Tuesday, 31 March 2020

خوشبو سے پرانی یادیں بحال ہوسکتی ہیں، ماہرین

بوسٹن: اعصابی ماہرین نے چوہوں پر کی گئی ایک حالیہ تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ خوشبو سے نہ صرف ہماری یادداشت کا عمل تبدیل ہوسکتا ہے بلکہ اس سے پرانی اور بھولی بسری یادیں بھی ایک بار پھر تازہ ہو سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ اس بارے میں ایک مفروضہ برسوں سے موجود ہے جو یہ کہتا ہے کہ خوشبو کی بدولت پرانی یادیں تازہ اور بحال ہوسکتی ہیں۔ تاہم اس بارے میں کوئی تجرباتی ثبوت موجود نہیں تھا۔

ماہرین اب تک یہ جان چکے ہیں کہ دماغ کا ایک حصہ ’’ہپوکیمپس‘‘ نئی یادداشتیں بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ یادیں جب تک ہپوکیمپس میں ہوتی ہیں، تب تک جزئیات سے بھرپور اور ایک طرح سے ’’رنگ برنگی‘‘ ہوتی ہیں۔

البتہ، کچھ وقت گزرنے کے بعد، یہ یادداشتیں دماغ کے اگلے حصے ’’پری فرنٹل کورٹیکس‘‘ میں منتقل ہوجاتی ہیں جہاں ان پر بالعموم سوتے دوران کام ہوتا ہے۔ اس عمل سے گزرنے کے بعد یادداشتیں ہمارے ذہن میں پختہ تو ہوجاتی ہیں لیکن وہ اپنی رنگینی اور جزئیات سے محروم ہوجاتی ہیں۔

اسی طرح اگر ہپوکیمپس بھی متاثر ہوجائے تو یادداشت متاثر ہوتی ہے، جیسا کہ الزائیمر بیماری کے مریضوں میں اکثر دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا خوشبو سے اس کیفیت کا ازالہ ہوسکتا ہے؟ اور اگر ہوسکتا ہے تو خوشبو ہمارے دماغ پر کس طرح اثرانداز ہوتی ہے۔

بوسٹن یونیورسٹی میں دماغی و اعصابی ماہرین نے یہ جاننے کےلیے چوہوں پر تجربات کا فیصلہ کیا۔

ان تجربات کے دوران چوہوں کو ہلکے پھلکے اور بے ضرر قسم کے برقی جھٹکے دیئے گئے جن سے ان کی یادداشت متاثر ہوئی۔ اس کے بعد آدھے چوہوں کو باداموں کی خوشبو سنگھائی گئی جبکہ باقی کے نصف چوہوں کو یونہی چھوڑ دیا گیا۔

اگلے روز، اور پھر مزید بیس روز گزرنے کے بعد جب ان چوہوں میں ہپوکیمپس کی سرگرمی کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ جن چوہوں کو بادام کی خوشبو سنگھائی گئی تھی، ان میں ہپوکیمپس اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہا تھا۔ تاہم، جن چوہوں نے ایسی کوئی خوشبو نہیں سونگھی تھی، ان کے ہپوکیمپس کی کاردگی مسلسل متاثر رہی تھی۔

ماہرین یہ تو نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ اس تحقیق سے ان لوگوں کو فائدہ ہوگا جو الزائیمر، ڈیمنشیا یا کسی دماغی و اعصابی صدمے کی وجہ سے یادداشت کی خرابی کا شکار ہیں۔

اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’لرننگ اینڈ میموری‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

The post خوشبو سے پرانی یادیں بحال ہوسکتی ہیں، ماہرین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Jy8rj6

Monday, 30 March 2020

کورونا وائرس سے بچاؤ

غذا ہمارے جسم کی صحت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے غذا کے بنیادی کاموں میں سب سے اہم کام جسم کو توانائی فراہم کرنا ہے جو اندرونی اعضاء کی کارکردگی اور روزمرّہ کے کاموں کے لیے درکار ہوتی ہے اس کے علاوہ غذا جسم کی نشوونما اور روزانہ کی بنیاد پر جسم میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتی ہے غذا کی مدد سے جسم ایسا مدافعتی نظام قائم کرتا ہے جو اس کو ہر قسم کے بیرونی دشمنوں کے حملے سے محفوظ رکھتا ہے۔

وبائی اور متعدی امراض سے بچنے کے لیے سب سے پہلے متوازن غذا کا استعمال ضروری ہے۔ متوازن غذا سے مراد ایسی غذا ہے جس میں تمام ضروری غذائی اجزاء مثلاً نشاستہ، لحمیات، حیاتین، معدنیات اور چکنائی متوازن مقدار میں موجود ہوں۔ ہماری غذا کا سب سے زیادہ حصّہ نشاستہ (کاربوہاڈریٹ) پر مشتمل ہونا چاہیے مثلاً اناج اور اناج سے بنی اشیاء، پھل اور سبزیاں، نشاستہ کی مقدار غذا میں اتنی شامل کی جائے کہ وہ ہمارے جسم کی روزانہ کی توانائی کی ضرورت کا پچاس سے اٹھاون فیصد مہّیا کرے، لحمیات یعنی پروٹین مثلاً گوشت، مرغی مچھلی، دودھ، پنیر اور انڈوں سے اکیس سے اکیاون فیصد توانائی حاصل ہونی چاہیے اور تیس فیصد توانائی چکنائی سے حاصل ہونی چاہیے جس میں گھی، تیل، مکھن، ملائی، مارجرین اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔ متوازن غذا ہر قسم کے ضروری غذائی اجزاء مہیّا کرتی ہے جس سے جسم کے تمام افعال مناسب طریقے سے انجام پاتے ہیں۔ یوں جسم میں ہر قسم کے وبائی امراض سے لڑنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

نشاستہ (کاربوہائی ڈریٹ)

جسم کے لیے توانائی کا بنیادی ذریعہ نشاستہ ہے۔ یہ توانائی جسم کی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتی ہے۔ ساتھ ہی مدافعتی نظام کے افعال کے لیے توانائی مہیّا کرتا نشاستہ دو طر ح کا ہوتا ہے ایک وہ جو مکمل طور پر اپنے بنیادی اجزاء یعنی گلوکوز میں تبدیل ہوکر خون میں شامل ہوجاتا ہے اور توانائی فراہم کرتا ہے، جب کہ دوسری قسم کا نشاستہ جسم میں غیرہاضم ہوتا ہے۔ نشاستہ یعنی کاربوہائی ڈریٹ کی وہ اقسام جو جسم میں جذب نہیں ہوتیں ریشہ (فائبر) مہیّا کرتی ہیں۔ یہ ریشہ نظامِ ہاضمہ کی روزانہ صفائی کرتا ہے اور اسے تندرست رکھنے کے لیے بے حد ضروری ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق حل پذیر ریشہ جراثیم سے ہونے والے انفیکشن سے جلد بہتری کا باعث بنتا ہے اور جسم میں انفیکشن سے لڑنے والے ٹی۔سیل کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ دالیں، مکمل اناج (بھوسی سمیت) ، رسیلے پھل، بیری اور السی کے بیج حل پذیر ریشے کے حصول کے بہترین ذرایع ہیں۔

لحمیات (پروٹین)

ہمارا جسم کھربوں خلیوں سے بنا ہے اور ہر خلیہ لحمیات (پروٹین) سے بنا ہے۔ ان خلیوں کی صحت اور مدافعتی صلاحیت پروٹین ہی کی بدولت مضبوط رہتی ہے۔ یہ ہی نہیں جسم میں موجود تمام انزائم، ہارمونز ، اینٹی باڈیز، اور خون کے دفاعی خلیات سب پروٹین سے بنے ہیں جسم کے مدافعتی نظام کو حفاظتی ٹیکوں (ویکسین) کے ذریعے مضبوط بنایا جاتا ہے جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اگر جسم میں ناکافی پروٹین ہو تو کسی بھی ویکسین کے نتیجے میں جسم میں اینٹی باڈیز نہیں بنتی اور حفاظتی ٹیکوں (ویکسین) کے استعمال کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ یعنی حفاظتی ٹیکے لگانے کے باوجود بیماری ہونے کے امکانات باقی رہتے ہیں۔ اس کی مثال ہمارے ملک میں سندھ کے ضلع تھر کے نحیف اور لاغر بچوں کی ہے جن کو حکومت کی جانب سے مفت حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں مگر پھر بھی تھر میں خسرہ وبا کی صورت اختیار کرجاتی ہے اور بڑی تعداد میں بچوں کی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ محض ادویات جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط نہیں کر سکتیں اگر جسم میں مناسب مقدار میں غذائیت موجود نہ ہو تو ویکسین کے استعمال کے مثبت نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔

متوازن غذا میں اعلیٰ معیار کی پروٹین نہایت اہمیت کی حامل ہے اعلیٰ معیار کی پروٹین وہ کہلاتی ہے جو جسم کو زیادہ مقدار میں ضروری امینو تراشے مہیّا کرے یعنی زیادہ تعمیری مواد مہیّا کرے، انڈے، گوشت (گائے، بکرا، دنبہ وغیرہ)، مرغی، مچھلی، دودھ، پنیر، دودھ سے بنی غذائیں اور دالیں، پھلیاں اعلیٰ معیار کی پروٹین مہیّا کرتی ہیں۔

پروٹین کے بعد دیگر غذائی اجزا کا بھی ذکر ہو جائے ہمارا سب سے بڑا دفاعی عضّو ہماری جلد ہے جلد مضبوط اور محفوظ ہو تو بیرونی عناصر جسم پر حملہ نہیں کرپاتے۔ جلد کی صحت اور مضبوطی پروٹین کے ساتھ ساتھ دیگر غذائی اجزاء پر بھی منحصر ہے جن میں حیاتین (وٹامن) مثلاً وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن ای اور وٹامن بی کمپلیکس سرِفہرست ہیں۔

حیاتین (وٹامن)
وٹامن اے

وٹامن اے جلد کی صحت وتندرستی کا ضامن ہے اور مدافعتی نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے گاجر، پالک، رسیلے پھل، پنیر، انڈے، مچھلی مرغی ، دودھ اور کلیجی وٹامن اے کے حصول کے بہترین ذرائع ہیں۔

وٹامن سی

وٹامن سی جلد کے خلیات کو جوڑنے ولا مادہ جو سیمنٹ کی طرح کا کام کرتا ہے اور یوں جلد کو مضبوط مدافعتی ڈھال بناتا ہے جسم کی اندرونی جھلیاں مثلاً ناک حلق اور پھیپھڑوں کی اندرونی جھلیاں بھی اس کی مدد سے مضبوط و مستحکم رہتی ہیں رسیلے پھل مثلاً موسمی، مالٹے ، کینو، میٹھا ، سنترہ، چکوترہ، لیموں ان کے علاوہ اسٹرابیری ، ہری مرچ ، مٹر، مولی وٹامن سی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

وٹامن ای

وٹامن ای جسم کے خلیات کو زہریلے اجزاء (Free redicals) کے حملے محفوظ رکھتا ہے جبکہ مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے جسم میں داخل ہونے والے بیکٹیریا اور وائرس سے مقابلے کی طاقت فراہم کرتا ہے۔ خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کے صحت مند مدافعتی نظام کے لیے بے حد مفید ہے گوشت، مکئی، کدّو کے بیج ، خشک میوہ جات اور دودھ اور اس سے تیار غذائیں اس کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔

وٹامن ڈی

جہاں وٹامن ڈی کے اور بہت سے افعال ہیں وہاں زکام کے خلاف مدافعت صلاحیت پیدا کرنا ہے تنفّس کے نظام میں ہونے والے انفیکشن اور فلو کے امکانات کو کم کرتا ہے اس کی کمی مدافعتی نظام کو کم زور کرتی ہے جس سے بیماریوں کے حملے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں وٹامن ڈی سورج کی بالائے بنفشی شعاؤں کی مدد سے جسم خود بھی تیار کرسکتا ہے مگر جدید شہری طرز رہائش مطلوبہ مقدار میں سورج کی روشنی جسم تک نہیں پہنچنے دیتا۔ یہی و جہ ہے کہ گرم ملک میں رہنے کے باوجود ہماری شہری آبادی کی ایک بڑی تعداد میں لوگ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں۔ غذا سے بھی وٹامن ڈی حاصل کیا جاسکتا ہے مگر اس کی مقدار خاطرخواہ نہیں ہوتی مکھن، انڈے کی زردی، مچھلی دیگر سمندری خوراک اور آلو کچھ مقدار میں وٹامن ڈی مہیّا کرتے ہیں۔ وٹامن کے علاوہ  معدنیات کے گروہ میں سے زنک، کاپر اور آئیوڈین نہایت اہم ہیں۔

زنک

جدید تحقیق کے مطابق زنک کو نزلہ زکام کے علاج کے لیے بہت مفید و معاون پایا گیا زنک کی چوسنے والی گولیاں (lozenges) کے استعمال سے نزلہ زکام کے زور میں کمی پائی گئی یہ نہ صرف انفیکشن سے مقابلے میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ زخموں کو بھی جلد مندمل کرتا ہے گوشت، دالیں، خشک میوہ جات، مکمل اناج، دودھ اور انڈے زنک کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں۔

پانی

ایک اور اہم عنصر پانی ہے گو کہ پانی کو غذائیت میں شامل نہیں کیا جاتا مگر تمام غذائی اجزاء کے انہضام اور انجذاب میں پانی بنیادی حیثیت رکھتا ہے جلد کو صحت مند رکھنے میں پانی کا بہت اہم کردار ہے۔ یہ ہی نہیں پانی جسم سے فاضل اور زہریلے مادے خارج کرنے کا اہم کام کرتا ہے، اگر یہ فاضل اور زہریلے مادّے جسم سے مناسب طریقے سے خارج نہ ہوں تو جسم کا مدافعتی نظام شدید متاثر ہوتا ہے پانی دودھ، جوس، کھیرا، خربوزہ اور رسیلے پھلوں کے استعمال سے بھی حاصل ہوتا ہے۔

تناؤ (اسٹریس)

ایک اور بڑا محّرک جو ہمارے مدافعتی نظام کو کم زور کرتا ہے وہ ہے تناؤ یعنی اسٹریس ہے۔ اسٹریس جلد کی صحت کو متاثر کرتا ہے جس سے اس کی حفاظت کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے اور دیگر مدافعتی نظام میں معاون اعضاء کو بھی کم زور کر بناتا ہے اسٹریس بیماریوں کو نہ صرف دعوت دیتا ہے بلکہ اگر کوئی مرض پہلے سے موجود ہو تو تناؤ اس کو مزید پیچیدہ بناتا ہے تناؤ کم کرنے کی ادویات لی جا سکتیں ہیں مگر بے ضرر قدرتی طریقوں سے تناؤ کم کرنا زیادہ دیرپا اور مؤثر ہے مثلاً ہلکی پھلکی ورزش، باغبانی، تعمیری اور فلاحی کام وغیرہ صحت پر مثبت اثرات ڈالتے ہیں۔ پرسکون نیند بھی صحت کے لیے بے حد ضروری ہے یہ نہ صرف تناؤ کو کم کرتی ہے بلکہ جسم کی روزانہ کی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کے لیے وقت فراہم کرتی ہے۔

عمر اور مدافعت

عمر کے ساتھ ساتھ جسم کا مدافعتی نظام کم زور ہوتا جاتا ہے چوںکہ بڑھاپے میں ذیابطیس، بلڈ پریشر، جوڑوں اور ہڈیوں کے امرض اور دیگر اعصابی امراض لاحق ہوجاتے ہیں۔ اس لیے کم زور اور عمررسیدہ افراد زیادہ وبائی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہماری زیادہ توجہ اور زیادہ دیکھ بھال کے مستحق ہیں جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ بوڑھا اور بچہ برابر ہوتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ مدافعتی نظام کا بھی معاملہ ہے جس طرح بوڑھوں کا مدافعتی نظام کم زور ہوتا ہے ایسے ہی بچوں کا بھی مدافعتی نظام کم زور ہوتا ہے بچوں کی غذا کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے، کیوں کہ بچوں میں انفیکشن ان کی نشوونما کو روک دیتا ہے اور غذائی کمی میں مبتلا کر دیتا ہے اور غذائی کمی امدفعتی نظام کو کم زور کر دیتی ہے ہر انفیکشن مدافعتی نظام کو مزید کمزور کرتا ہے اور کمزور مدافعتی نظام ایک نئے انفیکشن کو دعوت دیتا ہے یوں ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

مدافعتی نظام کو کمزور کرنے والے عناصر

غذا کے ساتھ کچھ ایسے عناصر بھی جسم میں داخل ہو جاتے ہیں جو جسم کے مدافعتی نظام کو کم زور کرتے ہیں اور Inflamation سوجن اور جلنے کی سی تکلیف میں اضافہ کرتے ہیں۔ مثلاً غذا میں لگنے والی پھپوندی سے پیدا ہونے والے Mycotoxins زہریلے مادّے ہیں ڈبل روٹی، پھلوں، سبزیوں اور فریج میں رکھے کھانوں میں اکثر پھپوندی لگ جاتی ہے۔ اگر کسی غذا پر پھپوندی لگی ہو تو ہم صرف متاثرہ حصّہ الگ کرکے وہ غذا استعمال کرلیتے ہیں آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ بظاہر تھوڑی سی پھپوند ی کا زہر غذا کے بڑے حصّہ میں دور تک پھیل جاتا اس لیے اگر ممکن ہو تو وہ غذا استعمال ہی نہ کریں اور اگر اس کا استعمال بے حد ضروری ہو تو پھر پھپوندی کے اردگرد کا بہت بڑا سا حصّہ ضائع کردیں۔ اس کے علاوہ ہوا اور ماحول میں موجود آلودگی، جو انسانی جسم میں سانس کے ذریعے تو جا ہی رہی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ کھلے بکنے والے گوشت، دودھ، پھل اور سبزیوں کے ذریعے بھی ہمارے جسم میں داخل ہو رہی ہے۔

بھاری دھاتیں (Heavey matals) مثلاً پارہ (Mercury) لیڈ (lead) اور کیڈیم (Cadmium) ہمارے ماحول خاص کر شہری علاقوں کو آلودہ کررہی ہیں اور غذا کے ساتھ جسم میں داخل ہوکر ہماری صحت پر انتہائی منفی اثرات ڈالتی ہیں۔ اس ہی طرح غذاؤں کا ذائقہ، رنگ، خوشبو اور محفوظ کرنے کی مدّت بڑھانے کے لیے ڈالے جانے والے کیمیکلز بھی قابلِ توجہ ہیں۔ ان کیمیکلز میں سے بہت سے ایسے ہیں جو انسانی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ مثلاً مونوسوڈیم گلوٹامیٹ، مصنوعی فوڈ کلر، سوڈیم نائٹریٹ (گوشت کو محفوظ کرنے والا کیمیکل) وغیرہ۔ تمباکونوشی ایسا عمل ہے جو بالواسط اور بلاواسطہ جسم کے مدافعتی نظام کو تباہ کرتی ہے اور جسم کو تحفظ دینے والے وٹامن کو ناکارہ بناتی ہے۔ مثلاً وٹامن سی تمباکو نوشی سے ضایع ہوجاتا ہے یوں مدافعتی نظام مزید کم زور ہو جاتا ہے۔

انفیکشن کی صورت میں غذا کا استعمال

اب آجائیں ان غذاؤں کی جانب جن کا استعمال انفیکشن ہونے کی صورت میں بڑھا دینا چاہیے شہد خوردبینی اجسام کے خلاف ایک قدرتی دوا ہے۔ لہسن بھی بہترین اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کا حامل ہے۔ ہلدی ہمارے بزرگوں کا آزمودہ اور جدید سائنس سے ثابت شدہ نسخہ ہے ان کے علاوہ لیموں، انناس، ادرک اور کھوپرے کا تیل بھی فائدہ مند غذائیں ہیں۔ انفیکشن کی صورت میں اگر معالج اینٹی بائیوٹک ادویات تجویز کرتے ہیں تو اس سے یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ بیماری پھیلانے والے جراثیم مر جاتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہمارے دوست جراثیم بھی مرجاتے ہیں دوست جراثیم ہمارے جسم اور خاص کر آنتوں کی صحت کے لیے بے حد ضروری ہیں۔ اس لیے جب اینٹی بائیوٹیک ادویات استعمال کریں تو اس کے بعد زیادہ ریشے والی غذائیں مثلاً بھوسی کے ساتھ آٹا، پھلیاں، پھل، سبزیاں اور دہی کا استعمال ضرور کریں کیوںکہ یہ تمام غذائیں ہمارے دوست جراثیم کو دوبارہ بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

غرض یہ کہ کسی بھی وبائی یا متعدی مرض سے بچنے کے لیے اپنا گھر محفوظ کرنا ہوگا۔ یعنی اپنے جسم کا مدافعتی نظام مضبوط بنانا ضروری ہے مناسب اور متوازن غذا کا استعمال ، وقت پر کھانا کھانا، پراسیس غذاؤں سے اجتناب (یعنی وہ تمام کھانے جن میں محفوظ کرنے یا رنگ اور ذائقہ بڑھانے کے لیے کیمیائی اجزا ڈالے گئے ہوں) غذا کی خریداری اور تیاری میں صفائی کا خاص اہتمام، ہلکی پھلکی ورزش یا دن میں کم از کم تیس منٹ کی چہل قدمی، آٹھ سے دس گلاس پانی کا استعمال، چھے سے آٹھ گھنٹے کی پُرسکون نیند، تعمیری، فلاحی، مثبت کام اور حفظانِ صحت کے اصولوں کا خاص خیال ہمیں کسی بھی قسم کے وبائی اور متعدی مرض سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ چوںکہ یہ اسباب کی دنیا ہے اس لیے ان تمام حفاظتی اقدامات کے بعد اللہ سے عافیت کی دعا ہمیں ایمان و یقین کی وہ روحانی طاقت عطا کرتی ہے جو ہمیں ہر قسم کے حالات سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔

The post کورونا وائرس سے بچاؤ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/39skcCf

تھری ڈی پرنٹر سے تیار نرم اور لچکدار دماغی پیوند

بوسٹن: کئی امراض کی شناخت کے لیے دماغ کے اندر چپ اور پیوند امپلانٹس لگانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ لیکن اپنی دھاتی ساخت اور سختی کی وجہ سے الٹا نقصان ہوسکتا ہے۔ اسی بنا پر اب تھری ڈی پرنٹر سے تیارکردہ نرم اور لچکدار پیوند پر پورا سرکٹ چھاپنے کا کام جاری ہے۔

انسانی دماغ نرم اور حساس ترین عضو ہے جبکہ دوسری جانب دھات اور برقی آلات پر مشتمل دماغی پیوند اتنے سخت ہوتے ہیں کہ وہ اطراف کے حساس خلیات کو نقصان پہنچاسکتے ہیں اور شدید جلن کی وجہ بن سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے نرم پیوند تیار کیا ہے جو اطراف کی بافتوں کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

اس طرح یہ سخت امپلانٹس کا متبادل ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایسے پیوند کو مرگی، پارکنسن اور دیگر دماغی امراض کے علاج یا ان کی شدت کم کرنے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسے نرم پلاسٹک، یا پالیمر سے بنایا گیا ہے لیکن اس میں بجلی گزرسکتی ہے۔ پالیمر کی خاصیت مائع کی طرح جو دیکھنے میں ٹوتھ پیسٹ کی طرح لگتی ہے۔ اس کے بعد تھری ڈی پرنٹر میں داخل کرکے اس پر باقی ماندہ سرکٹ اور دیگر اجزا چھاپے جاسکتے ہیں۔

تجرباتی طور پر ایک چھوٹا پیوند بنایا گیا اور اس پر برقی سرکٹ کاڑھا گیا ۔ اس کے بعد ایک چوہے کے دماغ میں لگایا گیا تو وہ کسی پریشانی کے بغیر پھرتا رہا۔ اس دوران امپلانٹ سے چوہے کی دماغی کیفیت کو نوٹ کیا اور سگنل کو پڑھنا شروع کیا۔

توقع ہے کہ اس طرح سے صرف 30 منٹ میں ہی امپلانٹ یا پیوند تیار کیا جاسکتا ہے۔ یہ تحقیق نیچر کمیونکیشن میں شائع ہوئی ہے۔

The post تھری ڈی پرنٹر سے تیار نرم اور لچکدار دماغی پیوند appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2QWbSVd

امریکا نے ملیریا کی عام دوا کووڈ 19 مرض کے لیے منظورکرلی

 واشنگٹن: امریکہ نے کئی دہائیوں سے ملیریا کے خلاف استعمال ہونے والی عام دوا کو کووڈ19 مرض کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

ان دواؤں میں کلوروکوائن اور ہائیڈروکسی کلوروکوائن سرِ فہرست ہیں جو اس سے قبل فرانس اور دیگر ممالک میں اپنی افادیٹ ثابت کرچکی ہیں۔ ایک جانب تو مرض کی شدت بھی کم کرتی ہیں تو دوسری جانب مریض کے ہسپتال میں رہنے کا دورانیہ بھی گھٹ جاتا ہے۔

اس کی باقاعدہ منظوری ایف ڈی اے نے دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ یہ دوا ہسپتالوں میں داخل نوعمر اور بالغ افراد کو ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق اس وقت دی جائیں جب طبی آزمائشیں (کلینکل ٹرائلز) دستیاب نہ ہوں۔‘ واضح رہے کہ امریکا میں ان ادویہ کا اچھا خاصا ذخیرہ موجود ہے۔

ایک ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سائنسدانوں کی مخالفت اور میڈیا کی تشہیر کے باوجود ان دواؤں کو ’تحفہ خداوندی‘ قرار دیا تھا۔

اس ضمن میں امریکا میں وبائی امراض کے ممتاز ماہر اینتھونی فوشی سمیت کئی ماہرین عوام سے کہہ چکے ہیں کہ جب تک بڑی طبی آزمائشیں چھوٹے سے مطالعے کی تصدیق نہ کردیں تو اس وقت تک ان ادویہ کے استعمال میں محتاط رہا جائے۔ امریکہ کے دو بڑے طبی ادارے اس وقت  کلوروکوائن اور ہائیڈروکسی کلوروکوائن کی بڑے پیمانے پر طبی آزمائش کی تیاری کررہے ہیں۔

دیگر ماہرین فکرمند ہیں کہ کسی سے مشورہ کئے بغیر صدر ٹرمپ کی جانب سے اس دوا کا نام لینے اور افادیت  سے ان کی قلت ہوجائے گی جس سے جلدی مرض لیوپس اور گٹھیا کے مریض شدید متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ بھی یہ دوائیں استعمال کرتے ہیں۔

صرف امریکہ میں ہی اس وقت کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار تک جاپہنچی ہے اور اب تک 2400 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

The post امریکا نے ملیریا کی عام دوا کووڈ 19 مرض کے لیے منظورکرلی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2WQTeSl

Sunday, 29 March 2020

روس کا کورونا ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ

ماسکو: روس نے کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

روس کی فیڈرل بائیو میڈیکل ایجنسی کے پریس مرکز سے شائع کئے گئے بیان کے مطابق کووِڈ۔19 کے علاج میں میفلوکین نامی دوا کا استعمال کیا جائے گا۔ یہ دوا مختلف شدتوں کے کورونا وائرس کے خاتمے کے لئے مفید ثابت ہو گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ میفلوکین اپنے مضبوط مدافعتی اثرات سے وائرس کے نتیجے میں التہاب اور ورم کے ردعمل کا بھی سدباب کرتی ہے۔

 

The post روس کا کورونا ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2JrfHgV

پاکستانی انجینئر نے سستا پورٹیبل وینٹی لیٹر تیار کر لیا

حیدر آباد: پاکستانی انجینئر نے سستاخود کار پورٹیبل (سفری) وینٹی لیٹر تیار کر لیا ہے۔

سندھ کے شہر حیدرآباد میں امریکی ریاست کیلی فورنیا سے تعلیم حاصل کرنے والے انجینئر علی مرتضیٰ سولنگی نے ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھوں نے سستا ترین اور خودکار پورٹ ایبل وینٹی لیٹر تیار کرلیا ہے جس کا ڈیزائن انھوں نے پاکستان انجینئرنگ کونسل کو بھی دکھا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جانب سے تیار کردہ پورٹ ایبل وینٹی لیٹر کو چلانے کے لیے کسی ڈاکٹر یا تکنیکی عملے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

 

The post پاکستانی انجینئر نے سستا پورٹیبل وینٹی لیٹر تیار کر لیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3dG7enO

کیا فالج کی دوا سے کورونا کے مریضوں کو فائدہ ہوسکتا ہے؟

میساچیوسٹس: طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ فالج کے علاج میں استعمال ہونے والی ایک عام دوا، جو تقریباً ہر اسپتال میں ہمہ وقت موجود رہتی ہے، اضافی طور پر کورونا وائرس کے مریضوں کو بھی فائدہ پہنچا سکتی ہے اور ان کےلیے وینٹی لیٹرز کی ضرورت کم کرسکتی ہے۔

اس وقت جبکہ ساری دنیا کی توجہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کو مؤثر انداز میں شکست دینے پر مرکوز ہے، وہیں یہ مسئلہ بھی درپیش ہے کہ ناول کورونا وائرس ’’کووِڈ 19‘‘ سے شدید متاثرہ افراد کو سانس لینے میں انتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دنیا کے کسی ملک کے پاس بھی ان شدید متاثرین کےلیے مناسب تعداد میں وینٹی لیٹرز موجود نہیں۔

اگرچہ ایک برطانوی کمپنی نے مختصر وینٹی لیٹر ایجاد بھی کرلیا ہے جس کی تجارتی پیمانے پر تیاری بھی عن قریب شروع ہوجائے گی لیکن پھر بھی اس میں تین سے چار ہفتے ضرور لگ جائیں گے۔

یہ خبر بھی پڑھیے: کورونا سے جنگ: صرف دس دن میں ’’دستی‘‘ وینٹی لیٹر ایجاد کرلیا گیا

تاہم امریکی طبّی ماہرین نے فالج کی جس دوا کو کورونا وائرس کےلیے امید افزاء قرار دیا ہے، وہ ’’ٹشو پلازمینوجن ایکٹیویٹر‘‘ (ٹی پی اے) کہلاتی ہے جسے فالج یا دل کے دورے سے بننے والے، خون کے لوتھڑوں کو فوراً تحلیل کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اپنی اسی خوبی کی بناء پر یہ دوا سانس لینے میں بھی سہولت پیدا کرسکتی ہے۔ لیکن اس بارے میں اب تک صرف ایک محدود انسانی مطالعہ ہی کیا گیا ہے جو 2001 میں شائع ہوا تھا۔ اس مطالعے سے پتا چلا تھا کہ جن مریضوں نے ’’ٹی پی اے‘‘ استعمال کی تھی انہیں سانس لینے میں بھی سہولت ہوئی تھی جس سے ان میں شرحِ اموات بھی (ٹی پی اے استعمال نہ کرنے والے مریضوں کے مقابلے میں) 70 فیصد تھی۔

یہ تحقیق ہارورڈ اور ایم آئی ٹی کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک کووِڈ 19 کی کوئی ویکسین تیار نہیں ہوجاتی، تب تک وینٹی لیٹرز کی ممکنہ ضرورت کم سے کم رکھنے میں اس دوا کی خوبیوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جو محدود ہی سہی لیکن سائنسی طور پر ثابت شدہ ضرور ہیں۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کے متاثرین میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جنہیں سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا تھا اور انہیں مصنوعی تنفسی آلے (وینٹی لیٹر) کی سہولت بھی میسر نہیں تھی۔

مذکورہ تحقیقی مقالہ ’’دی جرنل آف ٹراما اینڈ اکیوٹ کیئر سرجری‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوا ہے۔

The post کیا فالج کی دوا سے کورونا کے مریضوں کو فائدہ ہوسکتا ہے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2xBLw3H

Saturday, 28 March 2020

کورونا وائرس۔۔۔ایک حیاتیاتی بم؟

نومبر 2019ء سے بنی نوع انسان کو دبوچ لینے والے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ننھے منے کورونا وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ماہرین اس کو ’’سارس کوو2-‘‘(SARS-CoV-2)کا نام دے چکے۔ یہ صرف 50تا200نینو میٹر قطر رکھتا ہے۔

(انسانی بال کی چوڑائی 80ہزار نینو میٹر ہے)۔ اپنے غیر مرئی وجود کے باعث ہی یہ انسان کے لیے آفت بن گیا۔ اس نے دکھا دیا کہ انسان سائنس و ٹیکنالوجی کی اپنی ترقی پر زیادہ مغرور نہ ہو‘ قدرت کا محض ایک ننھا سا عجوبہ بھی پوری زمین تلپٹ کر سکتا ہے۔پھر اس نے زبردست لاک ڈاؤن سے مغربی اقوام کو بھی انہی تکالیف، مسائل،دکھوں اور مصائب میں گرفتار کرا دیا جن سے مظلوم کشمیری ظالمانہ بھارتی نظربندی کے ذریعے گذر رہے ہیں۔سارس کوو۔ 2 کا تعلق وائرسوں کے خاندان ’’کورونا ویریدہ‘‘ (Coronaviridae)سے ہے۔ اس خاندان میں مختلف 40 وائرس شامل ہیں۔ انہیں عرف عام میں ’’کورونا وائرس‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ وائرس ممالیہ اور پرندوں کو امراض میں مبتلا کرتے ہیں۔ ان چالیس میں سے سات انسان پر بھی حملہ آور ہوتے اور اس میں بخار‘ جسمانی درد‘ کھانسی اور امراض تنفس پیدا کرتے ہیں۔ تین وائرس انسانوں کی اموات کا سبب بن چکے۔

2003ء میں ’’سارس کوو‘‘(SARS-CoV) نے چین میں سر ابھارا ۔اس نے دنیا بھر میں آٹھ ہزار سے زائد لوگوں کو متاثر کیا اور 774مرد وزن ہلاک کر دیئے۔ 2012ء ‘2015 اور 2018میں وقفے وقفے سے’’ مرس کوو‘‘((MERS-CoV) کورونا وائرس پانچ سو زائد انسان دنیائے لافانی میں پہنچا چکا۔ اب دسمبر2019ء سے سارس کوو۔2 انسانیت پر حملہ آور ہے۔

یہ کورونا وائرس کی سب سے تباہ کن قسم ثابت ہوا۔ اب تک پونے تین لاکھ انسان اس سے متاثر ہو چکے۔ ان میں سے گیارہ ہزار سے زائد اللہ کو پیارے ہوئے۔قابل ذکر بات یہ کہ انسان کو نشانہ بنانے والے ساتوں کورونا وائرس چمگادڑوں میں ملتے ہیں۔ گویا ان وائرسوں کے حقیقی مسکن چمگادڑ کا جسم ہیں۔ عجیب تر بات یہ کہ ساتوں براہ راست انسان پر حملہ آور نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے پہلے دوسرے جانور کو اپنا شکار بنایا اور پھر اپنے اندر جینیاتی تبدیلیاں لا کر انسان کودبوچ لیا۔ سارس کوو مشکی بلی (Civet)، مرس کوہ اونٹ اور سارس کوو 2 بھی شاید کسی جانور کی وساطت سے انسانی جسم میں داخل ہوا۔ بقیہ چار کورونا وائرسوں میں سے دو مویشیوں ‘ ایک چوہے اور ایک مشکی بلی کے ذریعے انسان سے چمٹے۔

وائرسوں کی پُراسرار دنیا

دنیا میں ہر جاندار … وائرس‘ جرثومے اور خلیے بھی جینیاتی مواد (Genetic material ) رکھتے ہیں ہے۔ یہ مواد ڈی این اے،آر این اے اور پروٹین وغیرہ پر مشتمل ہے۔ کورونا وائرس اور فلو (انفلوئنزہ) کے وائرس آر این اے اور پروٹین پر مشتمل ہیں۔ آر این اے میں وائرسوں سے پیدا شدہ بیماری کی جینیاتی معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔

وائرس اپنے پروٹینی مادے سے دو کام لیتا ہے۔اول یہ کہ جب وائرس کسی انسان یا جانور کے بدن میں داخل ہو‘ تو وہ پروٹینی مادے کی مدد ہی سے ایک خلیے پر قبضہ جماتا ہے۔ وہ پھر اسی مادے کے ذریعے خلیے کی مشینری پر قابض ہو جاتا ہے۔ اگر یہ عمل کامیابی سے انجام پا جائے تو سمجھیے کہ انسانی جسم میں اس وائرس سے مخصوص بیماری نے اپنا کام شروع کر یا۔ وجہ یہ کہ وائرس پھر اپنے غلام خلیے کے پروٹینوں اور دیگر جینیاتی موادکی مدد سے اپنی کاپیاں یا نقول تیار کرنے لگتا ہے۔یوں سمجھیے کہ وائرس نے سب سے پہلے ایک خلیے کے پرنٹر پر قبضہ کیا۔ پھر پرنٹر کو اپنی کا پیاں تیار کرنے کی ہدایت دی اور ’’پرنٹ‘‘ کا بٹن دبا دیا۔ لیجیے چند دن میں جانور یا انسان کے بدن میں وائرس کی لاکھوں نقلیں تیار ہو کر دیگر خلیوں کو بھی اپنا نشانہ بنا لیتی ہیں۔ اگر ہمارے جسم کے محافظ خلیے ان خلیوں کو مار نہ سکیں تو انسان بتدریج بیمار ہو کر موت کی جانب بڑھ جاتاہے۔

وائرسوں کی نئی قسم بھی جنم لیتی ہے۔ اس کے دو بنیادی طریقے ہیں۔ پہلا اس وقت ظہور پذیر ہوتا ہے جب وائرس اپنی کاپیاں تیار کرے۔ یہ کاپیاں تیار کرتے ہوئے بعض اوقات نئی کاپیوں میں وائرس کے جینیاتی مواد میں کچھ تبدیلیاں آ جاتی ہیں۔ شروع میں یہ تبدیلیاں غیر اہم ہوتی ہیں۔ مگر وائرس اپنی لاکھوں نقلیں تیار کرتا ہے۔ اسی لیے آخر کار وائرس کی ایسی نقل جنم لیتی ہے جس کا جینیاتی مواد اولین وائرس کے مواد سے کافی مختلف ہوتاہے۔ یوں وائرس کی نئی قسم جنم لیتی ہے جو اپنا مخصوص جینیاتی مواد رکھتی ہے۔ وائرس کے جینیاتی مواد میں پیدا شدہ تبدیلیاں اصطلاح میں ’’تغیر‘‘ (Mutation)کہلاتی ہیں۔ جب کہ وائرس کی نئی قسم کو ’’ اسٹرین‘ ‘ (Strain)کہا جاتاہے۔

ایک وائرس کی نئی اسٹرین یا قسم جنم لینے کا دوسرا طریق کار ’’باز آرائی‘‘(Reassortment)کہلاتا ہے۔ یہ اس وقت جنم لیتا ہے جب کسی جاندار میں دو مختلف یا ایک جیسی ہی وائرسی اسٹرین داخل ہو جائیں۔ جب یہ دونوں وائرسی اسٹرینیں اپنی کاپیاں تیار کریں تو کبھی کبھی ان کی نقول آپس میں مل جاتی ہیں۔ یوں ان کے جینیاتی مواد کے ادغام سے نئی وائرسی اسٹرین وجود میں آسکتی ہے۔ یہ نئی قسم اپنا مخصوص جینیاتی مواد رکھتی ہے۔مثلاً انفلوئنزہ اے وائرس کی ایک وائرسی اسٹرین‘HINIسُور میں ملتی ہے۔ یہ 1930ء میں اس جانور میں ملی تھی۔ 1998ء میں کسی سُور کے جسم میں اس اسٹرین کا جدید انفلوئنزہ وائرس اور ایوین انفلوئنزہ وائرس یعنی دو نئے وائرسوں سے ٹاکرا ہو گیا۔ تین وائرسوں کے جینیاتی مواد کی باز آرائی سے انفلوئنزہ وائرس کی نئی وائرسی اسٹرین وجود میں آئی۔ اس نے 2009ء میں ایک نئی فلو وبا کو جنم دیاجس کی لپیٹ میں آ کر ڈیڑھ لاکھ سے پونے چھ لاکھ انسان چل بسے۔

ایک نئی اسٹرین

علم جینیات اور حیاتیات کے ماہرین بھی جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے لیبارٹریوں میں باز آرائی کا عمل انجام دیتے ہیں۔ وہ مختلف وائرسوں اور جراثیم کے جینیاتی مواد ملا کر نئی وائرسی اسٹرینز بناتے ہیں۔ ان پر پھر تحقیق و تجربات کیے جاتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ وہ مستقبل میں جنم لینے والی بیماریوں سے قبل از وقت آگاہ ہوجائیں۔ یوں اس کا خاتمہ کرنے میں آسانی رہے گی۔عین ممکن ہے کہ عالمی طاقتیں بھی اپنے اچھے برے مقاصد پورے کرنے کی خاطر لیبارٹریوں میں باز آرائی کراتی ہوں۔یہ بات درست ہے تو یہ عمل انتہائی خفیہ ہوتا ہے۔ وجہ یہ کہ اس عمل سے وائرس یا جراثیم کو ہتھیار کا روپ دینا ممکن ہے جو وسیع پیمانے پر جانی و مالی تباہی پھیلا سکتا ہے۔ یہ اصطلاح میں ’’حیاتیاتی ہتھیار‘‘ (Bioweapon) کہلاتا ہے۔ حیاتیاتی ہتھیاروں کے ذریعے بھی دشمن کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ نے ان ہتھیاروں کی تخلیق و استعمال پر پابندی عائد کررکھی ہیں۔

دنیا بھر میں کئی ماہرین یہ دعویٰ کرچکے کہ سارس کوو 2 بھی لیبارٹری میں تیار ہوا… گویا وہ ایک حیاتیاتی بم ہے۔ یہ بم چین پر گرانے کے لیے بنایا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ چین کو معاشی، سیاسی اور معاشرتی طور پر نقصان پہنچایا جاسکے۔ اس نظریے کے حامی ماہرین مختلف ثبوت سامنے لائے ہیں۔سارس کوو 2 پر تحقیق سے ماہرین جینیات جان چکے کہ یہ ہارس شو نامی چمگادڑ میں پائے جانے والے کورونا وائرس سے نکلا ہے۔ دونوں وائرسوں کے جینیاتی مواد میں 96 فیصد مماثلت ہے۔ لیکن 4 فیصد فرق واضح کرتا ہے کہ چمگادڑ کا کورونا وائرس کسی اور جانور کے جسم میں داخل ہوا۔ وہاں اس کا کورونا وائرس کی کسی اور وائرسی اسٹرین سے ٹاکرا ہوا۔ تب باز آرائی یا عمل تغیر کی بدولت سارس کوو2 کی نئی وائرسی اسٹرین نے جنم یا۔

شروع میں خیال تھا کہ یہ دوسرا جانور پنگولین ہے۔ اس جانور کی ایک قسم چین میں ملتی ہے۔ اس کا گوشت چینی کھاتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وائرسی اسٹرینیں اس ممالیہ جانور کو بھی نشانہ بناتی ہیں۔ لیکن جب پنگولین میں پائی جانے والی کورونا وائرسی اسٹرینوں اور سارس کوو 2 کے جینیاتی مواد کا تقابلی جائزہ لیا گیا تو ان میں 92 فیصد مطابقت پائی گئی۔ یہ مطابقت 99 فیصد ہونا ضروری ہے۔اسی لیے ماہرین نے قرار دیا کہ سارس کوو 2 کی وائرسی اسٹرین نے پنگولین میں جنم نہیں لیا۔ 2003ء کی سارس کو وائرسی اسٹرین مشکی کی جسم میں پیدا ہوئی تھی۔

اس کا جینیاتی مواد بلی کی کورونا وائرس والی وائرسی اسٹرین سے 99.80 فیصد مطابقت رکھتا تھا۔گویا ماہرین جینیات سرتوڑ کوشش کے باوجود اب تک نہیں جان سکے کہ سارس کوو 2 کے جینیاتی مواد کا 4 فیصد حصہ کہاں سے آیا؟ اس کا 96 فیصد حصہ تو ہارس شو چمگادڑ میں پائے جانے والے کورونا وائرس پر مشتمل ہے۔ لیکن بقیہ کا منبع کیا شے ہے؟ اس کو حیاتیاتی ہتھیار قرار دینے والے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس کا کچھ حصہ کسی بائیو لیبارٹری میں بنایا گیا۔

پروٹینوں کا کردار

آپ کورونا وائرس کی تصویر دیکھیے، اس کی سطح پہ کیلوں کی طرح ابھار ہیں۔ یہ ایک پروٹین ہے جسے کیل جیسی شکل رکھنے کے باعث ’’ میخ پروٹین‘‘ (spike protein)کا نام دیا گیا۔ یہ میخ پروٹین انسانی جسم میں بیماری پیدا کرنے کے سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ہوتا یہ ہے کہ جب کورونا وائرس انسانی جسم میں داخل ہو تو وہ حلق سے گزر کر نظام تنفس میں پہنچتے ہی وہاں کسی خلیے کو تلاش کرتا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ اس سے چمٹ کر اسے اپنا غلام بناسکے۔ تب وائرس کا میخ پروٹین خلیے کے ایک خصوصی ابھرے پروٹین سے چمٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ خلیے کا یہ مخصوص ابھرا پروٹین’’ اے سی ای 2 ‘‘(ACE2)) کہلاتا ہے۔

اگر وائرس کا میخ پروٹین خلیے کے اے سی ای 2 پروٹین سے چمٹنے میں کامیاب ہوجائے تو سمجھیے کہ انسان وائرس سے پیدا شدہ مرض کا نشانہ بن گیا۔میخ پروٹین اور اے سی ای 2 پروٹین کے ادغام میں ایک خامرہ (enzyme)’’ فیورین ‘‘ بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ جب دونوں پروٹین قریب آئیں تو فیورین متحرک ہوجاتا ہے۔

وہ پھر کیمیائی تعامل کے ذریعے دونوں پروٹینوں کو باہم پیوست ہونے کی اجازت دے دیتا ہے۔ یہ فیورین (Furin)نامی خامرہ گویا خردبینی سطح پر انسان کی ایک مدافعتی ڈھال ہے۔ ظاہر ہے، اگر انسانی جسم میں داخل ہونے والے کسی وائرس یا جرثومے کا پروٹین فیورین قبول کرنے سے انکار کردے، تو وہ کسی خلیے کو نشانہ نہیں بنا پاتا۔ یوں انسان اس وائرس یا جرثومے سے مخصوص بیماری میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔

واضح رہے کہ ہر زمینی جاندار خردبینی سطح پر چار مادوں… نیوکلائی تیزابوں، لپڈز، پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس سے بنا ہے۔ ڈی این اے اور آر این اے نیوکلائی تیزابوں(nucleic acids) سے بنتے اور ہر وائرس، جرثومے اور خلیے میں ملتے ہیں۔ ڈی این اے اور آر این اے سالمے ہیں۔ دھاگے کی شکل رکھتے ہیں۔ ڈی این اے دو او آر این اے ایک دھاگہ رکھتا ہے۔ اس دھاگے میں نیوکلائی تیزاب اور فاسفیٹ مادے (nucleotides)مل کر چار بنیادیں بناتے ہیں۔

یہ بنیادیں ہر دھاگے میں خاص ترتیب سے موجود ہوتی ہیں۔ انہیں عام اصلاح میں ’’حروف‘‘ (letters) کہا جاتا ہے۔ انہی حروف میں وہ تمام معلومات یا احکامات محفوظ ہوتے ہیں جنہیں پاکر ڈی این اے یا آر این اے کے جین اپنا کام کرتے ہیں مثلاً نیا جینیاتی مواد تیار کرنا،ہاتھ یا پیر کی تشکیل، بال پیدا کرکے انہیں بھورا یا سیاہ رنگ دینا وغیرہ۔ڈی این اے یا آر این اے میں ہر حکم یا معلومات مخصوص حروف میں محفوظ ہوتی ہے۔ ہر حکم کے یہ مخصوص حروف اصلاح میں ’’سیکوئنس‘‘(sequence) کہلاتے ہیں۔ جیسے کہ سارس کوو 2 کے میخ پروٹین کے آر این اے میں یہ سیکوئنس موجود ہے کہ وہ خلیے کے اے سی 2 پروٹین کے نزدیک جاتے ہی بذریعہ کیمیائی عمل وہاں موجود فیورین خامرے کو متحرک کردیتا ہے۔ وہ پھر سہولت سے دونوں پروٹینوں کا ادغام کرا تا ہے۔ لیجیے، سارس کوو 2 کا وائرس انسانی خلیے سے چپک کر اپنا کام کرنے لگا۔

فیورین کلیویج کا معّمہ

خاص بات یہ کہ ماہرین جینیات کے مطابق کورونا وائرس کی کسی بھی قسم کے میخ پروٹین میں فیورین خامرے کو متحرک کردینے والا سیکوئنس موجود نہیں… گویا سارس کوو 2 کورونا وائرسوں کی پہلی نئی یا ذیلی قسم ہے جس کے آر این اے میں یہ سیکوئنس پایا گیا جو بارہ حروف پر مشتمل ہے۔ وائرس کو حیاتیاتی بم کہنے والے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس میں یہ سیکوئنس لیبارٹری کے اندر بذریعہ جینیاتی انجینئرئنگ داخل کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ یہ امر یقینی بنادیا جائے ، سارس کوو 2 کا میخ پروٹین آسانی سے خلیے کے سی اے 2 میں پیوست ہوجائے۔جنیاتی انجینئرنگ میں ماہرین وائرسوں، جراثیم، کائیوں وغیرہ کے ڈی این اے اور آر این اے میں سیکوئنس بھی تبدیل کرتے ہیں۔

حد یہ ہے کہ اگر کسی ڈی این اے کا صرف ایک ’’حرف‘‘ بھی تبدیل کردیا جائے تو اس میں انقلابی تبدیلی جنم لے سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ ایک بے ضرر جرثومے سے بدل کر نہایت خطرناک بیماری پیدا کرنے والا جرثومہ بن جائے۔ ہر وائرس ،جرثومے وغیرہ کا مجموعی جینیاتی مادہ حروف کی مختلف تعداد رکھتا ہے۔ اس مجموعی جینیاتی مادے کو اصطلاح میں ’’جینوم‘‘ (Genome) کہتے ہیں۔ سارس کوہ 2 کا جینوم تیس ہزار حروف رکھتا ہے۔ انسان کے صرف ایک خلیے کا جنیوم تین ارب حروف رکھتا ہے۔ جینوم میں ڈی این اے یا آر این اے، جین، پروٹین اور دوسرا جینیاتی و نامیاتی مواد شامل ہے۔

یہ اب تک معّمہ ہے کہ سارس کوو 2کے آر این اے میں وہ بارہ حروف کا سیکوئنس کیسے داخل ہوا جو فیورین خامرے کو متحرک کرتا ہے؟ ماہرین نے اس سیکوئنس کو ’’فیورین کلیویج جگہ‘‘ (Furin cleavage site ) کا نام دیا ہے۔ اسے سب سے پہلے چینی شہر،ووہان کی ہوازونگ(Huazhong)یونیورسٹی آف سائنس وٹکنالوجی سے منسلک حیاتیات داں،لی ہوا (Li Hua) نے اپنی ٹیم کے ساتھ دریافت کیا۔ بعدازاں دیگر تحقیقی اداروں میں بھی ماہرین نے تحقیق و تجربات سے اسے کھوج لیا ۔یہ یقینی ہے کہ ’’فیورین کلیویج‘‘ سے سارس کوو 2 کو بہت فائدہ پہنچا۔ اب وہ اس کی بدولت دیگر کورونا وائرسوں کی نسبت ٹارگٹ خلیے کو آسانی سے دبوچ لیتا ہے۔

جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے بھی بعض انسان دوست جراثیم کے جینوم میں سیکوئنس تبدیل کیے جاتے ہیں۔ مدعا یہ ہوتا ہے کہ ان جراثیم کو انسان کے لیے زیادہ کارآمد بنایا جاسکے۔ یہ تکنیک اصطلاح میں ’’گین آف فنکشن‘‘ (Gain-of-Function) یعنی کسی عمل کے انجام دینے میں سہولت پیدا کرتی ہے۔ سارس کوو 2 کو حیاتیاتی بم قرار دینے والے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ لیبارٹری میں ’’گین آف فنکشن‘‘ تکنیک استعمال کرتے ہوئے ہی اس کے آر این اے میں ’’فیورین کلیویج‘‘ سیکوئنس داخل کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ یقینی بنایا جاسکے، سارس کوو 2 نہ صرف انسانی خلیوں کو آسانی سے اپنا شکار بناسکے بلکہ زیادہ سے زیادہ انسان اس کے گرفت میں آ جائیں۔وہ انسانی آبادی میں زیادہ تیزی سے پھیل سکے کیونکہ یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسانوں میں بہ سہولت منتقل ہو کر انھیں بیمار کر ڈالتا ہے۔

اس پُراسرار فیورین کلیویج کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ وجہ یہ کہ انسانی جسم میں فیورین خامرہ پھیپھڑوں کے علاوہ جگہ اور آنتوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سارس کوو 2 کے ہاتھوں شکار ہوئے کئی مریضوں میں پھیپھڑوں کے علاوہ جگر اور آنتیں بھی خراب پائی گئیں۔ یہی نہیں، اسے فیورین کلیویج کے باعث یہ سہولت بھی مل گئی کہ اگر وہ پھیپھڑوں کے کسی خلیے سے چیک نہیں پایا تو جگر یا آنتوں کے خلیے کو دبوچ سکتا ہے۔ گویا فیورین کلیویج نے اسے دیگر کوروناوائرسوں کی نسبت زیادہ خطرناک اور مضر ِصحت بنادیا۔یہ واضح رہے کہ فیورین کلیویج کا سیکوئنس صرف خطرناک اور تباہ کن وائرسوں یا جراثیم میں پایا جاتا ہے۔ ان میں ایڈز، ڈینگی بخار اور ایبولا مرض پیدا کرنے والے وائرس شامل ہیں۔ شدید فلو پیدا کرنے والے وائرسوں میں بھی یہ سیکوئنس ملا ہے جبکہ آنتھرکس بیماری کو جنم دینے والا جرثومہ بھی فیورین کلیویج رکھتا ہے۔ ان تمام وائرسوں اور جرثومے کی یہ بھی خاصیت ہے کہ وہ جانوروں سے انسانوں کو چمٹے ہیں۔ یعنی انہوں نے پہلے حیوانیات کو نشانہ بنایا۔ پھر ان کی اسٹرینز یا نئی اقسام نے انسان پر حملہ کردیا۔

ایک اور سیکوئنس

ماہ جنوری کے اواخر میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نئی دہلی اور یونیورسٹی آف دہلی، نئی دہی سے منسلک ماہرین جینیات کی ایک ٹیم نے سارس کوو2 کے جینیاتی مواد کا خردبینی جائزہ لیا۔ اس ٹیم میں پرشانت پردھان، استوش کمار، اخلیش مشرا، پارول گپتا، پروین کمار، منوج بالاکرشن اور دیگر ماہرین شامل تھے۔ اس ٹیم کی تحقیق کا نتیجہ’’Uncanny similarity of unique inserts in the 2019-nCoV spike protein to HIV-1 gp120

and Gag‘‘ کے عنوان سے علم جینیات کی مشہور ویب سائٹ ’’www.biorxiv.org‘‘میں شائع ہوا۔ اس تحقیق سے انکشاف ہوا کہ سارس کوو 2 کے میخ پروٹین کے جینیاتی مواد میں چار اور نئی سیکوئنس شامل ہیں۔ یہ ایک اور اہم انکشاف تھا۔بعدازاں ماہرین جینیات نے تحقیق سے دریافت کیا کہ ان میں سے تین سیکوئنس ہارس شو چمگادڑ میں ملنے والے کورونا وائرس کے میخ پروٹین میں بھی موجود ہیں۔ تاہم ایک سیکوئنس کورونا وائرس کی کسی بھی قسم میں نہیں پائی گئی۔ گویا یہ سیکوئنس بھی سارس کوو2 میں پہلی بار نمودار ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ دوسری سیکوئنس نے اس میں کس قسم کی تبدیلی کو جنم دیا؟

دنیا میں تمام پروٹین امائنو تیزابوں سے بنتے ہیں جن کی تعداد پانچ سو ہے۔ ان میں سے بعض بہت جلد اور دیگر مشکل سے زندہ جسم میں جذب ہوتے ہیں۔ امائنو تیزابوں کی زندہ جسم میں جذب پذیر ہونے کی صلاحیت پیمائشی درجے ’’پی آئی‘‘ (Isoelectric point) سے نوٹ کی جاتی ہے۔ جن امائنو تیزابوں کا ’’پی آئی نمبر‘‘ زیادہ ہو، وہ زندہ جسم میں اتنی ہی تیزی سے جذب ہوتے ہیں۔

ماہرین نے جب سارسکوو 2 کے میخ پروٹین بنانے والے امائنو تیزابوں کا پی آئی نمبر دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ دیگر کورونا وائرسوں کی نسبت ان میں انسانی جسم میں جذب ہونے کی صلاحیت ’’دس تا بیس گنا زیادہ‘‘ بڑھ چکی۔اس کے میخ پروٹین کے جینیاتی مواد میں تبدیلی نے نئی متعارف کردہ سیکوئنس کے باعث ہی جنم لیا۔مطلب یہ کہ اس سیکوئنس کی بدولت کورونا کو 2 کا میخ پروٹین دیگر کورونا وائرسوں کے میخ پروٹینوں کے مقابلے میں انسانی خلیے کے پروٹین (اے سی ای 2) میں زیادہ تیزی اور آسانی سے جذب ہونے لگا۔ اس سیکوئنس کی بدولت اسے یہ سہولت مل گئی کہ وہ انسانی نظام تنفس میں پہنچتے ہی کسی خلیے سے جاچمٹے اور اسے یہ آسانی سے اپنا شکار بنالے۔

جیسا کہ بتایا گیا کہ قدرتی عملِ تغیر اور باز آرائی کے باعث وائرسوں، جراثیم وغیرہ میں تبدیلیاں جنم لینے سے ان کی نئی اقسام پیدا ہوتی ہیں۔ ممکن ہے کہ قدرت ہی نے کورونا کوو 2 کے میخ وائرس کے جینیاتی مواد میں دو تبدیلیاں پیدا کردیں۔ اگرچہ یہ انہونی اور غیر معمولی بات ہے۔ اول تو وائرس کے آر این اے یا ڈی این اے میں تبدیلی بہ مشکل جنم لیتی ہے۔ مگر ایک ساتھ دو سیکوئنسوں کا پیدا ہوجانا… یہ اعجوبہ قدرت میں شاذونادر ہی ملتا ہے۔سارس کوو 2 کے حیاتیاتی بم ہونے کا دعویٰ کرنے والے ماہرین تو کہتے ہیں کہ اس کے میخ پروٹین میں دونوں سیکوئنس بذریعہ جینیاتی انجینئرنگ داخل کیے گئے۔ ماہرین نے پہلے ہارس شو چمگادڑ کا کورونا وائرس لیا، پھر اس میں کسی نامعلوم جانور کا جینیاتی مواد ملا کر نیا وائرس تخلیق کر لیا۔ پھر اس کے میخ پروٹین میں دو نئے سیکوئنس متعارف کرائے۔ مقصد یہ تھا کہ نئے وائرس کو زیادہ سے زیادہ خطرناک بنایا جاسکے۔ یہ خطرہ اسی طرح پیدا کیا گیا کہ سارسکوو 2 انسانوں کو نئی سیکوئنسوں کی بدولت آسانی سے نشانہ بنانے لگا اور اسی لیے چند ماہ میں پوری دنیا میں پھیل گیا۔

انسانی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو افشا ہوتا ہے کہ زمانہ قدیم سے انسان جنگوں میں دشمن کو نقصان پہنچانے کی خاطر جراثیم، وائرسوں، پھپھوندیوں اور دیگر نامیات (organisms) کا استعمال کررہا ہے۔ ساڑھے تین ہزار سال پہلے ترکی سے لے کر شام تک کے علاقے میں حتّی قوم کی حکومت تھی۔ تاریخی دستاویزات میں درج ہے کہ 1200 قبل مسیح میں حتّی بادشاہوں نے اپنے دشمن کے علاقے میں تولارمی ( tularemia) نامی بیماری کا شکار مویشی چھوڑ دیئے تھے۔

یہ بیماری ایک جرثومے سے پیدا ہوتی اور انسانوں میں بھی منتقل ہوکر انہیں معذور بنادیتی ہے۔ یہ انسانی تاریخ میں حیاتیاتی جنگ کرنے کی پہلی مستند شہادت ہے۔اس کے بعد افواج پودوں کے زہر تیروں میں استعمال کرنے لگیں ۔پھر منجنیقوں سے مردہ جانور دشمن پر پھینکنے کا رواج شروع ہوا تاکہ اسے کسی بیماری میں مبتلا کیا جاسکے۔ جب انگریزوں نے امریکا پر قبضہ جمایا تو وہاں کے حقیقی باشندے، ریڈ انڈین غاصبوں سے لڑنے لگے۔ 1963ء میں برطانوی فوجی افسروں نے ریڈ انڈین سرداروں کو ایسے ملبوسات دیئے جن میں چیچک کے جراثیم لگے تھے۔ چناں چہ جلد ہی ریڈ انڈینوں میں چیچک پھیل گئی اور ہزارہا انسان اس بیماری سے چل بسے۔

یہ برطانوی حکمران ہی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے حیاتیاتی اسلحہ بنانے کے لیے پہلا باقاعدہ منصوبہ شروع کیا۔ اس سلسلے میں وزیراعظم چرچل کے حکم پر 1940ء میں ’’بائیولوجی ڈیپارٹمنٹ‘‘ بنایا گیا۔اس سرکاری ادارے میں جینیات کے ماہرین بھرتی کرکے انہیں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کی ذمے داری سونپی گئی۔ انہوں نے آنتھرکس اور بوٹونیم کے حیاتیاتی ہتھیار تیار کیے۔

اس کے بعد جرمنی، امریکا، اٹلی، جاپان اور دیگر ممالک بھی حیاتیاتی ہتھیار بنانے کے لیے تحقیق و تجربات کرنے لگے۔ امریکا پر الزام ہے کہ اس نے کوریا اور ویت نام کی جنگوں میں حیاتیاتی ہتھیار استعمال کیے جن سے ہزارہا شہری چل بسے۔1972ء میں اقوام متحدہ کے معاہدے’’ بائیولوجیکل ویپنز کنونشن‘‘ کے ذریعے حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ اندوزی پر پابندی لگادی گئی۔ اس معاہدے کو پاکستان سمیت دنیا کے تقریباً سبھی ممالک تسلیم کرچکے۔ لیکن تمام بڑی طاقتوں… امریکا، روس، چین، جرمنی، فرانس، برطانیہ، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا نے دفاعی مقاصد کے لیے حیاتیاتی ہتھیاروں کی تحقیق و تجربات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ تحقیق خفیہ رکھی جاتی اور صرف جدید ترین آلات اور سازوسامان سے لیس حیاتیاتی لیبارٹریوں میں انجام پاتی ہے۔

حرف آخر

سارس کوو 2 کی تخلیق کے سلسلے میں دنیا بھر میں مختلف نظریات سامنے آ چکے۔ان کے دو بڑے گروہ ہیں۔پہلے گروہ کی رو سے یہ قدرت کی بنائی آفت ہے۔اس سے قدرت بنی نوع انسان کو متنبہ کرنا چاہتی ہے کہ وہ اپنی غیر فطری اور لالچ وہوس پہ مبنی سرگرمیوں سے باز آ جائے ورنہ کرہ ارض پہ زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔دوسرے گروہ کے مطابق یہ کسی لیبارٹری میں بنایا گیا۔مثلاً کہا گیا کہ چینی ماہرین ووہان کی لیبارٹری میں کورونا وائرسوں پر تحقیق کر رہے تھے۔انھوں نے ہی سارس کوو 2 بنایا۔کسی کی بداحتیاطی کے سبب لیبارٹری سے باہر نکل کر اس نے زبردست عالمی وبا پیدا کر دی۔

یہ نظریہ بھی سامنے آیا کہ امریکا نے اسرائیل اور برطانیہ کے تعاون سے اسے تیار کیا۔مدعا یہ تھا کہ ابھرتی سپرپاور،چین کو خصوصاً معاشی نقصان پہنچایا جا سکے۔گو اس نے بعد میں دنیائے مغرب کو بھی اپنی بے رحم لپیٹ میں لے لیا۔اگر یہ دعوی درست ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم نے کسی لیبارٹری میں جنم لیا تو یہ بات آشکارا کرتی ہے کہ جنگ وجدل کی تکنیک نئے دور میں داخل ہو چکی۔اب متحارب عالمی قوتیں محض میزائلوں ،جنگی طیاروں اور ٹینکوں ہی نہیں وائرسوں اور جراثیم کے ذریعے بھی ایک دوسرے پر حملے کر کے نقصان پہنچانے کی کوششیں کرنے لگی ہیں۔ان حملوں میں مگر عموماً معصوم اور بے گناہ انسانوں کی قیمتی جانیں ہی جاتی ہیں۔یہ حکمران طبقے کی مفاد پرستی عیاں کرنے والا جنگوں کا بھیانک روپ ہے۔

The post کورونا وائرس۔۔۔ایک حیاتیاتی بم؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3dCqLWf

مؤثر ٹیسٹ اور علاج کے ذریعے عالمی سطح پر ہیپاٹائٹس میں کمی

 نیویارک: اگرچہ کورونا وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے لیکن ہیپاٹائٹس سی وائرس کے متعلق ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے۔ باقاعدہ ٹیسٹ، جانچ اور علاج کے بعد دنیا کے کئی ممالک میں ہیپاٹائس سی کی شرح کم ہوئی ہے۔

پاکستان سمیت ہیپاٹائٹس سی دنیا کے کئی ممالک میں جگر کا ایک عام مرض ہے۔ یہ وائرس جگر کی ناکارگی اور کینسر تک کی وجہ بنتا ہے۔ مصر دوسرا ملک ہے جہاں ہیپاٹائٹس سی کا مرض ایک عفریت بن چکا تھا لیکن اب عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق وہاں بھی اس مرض کا گراف کم ہوا ہے۔

برطانیہ میں اس کی شرح میں دوتہائی کمی ہوئی ہے۔ یہ وائرس فضلے، جسمانی مائعات اور خون کی غیرمحفوظ منتقلی کے ذریعے تیزی سے پھیلتا ہے۔ پاکستان میں ٹٰیکوں کی سوئی کے ایک سے زائد مرتبہ استعمال کے ذریعے بھی یہ مرض تیزی سے پھیلتا ہے۔

شروع میں اس کا علاج قدرے مہنگا تھا لیکن اب اس دوا کی کئی جنیریک نقول بن چکی ہیں جس سے اس کا علاج بہت سستا ہوچکا ہے۔ مصر میں ہر دس میں سے ایک بالغ فرد ہیپاٹائٹس سی سے متاثرہ تھا۔ اس کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے حکومت نے 2018 میں پورے ملک میں مفت ٹیسٹ اور علاج کی ایک مہم شروع کی۔ گزشتہ برس تک مصر کے 80 فیصد بالغ افراد کو اس ٹیسٹ سے گزارا جاچکا تھا اور 20 لاکھ سے زائد افراد کا مکمل علاج کیا گیا تھا۔

اس طرح ایک سال میں نصف فیصد مریضوں میں کمی واقع ہوئی ہے جو اگرچہ کم ہے لیکن مصر جیسے گنجان آبادی والے ملک میں ایک اچھا رحجان بھی ہے۔

لیکن بعض ممالک میں ایسے افراد کو علاج کے لیے منتخب کیا گیا ہے جو ہیپاٹائٹس سی سے شدید متاثر ہوسکتے ہیں ان میں انجیکشن سے منشیات استعمال کرنے والے اور اور ایچ آئی وی مثبت افراد شامل ہیں۔ کئی ممالک نے ایسے لوگوں کے بار بار ٹٰیسٹ کئے ہیں اور دواؤں کو سختی سے استعمال کرایا ہے۔

The post مؤثر ٹیسٹ اور علاج کے ذریعے عالمی سطح پر ہیپاٹائٹس میں کمی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2yjWwDz

روس نے کورونا وائرس مرض کےلیے دوا بنانے کا دعویٰ کردیا

 ماسکو: روس نے کورونا وائرس سے پھیلنے والی بیماری کووڈ19 کے لیے ایک مؤثر دوا تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

روسی حکام نے ملیریا کے خلاف عام استعمال ہونے والی ایک مؤثر دوا، میفلوکوائن کو بعض مریضوں پرآزمایا گیا ہے جس نے نہ صرف اندرونی جلن و سوزش کو کم کیا ہے بلکہ یہ جسم کے اندر وائرس کو مزید بڑھنے سے بھی روکتی ہے۔

روسی کی فیڈرل بایومیڈیکل ایجنسی کے مطابق اس دوا کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ایجنسی کی سربراہ ویرونِکا سووروسکا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میفلوکوائن کو تقویت دینے کے لیے اینٹی بایوٹکس بھی ملائی گئی ہیں۔ اس سے خون کے پلازما اور پھیپھڑوں میں اینٹی وائرل ایجنٹس کی تعداد بڑھتے ہوئے دیکھی گئی ہے۔

’ اس سے کئی اقسام کی شدتوں والے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کیا گیا ہے،‘ ویرونِکا نے کہا۔

اس سے قبل روسی حکومت نے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 228 نئے مریضوں کا اعتراف کیا جس کے بعد پورے ملک میں مریضوں کی کل تعداد 1264 ہوگئی ہے۔ اب تک چھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ 49 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔

روس نے وائرس کے پھیلاؤ کو مزید روکنے کے لیے غیرملکیوں کی آمد اور بیرونِ ملک پروازوں پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔

چین کے شہر ووہان سے نمودار ہونے والے کورونا وائرس سے اب تک دنیا کے 200 ممالک متاثر ہوئے ہیں۔ مریضوں کی تعداد چھ لاکھ سےزائد ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 28 ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔

The post روس نے کورونا وائرس مرض کےلیے دوا بنانے کا دعویٰ کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3bBuhP4

کورنا وائرس اور کچھ احتیاطی تدابیر

 کراچی: کرونا وائرس اس وقت عالمی وبائی صورت ختیار کرچکا ہے۔ ایشیاء، امریکہ، یورپ ، افریقہ سمیت دنیا کے ہر گوشے میں اس خطرناک وائرس سے جنگ جارہی ہے ۔ گزشتہ چند ماہ میں کرونا وائرس کی وباء کے متعلق عوامی آگاہی بہت عام ہوچکی ہے جس کی بدولت عوام کی بڑی تعداد اب اس مسئلے کی سنجیدگی اور حسّاسیت سے واقف ہوچکی ہے۔ پاکستانی سماج میں بڑی تعداد میں لوگ اپنی ناخواندگی اورلاعلمی کی وجہ سے عملی اقدامات کرنے سے قاصرہیں۔ اس وقت پاکستان جس خطرے کا شکار ہے ، مستقل قریب میں اس کے نتائج انتہائی ہولناک ظاہر ہوسکتے ہیں۔

کرونا وائرس کے موجودہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت کرونا کے مریضوں کی تعداد 1300سے زیادہ ہے ۔ کرونا ایک متاثرہ شخص سے کم از کم دو سے تین افراد کو منتقل ہوجاتا ہے۔ اگر دنیا بھر میں یہ وائرس اسی شرح سے پھیلتا رہے تو اگلے دو ماہ میں یہ تعداد 21 لاکھ ہوجانے کا خدشہ ہے اور اس طرح متوقع اموات ایک لاکھ تک ہوسکتی ہیں ۔ پاکستان میں موجودہ ہیلتھ کیئر انفرا اسٹرکچر اتنی بڑی تعداد میں مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہے ۔ اٹلی اور ایران کے موجودہ حالات اس تکلیف دہ صورتِ حال کا مظہرہےں ۔

کرونا سے متاثرہ زیادہ تر صحت مند افراد دو ہفتوں میں خود اپنی قوتِ مدافعت سے صحت یاب ہوجاتے ہیں۔جبکہ ایسے افراد جو کسی دائمی بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے کمزوری کا شکار ہوتے ہیں انہیں انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑجاتی ہے۔ چونکہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں سانس لینے کا نظام متاثر ہوتا ہے اس لیے مریض کو مصنوعی سانس یعنی وینٹی لیٹر کی ضرورت اکثر پڑجاتی ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق پورے پاکستان میں وینٹی لیٹرز کی تعدادتین ہزار سے کم ہے جوکہ بہت قلیل ہے یعنی اگرحالات خراب ہوتے ہیں تو اکثر مریضوں کو بچانے کے لیے وینٹی لیٹر موجود نہیں ہونگے جس سے شرح اموات کئی گنا بڑھ سکتی ہے ۔

کرونا کا ٹیسٹ جس مشین کے ذریعے ہوتا ہے اس کو رئیل ٹائم پی سی آر مشین کہتے ہیں،یہ ایک مہنگی مشین ہے جس کی قیمت تیس سے ساٹھ لاکھ روپے تک ہے ۔ ملک میں اس مشین کی تعداد بھی محدود ہے جس کی وجہ سے تشخیص کی رفتار سُست روی کا شکار ہوگی ۔ دیگر مشکلات میں تشخیص کے لیے استعمال ہونے والی خاص ٹیوب جسے سویب میڈیا کنٹینر کہتے ہیں کی فراہمی ہے۔ یہ ایک ایسی ٹیوب ہوتی ہے جس میں تشخیصی نمونہ رکھا جاتا ہے اور اس میں موجود مائع نمونہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ ان سویب کنٹینراور دیگر اشیاء کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب اور محدود فراہمی مستقبل قریب میں ایک مسئلہ بن سکتی ہے۔اس کے علاوہ جو تشخیص اور علاج کے لیے تربیت یافتہ افراد کی تعداد بہت کم ہے۔ مستقبل میں یہ مسئلہ ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

کرونا اور احتیاطی تدابیر

آخر میں کچھ باتیں جنہیں اختیار کرنے سے کرونا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیجئے۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں ۔ سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر اُبھری ہوئی پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں ۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں ۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے ۔ گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔ اس طرح دن میں ایک مرتبہ گرم بھاپ لینے سے سانس کی نالی اور سائینس کی بھی صفائی ہوجاتی ہے ۔

اس وائرس کے خلاف جنگ میں طاقتور دفاعی نظام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے لیے آٹھ گھنٹے کی نیند بہت ضروری ہے کیونکہ اس دوران دفاعی نظام اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتا ہے اور دفاع کو مضبوظ بناتا ہے ۔ اس کے علاوہ معیاری اور متوازن غذا کی بھی بہت اہمیت ہے ۔

اس مسئلے کی سنجیدگی کو سمجھنا اور عملی اقدامات کرنا ہر فرد کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ حکومتی اقدامات کا احترام کرنا اور احتیاطی تدابیر کو مکمل اختیار کرنا نہ صرف ایک انسانی اور قومی فریضہ ہے بلکہ اپنے پیاروں کی محبت کا تقاضہ بھی یہی ہے۔ خود کو اور اپنے گھر والوں کو گھروں تک محدود رکھنا انتہائی ضروری قدم ہے ۔ انتہائی ضروری حالات میں ہی گھر سے باہر نکلنا چاہیے ۔ کرونا سے متوقع انسانی جانوں کا نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے اس وقت سب سے زیادہ ضروری امر فرد کا محتاط اور ذمہ دارانہ برتاو ہے ۔ جو قو میں مشکل حالات میں صبر کے ساتھ تنظیم اور اتحاد کا مظاہرہ کرتی ہیں وہی کامیابی سے اپنا توازن برقرار رکھ پاتی ہیں۔

اس تحریر کے مصنف جامعہ کراچی میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی، ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیور میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ میں سینیئر ریسرچ آفیسر ہیں۔

The post کورنا وائرس اور کچھ احتیاطی تدابیر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2wxQlv3

Friday, 27 March 2020

کورونا سے جنگ: صرف دس دن میں ’’دستی‘‘ وینٹی لیٹر ایجاد کرلیا گیا

لندن: ویکیوم کلینر بنانے والی برطانوی کمپنی نے صرف دس دن میں ایک نیا وینٹی لیٹر ایجاد کرلیا ہے جو کورونا وائرس سے شدید متاثرہ مریضوں کو طبّی امداد پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

خبروں کے مطابق، ویکیوم کلینر اور ایسی دوسری گھریلو مصنوعات بنانے والی برطانوی کمپنی ’’ڈائسن‘‘ نے دس دنوں میں ’’کووینٹ‘‘ (CoVent) کے نام سے ایک نیا وینٹی لیٹر نہ صرف ایجاد کرلیا ہے بلکہ تجارتی پیمانے پر اس کی فوری تیاری کا منصوبہ بھی بنا لیا ہے۔

یہ وینٹی لیٹر بہت ہلکا پھلکا اور مختصر ہے جسے بستر کے ساتھ رکھ کر وہ سارے کام لیے جاسکتے ہیں جو اسپتالوں میں بھاری بھرکم وینٹی لیٹرز سے لیے جاتے ہیں۔

کمپنی کے بانی اور سربراہ جیمس ڈائسن کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ ہفتہ پہلے انہیں برطانوی وزیرِاعظم بورس جونسن نے فون کرکے پوچھا کہ کیا وہ وینٹی لیٹرز فراہم کرکے وہاں کی ’’نیشنل ہیلتھ سروس‘‘ کی مدد کرسکتے ہیں؟ جس پر انہوں نے اپنی ٹیم کو نیا وینٹی لیٹر ڈیزائن کرنے میں لگا دیا، جو دس دنوں میں پیداوار کے مرحلے میں جانے کےلیے تیار ہے۔

ڈائسن کمپنی نے فوری طور پر ایسے 15,000 وینٹی لیٹرز تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جن میں سے 10 ہزار برطانوی اداروں کے سپرد کیے جائیں گے جبکہ باقی 5000 وینٹی لیٹرز دوسرے ممالک کو عطیہ کردیئے جائیں گے۔

اس وینٹی لیٹر کی فی یونٹ قیمت کیا ہوگی؟ اس کے جواب میں جیمس ڈائسن کہتے ہیں کہ فی الحال قیمت متعین کرنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ دنیا کی ہنگامی ضرورت کم سے کم وقت میں پوری کی جائے۔

واضح رہے کہ ناول کورونا وائرس ’’کووِڈ 19‘‘ کے شدید متاثرین کو سانس لینے میں انتہائی مشکل کا سامنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کےلیے وینٹی لیٹر (مصنوعی تنفس دینے والی مشین) کی ضرورت پڑتی ہے لیکن امریکا اور برطانیہ سمیت، دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں وینٹی لیٹرز کی تعداد، حالیہ ضرورت سے کہیں کم ہے۔

امید ہے کہ ڈائسن کمپنی کا یہ وینٹی لیٹر اس وائرس کے خلاف جنگ میں ہمارے لیے نئی کمک ثابت ہوگا۔

The post کورونا سے جنگ: صرف دس دن میں ’’دستی‘‘ وینٹی لیٹر ایجاد کرلیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3bu1A6r

Thursday, 26 March 2020

ہمارے دانتوں میں زندگی کا اہم ریکارڈ جمع ہوتا رہتا ہے

 نیویارک: ایک نئی تحقیق کے مطابق جس طرح درختوں کے تنے میں دائرے موسم اور خود درخت کا احوال بتاتے ہیں عین اسی طرح دانتوں کی سطح پر آڑھی ترچھی لکیریں پوری زندگی کی کہانی بیان کرسکتی ہیں۔ اس طرح دانت ہماری زندگی کی داستان بیان کرتے ہیں۔

نیویارک یونیورسٹی میں دندانی بشریات کے ماہر پروفیسر پاؤلو کیریٹو کہتے ہیں کہ دانت کو جسم کا خاموش اور مردہ حصہ نہ سمجھئے کیونکہ ان میں زندگی کی تمام کیفیات کا ریکارڈ تحریر ہوتا ہے۔

اپنے مطالعے میں انہوں نے 25 سے 70 سالہ فوت شدہ افراد کے 47 دانتوں کا مطالعہ کیا جو افریقہ کے ملاوی اور بانٹو علاقوں میں رہتے تھے۔ ان تمام افراد کی زندگی اور صحت کا حوالہ پہلے سے ہی مرتب شدہ تھا۔ ماہرین کے مطابق دانتوں کے جڑ کے قریب موجود ایک مٹیریل ، سیمینٹم ہوتا ہے جس پر لکیریں بنتی رہتی ہیں۔ ان میں جسمانی نشوونما اور دیگر کیفیات کا ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔

خردبین سے دیکھنے پر لوگوں کی پیدائش، خواتین میں سن یاس یا مینوپاز، بیماری اور دیہات سے شہروں تک منتقلی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ اگرچہ ابھی چند درجن دانتوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے لیکن ان میں موجود اشارے فوت شدہ افراد کی زندگی کے عین مطابق دیکھے گئے ہیں۔

اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ سیمینٹیم میں موجود یہ ریکارڈ مستقبل قریب میں بہت سے لوگوں کی زندگی سے پردہ اٹھاسکے گا۔ اس کا استعمال جرائم کی تفتیش سے لے کر آثارِ قدیمہ تک میں ممکن ہوگا۔

The post ہمارے دانتوں میں زندگی کا اہم ریکارڈ جمع ہوتا رہتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2QQglIK

صفائی کی یہ گھریلو اشیا کورونا وائرس ختم کرسکتی ہیں

 لندن: کورونا وائرس کے مرض اور خوف نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اپنی بالکل نئی کیفیت کی باعث اس وائرس کو اب بھی گہرائی میں سمجھا جارہا ہے۔ لیکن اب ہم جان چکے ہیں کہ کورونا وائرس ہوا میں چند گھنٹے اور کسی سطح پر زیادہ سے زیادہ 9 روز تک کے لیے زندہ رہ سکتا ہے۔

کورونا کے مریض کے انسانی لعاب اور ناک کے مائع میں وائرس کی بھرپور مقدار موجود ہوتی ہے لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ انسانی فضلے میں بھی یہ وائرس موجود ہوسکتا ہے۔

اس سے قبل کہ ہم گھریلو اشیا سے کورونا وائرس کی صفائی پر بات کریں، پہلے یہ جان لیجئے کہ یہ وائرس کس سطح پر کتنے روز تک برقرار رہتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ وائرس اسٹیل اور پلاسٹک پر 9 روز تک کے لیے زندہ رہ سکتا ہے۔ اس پر بعض ماہرین نے کہا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ نو دن بعد بھی یہ وائرس بیمار کرسکے گا بلکہ اس کے کچھ حصے غائب ہوسکتے ہیں اور شدت کم ہوجاتی ہے۔

دوسری جانب کورونا وائرس اگر کاغذ یا گتے پر ہو تو چند گھنٹوں میں ازخود ختم ہوسکتا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کئی گھریلو اشیا سے مختلف سطحوں کو صاف کیا جائے تو کورونا وائرس ازخود ختم ہوسکتا ہے۔ ان میں سب سے پہلے صابن اور پانی کا جائزہ لیتے ہیں:

صابن اور پانی

صابن اور پانی کو وائرس کے خاتمے میں پہلی دفاعی صف قرار دیا جاسکتا ہے۔ صابونی کیمیکل وائرس کے بیرونی خول سے عمل کرکے وائرس کو اچک لیتے ہیں جسے بعد میں پانی سے بہایا جاسکتا ہے۔

مائع بلیچ

مائع بلیچ میں ایک خاص کیمیکل، سوڈیم ہائپوکلورائیڈ پایا جاتا ہے جو وائرسوں کو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پلیچ ملے پانی کو کسی بھی سطح پر 10 سے 15 منٹ رہنے دیجئے اور اس کے بعد صاف اور خشک کپڑے سے اس سطح کو صاف کرلیجئے۔ بہت امکان ہے کہ وہ جگہ صاف ہوجائے گی۔

اسپرٹ

ہسپتالوں میں عام استعمال ہونے والے سرجیکل اسپرٹ حقیقت میں الکحل ایتھانول ہوتا ہے۔ یہ صرف 30 سیکنڈ میں کورونا وائرس کو تہس نہس کردیتا ہے۔ الکحل وائرس کے آر این اے کو تباہ کرکے اس کے بڑھنے کی صلاحیت کو ختم کردیتی ہے۔ اگر آپ کے گھر میں اسپرٹ ہے تو کپڑا بھگوکر اس سے میز، کی بورڈ اوردروازے کے ہینڈل ضرور صاف کیجئے۔

ہینڈ سینٹائزر

پاکستان میں اس وقت ہینڈ سینیٹائزر کی شدید قلت ہے لیکن اوپر صابن اور بلیچ سے بھی یہی کام لیا جاسکتا ہے۔ اگر ہینڈ سینیٹائزر میں الکحل کی شرح 70 فیصد یا اس سے زائد ہے تب ہی وہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ ہینڈ سینیٹائزر کسی بھی طرح میتھانول والے نہ ہوں کیونکہ میتھانول سے بنے ہینڈ سینیٹائزر بہت نقصاندہ ہوسکتے ہیں۔

The post صفائی کی یہ گھریلو اشیا کورونا وائرس ختم کرسکتی ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/39fiPa8

Wednesday, 25 March 2020

کورونا وائرس سے نجات دینے والی غذائیں اور معمولات

جب سے حضرت انسان نے خوب سے خوب تر کی تلاش میں ارتقائی مراحل کے سفر کا آغاز کرتے ہوئے نت نئی ایجادات کا ڈول ڈالا ہے تب سے جہاں اس نے اپنے شب وروز آسان اور پر تعیش بنائے ہیں، وہیں اسے آئے روز مختلف مسائل و مصائب کا سامنا بھی ہے۔

گزشتہ دو اڑھائی صدیوں سے نئی سہولتوں کی دریافت کے ساتھ ساتھ اسے نئے امراض سے بھی واسطہ پڑرہا ہے۔طاعون کی وبا سے لے کر ہسپانوی انفلوئنزا تک، ایڈز کی ہلاکت خیزیوں سے لے کر سارس وائرس کی تباہ کاریوں تک،سوائن فلو،برڈ فلو،زیکا،نفھاہ اور ایبولا وائرسز کی وباؤں کے اثرات ابھی معدوم نہیں ہوئے تھے کہ کورونا وائرس موت کا بگل بجاتے آدھمکا۔

وبائی امراض کی پیدائش و افزائش پر غور کیا جائے تو ایک حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ مادی ارتقاء نے سہولتوں کے ساتھ ساتھ مشکلات و مسائل کو بھی جنم دیا ہے۔ ماہرین ایک مرض پر قابو پانے ہی لگتے ہیں کہ دوسری بیماری تباہی کے روپ میں وارد ہوجاتی ہے۔ دنیا میں تمام ترقیاں سائنس کے بل بوتے پر ممکن ہوسکی ہیں لیکن دھیان رہے کہ سائنس اور فطرت میں ہم آہنگی پیدا کیے بنا ہر ترقی ’ترقی معکوس‘ ہی رہے گی کیونکہ سائنس فطرت کا جز ہے جبکہ فطرت ایک مکمل طاقت ہے اور کائنات کے تمام علوم وفنون لوازمات و آلات فطرت سے ہی جڑے ہوئے ہیں۔

کائنات کی سب سے افضل تخلیق حضرت انسان ہے اور انسان کی تخلیق فطرت پر ہوئی ہے اور اس کی بقاء و قیام کیلیے فطری اصولوں کی پاسداری ہی سب سے بڑا ذریعہ ہے۔انسانی وجود میں شامل عناصر ہوا، پانی، مٹی اور آگ کے مزاج میں توازن اور ہم آہنگی قائم رہنا مثالی تن درستی اور صحت مند زندگی کا بہترین اظہار ہے۔مزاج میں توازن قائم رہنے سے انسانی بدن کا دفاعی نظام جسے طبی ماہرین ’قوت مدافعت‘ کہتے ہیں مضبوط رہتے ہوئے امراض کے حملوں سے بدن کی حفاظت کرتی ہے۔گرمی،سردی،تری اور خشکی میں توازن اور تناسب سے ایک بدن صحت مند و توانا رہتا ہے۔جب کہیں مزاج میں بگاڑ اور اخلاط میں افراط و تفریط پیدا ہوتی ہے توبدنِ انسانی کا دفاعی نظام کمزور ہوکر بیماریاں سر اٹھانے لگتی ہیں۔

قدیم طبی ماہرین اور طب نبوی سے متعلقہ معالجین جانتے ہیں کہ زیادہ تر امراض مزاج میں سردی اور خشکی بڑھ جانے سے پیدا ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بوڑھے افراد امراض کے نرغے میں جلد آجاتے ہیں۔عام طور پر 40سال کے بعد بدن انسانی میں سردی اور خشکی غالب آنے لگتی ہے۔سردی اور خشکی سے بیماریاں پیدا ہونے کی منطق جدید میڈیکل سائنس کی روسے بھی ثابت ہوچکی ہے۔جدید میڈیکل سائنس یہ مانتی ہے کہ بدن میں مطلوبہ آکسیجن کی رسد کم ہونے یا خلیات کو آکسیجن کی مناسب مقدار مہیا نہ ہونے سے خلیات مرنے لگتے ہیں۔ کولیسٹرول، یورک ایسڈ اور شوگر سمیت تمام مہلک اور خطرناک امراض خون میں آکسیجن کی مطلوبہ مقدار کم ہونے کے نتیجے میں ہی بدن انسانی پر مسلط ہوتے ہیں۔پس ثابت ہوا کہ قوت مدافعت کمزور ہونے کا سب سے بڑا سبب ہمارے خون میں آکسیجن کی کمی واقع ہونا ہے۔ زیر نظر سطور میں ہم بدن میں آکسیجن کی مطلوبہ مقدار کی فراہمی اور قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے لوازمات پر روشنی ڈالیں گے:

روز مرہ معمولات

1۔ انسانی بدن میں خون کی گردش اور رسد کو متوازن کرنے کا پہترین اور سب سے بڑا قدرتی ہتھیار ورزش ہے۔ورزش کرنے سے بدن انسانی کے خلیات میں تازہ آکسیجن کی فراہمی آسانی کے ساتھ ہوجاتی ہے۔ورزش ہمیشہ سورج کی روشنی اور تازہ آب وہوا میں کرنی چاہیے اور بدن کے پسینے میں شرابور ہونے تک کرنی چاہیے۔

2۔ نیند بھی انسانی صحت اور قوت مدافعت کو بحال کرنے کے لیے بنیادی جز ہے۔ایک رات میں کم از کم سات گھنٹے متواتر سونا بہترین صحت کا لازمی خاصہ ہے۔ نیند کی کمی بھی بدن انسانی پر امراض مسلط کرنے کا سبب بنتی ہے۔

3۔ متوازن اور توانائی سے بھرپور غذاؤں کا روز مرہ مناسب استعمال بھی صحت مند بدن کے لیے لازمی شرط ہے۔غذا ہمیشہ ہلکی، سادہ، زود ہضم مگر توانائی سے لبریز استعمال کی جانی چاہیے۔ ثقیل،دیر ہضم، بادی، ترش اور مرغن غذاؤں سے پرہیز ضروری ہے۔

4۔ نظام ہضم یعنی میٹابولزم متحرک اور مضبوط ہونا بھی صحت مند زندگی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔قبض اور کمزور نظام ہضم بھی لا تعداد امراض پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔صحت مند زندگی اور مضبوط قوت مدافعت کے لیے قبض کے خبیث مرض کو ہمیشہ قریب نہ آنے دیں۔

5۔ اسلام صفائی و ستھرائی کا دین ہے۔ پنجگانہ نماز اس کی بہترین مثال ہے۔صفائی کو نصف ایمان تک کہا گیا۔پابند صوم و صلاۃ افراد کے چہروں کی چمک اس بات کی غماز ہوتی ہے کہ وضو کرنے سے چہرے کے خلیات تک تازہ آکسیجن کی رسد باقاعدہ رہتی ہے۔موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو اسلام اپنے ماننے والوں کو ہمہ وقت پاکیزہ رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔باقاعدہ نہانے سے بدن کے مسام کھلے رہتے ہیں جس سے بدنی خلیات کو تازہ آکسیجن مہیا ہوتی رہتی ہے۔ ہاتھوں کو وقفے وقفے سے دھونا ہی کورونا سے بہترین حفاظت ہے۔اس حوالے سے سینیٹائیزر کا استعمال بھی بہترین آپشن ہوسکتا ہے لیکن مارکیٹ میں دستیاب سینیٹائیزر میں دو قباحتیں سامنے آرہی ہیں:

1۔ تمام سینیٹائیزر الکوحل سے تیار شدہ ہونے کی وجہ سے مذہبی طبقہ اس کے استعمال سے گریزاں ہے۔

2۔ الکوحل سے تیار سینیٹائزر کے استعمال سے جلدی مسائل سامنے آرہے ہیں۔ایسی صورتحال میں قدرتی اجزا سے تیار سینیٹائزر بہترین ثابت ہوسکتے ہیں۔ قدرتی سینیٹائزر بنانے کے اجزاء ست اجوائن،ست پودینہ اور ست کافور ہم وزن باہم ملا کر کسی شیشے کی بوتل میں چند منٹ دھوپ میں رکھیں۔قدرتی سینیٹائزر تیار ہے۔حسب ضرورت پانی میں چند قطرے ملا کر ہاتھ دھوئیں یا صرف محلول کے دو تین قطرے ہاتھوں پر مل لینا کافی ہیں۔جب تک یہ محلول ہاتھوں پر لگا رہے گا کسی قسم کا کوئی وائرس یا جراثیم قریب نہیں آئے گا۔اسی طرح اس کے چند قطرے پانی میں ملا کر دروازوں اور دوسری جگہوں پر سپرے کرنے سے وائرس اور جراثیم کا فوری خاتمہ ہوجائے گا۔

قوت مدافعت بڑھانے والی غذائیں

کھجور

کھجور بالخصوص عجوہ کھجور بدن انسانی کی قوت مدافعت میں اضافے کے لیے بہترین قدرتی ہتھیار ہے۔طب نبوی کے مطابق باقاعدہ عجوہ کھجور استعمال کرنے والے پر زہر بھی اثر انداز نہیں ہوتا۔وائرس کے لغوی معنی بھی زہر ہی کے ہیں۔ روزانہ تین سے پانچ یا سات عجوہ کھجوریں نہار منہ کھانا بھی ہر قسم کے زہریلے امراض سے قدرتی حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے۔

شہد

شہد کی شفائی خصوصیات کسی بھی صاحب شعور سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔کلام الٰٰٰہی میں حکیم کائنات نے شہد کی افادیت، غذائیت اور اہمیت کا بڑے واضح انداز میں تذکرہ کرکے انسانیت کو اس سے روشناس کروادیا ہے۔ حکیم اعظم حضرت محمد ﷺ نے عملی طور پر شہد کے فوائد کو ہم پر ثابت بھی کیا ہے۔روزانہ صبح و شام، نہار منہ حسب ضرورت شہد کا استعمال بدن کی قوت مدافعت میں اضافے کا قدرتی ذریعہ ہے۔

کلونجی

کالا دانہ جسے عرف عام میں ’کلونجی‘ کہاجاتا ہے۔احادیث مبارکہ میں اس کی دوائی اہمیت اور شفائی افادیت بارے کئی بار مذکور ہے۔کلونجی اپنے مزاج کی مناسبت سے بدن کی خشکی اور سردی کو زائل کر کے قوت مدبرہ بدن کو متحرک کرتی ہے۔ قوت مدبرہ بدن کی تحریک ہی قوت مدافعت کی مضبوطی کی دلیل ہے۔نہار منہ ایک سے، تینگرام تک کلونجی حسبِ گنجائش شہد میں ملا کر کھانے سے بھی بدن انسانی میں بیماریوں کے خلاف دفاعی طاقت مضبوط ہوتی ہے۔

زیتون

زیتون کا پھل اور تیل بھی قوت مدافعت بدن میں اضافے کا بہترین ذریعہ ہے۔عام طور پر زیتون کے پھل کی دستیابی آسان نہیں ہوتی لہٰذا روغن زیتون میں شہد ہم وزن ملا کر کھانا بے حد فوائد کا باعث ہے۔روغن زیتون کو دودھ ، سالن یا کسی مشروب کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 بادام روغن

بادام روغن ملین اور وٹامنز سے بھرپور ہے۔اس کا استعمال نہ صرف قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے بلکہ یہ پھیپھڑوں سے بلغم نکالنے اور قبض دور کرنے میں بھی بے مثال فوائد رکھتا ہے۔

دو سے چارچمچ روغن بادام دودھ یا کسی پھل کے رس یا دیسی مرغی کی یخنی میں ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

روز مرہ خوراک

روز مرہ خوراک میںکیلا،خشک میوہ جات میں انجیر اور مغز بادام کا استعمال بہترین نتائج دیتا ہے۔

ترشے پھلوں کے رس جیسے کینو، مسمی وغیرہ بکثرت لیکن حسب گنجائش پیے جائیں۔ ترکاریوں میں کھیرا، مولی اور گاجر کا استعمال بھی بہترین ہے۔ سرکہ سیب سرکہ انگوری میں پانی ملا کر پینا بھی بدن کے دفاعی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔پھلوں اور پھلوں کے رس میں کالی مرچ اور کالے نمک کا سفوف حسب ذائقہ شامل کرنا بھی مفید ہوتا ہے۔ دیسی مرغی کی یخنی،انڈہ،اور شوربے والا سالن چپاتی بہترین غذا ہے۔

کورونا کے علاج میں معاون قدرتی گھریلو تراکیب

گلے میں خراش اور ورم کی کیفیت دور کرنے کے لیے گرم پانی میں نمک اور شہد ملا کر دو گھنٹے کے وقفے سے غرارے کریں،گلے کی خراش اور سوجن میں فوری افاقہ ہوگا۔ پانی ابال کر بھاپ لیں، یہ عمل وقفے وقفے سے کرتے رہیں۔اسی طرح پینے کے لیے نیم گرم پانی استعمال کرنا زیادہ فوائد کا حامل ہوتا ہے۔سانس کی تنگی میں الائچی کلاں کے قہوے میں شہد ملا کر پینے سے سانس کی روانی بحال ہوجاتی ہے۔دار چینی، لونگ، ادرک اور جلوتری کا قہوہ پکا کر حسب ضرورت شہد ملا کر دن میں دو سے تین بار مریض کو استعمال کروائیں۔ پھیپھپڑوں کے ورم اور ہر طرح کے وائر س سے نجات دلانے میں بہترین معاون قدرتی ترکیب ہے۔ کورونا کے مریض کو ادرک والی چائے لازمی پینی چاہیے۔ بہی دانہ 3گرام، سپستاں 3گرام اور عناب 5 عدد ایک کپ پانی میں ابال کر شربت بنفشہ دو چمچ ملا کر نیم گرم دن میں چار بار پلائیں۔ فوری اور سریع الاثر ترکیب ہے۔ سانس لینے میں دقت کی صورت میں چھاتی اور کندھوں کے درمیان پشت پر کیسٹر آئل کا ہلکا مساج کرنے سے بھی فوری سانس کی روانی بحال ہونے میں مدد ملتی ہے۔ خون میں آکسیجن کی روانی مناسب اور باقاعدہ کرنے کے لیے مرچ سیاہ اور اجوائن بہت ہی مفید اور فوری اثرات کی حامل نباتات ہیں۔ دھیان رہے کہ خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد مرچ سیاہ اور اجوائن کے استعمال سے احتراز کریں۔پورے بدن پر دیسی گھی کی مالش کر کے دھوپ میں لیٹنا جسم کی حرارت غریزی کو بر انگیختہ کرتا ہے اور بدن کو قدرتی وٹامن ڈی کی وافر مقدار مہیا ہوتی ہے۔

غذائی پرہیز

وبائی دنوں میں ہلکی، سادہ زود ہضم لیکن غذائیت سے بھرپور خوراک کھانی چاہیے۔بڑا گوشت، چاول،کولا مشروبات، بیکری مصنوعات،بیگن،چکنائیاں،مٹھائیاں،مرغن ، ثقیل، بادی اور دیر ہضم غذائیں کھانے سے پرہیز کریں ۔

روحانی معمولات

آفات و بلیات سے حفاظت کی صبح و شام کی مسنون دعائیں بعد نماز فجر اور نماز مغرب لازمی پڑھیں۔نماز فجر کے ساتھ سورہ فاتحہ سات بار تلاوت کر کے ہاتھوں پر پھونک مار کر پورے بدن پر ہاتھ مس کریں۔سورہ فاتحہ کو آیت شفاء سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سورہ یٰسین سمیت مقدور بھر قرآن پاک کی تلاوت لازمی کریں۔اللہ کے کلام میں حرف حرف شفاء ہے۔اسی طرح روزہ رکھنے سے نہ صرف میٹابولزم متحرک اور فعال ہوتا ہے بلکہ روحانی لحاظ سے مضبوطی پیدا ہوکر بدن کی قوت برداشت میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔پیر اور جمعرات کے ایام میں روزہ رکھنا مسنون بھی ہے۔

صدقہ بلا کو ٹالتا ہے

صدقہ اور دعا دو ایسے ہتھیار ہیں موت کے علاوہ ہر مرض، ہر مصیبت اور آفت و بلا سے محفوظ رکھتے ہیں۔امراض اور آفات سے حفاظت کی نیت سے حسب توفیق ہر صبح صدقہ نکالنا بھی ناگہانی آفتوں اور مہلک امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ہماری دعا ہے کہ رب کریم اپنے فضل کے صدقے پوری انسانیت کو کورونا کی آزمائش سے نجات دے۔آمین۔

niazdayal@gmail.com

 

The post کورونا وائرس سے نجات دینے والی غذائیں اور معمولات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2JgvZsN

خون میں مضر بیکٹیریا کی فوری شناخت کرنے والا ننھا سا آلہ

نیو جرسی: رٹگرز یونیورسٹی کے انجینئروں نے دیگر ماہرین کے اشتراک سے ایک ایسا چھوٹا سا آلہ ایجاد کرلیا ہے جو خون میں موجود، مضر بیکٹیریا کو بہت کم وقت میں شناخت کرسکتا ہے جبکہ اس مقصد کےلیے وہ بالکل نئی اور منفرد تکنیک سے استفادہ کرتا ہے۔

یہ آلہ کس طرح کام کرتا ہے؟ اگرچہ اس کی پوری تفصیل تو نہیں بتائی گئی ہے لیکن ریسرچ جرنل ’’اے سی ایس اپلائیڈ مٹیریلز اینڈ انٹرفیسز‘‘ میں اس حوالے سے شائع شدہ مقالے سے اتنا ضرور پتا چلتا ہے کہ خون میں موجود مضر جرثوموں کو فوری طور پر الگ کرکے تجزیہ کرنے کےلیے خاص طرح کے مقناطیسی خردبینی موتی (beads) استعمال کیے گئے ہیں۔

اسے ایجاد کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس مختصر سے آلے کی تیاری بہت آسان اور کم خرچ ہے۔ اس کا ابتدائی نمونہ صرف چند قسم کے بیکٹیریا (جراثیم) کی فوری شناخت کرسکتا ہے جسے بہتر بنایا جارہا ہے تاکہ آنے والے برسوں میں یہ کئی اقسام کے خطرناک جرثوموں کو پہچان سکے اور امراض کے خلاف جنگ میں انسانیت کی بہتر طور پر مدد کرسکے۔

اس طرح کے مختصر اور کم خرچ آلات بطورِ خاص دور دراز اور پسماندہ علاقوں کےلیے بہت مفید خیال کیے جاتے ہیں جہاں بڑی میڈیکل ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کرنے اور انہیں چلانے کے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

The post خون میں مضر بیکٹیریا کی فوری شناخت کرنے والا ننھا سا آلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2UAHKzv

پاکستان کا ٹی بی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پانچواں نمبر

کراچی: پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے صدر پروفیسر نثار احمد راؤ نے کہا ہے کہ سال 2000 سے 2018کے دوران ٹی بی کے مرض کے خلاف عالمی کوششوں کے نتیجے میں جہاں اس مرض میں مبتلا پانچ کروڑ اسی لاکھ افراد کی جانیں بچالی گئیں وہیں سال2018 میں ٹی بی کے باعث دنیا بھر میں ڈیڑھ لاکھ افراد جان سے چلے گئے جبکہ ایک کروڑ افراد اس مرض سے متاثر بھی ہوئے اور یہ مرض اب بھی دنیا میں اموات کی دس بڑی وجوہات میں شامل ہے۔

پروفیسر نثار احمد راو او آئی سی ڈی کے ڈائریکٹر بھی ہیں، ڈاؤ یونیورسٹی کے ذیلی ادارے اوجھا انسٹی ٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیز میں ورلڈ ٹی بی ڈے کے سلسلے میں منعقدہ شجرکاری کے محدود پروگرام کے بعد ڈاکٹروں سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کورونا وائرس بحران کے باعث ورلڈ ٹی بی ڈے کے سلسلے میں عوامی آگہی کی تقریبات کومنسوخ کردیا گیا ہے تاہم محدود پیمانے پر شجر کاری کی گئی ہے جس کے ذریعے پرفضا ماحول کا شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ ہمارا تنفس کا نظام کسی بھی بیماری سے محفوظ رہے انھوں نے بتایاکہ پورے اوجھا کیمپس اور اس کے اطراف میں عوامی آگہی کیلیے بینرز لگادیے گئے ہیں۔

اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر او آئی سی ڈی ڈاکٹر ندیم احمد، ڈاکٹر مرزا سیف اللہ بیگ اور دیگر نے پودے لگائے، ڈاکٹر نثار احمد راؤ نے کہا کہ اب بھی سالانہ بنیادوں پر لاکھوں لوگ اس بیماری سے متاثر ہورہے ہیں عالمی سطح پر اس بیماری کا بہ طور وبائی بیماری خاتمہ کرنے کے لیے2030 کا ہدف مقرر کیا گیا ہے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹی بی کے خاتمے کی کوششوں کے نتیجے میں کمی ضرور آئی ہے مگر ابھی کرنے کا کافی کام باقی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ آبادی میں سالانہ 265 افراد ٹی بی سے متاثر ہوتے ہیں جس کی رو سے سالانہ 5 لاکھ62 ہزار افراد متاثر ہورہے ہیں انھوں نے کہاکہ آگہی نہ ہونے کے باعث ٹی بی سے متاثر ایک شخص سے دس سے پندرہ قریبی لوگ اس بیماری کا شکار بن جاتے ہیں اس لیے اب بھی پاکستان دنیا کے دوسو دو ملکوں میں سے ٹی بی سے زیادہ متاثر30 ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں قومی سطح پر ٹی بی کنٹرول کرنے کے اقدامات کیے جارہے دوہزار چھ میں سالانہ بنیاد پرٹی بی کے کیسز کو پانچ فیصد کم کرنے کے ہدف پر کام شروع ہوااس میں کسی حد تک کامیابی ہوئی پاکستان سمیت دنیا بھر میں ٹی بی کے مریضوں کی ریکوری کی شرح چونسٹھ فیصد ہے جبکہ دوہزار اٹھارہ میں ٹی بی سے موت کے منہ میں جانے والوں کی تعداد تینتالیس ہزار ہے۔

ٹی بی کی گلوبل رپورٹ دو ہزار انیس کے مطابق ٹی بی سے اموات کی شرح میں واضح کمی دیکھی گئی جو فی لاکھ آبادی پر 56 ہلاکتوں سے کم ہوکرصرف بیس رہ گئی ہیں انھوں نے کہاکہ سندھ میں 2000 کے دوران شروع کیے جانے والے ڈاٹس پروگرام کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں ٹی بی کے مسنگ مریضوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے اور متاثرین کا تشخیص کے بعد علاج کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں شرح اموات میں بھی کمی آئی ہے اور شرح اموات کم کرنے کے ہدف کو سالانہ بنیادوں پر بڑھا یا جارہاہے۔

ڈاکٹر نثار احمد راؤ نے کہا کہ کورونا ایمرجنسی کے سلسلے میں اوجھا انسٹی ٹیوٹ میں ڈاکٹرز اورعملہ ہمہ وقت موجود ہے اور تندہی سے اپنے فرائض انجام دے رہاہے اس لیے ٹی بی کے بارے میں آگہی کیلیے سوشل میڈیا اور آزاد میڈیاسمیت ذرائع ابلاغ کو استعمال کیا جائے۔

The post پاکستان کا ٹی بی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پانچواں نمبر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2ybfmwv

کورونا لاعلاج،جعلی طبی مشوروں سے بچیں، عالمی طبی ماہرین

اسلام آباد: عالمی طبی ماہرین نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے 6 جعلی طبی مشوروں سے اجتناب کرنے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مشوروں میں کسی قسم کی کوئی سچائی نہیں تاہم اب تک کورونا وائرس کا مصدقہ علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے۔

یورپ کے ایک معروف طبی جریدے ’’ہیلتھ‘‘ کے مطابق چھ جعلی مشوروں میں لہسن سرفہرست ہے۔ عالمی ادارہ کے مطابق لہسن واقعی صحت بخش غذا ہے جس میں جراثیم کے خلاف مدافعت کی خصوصیات ہوتی ہیں‘ لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ لہسن کھانے سے کورونا وائرس سے تحفظ مل سکتا ہے۔

دوسرے نمبر پر ایک معجزاتی معدنیات ایم ایم ایس کو رکھا گیا ہے جس کے بارے دعوی کیا گیا ہے کہ یہ کورونا وائرس کامکمل خاتمہ کر دیتی ہے۔اس معدنیات میں کلورین ڈائی آکسائیڈ پائی جاتی ہے جو کہ ایک بلیچنگ ایجنٹ ہے۔

گذشتہ برس امریکا کی ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘ نے اس معدنیات کو پینے سے صحت کو درپیش خطرات کے حوالے سے متنبہ کیا تھا۔فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ کسی بھی تحقیق میں آگاہی نہیں ملتی کہ یہ کسی بیماری کے علاج میں کارگر ثابت ہوئی ہے۔

جریدے کے مطابق آن لائن طریقوں سے گھروں میں بنائے جانے والے جراثیم کش محلول تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔جن میں ہینڈ میڈ سینی ٹائزر بھی شامل ہیں۔ان محلول میں شامل اجزاء کا حجم ڈرگ اینڈ کنٹرول پیمانوں کے مطابق نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ انسانی جلد کو کینسر جیسے مرض سے دوچار کر سکتے ہیں۔

 

The post کورونا لاعلاج،جعلی طبی مشوروں سے بچیں، عالمی طبی ماہرین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2UIydXs

Tuesday, 24 March 2020

چین میں کرونا ٹیسٹ کے نمونے لینے اور الٹراساؤنڈ کرنے والا روبوٹ تیار

بیجنگ .: چین میں ایک ایسا روبوٹ بنالیا گیا ہے جو خطرناک وبائی ماحول میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں کرونا ٹیسٹ کے لیے تھوک کے نمونے جمع کرسکتا ہے، مریض کا الٹراساؤنڈ کرسکتا ہے اور مریض کے اعضا کی آواز سن کر ان میں مرض کی کیفیت کا اندازہ بھی کرسکتا ہے۔

کرونا کی خطرناک عالمی وبا کے پس منظر میں بنایا جانے والا یہ روبوٹ، کئی طرح سے ڈاکٹروں کی معاونت کرتا ہے اور اس طرح سب سے آگے موجود طبی عملے کو ان دیکھے خطرے سے دور رکھنے میں مدد دیتا ہے۔  اس کی تیاری کا خیال ماہرین کو چاند پر جانے والے ایک روبوٹ دیکھ کر آیا ہے جس نے اپنے روبوٹ بازو سے قمری کھدائی کے لیے بنایا گیا تھا۔

اس میں نصب جدید ترین مشینی بازو روئی کے ذریعے مریض کے لعاب کا نمونہ لے سکتا ہے اور الٹرا ساؤنڈ انجام دے سکتا ہے۔ دور بیٹھا ڈاکٹر کسی فون یا لیپ ٹاپ کے ذریعے روبوٹ کو ممکل طور پر کنٹرول کرسکتا ہے۔ اس روبوٹ کا مقصد وبائی صورتحال میں انفیکشن کو پھیلنے سے روکنا اور طبی عملے کی مدد کرنا ہے۔

The post چین میں کرونا ٹیسٹ کے نمونے لینے اور الٹراساؤنڈ کرنے والا روبوٹ تیار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2UDBUO5

Monday, 23 March 2020

سونگھنے کی حس کا اچانک خاتمہ کورونا وائرس کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے، ماہرین

لندن: برطانوی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی شخص میں ’’حسِ شامّہ‘‘ یعنی سونگھنے کی حس اچانک ختم ہوجائے تو یہ ممکنہ طور پر اس میں کورونا وائرس موجود ہونے کی علامت ہوسکتی ہے۔

یہ انکشاف انہوں نے جنوبی کوریا، چین، فرانس، اٹلی اور امریکا میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ناول کورونا وائرس/ کووِڈ19 کے 30 فیصد مریضوں نے بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے سونگھنے کی حس اچانک ختم ہوجانے کے بارے میں بتایا ہے۔

اس بات کا باضابطہ اعلان برٹش رائنولوجیکل سوسائٹی کے صدر، پروفیسر کلیئر ہوپکنز اور برٹش ایسوسی ایشن آف اوٹو رائنو لیرائنگولوجی کے صدر نرمل کمار نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا ہے۔

واضح رہے کہ ناول کورونا وائرس کی ظاہری علامات نمونیہ اور موسمی زکام سے تھوڑی سی مختلف ہیں جبکہ سونگھنے کی حس اچانک ختم ہوجانا بھی کسی دوسری وجہ سے ہوسکتا ہے تاہم کووِڈ 19 کی عالمی وبائیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ پہلو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے تاکہ اس کی بروقت تشخیص ممکن ہوسکے۔

The post سونگھنے کی حس کا اچانک خاتمہ کورونا وائرس کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے، ماہرین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2y4AiVU

Sunday, 22 March 2020

کینسر کو حقیقت میں ’سننے‘ والے نظام میں پیش رفت

 نیویارک: سائنسدانوں نے بیماریوں کو سننے والا ایک نظام بنایا ہے جو صوتی لہروں کے ذریعے کئی امراض کی سن گن لے سکتا ہے۔

یہ آلہ جسمانی خلیات (سیلز) کو اپنے اندر تھامنے والے اسٹرکچر پر صورتی لہریں پھینکتا ہے اور اس بنا پر ان کی سختی کو نوٹ کرتا ہے۔ طب کی زبان میں اسے ایکسٹرا سیلولر میٹرکس کہا جاتا ہے اور ان میں کئی طرح کے خلیات موجود ہوتے ہیں۔

جس طرح دروازے کے ٹوٹے ہوئے لاک کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مکان پر کسی نے نقب لگائی ہے ، عین اسی طرح خلیات کو گھیرے میں لئے ہوئے ایکسٹر سیلولر میٹرکس کی نرمی یا سختی کو دیکھ کر سائنسداں بتاسکتے ہیں کہ اس پرکسی بیماری مثلاً کینسر نے حملہ کیا ہے۔

ماہرین کو پوری امید ہے کہ اس کی ساخت کو دیکھتے ہوئے بیماری کی شدت کو ایک نئے انداز سے دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم بین الخلیاتی ساختی اسٹرکچر کو جاننے کے لیے ضروری تھا کہ اس کے اندر کسی طرح کی مداخلت کی جائے اور اس سے اندر کے پورے نظام کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔

اسی بنا پر پوردوا ینیورسٹی کے ماہرین نے ایک آلہ بنایا ہے جس میں ایکسٹرا سیلیولر میٹرکس رکھا جاتا ہے اور اس پر آواز کی لہریں پھینک کر اس کی نرمی یا سختی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ تحقیق رحیم رحیمی نے کی ہے جنہوں نے حیرت انگیز آلہ تیار کیا ہے۔

ہمارے ہرعضو کی ہر بافت میں ایکسٹرا سیلیولر میٹرکس جداگانہ ہوتی ہے یعنی جس طرح ہر عمارت اور علاقے کی ساخت اسکی ضرورت کے لحاظ سے الگ الگ ہوتی ہے۔ ہرمیٹرکس میں خاص طرح کے کیمیکل بھی پائے جاتے ہیں جن کی بدولت خلیات ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔

ڈاکٹر رحیمی اور ان کی ٹیم نے پہلے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر سیلیولر میٹرکس پر کسی زہر یا مادے کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے میٹرکس پر بریسٹ کینسر کے حملے کو نوٹ کرنے کا ارادہ کیا۔

اس کے لیے ایک چپ پر تجربہ گاہ بنائی گئی جس میں ایک ٹرانسمیٹر اور ریسیور بھی تھا۔ اس کے بعد ایکسٹرا سیلیولر میٹرکس اور اس کے ساتھ بعض خلیات رکھے گئے۔ ٹرانسمیٹر نے الٹراساؤنڈ لہریں خارج کیں جو ٹکرا کر ریسیور تک گئیں۔ اس کا نتیجہ ایک برقی سگنل کی صورت میں خارج ہوا جو میٹرکس کی سختی یا نرمی کو ظاہر کررہا تھا۔

اس طرح معلوم ہوا کہ کسی بھی متاثرہ میٹرکس کی شناخت اس نظام کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ اگلے مرحلے میں اس نظام کو بہتر اور مؤثر بناکر اس میں مزید تبدیلیاں کی جائیں گی۔

The post کینسر کو حقیقت میں ’سننے‘ والے نظام میں پیش رفت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2JasDYu

سندھ میں کورونا وائرس کی تشخیصی صلاحیت میں تین گنا اضافہ

 کراچی:  ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیور میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) ، جامعہ کراچی اور انڈس اسپتال کراچی کے درمیان اشتراک سے کورونا وائرس کی تشخیص کرنے کی استعداد میں تین گنا اضافہ ہوگیا ہے۔

ڈاکٹر پنجوانی سینٹر کے تحت چلنے والے تحقیقی ادارے ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی‘‘ نے انڈس اسپتال کو چار جدید پی سی آر مشین اور اعلیٰ تربیت یافتہ تحقیقی اسٹاف فراہم کیا ہے تاکہ کثیر تعداد میں آنے والے کیسز میں وائرس کی تشخیص کے عمل کو تیز کیا جاسکے۔

اس بات کا انکشاف بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی میں ہفتے کو منعقدہ ایک اجلاس کے دوران کہی، اس اجلاس میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے سینئر ریسرچ آفیسر ڈاکٹر محمد راشد، ڈاکٹر عمّار اطہر سمیت دیگر سائنسدانوں نے شرکت کی ۔

پروفیسر اقبال چوہدری نے کہاکہ سندھ حکومت اورانڈس اسپتال کی مشترکہ کوششوں سے کورونا وائرس کی تشخیص کے ٹیسٹ کیے جارہیں۔اس دوران کیسز کی زیادتی کی وجہ سے تشخیص کا عمل سستی کا شکار تھا۔ اس صورتِ حال کے پیش نظرڈاکٹر پنجوانی سینٹر جامعہ کراچی نے یہ فیصلہ کیا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے ماہرین اور چار جدید پی سی آر مشینیں اس اہم کام میں انڈس اسپتال کے پلیٹ فارم سے استعمال کی جائیں۔ انڈس اسپتال اس لحاظ سے سندھ میں مرکزی کردار ادا کررہا ہے جبکہ سندھ پاکستان میں کرونا سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ انہوں نے کہا صحت کے عالمی ادارے نے کورونا انفیکشن کی روک تھام میں اس مرض کے تشخیصی عمل کو اہم قراردیا ہے۔

ڈاکٹر اقبال چوہدری نے بتایا کہ آئی سی سی بی ایس کی مدد کے بعد انڈس ہسپتال کی تجربہ گاہوں میں روزانہ ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت 800 سے بڑھ کر 2400 ہوگئی ہے۔ ’میرے خیال میں قومی صحت کے حوالے سے جاری ہنگامی صورتحال میں جامعاتی تحقیق کے ذریعے صحت کے شعبے میں معاونت کی یہ ایک بہترین مثال ہے،‘ ڈاکٹراقبال نے کہا۔

انہوں نے کہا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی ایک جدید تحقیقی ادارہ ہے جو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر جامعہ کراچی کے زیر انتظام کام کرتا ہے ۔ ڈاکٹر محمد راشد نے کہا عوام کو ہجوم سے دور رہنے کی ضرورت ہے، بڑے شاپنگ مال جانے سے بہتر ہے کہ چھوٹی دکانوں سے شاپنگ کی جائے ۔ ڈاکٹر عمار اطہر نے کہا کہ کرونا وائرس انتہائی ہلاکت خیز ہے۔ صرف احتیاطی تدابیر سے ہی اس ہلاکت خیز وائرس سے مقابلہ ممکن ہے۔ انھوں نے کہاشہریوں کو وقتاً فوقتاً اچھے صابن سے ہاتھ دوھوتے رہنا چاہیے جبکہ الکوحل ملے سینیٹائزر کا استعمال بھی موثر ہے۔

The post سندھ میں کورونا وائرس کی تشخیصی صلاحیت میں تین گنا اضافہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2QyrP3y

چین نے کورونا وائرس ویکسین کی طبّی آزمائش شروع کردی 

بیجنگ: چین نے کورونا وائرس کی ویکسین کے لیے طبی آزمائش (کلینیکل ٹرائل) کے پہلے مرحلے کا آغاز کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں ویکسین کی آزمایش میں 18سے 60 برس کی عمر کے 108 افراد کو مختلف گروپس میں تقسیم کرکے الگ الگ مقدار میں ویکسین دی جائے گی۔ ان تمام افراد کا تعلق چین کے شہر ووہان سے ہے جہاں گزشتہ برس سب سے پہلے یہ وائرس سامنے آیا تھا۔

وائرس کے باعث پھیلنے والی عالم گیر وبا کے بعد دنیا بھر کے سائنس دانوں میں اس سے بچاؤ کی ویکسین بنانے کی دوڑ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکا کی جانب سے سیاٹل میں ممکنہ ویکسین کی تیاری کے لیے آزمائش کا آغاز کیا گیا تھا۔

تاحال دنیا میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین یا اس کے علاج کے لیے دوا نہیں بنائی جاسکی ہے۔ چین کے مقامی اخبار میں شایع ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ چین ویکسین بنانے کی جنگ میں شکست کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کا کامیاب علاج: امریکی ماہرین بھی چین کے نقشِ قدم پر

امریکا نے اس سلسلے میں 16 مارچ کو اعلان کیا تھا اور چین نے بھی اسی روز اپنی کوششوں کا آغاز کیا۔ 17 مارچ کو چین کی کلینیکل ٹرائل رجسٹری کے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اس سال کے آخر تک کورونا وائرس کی ویکسین پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین کے حتمی نتائج کے لیے 18 ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں کورونا وائرس کی ویکسین کا انسانوں پر تجربہ

 

The post چین نے کورونا وائرس ویکسین کی طبّی آزمائش شروع کردی  appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3dnoQof

Saturday, 21 March 2020

جب ذہن بوڑھا ہونے لگے

مشہور چینی کہاوت ہے کہ ’’اگر آپ کا ذہن مضبوط ہے تو تمام مشکل چیزیں آسان ہوجائیں گی، لیکن اگر ذہن کمزور ہے تو تمام آسان چیزیں مشکل ہوجائیں گی‘‘ روزمرہ کی زندگی میں اس کہاوت کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔

جو لوگ ذہنی طور پر مضبوط ہوتے ہیں وہ ناصرف اپنے نجی بلکہ کاروباری و دیگر امور کو بڑی مہارت سے دیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنی زندگی کے معاملات میں توازن نہیں رکھ پاتے وہ دراصل ان کی کم درجہ ذہنی استطاعت کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ مضبوط اعصاب کے مالک بڑی سے بڑی مشکلات کو ہمت و استقامت سے جھیل جاتے ہیں جبکہ کمزور اعصاب بعض اوقات ایک صدمے کو بھی برداشت نہیں کرپاتے۔

یہ بھی بہرحال ایک حقیقت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں جسمانی طور پر انسان ویسا تندرست و توانا نہیں رہتا۔ بالکل ویسے ہی انسانی ذہن پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ذہنی کمزوری بڑھتی عمر کی ایک نشانی تصور کی جاتی ہے لیکن اگر یہ وقت سے پہلے کسی کو اپنا شکار بنارہی ہو تو ضروری ہے کہ چوکنا ہوا جائے۔ وقت سے پہلے اور کم عمری میں ذہنی استعداد کے کم ہونے کو ایک بیماری سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کی علامات مندرجہ ذیل ہیں۔

٭عمر رسیدگی
ہمارے ذہن اور جسم میں وقت اور عمر کے ساتھ ساتھ آنے والی تبدیلیوں میں بہ نسبت ایسی شعوری خلل سے پیدا ہونے والی بیماریوں مثلاً الزائمر اور ڈیمنشیاء کے، اس حوالے سے ایک امریکی ماہر نفسیات میچل آر و سرمین کا کہنا ہے کہ ’’ایک صحت مند دماغ کے لیے یہ معمولی بات ہے کہ جب عمر رسیدگی کا عمل شروع ہو تو وہ کام سست رفتاری سے کرے کیونکہ عمر بڑھنے سے دماغ اور جسم کے درمیان مطابقت پیدا کرنے والے نیورون سست رفتار ہوجاتے ہیں جس سے جسم اور ذہن کے درمیان معلومات کا تبادلہ سست روی کا شکار ہوجاتا ہے۔

لیکن اس ضمن میں دو باتیں اہم ہیں۔ ایک تو یہ کہ تمام افراد کا ذہنی و جسمانی نظام ایک سا نہیں ہوتا۔‘‘ اس حوالے سے ڈاکٹر میچل کا کہنا ہے کہ وہ ایسے کئی افراد سے مل چکے ہیں جو سو برس کے ہونے کے باوجود ذہنی اور جسمانی طور پر ہوشمند اور چاق و چوبند ہوتے ہیں۔ دوسری چیز جو اس ضمن میں اہم ہے وہ یہ کہ جب انسان کے شعوری مسائل اس کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے لگیں جن کی علامات کو عمر رسیدگی سے پہلے محسوس کرلیا جائے تو اس وقت کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنا ناگزیر ہے۔

٭ فوری بھول جانے کا عارضہ
ذہنی عارضوں اور شعوری بیماریوں کی ابت کی جائے تو الزائمر (بھول جانے کی بیماری) ایک بڑا مرض ہے اور اس کی علامات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ماہرین کا اس حواے سے کہنا ہے کہ الزائمر شعور کے جس حصہ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے وہ ہے فوری یادداشت۔ سو ایسی صورت میں جب انسان کو چھوٹی چھوٹی باتیں بھولنے لگیں اور قلیل مدتی یادداشت متاثر ہو تو سمجھ جانا چاہیے کہ الزائمر آہستہ آہستہ حملہ آور ہورہا ہے۔

اب ان باتوں میں روزمرہ کی وہ تمام چھوٹی چھوٹی اہم باتیں ہیں جنہیں آپ بھول رہے ہیں۔ بار بار سوال دہرانا اور پہلے کی گفتگو کو بھول جانا اس کی واضح علامات ہیں۔ یہ ذہن کے کسی خاص حصے میں خرابی کے باعث پیدا ہوتا ہے اور پھر بہت سے ذہنی عارضوں کا سبب بنتا ہے۔

٭ بھول جانے کا عارضہ
کہا جاتا ہے نسیان(بھول جانے کا عارضہ) بھی ایک نعمت ہے، مگر دھیان رکھیے اگر لمبے عرصے تک باتیں اور واقعات یاد نہیں رہتے تو ممکن ہے کہ کوئی ڈیمنشیاء کی بیماری کا شکار ہوچکا ہو۔

گوکہ الزائمر کے مریضوں کے لیے لمبے عرصہ تک باتوں کو یاد نہ رکھ پانا ایک وجہ ہوسکتی ہے لیکن ڈیمنشیاء کی مختلف اقسام سے بھول جانے کے مسائل طوالت اختیار کرسکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ذہن کے اس حصے پر جو یادداشت کو لمبے عرصے تک محفوظ رکھنے کا کام کرتا ہے کوئی ایسی چوٹ پہنچی ہو یا اس کی ساخت میں کوئی بگاڑ پیدا ہوا ہو جس کے باعث وہ اپنے کام کرنے کی استطاعت کھوچکا ہو۔ یہ صورت حال خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

٭ نام اور الفاظ بھول جانا
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی نام کو یا لفظ کو یاد کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور ذہن میں یہ تصور بھی چل رہا ہوتا ہے کہ آپ اسے جانتے ہیں یا فلاں موقع پر تو لیا تھا مگر افسوسناک صورتحال ہوہ ہوتی ہے جب آپ اسے یاد نہیں کرپاتے اور بعض اوقات اس سے شرمندگی بھی اٹھانا پڑتی ہے۔ مگر زیادہ چوکنا ہونے کی ضرورت اس لمحے ہوتی ہے جب معمول کی چیزیں مثلاً اُون، ٹوسٹر، فریج، گاڑی کا سٹرینگ اور وہ چیزیں جن سے روٹین میں پالا پڑتا ہو، ان کے نام بھولنے لگیں۔

الفاظ کو بولنے میں دشواری ایک شعوری مسئلہ ہے اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ذہن کا جو حصہ ہماری لسانیات یا ہماری زبان کو کنٹرول کررہا ہوتا ہے جیسے سیکالوجی کی زبان میں ’’لیفٹ ٹیمورل‘ یا ’پیریٹئل لوب‘‘ کہتے ہیں وہ فعال نہ ہو جوکہ الزائمر کی ایک واضح نشانی ہونے کے ساتھ دماغ فالج یا صدمے کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔

٭ ڈرائیونگ میں مسائل
عموماً ڈیمنشیا کے مریضوں کو اس بیماری کی وجہ سے درپیش مشکلات و مسائل کا اندازہ نہیں ہوپاتا لیکن ان کے دوستوں خاندان اور عام لوگوں کو ان مشکلات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے جو ان مریضوں کی وجہ سے اٹھانا پڑتی ہیں۔

یہ درست ہے کہ بہت سے جسمانی عموامل جیسے کہ عمر کا بڑھتا اور جسمانی کمزوری نظر اور سماعت کو متاثر کرتے ہیں جس سے ڈرائیونگ کے دوران بھی مشکل پیش آتی ہے مگر ڈیمنشیاء اور الزائمر کے مریضوں کو راستے میں بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے راستہ بھول جانا، اپنے پیاروں کے رابطہ نمبر بھول جانااور اپنے گھرکا ایڈیس بھول جاناشامل ہیں۔ اس ضمن میں اہم پیش رفت یہ ہوسکتی ہے کہ ایسے مریض ہر وقت ایک دستی ڈائری اپنے ہمراہ رکھیں جس میں خود ان کا نام پتہ اور اپنے عزیزوں کے رابطے لکھے ہوں تاکہ ایسی صورتحال میں وہ کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچ سکیں۔

٭ مزاج اور رویے میں تبدیلی
انسان کا مزاج اور اس کا رویہ اس کی ذہنی حالت کی عکاسی کرتے ہیں۔ خود کو بوجھل اور بے حس محسوس کرنا بھی اس وقت قابل فکر ہوجاتا ہے۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر ہولزمین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’’جب رویہ بہت ناامیدی اور ڈپریشن کا مظہر ہو تو یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انسان میں شعوری طور پر کوئی خلل پیدا ہوا ہے جوکہ الزائمر کے مرض کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ منفی سوچوں سے بھی دماغی صلاحتیں متاثر ہوتی ہیں۔

٭ پریشان کن صورتحال
بعض اوقات چیزیں معمول میں ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑرہا ہوتا مگر اچانک اس روٹین میں ایسا واقعہ پیش آتا ہے جوکے ہٹ کر ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح جب جسمانی توازن میں خلل واقعہ ہوتا ہے تو یہ ڈیمنشیاء کی نشانی ہوسکتی ہے۔

دماغی خلل کی نشانیاں جسمانی طور پر بھی وضع ہوتی ہیں جیسے کہ کھڑے ہونے میں دقت پیش آنا، اپنے پیروں پر جسم کا بوجھ نہ سنبھال سکتا اور چکرانا یا بار بار سہارا تلاش کرنا۔ ایسی حالت ذہن کی ابتر صورت حال کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ بعض اوقات پارکسنز کے مرض میں بھی ایسی علامات سامنے آتی ہیں۔ اکثر افراد کو ہیولے بھی دکھائی دینے لگتے ہیں۔جو کے دماغ میں ہونے والی پیچیدگیوں کی مرہونِ منت ہوتے ہیں۔

٭سونگھنے کی صلاحیت

انسان کو دی گئی حسیات کا درست کام کرنا اس بات کی علامت ہے کہ انسان تندرست ہے۔ ایسی صورت حال جس میں کو حس اپنا کام نہ کر پا ہی ہو اس بات کی علامت ہے کہ جسم میں کہیں نہ کہیں مسئلہ ہے۔ سونگھنے کی حس کا متاثر ہونا الزائمر اور پارکنسنز کے مرض کی  علامت ہے۔

سن 2016 ء میں الزائمر کی علامات جانے کے سلسلے میں کی جانے والی ایک تحقیق  سے معلوم ہوا کے ایسے مریض عام خوشبوں جیسے کے چائے، کافی ،سگریٹ اور پھلوں کی مہک کو محسوس کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔

٭قوتِ سماعت
قوتِ سماعت کے متاثر ہونے کی ویسے تو بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے کے انفکشن ہوجانا یا کان کے پردے کمروز ہونا مگر اس کی ایک اور وجہ الزائمر بھی ہے۔ ذہن کا تعلق ان سماعت کو متاثر کرنے والی صلاحیتوں سے ہوتا ہے۔اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کو ٹھیک سے سنائی نہیں دیتا یا باوجود کوشش کسی کی بات کو سن اور سمجھ نہیں سکتے اور ابھی آپ نے بڑھاپے کی حدود کو بھی نہیں چھوا تو اس کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

٭معالج سے رجوع
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے ذہنی سطح پہ آنے والی تبدیلیاں جیسے کے شعوری مسائل اور   یاداشت کی کمزوری کو صرف بڑھتی عمر کی علامت ہی  نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ ایسی حالت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

اگریاداشت کے مسائل روزمرہ معاملات میں خلل پیدا کریں تو ایسی صورت میں فوری اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں اور مناسب طبی امداد حاصل کریں۔کم عمر میں اگر ایسی علامات ظاہر ہو رہی ہوں تو یہ خطرناک ہو سکتی ہیں۔ جو کہ آگے چل کر مزید مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں، سو احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ بروقت تشخیص اور علاج آپ کو کسی بڑی زہنی بیماری کا شکار ہونے سے بچا سکتی ہے۔

The post جب ذہن بوڑھا ہونے لگے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2vGHyqb

کورونا وائرس کا کامیاب علاج: امریکی ماہرین بھی چین کے نقشِ قدم پر

نیویارک: امریکی وبائی ماہرین نے کہا ہے کہ ناول کورونا وائرس (کووِڈ 19) کے شدید متاثرین کو ایسے لوگوں کا بلڈ پلازما (خوناب) لگانا بہتر رہے گا جو اس مرض میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب ہوچکے ہیں۔ یہ عین وہی حکمتِ عملی ہے جو چینی ماہرین کورونا وائرس کے خلاف بڑی کامیابی سے آزما چکے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیے: ناول کورونا وائرس کا توڑ؛ صحت یاب ہوجانے والوں کا بلڈ پلازما

’’دی جرنل آف کلینیکل انویسٹی گیشن‘‘ کے تازہ شمارے میں میو کلینک، نیویارک کے طبّی تحقیقی ماہرین کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ناول کورونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہونے میں کم از کم 18 مہینے لگ جائیں گے، لہذا اس وبا کی وقتی روک تھام کےلیے ضروری ہے کہ جو لوگ اس بیماری (کووِڈ 19) سے صحت یاب ہوچکے ہیں، ان کا بلڈ پلازما شدید متاثرین کو لگا دیا جائے۔

اپنے مضمون میں انہوں نے حالیہ تاریخ سے مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے بھی یہ حکمتِ عملی مؤثر ثابت ہوچکی ہے اور موجودہ ہنگامی حالات میں بھی اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

جو لوگ ناول کورونا وائرس کے حملے سے بچ گئے ہیں، ان تمام افراد کے جسمانی دفاعی نظام (امیون سسٹم) قدرتی طور پر ایسے پروٹین (اینٹی باڈیز) تیار کرنے لگے ہیں جنہوں نے ناول کورونا وائرس کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے، بالآخر، ان مریضوں کو مکمل طور پر صحت یاب کردیا۔

طبّی حقائق کے مطابق، یہ اینٹی باڈیز ان افراد کے خوناب (بلڈ پلازما) میں آئندہ کئی مہینوں تک شامل رہیں گی تاکہ جیسے ہی کوئی ناول کورونا وائرس دکھائی دے، فوراً اسے تباہ کر ڈالیں۔

اگرچہ اس طرح بلڈ پلازما کا استعمال صرف عارضی علاج کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ اس میں موجود اینٹی باڈیز جلد ہی تحلیل ہوکر ختم ہوجائیں گی، لیکن ابھی ہمارے پاس اس سے بہتر کوئی حکمتِ عملی موجود نہیں۔

ماضی میں سارس اور مرس کی وباؤ میں ایسی مثالیں موجود ہیں جبکہ موجودہ وبا میں چین بھی اسی حکمتِ عملی کو آزما چکا ہے۔ اسی بناء پر امریکی ماہرین کی تجویز ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو بھی اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔

چند روز پہلے امراضِ خون کے مشہور و معتبر پاکستانی ماہر، ڈاکٹر طاہر شمسی نے بھی حکومتِ پاکستان کو یہی تجویز دی تھی۔

The post کورونا وائرس کا کامیاب علاج: امریکی ماہرین بھی چین کے نقشِ قدم پر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/39bWev3

سندھ میں لاک ڈاؤن کے باعث ریسرچ ادارہ بند، کورونا دوا کی تیاری کیلیے سائنسی تجربات بھی رک گئے

کراچی: سندھ میں صوبائی حکومت کی جانب سے کیے گئے لاک ڈاؤن کے سبب جامعہ کراچی میں قائم سائنسی تحقیق کا عالمی شہرت یافتہ ادارہ آئی سی سی بی ایس (انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیو لوجیکل سائنسز) بھی بند کر دیا گیا جس کے سبب اس ادارے میں کوروانا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی دوا کی تیاری بھی روک دی گئی ہے۔

کورونا دوا کی تیاری کا عمل اس ماہ کے آغاز میں ہی شروع کیا گیا تھا اور اس دوا کی تیاری پر تجربات آئی سی سی بی ایس کے ماتحت ادارے پنجوائی سینٹر فار ڈرگ ریسرچ میں کیے جارہے تھے دوا کی تیاری میں مصروف پاکستانی سائنسدانوں نے دوا کی تیاری کے 5 مختلف مراحل میں سے پہلا مرحلہ مکمل کرتے ہوئے ایک بڑی پیش رفت کی تھی اور 9 ایسے عناصر compounds کی شناخت کرلی گئی تھی جو کورونا وائرس کے host cell میں تحرک کو روکنے یا اسے توڑنے میں موثر ثابت ہورہے تھے،بعض حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ریسرچ کے مذکورہ ادارے کے لاک ڈاؤن میں کھلے ہونے پر تبصرے شروع ہو گئے۔

آئی سی سی بی ایس کے سربراہ اور معروف سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے ریسرچ کے رک جانے کی “ایکسپریس”کو تصدیق کردی ،ان کا کہنا تھا کہ “کچھ اساتذہ نے ہمارے سائنسدانوں کے گھروں سے ہماری ہی شٹل سروس میں ادارے تک آنے کی تصاویر اور وڈیوز سوشل میڈیا پر آپ لوڈ کی جس کے سبب ایک بحث چھڑ گئی اور ہمارے لیے ریسرچ کو جاری رکھنا مشکل ہوگیا جس کے بعد تحقیقی سرگرمیوں کو روک کر ادارے کو بند کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ دوا کی تیاری پر ابتدائی مراحل کے سائنسی تجربات ڈاکٹر اقبال چوہدری کی نگرانی میں ڈاکٹر عطیہ الوہاب کررہی ہیں، ڈاکٹر عطیہ الوہاب نے “ایکسپریس” کو بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں ہم نے کمپیوٹر سیمیولیشن computer simulation کے ذریعے COVID -19 کے نمونے sample کو 15754 سے گزارا یہ کمپاؤنڈ ہمارے لائبریری بینک میں محفوظ ہیں جس کے بعد 9 ایسے مرکبات کی شناخت ہوئی ہے جنھوں نے کورونا وائرس کے host cellمیں تحرک کو روک سکتے ہیں یا اسے ٹوٹ سکتے ہیں ان میں ایک مرکب کمپاونڈ 2 یا مالیکیولر بینک کوڈ AAA396 وائرس کی replication کو روکنے میں سب سے موثر ثابت ہوا ہے اور کمپاونڈ 2 کو دوا کی تیاری میں lead molecule کے طور پر تصور کیا جارہا ہے اس مرکب کی binding energy _71.63 kcal/mol o ہے۔

ڈاکٹر اقبال چوہدری ے بتایا کہ تحقیقی سرگرمیاں کے دوبارہ آغاز کی صورت میں ہم دوسرے مرحلے میں روکے گئے کام اس وائرس کے پروٹین کی کلوننگ ایک بار پھر شروع کریں گے یہ وائرس نان لیوونگ ہے تاہم جب یہ انسانی جسم میں جاتا ہے تو ہوسٹ سیل میں جاکر ملٹی پلائی ہوتا ہے اور اپنی تعدادبڑھاکرجسم میں انفیکشن کرتاہے ،ڈاکٹر اقبال چوہدری نے بتایا کہ کچھ طبی پودے ایسے بھی ہیں جواینٹی کوروناوائرس ہیں ان کو بھی دوا کی تیاری میں استعمال کریں گے۔

 

The post سندھ میں لاک ڈاؤن کے باعث ریسرچ ادارہ بند، کورونا دوا کی تیاری کیلیے سائنسی تجربات بھی رک گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2UnCPSu

جینیاتی تبدیلی کے ذریعے اعصابی خلیات کو برقی پیوند سے جوڑنے میں کامیابی

کیلی فورنیا: ماہرین طب نے کہا ہے کہ انسانی دماغ کے خلیات میں جینیاتی تبدیلی سے برقی عمل بدل جاتا ہے جو برقی پیوند کو قابلِ قبول بناسکتا ہے۔

انسانی دماغ میں برقی پیوند اور مائیکرو چپس لگانے سے بسا اوقات مشکل یہ پیش آتی ہے کہ دھاتی چپ کو دماغی خلیات قبول نہیں کرپاتے اور سب کوشش پر پانی پھر جاتا ہے تاہم اب جانوروں کے اعصابی خلیات یا نیورون کو جینیاتی طور پر تبدیل کرکے انہیں برقی پیوند قبول کرنے میں کامیابی ملی ہے۔

اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے خاص قسم کے دماغی خلیات کو جینیاتی طور پر تبدیل کیا ہے اور ان کے اوپر بجلی منتقل کرنے والے پالیمر کی تشکیل کا عملی مظاہرہ کیا ہے لیکن یہ تحقیق جانوروں پر کی گئی ہے۔

یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر زینن باؤ نے بتایا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو مرگی، پارکنسن اور دیگر امراض کے علاج کے ساتھ ساتھ مصنوعی اعضا کو دماغ سے کنٹرول کرنا بھی آسان ہوجائے گا۔

فی الحال اس ضمن میں کئی ادارے کام کررہے ہیں یہ ممکن ہے کہ ہر دوا کو بے اثر کرنے والی مرگی کو دماغ میں ایک باریک چپ کے ذریعے کنٹرول یا ختم کیا جاسکتا ہے لیکن دھاتی چپ نرم نیورونز کو اپنے سگنل دیتی رہتی ہے اور خود نیورون کس کیفیت میں ہیں اسے نوٹ نہیں کرسکتی۔ کبھی کبھار دھاتی چپ نیورون سے جڑنے میں ناکام رہ جاتی ہے اسی لیے یہ کام بہت اہمیت رکھتا ہے۔

اس ضمن میں پاکستانی سائنس داں ڈاکٹر نوید سید نے ایسی دوطرفہ حیاتیاتی چپ بنائی ہے جو ایک جانب خلیات کو سگنل یا ہدایات دیتی ہے تو دوسری جانب خلیات کے سگنل کو سن بھی سکتی ہے۔ طویل تحقیق کے بعد یہ چپ اب مرگی کے مریضوں پر آزمائی جارہی ہے۔

The post جینیاتی تبدیلی کے ذریعے اعصابی خلیات کو برقی پیوند سے جوڑنے میں کامیابی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2xZT68H

Friday, 20 March 2020

عالمی دواساز کمپنیاں کورونا وائرس ویکسین کی 18 ماہ میں دستیابی کیلیے پُرامید

جنیوا: عالمی دوا ساز کمپنیوں کے مالکان اور ماہرین 12 سے 18 ماہ کے دوران کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری اور مارکیٹ میں دستیابی کے لیے پُر امید ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انٹرنیشنل فیڈریشن آف فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز اینڈ ایسوسی ایشن (IFPMA) اور دواساز کمپنیوں کے سربراہان نے جنیوا میں ورچوئل پریس کانفرنس میں بتایا کہ کورونا ویکسین کے ابتدائی تجربات کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں، تاہم انسانوں پر آزمائش میں وقت درکار ہوگا۔

آئی ایف پی ایم اے کے صدر ڈیوڈ رکس نے وائرس پر قابو پانے کی یقین دہانی کے ساتھ  12 سے 18 ماہ کے دوران ویکسین کی تیاری اور مارکیٹ میں دستیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد دستیابی کے لیے ہم ویکسین کے معیار پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔

یہ خبر پڑھیں : کیا کورونا وائرس کا علاج 70 سال پرانی دوا سے ممکن ہے!

معروف دوا ساز کمپنی سونوفی پاسچر کے نائب صدر ڈیوڈ لوئیو نے کہا کہ ایک مرتبہ  ویکسین تیار ہوگی تو دنیا بھر میں اربوں لوگوں کو ویکسین دینا ہوگی جو بہت بڑا چیلنج ہوگی لیکن ہم مشترکہ کاوشوں کے ذریعے یہ سنگ میل پورا کرنے کے لیے پُر امید ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں : کورونا کے متاثرین آئبوپروفن کی جگہ پیراسیٹامول استعمال کریں، ڈبلیو ایچ او

چین کے صوبے ووہان سے دنیا کے 160 ممالک میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 2 لاکھ 44 ہزار 553 ہوگئی ہیں جب کہ تاحال 10 ہزار 31 مریض ہلاک ہوئے ہیں تاہم اس مرض سے 86 ہزار 32 مریض صحت یاب بھی ہوئے۔

The post عالمی دواساز کمپنیاں کورونا وائرس ویکسین کی 18 ماہ میں دستیابی کیلیے پُرامید appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2xXJQSy

Thursday, 19 March 2020

سینیٹائزر کی ضرورت نہیں، عام صابن سے ہاتھ دھونا ہی کافی ہے، سائنسدان کا مشورہ

سڈنی: کورونا وائرس سے بچاؤ کےلیے عوام اس حد تک پاگل ہوچکے ہیں کہ ہینڈ سینیٹائزرز، جنہیں عام دنوں میں کوئی نہیں پوچھتا، آج بیشتر مارکیٹوں سے غائب ہوچکے ہیں؛ اور اگر کہیں سے مل بھی رہے ہیں تو بہت مہنگے داموں میں۔

اس صورتِ حال کے پیشِ نظر نیوساؤتھ ویلز یونیورسٹی، سڈنی میں کیمیا (کیمسٹری) کے پروفیسر پیلی تھورڈارسن نے 25 سلسلہ وار ٹویٹس کی مدد سے واضح کیا ہے کہ اگر ہاتھوں کو صرف صابن اور پانی سے مناسب طور پر دھو لیا جائے تو دیگر وائرسوں کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس بھی بالکل ختم ہوجائے گا:

اپنی ٹویٹس میں انہوں نے صابن سے متعلق کیمیا اور وائرس کی ساخت بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ، کورونا وائرس سمیت، کسی بھی وائرس کا تمام جینیاتی مواد ایک سالماتی خول میں بند ہوتا ہے جس میں چکنائی (لپڈ) کی دوہری پرت (lipid bilayer) کسی حفاظتی غلاف کا کام کرتی ہے۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ چکنائی کی یہی دوہری پرت، عام صابن کے سامنے بے حد کمزور ہوتی ہے کیونکہ صابن کا ایک اہم کام چکنائی کا خاتمہ کرنا بھی ہوتا ہے۔

جب ہم ہاتھ گیلے کرکے ان پر اچھی طرح صابن ملتے ہیں تو وہ دوسری چکنائیوں کے ساتھ ساتھ وائرس کے حفاظتی غلاف پر بھی حملہ آور ہوتا ہے اور (کیمیائی عمل کرتے ہوئے) سیکنڈوں میں اس غلاف کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے۔

وائرس میں موجود جینیاتی مواد، جسے وہ اپنے وبائی پھیلاؤ کے دوران استعمال کرتا ہے، اس قدر نازک ہوتا ہے کہ وہ حفاظتی غلاف کے تباہ ہوتے ہی بکھر کر رہ جاتا ہے اور وائرس مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے۔

اپنی ٹویٹس میں پروفیسر تھورڈارسن نے ’’سپرا مالیکیولر کیمسٹری‘‘ اور ’’نینو کیمسٹری‘‘ کو بھی بہت سادہ الفاظ میں بیان کیا ہے جن کا لُبِ لباب یہی ہے کہ عام صابن سے ہاتھ دھو کر بھی کورونا وائرس کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے، لہذا ہینڈ سینیٹائزر نہ بھی ملے تو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

واضح رہے کہ اب تک کی گئی تحقیقات سے ثابت ہوچکا ہے کہ مہنگے داموں فروخت ہونے والے جراثیم کش (اینٹی بیکٹیریل) صابنوں کی کارکردگی بھی عام صابن سے کچھ خاص مختلف نہیں ہوتی۔

The post سینیٹائزر کی ضرورت نہیں، عام صابن سے ہاتھ دھونا ہی کافی ہے، سائنسدان کا مشورہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Uk6XOJ

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن:  چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا م...