Friday, 31 January 2020

فالج کے بعد دماغ سے فاسد مواد نکالنے والا قدرتی نظام دریافت

 لندن: فالج کی صورت میں عموماً دماغ پرسوجن نمودار ہوتی ہے جو خطرناک بھی ہوسکتی ہے۔ اس طرح دماغی دباؤ بڑھتا ہے اور اس کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔

اس عمل کو طب کی زبان میں سیربرل ایڈیما کا نام دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی آف روچیسٹر کے ماہرین نے اس پورے عمل کو بڑی حد تک سمجھ لیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دماغ کے اندر پیدا ہونے والے فاسد مائع کو خارج کرنے والا ایک قدرتی نظام موجود ہوتا ہے۔

2012 میں اسی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے گلائفیٹک سسٹم کا پہلا سراغ لگایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نیند کے دوران دماغی صفائی کا نظام ازخود بیدار ہوجاتا ہے۔ اس میں دماغ میں موجود مضر مائع اور زہریلے پروٹین باہر نکلتے رہتے ہیں۔

ماہرین کا پہلے خیال تھا کہ فالج یعنی اسٹروک کے بعد دماغ پر سوجن اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ خون کے اپنے مائعات وہاں جمنا شروع ہوجاتے ہیں۔ تاہم روچیسٹر یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ جیسے ہی فالج کے بعد خون کی روانی بند ہونے سے جو خلا پیدا ہوتا ہے وہاں دماغی مائعات اس خالی جگہ کو بھرنا شروع کردیتےہیں۔

اس کے لیے چوہوں پر تجربات کئے گئے اور ایم آر آئی اسکین کے ذریعے ان کے دماغوں پر غور کیا۔ فالج کی صورت میں دماغ میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے جس کے بعد آکسیجن آگے نہیں پہنچ پاتی اور غذائی اجزا کی ترسیل بھی رک جاتی ہے۔ پھر یہ عمل مسلسل اگلے خلیات تک منتقل ہوتا رہتا ہے جس سے دماغ کا بڑے حصے میں خون کا بہاؤ رک جاتا ہے اسکیمیا کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے بعد چوہوں کے دماغ میں خود دماغی مائعات کو ان جگہوں پر بھرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہ مائع ہر دماغٰ خلئے کو گویا ڈبودیاتا ہے اور وہ جگہ پھول جاتی ہے۔

سائنسدانوں کو خیال ہے کہ اسے سمجھ کر فالج کی مؤثر دوائیں بنائی جاسکتی ہیں۔

The post فالج کے بعد دماغ سے فاسد مواد نکالنے والا قدرتی نظام دریافت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/391foUT

رنگ بدل کر انفیکشن سے خبردار کرنے اور جراثیم مارنے والی ’’ذہین‘‘ پٹی

بیجنگ: چینی سائنس دانوں نے ایک ایسی ’’ذہین پٹی‘‘ (اسمارٹ بینڈیج) ایجاد کی ہے جو ٹریفک لائٹ کی طرح رنگ بدل کر نہ صرف کسی انفیکشن کی اطلاع دیتی ہے بلکہ اینٹی بایوٹکس خارج کرکے جراثیم (بیکٹیریا) کو ہلاک بھی کردیتی ہے۔

بنیادی طور پر ہم اسے ویسا ہی ایک ’’لٹمس پیپر‘‘ سمجھ سکتے ہیں جیسا اسکولوں کی کیمسٹری لیبارٹریز میں تیزابیت اور اساسیت کا پتا چلانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ ذہین پٹی، زخم میں انفیکشن کے باعث بڑھنے والی تیزابیت پر اپنا رنگ بدل لیتی ہے جبکہ یہ اپنے رنگ کے ذریعے انفیکشن کی وجہ بننے والے بیکٹیریا سے بھی آگاہ کرتی ہے۔

عام حالات میں، جب زخم میں انفیکشن نہ ہو، تو زخم پر بندھی اس ذہین پٹی کی رنگت سبز رہتی ہے۔ البتہ، زخم میں انفیکشن ہونے پر اس کی رنگت بدلنے لگتی ہے: اگر زخم میں ہونے والا انفیکشن ایسے جرثوموں کی وجہ سے ہے جنہیں دستیاب اینٹی بایوٹکس سے ہلاک کیا جاسکتا ہے (اور جنہیں مختصراً DS یعنی ڈرگ سینسیٹیو بیکٹیریا بھی کہا جاتا ہے) تو پٹی کی رنگت پیلی ہوجائے گی؛ لیکن اگر وہ انتہائی سخت جان قسم کے بیکٹیریا ہیں جو موجودہ اینٹی بایوٹک دواؤں کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں (اور جو ’’ڈرگ ریزسٹنٹ‘‘ یا مختصراً DR کہلاتے ہیں) تو پھر پٹی کی رنگت سرخ ہوجائے گی۔

انفیکشن میں ڈرگ سینسیٹیو بیکٹیریا موجود ہوں تو یہ پٹی خود ہی اپنے اندر موجود اینٹی بایوٹکس خارج کرکے انہیں ہلاک کردیتی ہے۔ تاہم ڈرگ ریزسٹنٹ بیکٹیریا ہونے کی صورت میں یہ معالج کو بھی خبردار کرتی ہے جو زخم پر تیز روشنی ڈال کر ان سخت جان جرثوموں کو پہلے کمزور بناتا ہے اور پھر اس پٹی کے اندر موجود اینٹی بایوٹک دوا خارج ہوتی ہے، تاکہ وہ اپنا اثر دکھا سکے۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ زخم میں انفیکشن جتنا شدید ہوگا، پٹی کی متعلقہ رنگت بھی اتنی ہی زیادہ گہری ہوگی جس سے انفیکشن کی شدت کا بھی فوری پتا چل جائے گا۔

فی الحال اس ذہین پٹی کو چوہوں پر کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے۔ جانوروں پر کچھ مزید آزمائشوں کے بعد اس پٹی کی انسانی آزمائشیں بھی شروع کردی جائیں گی۔ اس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ انفیکشن کا پتا دینے والی یہ ذہین پٹی، اگلے چار سے پانچ سال میکں فروخت کےلیے دستیاب ہوگی۔

اس ذہین پٹی کی دستیابی سے کسی زخم میں بیکٹیریا کی موجودگی (انفیکشن) کا پتا چلانے کے لیے مہنگے اور سست رفتار ٹیسٹوں کی ضرورت ختم ہوجائے گی اور تھوڑی سی معلومات رکھنے والا فرد بھی اس بارے میں فوری جان سکے گا۔

اس ایجاد کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’اے سی ایس سینٹرل سائنس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

The post رنگ بدل کر انفیکشن سے خبردار کرنے اور جراثیم مارنے والی ’’ذہین‘‘ پٹی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3b1h2Yo

Thursday, 30 January 2020

نئے کورونا وائرس کی ہلاکت خیزی سب سے کم ہے، رپورٹ

بیجنگ: اس وقت جبکہ چینی شہر ووہان سے پھیلنے والے ’’ناول کورونا وائرس 2019‘‘ المعروف ’’ووہان وائرس‘‘ کی وجہ سے دنیا بھر میں خوف و دہشت کی فضا پھیلی ہوئی ہے، ایک انگریزی ویب سائٹ ’’بزنس انسائیڈر‘‘ نے جانوروں سے پھیلنے والی مختلف وباؤں کی ہلاکت خیزی کا موازنہ، ووہان وائرس کی ہلاکت خیزی سے کیا ہے۔

اپنے تجزیئے کو عام فہم بنانے کےلیے انہوں نے اسے ایک چارٹ کی شکل دی ہے جسے ذیل میں دیکھا جاسکتا ہے:

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس چارٹ میں 30 جنوری 2020 تک کے اعداد و شمار شامل ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ووہان وائرس سے متاثر ہونے والوں میں ہلاکتوں کی شرح صرف 2 فیصد ہے جبکہ 1967 میں 11 ممالک تک پھیلنے والے ’’ماربرگ‘‘ وائرس نے اگرچہ صرف 466 افراد کو متاثر کیا لیکن ان میں سے 373 افراد ہلاک ہوگئے۔ یعنی ماربرگ وائرس سے ہلاکت کی شرح 80 فیصد رہی!

اسی چارٹ میں کچھ اور نیچے اتریں تو ہمیں 2009 میں H1N1 نامی ایک اور وائرس دکھائی دے گا۔ اسے ’’سوائن فلُو‘‘ کا نام بھی دیا گیا کیونکہ یہ سؤروں سے انسانوں میں پھیلا تھا۔ یہ اکیسویں صدی میں انفلوئنزا کی پہلی بڑی عالمگیر وبا تھی جو 214 ممالک میں پھیلی، اس سے 1,632,258 (سولہ لاکھ بتیس ہزار دو سو اٹھاون) افراد متاثر ہوئے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 284,500 رہی۔ یعنی اس کی بھی ہلاکت خیزی کی شرح 17.40 فیصد تھی۔

باقی اعداد و شمار بھی آپ کے سامنے ہیں، جن کا موازنہ آپ خود کرسکتے ہیں۔

یہاں یہ بھی واضح رہنا ضروری ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ روز ووہان وائرس کے بارے میں اپنے دوسرے ہنگامی اجلاس کے بعد اس وبا کو ’’عالمی طبّی ایمرجنسی‘‘ قرار دیا ہے جبکہ اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ اب تک چین کے علاوہ یہ جن 19 ملکوں تک پہنچا ہے، ان میں سے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں اس وائرس سے نمٹنے کےلیے ضروری طبّی اقدامات (حفاظتی تدابیر اور قرنطینہ وغیرہ) مناسب طور پر موجود نہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی اسی رپورٹ میں چین کی جانب سے کیے گئے ہنگامی و حفاظتی اقدامات اور شفافیت کی بطورِ خاص تعریف کی گئی ہے؛ اور یہ بتایا گیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کا ایک تجزیاتی وفد آئندہ چند دنوں میں چین کا دورہ کرے گا اور وہاں کے حالات کا خود مشاہدہ کرے گا۔

تازہ ترین صورتِ حال یہ ہے کہ اب تک 20 ملکوں میں اس وائرس سے 9,821 افراد متاثر ہوچکے ہیں مگر ان میں بھی سب سے بڑی تعداد، یعنی 9,692 افراد، چین میں ہے جبکہ باقی 19 ممالک میں مجموعی طور پر 219 افراد ووہان وائرس سے متاثر ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ووہان وائرس سے اب تک جتنی بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں (جن کی موجودہ تعداد 213 ہے)، وہ سب کی سب چین میں ہوئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں کو لاحق ہونے والی 75 فیصد سے زیادہ بیماریاں جانوروں سے پیدا ہوتی ہیں۔ وبائی امراض کے پھیلاؤ کو مدنظر رکھیں تو معلوم ہوگا کہ ایسی بیشتر حالیہ وبائیں چمگادڑوں، پرندوں اور سؤروں سے انسانوں میں منتقل ہوئیں اور پھر ایک سے دوسرے انسان میں پھیل کر وبائی صورت اختیار کرگئیں۔

غرض کہ حالیہ 55 سالہ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں پھیلنے والی دیگر تمام وباؤں کے مقابلے میں ووہان وائرس کی ہلاکت خیزی سب سے کم ہے۔

The post نئے کورونا وائرس کی ہلاکت خیزی سب سے کم ہے، رپورٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2tjvx8Y

تجربہ گاہ میں افزائش کردہ خلیات پہلی مرتبہ انسانی دل میں منتقل

ٹوکیو: انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ تجربہ گاہ میں افزائش کئے گئے خلیات انسانی دل کو لگائے گئے ہیں۔ دنیا میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

اسے شکستہ دلوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جو ہارٹ اٹیک یا کسی اور عارضے میں شدید متاثرہوتے ہیں۔ توقع ہے کہ اس سے دل کے علاج کی نئی انقلابی راہیں کھلیں گی۔ یہ ٹیکنالوجی کیوٹو یونیورسٹی میں وضع کی گئی تھی جسے 2006 میں طب کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔

یہ طریقہ علاج دوبارہ افزائش یعنی ری جنریٹوو میڈیسن کے زمرے میں شامل ہے جس میں تجربہ گاہ میں خاص اسٹیم سیل بنائے جاتے ہیں۔ ان خلیات کو ’انڈیوسڈ پلوری پوٹینٹ اسٹیم سیلز‘‘ (آئی پی ایس سی) کہا جاتا ہے۔ کسی عطیہ دینے والے شخص کے خلیات اور بافتوں کو لے کر انہیں ایک مفید وائرس کا سامنا کرایا جاتا ہے جس کے بعد اسٹیم سیل کسی بھی طرح کے خلیات میں ڈھل سکتے ہیں جن میں دل کے خلیات بھی شامل ہیں۔

اوساکا یونیورسٹی کے پروفیسر یوشیکی ساوا اور ان کے ساتھیوں نے پہلے مریض پر اس کا تجربہ کیا ہے اور اس سال مزید نو مریضوں میں خلیات کے ٹیکے لگائے جائیں گے۔ پہلے آئی پی ایس سی کے عمل سے انسانی قلب کے دس کروڑ خلیات بنائے جاتے ہیں اور انہیں مریض میں داخل کیا جاتا ہے۔ موافق ماحول پر وہ دل کے متاثرہ حصوں کی افزائش شروع کردیتے ہیں اور دل دھیرے دھیرے صحت مند ہوسکتا ہے۔ اس سے قبل چوہوں اور خنزیر پر اس کے انتہائی کامیاب تجربات کئے گئے ہیں ۔ ہر طرح کی تسلی کے بعد اب اسے انسانوں پر آزمایا گیا ہے۔

ایک ماہ قبل مریض میں یہ خلیات داخل کئے گئے تھے اور اب وہ تیزی سے بحال ہورہا ہے۔ خلیات کو ایک خاص مٹیریل کی شیٹ پر رکھ کر دل پر چپکایا جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ شیٹ ازخود گھل کر ختم ہوجاتی ہے اور یوں خلیات دل کا حصہ بن کر وہاں اپنی کارکردگی بڑھانے لگتے ہیں۔ تاہم اس مریض کا پورے سال مسلسل معائنہ کیا جائے گا۔

جاپانی ڈاکٹروں کے مطابق یہ ٹیکنالوجی دل کے لیے ایک انقلابی علاج ثابت ہوگی۔

The post تجربہ گاہ میں افزائش کردہ خلیات پہلی مرتبہ انسانی دل میں منتقل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/37ISZLL

کورونا وائرس، وٹامن سی والے فروٹ کے کثرت سے استعمال کا مشورہ

کراچی: کورونا وائرس کا علاج ابھی تک سامنے نہیں آیا جبکہ اس وائرس نے دنیا میں تباہی مچا دی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے بھی دنیاکے تمام ممالک کو وائرس سے محفوظ رہنے کیلیے ہائی الرٹ بھی جاری کردیا ہے، وائرس ایک سے دوسرے صحت مند انسان میں منتقل ہونے کی بھرپورصلاحیت رکھتا ہے، وائرس سے محفوظ رہنے کیلیے احتیاطی تدابیراختیارکرنا ہوگی۔

وائرس کی ابتدائی علامات بھی فلوکی طرح ہوتی ہیں فلوعام طورپر سے جسم میں وٹامن سی کی کمی، غیرصحت مندانہ خوراک کھانے اورسافٹ ڈرنکس سے بھی لاحق ہوتا ہے کمزورقوت مدافعت والے افراد اوربچوں میں فلو عام طورپرسے ہوجاتا ہے۔

قومی ادارہ اطفال برائے صحت کے ایگزیکٹوڈائریکٹر پروفیسر جمال رضا، جناح اسپتال کی ایگزیکٹوڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے ایکسپریس ٹربیون سے بات چیت میں بتایا کہ دسمبرسے جاری وائرس نے دنیا کے بیشترممالک کواپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

دونوں ماہرین کا کہنا تھا کہ اس کاابھی تک کوئی علاج سامنے نہیں آیا تاہم اس وائرس سے محفوظ رہنے کیلیے ہجوم والے مقامات جانے سے گریزکریں جس میں شاپنگ سینٹرز، ہوٹل وغیر شامل ہیں ،گھروں میں ماسک اور دستانے رکھیں، خواتین اور باروچی خانے میں کام کرنے والی ملازمہ کو بھی دستانے پہنا کرگوشت کی صفائی کا کام کرائیں،کچا انڈا،کچا پکاگوشت کھانے سے گریزکریں۔

ان ماہرین نے عوام سے کہاکہ یہ خوف زردہ نہ ہو یہ وائرس پاکستان میں رپورٹ نہیں ہوا، فلووائرس عام طورپر جسم میں وٹامن سی اور قوت مدافعت کم ہونے کی کمی سے بھی لاحق ہوتا ہے لہذا موجود موسم میں وٹامن سی قدرتی فروٹ موسمی، کینو ، مالٹے سے بھی حاصل کیاجاسکتا ہے تاہم ان فروٹ کو دوپہرکے وقت کھائیں رات میںکھانے سے گریزکریں۔

The post کورونا وائرس، وٹامن سی والے فروٹ کے کثرت سے استعمال کا مشورہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2GQguqx

اخروٹ کھانے سے دماغی صلاحیتیں بھی جوان

کیلیفورنیا: عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جہاں ہماری جسمانی صلاحیتیں کمزور پڑتی ہیں، وہیں ہمارے دماغ میں نت نئی چیزیں سیکھنے کی صلاحیت یعنی ’’اکتسابی صلاحیت‘‘ بھی آہستہ آہستہ کم ہوتی چلی جاتی ہے جو آگے چل کر مختلف دماغی امراض کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

لیکن اگر 40 سال یا اس سے زائد عمر کے لوگ اپنی روزمرہ غذا میں خشک میوہ جات، بالخصوص اخروٹ کی تھوڑی سی مقدار بھی شامل کرلیں تو ان کی دماغی اور اکتسابی زیادہ طویل عرصے تک جوان رہتی ہیں اور وہ زیادہ بڑی عمر تک سیکھنے کے معاملے میں فعال رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز پہلے ایکسپریس نیوز کی اسی ویب سائٹ پر شائع شدہ ایک خبر میں دل اور نظامِ ہاضمہ پر اخروٹ کے مثبت اثرات کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ تازہ خبر بھی اسی تسلسل میں ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ امریکا میں اخروٹ اور صحت مند عمر رسیدگی میں باہمی تعلق کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا تھا جس میں معدے اور دل کے علاوہ دماغی صحت کے مختلف پہلو بھی شامل کیے گئے تھے۔

یہ خبر بھی پڑھیے: پانچ اخروٹ روزانہ، رکھیں پیٹ اور دل کو توانا!

اخروٹ اور عمر رسیدگی کے حوالے سے مطالعے کا یہ دو سالہ حصہ لوما لنڈا یونیورسٹی، کیلیفورنیا کے ماہرین نے انجام دیا جس میں امریکا اور اسپین سے ایسے 640 عمر رسیدہ افراد شامل کیے گئے جو اکیلے رہ رہے تھے۔

انہیں دو گروپوں میں بانٹا گیا: ایک گروپ نے روزانہ تھوڑی تھوڑی مقدار میں اخروٹ استعمال کیے جبکہ دوسرے گروپ نے اس بارے میں کوئی پابندی نہیں کی۔ دو سالہ عرصے میں ان کا باقاعدگی سے طبی معائنہ جاری رکھا گیا۔

مطالعے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ جن بزرگوں نے اپنی روزمرہ غذا میں اخروٹ شامل رکھے تھے، دو سال کے عرصے میں ان کی دماغی صحت اور اکتسابی صلاحیت، دونوں معمول کے مطابق تھیں۔ ان کے برعکس، اخروٹ نہ کھانے والے بزرگ افراد کی دماغی صحت اور اکتسابی صلاحیتیں، ان ہی دو سال کے دوران قدرے کم ہوگئی تھیں۔

اخروٹ میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اور پولی فینولز نامی مادّے پائے جاتے ہیں۔ یہ دونوں کے دونوں ہمارے دماغ کو طاقتور بناتے ہیں اور اکتسابی صلاحیتوں کو کمزور پڑنے سے روکتے ہیں۔

مذکورہ تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ دماغ کو تقویت پہنچانے والے اجزاء میں ان ہی دونوں مادّوں کا اہم ترین کردار ہے۔

اس تحقیق کے نتائج ’’امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

The post اخروٹ کھانے سے دماغی صلاحیتیں بھی جوان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/316ETBj

Wednesday, 29 January 2020

دل کی شریانوں میں جمی چربی کو صاف کرنے والے نینوذرات

مشی گن: فی الوقت دل کے شریانوں میں جمی چربی اور پلاک کے علاج کے لیے یا تو اینجیو پلاسٹی کی جاتی ہے یا پھر زیادہ پیچیدہ صورت میں بائی پاس کیا جاتا ہے۔ لیکن اب نینوذرات کی بدولت دل کی شریانوں کو اندر سے صاف کیا جاسکتا ہے۔

اسٹینفرڈ اورمشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے خاص طرح کے نینوذرات بنائے ہیں جو دل کی شریانوں میں جاکر اندرونی طور پر انہیں صاف کرکے دل کے دورے سے بچاسکتے ہیں۔

مشی گن یونیورسٹی کے معاون پروفیسر برائن اسمتھ کہتے ہیں کہ  خفیہ رہنے والے ’ٹروجن ہارس‘ ذرات دی گئی ہدایات کے مطابق شریانوں کی چربی اور کچرا وغیرہ صاف کرسکتے ہیں۔ یہ طریقہ شریانوں کی تنگی کا بہترین علاج ثابت ہوسکتا ہے جو امریکہ سمیت کئی ممالک میں اموات کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔

اس کی تفصیلات نیچر نینوٹیکنالوجی میں شائع ہوئی ہے۔ نینوذرات کو کچھ ایسے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ شریانوں میں جم جانے والے مخصوص خلیات (سیلز) پر ہی عمل کرتے ہیں۔ نینوذرات میں دوا بھری ہوتی ہے جو خلیات کے اندرجاکر انہیں گھلادیتی ہے۔ یہ پلاک کی عین اندر جاکر خلئے کے اہم حصے میکروفیج پر اثر ڈالتی ہے اور اسے سکیڑدیتی ہے۔ اس طرح بہت مؤثر انداز میں شریانوں کی پلاک کم کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر برائن کہتے ہیں کہ بہت جلد اس کی انسانی آزمائش شروع کی جائے گی اور توقع ہے کہ اس سے کئی طرح کے ہارٹ اٹیک کو ٹالا جاسکے گا اور کسی طرح کے ضمنی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

ماہرین نے نینوذرات میں بھرنے کے لیے ذہانت سے بھرپور دوا بنائی ہے۔ یہ امنیاتی خلئے کے اندر موجود بڑے اور اہم حصے میکروفیج کے خاتمے یا سکڑنے کا پیغام دیتی ہے۔

’ ہم نے تحقیقات میں غور کیا ہے کہ دوا کی ہدایات سے میکروفیج مردہ خلیات کو ختم کرنا شروع کرتا ہے ۔ یہ وہی خلیات ہیں جن کا ڈھیر جمع ہوکر خون کے بہاؤ میں رکاوٹ بن جاتا ہے،‘ پروفیسر برائن نے بتایا۔

ماہرین کے مطابق اس طریقے کو دل کی شریانوں کے علاوہ دیگر کاموں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کسی خلئے کے باہر کی بجائے دوا کو اندر تک بھیجنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگلے مرحلے پر اسے بڑے جانداروں، پھر انسانی ٹشوز اور آخر میں انسانوں پر آزمایا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس طریقہ علاج کے لیے پیٹنٹ (حقِ ملکیت) کی درخواست دی جاچکی ہے۔

The post دل کی شریانوں میں جمی چربی کو صاف کرنے والے نینوذرات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2S1B1gU

’کرونا وائرس‘ سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

کروناوائرس نے پوری دنیا میں اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ چند ہی دنوں میں یہ وائرس ایک قہر بن کر ٹوٹ پڑا ہے۔

چین کے صدر کے مطابق کرونا وائرس ایک ’’ شیطان‘‘ ہے، اس شیطان کا ساری دُنیا کو مقابلہ کرنا ہے۔ وائرس سے ہونے والی پھیپھڑوں کی بیماری اور اس کا انفیکشن جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

پچھلے دو ہفتوں میں’کرونا وائرس‘ چین میں 132 انسانوں کو نگل چکا ہے جبکہ  اس وقت چین میں ساڑھے چار ہزار سے زائد لوگ اس سے متاثر ہیں۔ دُنیا بھر میں ہیلتھ الرٹ جاری کئے جا چکے ہیں۔ چین آنے اور جانے والوں کی ائیرپورٹس پر اسکریننگ ہو رہی ہے۔ متعدد ممالک نے چین آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے ’کرونا وائرس‘ کے پھیلاؤ کو ایک میڈیکل ایمرجنسی قرار دیا ہے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیربھی جاری کی ہیں۔ اس سے پہلے بھی اسی طرح کے وائرس سے دُنیا کو پالا پڑا تھا جن میں ڈینگی وائرس، وائن فلو وائرس، برڈ فلو اور سارس جیسے وائرس شامل ہیں مگر ان کی تباہ کاریاں ’کرونا‘ جیسی نہ تھیں مگر’’ کرونا وائرس‘‘ نے ساری دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

میڈیکل سائنس میں اتنی ترقی اور جدت کے باوجود ابھی تک وائرس سے پھیلنے والے امراض کے علاج کے لیے کوئی واضح پروٹوکول موجود نہیں اور نہ ہی ان کی کوئی خاص ویکسین دستیاب ہے۔ نتیجتاً  وائرس کی وجہ سے ہونے والے امراض میں اموات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ چین سے ملحقہ ممالک بھی اس وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

آسڑیلیا، تائیوان، نیپال، جاپان، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا بلکہ امریکا میں بھی کرونا وائرس سے متاثر افراد کے کیسز دیکھنے میں آئے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے چینی انجنئیرز اور ورکرز متعدد قومی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، اس لئے پاکستان میں بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

’کرونا وائرس‘ کی خبروں کی بعد اورنج لائن ٹرین  اور دوسرے منصوبوں جات پہ کام کرنے والے چینی باشندوں کا کام سے روک دیا گیا ہے اور انہیں اسکریننگ ہونے تک ان کی رہائش گاہوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ’کرونا وائرس‘ کے بارے میں قومی ادارہ صحت نے بھی ہیلتھ ایڈوائزری جاری کی ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مختلف ائیر پورٹس پر اس سلسلے میں ہیلتھ کاؤنٹرز قائم کر دیئے ہیں۔

مختلف ہسپتالوں میں علیحدہ آئسولیشن وارڈبنا دیے گئے ہیں۔ بیماری کی تشخیص کے لیے چین سے ’کرونا وائرس‘ کی تشخیص کے لئے ٹیم آج پاکستان پہنچ جائے گی دوسری طرف عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے نے بھی تشخیصی کٹس کی فراہمی کر دی ہیں۔

٭کرونا وائرس کیا ہے؟

٭بیماری کا آغاز کب ہوا؟

٭ کرونا وائرس کا انفیکشن کیسے پھیلتاہے؟

٭اس سے بچاؤ کے لیے کیا اقدامات کرنے ضروری ہیں؟

٭اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

عوام الناس کی رہنمائی کے لیے اس مضمون میں ان تمام سوالوں کا جواب دیا جا رہا ہے۔ کرونا وائرس سے متاثرہ لوگوںکو زکام، گلا خراب، سر درد اور بخار کی علامات ہوتی ہیں، جسم تھکا تھکاسا لگتا ہے، ناک مسلسل بہتی ہے۔ انفیکشن زیادہ ہو جائے تو پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ خطر ناک وہ لمحہ ہوتا ہے جب انفیکشن کی وجہ سے نمونیہ ہو جائے۔ اس سے پھیپھڑوں میں زبردست انفیکشن ہو جاتا ہے، سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے، بخار زیادہ ہو جاتا ہے، ایسے میں فوری طور پر ہسپتال میں علاج کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انفیکشن زیادہ ہونے کی صورت میں سانس رک جاتی ہے اور مصنوعی تنفس دینا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس حالت میں یہ میڈیکل ایمرجنسی بن جاتی ہے۔ اگر انفیکشن پھیل جائے تو سانس رک جاتا ہے اور  چند گھنٹوں ہی میں موت واقع ہو سکتی ہے۔

کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کی تمام علامات نمونیہ سے ملتی جلتی ہیں۔ اس سے ہونے والی بیماری کا آغاز دسمبر2019ء میں چین کے صوبے ہوبی کے شہرو وہان میں ہوا جہاں اب تک 132 اشخاص جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ بیجنگ میں بھی ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ بھارت میں بھی ایک موت ہوئی ہے۔ اس سے  ہزاروں لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ 9 ہزار سے زیادہ مشکوک کیسز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ چین کے صوبہ ہوبی اور ووہان میں پانچ سو سے زیادہ پاکستان طالب علم وہاں کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں، انہوں نے ارباب اختیار سے اپیل کی ہے کہ انہیں فوری طور پر وہاں سے نکالا جائے تاکہ وہ اس جان لیوا وائرس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہیں۔

کرونا وائرس آسانی سے ایک متاثرہ شخص سے صحت مند شخص کومنتقل ہوجاتا ہے۔ متاثرہ شخص دو سے پانچ دن تک بیماری کو دوسروں تک پھیلا سکتا ہے۔ اس وجہ سے اگر کسی کو بیماری کی تشخیص ہوگئی ہو تو اسے کم از کم ایک ہفتے تک علیحدگی میں رکھا جاتا ہے تاکہ صحت مند اشخاص وائرس سے بچے رہیں۔ بیماری کے آغاز میں علامات زکام اور نظام تنفس کے بالائی حصے کے انفیکشن سے ملتی جلتی ہیں۔ اس لیے اس دوران علاج سے افاقہ ہو جاتا ہے مگر سب سے ضروری امر یہ ہے کہ اس دوران مریض کو علیحدگی میں رکھا جائے تاکہ دوسرے صحت مند اشخاص بیماری کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہیں۔کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے اور جسم میں وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے بلڈ ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

چین میں کروناوائرس سب سے پہلے سانپوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا۔ پالتو بلیاں اور کتے بھی اس وائرس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور ان سے وائرس انسانوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ زکام کی طرح کرونا وائرس سے ہونے والی علامات بھی زیادہ تر 7 دن سے لیکر 10 دن تک جاری رہتی ہیں اگر اس دوران مکمل آرام کیا جائے اور ڈاکٹر کے مشورہ سے ادویات لی جائیں تو مرض میں افاقہ ہو جاتا ہے اور آدمی صحت مند ہو جاتا ہے۔ اس لیے کرونا وائرس سے زیادہ گھبرانے اور پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ زیادہ تر متاثرین ہفتے دس دن تک خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

کرونا وائرس کی وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے چین نے اپنے مختلف صوبوں میں لاک ڈاؤن کردیا ہے۔ شہروں میں6 کروڑ سے زیادہ چین باشندے اپنے شہروںتک محدود ہو کے رہ گئے ہیں۔ شنگھائی شہر میں نئے سال کی چھٹیاں 9  فروری تک بڑھا دی گئی ہیں۔ ابھی تک چین میں متاثرہ افراد کی تعداد 5974 تک پہنچ گئی ہے جس میں 976 افراد کی حالت نمونیہ کی وجہ سے تشویشناک ہے۔ چینی کی یونیورسٹیوں میں داخلے کے ٹیسٹ منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ یعنی زبردست میڈیکل ایمر جنسی لگا دی گئی۔ وزارتِ خارجہ  کے اعلان کے مطابق چین کے شہر ووہان میں 515 پاکستان طالب علم زیر تعلیم ہیںاور وہ الحمداللہ صحت مند ہیں۔ کسی بھی طالب علم میں وائرس کی موجودگی کے آثار نہیں پائے گئے مگر سب بچے پریشان ہیں اور وہاں سے وطن منتقل ہونے کے متمنی ہیں۔ اللہ ان طالب علموں کی حفاظت فرمائے۔

چین کے شہری کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے پُر عزم ہیں۔ شہر میں جگہ جگہ بینرز لگے ہوئے ہیں:’’ ہم کرونا وائرس سے شکست نہیں کھائیں گے، ہم شیطان وائرس کو مار بھگائیں گے‘‘۔ ووہان میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے سبزیوں اشیائے خورو نوش اور ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ چین کے دوسرے شہروں سے چینی کے بہادر لوگوں نے ووہان کے ہم وطنوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے سبزیوں ، اشیائے خورو نوش اور ادویات کے سینکڑوں کنٹینرز ووہان پہنچا دیئے ہیں ۔ اگرچہ کرونا وائرس نے چین کے ساتھ دُنیا بھر میں کھلبلی مچا دی ہے، اس سے ہلاکتوں اور متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے مگر اس کا علاج اتنا مشکل نہیں ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ کرونا وائرس  سے ہونے والا زکام یا اس سے ہونے والی سانس میں رکاوٹ ابتدائی طور پر جاں لیوا مرض نہیں۔ آرام کرنے، بخار اور کھانسی اور انفیکشن کی ادویات لینے سے مرض کی علامات میں افاقہ ہو جاتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی شخص میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو جائے یا  اس جیسی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں تو اس مریض کو کم از کم سات دن کے لیے علیحدگی میں رکھا جائے۔ اگر ٹیسٹ کرونا وائرس کے لیے پازیٹو آجائے تو ٹیسٹ آنے کے کم از کم ایک ہفتہ تک اس مریض کو مکمل علیحدگی میں رکھا جائے۔ ضروری ہے کہ مریض اور اس کے ساتھ رابطہ رکھنے والے تمام اشخاص احتیاطی تدابیر، ماسک اور دستانے استعمال کریں۔ مریض کے کمرے میں اسپرے کیا جائے اور اس کے زیرِ استعمال  ٹشو پیپرز کو علیحدہ تلف کیا جائے۔ کرونا وائرس زکام کے وائرس کی طرح  Heat Sensitive وائرس ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مریض کو بھاپ دی جائے اور پینے کے لیے قہوہ، سبزیوں کا سوپ دیا جائے تا کہ بیماری کی علامات کم سے کم رہیں۔

بخار ہونے کی صورت میں بخار ختم کرنے والی ادویات دی جائیں۔ کھانسی کی صورت میں ایک کپ گرم پانی میں دو چمچ شہد اور تھوڑی سی کالی مرچ ڈال کر دیں۔ بیماری کی تشخیص ہو جائے تو صبح شام ایک کپ گرم دودھ میں ایک چمچ ہلدی ایک چمچ زیتون کا تیل اور ایک چمچ شہد ڈال کر دیں۔ ہلدی اور زیتون کے تیل میں اللہ تعالیٰ نے بے حد شفاء رکھی ہے۔

ان دونوں میں انفیکشن کنٹرول کرنے کے صلاحیت اور اینٹی وائرل خصوصیات موجود ہیں۔ شہد ویسے ہی ہر بیماری کے لیے شفاء ہے۔ زکام اور گلے کے انفیکشن کے لیے پودینہ، سونف، دار چینی اور ادرک کا قہوہ  بھی مفید ہے۔ مریض کو پینے والی گرم چیزیں دینے سے مرض میں خاطر خواہ افاقہ ہوتا ہے۔ مریض کے ساتھ خوشی گوار رویہ رکھا جائے کیونکہ علیحدگی میں رکھنے کے باوجود مریض سے رابطہ رکھا جاسکتا ہے۔ چین کی اپنے شہریوں تک محدود کرنے کی ہدایات سے 1440 سال پہلے رسول اللہﷺ کی دی گئی ہدایات یاد آتی ہیں۔

مدینہ میں جب طاعون کی بیماری پھیلی تو آپ نے اس مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کو اپنا شہر چھوڑنے سے منع فرمایا تاکہ مرض دوسرے علاقوں میں صحت مند افراد میں منتقل نہ ہو۔ مسلم شریف کی جلد نمبر 2 میں حضرت اسامہؓ سے روایت ہے کہ حضور  ﷺ نے فرمایا کہ طاعون اور متعدی بیماری ایک عذاب ہے جو پہلی امتوں پر مسلط کیا گیا۔ جب کسی علاقے یا شہر میں کوئی وبا پھیل جائے تو ضروری ہے کہ متاثرہ شہر کے باشندے اپنا علاقہ چھوڑ کر نہ جائیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ دوسرے شہروں کے لوگ متاثرہ شہر یا علاقے میں نہ جائیں۔ جو ہدایات آج کی میڈیکل سائنس میں اب سامنے آرہی ہیں وہ ہادی دو جہاں  ﷺ نے ہمیں 1440 سال پہلے بتا دیں (ماشاء اللہ) ۔

پاکستان میں بھی بیماری کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔ 5 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں۔ مریض کے زیر استعمال ٹشو پیپرز اور دوسری اشیاء کو مناسب طریقے سے تلف کیا جائے جبکہ کھانسی یا چھینک آنے پر منہ اور ناک کو ٹشو یا رومال سے ڈھانپ کر رکھا جائے۔ بخار، کھانسی اور سانس لینے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر یا ہسپتال سے رابطہ کریں۔ نزلہ، زکام اور سانس میں رکاوٹ محسوس ہو تو دفتر یا سکول ، کالج جانے سے پرہیز کریں، گھر میں رہ کر آرام کریں ، دوچار دن آرام کرنے سے طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔

بیماری اور وبا اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ سے خیروعافیت کی دُعا کریں۔ بیماریوں سے پناہ مانگیں اور مندرجہ ذیل دُعا پڑھیں:

اَللّٰہُمَّ اِنّیِ اَعُُوذُبِکَ مِنَ البَرَصِ وَالجنونِ وَالجُذَامِ وَ مِن سَیِئی الا سقَام (آمین)

’’ ا ے اللہ! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں برص سے، دماغی خرابی سے، کوڑھ سے اور ہر قسم کی بُری بیماریوں سے۔‘‘

اس دُعا کے بار بار پڑھنے سے اللہ آپ کو ’کورنا وائرس‘ سمیت ہر طرح کے متعدی امراض سے محفوظ رکھے گا۔ صدقہ بلا اور بیماری کو ٹالتاہے۔ اس لیے صحت مند رہنے کے لیے دوا، دُعا کے ساتھ صدقہ بھی ضرور کریں۔

The post ’کرونا وائرس‘ سے کیسے محفوظ رہا جائے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/315xphS

کیا ماسک کرونا وائرس سے محفوظ رکھ سکتاہے؟

کسی بھی وائرس کے پھیلنے کے بعد سب سے زیادہ نظر آنے والی تصاویر ڈاکٹروں والے ماسک پہنے لوگوں کی دکھائی دیتی ہیں۔

انفیکشن سے بچنے کے لیے ایسے نقاب یا ماسک کا استعمال دنیا کے بہت سے ممالک میں مقبول ہے۔ خاص طور پر چین میں کورونا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کے دوران ان کا استعمال بڑھ گیا ہے جبکہ ایسے ہی ماسک چین میں بڑے پیمانے پر پائی جانے والی فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے بھی پہنے جاتے ہیں۔ تاہم ماہرین فضا سے پھیلنے والے وائرس سے بچاؤ میں ماسک کے پراثر ہونے کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن کچھ ایسے شواہد ہیں جن سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ماسک وائرس کی ہاتھوں سے منہ تک منتقلی روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

سرجیکل ماسک 18ویں صدی میں ہسپتالوں میں متعارف کروائے گئے مگر عوامی سطح پر ان کا استعمال 1919 میں اس ہسپانوی فلو سے قبل سامنے نہیں آیا جو پانچ کروڑ افراد کی ہلاکت کی وجہ بنا تھا۔

برطانیہ کی سینٹ جارج یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر ڈیوڈ کیرنگٹن نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’عام استعمال کے سرجیکل ماسک فضا میں موجود وائرس یا بیکٹیریا سے بچاؤ کے لیے بہت پراثر ثابت نہیں ہوئے اور زیادہ تر وائرس اسی طریقے سے پھیلے تھے۔ ان کی ناکامی کی وجہ ان کا ڈھیلا ہونا، ہوا کی صفائی کے فلٹر کی عدم موجودگی اور آنکھوں کے بچاؤ کا کوئی انتظام نہ ہونا تھا۔‘ لیکن یہ ماسک کھانسی یا چھینک کی رطوبت میں موجود وائرس سے بچاؤ اور ہاتھ سے منہ تک وائرس کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کر سکتے تھے۔

سنہ 2016 میں نیو ساؤتھ ویلز میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ لوگ ایک گھنٹے میں تقریباً 23 مرتبہ اپنے منہ کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ پروفیسر جوناتھن بال یونیورسٹی آف ناٹنگھم میں مالیکیولر وائرالوجی کے شعبے سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ایک ہسپتال کے ماحول میں کی جانے والی محدود تحقیق یا کنٹرولڈ سٹڈی میں فیس ماسک بھی انفلوئنزا کے انفیکشن سے بچاؤ میں اتنا ہی اچھا رہا جتنا اس مقصد کے لیے بنایا جانے والا سانس لینے والا مخصوص آلہ تھا۔‘

سانس لینے کے لیے بنایا جانے والے اس آلے میں ہوا کو صاف کرنے کے لیے فلٹر لگا ہوتا ہے اور یہ خاص طور پر اس طریقے سے بنایا جاتا ہے کہ اس سے ممکنہ طور پر فضا میں موجود خطرناک ذرات سے بچنے میں مدد مل سکے۔ پروفیسر بال مزید کہتے ہیں کہ بہرحال جب آپ عمومی سطح پر عوام میں ماسک کے فائدے سے متعلق کی گئی تحقیقات کو دیکھتے ہیں تو اعداد وشمار اتنے مثاثرکن نظر نہیں آتے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماسک کو طویل وقت تک استعمال کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔

ڈاکٹر کونوربیمفرڈ بیلفاسٹ کی کوئینز یونیورسٹی میں تجرباتی ادویات کے انسٹیٹیوٹ سے منسلک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں صفائی سے متعلق سادہ سی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا بہت زیادہ سودمند ہے۔ وہ کہتے ہیں ’جب چھینک آئے تو منہ ڈھکنا، ہاتھ دھونا اور ہاتھ دھونے سے پہلے انھیں منہ پر نہ لگانا ایسے اقدامات ہیں جو سانس کے ذریعے وائرس کی منتقلی روکنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔

برطانیہ کے قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ فلو پیدا کرنے والے وائرس وغیرہ سے بچنے کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ:

٭ ہاتھوں کو گرم پانی اور صابن سے باقاعدگی سے دھویا جائے۔

٭ جتنا بھی ممکن ہو اپنی آنکھوں اور ناک کو چھونے سے گریز کریں۔

٭ صحت مند انداز زندگی کو اپنائیں۔

ڈاکٹر جیک ڈننگ پبلک ہیلتھ انگلینڈ میں انفیکشنز اور جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے امراض سے متعلق شعبے کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ منہ پر ماسک پہننا شاید فائدہ مند ہے، حقیقت میں ہسپتال کے ماحول سے باہر اس کے بڑے پیمانے پر فائدہ مند ہونے کے بہت ہی کم شواہد ہیں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ماسک کو صحیح طریقے سے پہننا چاہیے، اسے تبدیل بھی کرتے رہنا چاہیے اور انھیں محفوظ طریقے سے تلف کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر ڈننگ کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں کو اس حوالے سے خوف ہے تو بہتر ہے کہ وہ اپنی جسمانی، خاص طور پر ہاتھوں کی صفائی پر زیادہ توجہ دیں۔

The post کیا ماسک کرونا وائرس سے محفوظ رکھ سکتاہے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2U60GYo

اچھی شخصیت کا راز اچھی صحت میں پوشیدہ ہے

الطاف حسین حالی نے کیسی پیاری بات دو مصروں میں سمو دی ہے کہ

فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا!

مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ

لیکن کیا ہم واقعی محنت کر کے انسانیت کی اوجِ ثریا پہ پہنچ پاتے ہیں؟ اور اگر نہیں تو اس کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آج ہم اس پہ بات کریں گے۔ ایک متوازن شخصیت ہی ایک کارآمد فرد کے روپ میں معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے،سوال یہ ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جنھیں اپنا کر ہم اپنی ذات کو نفع بخش بنا سکتے ہیں؟

سب سے پہلے جسمانی صحت پہ بات کرتے ہیں۔ اگر آپ جسمانی طور پہ تندرست و توانا رہنا چاہتے ہیں تو اپنا ایک غذائی چارٹ بنائیے،جو چیزیں آپ کے جسم سے مطابقت رکھتے ہوئے آپ کو فائدہ دیں، انھیں اس چارٹ میں شامل کیجیے۔ جو چیزیں فقط زبان کا چسکا تو پورا کریں لیکن آپ کو راس نہ آتی ہوں انھیں اس چارٹ سے خارج کر دیں،ایک دم سے اپنی پسند کو چھوڑنا آسان نہیں ہوتا تو اس کا حل یہ ہے ہدف بنا لیجیے کہ میں نے  اپنی فلاں فلاں پسندیدہ لیکن صحت کے لیے نقصان دہ چیز چھوڑنی ہے جیسے کہ کوئی بھی جنک فوڈ  لیکن اس کی جگہ ایک مفید چیز چاہے وہ مجھے ناپسند ہی کیوں نہ ہو، اپنی خوراک میں ضرور شامل کریں۔ اور پھر خود پہ ضبط کرتے ہوئے اس پہ کچھ عرصہ عمل کیجیے۔آپ دیکھیں گے کہ شروع میں یہ خاصا مشکل لگے گا لیکن آہستہ آہستہ آپ کی عادت بن جائے گی۔ تاہم سیلف ڈسپلن اسی کو کہتے ہیں۔

ناشتہ لازمی کیجیے عمدہ اور غذائیت سے بھرپور ناشتہ آپ کو دن بھر ہشاش بشاش رکھے گا۔ دوپہر میں مناسب کھانا لیجیے کیونکہ دن بھر کے کام کاج کے وقفے میں اگر آپ بہت بھاری کھانا کھا لیں گے تو شام تک طبعیت میں سستی غالب رہے گی جبکہ رات کو ہلکا پھلکا کچھ کھائیے جو بس اتنا ہو کہ معدہ کو خالی رہنے سے بچائے۔

دوسری اہم ترین چیز جو ہمیں جسمانی صحت حاصل کرنے کے لیے درکار ہے، ورزش ہے۔ اس سے آپ خود کو متحرک پائیں گے، ساتھ ہی آپ کا ذہن پہلے سے زیادہ کام کرنے لگے گا کیونکہ خون کی گردش جب دماغ میں جاتی ہے تو وہ دْگنا کام کرنے لگتا ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ جِم ہی جائیں تو ورزش ہوگی،گھر میں رہتے ہوئے بھی تسلسل اور مستقل مزاجی کے ساتھ صرف چہل قدمی کے لیے 30منٹ روزانہ مختص کرلیں تو آپ اپنے اندر واضح، مْثبت تبدیلی دیکھیں گے،اس سے منفیت سے نجات ملے گی، تازہ ہوا اندر تک تازگی سے بھر دے گی۔ چاہیں تو کوئی بھی آسان سی ایروبک ورزش بھی گھر میںکر سکتے ہیں لہذا آپ تادیر چْست، توانا اور ذہنی طور پہ مستعد رہنا چاہتے ہیں تو ورزش/ چہل قدمی کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنا لیجیے،زندگی خوبصورت لگے گی۔

جسمانی صحت کے حصول کے لیے تیسرا اہم نقطہ نیند ہے۔ آپ کتنا،کب اور کیسے سوتے ہیں یہ سب آپ کی صحت پہ اْتنا ہی اثر انداز ہوتا ہے جتناآپ کا کھانا پینا اور ورزش کرنا وغیرہ۔ رات اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سونے کے لیے جبکہ دن کام کاج کے لیے بنایا ہے، جبکہ ہم راتوں کو دیر تک جاگ کر اور دن میں دیر تک سو کر فطرت کے خلاف چلتے ہیں اور حقیقتاً اپنی صحت کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔

رات کے اندھیرے میں جب ہم سو رہے ہوں تو ہمارے جسم سے ایک ایسا ہارمون خارج ہوتا ہے جو ہمیں پْرسکون کرتا ہے لیکن یہ صرف تب خارج ہوتا ہے جب اندھیرے میں ہم سو رہے ہوں یعنی جاگ نہ رہے ہوں۔ سوتے وقت موبائل فون اور ٹی وی سکرین سے خود کو لازمًا دور رکھیے،کم از کم فون اتنا دور ہو کہ آپ کو چل کر فون تک پہنچنا پڑے ۔کوشش کیجیے کہ عشاء کے بعد سوجائیں اور فجر سے قبل اٹھ جائیں یا پھر فجر کے وقت لازمًا اٹھ جائیں۔ صبح کا بابرکت آغاز دن بھر تازگی سے ہم کنار کرے گا، لہذا نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کے بعد دیگر امور پہ توجہ دیجیے۔

روحانی صحت

ہماری روح پیاسی ہو اور اسے غذا نہ ملے لیکن ہم اپنی جسمانی صحت پر بھرپور توجہ دینے والے ہوں تو کیا ہم ایک متوازن اور کامیاب فرد بن سکیں گے؟ یقینًا نہیں، تو آئیے جانتے ہیں ہماری روح کی غذا کیا ہے؟ بحیثیت مسلمان ہم نہایت خوش قسمت ہیں کہ اسلام کی دولت سے مالا مال ہیں۔ مغرب میں روح کی تسکین کے لیے میڈیٹیشن کی جاتی ہے۔ مثلاً آپ کو کسی ایک خاص نقطے پہ نظر مرکوز کروا کر اسی لمحے میں جینے کو کہا جائے گا، مثلاً  آبشار کے گرتے پانی پہ نظر جمائی جائے، اسی کو مکمل ارتکاز اور توجہ سے دیکھا جائے اور ذہن کو ہر طرح کی سوچوں سے آزاد کر کے صرف اْن موجودہ لمحات کو محسوس کیا جائے۔ہم ایسے ارتکاز اور توجہ سے نماز ادا کرنے لگ جائیں کہ سب فکریں ایک طرف رکھ کر فقط نماز پہ مکمل توجہ دیں تو ہماری روح توانا ہوگی۔ یقینًا ہم ایسا کرکے دنیا کی سب سے بہترین اور کارآمد میڈیٹیشن کریں گے۔

اس عمل کے بعد خود سے باتیں کیجیے کہ مجھ میں کیا غلط ہے جس کی اصلاح کرنی ہے۔ سوچیے جو عبادت آپ میں مثبت تبدیلی نا لا پائے کیا وہ اللہ کو پسند آئے گی؟ اللہ سے باتیں کریں ، اپنے مسئلے بیان کریں وہ راہیں کھولتا جائے گا۔ فطرت میں وقت گزارئیے،کھلی تازہ ہوا اندر اتارئیے،جہاں تک ممکن ہو پودوں کی قربت میں رہیے،کبھی کسی بہتی ندی یا جھیل کنارے بیٹھ جائیے،غرضیکہ قدرتی اور خالص مناظر کا حصہ بننے کی کوشش آپ کی روح کو سرشار کر کے آپ کو شاد کر دے گی۔ صدقہ دیجیے،کسی کی مدد کر دیجیے،جو ہنر یا جو نعمت آپ کے پاس ہے اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچائیے۔ یہ سب بظاہر چھوٹے چھوٹے عمل ہیں لیکن یہی آپ کی روحانی صحت کے ضامن ہیں،بکثرت دعائیں کیجیے۔

ذہنی صحت

شخصیت سازی میں ذہنی صحت کی مسلمہ اہمیت سے سب ہی آگاہ ہیں۔ آپ مذکورہ بالا طریقے پر کاربند رہے تو ذہنی مسائل کا سامنا کم ہوگا۔ یاد رکھیے اگر آپ کا ذہن منتشر خیالات کی آماج گاہ بن جائے ،آپ زندگی کے منفی پہلوؤں پہ زیادہ توجہ دینے لگیں ، آپ کو خیر میں بھی شر نظر آئے، ڈپریشن طاری رہے تو ایسی صورتحال میں آپ اپنی ذہنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے سے قاصر رہیں گے، اپنے ذہن کو منفیت سے بچانے کے لیے اچھی، عمدہ اور معیاری کتب کا مطالعہ کیجیے۔کتاب دوست انسان کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ روزانہ کچھ وقت کتب بینی میں ضرور لگائیے۔ اپنے ذوق اور پسند کے مطابق کتاب منتخب کیجیے اور اسے پڑھ کر اپنی ذات کو نکھارنے کے لیے کچھ نا کچھ سیکھیے اور عمل میں لانے کی کوشش کیجیے۔کہا جاتا ہے’’جو نہیں پڑھتا اور جو نہیں پڑھ سکتا وہ دونوں برابر ہیں‘‘۔

ایسے افراد کی صحبت اختیار کیجیے جو آپ کو مثبت طرز عمل کی طرف ابھاریں،جن کے پاس بیٹھ کر آپ خود کو پرسکون محسوس کریں،جن کی گفتگو روشنی کی مانند ہو۔  ڈپریشن سے نجات کے لیے ہاتھ سے کام کرنا بہت سود مند ثابت ہوتا ہے۔ پریشان ہیں تو ہاتھوں کو مصروف کر لیجیے،پینٹنگ کیجیے ،سلائی کیجیے، بْنائی کیجیے،کھانا پکا لیجیے،صفائی میں لگ جائیے،غرض ہر وہ کام جس میں ہاتھ حرکت میں رہیں وہ کرنا شروع کردیں۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ کی پریشانی زائل ہونے لگے گی۔ البتہ اگر آپ کے ڈپریشن کا دورانیہ تین ماہ سے بڑھ جائے تو  آپ کسی ماہر نفسیات سے رجوع کریں کہ آپ کو مدد کی ضرورت ہے۔

اپنے ذہن کو مصروف رکھیں،کیسے؟ اپنے اہداف طے کر لیجیے مثلاً یہ کہ آپ آج سے دس سال بعد خود کو کس مقام پہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ طے کر لیجیے اور پھر اْس مقام تک پہنچنے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کیجیے۔ یوں آپ کے ذہن کو یکسوئی سے اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے ایک صحیح راستہ مل جائے گا اور آپ بہت سی ذہنی پریشانیوں سے محفوظ رہ پائیں گے۔ اخلاقی برائیوں حسد، جھوٹ، کینہ، غیبت،چغلی وغیرہ سے بچنے کی کوشش بھی آپ کے ذہنی سکون کو جِلا بخشے گی۔

لوگوں کے ساتھ تعلقات

سب سے زیادہ صبر آزما مرحلہ جو شخصیت پہ کی گئی تمام محنت کا عملی امتحان لیتا ہے، اپنے ارد گرد موجود افراد سے تعلق ہوتا ہے۔ ہمارے لڑائی جھگڑے زیادہ ترگھر میں ساتھ رہنے والوں کے ساتھ ہوتے ہیں نا کہ دوست احباب سے،اسی لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے صلہ رحمی پہ بہت زور دیا ہے۔ جذباتی کنٹرول رشتوں کی بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔گھر میں ہوں یا گھر سے باہر ،بس یہ بات ذہن میں بٹھا لیجیے کہ جیسے آپ اپنی ذات میں منفرد ہیں ویسے ہی ہرشخص اپنی الگ پہچان رکھتا ہے جو دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ اس چیز کو قبول کر لینے کے بعد آپ میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی ہمت بڑھ جائے گی۔ اس حقیقت کو سمجھیے اور قبول کیجیے کہ تعلقات ہمیشہ انا سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ ایک چھوٹا سا انگریزی محاورہ ہے Agree to disagree یعنی آپ دوسرے کی کسی بات پہ متفق نہ ہونے کو قبول کیجیے لیکن قطع تعلقی مت کیجیے۔

اپنا موقف نرمی سے واضح کیجیے ،دلائل بھی دیجیے،اور اپنی بات بھی منوائیے لیکن نرمی سے، چلائیے مت،آپ کی آواز اور الفاظ کے انتخاب سے لے کر آپ کی حرکات و سکنات میں بھی شائستگی اور نرمی کا عنصر نمایاں ہونا چاہیے۔کوئی زیادتی کر دے تو معاف کر دیجیے،اللہ کی خاطر اور اپنے سکون کی خاطر۔ یہ مشکل ضرور ہے لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے استقامت کی اور نرمیِ دل کی دعا مانگتے رہیے،یاد رکھیے! نفسیات ہمیں ہمیشہ اپنی ذات پہ کام کرنے پہ اْکساتی ہے کہ اپنی فکر کیجیے دوسروں کی فکر مت کیجیے،آپ کی ذات سے بس خیر عطا ہو مقابل بھلے شر انگیز ہو وہ آپکا مسئلہ نہیں،آپ خود کو اتنا مضبوط بنائیے کہ جیسے ایک چھتناور درخت جو ٹھنڈی میٹھی چھایا بھی دیتا ہو اور میٹھا پھل بھی،اس سے قطع نظر کہ اسے کاٹا جا رہا ہے،توڑا جا رہا ہے،وقت پہ پانی مل رہا ہے یا نہیں۔

وقت کی تنظیم

وقت کو استعمال کرنے کے طریقے سے اگر ہم ناواقف ہوں تو سمجھیے کچھ بھی درست نہیں ہونے والا،کیونکہ جب آپ کو علم ہی نا ہو گا کہ کون سا کام کب اور کتنی اہمیت کا حامل ہے تو آپ وقت سے صحیح فائدہ اٹھانے سے قاصر رہیں گے۔آپ وقت کے صحیح استعمال کے لیے کاموں کی تقسیم اس طرز پہ کیجیے:

فوری اور اہم کام

وہ کام جو اہم ہونے کے ساتھ ساتھ فوری طور پہ کرنے والے ہوں جیسے کہ کوئی اچانک درپیش آ جانے والی ایمرجنسی کی صورت جہاں آپ کی موجودگی ضروری ہو یا کوئی اور ایسی ہی اہم اور اشد ضرورت ،ان کاموں کے لیے آپ فوراً وقت نکالیے۔

فوری نہیں لیکن اہم کام

ایسے کام جو اہم تو ہوتے ہیں لیکن فوری طور پہ نہ بھی کیے جائیں تو کسی نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا،ایسے کام کوشش کیجیے کہ فرصت کا لمحہ ملتے ہی سرانجام دیدیں، قبل اس کے کہ ان کاموں کی آخری تاریخ آن پہنچے اور انھیں بھاگم بھاگ کرنا پڑے۔ جیسے کہ بجلی کے بل جمع کروانا،راشن لانا،اسائمنٹ جمع کروانا وغیرہ۔اور اپنی روز مرہ کے معمول کے تمام کام۔

فوری ضروری لیکن غیر اہم

اس میں وہ کام جو فوری کرنے والے تو ہوں لیکن اہم نہ ہوں جیسے کہ آپ نے کسی کے ساتھ بازار جانا ہے یا کوئی چیز کھانے کو بے حد دل چاہ رہا ہے لیکن چیز پاس نہیں تو یہ فوری ضروری تو ہے لیکن اہم نہیں کہ ان کے پیچھے آپ دیگر اہم کام ملتوی کر دیں لہذا ایسے کاموں کو آپ سنجیدہ اور ضروری اہم نوعیت کے معاملات پہ فوقیت نہیں دیںگے۔

اور ایسے کام جو نہ تو اہم ہوں اور نہ ہی فوری طور پہ کرنا ضروری ہوں ان پہ وقت ضائع مت کیجیے۔ بس اسی طرح کاموں کی ترتیب بنا کر انھیں تقسیم کیجیے اور وقت کا بھرپور فائدہ اٹھائیے۔

The post اچھی شخصیت کا راز اچھی صحت میں پوشیدہ ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2U7V9jT

Tuesday, 28 January 2020

بچوں کو دماغی صحت کے لیے سبزیاں ضرور کھلائیں

پینسلوانیا: اگر آپ اپنے بچوں کو دماغی طور پر قوی بنانا چاہتے ہیں تو انہیں سبزیوں کی طرف راغب کیجئےبالخصوص ہرے پتوں والی سبزیوں کو نظرانداز نہ کیا جائے۔

یونیورسٹی آف پینسلوانیا کے سائنسدانوں نے 8 سے 24 برس کے  1500 بچوں اور نوعمروں کے دماغوں پر غور کیا ہے۔ نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ جن بچوں میں فولاد کی کمی تھی دماغی مشقوں اور ٹیسٹ میں ان کی کارکردگی دیگر کے مقابلے میں ناقص رہی۔

سائنس شواہد کی بنیاد پر کہتی ہے کہ جسم میں فولاد جاکر آخرکار خلیات (سیلز) میں جمع ہوجاتی ہے۔ فولاد دماغی اور جسمانی کارکردگی کے لئے بہت ضروری ہوتی ہے۔ مثلاً منطقی اور عقلی معاملات میں فولاد کی مناسب جسمانی مقدار اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ہرے پتوں والی سبزیوں میں فولاد کی غیرمعمولی مقدار پائی جاتی ہے جن میں پالک، شاخ گوبھی اور سلاد سرِ فہرست ہیں۔ یہ تحقیق یونیورسٹی کے پروفیر ڈاکٹر بارٹ لارسن نے کی ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ جب تک بچہ 20 سال کی عمر تک نہ پہنچ جائے اسے فولاد سے بھرپور غذائیں دی جائیں یا پھر آئرن سپلیمنٹ دیئے جائیں۔ پوری دنیا میں دوارب سے زائد افراد میں فولاد کی کمی  ریکارڈ کی گئی ہے۔

بچے ہوں یا بڑھے فولاد کی کمی سے دردِ سر، کمزوری، چکر، جلد کی پیلی رنگت اور سینے میں درد جیسی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ خون کے سرخ خلیات سازی میں فولاد کا اہم کردار ہوتا ہے اور یہ خلیات پورے جسم میں آکسیجن پہنچاتے ہیں۔

بچوں کو روزانہ 8 ملی گرام فولاد درکار ہوتی ہے جبکہ بلوغت کی عمر تک پہنچنے والے نوعمروں کو 11 ملی گرام فولاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر لڑکیوں کو 15 ملی گرام فولاد درکار ہوتا ہے کیونکہ مخصوص ایام میں فولاد کی کمی واقع ہوتی رہتی ہے۔

ڈاکٹر لارسن کی تحقیق بتاتی ہے کہ دماغی خلیات میں فولاد جمع ہوتا رہتا ہے اور اگر نہ ہوں تو اس سے ایک جانب تو کئی دماغی عارضے پیدا ہوسکتے ہیں اور ساتھ ہی اکتساب، یادداشت اور منطقی امور میں دماغی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

یہ تحقیق جرنل آف نیوروسائنس میں شائع ہوئی ہے۔

The post بچوں کو دماغی صحت کے لیے سبزیاں ضرور کھلائیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2RXq7IV

Monday, 27 January 2020

ملک میں5 کروڑ نوجوان موٹاپے کا شکار ہیں ،عالمی ادارہ صحت

 کراچی:  پاکستان میں موٹاپے کی وبا نے انتہائی خوفناک شکل اختیار کرلی ہے جہاں پر 20 سال سے زائد عمر کے چار سے پانچ کروڑ افراد موٹاپے کا شکار ہیں، دوسری طرف پاکستانی بچوں میں موٹاپے کی بیماری بڑھتی جارہی ہے،عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2045 تک پاکستان بچوں میں موٹاپے کے لحاظ سے نویں نمبر پر آجائے گا۔

بچوں اور بڑوں میں موٹاپے کے نتیجے میں ذیابیطس، بلڈپریشر، دل کی بیماریوں، فالج اور جوڑوں کے ناکارہ ہونے سمیت دیگر بیماریوں سے اموات اور مستقل معذوری میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، پاکستان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ کروڑوں لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرسکے، روزانہ ورزش، متوازن غذا اور معدے اور آنتوں کی سرجری کر کے موٹاپے پر قابو پایا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں ذیابیطس اور دیگر امراض سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار معروف پاکستانی بیریاٹرک سرجن اور میٹابولک سرجری کے ماہر ڈاکٹر تنویر رازی احمد نے دی سیکنڈ فلور (T2F) میں موٹاپے کے حوالے سے عوامی آگاہی کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، سیمینار کا انعقاد ایک مقامی تنظیم نے کیا جس نے موٹاپے میں کمی کے لیے “آج سے تھوڑا کم” کے نام سے مہم کا آغاز کیا، اس موقع پر ذیابطیس، بلڈ پریشر اور باڈی ماس انڈیکس کے ٹیسٹ بھی کیے گئے۔

ٹیسٹ کے نتائج کے مطابق 50 فیصد شرکاء بشمول خواتین موٹاپے کے مرض میں مبتلا پائے گئے، عوامی آگاہی کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر تنویر رازی احمد کا کہنا تھا کے پاکستان کے نیشنل ڈائبیٹیز سروے کے مطابق پاکستان میں 76 فیصد سے زائد افراد وزن کی زیادتی اور تقریبا باسٹھ فیصد افراد موٹاپے کا شکار ہیں، ان کا کہنا تھا کہ موٹاپے کی وجہ سے پاکستان کی 26 فیصد آبادی ذیابطیس کے مرض میں مبتلا ہے، 52 فیصد افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں جبکہ 90 فیصد سے زائد افراد کا کولیسٹرول بڑھا ہوا ہے، ان کا کہنا تھا کہ موٹاپا تمام بیماریوں کی ماں ہے اور اس کے نتیجے میں دل کے دورے اور فالج کے سبب لاکھوں لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ سالانہ لاکھوں لوگ مستقل طور پر معذور ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر تنویر رازی کا کہنا تھا کہ موٹاپے پر قابو پانے کے لیے روزانہ 40 منٹ تک ورزش، کم کھانا اور متوازن غذا کا استعمال ضروری ہے، لیکن بدقسمتی سے وزن کم کرنے کے بعد اسے برقرار رکھنا انتہائی دشوار کام ہے، ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل سائنس نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ بیریاٹرک یا میٹابولک سرجری کے ذریعے اب موٹاپے سے مستقل طور پر نجات دلائی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر تنویر رازی احمد نے بتایا کہ سرجری کے ذریعے یا تو معدے کو چھوٹا کر دیا جاتا ہے یا چھوٹی آنت کی لمبائی کو کم کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں جسم کو کم خوراک ملتی ہے اور انسان کا وزن تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس سرجری کے نتیجے میں 30 سے 40 کلو گرام تک وزن کم کیا جاسکتا ہے۔

The post ملک میں5 کروڑ نوجوان موٹاپے کا شکار ہیں ،عالمی ادارہ صحت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/36BuLkZ

درجنوں عام دواؤں میں سرطان کے خلاف تاثیر دریافت

ہارورڈ: ایک نئے مطالعے سے لگ بھگ 50 سے زائد ایسی دواؤں میں کینسر کے خلاف علاج کی خاصیت دریافت ہوئی ہیں جو کینسر کے علاج کے لیے نہیں بنائی گئی تھیں۔

ان دواؤں میں ذیابیطس، اندرونی جلن، شراب نوشی چھڑانے اور یہاں تک کہ پالتو کتوں کی ہڈیوں کے علاج کی دوائیں بھی شامل ہیں۔ لیکن ان سب میں ایک قدر مشترک ہے کہ ان پرانی دواؤں میں سرطان ختم یا کم کرنے کی کم یا زیادہ صلاحیت موجود ہے۔

میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) میں واقع بروڈ انسٹی ٹیوٹ اور ہارورڈ میں واقع ڈینا فاربر کینسر انسٹٰی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے مجموعی طور پر 6000 دواؤں کا جائزہ لیا ہے جو عام استعمال ہورہی ہیں۔ ان میں سے 50 ادویہ کینسر کے خلاف مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ اس طرح شاید کینسر کے خلاف لڑائی میں ہماری رفتار بڑھ سکے اور یوں ہم بہتر دوائیں بنانے کے قابل بھی ہوجائیں گے۔

اس ضمن میں ٹوڈ گولب نامی ماہر نے بتایا کہ دنیا بھر کی تجربہ گاہیں برسوں اس کوشش میں ہیں کہ کینسر کے خلاف کوئی مرکب مل جائے اور اب اس طرح کئی درجن ادویہ ہمارے سامنے ہیں جو ایف ڈی اے کی منظوری کے بعد دنیا بھر میں استعمال ہورہی ہیں۔ اس طرح پہلی مرتبہ ادویہ کی اتنی بڑی تعداد کو سرطان کے لیے جانچا گیا ہے۔

ماہرین نے کینسر لائن انسائیکلوپیڈیا (سی سی ایل ای) میں سے 578 مختلف اقسام کے کینسر کے خلیات کو شناخت کرکے ادویہ کو ان پر آزمایا ہے اور امید افزا نتائج ملے ہیں۔ اکثر ادویہ کینسر کی وجہ بننے والے پروٹین کو روکنے میں مؤثر پائی گئی ہیں۔

The post درجنوں عام دواؤں میں سرطان کے خلاف تاثیر دریافت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2GFOrdj

Sunday, 26 January 2020

خشک آنکھ کو نم رکھنے والا کانٹیکٹ لینس تیار

ٹوکیو: دنیا میں ہزاروں لاکھوں افراد آنکھ کے ایک عارضے میں مبتلا ہیں جس میں آنکھوں سے نمی کی مقدار کم بنتی ہےاور خشک آنکھوں کی وجہ سے بار بار آنکھوں میں قطرے ٹپکانا پڑتے ہیں۔

لیکن اب آنکھوں کو مسلسل نم رکھنے والے جدید کانٹیکٹ لینس بنائے گئے ہیں جو مسلسل نمی خارج کرکے آنکھوں کی خشکی سے بچاتے ہیں اور بار بار آنکھوں میں قطرے ٹپکانے کی ضرورت نہیں رہتی ۔

روایتی کانٹیکٹ لینس پہننے سے آنکھ کی پتلی کو پلاسٹک کا ٹکڑا مکمل طور پر ڈھانپ لیتا ہے۔ ہم آنکھ جھپکانے کے ہرعمل سے آنکھوں میں نمی پھیرتے ہیں لیکن لینس کی وجہ سے آنکھ کی گول پتلی نمی سے محروم رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانٹیکٹ لینس پہننے والے خواتین وحضرات کچھ دیر بعد ہی خارش، جلن اور بےچینی کی شکایت کرتے ہیں۔ تاہم مختلف افراد میں یہ اس کا دورانیہ مختلف ہوسکتا ہے۔

جاپان کی ٹوہوکو یونیورسٹی کے پروفیسر مٹشیکو نیزی شاوا نے اس مسئلے کے حل کے لیے جدید کانٹیکٹ لینس بنایا ہے جو وقفے وقفے سے لینس اور اپ کی آنکھ کے درمیان ہلکی نمی خارج کرتا رہتا ہے۔ یہ نمی ایک طبعیاتی مظہر الیکٹرواوسموٹک فلو (ای او ایف) کے تحت بنتی ہے۔ ای او ایف میں جب کسی چارج شدہ سطح پر بجلی گزاری جاتی ہے تو مائع کا ہلکا بہاؤ شروع ہوجاتا ہے۔

لینس کے اوپر ہائیڈروجل لگایا گیا ہےجو کرنٹ دینے پر آنکھ کو قدرتی طور پر نم رکھنے والے مائع غدود سے نمی کا بہاؤ ممکن بناتا ہے۔ یہ غدود آنکھ کے اوپری پپوٹے کے اندر کونے میں موجود ہوتے ہیں۔ اس لینس کے اندر ہلکی بجلی بنانے والی بایو بیٹری لگائی گئی ہے جو میگنیشیئم اوراینزائم والے فرکٹوز آکسیجن سے بنائی گئی ہے۔ یہ اتنی چھوٹی ہے کہ اسے آنکھ کے اندر ہی لگایا جاسکتا ہے۔

فی الحال سے دستی طور پرآن یا آف کیا جاتا ہے لیکن وہ دن دور نہیں جب لینس میں مائع کے بہاؤ کا آپشن وائرلیس کے ذریعے کنٹرول کیا جاسکے گا۔ دوسری جانب لینس کو مزید پائیدار اور کم وولٹیج پرکارآمد بنانے پر بھی کام کیا جائے گا۔

اس ایجاد کے بعد لینس کے مزید استعمال یہی پر ختم نہیں ہوجاتے بلکہ اگلے مرحلے میں کانٹیکٹ لینس کے ذریعے آنکھوں کے مرہم یا دوا کو ازخود خارج کرنے کے طریقوں پر بھی غور کیا جائے گا۔

The post خشک آنکھ کو نم رکھنے والا کانٹیکٹ لینس تیار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2O3HqH7

Medical News Today: Cancer: Using copper to boost immunotherapy

Scientists have successfully destroyed cancer cells in mice by using copper-based nanoparticles and immunotherapy.  Importantly, the cancer did not return.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/2GliNBl

Saturday, 25 January 2020

کم مقدار میں اسپرین کا استعمال قبل از وقت پیدائش سے بچاتا ہے، تحقیق

کینبرا: کم آمدنی والے چھ ممالک میں کی گئی ایک تازہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ پہلی بار ماں بننے والی خواتین اگر روزانہ تھوڑی سی مقدار میں اسپرین بھی لے لیا کریں تو اس سے بچے کی قبل از وقت پیدائش سے بچا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران کونگو، گوئٹے مالا، ہندوستان، کینیا، پاکستان اور زیمبیا میں مجموعی طور پر ایسی 12 ہزار خواتین کو مطالعے میں شریک کیا گیا جو پہلی بار ماں بننے جارہی تھیں۔

یہ تو معلوم نہیں کہ اسپرین اس معاملے میں کس طرح عمل کرتی ہے لیکن اتنا ضرور ثابت ہوچکا ہے کہ اسپرین استعمال کرنے والی وہ خواتین جو پہلی بار حاملہ ہوئی تھیں، ان میں بچے کی قبل از وقت پیدائش کے امکانات 11 فیصد تک کم رہ گئے جبکہ حمل کے 34 ویں ہفتے سے پہلے زچگی (ڈیلیوری) کے امکانات 25 فیصد تک کم ہوگئے۔

واضح رہے کہ تجزیئے کی غرض سے اس مطالعے میں روزانہ معمولی مقدار میں اسپرین لینے والی خواتین کا موازنہ ایسی خواتین سے کیا گیا جو پہلی بار ماں بننے تو جارہی تھیں لیکن وہ اسپرین استعمال نہیں کررہی تھیں۔

ترقی پذیر اور غریب ممالک میں بچوں کی قبل از وقت پیدائش بھی خواتین کے اہم مسائل میں شامل ہے اور اس ضمن میں روزانہ ’’بے بی اسپرین‘‘ کہلانے والی صرف ایک گولی روزانہ کھانے سے حاملہ خواتین کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ خواتین میں حمل کا اوسط دورانیہ 280 دن، 40 ہفتے یا پھر سوا نو مہینے (9 مہینے اور ایک ہفتہ) ہوتا ہے۔ کچھ بچے اس سے چند دن پہلے جبکہ کچھ اس اوسط سے کچھ دن بعد بھی پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن زیادہ تشویش کی بات تب ہوتی ہے جب بچے کی پیدائش، اس اوسط سے تین چار ہفتے یا اس سے بھی پہلے ہوجائے۔ قبل از وقت پیدائش کی صورت میں پیدا ہونے والے بچے اکثر کم وزن اور جسمانی و ذہنی طور پر کمزور بھی ہوتے ہیں؛ اور وہ کم عمری ہی میں موت کا آسان شکار بن سکتے ہیں۔

ساتویں اور آٹھویں مہینے میں پیدا ہونے والے بیشتر بچے یا تو مُردہ پیدا ہوتے ہیں یا پھر پیدائش کے کچھ وقت بعد ہی اللہ کو پیارے ہوجاتے ہیں۔ زچہ و بچہ کے یہ مسائل پاکستان سمیت دوسرے ترقی پذیر اور غریب ممالک میں بہت عام ہیں۔ اگر اسپرین کی معمولی اور نہایت کم خرچ خوراک سے یہ صورتِ حال بہتر بنانے میں کوئی افاقہ ہوتا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہوگی۔

اگرچہ اس تحقیق کی تفصیلات معروف و معتبر طبّی تحقیقی جریدے ’’دی لینسٹ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوچکی ہیں لیکن پھر بھی اس سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپرین کو باقاعدہ طور پر اس انداز سے خواتین کےلیے تجویز کرنے سے قبل ہمیں مزید وسیع تر تحقیق کرکے اپنا پورا اطمینان کرلینا چاہیے۔

The post کم مقدار میں اسپرین کا استعمال قبل از وقت پیدائش سے بچاتا ہے، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/36tFBK2

موٹاپا ایک وبال: اسے آنے سے پہلے روکیں

بڑھتا ہوا ویٹ اور پیٹ دونوں بلائے جانے سے کم نہیں۔وزن ایک مرتبہ بڑھ جاے اسے کم کرنا محال ہے اور جب وزن بڑھتا ہے تو ممکن ہی نہیں کے پیٹ نہ بڑھے۔ مگر بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ وزن تو نہیں بڑھتا لیکن پیٹ بڑھ جاتا ہے اور بڑھا ہوا پیٹ انتہائی مضحکہ خیز لگتا ہے۔

مردوں میں جہاں یہ نامناسب معلوم ہوتا ہے وہیں خواتین میں پورے کا پورا فگر برباد کر ڈالتا ہے۔ بڑا ہوا پیٹ بڑھے ہوئے وزن سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے جس کے باعث مرد ہو یا عورت شخصیت ماند پڑجاتی ہے اور جب اس کو واپس لانے کا خیال آتا ہے تب تک دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ بڑھتے پیٹ اور وزن کی وجوہات یا علامات پر تو بہت بحث ہوتی ہے مگر اس سے بچا کیسے جاسکتا ہے۔ یہ لوگ کم ہی دھیان دیتے ہیں۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے، ’’احتیاط علاج سے بہتر ہے‘‘ اگر اس رہنما اصول کو اپنی زندگی میں اپنا لیا جائے تو بہت سی تکلیفوں اور بیماریوں کا تدارک کیا جاسکتا ہے۔ آج ہم آپ کو ان اقدامات سے آگاہ کریں گے جن پر عمل پیرا ہوکر آپ بڑھتے وزن اور پیٹ کے مسائل سے بچ سکتے ہیں اور اگر اس کا شکار ہوجائیں تو چھٹکارا پانا بھی ممکن نہ رہے گا۔

-1 نشاستہ دار غذائوں سے پرہیز
نشاستہ دار غذا دراصل ایسی غذا کو کہا جاتا ہے جس میں کاربوہائیڈریٹس موجود ہوں (Carbohydrates) ۔جوکہ انرجی بہم پہنچانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتے ہیں۔ یہ عموماً پھلوں، سبزیوں، ڈبل روٹی یا پاستا اور بازاری اشیاء میں پائے جاتے ہیں۔ اب یہاں آپ کو یقینا حیرانی ہوگی کہ بھلا نشاستہ دار غذائیں جو جسم کو طاقت و حرارت پہنچانے کا سبب ہیں، کیسے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں؟ تو اس کو یوں سمجھ لیجئے کہ تمام غذائیں جیسے بری نہیں ہوتی ویسے ہی تمام غذائوں کی زائد مقدار اچھی نہیں ہوتی کچھ نشائستہ دار اجزاء جیسے کہ شکر قندی، برائون رائس اور حلوہ کدو میں نشاستے وافقر مقدار میں نہیں پائے جاتے ہیں۔ اگر ان کا استعمال کیا جائے تو موٹاپے کا کوئی ڈر نہیں لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عام نشاستہ دار غذائیں جیسے کہ چھنا ہوا آٹا، میدے والی ڈبل روٹی اور سفید چاول کا استعمال کیا جائے۔

ڈاکٹر روم ماہر غذا اور غذائیت کا اس حوالے سے خیال ہے کہ پیچیدہ نشاستوں والی غذائیں جسم میں بلڈ شوگر کو ایک متوسط درجے تک رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں جبکہ عام نشاستہ دار غذائیں جسم میں شوگر کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز کو متحرک کردیتی ہیں جس سے شوگر لیول متعدل رہنے کے بجائے اوپر نیچے ہوتا ہے۔ ایسی غذائیں باقاعدگی سے کھانا ایک نا ایک روز موٹاپے، انسولین کی مزاحمت اور سوجن کا باعث بنتی ہیں۔ وہ غذائیں جن سے اس ضمن میں پرہیز کرنی چاہیے ان میں سنگین، سفید چاول، پاستا، ڈونٹ اور مفین شامل ہیں۔

-2 غیر متوازن چربی سے پرہیز کریں
ہماری روزمرہ خوراک میں فیٹس کی ایسی تین اقسام موجود ہوتی ہیں جوکہ موٹاپے، سوزش اور پیٹ بڑھنے کا سبب بنتی ہیں۔ اس میں سے سے خطرناک فیٹس ٹرانس فیٹس ”Trans Fats” ہوتی ہیں جوکہ غیر سیرشدہ چربی کو تادیر قابل استعمال بنانے کے لیے ہائیڈروجن شامل کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ عمومی طور پر بازاری اشیاء جیسے کہ نمکین بسکٹس، بیکڈ اشیاء مفنیز اورپیکٹ میں دستیاب چپس میں پائی جاتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد قابل استعمال ہونے کی مدت کو بڑھانا ہوتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ عرصے تک اسے استعمال کیا جاسکے۔

آپ کو شاید یہ جان کر حیرانی ہوکہ فورڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن Food & Drug Administration کے قوانین میں ٹرانس فیٹس کو بین کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جوکہ توسیع پاچکا ہے۔ اس کے پیچھے کی کہانی ایسی خوراک تیار کرنے والوں کی جانب سے FDA کو دائر کردہ پٹیشن ہے جس کے نتیجے میں 2021ء تک ٹرانس فیٹس کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جہاں کچھ پروڈکٹس پر O ٹرانس درج ہوتا ہے تو ”O Trans Fats” کا مطلب آدھا گرام فیٹس کی موجودگی ہوتا ہے۔

یہاں ان ٹرانس فیٹس کا مسئلہ بڑھتے ہوئے پیٹ سے کچھ بڑھ کر ہے۔ جی ہاں کیونکہ اس سے نہ صرف موٹاپا پروان چڑھ رہا ہے بلکہ شوگر، دل اور دیگر جسمانی امراض بھی پیدا ہورہے ہیں۔ بندروں پر کی جانے والی ایک آٹھ برس کی تحقیق میں انہیں روزانہ 8 فیصد Trans Fats کھلائے گئے جس سے ان کی پیٹ کی چربی 33 فیصد تک اضافہ ہوا۔

کیونکہ ٹرانس فیٹس پگھل کر جسم کا حصہ نہیں بنتے اور جس جگہ رکتے ہیں ونہی پڑائو ڈال لیتے ہیں اس لیے یہ انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ صحت بخش فیٹس کے حصول کے لیے زیتون کا تیل، خوبانی کا تیل اور نباتاتی تیل استعمال کرنا چاہیے۔ کیونکہ ٹرانس فیٹس جسمانی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں جوکہ پکیجڈو فورڈز (Packeged Foods) ، پروسیڈ میٹ (Processed meat)، فل فیٹ ڈیری (Full Fat dairy)، کچھ ٹافیوں، کنولا تیل، انگور کے بیجوں کے تیل، سویا بین کے تیل، زعفران سوچ مکئی اور اومیگا میں پائے جاتے ہیں۔

-3بازاری چپس
مہنگے داموں فروخت ہونے والے ہوا سے بھرے شاپروں میں چند چپس کے دانے ہم بڑے شوق سے خریدتے اور کھاتے ہیں مگر ان کے نقصانات جانے بنا، پیٹ کی چربی بڑھانے میں سب سے بڑا ہاتھ نمک کا ہے جس سے جسم سے نمکیات کا اخراج نہیں ہوپاتا اور پانی جسم میں موجود رہنے سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے اور بہت سے افراد کو اپھارے کی بھی بھی شکایت ہوتی ہے۔

سن 2019ء میں امریکی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق گیس کی ایک بہت بڑی شکل اپھارہ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ 412 افراد پر کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بڑی وجہ جسم میں سوڈیم کی زیادہ مقدار سے اپھارہ کی شکایت ہے۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فائبر کی زیادہ مقدار بھی اپھارہ کا باعث بنتی ہے مگر سوڈیم (نمک) کی کم مقدار اس ضمن میں کارآمد ثابت ہوتی ہے۔

بازاری چپسوں میں بڑی مقدار میں نمک موجود ہوتا ہے اور پروسیڈ شدہ ٹرانس آئل فیٹس بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔ جس سے پیٹ کی چربی بڑھتی اور موٹاپا آتا ہے۔

-4چربی سے پاک خوراک کی حقیقت
اگر آپ کے ذہن میں خیال آرہا ہے کہ چربی سے پاک ”FatFree” کا لیبل رکھنے والی خوراک درحقیقت چربی سے پاک نہیں ہوتی تو آپ صحیح سمجھے ہیں۔ لوگ ایسی اشیاء یہ سمجھ کر خریدتے ہیں کہ اس سے وہ واقعی چربی سے پاک خوراک استعمال کررہے ہیں لیکن کھانے کے بعد بھی یوں ہی محسوس ہوتا ہے کہ ان میں ”Fats” موجود تھے۔ فورڈ سائنس کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر روم کا کہنا ہے کہ فیٹس کے حوالے سے سب سے بہترین زیتون کا تیل اور آڑو کا تیل ہے جوکہ جسم کو اتنی ہی انرجی پہنچاتا ہے۔ جتنی درکار ہوتی ہے لیکن لوگ غیر معیاری فیٹس کی مقدار لیتے ہیں جس کی وجہ سے موٹاپا جنم لے رہا ہے۔ فیٹس کے حوالے سے سب سے اہم امر یہ ہے کہ اس سے پیٹ بھرا رہتا ہے اور اتنی ہی انرجی ملتی ہے جتنی چاہیے ہو۔ لیکن فیٹ فری فورڈ کے حوالے سے یہ سوچنا چھوڑ دیں کے وہ آپ کے پیٹ پر رحم کرے گی۔

-5سوفٹ ڈرنکس اتنی بھی سوفٹ نہیں
ہم میں سے بہت سے لوگ سوفٹ ڈرنکس بڑے شوق سے پیتے ہیں مگر شاید اس کے نقصانات سے پوری طرح واقف نہیں۔ سوفٹ ڈرنکس نام کی حد تک ہی سافٹ ہیں۔ اگر ان کی تیاری کے مراحل کو دیکھا جائے یا ان کے کیمیائی اجزاء پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں موجود سوڈا جسم کے لیے بے حد نقصان دہ ہے۔ اس کا سب سے بڑا اثر معدے پر پڑتا ہے جس سے جلن، معدے کی تکلیف اور السر جنم لیتا ہے۔ مزید یہ کہ ان سوفٹ ڈرنکس میں شکر کی کافی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جوکہ وزن میں اضافے کا ایک اہم سبب ہے۔

-6زیادہ سونا مناسب امر نہیں
کچھ لوگوں کے خیال میں زیادہ دیر تک سونا اور آرام کرنا صحت کے لیے مفید ہے مگر یہ تاثر انتہائی غلط ہے۔ آپ نے وہ محاورا تو سن رکھا ہوگا ’’جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے‘‘ تو جناب خاطر جمع رکھیے زیادہ سونے والا انسان صرف اپنی صحت کو ہی نہیں کھوتا بلکہ اپنے قیمتی وقت کا بھی ضیاع کرتا ہے۔ بہت سی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ سونے سے وزن بڑھنے کے ساتھ پیٹ بھی بڑھتا ہے۔ 68,000 خواتین پر 16 برس میں کی گئی ایک طویل ریسرچ سے یہ حقائق سامنے آئی کہ وہ خواتین جو 5 گھنٹوں سے کم سوتی ہیں ان میں 7 گھنٹوں تک سونے والی خواتین کی نسبت 32 فیصد وزن میں اضافہ ہوا۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صرف زیادہ سونا ہی نہیں بلکہ کم سونا اور وقت پر نہ سونا بھی وزن میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ نیند میں خلل کا مرض بھی وزن میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے جس سے پیٹ کی چربی بڑھ سکتی ہے۔

-7ذہنی دبائو سے بچیں!
انسان کا ذہن زندگی کی علامت ہے۔ زندگی کا کوئی بھی میدان ہو اس میں ذہنی استعداد اہمیت رکھتی ہے۔ اگر ذہن دبائو کا شکار ہوگا تو اس کے اثرات تمام جسم پر ہی نہیں بلکہ باقی معاملات پر بھی پڑیں گے۔ انسانی جسم میں دبائو یعنی ”Stress” کو کنٹرول کرنے والا ایک ہارمون پایا جاتا ہے جیسے کوریٹیول کہتے ہیں جس کا بنیادی مقصد جسم میں تنائو کو قابو کرنا ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ ہارمون جہاں Stress کو کنٹرول کرتا ہے ونہی اس عمل کے دوران کیلوریز کو جسم میں قید کرتا ہے۔ جس کا مرکز پیٹ ہوتا ہے۔ وہ خواتین جن کمر کولہوں سے بھاری ہوتی ہے وہ دبائو کے وقت یہ ہامون عام خواتین کی نسبت زیادہ خارج کرتی ہیں۔ اس لیے ذہنی دبائو سے چھٹکارا پانا موٹاپے کو دور بھگانے کا آسان ترین حل ہے۔

-8کیک پیسٹری سے پرہیز
برتھ ڈے ہو یا کوئی بھی ڈے اب اسے منانے کے لیے کیک ایک لازمی جزو بن کر رہ گیا ہے۔ لیکن لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ کیک اور پیسٹریاں بھی ایک قسم کی پروسیڈ شدہ خوراک ہیں جن کو کچھ عرصے اور معیار کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور ان کی تیاری میں جو اجزاء درکار ہیں وہ بھی غذائیت سے بھرپور نہیں۔ سفید آٹا بیکنگ سوڈا جوکہ جسم میں انرجی لیول کو متحرک نہیں کرتے۔ نتیجتاً اس سے موٹاپہ اور صحت کے امراض جنم لیتے ہیں۔ حتیٰ الامکان کوشش یہ کرنی چاہیے کہ کیک اور پیٹسری کم سے کم کھائیں۔

-9تلی ہوئی اشیاء
مزیدار تلی ہوئی چیزوں کا خیال آتے ہی منہ میں پانی آتا فطری سی بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن ان کی کثرت سے ناصرف موٹاپا آتا ہے بلکہ بڑھے پیٹ کے تحفے کے ساتھ سینے کی جلن کا گفٹ بھی ملتا ہے۔ تلی ہوئی اشیاء جیسے کہ آلو کے چپس، سموسے، پکوڑے، نگٹس اور نجانے کیا کیا سب بالکل اسی طرح پیٹ میں ڈیرہ ڈالتے ہیں جیسے پروسیڈ گوشٹ، ایسی خوراک کو جسم میں حل ہونے میں بہت وقت لگتا ہے جس کا باعث ان میں موجود بھاری فیٹس ہوتے ہیں جوکہ پیٹ کی چربی میں اضافہ کرتے ہیں تو بہترین حل یہ ہے کہ حقیقت پسندی کی نظر سے دیکھا جائے تو تلی ہوئی اشیاء کو ہم چھوڑ نہیں سکتے مگر انہیں کم سے کم استعمال کرسکتے ہیں۔

-10پروسیس شدہ گوشت
گوشت اور گوشت سے بنی اشیاء سب شوق سے کھاتے ہیں۔ گو پروسیس شدہ گوشت ذائقے میں لذیز ہوتا ہے مگر اس میں موجود کیلوریز کی وافر مقدار صحت اور وزن دونوں کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ پروسیس شدہ گوشت ہے کیا؟ تو یہ ایسا گوشت ہوتا ہے جیسے مختلف طریقوں سے زیادہ وقت کے لیے محفوظ کرلیا جاتا ہے جیسے کے نمک لگا کر، ٹین میں رکھ کر، خشک یا سکھا کر یا پھر جلا کر لمبے عرصے تک محفوظ کیا جاتا ہے۔ یہ ناصرف معدے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے بلکہ امراض قلب اور فالج کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ایسے گوشت کو ہضم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ آنتوں میں جاکر ٹھہر جاتا ہے اور جسم میں حل ہونے میں وقت درکا ہوتا ہے۔ اس کی مثال پکے ہوئے گوشت کے ٹھنڈے کئے ہوئے ٹکڑے، فریز، قیمہ اور خاص طور پر فروزن میٹ ہے جو کہ ڈبوں میں رکھ کر بیچا جاتا ہے۔ ان میں کوئی بھی فائبر نہیں ہوتا۔ اس لیے انہیں ہضم کرنے میں وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

-11ورزش اور واک کو معمول بنائیں
صحت عطیہ خداوندی ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیـں۔ اور صحت مند رہنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کا خیال رکھا جائے۔ورزش صحت کے لئے بہت ضروری ہے، اس سے نا صرف جسم تندرست و توانا رہتا ہے بلکہ اضافی چربی بھی گھل جاتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ روزانہ ایک گھنٹہ واک انسان کی صحت کو متاثر کرنے والے امراض سے بچاتی ہے۔ اور وزن کو بڑھنے سے روکتی ہے۔

-12میٹھے پھلوں کو کم استعمال کریں
میٹھے میٹھے پھلوں کی لذت سب ہی کو مزہ دیتی ہے۔ مگر ان پھلوں میں پایا جانے والا شکر موٹاپے کا سبب بن سکتا ہے۔کچھ پھلوں جیسے کے سیب،آم، تربوز میں اس کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کے ان پھلوں کو استعمال نہ کیا جائے بلکہ اعتدال سے استعمال کرنا بہترین عمل ہے۔

-13پھلیاںاور خشک میوہ جات
پھلیاں اور خشک میوہ جات دل کے لئے افادیت بخش ہیں۔لیکن یہ گیس کا سبب بنتے ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق پھلیوں میں گیس پیدا کرنے کی اتنی ہی صلاحیت ہوتی ہے جتنی گوبھی اور براکلی میں ہوتی ہے جو کہ نتیجتاً موٹاپے کا باعث بنتی ہے۔ اور گیس کی وجہ بیکٹیریا کہ جسم میں حل نہ ہونا ہے۔پھلیوں اور میوہ جات کو اکٹھا کھانے سے اجتناب کرنا چاہئے۔

-14سلاد کھائیں
سلاد افادیت سے بھرپور غذا ہے۔ مگر دھیان رکھئے بازار سے ملنے والا سلاد بذاتِ خود پیٹ پہ چربی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ خاص طور پہ سلاد کی مائونیئز اور مختلف سوسز سے ہوئی ڈریسنگ اسے بھاری بناتی ہے۔ سلاد کی بہترین ڈریسنگ زیتون کا تیل ،سرکا اور مصالحہ جات ہیں۔ماہرین کے خیال میں سرخ مرچ، کالی مرچ، روز میری، لہسن پائوڈریا لیموں کا رس ہے جو سلاد کو منفرد ذائقہ بخشتے ہیں۔

The post موٹاپا ایک وبال: اسے آنے سے پہلے روکیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/30YvNq7

Friday, 24 January 2020

ہلدی بنی سونا: اب کھلاڑیوں اور ایتھلیٹ کے لیے بھی مفید قرار

کیمبرج: ہلدی کو مغرب میں اب پیار سے خالص سونا کا نام دیا جارہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں موجود جادوئی مرکب ’سرکیومن‘ بلڈ پریشر، کینسر، امراضِ قلب ، جوڑوں کے درد میں انتہائی مفید تصور کیا جاتا رہا ہے۔ اب تازہ خبر یہ ہے کہ کھلاڑیوں اور ایتھلیٹ کی صلاحیت بڑھانے میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں۔

لیکن اب بھی ایک سوال سب سے اہم ہے کہ سرکیومن جسم کے اندار آسانی سے جذب نہیں ہوتا۔ اسی بنا پر کیمبرج یونیورسٹی کے ممتاز ماہرین نے ٹرمرک سی فارمولہ بنایا ہے جو جسم کے اندر سرکیومن کو انجذاب کو 30 گنا بڑھاتا ہے۔ اس فارمولے میں وٹامن سی شامل کیا گیا ہے جو خون میں سرکیومن جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ٹرمرک سی سپلیمنٹ سی کو برطانیہ کے مجاز اداروں نے استعمال کی اجازت بھی دیدی ہے۔ برطانیہ میں لوگوں کی بڑی تعداد سرکیومن استعمال کررہی ہے جو ہلدی کی رنگت اور اسے جادوئی تاثیر دینے والا ایک اہم مرکب ہے۔ اس کا باقاعدہ استعمال جوڑوں کے گھساؤ اور ہڈیوں کی بریدگی کو روکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں ایتھلیٹ اسے استعمال کرر ہے ہیں۔

45 سالہ مارک وشارٹ دوڑنے کے شوقین ہیں اور میراتھن سے لے کر دوڑ کے ہر چھوٹے بڑے مقابلوں میں ضرور شریک ہوتے ہیں۔ وہ اپنی بہترین کارکردگی کے لیے سرکیومن سپلیمنٹ لے رہے اور انہوں نے غذا میں ہلدی کا استعمال بڑھادیا ہے۔

دوسری جانب ہلدی جسم کے اندر سوزش اور فاسد مادوں کو بھی ختم کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتی ہے۔ اگرچہ ہلدی صدیوں سے ایشیا میں استعمال ہوتی آرہی ہے لیکن حال میں یورپ اور امریکا میں تحقیق کے بعد اس کے زبردست فوائد سامنے آئے ہیں۔ اس کے بعد ہلدی کا استعمال طرزِ زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔

The post ہلدی بنی سونا: اب کھلاڑیوں اور ایتھلیٹ کے لیے بھی مفید قرار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2RqvTnx

کرونا وائرس ہے کیا؟ 10 بنیادی سوالات کے جوابات

 کراچی: چین میں کرونا وائرس کے انسانی حملے کے بعد دنیا بھر میں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ یہ وائرس انسانی سانس کے نظام پر حملہ آور ہوکر ہلاکت کی وجہ بن سکتا ہے اور اب تک دو درجن سے زائد افراد اس کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

کرونا وائرس کیا ہے؟

کرونا وائرس کی نصف درجن سے زائد اقسام دریافت ہوچکی ہیں۔ جب اسے خردبین کے ذریعے دیکھا گیا تو نیم گول وائرس کے کناروں پر ایسے ابھار نظرآتے ہیں جوعموما تاج (کراؤن) جیسی شکل بناتے ہیں۔ اسی بنا پر انہیں کرونا وائرس کا نام دیا گیا ہے کیونکہ لاطینی زبان میں تاج کو کرونا کہا جاتا ہے۔

اب بھی زیادہ تر جان دار مثلاً خنزیر اور مرغیاں ہی اس سے متاثر ہوتے دیکھی گئی ہیں لیکن یہ وائرس اپنی شکل بدل کر انسانوں کو متاثر کرسکتا ہے۔ 1960ء کے عشرے میں کرونا وائرس کا نام دنیا نے سنا اور اب تک اس کی کئی تبدیل شدہ اقسام ( مجموعی طور پر 13) سامنے آچکی ہیں جنہیں اپنی آسانی کے لیے کرونا وائرس کا ہی نام دیا گیا ہے تاہم ان کرونا وائرس کی 13 اقسام میں سے سات انسانوں میں منتقل ہوکر انہیں متاثر کرسکتی ہیں۔ اس سال چین کے شہر ووہان میں ہلاکت خیز وائرس کو nCoV 2019 کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ کرونا وائرس کی ایک بالکل نئی قسم ہے۔

کرونا وائرس کیسے حملہ کرتا ہے؟

واضح رہے کہ کرونا وائرس کی ذیلی اقسام میں سے انسانوں کے لیے تین ہلاکت خیز وائرسوں میں سے دو چین سے پھوٹے ہیں۔ اول، سیویئر ریسپریٹری سنڈروم (سارس) ، دوسرا مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) مشرقِ وسطیٰ سے اور اب تیسرا 2019 nCoV بھی چین کے شہر ووہان سے پھیلا ہے۔

ووہان وائرس سانس کی اوپری نالی پر حملہ کرتے ہوئے سانس کے نچلے نظام کو متاثر کرتا ہے اورجان لیوا نمونیا یا فلو کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس سے قبل 2003ء میں سارس وائرس سے چین میں 774 افراد ہلاک اور 8000 متاثر ہوئے تھے۔ مرس اس سے بھی زیادہ ہولناک تھا۔

نئے کرونا وائرس کی علامت بتایئے؟

چین میں لوگوں نے سردی لگنے، بخاراور کھانسی کی شکایت کی ہے۔ جن پر حملہ شدید ہوا انہوں نے سانس لینے میں دقت بیان کی ہے۔ صحت کے عالمی اداروں کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے کے دو روز سے دو ہفتے کے دوران اس کی ظاہری علامات سامنے آتی ہیں۔ اس کے بعد ضروری ہے کہ مریض کو الگ تھلگ ایک قرنطینہ میں رکھا جائے۔ اس وقت ووہان کے لوگوں نے کئی دنوں کا راشن جمع کرلیا ہے اور اکثریت باہر نکلنے سے گریزاں ہے۔

نئے کرونا وائرس کی تشخیص اور علاج کیسے ممکن ہے؟

چینی محکمہ صحت نے ووہان سے نمودار ہونے والے وائرس کا جینوم (جینیاتی ڈرافٹ) تیار کرکے اسے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ اب تک اس کی کوئی اینٹی وائرل دوا یا ویکسین سامنے نہیں آسکی ہے کیونکہ دسمبر 2019ء میں نیا وائرس سامنے آیا ہے اور ماہرین اس کی ظاہری علامات سے ہی اس کا علاج کررہے ہیں۔ اگرچہ چین کا دعویٰ ہے کہ وائرس سے متاثر ہونے والے 4 فیصد افراد ہی ہلاک ہوئے ہیں تاہم عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اس سے متاثرہ 25 فیصد مریض شدید بیمار ہیں۔

کیا  کرونا وائرس سانپ اور چمگاڈر سے پھیلا؟

دوروز قبل چینی سائنس دانوں نے جینیاتی تحقیق کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ پہلی مرتبہ کرونا وائرس کی کوئی نئی قسم سانپ سے پھیلی ہے جنہیں ووہان کے بازار میں زندہ چمگادڑوں کے ساتھ رکھا گیا تھا تاہم دیگر ماہرین نے یہ امکان رد کردیا ہے۔

دیگر ممالک کے ماہرین کا اصرار ہے کہ پہلے کی طرح یہ وائرس بھی ایسے جانوروں سے پھیلا ہے جو چینی بازاروں میں پھل اور سبزیوں کے پاس ہی زندہ فروخت کیے جاتے ہیں۔ لوگ ان سے متاثر ہوسکتے ہیں اور سارس بھی ایسے ہی پھیلا تھا۔ چینی ماہرین کا اصرار ہے کہ سانپ اور چمگاڈروں کا فضلہ ہوا میں پھیل کر سائنس کے ذریعے انسانوں میں اس وائرس کی وجہ بن سکتا ہے لیکن دوسرے ماہرین اس سے متفق نہیں۔

کیا یہ وائرس عالمگیر وبا بن سکتا ہے؟

ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز ماہرِ حیوانیات اور مصنف، ڈاکٹر صلاح الدین قادری نے بتایا کہ کسی بھی وائرس کو عالمی وبا بننے کے لیے چار چیزیں درکار ہوتی ہیں:

اول: وائرس کی نئی قسم ہو

دوم: حیوان سے انسان تک منتقل ہونے کی صلاحیت

سوم: انسان میں مرض پیدا کرنے کی صلاحیت

چہارم: انسان سے انسانوں تک بیماری پیدا کرنے کی استعداد

اس تناظر میں نئے کرونا وائرس میں یہ چاروں باتیں سامنے آچکی ہیں۔ ڈاکٹر سید صلاح الدین قادری نے بتایا کہ یہ وائرس بہت کم وقفے میں دنیا کے کئی ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس سے قبل سوائن فلو کی وبا صرف ایک ماہ میں کئی ممالک تک پھیل گئی تھی۔

کرونا وائرس پاکستان آسکتا ہے؟

اس سوال کا فوری جواب ہاں میں ہے۔ واضح رہے کہ چینی شہر ووہان کا یہ وائرس پہلے دیگر شہروں میں پھیلا ہے۔ اس کے بعد جاپان، تھائی لینڈ، سنگاپور اور امریکا میں اس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ پوری دنیا کے ہوائی اڈوں پر چینی مسافروں کی اسکیننگ کی جارہی ہے۔ ایک مریض برطانیہ میں بھی سامنے آیا ہے لیکن عالمی ادارے نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

پاکستانی ہوائی اڈوں پر بھی اسکیننگ کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ بڑی تعداد میں چینی ماہرین سی پیک اور دیگر منصوبوں کے لیے پاکستان آتے رہتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کی کڑی نگرانی اور اسکیننگ کی ضرورت ہے۔ صرف چین میں ہی ایک شخص سے کئی افراد متاثر ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

وزیرِ مملکت برائے صحت ظفرمرزا نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے پاس کرونا وائرس کی شناخت اور اسکریننگ کے مناسب انتظامات موجود نہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان کو مزید چوکنا ہونے کی ضرورت ہے۔

یہ وائرس کتنا مہلک ہے؟

اب تک چین میں 26 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں اور متاثرین کی تعداد 830 سے تجاوز کرچکی ہے۔ ووہان اور دیگر دس شہروں میں عوامی ٹرانسپورٹ بند ہے اور لوگ گھروں تک محصور ہوچکے ہیں۔ تاہم نئے قمری سال کی تقریبات پر لاکھوں کروڑوں لوگ باہر نکلتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔

چینی حکام نے کہا کہ وائرس سے شکار ہونے والے 4 فیصد افراد لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے کرونا وائرس کی ہلاکت خیز شدت کم ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں انفیکشن امراض کے ماہر ڈاکٹر مارک وول ہاؤس اس سے عدم اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شاید یہ اوسط درجے کے انفیکشن اور سارس کے درمیان کی شدت رکھتا ہے جس سے زائد اموات ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وائرس خود کو مزید تبدیل کرلے تو شاید زیادہ مہلک ہوسکتا ہے۔

کرونا وائرس سے کیسے بچا جائے؟

عالمی ادارہ صحت نے اس ضمن میں باتصویر ہدایات جاری کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے:

بار بار اچھے صابن سے ہاتھ دھویا جائے۔ سردی اور زکام کے مریضوں سے دور رہیں۔ کھانستے اور چھینکتے وقت منہ اور ناک ڈھانپیں۔ پالتو جانوروں سے دور رہیں۔ کھانا پکانے سے قبل اور بعد میں ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں۔ کھانا اچھی طرح پکائیں اور اسے کچا نہ رہنے دیا جائے۔ کسی کی بھی آنکھ ، چہرے اور منہ کو چھونے سے گریز کیجیے۔

ڈاکٹر قادری نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت نے جس طرح کی ہدایات دی ہیں وہ وضو سے پوری ہوجاتی ہے۔ اس طرح دن میں پانچ مرتبہ وضو کرنا ہر طرح کی انفیکشن سے بچاؤ  میں بہت معاون ثابت ہوتا ہے۔

پاکستان سے چین جانے والوں کے لیے کیا ہدایات ہیں؟

اقوامِ متحدہ نے چین کے لیے ایسی کوئی ہنگامی صورتحال کا اعلان نہیں کیا تاہم کہا ہے کہ وہ عمومی احتیاط اختیار کریں اور اپنی سفری تاریخ سے حکام کو آگاہ کریں۔ دوسری جانب جہاں ضروری ہو اسکیننگ کے عمل سے گزار جائے۔

The post کرونا وائرس ہے کیا؟ 10 بنیادی سوالات کے جوابات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2GhaqXA

پانچ اخروٹ روزانہ، رکھیں پیٹ اور دل کو توانا!

پنسلوانیا: یہ بات شاید آپ بھی جانتے ہوں کہ اخروٹ اور اس قسم کے دیگر خشک میوہ جات میں ایسے اجزاء ہوتے ہیں جو دماغ کو تقویت پہنچاتے ہیں، لیکن اب سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ روزانہ صرف 2 سے 3 اونس (5 سے 6) اخروٹ کھانے سے دل کو بھی افاقہ ہوتا ہے جبکہ آنتوں اور پیٹ کی حالت بھی اچھی رہتی ہے۔

پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کالج آف ہیلتھ کے ماہرین نے اس سے پہلے ایک مطالعے میں دل اور بلڈ پریشر کے حوالے سے اخروٹ کے فوائد دریافت کیے تھے۔ اب اسی ٹیم نے اخروٹ پر تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ روزانہ اخروٹ کھانے سے ہمارے پیٹ، یعنی نظامِ ہاضمہ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

پروٹین، صحت بخش روغنیات، کیلشیم اور آئرن کے معاملے میں اخروٹ خاصے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ ان میں الفا لینولینک ایسڈ بھی وافر ہوتا ہے، جو دراصل اومیگا تھری فیٹی ایسڈ ہی کی وہ قسم ہے جو پودوں میں پائی جاتی ہے؛ اور جو دماغ کو اومیگا تھری ہی کی طرح فائدہ پہنچاتی ہے۔

تازہ مطالعہ ایسے 42 افراد پر کیا گیا جو یا تو زائد الوزن (اوور ویٹ) تھے یا پھر موٹے ہوچکے تھے جبکہ ان کی عمر 30 سے 65 سال تک تھی۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والے مطالعے میں معلوم ہوا کہ خون کی رگوں اور دماغ کو فائدہ پہنچانے کے علاوہ، اخروٹ کے اجزاء ہماری آنتوں اور پیٹ میں پائے جانے والے مفید جرثوموں (بیکٹیریا) کی تعداد بڑھاتے ہیں جس سے آنتوں اور پیٹ کی صحت بہتر ہوتی ہے جبکہ غذا کے ہضم ہونے (میٹابولزم) پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیقی مجلے ’’دی جرنل آف نیوٹریشن‘‘ کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر روزانہ اوسط وزن والے صرف چار سے پانچ اخروٹ بھی پابندی سے کھائے جائیں تو اس سے جہاں نظامِ دورانِ خون، رگوں اور دل کو فائدہ پہنچے گا، وہیں نظامِ ہاضمہ بھی بہتر ہوگا جس سے صحت کے دوسرے کئی فوائد حاصل ہوں گے۔

The post پانچ اخروٹ روزانہ، رکھیں پیٹ اور دل کو توانا! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2RSratQ

Medical News Today: Could a probiotic prevent or reverse Parkinson's?

Scientists recently tested probiotics in a roundworm model of Parkinson’s. A particular bacterium had a protective effect and improved symptoms.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/30LgEIG

Thursday, 23 January 2020

فکر اور ذہنی تناؤ سے بال سفید ہونے کا معما حل

ہارورڈ: اگر آپ کہتے ہیں کہ فکریں اور پریشانیوں نے سر سفید کردیا ہے تو یہ درست ہے اور اب اس کی سائنسی وجوہ بھی معلوم ہوچکی ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ مسلسل پریشانی سے بال سفید ہوسکتے ہیں۔ سفید بالوں کے مساموں کی گہرائی میں موجود اسٹیم سیل میں قدرتی رنگ (پِگمنٹ) بنانے کی صلاحیت بتدریج ختم ہوجاتی ہے بالوں کو سیاہ بنانے کا عمل بالکل رک جاتا ہے۔

اس سے قبل کسی صدمے، شدید دکھ اور پریشانی سے بھی بال سفید ہوسکتے ہیں بلکہ یہ عمل ہفتوں اور مہینوں میں بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنس داں یا چی سو نے کہا کہ ذہنی تناؤ اور پریشانیاں جلد اور بالوں کو شدید متاثر کرتی ہیں۔

ماہرین نے چوہوں پر کیے گئے تجربات سے ثابت کیا کہ اسٹریس کی کیفیت میں بالوں کے مساموں کے اندر موجود اسٹیم سیل سیاہ رنگت (پگمنٹ) بنانا بالکل بند کردیتے ہیں اور یوں بال تیزی سے سفید ہوتے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افراد میں بالوں کی سفیدی قدرے تیزی سے نمودار ہوتی ہے۔

پروفیسر یاچی سو نے کہا کہ ذہنی دباؤ جسم پر برے اثرات مرتب کرتا ہے لیکن ہم نے بالوں کی سفیدی کے درمیان اس کا تعلق واضح کیا ہے۔ چوہوں میں دیکھا گیا کہ جیسے جیسے ان میں تناؤ بڑھا ویسے ویسے اسٹیم سیل نے بالوں کے لیے گہرا رنگ بنانا ختم کردی۔ اس کے بعد بال سفید ہوگئے اور یوں ہمیشہ کے لیے ان کا رنگ تبدیل ہوگیا۔

اسی ٹیم نے بتایا کہ شدید دباؤ کی صورت میں سمپیتھٹک نروس سسٹم (ایس این ایس) ایک نیورو ٹرانسمیٹر نوریپانیفرائن خارج کرتا ہے جس سے اسٹیم سیل کی تعداد ایک مقام سے حرکت پذیر ہوکر بالوں کے مساموں کے سوراخوں میں جمع ہوجاتی ہے اور اس سے بالوں کی سفیدی کا براہِ راست تعلق واضح ہوتا ہے۔

The post فکر اور ذہنی تناؤ سے بال سفید ہونے کا معما حل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3aFAARK

کم خرچ اور طویل عرصے تک محفوظ رہنے والی ویکسین بنانے کا نیا طریقہ

میکسیکو سٹی: میکسیکو سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے ویکسین بنانے کی ایک ایسی نئی تکنیک ایجاد کرلی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے کم خرچ ویکسین تیار کی جاسکے گی جو عام درجہ حرارت پر لمبے عرصے تک محفوظ بھی رہ سکے گی۔

اس وقت ویکسینز کے ساتھ دوسرے گوناگوں مسائل کے علاوہ ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ انہیں بہت ہی سرد ماحول میں محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔ اگر ان کی ٹھنڈک کم ہوجائے یا ان میں اضافی گرمی داخل ہوجائے تو ویکسین بھی چند دن سے لے کر صرف چند مہینوں ہی میں اپنی افادیت سے محروم ہوجاتی ہے جس کا استعمال فائدے کے بجائے نقصان کی وجہ بن سکتا ہے۔ ویکسین کا مہنگا ہونا اپنی جگہ ایک اور حل طلب معاملہ ہے۔

ایک اندازے کےمطابق، ویکسین کی مجموعی لاگت کا 80 فیصد حصہ صرف اسے ٹھنڈا رکھنے کے انتظامات پر صرف ہوتا ہے۔ یعنی اگر کسی طرح یہ خرچہ کم ہوجائے تو 1000 روپے والی ویکسین کی قیمت کم کرکے 200 روپے تک لائی جاسکے گی۔

ان تمام مسائل کو ایک ساتھ حل کرتے ہوئے میکسیکو کی نیشنل آٹونومس یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ فار سیلولر فزیالوجی کے ماہرین نے ویکسین سازی کا ایک نیا طریقہ ایجاد کیا ہے جو بہت اچھوتا بھی ہے۔

انہوں نے وہ حکمتِ عملی اختیار کی جسے کیڑے مکوڑوں پر حملہ وائرس استعمال کرتے ہیں اور کھلے ماحول میں ایک لمبے عرصے تک اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وائرس ’’پولی ہیڈرین‘‘ نامی ایک پروٹین استعمال کرتے ہیں جو ناموافق حالات درپیش ہونے پر وائرس کے گرد ایک قلم (کرسٹل) تشکیل دے دیتی ہے جو اسے موسم کی سختیوں سے بچاتی ہے۔

یہ پروٹین اتنی سخت جان ہوتی ہے کہ اگر برسوں تک حالات موافق نہ ہوں، تب بھی یہ وائرس کو تباہ ہونے نہیں دیتی۔ اپنی تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ پولی ہیڈرین پروٹین کے پہلے 110 امائنو ایسڈز میں وائرس کے گرد حفاظتی کرسٹل بنانے کی مکمل صلاحیت ہوتی ہے۔ یعنی اگر اس پروٹین کو ویکسینز کا حصہ بنادیا جائے تو وہ لمبے عرصے تک، انتہائی سرد ماحول میں رکھے بغیر ہی، محفوظ رہ سکیں گی۔

چوہوں پر کیے گئے تجربات کے دوران معلوم ہوا کہ پولی ہیڈرین کے 110 امائنو ایسڈز والی زنجیر کو جب ویکسین مالیکیولز سے جوڑا گیا تو ویکسین کی اثر پذیری بڑھ گئی اور اس کی کم مقدار ہی نے امیون سسٹم کو زیادہ مضبوط بنایا۔ دوسری جانب یہ ویکسین ایک سال تک عام درجہ حرارت پر رکھی گئی؛ اور اس کے بعد جب چوہوں کو دوبارہ وہی ویکسین استعمال کرائی گئی تو اس کی افادیت جوں کی توں رہی۔

واضح رہے کہ عام طور پر ویکسین کی وجہ سے ہمارے جسم کے قدرتی دفاعی نظام (امیون سسٹم) میں بیماری کے خلاف پیدا ہونے والا ردِعمل خاصا کمزور ہوتا ہے جسے مضبوط بنانے کےلیے ویکسین کے ساتھ کچھ اضافی اجزاء بھی شامل کرنے پڑتے ہیں۔ پولی ہیڈرین کی بدولت یہ ضرورت بھی نہیں رہے گی۔

فی الحال یہ تکنیک ابتدائی مرحلے پر ہے جسے انسانی آزمائش کے مختلف مراحل سے گزرنے کےلیے عالمی منظوری درکار ہوگی تاہم اس کی افادیت کے پیشِ نظر، یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اس تکنیک کو انسانی آزمائشوں اور دیگر مراحل کےلیے جلد ہی منظوری مل جائے گی۔

اس تحقیق کے نتائج ریسرچ جرنل ’’بی ایم سی بایوٹیکنالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

The post کم خرچ اور طویل عرصے تک محفوظ رہنے والی ویکسین بنانے کا نیا طریقہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2RljLE8

Wednesday, 22 January 2020

چھٹی والے دن دیر سے ناشتہ… وزن بڑھنے کی ایک اور وجہ

میکسیکو / بارسلونا: وزن بڑھنا اور موٹاپا آج عالمی مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ اب میکسیکو اور اسپین کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ وزن بڑھنے کی ایک وجہ چھٹی کے روز دیر سے ناشتہ کرنا بھی ہے۔

یہ مطالعہ، جس کے نتائج ریسرچ جرنل ’’نیوٹریئنٹس‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں، اسپین اور میکسیکو میں یونیورسٹی کے 1106 طالب علموں پر کیا گیا جس میں ان کے ناشتے، دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے وقت کا جائزہ لیا گیا۔

اس پہلو پر خاص نظر رکھی گئی کہ وہ طالب علم کام کے دنوں میں اور ہفتہ وار چھٹی (ہفتہ اور اتوار) کے روز کتنے بجے ناشتہ، ظہرانہ اور عشائیہ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، مطالعے میں یہ بھی جانچا گیا کہ وہ کتنے بجے سوتے ہیں، کتنے بجے جاگتے ہیں، کیا کھاتے ہیں، کتنی دیر تک کھاتے ہیں، عموماً کتنا پیدل چلتے ہیں، اور ورزش کرتے بھی ہیں یا نہیں۔ مطالعے میں شریک تمام طلبہ کا وزن بھی احتیاط سے نوٹ کیا گیا۔

سروے فارمز کے ذریعے عام دنوں میں اور ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران طالب علموں کے غذائی معمولات اور اوقات کے بارے میں معلومات جمع کی گئیں۔

ان تمام معلومات کا تجزیہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ طالب علم جو چھٹی والے روز، عام دنوں کی نسبت زیادہ دیر سے ناشتہ کرتے ہیں ان کا وزن جلدی ناشتہ کرنے والے طالب علموں کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ جو طالب علم چھٹی والے دن (دوسرے دنوں کی نسبت) تین گھنٹے تاخیر سے ناشتہ کرتے تھے، یعنی ’’بریک فاسٹ اور لنچ‘‘ کو ملا کر ’’برنچ‘‘ کرنے کے عادی تھے، ان کا باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) وقت پر ناشتہ کرنے والوں کے مقابلے میں 1.3 یونٹ زیادہ تھا۔

اسے ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کسی کا قد 5 فٹ 7 انچ ہو جبکہ وہ 70 کلوگرام وزنی ہو، اور وہ اپنا وزن تقریباً 3.75 کلوگرام (پونے چار کلوگرام) کم کرلے تو اس کا بی ایم آئی 1.3 یونٹ کم تصور کیا جائے گا۔

یہ بات واضح طور پر مشاہدے میں آئی کہ چھٹی والے دن ہر کھانا ہی معمول کے مقابلے میں کچھ دیر سے کھایا جاتا ہے لیکن صبح کا ناشتہ سب سے زیادہ تاخیر کا شکار ہوتا ہے۔

مطلب یہ کہ ہفتے میں صرف ایک سے دو دن ہونے والی یہ تاخیر اگر ’’ہفتہ وار عادت‘‘ بن جائے تو ہمارے وزن میں اضافے کی وجہ بن جاتی ہے، چاہے ہم کتنا ہی صحت بخش کھانا کھائیں، اور خوب پیدل چلنے والے یا باقاعدگی سے ورزش کرنے والے ہی کیوں نہ ہوں۔

اگرچہ بدلتی شفٹوں میں کام کرنے والے ملازمین کے مطالعے میں یہ بات پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ جن لوگوں کو بار بار کھانے کے اوقات میں تبدیلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ دوسروں کے مقابلے میں موٹے ہونے لگتے ہیں لیکن یہ پہلی بار ہے جب غذائی معمولات میں تھوڑے سے ردّ و بدل کے بھی نمایاں اثرات سامنے آئے ہیں۔

The post چھٹی والے دن دیر سے ناشتہ… وزن بڑھنے کی ایک اور وجہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3aEL2cu

Medical News Today: Catnip: What do we know about the feline drug?

Catnip is the most famous stimulant for cats. How does it work, why does it not affect all cats, and are there any catnip alternatives? We investigate.

from Featured Health News from Medical News Today https://ift.tt/3avUiiS

شاندار صحت مند زندگی کے لئے روزانہ کیا کھانا چاہئے؟

ہما ری جسمانی نشو ونما کا دارو مدار ہماری خوراک پر ہوتا ہے۔ ہم جس قدرمتوازن اور غذائیت سے بھر پور غذا کا انتخاب کریں گے اسی قدر ہمارا جسم زیادہ توا نا،صحت مند اور مضبوط ہوگا۔

جسم کی توانائی اور صحت مندی کا تمام تر انحصار قوتِ مدافعت پر ہوتا ہے۔ قوتِ مدافعت کی مضبوطی اور توانائی کا دارومدار عمدہ اور متوازن غذا پر ہوتا ہے۔ غذائیت سے بھرپور خوراک کا ذریعہ چند ایسے بنیادی غذائی اجزاء ہیں جو جسم کی تعمیر و تشکیل اورنشو ونما کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔

ان اجزاء میں وٹامنز، اے، بی، سی، ڈی، ای اور پروٹینز، نشاستہ، چکنائیاں، زنک، فولاد، کیلشیم، میگنیشیم، فاسفورس، پوٹاشیم،آیو ڈین، کلورین، گندھک ،آکسیجن اور سوڈیم وغیر ہ شامل ہیں۔ ان غذا ئی اجزاء کی موجودگی ہمارے بدن میں بیماریوں کے خلاف جنگ کرنے والی صلاحیت یعنی قوتِ مدافعت کو پروان چڑھاتی ہے۔ قوتِ مدافعت کی مضبوطی بدن کو صحت اور توانائی مہیا کرتی ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مکمل غذا ہی ہمیں مکمل صحت فراہم کرسکتی ہے۔یہ اجزاء ہم اپنی کھائی جانے والی خوراک سے حاصل کرتے ہیں۔ جسمِ انسانی کے لیے ضروری غذائی اجزا کی تفصیل درج ذیل ہے:

وٹامن اے: ہمارے جسم کا بنیادی اور لازمی عنصر مانا جاتا ہے، یہ غذا کو جْزوِ بدن بنانے میں کلیدی کردار کا حامل ہوتا ہے۔ یہ بدنِ انسانی کی قْوتِ مْدافعت کو بڑھاتا ،قبل از وقت بڑھاپے سے بچاتا اور چہرے کو جھریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ روزانہ خوراک میں اس کی مطلوبہ مقدار کا استعمال جسم کو تن ودرست و توانا، چہرے کو ترو تازہ اور آنکھوں کو بینا رکھتا ہے۔ بدن کی نشو ونما، قد کی بڑھوتری اور ہڈیوں کی مضبوطی میں بھی وٹامن اے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ بیماریوں کے خلاف بدنِ انسانی کی قوتِ مدافعت میں اضافے کا باعث بھی یہی غذائی عنصر بنتا ہے۔

وبائی اور چھوتی امراض کے حملوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ روزانہ کی خوراک میں اس کی مطلوبہ مقدار میں کمی واقع ہونے سے بینائی کی کمزوری، ہڈیوں کی کجی اور امراض کے حملوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ وٹامن اے کی موجودگی سے جلد نرم و ملائم، شفاف اور چمکیلی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ ہمیں انتڑیوں کے من جملہ امراض سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ یہ حیوانی غذاؤں جیسے دودھ، دہی، پنیر، مکھن،بالائی،دیسی گھی،مچھلی،انڈے کی زردی اور چربی والے گوشت کے علاوہ تمام غلوں میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ سبزیوں میں سے ٹماٹر، پالک، میتھی، سبز دھنیا، بند گوبھی اور آلو میں اس کی مخصوص مقدار ہوتی ہے۔ پھلوں میں سنگترہ ، مالٹا، لیموں، انناس اور آم میںکافی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

وٹامن بی: بھی انسانی صحت و تن درستی کو قائم رکھنے اور بحال کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ ہمارے اعصابی نظام کو متحرک رکھنے میں اس کا بڑا اہم کردار مانا جاتا ہے۔ دل و دماغ اور اعضاء کو مضبوطی فراہم کرنے میں بھی اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔ یہ نظامِ انہضام کو برقرار رکھنے اور صحت و تازگی وبدنی نشو ونما میں بہترین مددگار ثابت ہوتا ہے۔جسمِ انسانی میں اس کی کمی رونما ہونے سے دل اور اعصاب بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ ذہنی تناؤ اور اعصابی دباؤ جیسے عوارض سر اْٹھا کر جینا دو بھرکردیتے ہیں۔ وٹامن بی کے فطری حصول کے لیے گندم، مکئی،دالیں،ان دھلے چاول، کلیجی، انڈے کی زردی،اور دودھ کی مصنوعات تواتر سے استعمال کی جانی چاہئیں۔ یہ تمام ترکاریوں، سبزیوں اور پھلوں میں بھی کافی مقدار میںپایا جاتا ہے۔

وٹامن سی: طبی ماہرین نے وٹامن سی کو انسانی جسم کے لیے بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ یہ آنکھوں، دانتوں ،مسوڑھوں اور جلدی امراض سے بدنِ انسانی کی قدرتی طور سے حفاظت کرتا ہے۔ خون کی کمی اور عام جسمانی کمزوری کو رفع کرنے میں بھی بہت اہم کردار کا حامل ہے۔ اس کی کمی یا خوراک میں عدم شمولیت ہڈیوں،دانتوں ،مسوڑھوں اور جلدی امراض کا باعث بنتی ہے۔

دھیان رہے کہ وٹامن سی کا سب سے بڑا ذریعہ پھل،سبزیاں اور ترکاریاں ہوتی ہیں لیکن یہ ازحد لطیف اور نر م ونازک ہو تے ہیں ،سبزیوں اور ترکاریوں کو رگڑ رگڑ کر دھونے ،پکانے اور بھوننے وغیرہ سے ان کے ضائع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ممکنہ حد تک پھل چھلکوں سمیت اور سبزیاں کچی کھائی جائیں ۔یہ سلاد، گاجر، مولی، شلجم، ٹماٹر،پیاز، کھیرا، پالک،بند گوبھی، چقندر، آملہ، سیب، پپیتا، انگور، لیموں،آم،سنگترہ اور انناس میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ وٹا من سی دودھ اور گوشت میں نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

وٹامن ڈی: انسانی جسم کی تعمیر میں بنیادی اہمیت کا حامل عنصر ہے۔ یہ ہڈیوں کی ساخت اور بڑھوتری کے لیے لازمی ہے۔ دانتوں کی مضبوطی اور حفاظت کے لیے بھی ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ اس کی غذا میں کمی ہونے سے ہڈیوں اور دانتوں کے کئی ایک مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ یہ دودھ، مکھن،گھی، پنیر اور انڈے کی زردی میں کثیر مقدار میں پایا جاتا ہے۔علاوہ ازیں گاجر، مولی، ٹماٹراور بکری کے دودھ میں بھی وٹامن ڈی کی بہتات ہوتی ہے۔ روغنِ زیتون، سرسوں کے تیل اور دیسی گھی کو دھوپ میں رکھ کر استعمال کیا جائے تو یہ بھی قدرتی طور پر وٹامن ڈی فراہم کرتے ہیں۔ موسمِ سرما کی دھوپ میں بیٹھنا اور مالش کروانا بھی اس غذائی جز کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے۔ یاد رکھیے کہ مچھلی کا تیل وٹامن ڈی کا سب سے بڑا اور قدرتی ماخذ ہے۔

وٹا من ای: بھی ہماری غذا کا بنیادی اور لازمی جزو ہے ۔ یہ انسانی نسل کو بڑھانے کے لیے مرد و عورت دونوں کے لیے مفید اور ضروری ہے۔یہ جسم کی خوبصورتی اور مضبوطی میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ بڑھاپے کے اثراتِ بد سے بچانے اور جوانی بحال رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ گندم، باجرا، جو،چنا،دالوں(چھلکوں سمیت) انڈے کی کچی زردی، مچھلی، گوشت، گردے، دہی، پالک، گاجر، بنولہ، سویا بین، پستہ، بادام،چلغوزہ، روغنِ زیتون، مچھلی کے تیل اور تلوں کے تیل میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔

پرو ٹین عضلات اور جسم کی دوسری بافتوں کی بہتری کے لیے ایک لازمی جْز ہے۔ یہ بھی مذکورہ بالا غذاؤں میں ہی پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح نشاستہ بھی انسانی جسم کی توانائی اور حرارت کے لیے بنیادی اور ضروری عنصر ہے۔

اس کے ماخذ اور ذرائع بھی اوپر تحریر کی گئی غذاؤں میں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔کیلشیم اور فاسفورس کو دماغی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیئے خاص نسبت دی جاتی ہے۔ انسانی جسم کی تعمیر میں کیلشیم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔کیلشیم ہڈیوں اور دانتوںکی بناوٹ اور مضبوطی میں مدد کرتا ہے۔یہ اعصابی فعل،پٹھوں کی تعمیر اور خون کے انجماد میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔یہ انسانی دماغ میں قوتِ برداشت،مضبوط یاد داشت،کام کرنے کی ہمت اور طاقت پیدا کرتا ہے۔ پالک،شلجم،مٹر،باتھو، لال چولائی،سلاد،بند گوبھی،دودھ،بالائی،دہی مکھن،چھاچھ، انڈا،بادام،پستہ اور اخروٹ میں قدرتی طور پر کیلشیم کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔

فولاددماغی چستی کو قائم رکھنے اور اکتاہٹ دور کرنے میں اہمیت کا حامل ہے۔انسان کو چڑ چڑے پن سے نجات دلاتا ہے۔ خوف، بزدلی اور کاہلی کے احساس سے بچا تا ہے۔دالیں،سرخ مولی، ساگ، سبز پتوں والی سبزیاں،پالک،سویا بین، گاجر،کدو انڈے کی زردی،گوشت،کلیجی اسٹابری، خوبانی، کیلا، انجیر، بادام اور کھجور فولاد حاصل کرنے کے قدرتی ذرائع مانے جاتے ہیں۔ انسانی جسم کی تعمیر میں میگنیشیم کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے۔ میگنیشیم پٹھوں کو طاقت دیتا ہے۔ دماغ اور اعصاب کی پر ورش کرتا ہے۔ فاسفورس اور کیلشیم کے ساتھ مل کر ہڈیوں، دانتوں اور کھوپڑی کو مضبوط کرتا ہے۔ مزاج سے تلخی اور تراوش کو ختم کرتا ہے۔انجیر، پالک،انگور،آلو بخارا سنگترہ،رس بھری،گھٹااور ٹماٹر میگنیشیم کے حصول کے فطری ماخذ ہیں۔

گندھک بھی انسانی جسم کے لیے لازمی عنصر ہے۔ یہ بالوں کی نشو ونما کے لیئے ضروری جْز وہے۔دماغی تھکان،اکساہٹ اور سستی کو دور کرتی ہے۔ فاسفورس کے اثرات کو تا دیر قائم رکھنے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر انسانی جسم میں گندھک کی کمی واقع ہونے لگے تو فاسفورس کے اثرات میں بھی کمی پیدا ہونے لگتی ہے۔ مولی لہسن، پیاز، بند گوبھی اور پھول گوبھی گندھک حا صل کرنے کے قدرتی ذرائع ہیں۔

آیو ڈین جسم کے سب سے بڑے غدود تھائیرائڈ کی کارکردگی کا لازمی جزو ہے تھائیرائڈ کی تمام تر کارکردگی کا انحصار آئیوڈین پر ہی ہوتا ہے۔ دماغی صلاحیتوں میں اضا فے، ذہانت اور حافظہ میں زیادتی اور نت نئے آئیڈیاز کی تخلیق کا باعث بنتی ہے۔انسانی قد کی بڑھوتری کا دارو مدار بھی آیوڈین پر ہو تا ہے۔بالوں کی نشو ونما اور سیاہ رنگت کو قائم رکھتی ہے۔سمندری مچھلی، چائنا گراس،انناس پتے والی گوبھی، لہسن، بکری کا دودھ آیو ڈین کے بہترین ذرائع ہیں۔

کلو رین کی کمی افسردگی اور چڑچڑاپن پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ ٹماٹر، بکری کا دودھ اور گوشت،گاجر، پالک،پیاز،بند گوبھی اور مولی کلو رین کے حصول کے قدرتی ذرائع ہیں۔ سوڈیم انسانی جسم میں پائی جانے والی غیر ضروری ترشی کو ختم کرنے کے لیے لازمی جز وہے۔ بدنِ انسانی میں پائے جانے والے امرض میں سے50 فیصد تک تیزابی مادوں کی زیادتی سے پیدا ہوتے ہیں۔ سوڈیم اعصاب کو مضبوطی فراہم کرتا ہے۔اعضاء کو توانا اورطاقتور بناتا ہے۔جوڑوں کو مختلف بیماریوںکے حملوں سے بچاتا ہے۔ گاجر، کھیرا، سیب پالک،انجیر، میٹھا،آلو بخارا، چقندر، مولی اور اسٹابری وغیرہ سوڈیم کے قدرتی ذرائع ہیں۔

پوٹاشیم اعصاب اور کندھوں کو مضبوط اور توانا کرتا ہے۔آکسیجن کو جزوِ بدن بنا کر دماغ میں طاقت وتوانائی پیدا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔اس کی کمی سے دماغی صلاحیتوں میں کمی واقع ہوکر کئی ایک نفسیاتی و ذہنی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔پوٹاشیم کریلا،، سونف،سوئے،پالک،مولی،شلجم،گاجر ٹماٹر انار، آلو اور تربوز میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ فاسفورس ہمارے جسم میں پروٹین کے ساتھ مل کر جسمانی خلیات میں پائی جاتی ہے۔ دماغ اور اعصاب کی مخصوص رطوبات میں اس کی موجودگی لازمی ہوتی ہے۔خون میں نمکیات کی شکل میں شامل رہتی ہے۔ ہڈیوں اور دانتوں کی نشو ونما میں بھی اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ بوڑھے افراد میں فاسفورس کی اور بھی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ چاول، باجرہ، دالیں،شکر، مربہ جات، ساگو دانہ،آم اور گاجر میں فاسفورس کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔

قارئین!اگر ہم اپنی غذا منتخب کرتے وقت اپنی بدنی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر خوراک ترتیب دیں تو وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ خاطر خواہ حد تک امراض سے محفوظ اور تن درست وتوانا زندگی سے لطف اٹھانے والے بن سکتے ہیں۔

The post شاندار صحت مند زندگی کے لئے روزانہ کیا کھانا چاہئے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/38yhTOc

گھر کی آلودہ فضا کو خوشگوار کیسے بنائیں؟

دنیا میں آلودہ ہوا کے نتیجے میں ہر برس 70 لاکھ اموات ہوتی ہیں اور اس صورتحال سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

صحت مند فضا میں سانس لینے کے آسان طریقوں کی مدد سے دس میں سے نو افراد مختلف بیماریوں سے بچ سکتے ہیں جن میں فالج،پھیپھڑوں کا کینسر اور سانس کی بیماریاں شامل ہیں۔

آلودگی کے خورد بینی ذرّات ہمارے اطراف ہمیشہ رہتے ہیں اور ہمیں نقصان پہنچاتے رہتے ہیں خاص کر اگر آپ گھر کے اندر ہوں۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی امریکی ایجنسی کی ایک تحقیق کے مطابق اکثر اوقات گھروں کے اندر آلودگی باہر کے برعکس دو سے پانچ گنا زیادہ ہوتی ہے۔

ایئر لیبز میں چیف سائنس آفیسر میتھیو ایس جونسن کے مطابق گھر کے اندر فضا میں اتنی کی آلودگی ہوتی ہے جتنی کے باہر لیکن اس کے ساتھ گھر کے اندر دیگر آلودہ عناصر بھی شامل ہو جاتے ہیں جس میں مکان کی تعمیر میں استعمال ہونے والا مواد، کھانا پکانا اور صفائی کے لیے استمعال ہونے والی اشیا شامل ہیں۔ خوش قسمتی سے چند ایسی چیزیں ہیں جن کی مدد سے آپ گھر کے اندر کی فضا کو صحت مند بنا سکتے ہیں۔ آپ کو ایسی پانچ تراکیب بتاتے ہیں جن کی مدد سے آپ ایسا کر سکتے ہیں:

1۔ ہوا کی کی نکاسی کے راستے

گھر میں تازہ ہوا کے داخلے کے لیے نامناسب راستوں کے نتیجے میں آلودہ ہوا گھر کے اندر ہی ٹک جاتی ہے۔انڈیا کے انرجی اینڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ سے منسلک آر سوریش کا کہنا ہے کہ گھر میں تازہ ہوا کے لیے دن میں ایک بار تقریباً کھڑکیوں اور دروازوں کو دو سے تین بار کھولیں۔

اگر آپ کو کسی قسم کی الرجی نہیں اور باہر موسم زیادہ شدید نہیں ہے تو اس صورتحال میں گھر کے اندر ہوا کی نکاسی کے نظام کو استعمال کر سکتے ہیں جس میں فلٹر لگے ایئر کنڈیشنگ سسٹم شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اگر آپ کھانا پکا رہے ہیں یا نہا رہے ہیں تو اس صورت میں ہوا باہر نکالنے والے فین کا استعمال کریں تاکہ مضر صحت ذرّات اور ضرورت سے زیادہ نم ہوا کو باہر نکلا جا سکے۔

2۔گھر کے اندر پودے رکھیں

اگر آپ ہوا صاف کرنے والے مہنگے فلٹرز کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تو اس صورت میں آپ گھر کے اندر پودوں کو رکھ سکتے ہیں۔ آر سریش کے مطابق بعض پودے ہوا کے مضرصحت اجزا کو صاف کر سکتے ہیں اور یہ گھر کے اندر کی فضا میں آلودگی کے لیے ایک موثر ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔

اگرچہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظریے کے کوئی تحقیقاتی شواہد نہیں ہیں تو چلیں کم از کم یہ آپ کے لیے خوشگوار احساس کا باعث تو بنتے ہیں تو اگر آپ گھر کے اندر پودے رکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو درج ذیل میں دیے گئے چند پودوں سے آپ یہ شروع کر سکتے ہیں۔

منی پلانٹ: اس پودے کو اگانا اور دیکھ بھال کرنا آسان ہوتا ہے اور یہ قالین اور روغن سے نکلنے والے مضرِ صحت کیمیکلز کو فضا سے ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ڈریگن ٹری: یہ درخت مشرقی افریقہ میں پایا جاتا ہے اور اسے گھروں اور دفاتر میں آرائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ درخت بھی مضرِ صحت کیمیکلز کو فضا سے ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

سنیک پلانٹ: اس پودے کو زیادہ پانی دینے کی ضرورت خاص کر سردیوں کے موسم میں۔ یہ پودہ رات کے وقت کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتا ہے۔

آر سریش کے مطابق آپ جو کوئی بھی پودا گھر میں رکھیں اس میں سب اہم بات ذہن میں رکھنے والی یہ ہے کہ یہ پودے قدرتی طور پر فضا کو صاف کرتے ہیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں صحت مند رکھا جائے کیونکہ دوسری صورت میں ہوا میں بائیولوجیکل آلودگی پھیلانا شروع کر دیں گے۔

3۔ ماحول دوست طریقے سے بو کا خاتمہ

تعمیراتی سامان میں استعمال ہونے والے مواد کے بارے میں جاتنے ہیں اور مصنوعی خوشبو سے جب بھی اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں مزید کیمیلز کا اخراج ہوتا ہے یعنی کے ہوا کے حساب سے اپنا ردعمل دیتے ہیں اور ممکنہ طور پر خطرناک کاٹ ٹیل بناتے ہیں۔مثال کے طور پر گھروں میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والا ایسا سامان یا آلات جو ماحول دوست نہیں ہوتے اور ان کے استعمال سے فارمل ڈی ہائیڈ کیمیکل کا اخراج کر سکتے ہیں جس کا تعلق کینسر جیسے مرض سے ہوتا ہے۔

4۔آپ کیا کر سکتے ہیں؟

تو آپ کو کرنا یہ ہے کہ کپڑوں کی دھلائی کے لیے ایسی مصنوعات کا استعمال کریں جن میں خوشبو نہیں ہوتی ہے اور اس کے ساتھ پریشر سے نکلنے والے سپرے کا استعمال ترک کر دیں جس میں قالین کو صاف کرنے اور ہوا سے بو ختم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے سپرے بھی شامل ہیں۔

اگر بات کچن کی جائے تو آر سریش کے خیال میں باس کو ختم کرنے کے لیے لیموں کے ٹکڑے اور بیکنگ سوڈے کا استعمال کیا جائے۔

گھر کے اندر سگریٹ نوشی سے اجتناب

سگریٹ نوشی بذاتِ خود نقصان دہ ہے اور گھر میں کی جائے تو بے حد نقصان ہوتی ہے۔

گھر میں اجتماعی سگریٹ نوشی کا اندر کی فضا پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں اور خاص کر اگر ہوا کی نکاسی کا انتظام غیر مناسب ہو۔سگریٹ کا دھواں قریب میں دوسروں کے لیے بے حد نقصان دے ہو ہوتا ہے اور یہ انھیں خطرناک بیماریوں سے دوچار کر سکتا ہے۔اگر گھر میں نوازئیدہ بچے ہوں تو سگریٹ نوشی کے نتیجے میں ان کی اچانک موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

5۔الرجی سے نجات حاصل کریں

پولن اور مٹی کے ذرّے کے نتیجے میں بیمار ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور خاص کر اگر آپ کو سانس کی بیماری، پولن الرجی اور دیگر اقسام کی الرجی ہیں۔ ہوا میں نمی کے تناسب سے یہ ہوا میں یہ تیزی سے پھیلتی ہیں اور ان لوگوں کو متاثر کر سکتی ہیں جن کو پیپھڑوں کی بیماری لاحق ہو سکتی ہے تو اس صوتحال میں آپ کر سکتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق آسان طریقوں سے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں جن میں اپنے بستر کو باقاعدگی سے صاف کریں۔

اپنے قالین کو صاف کریں اور اس میں کوشش کریں کہ ماحول دوست ویکیوم کا استعمال کریں۔

اپنے کپڑوں کو کھڑکی کے قریب خشک کریں۔ داخلی دروازے پر میٹ ڈالیں تاکہ باہر سے آلودگی اندر نہ آئے اور ہوا سے اضافی نمی صاف کرنے والے آلے کا استعمال کریں۔

The post گھر کی آلودہ فضا کو خوشگوار کیسے بنائیں؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/37qxlMg

اچھی اور گہری نیند کیسے؟

ہم اکثر کم سونے پر فخر کرتے ہیں اور کم سونے کو اپنے زیادہ مصروف ہونے کا پیمانہ قرار دیتے ہیں۔

تھامس ایڈیسن، مارگریٹ تھیچر، مارتھا سٹیورٹ اور ڈونلڈ ٹرمپ سب کا دعویٰ ہے کہ وہ رات کو صرف چار سے پانچ گھنٹے سوتے ہیں۔ انڈیا کے موجودہ وزیرِ اعظم کے حوالے سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ روزانہ تقریباً 18 سے 20 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ ماہرین کی عمومی رائے یہ ہے کہ بالغ افراد کو روزانہ سات سے نو گھنٹے سونا چاہیے لیکن ایک تہائی امریکی بالغ افراد کو باقاعدگی سے مناسب نیند نہیں آتی ہے۔

کم سونے کے صحت پر بہت مضر اثرات ہیں جن میں یادداشت کی کمی، فیصلے کرنے کی صلاحیت میں کمی، انفیکشن اور موٹاپے میں اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔ عام طور پر لوگ ان خطرات کو جانتے ہیں لیکن انھیں نظر انداز کرتے ہیں۔ جب بھی ہمیں کسی کام کے لیے اضافی وقت درکار ہوتا ہے تو پہلی قربانی نیند کی ہوتی ہے۔

کیا ہو گا کہ اگر ہم کم وقت میں گہری نیند کے زیادہ فوائد حاصل کر سکیں؟

دنیا بھر کے تجربات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ رات کو گہری نیند میں جانے اور دماغ کی استعداد دونوں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

دھیمی لہریں، گہری نیند

عام راتوں میں دماغ نیند کے کئی مراحل سے گزرتا ہے۔ ہر مرحلے میں دماغ کی لہروں کا ایک خاص پیٹرن ہوتا ہے جس میں نیوران ایک ساتھ ایک لے پر متحرک ہوتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے کوئی ہجوم اکٹھے گانا گا رہا ہو یا ایک ساتھ ڈھول بجا رہا ہو۔آنکھوں کی تیز رفتار حرکت (آر ای ایم) کے دوران یہ لے کافی تیز ہوتی ہے۔ اس وقت خواب دیکھنے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ایک موقع پر ہماری آنکھوں کی پتلیوں کی رفتار رک جاتی ہے، خواب غائب ہو جاتے ہیں اور دماغ کی لہروں کی لے ایک بیٹ فی سیکنڈ میں کم ہو جاتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب ہم گہری نیند میں چلے جاتے ہیں۔ اس لاشعوری حالت کو ’سلوویوز‘ یا سست رفتار لہر والی نیند کہتے ہیں۔

یہ وہ مرحلہ ہے جس میں سائنس دان نیند کے بہترین استعمال کے لیے دلچسپی رکھتے ہیں۔ سنہ 1980ء کی دہائی سے جاری تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دماغ کی بحالی کے لیے سلوویو والی نیند آنا ضروری ہے۔ اسی وقت دماغ قلیل مدتی یادوں کو طویل المیعاد ذخائر میں بھیجتا ہے تاکہ ہم نے جو کچھ سیکھا ہے اسے فراموش نہ کریں۔

جرمنی کی ٹیوبنگن یونیورسٹی میں میڈیکل سائیکالوجی اینڈ بیہیورل نیوروبیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جان بورن کا کہنا ہے کہ ’معلومات کی ترسیل سست لہریں کرتی ہیں۔‘ یہ لہریں دماغ میں خون اور دماغی شریانوں کے بہاؤ کو متحرک کر سکتی ہیں اور اس سے اعصاب کے لیے نقصان دہ ملبے کو باہر کیا جاتا ہے۔ یہ لہریں تناؤ پیدا کرنے والے کورٹیسول ہارمون کو کم کرتی ہیں اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اس طرح کے نتائج نے سائنس دانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ آیا ہم ان چھوٹی موٹی لہروں کی پیداوار میں اضافہ کر کے نیند کے فوائد میں اضافہ کر سکتے ہیں؟

ایسا کرنے کی سب سے معتبر تکنیک دماغ کی صحیح لے کو شمار کرنے والے میٹرنوم کی طرح کام کرتی ہے۔ تجربے کے شرکا ایک ہیڈ سیٹ پہنتے ہیں جو ان کے دماغ کی حرکت کو ریکارڈ کرتا ہے اور پتا چلتا ہے کہ سست لہریں کب بننا شروع ہوئیں۔ پھر یہ آلہ دماغ کی قدرتی طور پر سست رفتار لہروں کے ساتھ وقفے وقفے سے اسی سے ملتے جلتے میٹھے سْر بجاتا ہے۔ یہ آوازیں اتنی آہستہ ہیں کہ ان سے نیند متاثر نہیں ہوتی لیکن یہ اتنی تیز ضرور ہوتی ہیں کہ دماغ انھیں لاشعوری حالت میں بھی ریکارڈ کر لیتا ہے۔

بورن نے اس طرح کے کئی تجربات کیے ہیں۔ انھیں معلوم ہوا کہ یہ میٹھی آوازیں دماغ کی لے کو تقویت دینے کے لیے کافی ہیں۔ یہ آوازیں سلوویو نیند کو مزید گہرا کرتی ہیں۔ ہیڈ سیٹ پہننے والے شرکا نے میموری ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انھیں ایک دن پہلے سنی ہوئی باتیں بھی یاد رہیں۔ ان کے ہارمون کا توازن بھی بہتر ہوا، کورٹیسول کی سطح میں کمی آئی اور مدافعتی ردعمل میں بہتری آئی۔ ابھی تک ہونے والے تجربے میں شرکا نے کسی ناپسندیدہ ردعمل کی اطلاع نہیں دی ہے۔ بورن کا کہنا ہے کہ ’ہم پوری طرح مطمئن نہیں لیکن ابھی تک کوئی واضح مضر اثرات نظر نہیں آئے۔‘

بہتر نیند لینے والی مشینیں

گہری نیند کو فروغ دینے والے زیادہ تر تجربات نوجوانوں اور صحت مند افراد کے ایک چھوٹے سے گروپ پر کیے گئے ہیں۔ اس کے فوائد کے بارے میں مستند رائے دیے جانے سے پہلے مختلف گروہوں پر بڑے پیمانے پر تجربے کی ضرورت ہے۔ موجودہ شواہد کی بنیاد پر اس تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے رات کو پہننے والے کچھ ہیڈ بینڈز بنائے گئے ہیں۔

فرانسیسی سٹارٹ اپ کمپنی ڈریم کے ہیڈ بینڈ کی قیمت تقریبا 330 پاؤنڈ ہے۔ اس میں آواز کے محرک استعمال سے گہری نیند میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ یہ ہیڈ بینڈ ایک ایسی ایپ سے بھی جڑتا ہے جو نیند کے نمونوں کا تجزیہ کرتا ہے اور اچھی نیند کے لیے عملی مشورے فراہم کرتا ہے۔اس میں توجہ اور سانس لینے کی مشقیں شامل ہیں تاکہ آپ رات کو جلد سو جائیں اور رات میں نیند کم متاثر ہو تاکہ پوری رات اچھی نیند آئے۔ فلپس کمپنی نے نیند کی کمی کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لیے سمارٹ نیند یا گہری نیند کا ہیڈ بینڈ تیار کیا ہے۔

فلپس کے چیف سائنٹفک افسر ڈیوڈ وائٹ کے مطابق ان کا ہیڈ بینڈ ان لوگوں کے لیے ہے جو کسی بھی وجہ سے کافی نیند نہیں لے رہے ہیں۔ ڈریم کے ہیڈ بینڈ کی طرح فلپس نے بھی سنہ 2018 میں اپنا پہلا ہیڈ بینڈ لانچ کیا۔ یہ دماغ کی برقی حرکتوں کا احساس کرتا ہے اور باقاعدہ وقفوں سے کچھ میٹھی آوازوں کا اخراج کرتا ہے جو ایسی ہی لہریں پیدا کرتا ہے جو گہری نیند کی خصوصیت ہے۔ یہ ایک ایسے سمارٹ سافٹ ویئر پر مبنی ہے جو مختلف لوگوں کے لیے آواز کی شدت کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ ہیڈ بینڈ امریکہ میں 399 ڈالر میں دستیاب ہے۔ وائٹ نے اعتراف کیا ہے کہ یہ آلات رات کی نیند کا مکمل متبادل نہیں، لیکن نیند سے محروم لوگوں کی مدد ضرور کر رہے ہیں۔

یادداشت کم ہونے کے خراب اثرات

نیند کی کمی کے شکار افراد میں یہ مشینیں یادداشت کی کمی جیسے ذیلی اثرات کو بھی کم کرتا ہے۔ مونٹریال کی کونکورڈیا یونیورسٹی کی آرور پیرالٹ نے ایک راکنگ بستر کا تجربہ کیا ہے جو ہر چار سیکنڈ میں آہستہ آہستہ آگے پیچھے جھولتا ہے۔ یہ تکنیک ان کے ایک ساتھی کے نومولود بچے کو سلانے سے لی گئی ہے۔ ان کی ٹیم سوچ رہی تھی کہ کیا بالغ افراد بھی جھولوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انھوں نے پایا کہ شرکا جلد ہی گہری نیند میں چلے گئے اور زیادہ دیر اسی حالت میں رہے کیونکہ دماغ کی لہریں بیرونی رفتار کے ساتھ مطابقت پذیر تھیں۔

رات بھر سونے کے بعد وہ تناؤ سے پاک محسوس کر رہے تھے۔ اس سے ان کی یاد اور سیکھنے کی صلاحیت پر بھی اچھے اثرات پڑے۔ اگر اس قسم کی چارپائی مارکیٹ میں آ جاتی ہے تو پھر یہ آواز کو متحرک کرنے والے ہیڈ بینڈ جیسے مقصد کو پورا کرے گی۔ پیرالٹ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا یہ بوڑھے لوگوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ بڑھتی عمر کے ساتھ گہری نیند کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے جو یادداشت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ پیرالٹ کو امید ہے کہ جھولنے والی چارپائی اس سے نمٹنے کا ایک طریقہ ہو سکتی ہے۔

کچھ دیر تو سوئیں!

یہ شعبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن ان سٹڈیز سے پتا چلتا ہے کہ ہماری نیند کو بڑھانے کے لیے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ پیرالٹ اور بورن دونوں صوتی محرک کا استعمال کرتے ہوئے سست لہریں پیدا کرنے والی اشیا کے متعلق پر امید ہیں۔

پیرالٹ کا خیال ہے کہ تجربہ گاہ سے باہر کے حالات میں مزید جانچ کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ کیا ایسی نیند بھی طویل مدتی فوائد فراہم کر سکتی ہے؟

طویل عرصے تک نیند کی کمی سے ذیابیطس اور الزائمر جیسی بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا نئی ٹیکنالوجی ان خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی یا نہیں۔

اب تک طویل مدتی اور قلیل مدتی یعنی ہر طرح کے فوائد حاصل کرنے کا صرف ایک ہی گارنٹی والا راستہ ہے اور وہ ہے پوری نیند لینا۔

چاہے آپ یہ ڈیوائسز خریدیں یا نہ خریدیں، آپ کو رات کے وقت جلدی سونے کی کوشش کرنی چاہیے، کیفین کی مقدار کم کرنا چاہیے اور سونے سے پہلے سکرین سے دور رہنا چاہیے۔

ہمارا دماغ بغیر آرام کے کام نہیں کر سکتا۔ خوشحال، صحت مند اور مفید زندگی گزارنے کے خواہشمند حضرات کو یہ بات بخوبی سمجھ لینی چاہیے۔

The post اچھی اور گہری نیند کیسے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2RiLSng

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن:  چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا م...