Tuesday, 31 December 2019

بدن کے ضدی مسّے برقی جھماکوں سے ختم کردیئے گئے

کیلیفورنیا: جسم کے مختلف مقامات پر مسّوں (وارٹس) کے خاتمے کے لیے طرح طرح کے نسخے استعمال کیے جاتے ہیں۔ کبھی انہیں بجلی سے جلایا جاتا ہے تو کبھی دیسی طور پر گھوڑے کے بال باندھے جاتے ہیں لیکن اب خیال ہے کہ خاص برقی جھماکوں سے ان ڈھیٹ مسّوں کو باآسانی ختم کیا جاسکتا ہے۔

امریکا اور مغرب میں جسم کے مسّوں کو ختم کرنے کا ایک اور طریقہ استعمال ہوتا ہے جس میں مائع نائٹروجن سے اسے منجمد کرکے نکال لیا جاتا ہے لیکن اس علاج سے بھی وہ دوبارہ ابھر آتے ہیں لیکن اب کیلی فورنیا کی ایک کمپنی ’پلس بایو سائنسِس‘ نے نینو پلس اسٹیمیولیشن (این پی ایس) کے ذریعے جسمانی مسّے منٹوں میں ختم کرنے کا تجربہ کیا ہے۔

اس ٹیکنالوجی میں نینو سیکنڈ ( ایک سیکنڈ کے بھی ایک اربویں حصے کے برابر) بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ اس سے مسّے میں باریک مسام کھل جاتے ہیں اور اس میں پوٹاشیئم، کیلشیئم اور سوڈیم کے آئن اندر داخل ہوتے ہیں۔ اس طرح مسّے کے خلیات مرنے لگتے ہیں اور وہ خشک ہوکر ختم ہوجاتا ہے۔

ایک ٹیسٹ میں 170 کے قریب خاص قسم کے مسّوں پر جب یہ طریقہ آزمایا گیا اور ایک منٹ سے بھی کم وقفے کے لیے بجلی دی گئی۔ چند ہفتوں میں 82 فیصد مسّے جڑ سے ختم ہوگئے۔ اس عمل میں بقیہ جلد اور صحت مند کولاجن کو کوئی نقصان بھی نہیں پہنچا۔

ایک اور تجربے میں چہرے پر بننے والے 99 فیصد غدود صرف ایک مرتبہ کے علاج پر ختم ہوگئے۔ چہرے کے یہ ابھار ہاہپر پلیشیا لیزنس کہلاتے ہیں اور 60 دن میں قریباً سارے ہی صاف ہوگئے۔ صرف 18 مسّوں کا دوبارہ علاج کیا گیا۔

یہ تجربات ڈاکٹر رچرڈ اور ان کی ٹیم نے کیے جو کمپنی کے مرکزی سائنس داں ہیں۔ ان کے مطابق این پی ایس ٹیکنالوجی کئی طرح کے مسّوں کا نہایت مؤثر انداز میں خاتمہ کرسکتی ہے۔ اس سے کم وقت میں بہت آسانی کے ساتھ جسمانی غدود سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

The post بدن کے ضدی مسّے برقی جھماکوں سے ختم کردیئے گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2FciFUe

Medical News Today: Researchers discover new autoinflammatory condition

A previously unknown autoinflammatory condition has come to the fore thanks to a team of global experts, who were also able to identify its root cause.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2FasemC

Medical News Today: Unhealthful diet linked with vision loss later in life

A new study finds an association between the Western dietary pattern, which is high in unhealthful fats and sugars, and age-related vision loss.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2F6esS5

وائرس کی تیز رفتار شناخت کے لیے کم خرچ اور مختصر آلہ

پنسلوانیا: دو مختلف امریکی جامعات کے ماہرین نے مشترکہ طور پر تحقیق کرتے ہوئے ایک ایسا مختصر آلہ ایجاد کرلیا ہے جو صرف چند منٹوں میں کسی بھی وائرس کی درست شناخت کرسکتا ہے۔ اس آلے کو ’’وائریون‘‘ (VIRRION) کا نام دیا گیا ہے۔

پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی اور نیویارک یونیورسٹی کے اشتراک سے تیار کیے گئے اس آلے لیزر شعاعوں کے علاوہ ایک خاص مظہرِ فطرت ’’رامن اثر‘‘ (رامن ایفیکٹ) سے استفادہ کیا گیا ہے جبکہ کاربن نینو ٹیوبز اور سونے کے نینو پارٹیکلز (نینو میٹر پیمانے جتنے مختصر ذرّات) استعمال کرتے ہوئے، وائرس شناخت کرنے میں اس کی درستی غیرمعمولی طور پر بڑھائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ مختلف جانوروں میں اب تک 16 لاکھ 70 ہزار مختلف وائرس دریافت ہوچکے ہیں جن میں ڈینگی، زیکا، ایبولا اور ایڈز سمیت ہزاروں اقسام کے جان لیوا اور مہلک وائرس شامل ہیں۔ وائرس بڑی خاموشی سے حملہ آور ہوتے ہیں اور ان کے اثرات اسی وقت ظاہر ہوتے ہیں جب وہ اپنا کام دکھا چکے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وائرس کی بروقت شناخت بہت اہمیت رکھتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، اگر ہم کسی طرح ابتدائی مرحلے میں ہی وائرس کی شناخت کرنے کے قابل ہوجائیں تو بروقت حفاظتی اقدامات کرسکیں گے اور یوں وائرس سے پھیلنے والی ممکنہ وباؤں کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی روکا جاسکے گا۔ البتہ، وائرس کی شناخت کرنے والے، اب تک کے تمام طریقے بہت سست رفتار ہیں جو کئی گھنٹے اور بعض اوقات کئی دنوں کے بعد ہی کسی وائرس کے موجود ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، یہ طریقے بہت مہنگے بھی ہیں جو ہر ایک کی پہنچ میں نہیں۔

’’وائریون‘‘ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ صرف چند انچ جسامت کے آلے پر مشتمل ہے جو صرف چند منٹوں میں کسی وائرس کی موجودگی یا عدم موجودگی کی تصدیق کردیتا ہے۔ یہ کسی بھی وائرس کو سب سے پہلے اس کی جسامت کی بنیاد پر شناخت کرتا ہے اور پھر رامن طیف نگاری (رامن اسپیکٹرو اسکوپی) کی مدد سے اس کی مخصوص انفرادی تھرتھراہٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے، شناخت کا عمل حتمی طور پر مکمل کرتا ہے جس میں مجموعی طور پر صرف چند منٹ لگتے ہیں۔

اسے ایجاد کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’وائریون‘‘ کا استعمال کسی ایک شعبے تک محدود نہیں۔ اسپتالوں اور شفا خانوں میں اسے وائرس سے وابستہ امراض کی تیز رفتار اور حتمی تشخیص میں استعمال کیا جاسکے گا۔ دوسری جانب کسان بھی اپنی فصلوں پر حملہ کرنے والے وائرسوں کو حملہ آور ہونے سے پہلے ہی شناخت کرکے فوری کارروائی کرسکیں گے اور یوں اپنی قیمتی فصل کا تحفظ کرسکیں گے۔ ٹھیک اسی طرح مویشیوں میں پھیلنے والے خطرناک وائرسوں کی قبل از وقت شناخت سے مویشی بانی کی صنعت کو بہت فائدہ پہنچے گا۔

فی الحال یہ آلہ اپنی تجرباتی آزمائشوں میں کامیاب ہوچکا ہے لیکن یہ کب تک اور کتنی لاگت میں فروخت کےلیے دستیاب ہوگا؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

The post وائرس کی تیز رفتار شناخت کے لیے کم خرچ اور مختصر آلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2ZDKG0x

Monday, 30 December 2019

پیاز؛ فوائد سے بھرپور قدرت کا خزانہ

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ باورچی خانے سے زیادہ  ’’پیاز‘‘ کا استعمال دواؤں میں کیا جاتا ہے۔ پیاز میں اتنی خوبیاں ہیں کہ دنیا بھر کے سائنس دانوں اور ماہرین طب و صحت کا دعویٰ ہے کہ کرہ ارض سے اگر تمام سبزیاں اور پودے غائب ہو جائیں اور ان کی جگہ صرف پیاز رہ جائے، تب بھی انسان گھاٹے میں نہیں رہے گا۔ ایک اندازے کے مطابق بچوں، مردوں، عورتوں کے لاتعداد امراض ایسے ہیں، جن میں پیاز کا استعمال فائدہ مند ہے۔

پیاز کی تاثیر بعض تکلیف دہ امراض میں اتنی سود مند ثابت ہوتی ہے کہ اس کے آگے قیمتی سے قیمتی دوائیں ہیچ ہیں۔ پیاز کے کیمیائی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں حیاتین اور دوسرے قیمتی عناصر بڑی مقدار میں موجود ہیں۔ پیاز جراثیم کش ہے، اس کا استعمال گہری نیند کا ضامن ہے۔ خواب آور گولیوں کو چھوڑنے کے خواہش مند اگر پیاز کا شوربا چند روز نوش فرمائیں، تو کم خوابی کی شکایت ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گی۔

فرانس میں پیاز کا سوپ شوق سے پیا جاتا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ دوسرے یورپی ملکوں کے مقابلے میں فرانس میں دل کے امراض کم ہوتے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم میں روسی ڈاکٹروں نے محاذ جنگ پر زخمی ہونے والے سپاہیوں کا علاج محض کچی پیاز سے کیا تھا۔ زخم پر پیاز باندھ دی جاتی اور ایک دو دن کے اندر اندر زخم خشک ہو جاتا۔

دور جدید میں ہارٹ فیل ہوجانا بے حد عام ہو چکا ہے، چناں چہ برطانوی اسپتالوں میں تجزیوں کے بعد معلوم کیا گیا ہے کہ پیاز کا مسلسل استعمال دل کے امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ روم کے بادشاہ نیرو کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنی آواز بہتر بنانے کے لیے پیاز کھایا کرتا تھا۔ پیازکا پانی سونگھنے سے نکسیر کا خون بند ہو جاتا ہے۔ سفید پیاز کوٹ کر کپڑے میں نچوڑ کر پانی نکال لیں اور اسے نیم گرم کرکے چند قطرے کان میں ڈالیں فوراً درد ٹھیک ہو جائے گا۔

ہیضے کے دنوں میں پیاز کو پھوڑ پھوڑ کر جگہ جگہ گھر میں اس طرح رکھا جائے کہ سارے گھر میں پیاز کی بو سما جائے، یہ ہیضے سے محفوظ رہنے کی نہایت عمدہ تدبیر ہے۔

گٹھیا کے مرض میں پیاز کا پانی اور رائی کا تیل ملاکر جوڑوں پر مالش کریں، اس سے سب جوڑ کھل جائیں گے اور آرام آجائے گا۔ گلے کی سوزش کے لیے پیاز پیس کر دہی اور شکر ملاکر کھانے سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔

زکام کی وجہ سے ناک سے پانی بہہ رہا ہو۔ پیاز کا پانی سونگھنا اور پیاز کھانا مفید ہے۔ پیٹ کے درد کے لیے پیاز کو آگ میں گرم کر کے نچوڑیں اور پانی نکال لیں۔ اس میں ایک ماشہ نمک ملا کر مریض کو کھلائیں، درد جاتا رہے گا۔

قے بند کرنے کے لیے پیاز سونگھانا مفید ہے۔ اس سے متلی کی شکایت بھی دور ہو جاتی ہے۔ مثانے کی پتھری کے لئے پیاز کوٹ کر پانی نکال لیں اور روزانہ چار تولے صبح کے وقت پی لیں، ان شا اللہ افاقہ ہوگا۔

 

The post پیاز؛ فوائد سے بھرپور قدرت کا خزانہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2QffLoh

جلن مٹانے، دوا پہنچانے اور کینسر سے بچانے والا ہائیڈروجل انجیکشن

 نیویارک: سائنسدانوں نے ہائیڈروجل (گاڑھے آبی محلول) پر مشتمل انجکشن بنائے ہیں جن کے ذریعے زخموں کو درست کرنے، دوا پہنچانے اور کینسر کے علاج میں مدد لی جاسکتی ہے۔

ہائیڈرجل کو خاص انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ عین اسی طرح تشکیل پاتے ہیں جس طرح جسمانی خلیات (سیل) جڑ کر ایک چادر کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ اس پر خون کی نئی رگیں بن سکتی ہیں اور جب قدرتی کھال یا ٹشو بن جائے تو یہ ہائیڈروجل کی پرت خود گھل کر ختم ہوجاتی ہے۔ ہائیڈروجل پر حیاتیاتی شئے یا دوا رکھی جاسکتی ہے اور اس طرح زخموں کو تیزی سے مندمل کیا جاتا ہے۔

یہ تحقیق رائس یونیورسٹی کے بایو انجینئر جیفرے ہارٹگیرنک اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ محققین نے خاص پیپٹائڈ والے ہائیڈروجل پر برسوں کام کرکے ان کی 100 سے زائد اقسام تیار کی ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ہائیڈروجل کو جسم کے اندر موجود ماحول میں کام کرنے کے قابل بنایا ہے۔

جسم کی اندرونی جلن اگرچہ کسی خرابی یا بیماری کا پتا دیتی ہے اور مضر سمجھی جاتی ہے لیکن بسا اوقات یہ مفید بھی ہوتی ہے۔ کبھی یہ زخم کے انفیکشن کو ظاہر کرتی ہے تو کبھی بدن میں درد کا پتا بھی دیتی ہے۔ جسم کے اندر جلن تمام اقسام کو خلیات کو سرگرم کرتی ہے تاکہ وہاں عضو یا بافتوں کی نشوونما شروع ہوسکے۔

اس کے لیے مختلف (مثبت یا منفی) چارج والے ہائیڈروجل بنائے گئے جنہوں نے زخموں پر درمیانے درجے کی قابلِ برداشت سوزش پیدا کی اور اس کے بعد کئی طریقوں سے وہاں کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ ہائیڈروجل کے ذریعے درست انداز میں سوزش پیدا ہونے سے زخم مندمل ہونے لگے کیونکہ خود جسم نے اپنا ردِ عمل ظاہر کیا تھا۔ اس کےعلاوہ ان ہائیڈروجل کو زخم تک کئی دوائیں پہنچانے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

The post جلن مٹانے، دوا پہنچانے اور کینسر سے بچانے والا ہائیڈروجل انجیکشن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2MIA4bA

Medical News Today: Could MDMA help treat mental health conditions?

New research in mice investigates the possibility that MDMA, a potentially addictive drug, may help in the context of mental health therapy.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2rKe9cI

Medical News Today: Should we all be eating more protein?

A new analysis concludes that consuming increased levels of protein only benefits people who are dieting or participating in strength training.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Zzn8K8

Sunday, 29 December 2019

نارنجی کے وہ فوائد جن سے عام افراد بھی ناواقف

کراچی  : سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی خوشبودار نارنجیاں اور کینو ہر جگہ دکھائی دے رہے ہیں۔ قدرت کے اس انمول تحفے میں بہت سے قیمتی اجزا اور شفا کے خزانے پوشیدہ ہیں۔ پہلے تازہ تحقیق سے جائزہ لیتے ہیں کہ نارنجی اور کینو کس طرح امراضِ قلب اور بلڈ پریشر کو روکتے ہیں۔

فالج، بلڈ پریشر اور امراضِ قلب میں مفید

ماہرین نے مسلسل 15 سال تک 28 ہزار افراد کا جائزہ لیا جس میں پھل اور سبزیوں کے دماغی قوت اور صحت سے تعلق کی تصدیق کرنا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر کوئی مرد روزانہ اورنج جوس کے ایک چھوٹے گلاس پینے کو معمول بنالے تو اس سے حافظہ متاثر ہونے کا خدشہ 47 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔

ہالینڈ میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ انوائرمنٹ نے یورپی کینسر اینڈ نیوٹریشن پروگرام کے تحت 35 ہزا رافراد کا 15 سال سے زائد عرصے تک سروے کیا جن میں 20 سے لے کر 70 سال تک کے افراد شامل تھے۔ اس سروے کا مقصد غذا، صحت یا اس سے ہونے یا نہ ہونے والی بیماریوں کے بارے میں معلوم کرنا تھا۔

تاہم تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نہ صرف نارنجی کے جوس سے فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ دیگر اقسام کے تازہ پھلوں کا رس بھی اسے روکنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر ہفتے میں 8 مرتبہ نارنجی کا رس پیا جائے تو فالج کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ ایک دن چھوڑ کر ایک دن یہ رس پینے سے فالج کا خطرہ 20 فیصد تک ٹلتا ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ اورنج جوس دل کے امراض کے خطرے کو بھی دور کرتا ہے اور اس سے  دل کی شریانوں کے متاثر ہونے کا خدشہ 12 سے 13 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ اس کے رس میں پھل کے تمام اہم کیمیکلز اور فلے وینوئڈز پائے جاتے ہیں جس سے خون کے لوتھڑے بننے کی شرح کم ہوتی ہے اور یوں فالج یا لقوے کا خطرہ کم سے کم ہوتا جاتا ہے۔

خوبصورت جلد اور چہرہ شاداب

نارنجیوں اور کینو میں کئی طرح کے فلے وینولز خون کی روانی کو بڑھاتے ہیں۔ اس کا اثر پورے جسم پر ہوتا ہے۔ پھر وٹامن سی، فائبر، وٹامن بی ون اور دیگر اہم اجزا سے بھرپور نارنجیاں دیگر 80 غذائی اجزا اور کیمیکل سے بھرپور ہوتی ہیں۔

بلڈپریشر قابو میں رکھے

نارنجی اور کینو میں پوٹاشیئم کی وجہ سے بلڈ پریشر قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔ امریکا میں کیے گئے ایک سروے سے جو نتائج سامنے آئے ہیں ان سے معلوم ہوا ہے کہ ایک ماہ تک ایک گلاس اورنج جوس پینے سے بلڈ پریشر کو کئی یونٹ تک کم کرکے اسے کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔

کینو اور کینسر

نارنجیاں اور کینو کے استعمال سے کئی طرح کے کینسر کے خطرے سےبچا جاسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پھلوں میں اینٹی آکسیڈنٹس کی وسیع مقدار ہوتی ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹس خلوی (سیلیولر) سطح پر بگاڑ کو روکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر فری ریڈیکلز کسی نہ کسی طرح کے سرطان کی وجہ بن سکتے ہیں۔

دو چھوٹے مطالعات سے یہ معلوم ہوا کہ اورنج جوس کا باقاعدہ استعمال جلد اور آنتوں کے سرطان کو روکتا ہے۔

The post نارنجی کے وہ فوائد جن سے عام افراد بھی ناواقف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Qz1ku7

Medical News Today: Cholesterol levels in young adults can predict heart disease risk

A new study investigates cholesterol levels across decades. It concludes that high levels in young adulthood can impact heart disease risk later in life.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/354iyos

Medical News Today: Mindfulness training may lower blood pressure

A recent study concludes that a specially designed mindfulness curriculum can significantly benefit individuals with high blood pressure.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2F4Dcu1

Saturday, 28 December 2019

انسانی جلد اور آنکھوں کو نقصان پہنچائے بغیر بیماری کی تشخیص کرنے والا ’’الٹرا ساؤنڈ لیزر‘‘

کیمبرج، میساچیوسٹس: کیا یہ ممکن ہے کہ دُور بیٹھے بیٹھے کسی شخص کے اندرونی جسمانی حصوں کا جائزہ لیا جاسکے؟ میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لیزر شعاعیں استعمال کرتے ہوئے ایسا بالکل ممکن ہے۔

لیزر شعاعیں اگرچہ توانائی سے بھرپور ہوتی ہیں اور جلد کو جلا بھی سکتی ہیں لیکن اس مقصد کےلیے جو لیزر شعاعیں استعمال کی گئی ہیں وہ بہت کم توانائی کی حامل ہیں اور بالکل بے ضرر ہیں۔ اپنی اس ایجاد کو ایم آئی ٹی کے ماہرین نے ’’الٹرا ساؤنڈ لیزر‘‘ کا نام دیا ہے، جس کا نظام دو لیزر شعاعوں کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔

ان میں سے ایک لیزر، شعاع جلد میں الٹرا ساؤنڈ لہریں پیدا کرتی ہے جبکہ دوسری لیزر، انسانی جسم کے اندر سے واپس پلٹ کر آنے والی الٹرا ساؤنڈ لہروں کو محسوس کرتی ہے۔ اس طرح دور سے کسی شخص کی اندرونی جسمانی حالت کا پتا چلایا جاسکتا ہے۔

البتہ، یہ تکنیک ابھی اپنے ابتدائی مراحل پر ہے جس سے استفادہ کرتے ہوئے لیزر شعاعیں انسانی جسم میں صرف چھ سینٹی میٹر گہرائی تک سرایت کرسکتی ہیں۔ علاوہ ازیں، ابھی اس لیزر الٹراساؤنڈ میں درستی کی شرح بھی روایتی الٹرا ساؤنڈ کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔

اس کے باوجود، یہ تکنیک وضع کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسے عملی میدان میں استعمال کے قابل بنانے کی غرض سے تحقیق جاری رکھی ہوئی ہے کیونکہ مستقبل میں اس سے مستفید ہونے کے وسیع تر امکانات موجود ہیں۔ مثلاً یہ کہ انسانی جلد اور آنکھوں کو نقصان پہنچائے بغیر ہی، دور بیٹھے بیٹھے، لیزر کی مدد سے کسی بیماری کی تشخیص ممکن ہوجائے گی۔

فی الحال لیزر کے ذریعے الٹراساؤنڈ پیدا کرنے اور اسے جسم کے اندر تک پہنچانے کا تصور پہلی بار انسانوں میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے، جس کی تفصیلات ’’لائٹ: سائنس اینڈ ایپلی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوچکی ہیں۔

The post انسانی جلد اور آنکھوں کو نقصان پہنچائے بغیر بیماری کی تشخیص کرنے والا ’’الٹرا ساؤنڈ لیزر‘‘ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Zxyb6w

Medical News Today: Intermittent fasting can help ease metabolic syndrome

A new clinical trial shows that time-restricted eating, also known as intermittent fasting, helps relieve symptoms of metabolic syndrome.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/37sbSlJ

Medical News Today: Passing kidney stones: 2-drug combo may relieve pain

New research in pigs suggests that combining a hypertension drug and a glaucoma drug may take the pain out of passing a kidney stone.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2ZuwoPP

مچھلی کا تیل رات میں بہترین نظر کے لیے مفید قرار

لندن: بینائی کی بہتری کے لیے ڈاکٹر ایک عرصے سے مچھلی کے تیل یا تیل بند گولیاں تجویز کرتے آرہے ہیں، اس ضمن میں مختلف ادوار میں مختلف تحقیق کی گئیں اور کبھی اس کے حق میں اور کبھی اس کی مخالفت میں نتائج سامنے آئے۔

اب لوبورو یونیورسٹی کے سائنس داں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مچھلی کے تیل اور اس سے بنی گولیوں میں موجود فیٹی ایسڈ ، ڈوکوسا ہیکسا نوئک ایسڈ (ڈی ایچ اے) جو کہ بعض تیل دار مچھلیوں مثلاً سرمئی اور ٹیونا سے کشید کیا جاتا ہے، اس کا باقاعدہ استعمال آنکھ کو رات کی تاریکی سے مطابقت کے قابل بناتا ہے، مطلب یہ کہ کم ہوتی ہوئی روشنی میں آنکھ ماحول کے لحاظ سے خود کو منظم رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

ڈی ایچ اے میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے اور انسانی جسم اسے نہیں بنااتا۔ اس کی کمی السی کے بیج اور مچھلی کے روغن سے پوری کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں لوبورو یونیورسٹی کے سائنسدانوں نےایک چھوٹا سا مطالعہ کیا۔

ماہرین نے 19 رضاکاروں کو بھرتی کیا اور انہیں مدھم ہوتی ہوئی روشنی میں دیوار پر چسپاں بعض نمبر پڑھنے کا کہا لیکن اس سے قبل رضا کاروں کو دن میں چار مرتبہ 260 ملی گرام ڈی ایچ اے کی گولی اور 780 ملی گرام ای پی اے (ڈی ایچ اے میں ڈھلنے والا ایک اور فیٹی ایسڈ) کی گولیاں کھانے کو کہا گیا۔

چار ہفتوں بعد ماہرین سے کہا گیا کہ وہ اسی طرح کم ہوتی ہوئی روشنی میں اعداد پڑھنے کی کوشش کریں۔ یہاں چار ہفتوں تک ڈی ایچ اے کیپسول کھانے والے رضا کاروں  نے پہلے کے مقابلے میں 25 فیصد دھندلاہٹ میں بھی دیوار پر لکھا نمبر دیکھا اور اسے پہچان لیا۔

اس دوران تمام شرکا کے خون کے نمونے بھی لیے جاتے رہے اور خون میں فیٹی ایسڈ کی براہِ راست مقدار کو بھی نوٹ کیا جاتا رہا۔ اس طرح معلوم ہوا کہ جسم میں فیٹی ایسڈ کی مقدار بڑھنے سے اندھیرے میں بہتر طور پر دیکھنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ اگر آپ رات کے وقت کار چلاتے ہیں، پولیس، فوج یا کسی بھی سیکیورٹی ادارے کے لیے رات کی ڈیوٹی کرتے ہیں تو مچھلی کے تیل کے سپلیمنٹ آپ ہی کے لیے ہیں۔

The post مچھلی کا تیل رات میں بہترین نظر کے لیے مفید قرار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2ZxU0TA

Friday, 27 December 2019

عوامی صحت سے متعلق پاکستانی اسٹارٹ اپ ’ڈاکٹہرز‘ نے بین الاقوامی اعزاز جیت لیا

ڈھاکہ: ٹیلی میڈیسن اور آئی سی ٹی کو استعمال کرتے ہوئے عوامی صحت کے مسائل حل کرنے اور نرسوں اور دائیوں (مڈوائف) کی تربیت کرنے والی، پاکستان کی ابھرتی ہوئی اسٹارٹ اپ کمپنی ’ڈاکٹہرز‘ (DoctHERs) نے پاکستان کا نام روشن کرتے ہوئے بین الاقوامی ٹائیگر چیلنج 2019 مقابلے میں تین سرِفہرست کمپنیوں میں سے ایک کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔

یہ مقابلہ بنگلہ دیش میں منعقد کیا گیا جسے میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) سولو کے تعاون سے انٹرنیشنل ٹائیگر فاؤنڈیشن نے منعقد کیا تھا۔ بین الاقوامی ٹائیگر چیلنج 2019 کی انٹرنیشنل کیٹگری میں ڈاکٹہرز تین منتخب بہترین کمپنیوں میں شامل رہی۔ اس کے اعتراف میں نہ صرف ڈاکٹہرز کو ایوارڈ دیا گیا ہے بلکہ مجموعی طور پر تین اسٹارٹ اپ میں 20 لاکھ ڈالر تک کی سرمایہ کاری بھی کی جائے گی۔

ڈاکٹہرز کے ساتھ صاف پانی فراہم کرنے والی ایک کمپنی ’ڈِرنک ویل‘ اور سانس کے نظام کی صحت سے متعلق کمپنی ’فلیکس آرٹیفیشل‘ کو بھی تین بہترین اداروں میں شامل کیا گیا تھا۔

پاکستان میں خصوصاً خواتین صحت کے ان گنت مسائل سے دوچار ہیں اور خود کئی خواتین ڈاکٹر ایم بی بی ایس کے بعد اپنی عملی پریکٹس جاری نہیں کرپاتیں۔ ڈاکٹہرز پلیٹ فارم نے ابتدا میں خواتین ڈاکٹروں ٹیلی میڈیسن کے ذریعے مریضوں سے جوڑا اور اس کے بعد آئی سی ٹی استعمال کرتے ہوئے اپنے دائرہ اختیار کو وسعت دی۔

اس کے بعد ڈاکٹہرز نے پورے پاکستان میں ٹیلی میڈیسن کی مدد سے نرسوں اور مڈوائف کی تربیت کا آغاز کیا اور اب تک ادارے سے 150 سے زائد خواتین ڈاکٹر وابستہ ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر دس لاکھ سے زائد افرد کو طب و صحت کے کسی نہ کسی شعبے میں علاج کی سہولت دی گئی ہے۔ پورے ملک میں ڈاکٹہرز کے موبائل اور اسمارٹ شفاخانوں کی تعداد 50 سے زائد ہوچکی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ڈاکٹہرز وہاں کام کررہا ہے جہاں ڈاکٹر نہیں پہنچ پاتے۔ اس طرح اب تک 3000 سے زائد دوردراز گاؤں اور دیہات میں ان کا دائرہ کار وسیع ہوچکا ہے۔

The post عوامی صحت سے متعلق پاکستانی اسٹارٹ اپ ’ڈاکٹہرز‘ نے بین الاقوامی اعزاز جیت لیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2sjaGSK

Medical News Today: A key area of the brain is smaller in women on the pill

A new study found a dramatic difference in the size of the hypothalamus between women taking the oral contraceptive pill and those not using it.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Q1WaYr

Medical News Today: High blood pressure research: 2019 overview

In this special feature, we outline some of 2019's most interesting investigations into hypertension. We cover risk factors, nutrition, and more.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Q0n7eV

Thursday, 26 December 2019

مزاج بہتر بنانے والے پانچ اہم غذائی اجزا

 لندن: اگرچہ غذا اور دماغی صحت کے درمیان تعلق اب واضح ہوتا جارہا ہے لیکن ان میں بھی بعض ماہرین کے درمیان اختلافات ہیں۔ لیکن دو امریکی غذائی ماہرین کیتھرین نے اور میگن براؤن نے کہا ہے کہ بعض غذائی اجزا سرد موسم میں آپ کے موڈ کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ دونوں خاتون ماہرین مشی گن میڈیسن ویٹ میجنمنٹ پروگرام سے وابستہ ہیں۔ ان کے  مطابق کئی غذائی اجزا انسانی نفسیات پر اثرانداز ہوکر موڈ بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

ان کے مطابق کوئی ایسی واحد غذا نہیں جو ڈپریشن اور یاسیت سے بچاسکے ان کے مطابق سبزیاں، پھل، کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات اور مکمل اناج کا باقاعدہ استعمال نہ صرف صحت کو بہتر بناتا ہے بلکہ اس میں موجود وٹامن اور کئی طرح کے کیمیکل دماغی صحت کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ غذائی اجزا اور کیمیکل دماغی صحت کو بہتر بناتے ہیں اور موڈ کو اچھا کرتے ہیں۔

ٹرپٹوفین

ٹرپٹوفین نامی کیمیکل کو نیند لانے والا کیمیکل بھی کہتے ہیں ۔ انسانی جسم اسے بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور یہ غذاؤں سے حاصل ہوتا ہے

ٹرپٹوفین کو سیروٹونِن کا پیش رو کہا جاتا ہے۔ سیروٹونِن دماغی نیوروٹرانسمیٹر ہوتا ہے جو ہماری نیند، بھوک اور دیگر افعال کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اگر سیروٹونِن کی طرح ٹرپٹوفین کا استعمال کیا جائے تو موڈ بہتر ہوتا ہے۔ اس کے لیے پھلیاں، دودھ ، انڈے اور پالک وغیرہ استعمال کی جاسکتی ہیں۔

میگنیشیئم

دماغ کو سکون پہنچانے میں میگنیشئم کا کردار مسلم ہے۔ یہ پالک میں پایا جاتا ہے اور دالوں کے ساتھ ساتھ مکمل اناج یا ہول گرین میں بھی میگنیشیئم کی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے۔

فائٹونیوٹریئنٹس

میٹھی اشیا کھانے سے خون میں شکر کی مقدار تھوڑی دیر کےلیے بڑھ جاتی ہے لیکن جیسے ہی دوبارہ شکر کم ہوتی ہے موڈ بگڑنے لگتا ہے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے گہری رنگت والی چاکلیٹ کھائی جاسکتی ہیں لیکن اسے بے دریغ کھانے سے اجتناب کیا جائے۔

اسٹرابری اور بلیو بیریاں اپنے فائٹو کیمیکلز کی بنا پر ذہنی تناؤ دور کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈارک چاکلیٹ میں موجود فلےوینولز بھی دماغ کو سکون پہنچا کر ڈپریشن دور کرتے ہیں۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈز

روغنی مچھلیوں میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز عام پائے جاتے ہیں ۔ ان سے بدن کی اندرونی جلن کم ہوتی ہے۔ اسی لیے ماہرین نے ایک جانب السی کے بیج کھانے کا مشورہ دیا ہے تو دوسری جانب ہفتے میں دو مرتبہ مچھلی کھانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی دماغ کو سکون پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

The post مزاج بہتر بنانے والے پانچ اہم غذائی اجزا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/362uRTg

Medical News Today: How do fruit and veg reduce colorectal cancer risk?

Researchers may have uncovered how flavonoids may protect against colorectal cancer. The authors hope their findings will lead to a preventive drug.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/377A5xk

Medical News Today: Ultrasound with MRI improves prostate treatment

Combining ultrasound heat with precision MRI promises a more precise way to treat prostate cancer and enlarged prostates — without the usual side effects.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/35Za6YP

Wednesday, 25 December 2019

گورا کرنے والی کریم سے اعصاب متاثرہونے کا پہلا واقعہ رپورٹ ہوگیا

برکلے، کیلیفورنیا: ایک واقعے سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ رنگت گوری کرنے والی کریموں سے اعصابی نظام شدید متاثر ہوسکتا ہے۔

اس ضمن میں ایک واقعہ امریکا میں پیش آیا ہے جہاں ایک خاتون نے میکسکو سے بنی ہوئی کریم کا مسلسل استعمال کیا تو اس کا مرکزی اعصابی نظام (سینٹرل نروس سسٹم) شدید متاثر ہونے لگا۔

ڈاکٹروں نے ابتدائی مرحلے میں اس کی وجہ پارے (مرکری) کو قراردیا ہے جس کی بڑی مقدار کریم میں شامل کی گئی تھی اور اس کا مقصد رنگ صاف کرنا تھا۔ خاتون کی صحت اب اتنی بگڑچکی ہے کہ انہیں نلکی کے ذریعے کھانا پینا دیا جارہا ہے اور وہ اپنا خیال رکھنے بلکہ بولنے سے بھی محروم ہوچکی ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق اس کریم میں میتھائل مرکری کی صورت میں نامیاتی پارہ (آرگینک مرکری) موجود تھا جو امریکا میں میتھائل مرکری سے متاثر ہونے کا 50 سال میں پہلا واقعہ ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو (یو سی ایس ایف) کے ڈاکٹر نے اس پورے کیس پر غور کرنے کے بعد کہا ہے کہ جلد کی رنگت نکھارنے والی کریموں کی اکثریت میں غیرنامیاتی (ان آرگینک) پارہ ہوتا ہے لیکن خاتون کو متاثر کرنے والی کریم میں آرگینک مرکری شامل تھی جو ثابت شدہ زہریلے اور مضر اثرات رکھتی ہے۔ ایسی کریمیں انسانی اعصابی نظام کو تباہ کرسکتی ہیں اور استعمال بند کرنے پر بھی ان کا نقصان جاری رہتا ہے۔

خاتون کئی عرصے سے کریم استعمال کررہی تھیں۔ پہلے ان کے پٹھوں میں غیرارادی حرکت پیدا ہوئی۔ پھر کمزوری بڑھی جو بازو اور کاندھے تک پہنچی ۔ دو ہفتے بعد ان کی نظر دھندلاگئی اور بولنے میں شدید دقت ہونے لگی۔ بعد ازاں گھر والوں نے بتایا کہ وہ کریم سات سال سے روزانہ صبح و شام استعمال کرتی رہی تھیں۔

ماہرین نے خاتون کے علاج کے لیے چیلیشن تھراپی استعمال کی جس کی بدولت جسم سے زہر نکالا جاتا ہے لیکن طبعیت مزید بگڑگئی کیونکہ وہ اس قسم کے پارے کو جسم سے نہیں نکال پائے کیونکہ زہر کی نوعیت مختلف تھی۔

The post گورا کرنے والی کریم سے اعصاب متاثرہونے کا پہلا واقعہ رپورٹ ہوگیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2tMHfbS

فاقہ کشی حفظان صحت کے اُصولوں کے خلاف

توند نکل آئی ہے اس کا کیا علاج ہے؟ موٹاپے سے تنگ ہوں کوئی دوا بتاؤ۔ فلاں کی سمارٹنیس کا راز کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے سوالات سوشل میڈیا پر بھی ہر وقت نظر آتے ہیں۔ اور مختلف رسائل و اخبارات میں بھی اس حوالے سے مضامین مل جاتے ہیں۔ ہر شخص کا تجربہ مختلف ہوتا ہے اس لیے بہتر ہے ہر نسخہ یا دوا بلا سوچے سمجھے مت استعمال کریں۔ کوشش کریں کسی ماہرِ غذائیات سے مشورہ کرکے اپنے کھانے پینے کا چارٹ تیار کروائیں اور اس پر عمل کرکے اپنا وزن کنٹرول کریں۔

میں سندیافتہ ماہرِ غذائیات نہیں ہوں مگر دو سال شعبہ غذائیات میں کام کرنے سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں نے جن عادتوں کو اپنا کر خود کو موٹاپے سے بچایا ہوا ہے وہ چیدہ چیدہ آپ کے لیے پیشِ خدمت ہیں۔ اس میں اکثر ایسی چیزیں ہیں جو ہر شخص بلاجھجھک اپنا سکتا ہے۔

زندہ رہنے کے لیے کھایا کریں، کھانے کو ہی زندگی نہ سمجھ لیں۔

امریکہ میں دلیہ روزمرہ کا ناشتہ کا اہم جزو ہے، جو کا دلیہ غذائیت سے بھرپور، چکنائی سے مبرا، اور معدہ کو پُر کرنے والی غذا ہے۔ خصوصاً جسمانی کام کرنے والے لوگ دلیہ باقاعدہ استعمال کریں اس سے معدہ بھی بھر جاتا ہے، طاقت بحال رہتی ہے اور دیگر غذاؤں کی طرح چکناہٹ بھی جسم کا حصہ نہیں بنتی۔

جو کی روٹی یا مکئی کی روٹی یا جو کی ڈبل روٹی یا خالص گندم سے تیار ڈبل روٹی ناشتے میں استعمال کریں۔ میدے سے بنی ڈبل روٹی، پراٹھے اور تلی ہوئی اشیاء ناشتے میں استعمال نہ کریں۔ ہفتے میں ایک دن صرف موسمی تازہ پھل کھائیں۔اگر جیب اجازت دے تو ہفتے میں ایک بار مچھلی ضرور کھائیں۔ میٹھی اشیاء کا استعمال کم کریں اور چائے اور قہوہ یا کافی میں چینی کے بجائے شکر استعمال کریں۔

کئی ممالک میں چقندر اور ناریل سے اخذ کی گئی چینی دستیاب ہے جو شکر کا بہترین متبادل ہے۔ پانی بکثرت پیا کریں اور پانی کے جگ یا بوتل میں لیموں کی ایک قاش ڈال لیا کریں اور اس میں مزید پانی ڈالتے رہیں۔ اگر تھوڑا تردد کریں تو گھر میں ایک کولر میں صبح پانی بھریں اور اس میں لیموں، کھیرا، مالٹا، انناس، سٹرابری جو بھی پھل میسر ہو وہ کاٹ کر ڈال دیں، شام تک تمام اہل خانہ وہی پانی استعمال کریں۔

اب میں اپنی ذاتی روٹین بتاتا ہوں کہ میں روزانہ کیا کھاتا ہوں۔

میں مہینے میں کبھی ایک یا دو بار پراٹھا کھالیتا ہوں اس سے زیادہ نہیں۔ میں سموسے پکوڑے صرف ماہِ رمضان میں زیادہ سے زیادہ تین یا چار بار کھاتا ہوں یعنی تقریباً نہ ہونے کے برابر۔

عام طور پر آپ پانچ یا چھے افراد کے کھانے کے لیے جتنا تیل ایک بار استعمال کرتے ہیں اتنا تیل میں پانچ بار کے کھانے میں استعمال کرتا ہوں۔ کھانے کے تیل کا جتنا استعمال پاک و ہند میں ہوتا ہے اتنا شاید ہی کہیں ہوتا ہو۔ میں ناشتے میں گندم کی ڈبل روٹی یا دلیہ استعمال کرتا ہوں، پراٹھے پوریاں یا تلی ہوئی دیگر اشیاء نہیں کھاتا۔

دن کے کھانے میں سبزی یا سلاد یا پھل کھاتا ہوں مگر عموماً دن کا کھانا ناغہ کرتا ہوں۔ رات کو غذائیت والا بھاری بھرکم کھانا جس میں سبزی اور گوشت یا مچھلی استعمال کرتا ہوں۔ میں کھانا سونے سے کم از کم تین گھنٹے پہلے کھاتا ہوں۔ دو وقت کا اچھا طاقت آمیز کھانا آپ کے لیے کافی ہے اگر زندگی کا مقصد صرف کھانا نہ ہو تو۔

سوڈا مشروبات سے مکمل اجتناب کریں، ان میں چینی کی مقدار اتنی ہوتی ہے کہ آپ کی سب احتیاط پر پانی پھر جاتا ہے۔ گرمیوں میں بھی تازہ پانی پینے کی عادت بنائیں ٹھنڈے پانی سے دور رہیں۔ کچھ وقت لگتا ہے پھر عادت ہوجاتی ہے، میں گرمیوں میں پانی نارمل درجہ حرارت والا پیتا ہوں برف والا یا ٹھنڈا پانی نہیں پیتا۔ میں کبھی کبھار رات کو بھاری کھانا کھانے کے بجائے صرف خشک میوہ جات کی مناسب مقدار استعمال کرلیتا ہوں، بظاہر آپ کو لگے گا کہ پیٹ نہیں بھرا مگر حقیقتا آپ کے جسم کی طاقت اس سے بحال رہتی ہے۔

ایک اور غلط فہمی عموماً پائی جاتی ہے کہ فاقہ کشی سے وزن کم ہوتا ہے، یہ بات صحت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ آپ جتنا زیادہ فاقہ کرتے ہیں اتنا ہی آپ اپنے جسم کی بنیادی ضروریات کو پورا نہ کرکے امراض کو دعوت دے رہے۔ کھانا پینا ترتیب سے نہ ہو تو ذیابیطس ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

یہ تو کچھ کھانے پینے کی احتیاط ہوگئی اس کے ساتھ آپ کو جسمانی ورزش کی بھی ضرورت ہے، روزانہ کم از کم تین چار میل پیدل چلیں، جاگنگ کریں، بازار جانا ہو تو کوشش کریں پیدل جائیں سامان زیادہ نہ ہو تو خود اٹھاکر لائیں۔ جم جانے کی ضرورت نہیں۔ صرف پیدل چلنے کی عادت بنالیں کسی جم ٹرینر کی ضرورت نہیں۔

دفتر اور بازار میں کثیر المنزلہ عمارات میں سیڑھیاں استعمال کریں لفٹ کا استعمال چھوڑ دیں۔ جیب اجازت دیتی ہے تو سائیکل خرید لیں اور گاڑی یا بس کے بجائے دس بارہ میل کا سفر سائیکل پر کریں۔ رات کے کھانے کے بعد کم از کم بیس پچیس منٹ گھر کے اندر ہی واک کرلیں، یا گھر کی چھت پر واک کریں۔ یاد رہے آپ جتنی مرضی ڈائیٹ کریں اور ٹوٹکے کرلیں اگر آپ روزانہ پیدل چلنے کی عادت نہیں بناتے تو آپ کی سب محنت فضول ہے۔

اچھا کھائیں اور تازہ غذا استعمال کریں، جتنا پیسہ آپ ہسپتال میں بیماری پر لگاتے ہیں وہی پیسہ اپنے کھانے پہ لگائیں، پرسکون اچھی زندگی بسر ہوگی۔

The post فاقہ کشی حفظان صحت کے اُصولوں کے خلاف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/34XX9x3

فالج کی وجوہات اور احتیاطیں

فالج ایک ایسی بیماری سمجھی جاتی ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ دماغ کی شریانوں میں رکاوٹ آجانا جس کی وجہ سے دماغ کو خون کی سپلائی کا متاثر ہونا فالج کہلاتا ہے۔ شوگر، بلڈپریشر، موٹاپا، سگریٹ نوشی، تمباکو، شراب نوشی، دل کے والوو کی خرابی، ایسی بیماری کے رسک ہوتے ہیں۔ پاکستان میں فالج کے مریضوں کی شرح 40فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔10لاکھ لوگ تقریباً فالج کی وجہ سے کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہیں۔

فالج دو قسم ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس میں دماغ خون کی شریانوں کا پھٹ جانا، دوسرا دماغ کی خون کی شریانوں میں کسی رکاوٹ کا آجانا۔ دل میں خرابی، دل کے والوو میں خرابی، گردن کی شریانوں میں چربی کا جم جانا، فالج کے خاصے اہم اسباب ہوتے ہیں۔

فالج کی علامات

اچانک منہ ٹیڑھا ہوجانا یا کسی بھی ایک طرف کا ہاتھ، پاؤں کاکام نہ کرنا، آواز کا متاثر ہونا۔ اس مرض کی تشخیص کے لئے دماغ کا ایم آر آئی یا سی ٹی سکین کرانا ہوتا ہے جس سے یہ پتہ لگایا جاسکے کہ دماغ کا کون سا حصہ فالج کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔

جیسا کہ سابقہ سطور میں عرض کیا جاچکا ہے کہ پاکستان میں فالج کے مریضوں کی شرح40فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔آئندہ برسوں میں فالج پاکستان کی چوتھی بڑی بیماری بن جائے گی۔ پاکستان میں فالج کے مسئلے سے دوچار کم ازکم 22فیصد افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں یا پھر معذور ہوجاتے ہیں۔ حاملہ عورتوں میں فالج کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

جس کوCVSTکہاجاتا ہے اور اس میں MRVکے ذریعے اس مرض کی تشخص کی جاتی ہے۔بچوں میں فالج کی وجہ دماغ کا انفیکشن، دل کے والوو کا مسئلہ، خون کی خرابیاں ہوتی ہیں۔ دنیا میں ہر چار میں سے ایک فرد کو کبھی بھی زندگی میں فالج ہوسکتا ہے اور اس سے بچاؤ ممکن ہے۔

فالج سے کیسے محفوظ رہاجاسکتاہے؟

اپنے بلڈپریشر کو کنٹرول میں رکھنا اور باقاعدگی سے بلڈپریشر کی دوائیاںلینا۔

شوگر کو کنٹرول میں رکھنا اور باقاعدگی سے اس کی دوائیاں استعمال کرنا۔

روزانہ کم ازکم15سے20منٹ کی چہل قدمی(واک) کریں۔

سگریٹ نوشی سے پرہیز کرنا۔

افسردگی اور دباؤ سے بچنا کیونکہ ہر چھ میں سے ایک فرد کے فالج کی وجہ ذہنی تناؤ  ہے۔

غصے کو کنٹرول کریں اور کولیسٹرول کو کم کریں۔

متوازن غذا ضرور کھائیں یعنی فروٹ اور سبزیوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔

اپنے وزن کو کنٹرول میں رکھیں، ہر پانچ میں سے ایک فالج موٹاپا کی وجہ سے ہوتا ہے۔

اگر کسی کو فالج ہوجائے تو دوائیوں کے ساتھ ساتھ فزیوتھراپی کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اگرفالج کی علامات میں کوئی بھی علامت کسی بھی مریض میںملتی ہے تو فوراً دماغ کے ڈاکٹر یعنی نیورولوجسٹ سے رابطہ کریں اور فالج سے نہ ہونے والی پیچیدگیوں سے بچیں۔ فالج کے بعد سینے کا انفیکشن، پیشاب کا انفیکشن، ہاتھ پاؤں کا سن ہوجانا، ڈپریشن ، جسم میں درد وغیرہ جیسی پیچیدگیاں عام ہیں۔ یاد رکھیں کہ صحت مندانہ طرز زندگی اپنا کر آپ فالج اور فالج سے ہونے والی پیچیدگیوں سے بچ سکتے ہیں۔

The post فالج کی وجوہات اور احتیاطیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/350qnv3

2019؛ ایڈز، پولیو، ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ

 اسلام آباد:  حکومتی اداروں کی بد انتظامی و مجرمانہ غفلت، سال2019 میں ایڈز، پولیو اور ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ، ریاستی اداروں کی غفلت کے باعث سال بھرپاکستانی مختلف موذی امراض کا شکار رہے۔

رواں سال جہاں ڈینگی وائرس سے51 ہزار 670 شہری متاثر ہوئے وہیں پولیو وائرس نے 123 افراد کا شکار کرکے 5 برس بعد اپنی سنچری مکمل کرلی جبکہ اس سال ایڈز نے بھی9 ہزار 600 کے قریب افراد کا شکارکرکے ریکارڈ قائم کیا۔ سال2019 صحت کے حوالے سے پاکستانیوں پر بھاری رہا،2019 کے دوران ڈینگی وائرس سے51 ہزار 670 افراد متاثر ہوئے جبکہ اس وائرس نے88 افراد کی جانیں لے لیں۔

ڈینگی سے سب سے زیادہ سندھ میں14ہزار814فراد متاثر ہوئے جن میں سے39 افراد جاں بحق ہوئے۔اسلام آباد میں 13ہزار260 افراد متاثر ہوئے۔ جن میں سے 22 افراد جاں بحق ہوئے۔ پنجاب میں 9 ہزار995 افراد متاثر ہوئے جن میں سے23 افراد جاں بحق ہوئے۔ خیبر پختونخوا میں7ہزار68 افراد متاثر ہوئے۔ بلوچستان میں3 ہزار383 افراد متاثر ہوئے جن میں سے3 افراد جاں بحق ہوئے۔آزاد کشمیر میں 1ہزار690 افراد متاثر ہوئے جن میں سے1 فرد جاں بحق ہوا۔

قبائلی علاقہ جات میں 793فراد متاثر ہوئے جبکہ دیگر مقامات پر662 افراد متاثر ہوئے۔ سال 2019 کے دوران ملک میں مزید 9 ہزار565 افراد میں ایڈزکی تصدیق ہوچکی جس میں سے اپریل سے 30 نومبر کے دوران محض سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے گاوں رتوڈیرو کے 895 افراد کے خون کے نمونوں میں ایڈز کے جراثیم کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی ہے۔ 2019 کے دوران ملک میں پولیو وائرس نے پاکستان میں رواں برس123 افراد کا شکارکر کے 5 برس بعد اپنی سنچری مکمل کرلی۔

The post 2019؛ ایڈز، پولیو، ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/35Xf3kT

Medical News Today: What causes uncontrolled laughter in epilepsy?

A thorough investigation into an individual's uncontrolled laughter revealed that the cause was seizures resulting from a rare form of epilepsy.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2PV3epA

Medical News Today: How to stay healthy on Christmas Day

Christmas Day tends to be indulgent. In this feature, we will help you find ways to enjoy yourself without being left feeling too unhealthful.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2EaTy3W

Tuesday, 24 December 2019

گھٹنے کے 3 لاکھ آپریشن میں مدد کرنے والا روبوٹ

نیوجرسی: میکو دنیا کا کامیاب ترین روبوٹک بازو ہے جو اب تک گھٹنے کی لاکھوں سرجری میں مدد کرچکا ہے اور حیرت انگیز طور پر یہ انسانوں کی طرح غلطی بھی نہیں کرتا۔

دنیا بھر کے 600 ہسپتالوں میں میکو کامیابی سے استعمال ہورہا ہے جسے اسٹرائیکر کمپنی نے برسوں کی محنت سے بنایا ہے۔ اس کا بصری نظام گھٹنے کی تھری ڈی شکل دکھاتا ہے اور آپریشن کی جگہ کا بغور معائنہ کرکے سرجری کے عمل کو آسان بناتا ہے۔

جدت اور حساسیت کی بنا پر یہ روبوٹ غلطی نہیں کرتا اور اب تک تین لاکھ سے زائد آپریشن انجام دے چکا ہے۔ روبوٹک بازو میں ہر طرح کی سرجری کے اوزار سما سکتے ہیں۔ میکو گھٹنے کے علاوہ کولہے کی ہڈی کے پیچیدہ آپریشن بھی انجام دے سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ گھٹنہ (یا اس کی گولہ نما ہڈی) بدلنی ہو تب بھی یہ جزوی آپریشن میں مدد دیتا ہے۔

اگرچہ میکو کی ٹیکنالوجی دس برس قبل منظرِ عام پر آئی تھی لیکن اسے مسلسل بہتر بنایا گیا اور اب یہ سائنس فکشن سے نکل کر حقیقت بن چکی ہے اور لاکھوں مریضوں کو علاج کی صورت میں سکون فراہم کرچکی ہے۔ روبوٹ کا بصری نظام سرجن کو گھٹنے کی مفصل ویڈیو اور تصاویر دیتا ہے جس کی بنا پر درست جگہ آپریشن کرنے میں سرجن کو مدد ملتی ہے۔

کسی بھی گڑبڑ کی صورت میں روبوٹ بازو فوری طور پر رک جاتا ہے کیونکہ غلط آپریشن مریض کو ہمیشہ کے لیے معذور بھی کرسکتا ہے۔ اگر سرجن اسے کسی ایک حصے پر کام کرنے کا حکم دیتا ہے تو یہ اسی جگہ محدود رہتا ہے اور بصورتِ دیگر کام کرنا بند کردیتا ہے۔

اپنی کئی خوبیوں کی بنا پر یہ روبوٹ دنیا بھر میں ہڈیوں کے سرجن کی اولین ترجیح بن چکا ہے تاہم اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے خاص تربیت کی ضرورت ہوتی ہے جو کمپنی فراہم کرتی ہے۔

The post گھٹنے کے 3 لاکھ آپریشن میں مدد کرنے والا روبوٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2MrZ72t

Medical News Today: For rats, empathy may be a survival strategy

Research in rats suggests that empathy may be an important element in the rodents’ remarkable ability to survive in difficult environments.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Sn9yba

Medical News Today: Aspirin: Friend or foe after breast cancer?

A new study focuses on DNA change to investigate why aspirin use is linked to different outcomes in different individuals after a breast cancer diagnosis.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/39dyqZ8

Medical News Today: A guide to the best probiotics

There are many types of probiotic, and each has a different set of health benefits. In this article, learn about the best probiotics for various situations.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/39baPYL

Medical News Today: What is the link between depression and anxiety?

Some people experience anxiety and depression at the same time. In this article, learn about how they are linked, the differences between them, and what treatments are available.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2ZpOJxh

Medical News Today: What to know about fever during pregnancy

Experiencing a fever during pregnancy can be worrying. Learn about the effects that a fever might have on a pregnant woman and their fetus, as well as when to seek help, here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2ZiTskr

Medical News Today: Everything you need to know about trigger point injections

Trigger point injections can help relieve chronic muscle pain. Here, learn about the possible side effects, how the injections work, and who may benefit.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Sm8Aft

Monday, 23 December 2019

دنیا کی پہلی لیزرالٹرا ساؤنڈ سے جسم کی بہترین تصاویرکا حصول

بوسٹن: ایک عرصے سے ہم جسم کے عکس حاصل کرنے کے لیے الٹرا ساؤنڈ استعمال کررہے ہیں لیکن الٹرا ساؤنڈ کی بعض خامیوں اور حدود کی وجہ سے یہ ایک خاص حد تک ہی کام کرتی ہیں۔

میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ماہرین نے لیزر الٹرا ساؤنڈ تیار کی ہے جس کے ذریعے اولین تصاویر حاصل کی گئی ہیں جو روایتی الٹرا ساؤنڈ کے مقابلے میں بہت صاف ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں الٹرا ساؤنڈ کے کسی آلہ یا لیزر کو جسم سے چھونا نہیں پڑتا۔ ماہرین نے اس کے لیے ایسی لیزر بنائی ہے جو آنکھ اور جلد کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی۔ ایک لیزر نظام مریض سے دور رہ کر آواز کی لہریں خارج کرتا ہے جو پورے جسم سے منعکس ہو کر واپس آتی ہیں۔ اب دوسری لیزر واپس پلٹتی ہوئی ان امواج کو شناخت کرتی ہے اور اس طرح ایک بہتر اور صاف تصویر سامنے آتی ہے۔

ابتدائی شناخت میں سائنس دانوں نے کئی رضا کاروں کے بازوؤں کے اسکین لیے جس میں ٹشوز اور پٹھے (مسلز) کا معائنہ کرنا تھا۔ نئی ٹیکنالوجی سے حاصل شدہ تصاویر سے چھ سینٹی میٹر گہرائی تک کی تصاویر ملیں جن میں پٹھے، گوشت، چربی اور ہڈیاں نہایت واضح تھی۔ حالانکہ لیزر نصف میٹر دور رکھی گئی تھیں اس کے باوجود تصاویر عام الٹرا ساؤنڈ سے بہتر تھیں۔

ایم آئی ٹی کی تحقیقاتی ٹیم نے 1550 نینو میٹر لیزر استعمال کی تھیں اور اس طولِ موج کی شعاعیں پانی میں اچھی طرح جذب ہوجاتی ہیں۔ یہ چہرے، جلد اور آنکھوں کو نقصان نہیں پہنچاتی اور موشن ڈٹیکٹر اسے بہتر طور پر عکس لینے میں مدد کرتا ہے۔

اگرچہ یہ نظام الٹرا ساؤنڈ سے بہتر ثابت تو ہوا ہے لیکن اس بھاری بھرکم سسٹم کو چھوٹا کرکے قابلِ استعمال بنانا ایک چیلنج ہے جسے اب بھی حل کرنا باقی ہے۔

The post دنیا کی پہلی لیزرالٹرا ساؤنڈ سے جسم کی بہترین تصاویرکا حصول appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/35Udbcr

Medical News Today: Home remedies for premature ejaculation

Premature ejaculation is a common sexual concern. However, there are a range of remedies and techniques that may help control it. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2QgywX0

Medical News Today: Can the keto diet treat epilepsy?

The keto diet is a high-fat, low-carbohydrate diet. Here, learn how the keto diet could help reduce the frequency of epileptic seizures.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2EPBNaB

Medical News Today: What to know about peeing after sex

Peeing after sex may help to prevent urinary tract infections. Read on to discover whether there are any other benefits to peeing after sex.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2ZkFnD1

Medical News Today: What are the differences between cage-free, free-range, and pasture-raised eggs?

‘Cage-free,’ ‘pasture-raised,’ and ‘free-range’ are all terms that describe egg production methods. They each have differing levels of animal welfare standards. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2SkNLRq

Medical News Today: Everything you need to know about microneedling with PRP

Microneedling with PRP is a cosmetic procedure that uses tiny needles and plasma from a person’s blood to encourage collagen production. Learn more here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Zih4FG

Medical News Today: Causes of heavy vaginal discharge

Having a certain amount of vaginal discharge is a normal sign of a healthy reproductive system. This article looks at why people may have excessive vaginal discharge and what to do about it.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2QhGBuH

Medical News Today: Letter from the Editor: Time to reflect

A new year is almost here! In the last letter of 2019, Managing Editor Honor Whiteman reflects on the successes of the past year, and there have been many!

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2EQwFCQ

Medical News Today: Why is it so difficult to say no to that piece of cake?

New research in rats identifies a brain circuit that may explain impulsive eating. The findings may eventually help those who are finding it hard to diet.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Zj4eai

Medical News Today: Infections: How do our bodies know when to retaliate?

A new study shows how our cells detect if an infection with Pseudomonas aeruginosa is a serious threat and whether to mount a defence.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Sl4Zyg

صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو زندگی کو مقصد دیجیے

سان ڈیاگو: امریکا میں 21 سالہ نوجوانوں سے لے کر 100 سال سے بھی زیادہ ضعیف العمر افراد پر کیے گئے ایک تازہ مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی کو بامعنی اور بامقصد سمجھتے ہیں، وہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ صحت مند بھی رہتے ہیں۔

سان ڈیاگو کاؤنٹی، کیلیفورنیا میں 1042 افراد سے ’صحت اور سوچ‘ کے بارے میں بھروائے گئے تفصیلی سروے فارمز میں شرکاء کے جوابات کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کرنے کے بعد ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اپنی زندگی کو بامقصد اور بامعنی والے، یا زندگی میں کسی مقصد یا مفہوم کی تلاش میں رہنے والے لوگ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بھی عموماً صحت مند رہتے ہیں۔ ان کے برعکس وہ لوگ جو اپنی زندگی کو ’بس یونہی‘ گزار دینے کے قائل ہوتے ہیں، وہ ادھیڑ عمری اور بڑھاپے میں زیادہ بیمار رہنے لگتے ہیں۔

جوانی کو صحت مندی اور بڑھاپے کو بیماری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ عمر رسیدگی کے ساتھ صحت کا گرنا اگرچہ یقینی ہے لیکن مطالعے میں یہ دیکھا گیا کہ وہ تمام افراد جو اپنی زندگی میں کسی نہ کسی ’’مقصد‘‘ اور ’’مفہوم‘‘ کے قائل یا متلاشی تھے، وہ ذہنی اور جسمانی طور پر اچھی صحت کے مالک تھے؛ جبکہ ان ہی کے ہم عمر، وہ افراد جو زندگی میں نہ تو کسی مقصد کے قائل تھے اور نہ ہی انہیں زندگی کے کسی مفہوم کی تلاش تھی، انہیں بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ مختلف جسمانی اور نفسیاتی بیماریاں زیادہ شدت سے متاثر کرنے لگیں۔ علاوہ ازیں، ان لوگوں کی اکتسابی (نیا سیکھنے کی) صلاحیتیں بھی عمر رسیدہ ہونے پر تیزی سے کم ہونے لگتی ہیں۔

غرض پیچیدہ اعداد و شمار اور تکنیکی زبان میں لپٹی ہوئی اس تحقیق کا پیغام بہت سادہ ہے: بامقصد زندگی گزاریئے تاکہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ کا ذہن ٹھیک کام کرتا رہے اور جسمانی صحت بھی درست رہے۔

اس مطالعے کی تفصیلات ’’جرنل آف کلینیکل سائیکاٹری‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

The post صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو زندگی کو مقصد دیجیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2PPeX97

Sunday, 22 December 2019

شدید غذائی قلت ڈی این اے میں بھی تبدیلی کی وجہ بن سکتی ہے، تحقیق

ہیوسٹن: بچوں میں غذائی قلت سے ان کے جسم میں ہولناک تنائج برآمد ہوتے ہیں لیکن اب پہلی مرتبہ معلوم ہوا ہے کہ اگرغذائی قلت شدید نوعیت کی ہوتواس سے خود ڈی این اے بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔

ہیوسٹن میں واقع بیلرکالج آف میڈیسن نے ایک تحقیق کے بعد کہا ہے کہ بالخصوص اگربچوں میں غذائی قلت بہت شدید ہو تو اس سے ایپی جنیٹک سطح پر ڈی این اے متاثر ہوتا ہے یعنی جین کے احکامات (ایکسپریشنز)بدل جاتے ہیں، لیکن اس قسم کی غذائی قلت کو طبی طور پر دو اقسام یعنی ای ایس اے ایم اور این ای ایس اے ایم میں بانٹا جاتا ہے۔

یہ دونوں کیفیات بچوں کی زندگی کے اولین دنوں میں ظہور ہوسکتی ہیں جن کا پورا نام ’ ایڈامیشس سیویئر اکیوٹ میل نیوٹریشن (ای ایس اے ایم) اور ’ نان ایڈامیشس سیویئر اکیوٹ میل نیوٹریشن ‘ (این ای ایس اے ایم) ہیں، اس کی تحقیقات نیچر میں شائع ہوئی ہیں۔

ان میں سے ای ایس اے ایم ، بچے کے جین پر پیچیدہ ترین اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس سے میٹا بولزم اور غذائیت کے دیگر مسائل جنم لیتے ہیں۔ مثال کے طور یہ ای ایس اے ایم جگر پر چربی کے امراض، جسمانی کمزوری اور خون میں شکر کی غیرمعمولی مقدار کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ بیلر کالج کے پروفیسر نیل ہینچرڈ کے مطابق ای ایس اے ایم جسمانی سوجن، کئی اعضا کی تباہی، جگر کی خرابی ، خون کے خلیات اور آنتوں کو متاثر کرنے کی وجہ بنتی ہے۔ ان کی وجہ سے بچوں کا وزن کم ہوتا ہے اور ان کی جلد اور بال بھی متاثر ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں نے ای ایس اے ایم کے شکار درجنوں بچوں کا بغور مطالعہ کرکے ان کے جین کا جائزہ لیا اور معلوم ہوا کہ کھانے پینے میں شدید کمی کی یہ کیفیت ان کے جین اس طرح بدل رہی ہے کہ وہ طرح طرح کے امراض کے شکار ہورہے ہیں۔ اس تحقیق سے ماہرین غذائی قلت کو جینیاتی سطح پر جاننے کے قابل ہوئے ہیں اوریہ تحقیق غذائی قلت سے ہونے والے مسائل کے حل میں نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔

The post شدید غذائی قلت ڈی این اے میں بھی تبدیلی کی وجہ بن سکتی ہے، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2MmhVA9

Medical News Today: Finding life's meaning can keep us healthy as we age

A new study in older adults has found a strong correlation between having found meaning in one's life and having good overall health.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/35Y6q9T

Medical News Today: Dementia: Obesity, but not diet or inactivity, raises risk

New research suggests that it may only be obesity, not a poor diet or lack of physical activity, that contributes to dementia risk.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2PM1UFt

Saturday, 21 December 2019

آکوپنکچر اور آکوپریشر سے کینسر کی تکلیف کم ہوتی ہے

نیویارک: جدید میڈیکل سائنس میں آکوپنکچر اور آکوپریشر جیسے معالجوں کو اب تک غیر سائنسی اور بے بنیاد قرار دے کر ردّ کیا جاتا رہا ہے لیکن اب ایک حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مشرق میں ہزاروں سال سے استعمال ہونے والے ان معالجاتی طریقوں سے کینسر کے مریضوں کے جسم میں اٹھنے والی تکلیف کم کرنے میں خاطر خواہ مدد لی جاسکتی ہے۔

تازہ تحقیق سے انکشااف ہوا ہے کہ کینسر کے مریضوں میں اٹھنے والی شدید تکلیف پر اگرچہ درد ختم کرنے والی جدید ترین دواؤں تک کا بے حد کم اثر ہوتا ہے لیکن اس معاملے میں بھی آکوپنکچر اور آکوپریشر سے مریض کے درد میں کمی آتی ہے۔

یہ تحقیق امریکی، آسٹریلوی اور چینی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے مشترکہ طور پر انجام دی ہے جس کے نتائج ریسرچ جرنل ’’جاما اونکولوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ ’’جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن نیٹ ورک‘‘ کو اب مختصراً ’’جاما نیٹ ورک‘‘ کا نام دیا جاچکا ہے جس کے تحت درجن بھر سے زائد میڈیکل ریسرچ جرنلز شائع ہوتے ہیں جبکہ ان تمام تحقیقی جرائد کو دنیا بھر میں بہت معتبر اور محتاط تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان ہی میں سے ایک ’’جاما اونکولوجی‘‘ بھی ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ’’جاما اونکولوجی‘‘ میں شائع ہونے والی کسی ریسرچ رپورٹ کو بھی معتبر اور قابلِ اعتماد ہی سمجھا جانا چاہیے۔

مذکورہ مطالعہ بنیادی طور پر 31 مختلف طبی مطالعات کے تجزیوں پر مبنی تھا جن میں مجموعی طور پر کینسر کے 2000 سے زیادہ مریض شریک ہوئے تھے۔ ان تمام مطالعات میں آکوپنکچر اور آکوپریشر کروانے والے اور نہ کروانے والے، دونوں طرح کے مریض شامل تھے۔

تجزیوں کے اختتام پر ایک جامع نتیجہ یہی سامنے آیا کہ کینسر کے مریضوں کی تکلیف میں جو کمی آکوپنکچر اور آکوپریشر کی بدولت ہوئی تھی، جدید درد کُش دوائیں کھانے کے اثرات بھی ان سے بہت کم تھے، یا پھر نہ ہونے کے برابر تھے۔
اگرچہ ابھی تک ہمارے پاس ایسی کوئی وضاحت موجود نہیں جو آکوپنکچر اور آکوپریشر کے طبّی فوائد کو قابلِ فہم اور درست سائنسی انداز میں بیان کرسکے لیکن یہ بات بڑی حد تک ثابت ہوگئی کہ ان دونوں روایتی طریقہ ہائے علاج سے کینسر کے مریضوں کی تکلیف میں نہ صرف کمی آتی ہے بلکہ یہ تدابیر ایسے مواقع پر بھی کام کرتی ہیں جہاں درد ختم کرنے والی جدید ایلوپیتھک دوائیں بھی بے اثر ثابت ہوتی ہیں۔

البتہ، فی الحال اس بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ آکوپنکچر اور آکوپریشر کی بدولت غالباً ہمارے امیون سسٹم اور درد سے نجات دینے والے نظام میں کچھ اس طرح سے تحریک پیدا ہوتی ہے جیسے کہ اصل میں مؤثر دوا کھا لی گئی ہو۔

The post آکوپنکچر اور آکوپریشر سے کینسر کی تکلیف کم ہوتی ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/373eTbT

Medical News Today: Inflammatory marker could be early warning for dementia

New research identifies an inflammatory biomarker in the blood, called sCD14, that may predict someone's risk of developing clinical dementia.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2MjyLiR

Medical News Today: 2019 in medical research: What were the top findings?

Another year has come and gone, and we are about to step into a new decade. But what have the past 12 months meant for medical research?

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/35WyTMU

Medical News Today: What causes arm numbness?

Arm numbness has many possible causes, from sleeping on the arm and cutting off the circulation to serious issues, such as a stroke. Learn more about these and other causes here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Z8Zu79

Medical News Today: What causes chest pain on the left side?

Left-sided chest pain can be concerning. Learn how to tell the difference between a heart attack and other potential causes and symptoms.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2rZNFEe

Medical News Today: What are the early signs of lung cancer?

Some people experience subtle symptoms of lung cancer during the early stages of the disease. Read on to learn more, including when to see a doctor.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2PJlzpF

انسانی دانت پر مشتمل دنیا کی پہلی ڈینٹل چِپ تیار

اوریگون: سائنس کی خبروں میں دلچسپی رکھنے والے افراد اس سے قبل چپ پر تجربہ گاہ، چپ پر انسانی دماغی خلیات اور دیگر ایسی ہی پیش رفت پڑھ چکے ہیں۔ اس میں تازہ اضافہ انسانی دانت کو چپ پر منتقل کرکے کیا گیا ہے۔

دانت والی چپ ہوبہو انسانی دانت کی طرح ہے کیونکہ اس پر انسانی دانت کے زندہ حیاتیاتی ٹشو چپکائے گئے ہیں اور دانتوں کی معدن کے کچھ اجزا بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس طرح یہ دنیا کی پہلی چپ ہے جو دانتوں کی خرابی بالخصوص کیڑے لگنے اور جوف (کیویٹی) بننے کے عمل کو سمجھنے میں مدد دے گی۔

اوریگون ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اسے تیار کیا ہے۔ چپ میں ڈاڑھ سے کشید کردہ بعض حصے شامل کرکے انہیں ربڑ کی دو سلائیڈوں کے درمیان پھنسایا گیا۔ ربڑ کی ہر پرت کے اندر باریک سوراخ بنائے گئے ہیں جس میں مائعات ڈالے جاسکتے ہیں۔

یہ عمل انسانی دانت میں سوراخ کی طرح ہی ہے جس میں عین انسانی منہ میں موجود مختلف کیمیکل، بیکٹیریا اور تیزاب وغیرہ ڈال کر دانت کے خراب ہونے کا پورا مرحلہ دیکھا جاسکتا ہے۔ اسے سمجھ کر ہم دانتوں کے مرض کو بہتر طور پر جان سکیں گے اور دانتوں کی مرمت کے بہتر علاج سامنے آئیں گے۔

ایک مرتبہ دانت کو خراب کرنے کا عمل شروع ہوجائے گا تو سائنسداں وقفے وقفے سے خردبین کے ذریعے اس کا مشاہدہ کریں گے۔ اس طرح ہم ابتدا سے جان سکیں گے کہ دانت خراب ہونے کا عمل کس طرح شروع ہوتا ہے۔ اوریگون کے سائنسداں اس طرح دانتوں کے لیے موزوں ترین بھرت (فلنگ) اور دیگر علاج کو بھی جان سکیں گے۔

تحقیقی ٹیم میں شامل سینئر سائنسداں پروفیسر لوئز نے کہا کہ ’ چند سال میں ہی ڈاکٹر کسی مریض کا دانت نکال کر اسی طرح کے آلے میں رکھیں گے اور دیکھیں گے کہ آخر کس طرح فلنگ جلد یا بدیر جواب دے جاتی ہیں، اس طرح دانتوں کے لیے بہترین علاج سامنے آئے گا اور دندان سازی کا پورا عمل ایک نئے انقلاب سے دوچار ہوگا‘۔

The post انسانی دانت پر مشتمل دنیا کی پہلی ڈینٹل چِپ تیار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2MhGVsc

مردوں میں بانجھ پن کی ممکنہ وجہ بننے والا جین دریافت

امریکا: سائنس دانوں نے ایک جین دریافت کیا ہے جس کا ممکنہ طور پر تعلق مردوں کی بے اولادی سے ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جین 50 فیصد مردوں میں بے اولادی کی وجہ ہوسکتا ہے جسے اس سے قبل ناقابلِ بیان سمجھا جاتا رہا تھا۔

امریکن جرنل آف ہیومن جنیٹکس میں شائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک جین ’ایس وائے سی پی ٹو‘ میں اگر کوئی بگاڑ پیدا ہوجائے تو مردانہ کروموسوم کی قدرتی ترتیب پر اثر پڑتا ہے اور یا تو غائب ہوجاتے ہیں، اپنی نقل بناتے ہیں یا پھر کہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اس طرح ایس وائے سی پی ٹو جین کی سرگرمی سے منوی جراثیم بھی چھوٹے ہوتے جاتے ہیں۔

اس بات کی تصدیق کے لیے تحقیقی ٹیم نے خمیر (ییسٹ) پر تجربات کیے اور اس جین کا مطالعہ کیا۔ خمیر کے ماڈل سے معلوم ہوا کہ یہ جین بگڑ جائے تو مردوں کے مادہ حیات پر متاثر ہوتا ہے۔ اس کے بعد کئی ایسے مردوں کا مطالعہ کیا جو بظاہر مکمل صحت مند تھے لیکن اعزازِ  والد سے محروم تھے۔ دیگر صاحبِ اولاد افراد کے مقابلے میں ان میں ایس وائے سی پی ٹو جین شدید متاثر تھا۔

اس تحقیقی ٹیم کی اہم رکن سمانتا شلیٹ کہتی ہیں کہ مرد بھی بانجھ ہوسکتے ہیں اور ان میں بگڑے ہوئے کروموسومز کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اگرچہ اس سے قبل مردوں میں اس کی وجہ سامنے نہیں آسکی تھی لیکن اب اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے بے اولادی کی وجہ اگر مردوں میں دیکھی جائے تو عالمی سطح پر اس کی شرح 30 سے 50 فیصد تک ہوسکتی ہے۔

پھر ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ اسی بگڑے ہوئے جین سے بسا اوقات مائیں امید سے بھی ہوجاتی ہیں لیکن جلد یا بدیر ان میں اسقاطِ حمل ہوجاتا ہے۔

The post مردوں میں بانجھ پن کی ممکنہ وجہ بننے والا جین دریافت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/35KgYZP

Friday, 20 December 2019

زندہ خلیوں سے انسانی ’جگر گوشے‘ تیار کرلیے گئے

ریو ڈی جنیرو: برازیلی ماہرین نے انسانی خلیات اور تھری ڈی پرنٹر استعمال کرتے ہوئے ایسے چھوٹے چھوٹے جگر تیار کرلیے ہیں جو وہ تمام کام کرسکتے ہیں جو قدرتی انسانی جگر کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ زندہ انسانی خلیات سے بنے ہوئے یہ جیتے جاگتے ’جگر گوشے‘ پروٹین بناسکتے ہیں، وٹامن اپنے اندر محفوظ کرسکتے ہیں جبکہ صفرا (بائل) بھی خارج کرسکتے ہیں۔

ان جگر گوشوں کی تیاری میں انسانی خلیاتِ ساق (اسٹیم سیلز) کی نئے سرے سے پروگرامنگ کرنے کے بعد انہیں جگر کے خلیوں میں تبدیل کیا گیا، جس کے بعد تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے انہیں پرت در پرت کرکے ایک دوسرے پر جما دیا گیا اور یوں جگر کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تیار ہوگیا جو نقلی ہوتے ہوئے بھی زندہ اور جگر کے اصل ٹکڑے کی مانند تھا۔

اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’بایوفیبریکیشن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔ البتہ مقالے کے مصنفین نے خبردار کیا ہے کہ اس اہم پیش رفت کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش نہ کیا جائے کیونکہ یہ طریقہ جگر کے مریضوں کے علاج میں غیرمعمولی ضرور ہے لیکن ابھی اس سے اتنی بڑی بافتیں (ٹشوز) تیار کرنے میں بہت وقت لگے گا جو جزوی یا مکمل طور پر انسانی جگر کی جگہ لے سکیں۔

اس سب کے باوجود، یہ بات طے ہے کہ مذکورہ طریقے کے تحت جزوی/ مکمل جگر کیونکہ متعلقہ فرد کے جسمانی خلیات ہی سے تیار کیے جائیں گے، اس لیے ان کے مسترد ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ (پیوند کاری کے عمل میں) جب ایک انسان کے جسم سے کوئی عضو یا عضو کا حصہ لے کر کسی دوسرے انسان کے جسم میں لگایا جاتا ہے، تو اسے وصول کرنے والا جسم اسے کوئی حملہ آور وائرس یا بیکٹیریا سمجھتا ہے اور فوری طور پر اسے ختم کرکے نکال باہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے میڈیکل سائنس میں ’’مسترد ہونا‘‘ (ریجیکشن) کہا جاتا ہے۔

تاہم، اگر پیوند کیے گئے عضو یا ٹکڑے کا تعلق خود اسی شخص کے اپنے جسم سے ہو تو مسترد ہونے کا یہ خطرہ نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس پیش رفت کو طبّی حلقوں میں بہت اہم قرار دیا جارہا ہے۔

The post زندہ خلیوں سے انسانی ’جگر گوشے‘ تیار کرلیے گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/377hWQr

ملک کے ایک کروڑ 70 لاکھ بچوں کے پیٹ میں کیڑے ہونے کا انکشاف

کراچی: سیوریج کے ناقص نظام کے باعث ملک بھر کے ایک کروڑ 70 لاکھ بچوں کے پیٹ میں کیڑے ہونے کا انکشاف، صوبائی محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت نے تمام اسکولوں میں پیٹ کے کیڑے مار مہم چلانے کا فیصلہ کرلیا۔

ڈائریکٹریٹ پرائیوٹ اسکول کے رجسٹرار نے تمام نجی اسکول انتظامیہ کو خط لکھ دیا، خط میں کہا گیا ہے کہ وزارت صحت اور عالمی ادارہ صحت کے مشترکہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ سیوریج کے ناقص نظام کے باعث ملک بھر کے ایک کروڑ 70 لاکھ بچوں کے پیٹ میں کیڑے ہیں، ملک بھر کے 40 اضلاع میں 5 سے 15 سال تک کی عمر کے بچے ناقص سیوریج نظام کے باعث متاثر ہورہے ہیں جبکہ کراچی کے 46 لاکھ بچوں کو علاج معالجے کی ضرورت ہے جس کے پیش نظر محکمہ صحت سندھ اور محکمہ تعلیم سندھ مشترکہ طور پر سندھ بھر کے اسکولوں میں پیٹ کے کیڑے مار مہم چلائیں گے۔

کراچی کے تمام اسکولوں میں 29 جنوری کو مہم چلائی جائے گی، مہم کے دوران بچوں کو پیٹ کے کیڑوں کو مارنے کی دوائی دی جائے گی، ایک استاد کو 200 طالب علموں کو دوائی دینے کی ذمے داری دی جائے گی اور اس استاد کو اسکول انتظامیہ کی جانب سے نامزد کیا جائے گا، اگر کسی اسکول میں 1000 بچے زیر تعلیم ہوں گے تو5 اساتذہ کو اس مہم کے لیے اسکول انتظامیہ کی جانب سے نامزد کیا جائے گا تاہم ڈائریکٹریٹ پرائیوٹ اسکول نے تمام نجی اسکولوں سے طالبعلموں اور استاتزہ کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں، تمام نجی اسکول انتظامیہ 10 جنوری سے قبل تفصیلات ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ اسکول کو جمع کرانے کے پابند ہونگے۔

 

The post ملک کے ایک کروڑ 70 لاکھ بچوں کے پیٹ میں کیڑے ہونے کا انکشاف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2ZfPgSj

Medical News Today: Liver function tests: What to know

Liver function tests can help doctors determine whether a person has liver damage and what might be causing it. Learn about the tests and what the results mean here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2EC4yYf

Medical News Today: What to know about RSD

Reflex sympathetic dystrophy, or RSD, is a nerve disorder that affects pain regulation. Here, learn about the symptoms and treatment options.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2SeHZk8

Medical News Today: What to know about the Moro reflex?

The Moro reflex is a normal, involuntary motor response in healthy babies. This article provides more details, including possible triggers and how to calm a baby with Moro reflex.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2EFFPCi

Medical News Today: What is the relationship between depression and sleep?

Depression and sleep problems appear to affect each other. Learn more about how sleeping disorders can affect depression and vice versa, and how to treat them.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/35Kqcp9

Medical News Today: Meningococcemia: Everything you need to know

Meningococcemia is a serious blood infection that causes a rash and other symptoms. Doctors can help prevent severe complications, including death, with prompt treatment. Learn more.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2EHs9XA

Medical News Today: Vaping: Is it bad for you?

Many people use vapes because they believe them to be safer than smoking and are an effective tool to quit smoking. But is it safe? Learn more about it here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2ECua7e

Medical News Today: Processed meat and cancer link depends on nitrite content

The strength of evidence linking processed meats to colorectal cancer depends on whether the products contain nitrites, according to a recent review.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2rhU656

Medical News Today: Does your season of birth affect your mortality risk?

Studies have noted a link between our season of birth and overall mortality risk. A new study takes a fresh look, focusing on cardiovascular mortality.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Meu75S

Medical News Today: Cardiovascular disease: Dietary cholesterol may not raise risk

Following heart-healthy dietary patterns may be the best choice for keeping cholesterol at healthy levels and arteries in good shape.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/34FCPjO

Medical News Today: What to know about a CSF leak

A cerebrospinal fluid leak involves the fluid escaping from the spine or a tear in the brain’s protective covering. Read on to learn more.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/34BGnnn

Medical News Today: Is tonsillitis contagious?

Some bacteria and viruses can cause inflammation of the tonsils, or tonsillitis. Read on to find out how these pathogens spread, and how to prevent tonsillitis.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/34GbLRJ

Medical News Today: What to know about dysarthria

Dysarthria is a type of speech disorder that occurs due to muscle weakness. Learn about the causes of dysarthria and the available treatment options here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/38XeUQf

ٹی وی ضرور دیکھیں، مگر اعتدال کے ساتھ

موثرابلاغ کی صلاحیتوں کے حوالے سے ایک ٹریننگ جاری تھی۔ شرکاء کچھ تھکے تھکے سے محسوس ہوئے تو ٹرینر نے کہا ’’آپ سب کھڑے ہو جائیں اور بازوں کو اپنے سینے سے آگے کی جانب سیدھا متوازی اٹھا لیں‘‘۔ سب شرکاء نے ایسا کر لیا تو ٹرینر نے یہ کہتے ہوئے جلدی سے اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں بازو کی کہنی پکڑ لی کہ آپ اپنے دائیں ہاتھ سے اپنا بائیاں گُھٹنا پکڑ لیں۔

کسی نے بھی اُن کی اس بات پر دھیان نہ دیا کہ زبان سے کیا الفاظ ادا ہوئے ہیں اور تقریباً سب ہی نے گھٹنے کے بجائے اپنی کہنی پکڑ لی۔ ٹرینر نے جب شرکاء سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے اپنا بائیاں گھٹنا پکڑ لیا ہے؟ تو تب شرکاء کو احساس ہوا کہ وہ تو گھٹنے کے بجائے ٹرینر کی طرح اپنی کہنی پکڑے ہوئے ہیں۔ اس ایکسرسائز کی مدد سے شرکاء کو یہ بتایا گیا کہ جب ہم ذہنی طور پر حاضر نہ ہوں تو ہم جو دیکھتے ہیں اُس کی کتنی جلدی پیروی کرتے ہیں بہ نسبت اس کے جوہم سنتے یا پڑھتے ہیں۔

یہ وہ عملی مظاہرہ تھا جو ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دے رہا ہے کہ جب ہم اپنے سامنے ہونے والے اس معمولی سے عمل کی مکمل پیروی کر رہے ہیں تو ٹی وی پر روزانہ دیکھنے والے انگنت مناظر اور چیزوں کو شعوری اور لاشعوری طور پر کس قدر اپنا رہے ہوں گے؟۔

ٹیلی ویژن بیسویں صدی کی سب سے بڑی ایجاد ہے اور یہ عالمی سطح پر سب سے بڑے ابلاغی میڈیم کے طور پر اُبھرا ہے۔ اس کی موجودگی اور اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا یہ ایک بہت طاقتور چینج ایجنٹ ہے۔ ہم جو ٹی وی پر دیکھتے ہیں وہ ہمارے عقائد ،رویہ اور طرزعمل پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔آج ٹیلی ویژن نے دنیا کے ہر معاشرے میں گھر کے ایک فرد کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ اپنے مثبت اور منفی اثرات لیے ٹیلی ویژن سیٹ ہماری معاشرتی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ لوگ بڑے ذوق و شوق سے اسے دیکھتے ہیں۔

وہ ایساکیوں کرتے ہیں؟ یعنی اگر لوگ ٹی وی دیکھنے میں اتنا زیادہ وقت صرف کرتے ہیں تو وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ زیادہ اہم بات یہ ہے کیا یہ ان کے لیے اچھا ہے؟یہ دونوں سوالات ٹی وی کے انسان کی ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔

میڈیا اسٹڈیز میں اگرچہ کئی ایک تھیوریز ان سوالات کے جواب دیتیں ہیں لیکن دو تھیوریز اس حوالے سے زیادہ وضاحت کرتی ہیں۔ اول  uses and gratifications نامی تھیوری پہلے سوال کا یوں جواب دیتی ہے کہ لوگ میڈیا کا انتخاب اپنی مرضی سے کرتے ہیں اور اس کا استعمال مخصوص تسکین حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ لہذا وہ میڈیم تب زیادہ استعما ل کیا جائے گا جب اس کے استعمال سے زیادہ اطمینان یا تسکین حاصل ہو۔ دوم Cultivation theory  یہ تھیوری ٹی وی کے طویل المدتی اثرات کی چانچ پڑتال کرتی ہے۔ اس نظریہ کے مطابق ٹی وی کی دنیا میں لوگ جتنا زیادہ وقت گزارتے ہیں، اُتنا ہی زیادہ اس بات کا امکان ہو تا ہے کہ جو چیز ٹی وی پر پیش کی جارہی ہو وہ اُسے سماجی حقیقت کے طور پر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔

دنیا میں ایک ٹی وی ناظر کتنا ٹی وی دیکھتا ہے ؟

٭        یوروڈیٹا ٹی وی ورلڈ وائڈ کے مطابق دنیامیںاوسطً فی ناظر 2 گھنٹے 55 منٹ روازانہ ٹی وی دیکھتا ہے۔یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ایک مہینے میں ساڑھے تین دن متواتر بغیر کسی وقفے کی طوالت پر مبنی وقت ٹی وی دیکھنے پر صرف کیا جاتا ہے۔یعنی سال میںتقریباً ڈیڑھ مہینہ متواتر کسی وقفے کے بغیر ٹی وی دیکھا جاتا ہے۔

٭  دنیامیں فی ناظر روزانہ اوسطاً175 منٹس ٹی وی دیکھتا ہے۔ یعنی ایک ہفتہ میں1225 منٹ ، ایک مہینے میں5250 منٹ اور ایک سال میں 63875 منٹ۔ اگرروزانہ کے 1440 منٹس میں سے رات کی نیند کے540 منٹس (9 گھنٹے)نکال لیے جائیں تو باقی بچنے والے 900 منٹس کا 19.4 فیصد ٹائم ٹی وی دیکھنے میں گزار ا جاتا ہے۔ یاں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ دنیا میں لوگ اپنے روزانہ فعال وقت (active time) کا 19 فیصد ٹی وی دیکھنے میں صرف کرتے ہیں۔

٭       دنیا میں ایک ٹی وی ناظر دن میں اوسطً 2 گھنٹے55 منٹ ٹی وی دیکھتا ہے۔ اس طرح وہ ایک سال میں 1064 گھنٹے اور 35 منٹ ٹی وی دیکھنے پر صرف کرتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق عالمی سطح پر ایک فرد کی اوسط عمر72 سال ہے۔ یوں ایک شخص اپنی تمام عمر میں اوسطً  76650گھنٹے ٹیلی ویژن دیکھتا ہے۔ 24 گھنٹے ایک دن اور 8760 گھنٹے ایک سال میں ہوتے ہیں۔ اس طرح دنیا میں ایک ٹی وی ناظر اپنی پوری زندگی میںپونے نو سال طوالت پر مشتمل عرصہ ٹی وی دیکھنے میں گزار دیتا ہے۔

ایک پاکستانی ٹی وی ناظر کتنا ٹی وی دیکھتا ہے؟

٭       گیلپ پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمارکے مطابق ملک میںاوسطً فی ناظر 117 منٹ روزانہ ٹی وی دیکھتا ہے۔یعنی ایک مہینے میں تقریباًاڑھائی دن اور ایک سال میں تقریباً ایک مہینہ متواتر بغیر کسی وقفے کی طوالت پر مبنی وقت ٹی وی دیکھنے پر صرف کیا جاتا ہے۔

اگرروزانہ کے1440 منٹس میں سے رات کی نیند کے540 منٹس( 9 گھنٹے) نکال لیے جائیں تو باقی بچنے والے 900 منٹس کا 13فیصد ٹائم ہم ٹی وی دیکھنے میں گزار دیتے ہیں۔ یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ایک پاکستانی ناظراپنے روزانہ فعال وقت (active time) کا 13 فیصد ٹی وی دیکھنے میں صرف کرتا ہے۔

٭        ایک پاکستانی ٹی وی ناظر دن میں اوسطً ایک گھنٹہ 57 منٹ ٹی وی دیکھتا ہے۔ اس طرح وہ ایک سال میں 711گھنٹے اور 45 منٹ ٹی وی دیکھنے پر صرف کرتا ہے۔یوں ایک پاکستانی اپنی تمام عمر میں اوسطً 47687 گھنٹے 15 منٹ ٹیلی ویژن دیکھتا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق ایک پاکستانی کی اوسط عمر67 سال یعنی 586920 گھنٹے ہے۔24 گھنٹے ایک دن اور 8760 گھنٹے ایک سال میں ہوتے ہیں۔ اس طرح ملک میں ایک ٹی وی ناظر اپنی پوری زندگی میں تقریباًساڑھے پانچ سال طوالت پر مشتمل عرصہ ٹی وی دیکھنے پر صرف کرتا ہے۔

ٹی وی کے انسانی ذ ہنی صحت پر اثرات

پروفیسر ڈاکٹر غلام رسول جو بولان میڈیکل کالج کوئٹہ میں شعبہ ذہنی صحت کے سربراہ اور پروفیسر آف سائیکاٹری ہیں ٹی وی کے ذہنی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ’’ ٹیلی ویژن دیکھنا تفریح ہے۔اس سے آپ کو معلومات، اطلاعات ،تعلیمی مندرجات اور دوسرے کلچرز سے آگاہی ہوتی ہے اس لیے اس سے انکار ممکن نہیں۔درحقیقت یہ آپ کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ ٹی وی کے ایسے پروگرام جو پرسکون، متاثر کن ،مزاحیہ ہوتے ہیں انھیں دیکھنے سے عارضی طور پردباؤ (سٹریس) اضطراب (انگزائٹی )اور افسردگی(ڈپریشن) کی کیفیت کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

لیکن یہ خیال رکھنا نہایت ہی ضروری ہے کے ٹی وی کتنا دیکھا جائے اور اس پرکیا دیکھا جائے؟ کیونکہ ہمارے ارد گرد ٹی وی نشریات کا ایک سیلاب ہے۔ مثبت اور منفی ہر طرح کا content ٹی وی اسکرین پر موجود ہے۔ اب تو اکثر گھروں میں یہ تمام دن چلتا رہتا ہے چاہے کوئی اسے دیکھے یا نہ دیکھے۔اس لیے اگر ہم نے کیا دیکھنا اور کتنا دیکھنا ہے جیسے پہلوؤں کا خیال نہیں رکھیں گے تو تحقیق یہ کہتی ہے کہ زیادہ ٹی وی دیکھنا قبل از وقت موت کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ آپ کو کئی طرح کے جسمانی عوارض میں مبتلا کر سکتا ہے۔

آپ کی ذہانت کی سطح کو کم کر سکتا ہے۔یاداشت میں کمی کا محرک ہو سکتا ہے۔ توجہ دینے اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرسکتا ہے ۔ آپ کے تجزیہ کی صلاحیت کو کم کر دیتا ہے ۔یہ آپ کو معاشرتی زندگی سے کاٹ دیتا ہے۔یہ دباؤ(سٹریس) اضطراب (انگزائٹی )اور افسردگی(ڈپریشن) کی کیفیت کا بھی باعث بن سکتا ہے۔ بچوں کی دماغی صحت پر تو اس کے بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بچوں کا بہت زیادہ ٹی وی دیکھنا اُن کی دماغی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے مطابق امریکن اکیڈمی برائے اطفال یہ مشورہ دیتی ہے کہ دو سال سے کم عمر کے بچے کو بالکل بھی ٹیلی ویژن نہ دکھائیں۔جبکہ دو سال سے زیادہ عمر کے بچے دن میںایک سے دو گھنٹے سے زائد ٹی وی نہ دیکھیں اور وہ بھی وقفوں سے۔ بڑے اپنی موجودگی میں انھیں ٹی وی دیکھنے دیں۔

کیونکہ ابتدائی بچپن کے سال دماغ کی نشوونما کے لئے اہم ہیں اس لیے ضروری ہے کہ ان کے لیے اسے پروگرامز کا انتخاب کیا جائے جو انھیں دماغی طور پر متحرک رکھیں۔ کیونکہ زیادہ ٹی وی دیکھنے سے بچوں کے قدرتی طور پر سیکھنے کی سرگرمیوں جیسے کہ چیزوں کو دریافت کرنا ،کھیلنا ، لوگوں سے میل ملاپ اور ماحول سے سیکھنا رک سکتا ہے اور اُن کا بولنا سیکھنا بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کی یاداشت میں کمی واقع ہو سکتی ہے اورپڑھنے کی صلاحیت بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بچے فلموں اور ڈراموں سے سیکھتے ہیں اور حقیقی زندگی میں ان کرداروں کی نقل کرتے ہیں۔

لہذا ٹی وی زیادہ دیکھنا اور کسی بھی قسم کے منفی پیغامات حاصل کرنا خصوصاً پُر تشدد مناظرانھیں جارح بناسکتے ہیں ۔جو اُن کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔  ڈاکٹر غلام رسول نے ٹی وی کے ذہنی صحت پر اثرات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی ہم ٹی وی دیکھنا شروع کرتے ہیں تو ہمارا دماغ سیکنڈوں کے اندر Hypnotic State کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے۔ جس سیانسانی لاشعور تک آسانی سے رسائی فراہم ہو جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ٹیلیویژن دیکھنے کے دوران سو جانا آسان ہے۔

hypnoticاثر بڑی حد تک اسکرین کی ٹمٹماہٹ کی وجہ سے ہوتا ہے جو آپ کی دماغی لہروں کو متاثر کرتے ہوئے اسے الفا کیفیت میں لے جاتا ہے۔یہ دماغ کی وہ کیفیت ہے جس کا تعلق عام طور پر محو خیال یا گہرے آرام و سکون کی حالت سے ہے ۔زیادہ تر ایسے لوگوں جو بہت کم یا پھر کبھی کبھار ٹی وی دیکھتے ہیں اس کیفیت کا شکار 30 سیکنڈ یا تین منٹ کے اندر ہوجاتا ہے ۔اس کے علاوہ ٹیلی ویژن تنقیدی انداز میں سوچنے کی آپ کی صلاحیت کو کم کرتا ہے۔

جب آپ ٹی وی دیکھتے ہیں تودماغ کی سرگرمی آپ کے دماغ کے بائیں حصہ ( جو کہ منطقی سوچ اور تنقیدی تجزیہ کے لئے ذمہ دار ہوتی) سے دائیں جانب سوئچ کر جاتی ہے۔ یہ بات اس لئے اہم ہے کہ دماغ کا دائیں طرف کا حصہ آنے والی معلومات کا تنقیدی تجزیہ نہیں کرتا ۔ اس کے بجائے یہ جذباتی ردعمل کا استعمال کرتا ہے جس کے نتیجے میں معلومات کا بہت کم یا کوئی تجزیہ نہیں ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ اس طرح ہے جیسے کوئی آپ کو کچھ بتائے اور آپ اس پر یقین کرلیں بغیر خود کوئی تحقیق کئے ہوئے۔ اس لیے جو لوگ بہت زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں۔

ان کا حقیقت کے بارے میں بہت ہی غلط اور غیر حقیقت پسندانہ نظریہ ہوتا ہے۔یعنی ٹی وی دیکھنے میں بنیادی پریشانی یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں آنے والی چیزوں پر آپ کا کوئی کنٹرول نہیں رہتا۔ ڈاکٹر صاحب ایک اور پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹی وی جسمانی اور نفسیاتی لت پیدا کرسکتا ہے۔کیونکہ ٹی وی دیکھنے سے جسم ایسا کیمیکلز خارج کرتا ہے جس کی وجہ سے ٹی وی دیکھنا آپ کو اچھا محسوس ہوتا ہے۔

یہ endorphins ہیں جو قدرتی طور پرہیروئن کی طرح کی خصوصیات کا حامل ہوتے ہیں۔ لہذا ٹی وی کا جسمانی طور پر عادی ہوجانا عین ممکن ہے۔ یہ روزانہ ٹی وی دیکھنے کو یقینی بناتے ہیں اور ذہن کواس حوالے سے پروگرام کرنے کے لئے ایک اہم عنصر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جو شخص اپنے من پسند ٹیلی ویژن پروگرام کو دیکھنے سے قاصر رہے تو وہ بعض ایسی علامات کا اظہار کرتا ہے جو کسی نشے کے عادی کو نشہ نہ ملنے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ یعنی وہ ناراض اوربے چین ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا ہے کہ جب آپ سو رہے ہوں تو آپ کا دماغ اس وقت زیادہ فعال ہوتا ہے با نسبت جب آپ ٹی وی دیکھ رہے ہوں۔ چونکہ آپ کے دماغ کی صحت کا بڑی حد تک دار و مدار اس بات پر ہے کہ آپ اُسے کتنا فعال طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لہذا بہت زیادہ ٹیلی ویژن دیکھنا آپ کے دماغ کی صحت کے لیے اس طرح بھی نقصان دہ ہے کیونکہ ٹیلیویژن دیکھتے وقت دماغ کم سرگرم رہتا ہے کیونکہ آپ کو سوچنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن اس کے برعکس جب آپ پڑھتے ہیںتو آپ کا دماغ مختلف طرح کی اشکال بناتا ہے جس کے لیے خصوصی دماغی طاقت کی ضرورت ہے۔

لہذا جب آپ پڑھ رہے ہو تے ہیں تو آپ کا دماغ موثر انداز میں ورزش کرر ہا ہوتا ہے ۔توکیا پھر ہم ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیں؟ اس سوال کے جواب میں اُنھوں نے فوراً کہا کہ میں نے شروع میں ہی کہا تھا کہ ٹی وی تفریح کا بہت بڑا ذریعہ ہے آپ اس سے منہ نہیں موڑ سکتے ۔میں خود ٹی وی پر خبریں، فلمیں ،ڈرامے ، ٹاک شوز دیکھتا ہوں لیکن اعتدال کے ساتھ کیونکہ جب تک آپ اعتدال پسندی کرتے ہو تو ٹی وی دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔تو پھر ٹی وی دیکھنے اور ذہنی صحت کو اکٹھے کیسے برقرار رکھا جا ئے؟ اس بارے میں اُنھوں نے کہا کہ اس حوالے سے جو ایک بہترین کام آپ کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہر دن کم از کم 30سے60 منٹ تک پڑھیں۔

پڑھنا دماغ کے لئے ورزش ہے۔ اسی طرح جیسے دوڑنا جسم کے لئے ورزش ہے۔کوئی دوسری زبان سیکھنا بھی دماغ کو سرگرم رکھنے کے لیے بہترین ہے۔اس کے علاوہ آپ ہفتے میں ایک یا دو دن ٹی وی دیکھنے کے دورانیہ کو محدود کریں اور اپنا باقی وقت ایسی سرگرمیوں میں مشغول کریں جو آپ کی زندگی کو طویل المدتی فائدہ پہنچائے جیسے اپنے ذاتی اہداف کا حصول کے سلسلے میں کوشش وغیرہ۔

ٹی وی کے انسانی نفسیات پر اثرات

پروفیسر ڈاکٹر امجد طفیل ماہر نفسیات ہیں ۔اسلامیہ کالج ، ریلوے روڈلاہور میں شعبہ نفسیات کے سربراہ ہیں۔ دس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ٹی وی انسانی رویوں اور طرز عمل پر کس طرح اور کتنا اثر انداز ہوتا ہے؟ اس حوالے سے وہ کہتے ہیں۔ ’’ کہ علم نفسیات اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ہمارا کردار سیکھنے سے بنتا ہے۔ سیکھنے کے بہت سے طریقے ہیں۔اس حوالے سے جس طرز کو ہم سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں اُسے Imitation کہا جاتا ہے ۔جسے تقلید/ نقل کرنا بھی کہتے ہیں۔

اسے Observation learning  کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ جو کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہورہا ہوتا ہے۔ اُسی کو ہم سیکھتے ہیں۔ اُسی کو ہم دوہراتے ہیں۔ اُسی سے ہمارا کردار تشکیل پاتا ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی شہرت کے حامل ماہر نفسیات Albert Bandura  نے بہت بنیادی قسم کا کام کیا ہے۔

اُنھوں نے اُس طریقے کو سمجھنے کی کوشش کی جس سے مشاہدہ ہمارے سیکھنے کے عمل کو مکمل کرتا ہے۔اُن کے مطابق جس طرح کے حالات لوگوں کے سامنے رکھے جائیں ۔ جس طرح کے مناظر لوگ دیکھیں گے ۔ اُسی طرح کا اُن کا کردار تعمیر ہوتا چلا جائے گا۔ اس حوالے سے اُنھوں نے بچوں پر تحقیق کی اور اُنھیں مختلف طرح کے کارٹون وٹی وی پروگرامز دکھائے گئے ۔اس تحقیق میں Albert Bandura نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ جو جارحیت ہے ۔تشدد ہے ۔کیا یہ بھی کوئی سیکھا ہوا کردار ہے؟تو ایسے بچے جن کو تشدد پر مبنی کارٹونز دیکھا ئے گئے تھے۔

اُنھیں نے اسی طرح کے کردار کا زیادہ اظہار کیا بانسبت ان بچوں کے جنہیں مثبت باتوں پر مشتمل کارٹونز دکھائے گئے۔ اس تحقیق سے اُنھوں نے یہ ثابت کیا کہ جو کچھ ہم دیکھتے ہیں ہمارا کردار اُس کے مطابق ڈھلتا چلا جاتا ہے۔

یہ بالکل درست بات ہے کہ ہمارے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی اُس پر اثر انداز ہوتی ہیں لیکن چھوٹے بچوں خصوصاً Teen agers  جسے عہد شباب بھی کہا جاتا ہے ان پر Imitation بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ ڈاکٹر امجد طفیل کا کہنا ہے کہ جب ہم ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں تو ٹی وی کی اسکرین پر جو کچھ چل رہا ہوتا ہے وہ ہمارے لیے ایک رول ماڈل کی شکل اختیار کر جاتا ہے ۔

اور لوگ اسے اختیار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ٹیلی ویژن ہو یا کوئی اور میڈیا نفسیات میں ہم ان کے لیے ایک اصطلاح استعمال کرتے ہیں کہ یہ Behavioral modification  (رویوں میں ردوبدل)کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق انسانی ذہن لفظوں میں نہیں سوچتا بلکہ Images میںسوچتا ہے۔ اور جو کچھ آپ ٹی وی اسکرین پر دیکھتے ہیں وہ بنیادی طور Image ہوتا ہے اور جو Images ہیں وہ انسانی دماغ کو زیادہ اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔

اسی طرح جب ہم اپنی ایک حس (Sense)کو استعمال کر رہے ہوں تو اس کا اثر کم ہوتا ہے۔لیکن ایک ہی Process میں اگر زیادہ حسوں کا استعمال ہو تو اس کا اثر انسانی ذہن/ دماغ پر بڑھ جاتا ہے۔ مثلاً ٹی وی ہم دیکھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان جو اپنی زندگی میں 95 فیصد تک جن دو بڑی حسوں یعنی دیکھنے اور سننے کا استعمال کر تا ہے۔ ٹی وی دیکھتے یہ دونوں استعمال ہوتی ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس مطالعہ میں دیکھنے اور ریڈیو میں سننے کی حس استعمال ہوتی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مطالعہ اور ریڈیو سننے سے جو اثرات آتے ہیں ان دونوں کا مجموعہ ٹیلی ویژن پروگراموں کے ذریعے آتا ہے۔ اس لیے میرے خیال میں جو ٹی وی کا میڈیم ہے اس کے اپنی ویورشپ پر اثرات بہت دیر پاء اور گہرے ہوتے ہیں اس لیے ٹی وی پروگرامز کو بناتے ہوئے ان کو چلانے سے پہلے ان کا بہت محتاط تجزیہ کرنا ضروری ہے ‘‘۔

 ٹی وی کے جسمانی صحت پر اثرات

ڈاکٹر وقاص اشرف جو ہڈیو ں اور درد شقیقہ (Consultant Interventional Orthopaedic & Pain Management) کے ماہر ہیں ۔ ٹی وی کے انسان کی جسمانی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات اور ان اثرات کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہو ئے انھوں نے کہا کہ ۔’’ٹی وی دیکھنے میں قطعاً کو ئی مضائقہ نہیں ہاں مسئلہ ہے تو ضرورت سے زیادہ ٹی وی دیکھنے میں۔کیونکہ آپ جتنی زیادہ دیر تک ٹی وی کے آگے بیٹھے رہیں گے تو زیادہ طویل وقت کے لیے ایک ہی جگہ پر بیٹھنے سے آپ کے جسم میں خون کی گردش متاثر ہوتی ہے خاص کر ٹانگوں کو خون کی موزوں سپلائی متاثر ہوتی ہے۔ اور جب آپ اٹھتے ہیں تو ٹانگیں سن ہوئی محسوس ہوتی ہیں یا پھر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گھٹنے آپس میں جڑ گئے ہیں اور اس کیفیت میں آپ سیدھا کھڑا نہیں ہوسکتے اور یہ حالت کچھ دیر لیتی ہے درست ہونے میں۔ اس کے علاوہ زیادہ عرصہ تک ایک جگہ بیٹھنے سے آپ کی ٹانگوں میں blood clot بھی بن سکتے ہیں ۔اور طویل بیٹھنا آپ کے پھیپھڑوں کی آکسیجن کھینچنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔

بعض لوگ ایسے بیٹھتے ہیں کہ اُنکی ریڈھ کی ہڈی انگلش کے حرف C کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اور اس صورت میں طویل عرصہ تک بیٹھنا پیٹ اور پیٹھ کے دبے اور کچھے ہوئے پٹھوںمیں اکڑن اور درد کا باعث بنتا ہے۔ زیادہ ٹی وی دیکھنے سے چونکہ آپ کاجسم زیادہ وقت کے لیے غیر متحرک ہو جاتا ہے۔اس وجہ سے آپ موٹاپے کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ذیابیطس میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور دل کے امراض کے شکنجے میں بھی پھنس سکتے ہیں۔ایک امریکی تحقیق کے مطابق روزانہ دو گھنٹے مسلسل ٹی وی دیکھنے کی وجہ سے آپ میں موٹاپے کے امکان میں 23 فیصد اور ذیابیطس کے امکان میں 14 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ ٹی وی دیکھنے سے آپ کی بینائی متاثر ہوتی ہے۔

آپ کے سننے کی صلاحیت پر اثر پڑتا ہے۔ پٹھوں کی کمزوری اور کھچاؤ کی شکایت ہوتی ہے۔اور اگر ٹی وی دیکھتے ہوئے آپ کا جسم درست حالت میں نہیں تو آپ کو گردن اور کمر کے مہروں کے علاوہ کولہے کی ہڈی کے مسائل بھی ہو سکتے ہیں۔آپ نیند کی کمی کا شکار ہوسکتے ہیں۔اس کے علاوہ جو مندرجات ا ٓ پ ٹی وی پر دیکھتے ہیں ان میں سے کچھ آپ کو بلڈ پریشر میںاضافہ کا بھی محرک بنتے ہیں۔اور ایسے شخص کو جو بہت کم یا بالکل ورزش نہ کرے اور بہت زیادہ ٹی وی دیکھے اُسے مغرب میںCouch Potato(نشستی آلو) کہا جاتا ہے۔

لہذا ٹی وی دیکھیں لیکن اعتدال اور احتیاط کے ساتھ۔ یعنی ٹی وی دیکھنے کے حوالے سے اپنی روز کی ایک حد مقرر کرلیں ۔ٹی وی کو مسلسل طویل دورانیہ کی بجائے چھوٹے چھوٹے پیریڈز میں دیکھیں۔ اور جب آپ کے پسندیدہ پروگرام میں وقفہ آجائے تو اس دوران اپنی جگہ سے اٹھیں اور اپنا کوئی اور کام کر لیں۔ اور اگر بریک نہیں ہے تو کچھ وقت کے لیے کھڑے ہوکر بھی ٹی وی دیکھ لیں۔

30  منٹ کی نشست کے بعد جسم کو ضرور حرکت دیں ۔ٹی وی اپنی فیملی کے ساتھ مل کر دیکھیں اور ایک دوسرے سے گفتگو کریں ۔ ٹی وی اسکرین اور جہاں سے آپ ٹی وی دیکھنا چاہتے ہیں ان دونوں کے مابین مناسب فاصلہ رکھیں۔

ٹی وی کو روشی میں دیکھیں۔ ٹی وی دیکھنے کے دوران اپنی body posture کو درست انداز میں رکھیں۔ لیٹ کر تو ٹی وی بالکل بھی نا دیکھیں۔ کوشش کریں کے ہمیشہ ٹی وی کو سیدھی گردن رکھ کر دیں سامنے کی جانب سے دیکھیں گردن موڑ کر نا دیکھیں۔ٹی وی دیکھتے ہوئے کھانے سے اجتناب کریں کیونکہ اکثر جنک فوڈ کا استعمال ٹی وی دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے اور بعض اوقات ٹی وی دیکھنے میں لوگ اتنا محو ہوجاتے ہیں کہ اُنھیں اندازہ نہیں رہتا کہ وہ کتنا کھانا کھاچکے ہیں۔

ٹی وی دیکھنے کے لیے کرسی پر بیٹھتے وقت اپنی پیٹھ کے پیچھے تکیہ رکھ کر بیٹھیں ایسا کرنے سے آپ کے پھیپھڑے کھل جائیں گے اور سانس لینے میں آسانی ہوگی۔سونے سے چند گھنٹے قبل یا کم از کم ایک دو گھنٹے قبل ٹی وی نہ دیکھیں ۔ بچوں کے لیے ٹی وی دیکھنا ایک سرگرمی بنائیں نا کہ عادت اور اپنی موجودگی میں انھیں ٹی وی دیکھائیں۔ بچوں کے لیے زیادہ سے زیادہ کھیلوں اور دیگر مثبت سرگرمیوں میں مصروف رہنے کے مواقع پیدا کریں‘‘۔

ٹی وی کیسے دیکھیں؟

ٹی وی چونکہ بصری میڈیم ہے اور ہمارے جسم کے جس عضو کا اس سے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے وہ آنکھیں ہیں۔ہم جس انداز سے اور جتنا زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں اس سے ہماری آنکھوں کے متاثر ہونے کا قوی امکان رہتا ہے ۔ ڈاکٹر شہزاد سعید جو کہ ماہر امراضِ چشم ہیں جب اُن کے سامنے یہ سوال رکھا گیا کہ ہمیں ٹی وی کیسے دیکھنا چاہئے تو اُن کا کہنا تھا کہ ’’ ماہرین ٹی وی دیکھتے وقت اس سے کم از کم آٹھ سے دس فٹ دور بیٹھنا تجویز کرتے ہیں۔

اس حوالے سے دنیا بھر میں جو ایک اسٹینڈرڈ اصول موجود ہے وہ یہ کہ آپ کے گھر میں موجود ٹی وی کی اسکرین جتنی بڑی ہے آپ اُس سائز کے پانچ گنا فاصلہ پر بیٹھ کر ٹیلی ویژن دیکھیں۔ مثال کے طور پراگر آپ کے ٹی وی کی اسکرین32 انچ کی ہے تو اسے دیکھنے کا فاصلہ 150 انچ یا تقریباً 13 فٹ ہونا چاہئے۔اس کے علاوہ آنکھوں کے عمودی پٹھوں کو زیادہ تھکاوٹ سے بچانے کے لئے ٹی وی کو آنکھوں کی سطح کے متوازی یا اس سے کم پر رکھیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کمرے میں مناسب لائٹنگ ہو۔

اندھیرے میں ٹی وی دیکھنے سے آپ کی آنکھیں تھک جاتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں آنکھوں کے ماہرین ٹی وی دیکھنے کے حوالے سے 20,20,20 کا ایک قاعدہ تجویز کرتے ہیں کہ ہر 20 منٹ ٹی وی دیکھنے کے بعد 20 سیکنڈ تک 20 فٹ دور کسی چیز کو غور سے دیکھا جائے۔اس سے آپ کی آنکھ کو نزدیک اور دور کی چیزیں فوکس کرنے میں دشواری نہیں ہو گی اور اُس کی ورزش ہوتی رہے گی اور آنکھوں کو وقفہ بھی ملے گا۔اس کے علاوہ باقاعدگی سے پلک جھپکانا یاد رکھیں۔

اوسطا ًایک عام فرد ہر 5 سیکنڈ میں پلک جھپکتا ہے۔ جب آپ ٹی وی دیکھ رہے ہوں یا آپ کمپیوٹرکے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں تو 12 سیکنڈ میں ایک بار پلک جھپکنے تک یہ وقت چلا جاتا ہے ۔ پلک جھپکانے کے عمل کو باقاعدگی سے دہرانے سے آپ کی آنکھیں ٹی وی دیکھتے وقت خشک ہونے سے بچیں گی۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ٹی وی دیکھنے سے آنکھوں پر دباؤ آرہا ہے تو آنکھ کی آہستہ سے مالش کریں یا کپڑے کو گرم پانی سے گیلا کرنے کے بعد اسے نچوڑیں اور آنکھوں پر لگا کر ہلکی ٹکور کریں۔ اٹھ کر گھوم پھریں اور آنکھوں کو اسکرین فری وقت دیں۔ ایسا کرنا آپ کے جسم کو خارش اور کمر کی پریشانیوں سے بھی بچاتا ہے۔

اپنی آنکھوں کو آرام دینے اور ٹی وی دیکھنے کے بعددوبارہ نارمل کرنے کے لیے رات میں کم ازکم 8 گھنٹے کی نیند حاصل کریں۔اس کے علاوہ اپنے روایتی ٹی وی کو ایک فلیٹ اسکرین ٹی وی میں اپ گریڈ کریں جو کم چکاچوند دیتا ہے۔ اسی طرح بڑی سکرین والے ٹی وی کا انتخاب بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس پر آپ کی آنکھوں کو توجہ دینے کے لئے زیادہ زور نہیں دینا پڑتا ہے۔

آخری اور سب سے اہم بات جو ڈاکٹر شہزاد سعید نے بتائی وہ یہ ہے کہ ٹی وی اور کمپیوٹر دیکھتے وقت زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں۔ایسا کرنے سے آپ کو بار بار ٹوائلٹ جانا پڑے گا جس سے آپ کی آنکھوں کو بھی وقفہ ملے گا اور جسم کو حرکت بھی۔

The post ٹی وی ضرور دیکھیں، مگر اعتدال کے ساتھ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/34LfTzE

Thursday, 19 December 2019

ویکسین کی ڈائری مرتب رکھنے والا کوانٹم ڈاٹ ٹیٹو

بوسٹن: نئی ایجادات اورٹٰیکنالوجی کے حوالے سے مشہور،’ میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ (ایم آئی ٹی) کے سائنسدانوں میں خردبینی سویوں پرمشتمل ایسا باریک ترین کوانٹم ڈاٹ ٹیٹو بنایا ہے جو کئی برسوں جلد کے اندر رہتے ہوئے ویکسین کے ہر عمل کا حساب مرتب رکھتا ہے اوراسے دیکھ کر ماہرین کسی مریض کے متعلق بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں۔

ویکسین ہمیں کئی امراض سے محفوظ رکھتی ہیں لیکن کب، کہاں اور کتنی مقدار کی ویکسین دی گئی ہے اس کا حساب رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ بالخصوص ترقی پذیر اور غریب ممالک میں بچے اکثر ویکسین لینے سے چوک جاتے ہیں اور ان کا ریکارڈ سامنے نہیں آپاتا۔

ایم آئی ٹی کے ماہرین نے انتہائی باریک خردبینی سویوں پر مشتمل ایک پٹی بنائی ہے جس میں ویکسین اور کوانٹم ڈاٹ دونوں ہی موجود ہیں اورانہیں برسوں تک جلد کے اندر رکھا جاسکتا ہے۔ یہ نظام کسی بھی شخص کی ویکسین کی تاریخ کو نوٹ کرتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے بتاتا ہے کہ کب اورکیسے ویکسین دی گئی ہے۔

صحت مند رہنے کے لیے ویکسین کے سارے عوامل پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ ڈاکٹر مریضوں یا بچوں کو ایک ہی ویکسین کو باربارپلاتے ہیں جس سے ویکسین کی خوراک یا ڈوز پوری ہوجائے اور جسم بیماری کے خلاف مدافعت میں مؤثر ہوجائے۔ ویکسین میں ناغہ مرض کے دوبارہ حملے کی وجہ بن سکتا ہے۔

اس ایجاد کا محور خود غریب ممالک کی عوام ہیں ۔ اس تحقیق سے وابستہ مرکزی سائنسداں ڈاکٹر کیون مک ہیوگ کہتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں لوگ ویکسین کارڈ گم کردیتے ہیں۔ الیکٹرانک ڈیٹا بیس نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے وہاں ہر بچے کی ویکسین کا حساب رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اسی لیے یہ اہم ایجاد کی گئ ہے۔

اس ایجاد کا دل کوانٹم ڈاٹس ہیں جو بہت ہی باریک سیمی کنڈکٹر کرسٹلز ہیں اور مختلف طولِ موج کی روشنی خارج کرتے ہیں۔ کوانٹم ڈاٹ میں ڈائی خون میں ویکسین کی موجودگی نوٹ کرتی رہتی ہے۔ اس کی ساری اطلاع اسمارٹ فون سے معلوم کی جاسکتی ہے۔

کوانٹم ڈاٹس کی ڈائی کےنیچے ہر طرح کی ویکسین رکھی جاسکتی ہے اور جو مائیکرو کیپسول کی صورت میں ہوتی ہے اور اس سے آسانی سے دوا یا ویکسین کشید کرکے اسے جسم میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ جیسے جیسے ویکسین جسم میں اترتی جاتی ہے ویسے ویسے اس کا ریکارڈ کوانٹم ڈاٹس میں جمع ہوتا رہتا ہے۔

The post ویکسین کی ڈائری مرتب رکھنے والا کوانٹم ڈاٹ ٹیٹو appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/35SwhzC

Medical News Today: What causes acid reflux and shortness of breath?

Discover the association between acid reflux and shortness of breath. We also outline the symptoms of acid reflux, and the treatment options available.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2PHs3FI

Medical News Today: Breast reduction surgery: Everything you need to know

Breast reduction surgery is a cosmetic procedure that can reduce the size of a person’s breasts. Learn about who can benefit and how the procedure works here.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Z8ZR1C

Medical News Today: What to know about alcohol and the keto diet

The keto diet is a high fat, low carbohydrate eating plan. Although alcohol does contain carbohydrates, it can be part of a keto diet. This article looks at the best and worst drinks for people following a keto diet.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2PCB3f9

Medical News Today: What to know about eco-anxiety

Eco-anxiety is a type of fear related to environmental damage and ecological disaster. This article looks at what it is and some tips for managing it.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2S9sav7

Medical News Today: Belly fat may reduce mental agility from midlife onward

As middle-aged people age, having more body fat and less muscle may affect their fluid intelligence, says a new study that implicates the immune system.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/38XhMwE

Medical News Today: What causes cells to age?

A new cell culture study points to a novel role for the DNA damage repair protein CSB in protecting cells from senescence and aging.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2PASZXA

Medical News Today: Ultra-processed foods may raise the risk of type 2 diabetes

New research finds an association between ultra-processed foods and the risk of type 2 diabetes and lays out a few possible explanations for this link.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2Q41dqh

کیمو تھراپی کو مؤثر بنانے والی ٹارگٹڈ اے سی تھراپی کا کامیاب تجربہ

 لندن: دنیا کے پہلے تجربے میں برطانوی ماہرین نے ہدف والی (ٹارگٹڈ) کیمو تھراپی کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس میں انہوں نے الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے دوا کے مجموعے خاص کینسر والے مقام پر پہنچائے ہیں تاکہ سرطان کو قابو کیا جاسکے۔

سرطان کے مؤثر علاج کا یہ تجربہ رائل مارسڈن این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ لندن نے کیا۔ انہوں نے الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے دوا کی رسائی کا تجربہ کیا جسے اے سی ٹی یا اکاسٹک کلسٹر تھراپی کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کیمو تھراپی کے کیمیکل کی بھرپور مقدار براہِ راست رسولی (ٹیومر) تک ڈالی جاتی ہے اور اطراف کے صحت مند خلیات متاثر نہیں ہوتے۔

ہم جانتے ہیں کہ کیمو تھراپی میں جہاں سرطانی خلیات تباہ ہوتے ہیں توساتھ ہی صحت مند خلیات بھی لپیٹ میں آجاتے ہیں اور متاثر ہوتے جاتے ہیں۔ لیکن امکان ہے کہ اب اس طرح مزید نقصان نہیں ہوگا۔ اس میں خردبینی بلبلے اور دوا کے خردبینی قطرے ایک ساتھ جسم میں داخل کیے جاتے ہیں پھر الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے دوا کو مطلوبہ جگہ تک ڈالا جاتا ہے بعد ازاں ایک اور الٹرا ساؤنڈ سے دوا کو عین رسولیوں میں پہنچایا جاتا ہے۔

اس طرح رسولی پر دوا تیر کی طرح جالگے گی اور علاج میں اہم کامیابی حاصل ہوگی۔ اگرچہ ابھی صرف چند مریضوں پر اسے آزمایا گیا ہے لیکن کامیابی کی صورت میں اے سی ٹی کو مریضوں کی بڑی تعداد کے علاج میں استعمال کیا جائے گا جو ایک بڑا میڈیکل ٹرائل ہوگا۔

شمال مغربی لندن سے تعلق رکھنے والی کیرن چائلڈز دنیا کی پہلی مریضہ ہیں جو اس ٹیکنالوجی سے فیضیاب ہوں گی اور انہیں نومبر 2013ء سے جگر کا سرطان لاحق ہے۔

The post کیمو تھراپی کو مؤثر بنانے والی ٹارگٹڈ اے سی تھراپی کا کامیاب تجربہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2r8bUzs

ملک بھر میں مزید 6 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

پشاور: ملک کے مختلف علاقوں میں ایک ہی روز پولیو کے مزید 6 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد رواں برس ملک بھر میں متاثرہ کیسز کی تعداد اب 111 ہوگئی ہے۔

خیبر پختونخوا کے 2 اضلاع لکی مروت اور ٹانک سے بیک وقت چار نئے متاثرہ بچوں کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد صوبے میں رواں برس پولیو کیسز کی تعداد 79 ہوگئی ہے۔

ایمرجنسی آپریشن سینٹر پشاور کے مطابق ضلع لکی مروت رواں سال ملک بھر میں سب سے زیادہ پولیو سے متاثرہ ضلع بن گیا ہے۔ صرف لکی مروت میں پولیو کیسز کی تعداد 27 ہوگئی ہے جوکہ اب ضلع بنوں کے مقابلے میں بھی بڑھ گئی ہے۔ ضلع بنوں میں رواں سال 24 پولیو کیسز کو رپورٹ کیا گیا ہے۔

نئے رپورٹ ہونے والے کیسز کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ کے 3 بچوں جن کی عمریں 4ماہ، 21ماہ اور 30ماہ ہیں جب کہ ضلع ٹانک سے 2 سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان بچوں کے فضلے کے نمونے قومی ادارہ صحت اسلام آباد کو بھجوائے گئے تھے جن میں پولیو وائرس کی تصدیق کی کئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ کے ضلع بدین میں ایک نئے متاثرہ کیس کے علاوہ بلوچستان سے 2 نئے پولیو کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں اب نئے کیسز کے بعد پولیو سے متاثرہ کیسز کی تعداد اب 111 ہوگئی ہے۔

پولیو ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں برس خیبر پختونخوا میں رواں برس پولیو کیسز کی تعداد 79 ہوگئی ہے۔ اب تک لکی مروت سے 27 ، بنوں سے 24 ، شمالی وزیرستان 8، تورغر 7، ٹانک 3، ڈیرہ اسماعیل خان اور ہنگو سے 2،2 جب کہ باجوڑ، چارسدہ، خیبر، شانگلہ، صوابی اور جنوبی وزیرستان سے ایک ایک بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ دوسری جانب سندھ 17، پنجاب 6 اور بلوچستان میں رواں برس پولیس کے 9 کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں۔

The post ملک بھر میں مزید 6 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2PB1S39

Wednesday, 18 December 2019

مرچیں کھائیے، جان بچائیے

روم: ایک طویل اور محتاط تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے اعلان کیا ہے کہ باقاعدگی سے مرچیں کھانے والے لوگوں میں دل کے دورے، رگوں کی سوجن اور فالج جیسے امراض کے باعث مرنے کی شرح ایسے افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوتی ہے جو مرچوں کا استعمال بالکل بھی نہیں کرتے یا بہت کم کرتے ہیں۔

طبّی تحقیقی مجلے ’’جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق، یہ مطالعہ اٹلی میں کیا گیا جو 8 سال تک جاری رہا۔ اس میں 22,811 مقامی افراد نے حصہ لیا جن میں 35 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین اور مرد، دونوں تقریباً مساوی تعداد میں شامل تھے۔

مطالعے کے دوران تمام رضاکاروں کے رہن سہن اور کھانے پینے سے متعلق معمولات پر گہری نظر رکھی گئی اور ان سے مختلف مواقع پر سوال نامے بھروائے جاتے رہے جن میں ان سے خاص طور پر کھانے میں مرچوں کے استعمال کے بارے میں پوچھا جاتا۔ مطالعے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ ہفتے میں کم سے کم چار مرتبہ مرچیں کھانے والے لوگوں میں مرچیں نہ کھانے والے افراد کی نسبت دل کے دورے سے مرنے کا امکان 44 فیصد کم تھا، جبکہ رگوں کی سوجن یا فالج سے اموات کی شرح 61 فیصد تک کم نوٹ کی گئی۔

البتہ، اس مطالعے کی سربراہ ڈاکٹر ماریالورا بوناکیو نے خبردار کیا کہ ان نتائج کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ مرچیں کھانے سے فالج یا دل کے دورے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، بلکہ ان کی وجہ سے ہونے والی اموات میں کمی آتی ہے۔ وہ پوڈزیلی، اٹلی میں نیورومیڈ میڈیٹیرینیئن نیورولوجیکل انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں۔

قبل ازیں ایسے ہی دو مطالعات امریکا اور چین میں ہوچکے ہیں جن میں باقاعدگی سے مرچیں کھانے کے کم و بیش یہی اثرات سامنے آئے تھے۔ مذکورہ مطالعے سے معلوم ہوا کہ یورپی اقوام کو بھی مرچوں کے باقاعدہ استعمال سے وہ تمام فوائد حاصل ہوتے ہیں جو امریکیوں اور چینیوں کو حاصل ہورہے ہیں۔

اب تک یہ تو معلوم نہیں کہ مرچوں کے ان فوائد کی اصل وجہ کیا ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ مرچوں کی تقریباً تمام اقسام میں ’’کیپسی سین‘‘ (Capsaicin) نامی ایک مرکب موجود ہوتا ہے جو ان مرچوں میں ’’مرچوں‘‘ کی وجہ بنتا ہے۔ چینی مطالعے سے پتا چلا تھا کہ کیپسی سین سے نہ صرف کولیسٹرول میں کمی آتی ہے بلکہ یہ ایک ایسے جین کو بھی کام کرنے سے روکتا ہے جو رگوں میں سختی کی وجہ بنتا ہے۔

مرچیں سرخ ہوں یا لال، تتیّا مرچ ہو یا شملہ مرچ، یہ بات بہرحال طے ہے کہ ان کی معمولی مقدار ہی ہماری روزمرہ غذا میں شامل ہونی چاہیے، ایسا نہ ہو کہ مرچوں کے طبّی فوائد پڑھ کر روزانہ وافر مقدار میں مرچیں کھانا شروع کردی جائیں۔ ایسا کرنا بہرحال صحت کےلیے مفید نہیں ہوگا۔

The post مرچیں کھائیے، جان بچائیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/38TuOew

ڈپریشن اور اضطراب (Anxiety)، اسباب، بچاؤ اور علاج

’’آج تو کام کرنے کو بالکل دل نہیں کر رہا … کیونکہ میں بہت ڈپریس ہوں‘‘۔ باس کی ناراضی سے سلیم صبح سے ڈپریشن کا شکار ہے، اسی طرح  امتحان میں ناکامی سے اسلم ڈپریشن میں مبتلا ہے۔

امجد کو کاروبار میں نقصان  ہوا ہے۔ اس وجہ سے وہ ذہنی طور پر اضطراب اور پریشانی کا شکار ہے۔ مال و دولت ہونے کے باوجود مل کا مالک ڈپریشن میں مبتلا ہے۔ پوچھنے پر بتایا کہ اللہ نے مال و دولت، اولاد سب سے نوازا ہے مگر طبیعت ہر وقت پریشان رہتی ہے، اکیلے رہنے کو دل کرتا ہے۔ نیند رات بھر نہیں آتی۔اس طرح کی اور بیسیوں مثالیں دی جاسکتی ہیں جن میں مبتلا افراد ذہنی طور پر پریشانی ، اضطراب اور ڈپریشن میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ڈپریشن ہر عمر کے مرد و خواتین میں ہو جاتا ہے بلکہ چھوٹی عمر کے بچے بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں۔

ڈپریشن کا لفظ ہماری زبان کا حصہ بن چکا ہے اور اس کا استعمال بہت عام ہے کیونکہ افتراق و انتشار، پریشانی، معاشی مسائل اور بے چینی کے اس دور میں ہر کسی کو تھوڑی بہت پریشانی، پژمردگی، مایوسی وغیرہ لازماً رہتی ہے جسے وہ ڈپریشن کا نام دیتے ہیں۔ اسے صحیح طریقے سے کنٹرول نہ کیا جائے تو پھر یہ خطرناک نفسیاتی بیماری کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس کی وجہ سے نفسیاتی بیماری کے ساتھ آدمی کا جسم بھی بیمار ہو جاتا ہے۔

وجوہات

ڈپریشن کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ افراتفری کے اس مادی دور میں ہر کوئی خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے اور اس کے لیے جائز و ناجائز ہر طرح کے وسائل کو بروئے کار لاتا ہے۔ اگر نتائج اس کی توقع کے خلاف نکلیں تو پھر بندے کو پریشانی و پژمردگی گھیر لیتی ہے اور وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ امتحان میں ناکامی، گھریلو ناچاقی، محبت میں ہار، لمبی اور پرانی بیماری، مالی مسائل وغیرہ کی موجودگی میں آدمی آسانی سے اعصابی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے اور ہر وقت ڈپریشن میں مبتلا رہتا ہے۔

علامات

ڈپریشن کا شکار شخص ہر وقت پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔ کسی چیز میں اس کا دل نہیں لگتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ دنیا سے بالکل جی اٹھ گیا ہے اور ہر شے بے معنی لگتی ہے۔ صحیح علاج نہ کیا جائے تو پھر ڈپریشن کی بیماری لمبی ہوجاتی ہے اور پورے جسم پر اس کے بداثرات ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ کبھی ایک تکلیف شروع ہوتی ہے اور کبھی دوسری۔ کسی قسم کی دوا کارگر نہیں ہوتی۔

علاج اور بچاؤ:

اللہ پہ یقین

جو لوگ اللہ پہ کامل یقین رکھتے ہیں اور ان کے دل میں اللہ پاک سے سب کچھ ہونے کا یقین ہوتا ہے، وہ کبھی ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتے۔ وہ ہر تکلیف، پریشانی، ناکامی کی صورت میں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ نفسیاتی الجھنوں اور ڈپریشن جیسی مصیبتوں سے بچنے کے لیے اللہ سے لو لگائیں۔ اس پہ بھروسہ رکھیں۔ ہر حالت میں اس کی طرح رجوع کریں۔ انشاء اللہ کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور ڈپریشن آپ کے قریب ہی نہیں پھٹکے گی۔

اپنے آپ کو پہچانیے

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایک خاص مقصد کے لیے اس دنیا میں بھیجا ہے۔ کوئی شے بے مقصد نہیں بنائی گئی۔ اللہ پاک کے نزدیک آپ کی بہت اہمیت ہے۔ اپنی اہمیت کو جانیے اور اس مقصد کو سمجھنے اور پورا کرنے کی کوشش کریں۔ اپنا کام پوری لگن اور دیانتداری سے کریں۔ انشاء اللہ مسائل خود بخود حل ہوتے جائیں گے۔

اپنے فیصلے خود کریں

جو لوگ اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کرتے ہیں وہ ہمیشہ خوش و خرم رہتے ہیں۔ کامیابی کے لیے صحیح فیصلے کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں پہ خوب غور کریں۔ اللہ سے مدد مانگیں کہ وہ آپ کو صحیح راہ دکھلائے۔ اللہ کا نام لے کر ایک فیصلہ کر لیں اور اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیں۔ انشاء اللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ اللہ پہ بھروسہ کر کے اپنے آپ کو پہچان کر اور اپنے فیصلے خود کر کے آپ ڈپریشن اور اس طرح کی دوسری نفسیاتی الجھنوں سے بچ سکتے ہیں۔

ذہنی اضطراب Anxiety کیا ہے،  اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

آج کل افراتفری کے دور میں ہر کوئی اینگزائٹی یا اضطراب کا شکار ہے۔ زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں کسی نہ کسی مسئلے کی وجہ سے بندہ پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے۔ عورتیں بہت جلد اور آسانی سے بے چین اور فکر مند ہو جاتی ہیں۔

وجوہات

اضطراب، بے چینی یا پریشانی ہونے کی مندرجہ ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں:

1۔ موروثی اثر،      2۔لمبی بیماریاں، 3۔ معاشرتی حالات،4۔ بے روز گاری، 5۔معاشی اور مالی مسائل،6۔گھریلو الجھنیں اور مسائل،7۔محبت او ر شادی میں ناکامی،8۔امتحان میں ناکامی۔

علامات

پریشانی اور اضطراب کی حالت میں بندہ بجھا بجھا سا رہتا ہے۔ بے سکونی دامن گیر رہتی ہے۔ اکیلا رہنے کو دل کرتا ہے۔ ہر وقت کسی انجانے خوف کا دھڑکا لگا رہتا ہے اور بندہ پریشان رہتا ہے۔ کھانے میں دل نہیں لگتا ہے۔ گھر میں چین آتا ہے نہ باہر۔ان علامات کے ساتھ بعض جسمانی علامات بھی ہو سکتی ہیں۔

جن میں چھاتی میں درد،نبض کا تیز چلنا، سانس کا مشکل سے آنا، بھوک کا ختم ہو جانا، بے ہضمی، قبض یا ڈائریا، سر درد، چکر آنا، بار بار پیشاب کا آنا وغیرہ شامل ہیں۔ ان علامات کے ساتھ آدمی سچ مچ کا بیمار لگتا ہے اور یہ گمان تک بھی نہیں ہو تاکہ اصل پرابلم دماغ میں ہے اور اس کے فوری علاج کی ضرورت ہے۔ اس صورت ِ حال میں لوگ جعلی عاملوں اور پیروں فقیروں کی طرف دوڑتے ہیں جو عوام کی ضعیف الاعنقادی کا فائدہ اٹھا کر نہ صرف ان کی جیبیں خالی کرتے ہیں بلکہ مستقل روگ بھی لگا دیتے ہیں۔

اضطراب یا بے چینی پہ قابو

اضطراب بڑھتے بڑھتے نفسیاتی اور جسمانی بیماری کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کے لیے باقاعدہ طور پر مستقل علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر کے مشورہ سے علاج شروع کیا جائے۔ اینگزائٹی یا اضطراب کو کنٹرول کرنے کے لیے مندرجہ ذیل زریں اصولوں پہ عمل کریں:

-1 اللہ پہ بھروسہ رکھیں:-جو لوگ اللہ پہ یقین رکھتے ہیں اور ہر وقت اس سے مدد مانگتے رہتے ہیں وہ بہت کم پریشان یا مضطرب ہوتے ہیں۔ اس لیے کوئی بھی کام شروع کرتے وقت اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ اپنا کام ایمانداری سے کریں اور نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔

-2 آج کے لیے کام کریں:-کامیاب ہونے کے متمنی لوگوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ اپنا آج کا کام مکمل دیانتداری اور دل جمعی سے کریں۔ اپنی طرف سے کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ انشاء اللہ کامیابی ان کا مقدر بنے گی اور وہ  پریشان نہیں ہوں گے۔

-3 روزانہ کا پروگرام:-روزانہ صبح اٹھتے وقت فجر کی نماز پڑھ کر ایک پروگرام بنائیں، اس کے مطابق روز کا کام روز کریں۔ جو چیزیں زیادہ اہم اور ضروری ہیں۔ انہیں اولیت اور فوقیت دیں۔ کام کے ساتھ اپنے جذبات کو بھی روزانہ چیک کریں۔ اپنے خیالات کو پراگندہ نہ ہونے دیں۔ نفرت، غصے، پشیمانی اور حسد والے جذبات کو دل سے نکال دیں۔ محبت، خوشی، پیار اور تعاون کے جذبات کو دل میں بسالیں۔ اس سے آپ کا من راضی ہوگا۔ اگر من راضی ہو تو بندہ کبھی مضطرب یا پریشان نہیں ہوتا۔

-4 آرام:-اپنے آپ کو جسمانی طور پر Relax رکھیں۔ دن میں جب بھی موقع ملے جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر مکمل Relax کریں۔ اس سے بدن کو سکون ملنے کے ساتھ ساتھ ذہن کو بھی سکون ملے گا۔

-5 ہمیشہ خوش رہیے:-خوش رہنے کی کوشش کریں۔ ہر کسی سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔ دوسروں کا دل اپنی خوش اخلاقی سے جیتیں۔ ہر شے کے مثبت پہلو پہ نظر رکھیں۔ اس سے آپ کا ذہن کبھی انتشار کا شکار نہ ہوگا۔ روزانہ کسی نہ کسی ضرورت مند کی ضرور مدد کریں۔ اس سے آپ کے اپنے کام آسان ہوںگے۔

-6 جذباتی ڈائری:-ایک ایسی ڈائری بنائیے، جس میں آپ کے روزانہ کے جذبات کا ریکارڈ ہو۔ اس کے ساتھ ان عناصر کا بھی تذکرہ ہو جو جذبات کو بھڑکا کر ٹھنڈا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس ڈائری سے آپ کو اپنے جذبات کو سمجھنے اور ان پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

-7 غذا کا حصہ:-اپنی خوراک کو متوازن رکھیں۔ زیادہ مصالحہ دار اور چٹ پٹی اور مرغن غذاؤں سے پرہیز کریں کیونکہ ایسی غذائیں کھانے سے بندہ کسی کام کا نہیں رہتا۔

-8 بہت سے مشاغل اپنائیں:-خالی ذہن شیطان کی آماجگاہ ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو کسی نہ کسی تعمیری کام یا کسی سوشل ورک میں مصروف رکھا جائے۔ ان اصولوں پہ عمل کر کے اضطراب اور پریشانی سے مکمل طور پر بچا جا سکتا ہے۔

بعض اوقات جب نفسیاتی الجھنیں بھی بیماریاں بن کر ظاہر ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک پرانی مریضہ کی کہانی یاد آگئی، ایک جوان عو رت کچھ دنوں سے چلنے پھرنے سے بالکل معذور ہو چکی تھی۔ گھر والے فالج کا اٹیک سمجھے اور اسی وجہ سے امراض اعصاب کے وارڈ میں داخل تھی۔چیک اپ کرنے پر وہ چنگی بھلی نظر آئی اور کسی بھی بیماری کا سراغ نہ ملا۔

مزید استفسارپر پتہ چلا کہ اصل میں یہ عورت پانچ ماہ کی حاملہ ہے۔ اس سے پہلے دو دفعہ اس کا حمل ضا ئع ہو چکا ہے۔ اب تیسری دفعہ زبر دست ذہنی دباؤ اور فکر کی وجہ سے وہ سخت پریشان تھی اور دو تین دن پہلے جب وہ سو کر اٹھی تو ایسے لگا کہ ٹانگوں میں بالکل جان نہیں رہی۔ بہتیری کوشش کی مگر اٹھ نہ پائی۔

بعد میں ہسپتال لائی گئی۔ خیر کچھ دنوں کی سائیکو تھراپی اور سمجھانے بجھانے کے بعد اس کو چلانے کی مشق کرائی گئی اور چند دن گزارنے کے بعد وہ خود چل کر گھر کو سدھاری۔ مختلف قسم کی نفسیاتی الجھنوں اور فکر وپریشانی وغیرہ میں جب اعصابی تناؤ حد سے بڑھ جائے تو پھر یہ کسی نہ کسی قسم کی جسمانی بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بندہ کسی حقیقی بیماری میں مبتلا ہے۔

اس طرح کی جھوٹ موٹ کی بیماریوں میں دمہ ، دل کی تکلیف جوڑوں میں درد، نظام ہضم کی بیماریاں، جلد کی بیماریاں، چلنے پھرنے سے معذور ہو جانا، دورے پڑنا وغیرہ شامل ہیں۔ نفسیاتی الجھنوں وغیرہ سے ہونے والی جھوٹ موٹ کی بیماریوں کے علاج میں سب سے اہم بات اس نفسیاتی وجہ کا سراغ لگانا ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ بیماری ہوئی ہو۔ اس کے لیے مریض کو مکمل طور پر اعتماد میں لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ مکمل اعتماد میں لیے گئے مریض کا علاج بہت آسان ہو جاتا ہے اور وہ اپنے متعلق تمام باتیں بتا دیتا ہے۔

ایسے لوگوں کو خاص وجہ اور سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ خاندان کے افراد اور اس مریض کے ساتھ رہنے یا کام کرنے والے دوسرے لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کا مکمل خیال رکھیں۔ کوئی ایسا کام یا ایسی بات نہ کریں، جس سے اس کے جذبات مجروح ہونے کا احتمال ہو۔ ایسی صورتوں میں دواؤں کا استعمال ڈاکٹر کے مشورہ سے ہونا چاہیے کیونکہ دواؤں کے مضر اثرات کی وجہ سے بیماری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ڈپریشن اور ذہنی اضطراب میں ادویات کا استعمال

آج کل افراتفری، انتشار، ذہنی پستی، پریشانی و فکر کے دور میں ہر کوئی کسی نہ کسی مصنوعی سہارے کی تلاش میں رہتا ہے۔ بالکل یہی حال سکون آور ادویات کا ہے جو یا تو سکون حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں یا پھر بے خوابی، بے سکونی کے عالم میں نیند لانے کے لیے لی جاتی ہیں۔ یہ دوائیں اصل میں دماغ کے متعلقہ کام میں کچھ دیر کے لیے رکاوٹ ڈال کر اسے سلا دیتی ہیں اور آدمی سکون محسوس کرتا ہے لیکن پھر اگر ان  ادویات کا زیادہ استعمال کیا جائے تو ان کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا اور پھر بندہ ان کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر ادویات پر انحصار کے کیسوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آخر میں نتیجہ نشے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جعلی سکون اور وقتی نیند لانے والی ان تمام  ادویات سے پرہیز کیا جائے اوراگر کبھی کبھار زیادہ پریشانی، فکر یا بہت زیادہ تھکان کی وجہ سے نیند نہ آ رہی ہو تو نیند کی ہلکی دوا لینے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ ڈاکٹر سے مشورہ کیا جائے۔

آسان اور متبادل علاج

تمام سکون آور ادویات مصنوعی سہارا دیتی ہیں۔ اگرچہ ان سے وقتی سکون ضرور مل جاتا ہے مگر بعد میں طبیعت زیادہ خراب ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان ادویات کے استعمال سے پرہیز کیا جائے۔ پریشانی، ذہنی انتشار، طرح طرح کے سماجی و نفسیاتی مسائل کی وجہ سے   بے سکونی اور بے خوابی کی شکایات عام ہیں۔ اس طرح کی تمام پریشانیوں سے بچنے کے لیے سب سے آزمودہ اور روحانی نسخہ اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ آپ پریشان ہیں۔ گھبرائیے نہیں۔ وضو کریں۔ دو رکعت نماز صلوٰۃ الحاجت پڑھ کر اللہ کے سامنے گڑگڑائیے۔ اپنے مسائل کے حل کے لیے دعا مانگیں۔ اللہ کی رحمت طلب کریں۔ ان شاء اللہ آپ پر اللہ کی رحمت ہوگی اور مسئلہ حل ہو جائے گا۔

سب سے بڑا مسئلہ نیند نہ آنے کا ہوتا ہے۔ جس سے ہر کسی کو زندگی میں کبھی نہ کبھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیند نہ آنے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، ان وجوہات کا تدارک ضروری ہے۔ نیند نہ آنے کی صورت میں کسی قسم کی دوا استعمال نہ کریں۔ مندرجہ ذیل آسان حل پر عمل کریں:

٭سونے سے پہلے اپنے آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر ہلکا کریں۔ شام کا کھانا بھوک رکھ کر کھائیں۔ اس کے بعد ہلکی سی چہل قدمی کریں۔

٭نہار منہ یا خالی پیٹ ایک سیب،دودھ کے گلاس کے ساتھ یا ملک شیک بنا کر لیں۔

٭کاجو جنرل ڈیپریشن اور اعصابی کمزوری میں ٹانک سے کم نہیں۔ کاجو وٹامن B بی گروپ سے پُرہے۔ خصوصاً موسم سرما میں خوب کھائیں۔

٭بہتر ہے سونے سے پہلے غسل کرلیں۔ اس سے فرحت بخش تازگی کا احساس ہوگا۔

٭آپ کا سونے والا کمرہ اچھا، صاف اور ہوادار ہونا چاہے۔

٭سونے سے پہلے مندرجہ ذیل عملیات کرنے سے روحانی فائدہ تو ہوتا ہی ہے۔ نیند پرسکون آتی ہے آزما کر دیکھ لیں۔

رات کو سوتے وقت کے عملیات

حضور اقدس ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت علیؓ سے ارشاد فرمایا۔ اے علیؓ! رات کو روزانہ پانچ کام کر کے سویا کرو۔

-1چار ہزار دینار صدقہ دے کر سویا کرو۔

-2ایک قرآن شریف پڑھ کر سویا کرو۔

-3جنت کی قیمت دے کر سویا کرو۔

-4دو لڑنے والوں میں صلح کرا کے سویا کرو۔

-5ایک حج کر کے سویا کرو۔

حضرت علیؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ امر محال ہے۔ پھر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا۔

-1چار مرتبہ سورۃ فاتحہ یعنی الحمدللہ پڑھ کر سویا کرو۔ اس کا ثواب چار ہزار دینار صدقہ دینے کے برابر ہوگا۔

-2تین مرتبہ قل ہو اللہ پڑھ کر سویا کرو ایک قرآن مجید پڑھنے کے برابر ثواب ہوگا۔

-3چار مرتبہ درود شریف پڑھ کر سویا کرو جنت کی قیمت ادا ہوگی۔

-4دس مرتبہ استغفار پڑھ کر سویا کرو، دو لڑنے والوں میں صلح کرانے کے برابر ثواب ہوگا۔

-5چار مرتبہ تیسرا کلمہ پڑھ کر سویا کرو ایک حج کا ثواب ملے گا۔

یہ سن کر حضرت علیؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اب تو میں روزانہ یہی عملیات کر کے سویا کروں گا۔

-6جب بھی پریشانی، مایوسی، ناکامی کا خوف، بیماری بے سکونی حدسے بڑھ جائے تو درج ذیل آیت فوراً پانچ مرتبہ اور اول و آخر درودشریف پڑھ کر تلاوت فرمائیں۔

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوْئَ

ترجمہ:      (بھلا وہ کون ہے جب بے کس اور مضطرب اسے پکارے تو دعا قبول کرتا ہے اور مصیبت کو دور کرتا ہے) ۔

The post ڈپریشن اور اضطراب (Anxiety)، اسباب، بچاؤ اور علاج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/35BweIF

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن:  چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا م...