب اب تک دریافت نہیں ہوسکا۔ وٹامن بی 12 کی کمی، بلند فشار خون، شوگر، نیند کی کمی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی کمی کی وجہ سے یہ بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیورولوجی اویئرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیراہتمام زیر تربیت ماہرین اعصاب و دماغ کےلیے  پاکستان میں حافظے کی کمزوری (الزائمر) کے متعلق تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ تربیتی ورکشاپ سے پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع، پروفیسر اقبال آفریدی، پروفیسر حیدر علی نقوی، ڈاکٹر صفیہ اعوان سمیت دیگر ماہرین دماغ و اعصاب  نے شہر بھر کے زیر تربیت ماہرین دماغ و اعصاب کو حافظے کی کمزوری (الزائمر) کے حوالے سے جدید تحقیقات اور علاج کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر ماہرین دماغ و اعصاب پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع، پروفیسر اقبال آفریدی، پروفیسر حیدر علی نقوی، ڈاکٹر صفیہ اعوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حافظے کی کمزوری (الزائمر) کو بڑھاپے کی علامت سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ ایک دماغی اور زندگی کو کم کرنے والا مرض ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق ملک میں تقریباً 10 لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت اس بیماری سے لاعلم ہے۔

الزائمر کی ابتدائی علامات میں  یادداشت کی کمی و روز مرہ سرگرمیوں کا بھول جانا شامل ہے۔ جب مرض بڑھتا ہے تو مریض کھانا کھانا، کپڑے پہننا اور گھر کے پتے سمیت اپنے بچوں اور قریبی عزیزواقارب تک کو بھولنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس کی کیفیت چھوٹے بچے کی سی ہو جاتی ہے جسے کسی بات کا علم نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں مریضوں کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق الزائمر کی ابتدائی شکل ڈیمنشیا (نسیان) دنیا بھر میں ایک بڑھتا ہوا مرض ہے جس کے مریضوں کی تعداد تقریباً پانچ کروڑ ہے لیکن ماہرین کے مطابق 2050 تک اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد تین گنا تک بڑھ سکتی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ حافظے کی کمزوری (الزائمر) کی تاحال کوئی وجہ معلوم نہیں کی جاسکی۔ عموماً 60 سال کی عمر کے بعد دماغ کے خلیے ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس سے دماغ کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جن کا تعلق حافظے، سوجھ بوجھ اور شخصیت سازی سے ہوتا ہے نتیجتاً انسان حساب کتاب اور سوچ بچار تک نہیں کرسکتا اور چیزوں کو بھولنا شروع ہوجاتا ہے۔

ماہرین دماغ و ذہنی امراض  کے مطابق الزائمر کے لاحق ہونے کا کوئی معروف سبب ابھی تک دریافت نہیں ہوسکا لیکن وٹامن بی 12 کی کمی، بلند فشار خون، شوگر، نیند کی کمی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی کمی کی وجہ سے یہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی منفی عادات، جیسے کہ دیر تک سونا اور دیر سے جاگنا، چکنائی اور بھاری غذاؤں کا استعمال وغیرہ یادداشت کمزوری کی وجہ بنتی ہیں۔

بے خوابی کی شکایت صبح اٹھ کر سر میں درد ہونا، دن بھر جسم بوجھل رہنا، سوتے میں سانس پھولنا، خراٹے لینا، قوت یادداشت کی کمزوری کی واضح علامات اور وجوہ ہوسکتی ہیں۔ جو افراد نیند کی گولیاں، اینٹی ڈپریسنٹ اور دردِ سر کی گولیاں استعمال کرتے ہیں، انہیں ذہنی کمزوری یا بھولنے کی شکایت ہوسکتی ہے۔ مستقل افسردگی، مایوسی، تنہائی اور ذہنی تناؤ کا شکار افراد کی قوت یادداشت جلد متاثر ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق  پاکستان میں 60 سال سے زائد عمر کے 10 فیصد افراد کو یہ بیماری لاحق ہے۔ یہ بہت تیزی سے بڑھتی ہے اس لیے ابتداء میں اس کی تشخیص بہت ضروری ہے۔ اگرچہ اس بیماری کو ختم نہیں کیا جاسکتا تاہم بروقت تشخیص کے بعد اس کی پیچیدگیوں اور شدید تر ہونے کی رفتار کو کم کیا جاسکتا ہے۔

جو افراد زیادہ سوچ بچار، دماغ کے زیادہ استعمال اور ورزش سمیت صحت مندانہ طرز زندگی اختیار کرتے ہیں انہیں اس بیماری میں مبتلا ہونے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اس لیے صحت مند زندگی گزارنے سے اس  پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے لوگوں میں آگہی بہت کم ہے۔

The post الزائیمر کا لاعلاج مرض چھوٹی تبدیلیوں سے شروع ہوتا ہے، ماہرین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/37vlddi

وٹامن بی12، بی پی، شوگر، نیند نہ آنا الزائمر کی علامات ہیں، ماہرین طب

کراچی: نیورولوجی اوئیرنس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیراہتمام زیر تربیت ماہرین اعصاب و دماغ کے لیے پاکستان میں حافظے کی کمزوری (الزائمر ) کے متعلق تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

تربیتی ورکشاپ سے پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع، پروفیسر اقبال آفریدی، پروفیسر حیدر علی نقوی، ڈاکٹر صفیہ اعوان سمیت دیگر ماہرین دماغ و اعصاب نے شہر بھر کے زیر تربیت ماہرین دماغ و اعصاب کو حافظے کی کمزوری (الزائمر ) کے حوالے سے جدید تحقیقات اور علاج کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر ماہرین دماغ و اعصاب پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع، پروفیسر اقبال آفریدی، پروفیسر حیدر علی نقوی، ڈاکٹر صفیہ اعوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حافظے کی کمزوری (الزائمر ) کو بڑھاپے کی علامت سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ ایک دماغی اور زندگی کو کم کرنے والا مرض ہے۔

محتاط اندازے کے مطابق ملک میں تقریباً 10 لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت اس بیماری سے لاعلم ہے، اس کی ابتدائی علامات میں حافظہ کی کمزوری ، یادداشت کی کمی و روز مرہ سرگرمیوں کا بھول جانا شامل ہے، جب مرض بڑھتا ہے تو مریض کھانا کھانا، کپڑے پہننا اور گھر کے پتے سمیت اپنے بچوں اور قریبی عزیزواقارب تک کو بھولنا شروع ہو جاتا ہے، اس کی کیفیت چھوٹے بچے کی سی ہو جاتی ہے جسے کسی بات کا علم نہیں ہوتا، ایسی صورت میں مریضوں کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق الزائمر کی ابتدائی شکل ڈیمنشیا (نسیان) دنیا بھر میں ایک بڑھتا ہوا مرض ہے جس کے مریضوں کی تعداد تقریباً پانچ کروڑ ہے لیکن ماہرین کے مطابق 2050 تک اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد تین گنا تک بڑھ سکتی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ حافظے کی کمزوری (الزائمر ) کی تاحال کوئی وجہ معلوم نہیں کی جاسکی، عموماً 60 سال کی عمر کے بعد دماغ کے خلئے ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس سے دماغ کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جن کا تعلق حافظے، سوجھ بوجھ اور شخصیت سازی سے ہوتا ہے نتیجتاً انسان حساب کتاب اور سوچ بچار تک نہیں کرسکتا اور چیزوں کو بھولنا شروع ہوجاتا ہے۔

ماہرین دماغ و ذہنی امراض کے مطابق الزائمر کے لاحق ہونے کا کوئی معروف سبب ابھی تک دریافت نہیں ہوسکا لیکن وٹامن بی 12 کی کمی، بلند فشار خون، شوگر، نیند کی کمی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی کمی کی وجہ سے یہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے منفی اور مثبت صحت عادات دیر تک سونا اور جاگنا، چکنائی اور بھاری غذاؤں کا استعمال یاداشت کمزوری کی وجہ بنتی ہے، بے خوابی کی شکایت صبح اٹھ کر سر میں درد ہونا، دن بھر جسم بوجھل رہنا، سوتے میں سانس پھولنا، خراٹے لینا، قوت یاداشت کی کمزوری کی واضح علامات اور وجوہات ہوسکتی ہیں جو افراد نیند کی گولیاں اینٹی ڈپریشن اور سر درد کی گولیوں کا استعمال کرتے ہیں تو ان کو ذہنی کمزوری یا بھولنے کی شکایت ہوسکتی ہے، مستقل افسردگی، مایوسی، تنہائی اورذہنی تناؤ کا شکار افراد کی قوت یاداشت جلد متاثر ہوتی ہے، مستقل بلڈ پریشر ہائی رہنے سے دماغ کی رگوں میں خون جم جاتا ہے۔

The post وٹامن بی12، بی پی، شوگر، نیند نہ آنا الزائمر کی علامات ہیں، ماہرین طب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2DaG3AE

Medical News Today: What is resistant starch?

Resistant starches are starches that the body cannot break down and use for energy. Read this article to learn about the types of resistant starch and their potential health benefits.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2D6BFlZ

Medical News Today: Obsessive love: What to know

Obsessive love disorder can be a symptom of an underlying mental health condition or due to previous trauma. Learn more about its symptoms, causes, and treatments here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2KMDQiT

Medical News Today: Sinus tachycardia: Everything you need to know

Sinus tachycardia is when the sinus node in the heart sends electrical impulses faster than the normal rate, resulting in an increased heart rate. Learn more in this article.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/35tVZKa

Medical News Today: What to know about recovering from concussion

Concussion recovery usually takes 2 weeks to 1 month, and most people make a full recovery. Learn about concussion recovery and recovery tips here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2KMxfFh

Medical News Today: Inflammation drives tau damage in Alzheimer's

Inflammation drives neuron damage by tau protein accumulation in Alzheimer's and other neurodegenerative brain diseases, according to new research.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/347vmKZ

Medical News Today: Brain cancer: Lithium may restore cognitive function after radiation

New research has found that lithium improves memory and learning capabilities in young female mice that have undergone radiation treatment.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2KOqVx8

Medical News Today: Alzheimer's: Poor air quality may contribute to cognitive decline

A recent study adds to the evidence linking air pollution with cognitive decline. The researchers also suggest a possible underlying mechanism.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Dk3TKt

Medical News Today: Through my eyes: Living with shoulder arthritis

My name is Rudy Kadlub, and I'm a 70-year-old powerlifter. This is my story of how I continued to break world records after shoulder surgery.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2ObP4Qc

Medical News Today: Heart attack protein may raise early death risk

New research finds a link between troponin, a heart attack-related protein, and a high risk of early death among people of all ages.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2O98Agf

Medical News Today: How long does bronchitis take to go away?

Bronchitis is an inflammatory condition affecting the lungs. Here we look at the differences between acute and chronic bronchitis, how long each type may last, and when to see a doctor for treatment.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/338rOH7

Medical News Today: What to know about a tracheostomy

A tracheostomy is a surgical procedure that can help a person breathe. Here, find out when the procedure is necessary, what it involves, and its associated risks.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2O92X1s

Medical News Today: 8 yoga poses to relieve constipation

Constipation is a common complaint, but yoga poses can help by stimulating the digestive system and relieving gas. Learn more about yoga poses for constipation here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2ri3JAc

Thursday, 21 November 2019

ذیابیطس پر نظر رکھنے والی عینک تیار

ساؤ پالو: برازیل اور امریکی سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر ایسی عینک تیار کرلی جو آنکھوں کی نمی سے ذیابیطس کے مریضوں کے خون میں شکر کی مقدار معلوم کرسکتی ہے۔

خون میں شکر ناپنے کے لیے عموماً سوئی چبھو کر خون کا ایک قطرہ نکال کر گلوکومیٹر پر رکھا جاتا ہے۔ یہ تکلیف دہ عمل دن میں بار بار کیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے کم تکلیف دہ طریقے کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے۔ بسا اوقات اس طریقے میں انفیکشن بھی ہوجاتا ہے۔

برازیل میں ساؤ کارلوس کیمسٹری انسٹی ٹیوٹ کے انجینئر لیاس سانیاٹی برازیکا کے مطابق آنسو میں بہت سے میٹابولائٹس ہوتے ہیں جو خون کی کیفیت کو ظاہر کرسکتے ہیں۔ اس طرح انہیں جانچ کر خون میں شکر کی مقدار کا پتا لگانے کا غیرتکلیف دہ طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔

برازیلی ماہرین نے جسمانی مائعات بالخصوص آنسو میں ایک طرح کا خامرہ ( اینزائم) ’گلوکوز آکسیڈیز‘ دریافت کیا ہے جو بدن میں خون کی مقدار کا پتا دے سکتا ہے۔ اس طرح آنسو سے نہ صرف بدن میں خون بلکہ وٹامن اور الکحل کی کم یا زیادہ مقدار بھی معلوم کی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے ایک بایو سینسر بنایا گیا ہے جو خون میں گلوکوز آکسیڈیز کی کمی بیشی کو ایک سگنل کی صورت میں ظاہر کرتا ہے۔

بایومیڈیکل استعمال کے لیے دنیا بھر میں کئی طرح کے بایوسینسر استعمال کیے جارہے ہیں۔ برازیلی ماہرین نے یونیورسٹی آف کیلی فورنیا  کے شعبہ نینو انجینئرنگ کے تعاون سے یہ سینسر عینک کی کمانیوں میں لگایا ہے لیکن اس کی تاریں ناک پر جمنے والے پیڈز سے جڑی ہیں جس پر سینسر لگائے گئے ہیں۔ آنسو لانے کے لیے مریض کو مصنوعی طریقے سے آنکھوں کو نم کرنا ہوتا ہے۔

پیڈز پر آنسو گرتے ہی گلوکوز آکسیڈیز کی وجہ سے سینسر میں الیکٹرون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے جسے کمانیوں میں لگا سرکٹ پروسیس کرکے اسمارٹ فون یا کسی بھی دوسرے پلیٹ فارم پر ظاہر کرسکتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اسے تبدیل کرکے خون میں الکحل اور وٹامن کی کمی بیشی کا بھی پتا لگایا جاسکتا ہے۔ اس طرح مریض گھر بیٹھے نہایت آسان طریقے سے ذیابیطس کا ٹیسٹ کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر 38 کروڑ افراد اس مرض کا شکار ہیں اور 2035ء تک دنیا بھر میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 58 کروڑ تک جاپہنچے گی۔

The post ذیابیطس پر نظر رکھنے والی عینک تیار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/338pZKh

پاکستانی سائنسدان کی ایجاد کردہ ایک اور دوا امریکا میں پیٹنٹ

کراچی:  بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹرنعیم الدین کنول کی سرتوڑ کوششوں کے بعد ایجادکردہ ایک اور دوا امریکا میں پیٹنٹ ہو گئی۔

پیٹنٹ کی جانے والی یہ دوا براڈ اسپیکٹرم اینٹی بائیٹک ہے جو ٹائیفائیڈ، ٹونسیلائٹس، گلے ،پھیپھٹروں،گردوں آنکھوں ، اسکن امراض اور آنتوں کے انفیکشن کیلیے کارگرہوگی، اس سے قبل پاکستان کے 2 شہرت یافتہ بین الاقوامی سائنسدان ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی اور ڈاکٹر عطاالرحمن کی ایجادکردہ میڈیسن بھی امریکہ میں پیٹنٹ ہوچکی ہیں۔

ادویات پر تحقیق کرنے والے پاکستانی سائنسدان ڈاکٹرنعیم الدین کنول کی امریکا میں اینٹی بائیٹک دوا ایجادکیے جانے پرامریکا میں نیوجرسی کے شہر ایڈیسن سٹی (Edison City)میں ان کے اعزاز میں امریکن فارماسیوٹیکل کمپنی کی جانب سے تقریب کا انعقادکیاگیاجس میں دنیا بھرکے مختلف طبی تحقیق کرنے والے سائنسدانوں اور فارما سیوٹیکل سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی، تقریب میں ڈاکٹر نعیم الدین کوایجادکردہ میڈیسن پرایڈیسن سٹی کے مئیر Tom Lankeyاور امریکن سینیٹ کے سیم تھامسن (Sam Thompson) کی جانب سے ایشین ایڈیسن (Asian Edison) (کا لقب(خطاب) بھی دیاگیا۔

تقریب میں ڈاکٹر نعیم الدین کنول کو شیشے کی خوبصورت شیلڈ سیم تھامسن کے نمائندے جان وٹرا (John Vitra) نے پیش کی اس تقریب میں پرتھ ایم بوائے ٹاؤن شپ (Perth Amboy Township) کی مئیر ولڈا ڈائس (Vilda Diaz) بھی موجود تھیں، میئر ولڈ ڈائس نے پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر نعیم الدین کنول کی ایجادکردہ اینٹی بائیٹک دوا کوامریکا میں پیٹنٹ کیے جانے اوران کی کاوشوں پرمبارکبادی۔

نمائندہ ٹربیون نے ڈاکٹر نعیم الدین کنول سے رابطہ کیا تو ان کاکہنا تھاکہ یہ دوا32سال طویل اور مسلسل جدوجہد کے بعددریافت کی ہے اس دواکی تیاری میں ڈاکٹر اے جی داود، پروفیسر آف کیمسٹری پروفیسرغلام صابر، پیتھالوجسٹ ڈاکٹر افتخار احمد خواجہ، ڈاکٹر شمائل ضیا، ڈاکٹرفضائل ضیا نے بھرپور عملی تعاون کیا، ان کاکہنا تھا کہ امریکا میں میرے اعزاز میں تقریب24 اکتوبر 2019 کو منعقد کی گئی تھی، 2018 میں یونائیٹیڈ اسٹیٹ آف امریکا پیٹنٹ ڈپارٹمنٹ اینڈ ٹریڈ مارک رجسٹریشن آفس کی جانب سے مجھے اینٹی بائیوٹک دوا پیٹنٹ کیے جانے پراسناد و دیگر دستاویزات بھی دی گئیں۔

ایکسپریس ٹربیون سے بات چیت میں ڈاکٹرنعیم الدین کنول نے بتایاکہ 32 سال سرتوڑاورمسلسل انتھک محنت کے نتیجے میں ایجادکی جانے والی اینٹی بائیوٹک دواکے نامیاتی اجزاکو سبزیوں اورپھلوں سے نکالاگیا ہے جس کے بعد جانوروں پر بھی اجزااستعمال کیے گئے جس کے مثبت اثرات سامنے آئے ۔

The post پاکستانی سائنسدان کی ایجاد کردہ ایک اور دوا امریکا میں پیٹنٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2pEN1ur

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن:  چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا م...