Thursday, 30 April 2020

کووِڈ 19 مرض کے خلاف ’ریمڈیسویئر‘ دوا امید کی نئی کرن ثابت

 واشنگٹن: اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہنگامی حالت میں امریکا ایبولہ کے خلاف ایک آزمودہ دوا ریمیڈیسویئر کا استعمال شروع کرسکتا ہے۔ اس کی افادیت کی تصدیق خود امریکا کےممتاز ماہر  ڈاکٹراینتھونی فاؤچی نے بھی کی ہے۔

ریمیڈیسویئر گائی لیڈ کمپنی نے تیار کی تھی جو ایبولہ وبا کا توڑ ثابت ہوئی تھی اور اس سے قبل کئی تحقیقات میں یہ دوا کورونا وائرس کی بیماری یعنی کووِڈ 19 کے خلاف مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ ابتدائی طور پر کورونا وبا کے شکار مریضوں کو یہ دوا دی گئی تو ان کی جلد صحتیابی ممکن ہوئی اور مریض ہسپتال سے جلد فارغ ہوکر اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

امریکہ میں متعدی وباؤں کے ممتاز ماہر ڈاکٹراینتھونی فاؤچی نے کہہا ہے کہ پورے امریکا میں لگ بھگ 1100 مریضوں کو یہ دوا دی گئی ہے۔ دوا کے بعد مریضوں کے روبہ صحت ہونے کا دورانیہ 15 روز سے گھٹ کر 11 روز تک آگیا ہے۔ یہ تمام ٹیسٹ اٹکل یعنی رینڈم کئے گئے ہیں اور ان میں مریضوں کو فرضی دوا (پلے سیبو) بھی دی گئی ہے۔ ڈاکٹر فاؤچی نے ان نتائج کو بہت طاقتور قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر اینتھونی نے کہا کہ اگرچہ یہ 31 فیصد بہتری ہے اور اسے 100 فیصد قرار نہیں دیا جاسکتا ہے لیکن ثابت ہوچکا ہے کہ ریمڈیسویئر اس کورونا کو روکنے میں بہت مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ یہ دوا دس روز تک رگ کے ذریعے ایسےبیمار مریضوں کو دی گئی جو ہسپتال میں داخل تھے اور ان پر دوا کی آزمائش 21 فروری کو شروع کی گئی تھی۔

پھر اس ٹیسٹ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ریمڈیسویئر استعمال کرنے والے مریضوں میں شفا پانے اور زندہ رہ جانے کی شرح بھی بلند تھی۔ واضح رہے کہ عین اسی طرح کےنتائج چین اور فرانس میں بھی سامنے آئے ہیں اور ان کی بہت سی تفصیلات شائع ہوچکی ہیں۔

اب تک امریکی ایف ڈی اے نے اس کی منظوری نہیں دی ہے لیکن اس ضمن میں مذاکرات جاری ہیں۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ شاید پہلے ہنگامی حالت میں یہ دوا دینے کی منظوری مل جائے گی۔

The post کووِڈ 19 مرض کے خلاف ’ریمڈیسویئر‘ دوا امید کی نئی کرن ثابت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2xopAtn

کورونا کے خلاف مؤثر اینٹی باڈیز کا صرف 10 منٹ میں پتا چلانے والا ٹیسٹ

بیجنگ: چینی سائنسدانوں نے انسانی جسم میں کورونا وائرس کی تشخیص اور اس کے خلاف مؤثر اینٹی باڈیز کی موجودگی کا بیک وقت سراغ لگانے کےلیے ایک نیا ٹیسٹ ایجاد کرلیا ہے جو صرف 10 منٹ میں انتہائی درست نتائج دیتا ہے۔

امریکن کیمیکل سوسائٹی کے ایک نمائندہ تحقیقی مجلے ’’اینالیٹیکل کیمسٹری‘‘ کی تازہ ترین آن لائن اشاعت میں شائع شدہ مقالے کے مطابق، چینی ماہرین نے جس تکنیک سے استفادہ کیا ہے وہ ’’لیٹرل فلو امیونوایسے‘‘ (ایل ایف اے) کہلاتی ہے اور عملاً وہی تکنیک ہے جو حمل (پریگنینسی) کا پتا چلانے والے گھریلو ٹیسٹ میں عام استعمال ہوتی ہے۔

معمولی سی تبدیلی اور بہتری کے ساتھ ایل ایف اے تکنیک پر مبنی یہ ٹیسٹ نہ صرف خون میں ناول کورونا وائرس کی موجودگی یا غیر موجودگی کا پوری درستی سے پتا چلا سکتا ہے بلکہ اس وائرس سے دفاع کرنے والی اینٹی باڈیز کا بھی پتا دے سکتا ہے۔

ابتدائی تجربات کے دوران اسے ناول کورونا وائرس سے متاثرہ 7 افراد سے لیے گئے خون کے نمونوں کی جانچ میں استعمال آزمایا گیا، جس میں اس نے تمام نمونوں میں کورونا وائرس کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کی۔ یہ طریقہ مزید 12 ایسے نمونوں پر بھی آزمایا گیا جنہیں اس سے پہلے کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والی عمومی تکنیک ’’آر ٹی پی سی آر‘‘ سے جانچا گیا تھا مگر ان میں سے کسی نمونے میں بھی کورونا وائرس نہیں ملا تھا۔ نئے طریقے سے جانچنے پر ان میں سے ایک نمونے میں کورونا وائرس مل گیا، جبکہ متعلقہ شخص میں کورونا وائرس کی تمام علامات موجود تھیں مگر عمومی تکنیک سے وائرس نہیں مل پایا تھا۔

ابتدائی آزمائشوں سے ’’ایل ایف اے‘‘ پر مبنی تکنیک نہ صرف ناول کورونا وائرس بلکہ مستقبل میں کسی بھی دوسرے وائرس کی فوری اور کم خرچ تشخیص میں بھی ہمارے کام آسکے گی۔ تاہم یہ معلوم نہیں کہ اس ٹیسٹ کو مارکیٹ تک پہنچنے میں کتنا وقت لگ جائے گا۔

The post کورونا کے خلاف مؤثر اینٹی باڈیز کا صرف 10 منٹ میں پتا چلانے والا ٹیسٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2KMz8kW

Wednesday, 29 April 2020

کوروناوائرس: قرنطینہ میں مریض کیسے روزہ رکھیں؟

اللہ تعالیٰ کی مسلمانوں پر بے پناہ عنایات ہیں۔ اللہ کی بے شمار اور اَن گنت نعمتوں میں رمضان المبارک کا مبارک مہینہ بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ خود قرآن پاک میں فرماتے ہیں: ’’تم پر روزے اس لیے فرض کیے گئے تاکہ تم متقی اور پرہیز گار بن جاؤ‘‘۔ رمضان المبارک کا مہینہ نیکیوں کا مہینہ ہے۔ اس مہینے شیطان قید کر دیئے جاتے ہیں اور نیکیوں کا اجر 70 گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔

روحانی بالیدگی کے ساتھ ساتھ رمضان جسمانی تطہیر اور پاکیزگی کا بھی مہینہ ہے۔ اسلام میانہ روی کا درس دیتا ہے۔ رمضان المبارک میں اگر سحر اور افطار کے دوران کھانے پینے میں اعتدال کیا جائے تو بندہ خود بخود صحت مند اور توانا رہتا ہے لیکن اگر سحری اور افطاری میں اعتدال اور میانہ روی کو پیش نظر نہ رکھا جائے تو بہت سارے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

اکثر دیکھا گیا کہ افطاری کے دوران جھٹ پٹ ہر چیز ہڑپ کرنے سے بہت سے لوگ تبخیر معدہ اور پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ زیادہ مرغن کھانے، تلی ہوئی اشیاء اور کولڈ ڈرنکس پینے سے رمضان میں روزے رکھنے کے باوجود وزن میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں سحری اور افطاری میں متوازن غذا کا شامل ہونا ضروری ہے۔ سحری اور افطاری میں پھل، سبزیاں، دودھ، گوشت مناسب مقدار میں شامل ہونا چاہیے۔

بعض لوگ سحری کے لیے اٹھتے ہی نہیں۔ روزہ کے لیے سحری سنت ہے۔ سحری کے بغیر روزہ رکھنا روزہ کی افادیت کو گھٹا دیتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے زور دے کر کہا کہ سحری لازمی کیا کرو۔ سحری نہ کھانے سے بندہ جسمانی کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کا اثر جسم کے سارے افعال پر بھی پڑتا ہے۔ بغیر سحری کھائے روزہ رکھنے والے حضرات ساری کمی افطاری کے وقت پوری کرتے ہیں جو کچھ سامنے آئے اسے ہڑپ کرنے کی فکر ہوتی ہے۔ اتنا کچھ کھا لیتے ہیں کہ نماز پڑھنے کی بھی طاقت نہیں رہتی۔ سارا وقت ڈکارتے رہتے ہیں۔ گیس اور تبخیر معدہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ بندہ اہتمام سے سحری کرے۔ سحری میں مرغن غذا کھانے سے پرہیز کریں۔ دہی اور لسی کا استعمال بھی مفید ہے۔ سحری میں سلاد اور سبزی کا استعمال بھی صحت کے لیے بہتر ہے۔

سحری میں کسی قسم کے کولڈ ڈرنکس کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ کافی لینے سے بھی معدہ میں تیزابیت پیدا ہو سکتی ہے۔ مزید براں سحری کے دوران زیادہ نمکین چیزوں مثلاً اچار اور مصالحہ دار اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے۔ سحری کے لیے اٹھتے ہی دو تین گلاس پانی پی لیں اور اس کے بعد کھانا کھائیں۔ سحری کرتے ہی فوراً سو جانا مضر صحت ہے۔ سحری کے بعد کچھ دیر انتظار کریں۔ ہلکی سے واک کر لیں۔ قرآن پاک کی تلاوت کریں۔ نماز کے لیے مسجد جائیں اور اس کے بعد آرام کر سکتے ہیں۔

افطاری بھی اعتدال کے ساتھ ہونی چاہئیں۔ افطاری میں خوامخواہ کے نام و نہاد انرجی ڈرنکس سے پرہیز کریں۔ اس کی بجائے گھر میں بنائے ہوئے شکر شربت، شربت روح افزا وغیرہ، سکنجین، شربت تخم ملنگاں، کچی لسی کا استعمال کریں۔ بہت زیادہ پکوڑے اور سموسے کھانے سے معدے پر اضافی بوجھ پڑ جاتا ہے۔ بھوک مر جاتی ہے اور قبض کی جاں لیوا تکلیف سے پالا پڑ جاتا ہے۔ اس لیے افطاری میں مرغن غذاؤں، کولڈ ڈرنکس، زیادہ نمکین چیزوں سے پرہیز کریں۔

نمک کا زیادہ استعمال عمر گھٹاتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر اور بہت سے دوسرے امراض کا باعث بنتا ہے۔ آج کل افطاریوں میں اتنا کچھ ہوتا ہے کہ بندہ کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیا کھائے اور کیا چھوڑے۔ کھاتے ہوئے اعتدال کو پیش نظر رکھیں۔ کھجور سے افطاری سنت بھی ہے اور جسم کے لیے فائدہ مند بھی۔ اس سے جسم کو قوت ملتی ہے۔ ہڈیوں کو مضبوط کرتی ہے۔

دو تین کھجوروں کے ساتھ شربت تخم ملنگاں یا فالسے کا شربت جسم کو فوری توانائی مہیا کرتا ہے۔ افطاری میں پھلوں اور ان کے جوس کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ انرجی اور کولا ڈرنکس سے مکمل طور پر پرہیز کریں۔ مرغن غذاؤں کے ساتھ بہت زیادہ میٹھی چیزوں مثلاً کیک، پیسٹریوں، مٹھائیوں اور حلوہ جات کا کم سے کم استعمال کریں۔

رمضان المبارک کے آغاز سے مختلف قسم کے مریض پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ہم روزہ رکھ سکتے ہیں؟ روزے سے ہماری بیماری تو متاثر نہیں ہوگی؟

بہت سی میڈیکل تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ روزہ روح کے ساتھ جسم کے لیے بھی ایک زبردست ریفریشر کورس کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے جسم کو آرام اور سکون ملتا ہے۔ جسم کے تمام اعضاء، سسٹم خاص کر معدہ، جگر اور خون کی نالیاں بے ہنگم کھانوں کے بوجھ سے کچھ دیر کے لیے آزاد ہو جاتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے ایک پادری کا کہنا ہے کہ مجھے اسلام میں رمضان المبارک کے روزوں کے فلسفے نے بہت متاثر کیا۔

بہت سے لوگ اس خوف کے پیش نظر روزہ نہیں رکھتے کہ روزہ کے سبب یا روزہ کی حالت میں کہیں مرض کا غلبہ یا پیچیدگی پیدا نہ ہو جائے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں۔

جدید میڈیکل سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ روزہ دار کے جسم میں دوسرے افراد کی نسبت قوت مدافعت (Immunity) کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور پھر دوران روزہ اندرونی اعضاء کی کارکردگی میں کمی واقع ہونے کے باعث انہیں آرام مل جاتا ہے اور بعد از آرام یہ اعضاء تازہ دم اور مستعد ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ان اعضاء کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کا عام سبب یہ ہے کہ اعضائے رئیسہ (Vital Organs) کو تقویت ملتی ہے۔ روزے کی اس مسلمہ افادیت کو غیر مسلم اطباء نے بھی تسلیم کیا ہے۔ بلکہ اہل مغرب مختلف امراض کے علاج میں روزہ رکھوا کر کامیاب علاج کرنے لگے ہیں۔

ڈاکٹرڈی جیتکا کہنا ہے کہ روزہ رکھنا امراض کی روک تھام کے لیے تقدم بالحفظ (Prevention) کی حیثیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر جوزف (Yossaf) کا کہنا ہے کہ روزہ سے ظاہر و باطن کی غلاظتیں دور ہو جاتی ہیں یعنی روزہ جسمانی و روحانی خرابیوں کا دافع ہے۔ روزہ بسیار خوری (Over Eating) سے بچاتا ہے جس سے معدہ و جگر کا عمل درست ہوتا ہے۔

مریضوں کی تین اقسام ہیں:

پہلی قسم میں عام بیماریوں، مثلاً کھانسی، نزلہ، زکام، خارش، ڈائریا، پیٹ درد، جسم درد، جوڑوں کے درد، کبھی کبھار بلڈ پریشر، چکر، متلی اور قے وغیرہ کی علامات اور بیماریوں کے مریض شامل ہیں۔

ایسے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں۔ ان کو کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔ روزہ رکھنے کے ساتھ ان کو اپنی دوا کی مقدار اور خوراک کا تعین اس طریقے سے کرنا ہوگا کہ دوائی کی پہلی خوراک افطاری کے فوراً بعد لیں۔ دوسری خوراک تراویح نماز پڑھنے کے بعد رات سونے سے پہلے لے لیں اور تیسری خوراک صبح سحری کے بعد لے لیں۔ ایسے مریضوں کے لیے روزہ رکھنا ضروری ہے کیونکہ روزہ رکھنے سے ان کے امراض کی علامات میں کمی ہوگی۔

دوسری قسم میں وہ مریض شامل ہیں۔ جو پرانی بیماریوں مثلاً ذیابیطس، بلڈپریشر، دل کی تکلیف، گردوں کی خرابی، السر اور دماغی امراض وغیرہ میں مبتلا ہیں۔

ایسے مریض بھی روزہ رکھ سکتے ہیں۔ شوگر کے مریضوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اچھے طریقے سے سحری کریں۔ سحری میں کھانے کے علاوہ پانی اور شربت وغیرہ کا ٹھیک ٹھاک استعمال کریں۔ کیونکہ روزہ رکھنے سے شوگر میں کمی اور جسم میں پانی کی کمی درپیش ہوسکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خاطر خواہ پانی کا ذخیرہ پیٹ میں رکھا جائے۔ شوگر کے مریض ڈاکٹر کے مشورہ سے اپنی دوا کی مقدار متعین کر سکتے ہیں۔ جو مریض دوا دن میں تین مرتبہ لیتے ہیں وہ دوا کو افطاری کے فوراً بعد، رات سوتے وقت اور سحری کے وقت لے سکتے ہیں۔

ذیابیطس شکری کے وہ مریض جو علاج کے لیے انسولین (Insulin) استعمال کرتے ہیں انہیں گلوکوز کنٹرول رکھنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ انسولین استعمال کرنے والے سحری کے وقت انسولین کی مقدار کم کر کے خون میں گلوکوز کی مقدار زیادہ کر دینے کا باعث بھی بن سکتی ہے اور پھر افطاری کے وقت غیر محتاط کھانا (بسیار خوری) بھی خون بھی گلوکوز کی زیادتی کا باعث بنتا ہے۔

چنانچہ رمضان المبارک کی آمد مریض اور معالج دونوں کے لیے خون میں گلوکوز کی کمی سے خوف ہوتی ہے لیکن طب جدید کا نظریہ یہ ہے کہ خائف ہرگز نہ ہوں کیونکہ روزے مریض اور معالج کے لیے مشکلات یا کسی قسم کی دشواری پیدا نہیں کرتے بلکہ روزہ دار مریض کا شوگر لیول نارمل ہو جاتا ہے جبکہ ایسے اشخاص جو روزہ دار نہ ہوں ان کا شوگر لیول اْتار چڑھاؤ کا شکار رہتا ہے۔ بڑی عمر کے لوگ یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ہم تراویح پڑھ سکتے ہیں کہ نہیں۔ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض بیٹھ کر تراویح کی نماز ادا کر سکتے ہیں۔

تیسری قسم میں وہ مریض شامل ہیں جو خطرناک جاں لیوا موذی امراض میں مبتلا ہیں۔ ان میں کینسر، شوگر، فالج، گردوں کی ناکامی وغیرہ شامل ہیں۔ ایسے مریضوں کے لیے ویسے بھی روزہ رکھنا ممکن نہیں ہے۔ یہ روزہ نہ رکھیں کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرانے کے لیے یا کسی غریب کی مدد کرنے کے واسطے یہ روزہ کا فدیہ دے سکتے ہیں۔

روحانی اور جسمانی فائدوں کے علاوہ ذہنی و نفسیاتی امراض کے علاج کے لیے بھی روزے رکھنا بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ روزہ رکھنے سے آدمی برے خیالات سے دْور رہتا ہے۔ ذہن پراگندہ نہیں ہوتا۔ فکر، ڈیپریشن اور خوامخواہ کی پریشانیوں سے چھٹکارہ ملتا ہے۔ اس کے علاوہ روزہ تزکیہ نفس بھی کرتا ہے۔ ماہ صیام میں نماز تراویح میں خشوع و خضوع اور دھیان سے کلام اللہ سننے سے ذہنی سکون اور اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے۔

تہجد کے لیے یا پھر سحری کرنے کی غرض سے جب آدمی بیدار ہوتا ہے تو اس وقت چونکہ وہ اپنی نیند پوری کر چکا ہوتا ہے اور تازہ دم بیدار ہوتا ہے اور پھر اس وقت آکسیجن (Oxygen) وافر مقدار میں میسر ہوتی ہے جو ذہن کو تازگی اور تقویت دیتی ہے اور پھر سحری کھا لینے کے بعد جب پورے انہماک سے نماز، تلاوت یا تسبیحات میں لگ جائے تو اس وقت اسے عبادت میں لذت کا احساس ہوگا اور مذہب میں لگاؤ بڑھتا جائے گا۔

اس کا نفسیاتی پہلو یہ ہے کہ جب وہ بیدار ہوا تو اس وقت اس کا دماغ ہر قسم کے دباؤ یا بوجھ سے آزاد تھا اور پھر اسی تازگی کی حالت میں وہ عبادت میں مشغول ہو گیا اور اسے غیر ضروری باتوں پر سوچنے کا موقع ہی نہ ملا اس طرح اس کی دماغی کیفیت معتدل ہوتی چلی جاتی ہے اور مختلف قسم کی ذہنی اور نفسیاتی الجھنیں اس کو پریشان نہیں کرتیں۔

اگر آپ کسی قسم کی نفسیاتی اور ذہنی الجھن کا شکار ہیں تو ادب و آداب کی رعایت رکھتے ہوئے روزہ رکھیں۔ پنچ وقتہ نماز پڑھیں۔ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز تراویح ادا کریں۔ ذہنی و ابدی سکون کے لیے اللہ کا ذکر کریں اور قرآن پاک کی تلاوت کریں۔ ان شاء اللہ آپ کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔

قرنطینہ میں رہنے والے افراد کیسے روزہ رکھیں؟

کرونا وائرس کے خدشے سے قرنطینہ میں گھر میں رہنے والے لوگ بھی بہ آسانی روزہ رکھ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر طبعیت زیادہ خراب ہو تو پھر روزہ نہ رکھیں۔ آپ ان روزوں کو بعد میں بھی رکھ سکتے ہیں یا پھرروزوں کا فدیہ دے سکتے ہیں۔ لیکن جو لوگ قرنطینہ میں رہتے ہوئے رمضان کے روزے رکھنے کے خواہش مند ہوں۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس دوران اپنی قوت بحال رکھیں تا کہ ان میں بیماری اور وائرس کے خلاف قوت مدافعت برقرار رہے۔

آپ اپنے کمرہ میں قرنطینہ میں ہیں تو جب آپ سحری کے لیے اٹھائیں تو سب سے پہلے نہار منہ دو تین گلاس گرم پانی لیں۔ ساتھ دو چمچ شہد اورایک چمچ زیتون کا تیل لیں۔ اس سے سارا دن آپ کی قوت بحال رہے گی۔ سحری نارمل طریقے سے کریں۔ دھی اور تازہ پھلوں کا استعمال ضرور کریں۔ سحری میں پراٹھا اور سالن بھی لے سکتے ہیں یا سادہ چپاتی استعمال کریں۔ سحری ختم ہونے سے پہلے ایک کپ گرم دودھ میں اسپغول کا چھلکا ڈال کر استعمال کریں۔

افطاری میں سب سے پہلے دو تین کھجوریں لیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فریش فروٹ جوس کے دو گلاس لیں۔ آج کل اسٹرابری عام ملتی ہے۔ یہ خوش ذائقہ، خوش نما اور وٹامن اور منزلز سے بھر پور پھل ہے۔ اس کا ملک شیک بنا کر لیں۔ زیادہ پکوڑے اور سموسے کھانے سے پرہیز کریں۔ مغرب کی نماز کے بعد کھا نا کھائیں۔ کھانے میں متوازن غذا استعمال کریں۔ مغرب سے عشاء تک تین چار گلاس پانی استعمال کریں۔ سونے سے تقریباََ ایک گھنٹہ پہلے آپ نے ایک کپ گرم دودھ میں دو چمچ زیتون کا تیل، دو چمچ شہد اور ایک چمچ ہلدی کا ڈال کر پینا ہے۔

اس سے آپ کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا اور اگر خدانخواستہ اگر آپ کا کورونا ٹیسٹ مثبت بھی آگیا تو آپ نے اس نسخے پہ عمل کرنا ہے انشاء اللہ آپ کورونا کے انفیکشن سے صحت یاب ہو کر نکلیں گے اور قرنطینہ میں رہتے ہوئے بھی رمضان المبارک کی برکات و فیض سے فیض یاب ہو سکیں گے۔

The post کوروناوائرس: قرنطینہ میں مریض کیسے روزہ رکھیں؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2WaL59j

روزہ، قوت مدافعت بڑھانے کا بہترین قدرتی ذریعہ

روزہ صرف ایک اسلامی اور روحانی عبادت ہی نہیں ہے بلکہ بہترین معاون ومحافظ صحت بھی ہے۔آقائے کریم ﷺ نے روزے کو ایک ڈھال کہا ہے ،ایسی ڈھال جو روزے دار کو گناہوں سے محفوظ رکھتی ہے۔موجودہ صورتحال اور کورونا کی یلغار میں روزے کی با برکت ساعتوں کو ایک معنی میں ڈھال بنا کر دنیا بھر کے مسلمان ہر قسم کی ابتلاء اور آزمائش سے محفوظ ہونے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔کورونا اور اس جیسی وبائی بیماریاں قبل ازیں بھی دنیا میں ظاہر ہوکر انسانوں کو خود احتسابی کی دعوت اور موقع فراہم کرتی رہی ہیں لیکن انسان ازل سے عاقبت نا اندیش واقع ہوا ہے۔ اپنی اسی روش کی وجہ سے بار بار آزمائشوں اور ابتلاؤں کاسامنا کرتا چلا آرہا ہے۔ موجودہ صورتحال سے نجات پانے کے لیے احتیاط و استغفار سب سے بڑا اور موثر ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ماہ رمضان جہاں روحانی بیماروں کے لیے رحمتوں برکتوں، مغفرتوں کی برکھا برساتا ہے وہیں جسمانی امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے بھی پیغام شفاء لاتا ہے۔اللہ کریم ہر سال اپنے کریم نبی ﷺ کی امت کے ساتھ رحم وکرم کا معاملہ فرماتے ہوئے ماہ کریم عطا کر کے ہمیں رجوع الی للہ کا شاندار موقع بھی فراہم کرتا رہتا ہے۔

جیسا کہ طبی ماہرین تواتر سے کہہ رہے ہیں کہ کورونا ایک وبائی مرض ضرور ہے لیکن مہلک نہیں ہے۔ اب تک کی ساری صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ صرف دو فیصد مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوا ہے۔70 سے 80 فیصد افراد ایسے بھی ہوسکتے ہیں جن پر کورونا حملہ کرتا ہے لیکن مرض کی کوئی علامت ظاہر ہوئے بنا ہی کورونا بھاگ جاتا ہے۔

95 سے 98 فیصد کورونا میں مبتلا مریض بغیر کسی خاص علاج معالجے کے ہی صحت یاب ہو کر کورونا کو شکست دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔کورونا کا شکار ہونے والے مریض بھی زیادہ تر عمر رسیدہ یا ایسے افراد ہیں جو پہلے ہی سے کسی بڑے مرض جیسے، ہیپا ٹائیٹس، امراض قلب، گردوں کے امراض، ذیابیطس، فالج یا ذہنی بیماریوں سے نبرد آزما ہو کر ان سے بچاؤ کی ادویات باقاعدہ استعمال کر رہے تھے۔ طویل عرصے تک کسی بھی بیماری سے لڑتے رہنے کے سبب ان کی جسمانی قوت مدافعت کافی کمزور ہوچکی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ کورونا جیسے خطرناک وبائی مرض کا آسان شکار ثابت ہورہے ہیں۔

ایسے تمام لوگ جو صحت مند زندگی گزار رہے ہیں انہیں صرف محکمہ صحت کے طے کردہ سماجی فاصلے کے طرز عمل، صفائی و ستھرائی اور حفظان صحت کے اصولوں کی پاسداری کرنے سے ہی ہر قسم کے خطرے سے حفاطت میسر آجاتی ہے۔ ’’آگاہ رہو کہ دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر کے میں ہے‘‘۔ ’’ اور جس نے اللہ پر بھروسہ کیا، یقیناً وہ (اللہ) اس کے لیے کافی ہے‘‘ (القرآن )۔اس فرمان الٰہی کی روسے اللہ کا ذکر اور اسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ پر توکل انسان کا ہر حالت میں بہترین معاون ومدد گار ہے۔ بے یقینی، بداعتقادی،اللہ کے ذکر سے دوری،خوف ،ڈر، وہم اور وسوسے اچھے خاصے صحت مند انسان کو بھی کمزوری میں مبتلا کردیتے ہیں۔ اللہ کریم کی ذات سے اچھا گمان رکھتے ہوئے حفاطتی اور احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا رہیں، ان شاء اللہ کورونا سمیت ہر قسم کی آفت و بلا سے محفوظ رہیں گے۔

ماہ رمضان کے پورے روزے رکھنے کا لازمی اہتمام کریں ، کیونکہ روزہ قوت مدافعت بدن بڑھانے کا بہترین قدرتی ذریعہ ہے۔بعض لوگ یہ کہہ کر روزہ رکھنے سے گریز کرتے ہیں کہ بدن میں پانی کی کمی اور خشکی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چودہ پندرہ گھنٹے متواتر بھوکا اور پیاسا رہنے سے جسم میں پانی کی کمی اور خشکی میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہو سکتا ہے،لیکن یہ ضروری بھی نہیں کیونکہ اگر سحر وافطار میں اپنی خوراک متوازن رکھی جائے تو بدن زیادہ چست، پھرتیلا اور خوبصورت ہوجاتا ہے۔ بلا جھجک روزے کا اہتمام کریں۔ اللہ کے فضل اور روزے کی برکت سے لا تعداد بدنی مسائل حل ہوجائیں گے۔

قدیم اطباء ا ور جدید میڈیکل سائنس کے ماہرین کے نزدیک دنیا کے تمام موذی اور خطرناک امراض سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ روزہ ہے۔جب ہم روزے کے روحانی اور طبی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے رکھتے ہیں تو لازمی بات ہے۔ ہمیں اس کے جسمانی ثمرات بھی میسر آتے ہیں۔روزہ بدن انسانی میں پیدا شدہ زہریلے مادوں کا خاتمہ کردیتا ہے اور روزہ دار کا جسم اضافی چربی اور فاسد مادوں سے پاک ہو جاتا ہے۔موٹاپے کا شکار خواتین و حضرات کے وزن میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔کولیسٹرول اور کولیسٹرول کے نقصانات سے نجات ملتی ہے۔خون کا گاڑھا پن ختم ہو کر کئی دیگر امراضِ خون سے جڑے عوارض سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔

بلڈ پریشر جیسے خاموش قاتل پر قابو پانے کی ہمت اور سبیل پیدا ہوتی ہے۔ذیابیطس جیسے موذی مرض سے بھی نجات حاصل ہوجاتی ہے۔یورک ایسڈ کے عوارض سے جان چھو ٹ جاتی ہے۔سگر یٹ ،چائے اور شراب نوشی کی صحت دشمن عادات سے بہ آسانی پیچھا چھڑوایا جا سکتا ہے۔ روزہ رکھنے سے جسم کو فرحت وتازگی ملتی ہے۔ روزہ رکھنے سے ذہنی امراض ڈپریشن،سٹریس اور اینگزائیٹی سے بھی نجات ملتی ہے، ضبطِ نفس، برداشت اور جنسی جذبات پر قابو پانے کی صلاحیت پروان چڑھتی ہے۔روزے سے بے خوابی دور ہو کر پر سکون نیند میسر آتی ہے اور خواب آور ادویات سے بھی جان چھوٹ جاتی ہے۔ روزہ رکھنے سے انتڑیاں اور معدہ فاسد رطوبات سے پاک ہو جاتے ہیں۔ یوں ان کی کارکردگی اور افعال میں بہتری پیدا ہوجاتی ہے۔ روزے سے ا نسانی خد وخال اور ڈیل ڈول میں خوبصورتی اور دل کشی پیدا ہوتی ہے۔ چہرے کے کیل، مہاسوں اور گرمی دانوں سے نجات ملتی ہے۔روزہ رکھنے سے اعصابی اور جسمانی قوت حاصل ہوتی ہے۔

روزہ رکھتے اور افطار کرتے وقت درج ذیل غذائی امور ملحوظ خاطر رکھیں۔ سحر ی سے پہلے 50 گرام مربہ بہی ،50 گرام مربہ آملہ،50 گرام مربہ گاجر اور دو عدد الائچی سبز باہم گرائنڈ کرکے لازمی کھائیں۔یہ گھریلو ترکیب وٹامنز کا بہترین قدرتی ماخذ ہونے کے ساتھ ساتھ دل ودماغ کو فرحت وتازگی پہنچانے کا بھی شاندار ذریعہ ہے۔ دوران سحر وافطار بھرپور اور متوازن خوراک کا استعمال کریں، سحری کھاتے ہوئے پراٹھا نہ کھائیں بلکہ سادہ روٹی پر مکھن یا دیسی گھی اچھی طرح لگا کر کھائیں،اگر روٹی کو مکھن یا دیسی گھی میں کوٹ کر چوری بنا لی جائے تویہ اور بھی فائدہ مند ثابت ہوگی۔(مریض اپنے معالج کے مشورے کے مطابق خورونوش کے معمولات طے کریں)۔

اسی طرح سحری میں دہی اور دہی کی لسی خاص کر ترپڑقسم کی گاڑھی لسی جو دہی اور دودھ ہم وزن ملا کر تیار کی جاتی ہے، پینا معمول بنائیں۔ بادی اور بلغمی مزاج والے لوگ پھیکا دہی اور دودھ میں ادرک، دار چینی پکا کر یا ہلکی سی پتی لگا کر استعمال کریں۔ آملیٹ اور بریڈ کھا کرروزہ رکھنے سے گریز کیا جائے بلکہ دوران رمضان میدے سے بنی مصنوعات سے دور ہی رہاجائے تو زیادہ مفید ہوگا۔روزہ افطار کرتے ہوئے ترش غذائیں کھانے اور یخ ٹھنڈا پانی یا مشروبات پینے سے بھی پرہیز کریں۔ خشخاش 5 گرام،مغز بادام15 عدد،چارے مغز10 گرام اور مرچ سیاہ 2 دانے دن بھر بھگو کر بطور سردائی گھوٹ کر دیسی شکر سے میٹھا کرکے افطاری کریں۔

اسی طرح افطاری کے وقت شربت انجبار ،شربت انار،شربت آلو بخارا،شربت صندل جیسے قدرتی مشروبات پیے جا سکتے ہیں، البتہ شکر سے میٹھا کیا ہوا خالص دودھ پیا جائے تو اور بھی فوائد کا باعث ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں دیسی شکر کی بنی شکنجبین(لیموں کے چند قطرے ملاکر) افطاری کرنا بھی صحت،لذت اور فرحت کا باعث بنتا ہے۔ افطار ی میںگھر کے بنے دہی بھلے، فروٹ چاٹ ،پالک، سبز دھینا اور پودینے کے پتے شامل کر کے پکوڑے اور آلو کے چپس ذائقہ بدلنے کی غرض سے چکھے جا سکتے ہیں۔ سادہ روٹی اور من پسند سالن(دالیں، سبزیاں، کالے چنے، سفید چنے، دیسی مرغی اور بکرے کا گوشت) بہترین مینیو ہے۔

پھلوں میں خربوہ، تربوز،سیب، اسٹابری اور کیلے کا استعمال بھی ضرور کیا جانا چاہیے،پھلوں میں فائبر کی وافر مقدار ہونے کے باعث پھل قبض کشاء بھی ہوتے ہیں اور خشکی بھی نہیں ہونے دیتے۔ سبزیاں کچی اور پکا کر ہر دوطرح سے بہترین غذائیں ہیں ،ان کا بھی حسب گنجائش استعمال لازمی کریں۔ اسی طرح رات سوتے وقت ناف اورکانوں میں بادام روغن کے دو سے تین قطرے ڈالنا نہ صرف جسمانی خشکی کے خاتمے کے لیے بہترین عمل ہے بلکہ قوت مدافعت میں اضافے کا قدرتی ذریعہ بھی ہے۔دھیان رہے کہ حالت روزہ میں ناف اور ناک میں روغن بادام ڈالنے سے روزہ متاثر ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں کسی مذہبی سکالر سے رائے لینا لازم ہے۔

تمام بدن پر روغن بادام کا اچھی طرح مساج کرکے پانی میں بیری کے پتے پکا کر بھاپ لینے سے بھی بدن کے مسام کھلنے سے بدن کی خشکی سے نجات بھی ملتی ہے اور جلدی خلیات میں آکسیجن کی قوت جاذبہ بڑھ کر امراض کے خلاف دفاعی نظام بھی مضبوط ہوتا ہے۔سحرا و فطار کے بعد ادرک والی چائے اور رات سونے سے پہلے دودھ میں بادام روغن یا روغن زیتون کے دو سے چار چمچ( اپنے مزاج اور بدنی ضرورت کے مطابق )ملا کر ضرور پیئیں۔ایسی تمام غذائیں جو نظام ہضم کو خراب یا کمزور کرتی ہوں ان سے اجتناب کرنا چاہیے اور میٹابولزم کو درست کرنے والی ہر قسم کی خوراک کا خوب استعمال کرنا چاہیے۔

ہم میں سے سبھی لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ تلی، بھنی، مصالحے والی، بازاری مٹھائیاں،غیر ضروری چکنائیاں،چاول،بڑا گوشت، فارمی مرغی،کولا مشروبات،بیکری مصنوعات،بادی اور مرغن غذائیں نظام ہضم کا ستیا ناس کردیتی ہیں ۔ اگر ہوسکے تو بعد از نماز فجر تھوڑی دیر گھر کی چار دیواری میں چہل قدمی کرلی جائے،اس سے بھی بدنی تحریکات میں اضافہ ہوکر آپ کی طبیعت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ روزہ کے بطور ڈھال ثمرات پانے کے لیے استغفار کی کثرت کریں، حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت یونس علیہ السلام کی دعائیںبکثرت اور رقت کے ساتھ پڑھیں۔آئیے اس رمضان میں روزے کی ڈھال سے گناہوں، بیماریوں، بلاؤں، وباؤں اور پریشانیوں سے رب کریم کی رحمت کے حصار میں آجائیں۔

The post روزہ، قوت مدافعت بڑھانے کا بہترین قدرتی ذریعہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3f3EGVX

امریکی اور جرمن کمپنی نے کورونا وائرس کی ممکنہ ویکسین تیار کرلی

برلن: کورونا وائرس کی ویکسین کی انسانوں پر طبی آزمایش شروع ہوگئی ہے اور 2020 کے آخر تک یہ ممکنہ ویکسین دست یاب ہوجائے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی کمپنی کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے والے جرمن کمپنی نے انسانوں پر اس کی طبی آزمائش شروع کردی ہے اور ممکنہ طور پر اس سال کے آخر تک لاکھوں افراد کو یہ ویکسین فراہم کردی جائے گی۔

منگل کو امریکی جریدے میں شایع ہونے والی خبر کے مطابق امریکی دوا ساز کمپنی فائزر کا کہنا ہے کہ امریکا میں ویکسین کی طبی آزمائش  آئندہ ہفتے سے شروع ہوجائی گی اور کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اس کا استعمال بھی جلد کیا جاسکے گا۔

یہ بھی پڑھیے: چین کی کورونا وائرس ویکسین ستمبر تک دستیاب ہوگی

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق 23 اپریل کو طبی آزمائش کے شرکا کو ویکسین کی پہلی ڈوز دے دی گئی ہے اور جرمنی میں ابتدائی طور پر اس آزمایش میں 12 افراد شریک ہوئے ہیں۔ تاہم ابھی تک ویکسین کے نتائج کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کورونا سے متاثرہ جگہ و اشیا کی بحالی کیلیے جراثیم کش روبوٹ کی تیاری

جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے ویکسین اور بائیومیڈیکل ادویہ نے  22 اپریل کو جرمن کمپنی بائیون ٹیک اور فائزرکو کورونا وائرس ویکسین کی طبی آزمائش کرنے کی منظور دی تھی۔ دونوں کمپنیاں مشترکہ طور پر پہلے یورپ اور پھر امریکا میں ویکسین کی آزمائش کریں گی۔ آزمایش کے نتائج اور متعلقہ اداروں کی منظوری کے بعد 2021 تک کرورڑوں کی تعداد میں ویکسین تیار کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا میں کورونا وائرس کے علاج کیلیے خواتین کے جنسی ہارمونز کا استعمال

واضح رہے کہ اس وقت دنیا میں کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کے لیے 6 پروگرام کی طبی آزمائش شروع ہوچکی ہے اور 80 پروگرام ابتدائی مراحل میں ہیں۔

The post امریکی اور جرمن کمپنی نے کورونا وائرس کی ممکنہ ویکسین تیار کرلی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2zIzDdx

Tuesday, 28 April 2020

امریکا میں کورونا وائرس کے علاج کیلیے خواتین کے جنسی ہارمونز کا استعمال

لاس اینجلس: دنیا بھر میں جہاں کورونا وائرس سے نمٹنے کیلیے احتیاطی تدابیر اور لاک ڈاؤن جیسے طریقے اپنائے جا رہے ہیں وہیں کئی ممالک میں پہلے سے موجود کچھ ادویہ اور صحت یاب مریض کے پلازمہ کی منتقلی جیسے طبی تجربات بھی جاری ہیں لیکن حتمی علاج یعنی ایک ویکسین کی تیاری میں ابھی کافی وقت درکار ہوگا تاہم امریکا میں طبی ماہرین نے ایک منفرد طریقہ آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لاس اینجلس کے دو اسپتالوں میں کووڈ-19 کے علاج کے لیے خواتین کے جنسی ہارمون کو آزمانے کا منصوبہ بنالیا ہے جس کے تحت خواتین کے ہارمونز ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کے ذریعے مرد مریضوں کے علاج کا آغاز کردیا گیا ہے۔

خواتین کے لیے مخصوص قدرتی ہارمونز ایسٹروجن اور پروجیسٹرون میں قوت مدافعت میں اضافے اور وائرس کے خلاف لڑنے کی بے پناہ طاقت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین کا خیال ہے کہ خواتین کم ہی کورونا وائرس سے متاثر ہوتی ہے۔ مردوں میں یہ ہارمونز موجود نہیں ہوتے اس لیے مردوں میں قوت مدافعت بڑھانے اور وائرس سے لڑنے کی طاقت میں اضافے کیلیے ان ہارمونز کا مردوں میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لاس اینجلس کے کیدار سنائی میڈیکل سینٹر اور اسٹونی بروک اسکول آف میڈیسن میں جاری اس طبی ٹرائل کی کامیابی کے حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا تاہم ان کوششوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ طبی ماہرین موزی وائرس کے علاج کیلیے ہر امکان پر غور کر رہے ہیں اور جہاں بھی تھوڑی بہت امید نظر آتی ہے اس پر کام شروع کردیا جاتا ہے۔

قبل ازیں کورونا وائرس کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے طبی ماہرین نے ملیریا کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا کلورو کوئن کو آزمایا جس کے کہیں کہیں بہتر نتائج بھی ملے اس کے علاوہ صحت مند مریضوں کے پلازمہ کو متاثرہ مریضوں میں لگایا گیا تاکہ وائرس کے مقابلے میں امیونٹی حاصل کی جاسکے اسی طرح دل ، سینے اور معدے کی سوزش کے لیے استعمال ہونے والی دوا کا تجربہ بھی کیا جا چکا ہے۔

طبی ماہرین کے دستیاب ادویہ سے تجربات اپنی جگہ لیکن کورونا وائرس کا باضابطہ اور مستند علاج ویکسین ہی ہے جس کی تیاری چین، امریکا، جرمنی اور روس سمت کئی ممالک میں جاری ہے تاہم ویکسین کے مارکیٹ میں دستیابی کے لیے مزید 12 سے 18 ماہ لگ سکتے ہیں تب تک اس وائرس سے لڑنے کے لیے احتیاط ہی موثر ہتھیار ہے۔

The post امریکا میں کورونا وائرس کے علاج کیلیے خواتین کے جنسی ہارمونز کا استعمال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3cYjUFz

Monday, 27 April 2020

دل کے دورے کے بعد جسمانی سرگرمی زندگی کو بہتر بناسکتی ہے

لیڈز: برطانوی ماہرین نے ایک کثٰیر تعداد پر کی گئی تحقیق کے بعد کہا ہے کہ دل کے دورے کےبعد ہلکی ورزش اور جسمانی محنت سے زندگی کو خوشگوار اور بہتر بنانے میں بہت مدد ملتی ہے۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف لیڈز کے ڈاکٹر بین ہرڈس نے کی ہے جس کی تفصیلات یورپی سوسائٹٰی آف کارڈیالوجی نے اپنے پلیٹ فارم پر بھی شائع کی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) کے بعد لوگ پریشان رہنے لگتے ہیں لیکن ہسپتال میں بحالی کی سرگرمیوں کے بعد زندگی میں بہتری آتی ہے ۔ اس سے مریض فکروں سے آزاد ہوکر خوش رہنا سیکھتا ہےجس کے مثبت اثرات سامنے آتے ہیں۔

برطانیہ اور پاکستان میں بھی دل کے مریضوں کو ہارٹ اٹیک کے بعد سگریٹ چھوڑنے، غذا کے انتخاب، تناؤ کم کرنے اور مراقبے میں مدد دی جاتی ہے۔ لیکن ان میں ورزش کو سب سے مفید قرار دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں 4570 ایسے مریضوں سے سوالنامے بھروائے گئے جو جنہیں ہسپتال سے فارغ ہوئے ایک ، چھ یا بارہ ماہ ہوئے تھے۔ ان سے بہت سے سوالات کے ساتھ ورزش اور جسمانی محنت کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔

ان میں سے جن مریضوں نے ہفتے میں 150 یا اس سے زائد منٹ کے لیے چہل قدمی، کوئی ورزش یا جسمانی مشقت کی تھی انہوں نے روزمرہ زندگی میں بہتری کا اعتراف کیا۔ اس تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دل کے دورے کے بعد بہت ضروری ہے کہ دل کے بحالی کے تمام پروگراموں کو شرکت کی جائے۔ اس کے علاوہ بطورِ خاص ورزش اور محنت کو جاری رکھا جائے۔

The post دل کے دورے کے بعد جسمانی سرگرمی زندگی کو بہتر بناسکتی ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3cXT6W1

Sunday, 26 April 2020

کورونا سے متاثرہ جگہ و اشیا کی بحالی کیلیے جراثیم کش روبوٹ کی تیاری

کراچی: طلبہ نے COVID 19 کے متاثرہ مریضوں کے وارڈز میں موجود بستر سمیت دیگر جراثیم زدہ “انفیکٹڈ” اشیا کو sterilize ( جراثیم سے پاک) کرنے اور انھیں نئے مریضوں کے لیے قابل استعمال بنانے کی غرض سے ” الٹرا وائیلیٹ روبوٹ” تیار کرلیا ہے۔

این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور آئی بی اے کراچی کے سابق طلبہ نے COVID 19 کے متاثرہ مریضوں کے وارڈز میں موجود بستر سمیت دیگر جراثیم زدہ “انفیکٹڈ” اشیا کو sterilize ( جراثیم سے پاک) کرنے اور انھیں نئے مریضوں کے لیے قابل استعمال بنانے کی غرض سے ” الٹرا وائیلیٹ روبوٹ” تیار کرلیا ہے اس روبوٹ کو UV CORONA Fighter Robot کا نام دیا گیا یے جو اپنی ساخت کے اندر موجود الٹرا وائیلیٹ شعاؤں کی مدد سے کورونا وائرس یا اس کے مریض کے سبب  ماحول میں آنے والے جراثیم  کو مارنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس روبوٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک موبائل اپلیکیشن تیار کی گئی ہے جس کی مدد سے اسے آپریٹ کیا جائے گا.

اس حوالے سے روبوٹ تیار کرنے والے انجینیئر محمد نبیل نے “ایکسپریس” کو بتایا کہ ہماری ٹیم نے مختلف اسپتالوں کے دورے اور ڈاکٹر حضرات سے ملاقات میں اس بات کی کمی کو شدت سے محسوس کیا تھا کہ کورونا کے جو مریض صحت یاب ہوکر اسپتالوں سے فارغ ہورہے ہیں یا جنھیں گھروں پر ہی کورنٹائن کیا گیا ہے ان کی بیماری کے دوران زیر استعمال جراثیم زدہ اشیا اور کمرے یا وارڈ کو اسٹرلائز کرنے کا کوئی سائنسی مکینزم موجود نہیں ہے جبکہ نئے مریض کو دوبارہ اسی جگہ پر ایڈمٹ کرنے سے قبل اس جگہ اور متاثرہ اشیاکو disinfect کرنے کیے لیے بھی متعلقہ عملہ یا تو تیار نہیں ہے یا اس میں خود جراثیم سے متاثر ہونے کا خوف موجود ہے لہذا اس ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیں ایک ایسے روبوٹ کیا تیاری کا خیال آیا جس کے ذریعے متعلقہ اشیا اور جگہ کو انسانوں کی موجودگی کے بغیر ہی اسٹرلائز کیا جاسکے.

انھوں نے بتایا کہ کسی بھی سطح پر اگر یہ شعائیں چار منٹ تک مسلسل پڑتی ہیں تو وہاں موجود جراثیم مر جاتے ہیں محمد نبیل نے بتایا ہم نے روبوٹ پر کیمرہ نصب کیا ہے جس کی مانیٹرنگ اپلیکیشن کے ذریعے ہی ممکن ہے اور وارڈ کے باہر موجود روبوٹ آپریٹر اسے اپلیکیشن کی مدد سے کنٹرول کر سکتا ہے.

کورونا فائیٹر روبوٹ کی تیاری میں تقریباً 6 لاکھ روپے کے اخراجات آئے ہیں اور اس کی تیاری میں کنڑولر(برین)،موٹرز، انڈرائڈ، آلٹروائیلیٹ ٹیوبس اور فائبر کا استعمال کیا گیا ہے انھوں نے بتایا کہ ایک روبوٹ کی تیاری میں ایک ہفتے کا وقت درکار ہے اور ہم نے مختلف سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹرز کو اس حوالے سے آگاہ بھی کیا ہے ۔

 

The post کورونا سے متاثرہ جگہ و اشیا کی بحالی کیلیے جراثیم کش روبوٹ کی تیاری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2KCAKh4

چین کی کورونا وائرس ویکسین ستمبر تک دستیاب ہوگی

بیجنگ: دنیا کو اپنی تباہی سے بے رونق کر دینے والی بیماری کووڈ-19 سے تحفظ دینے کے لیے چین کی ویکسین مارکیٹ میں رواں برس ستمبر تک دستیاب ہوگی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین نے بے لگام کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاری مزید تیز کردی ہے اور رواں سال ستمبر تک یہ ویکسین ہنگامی صورت حال میں استعمال ہونے کیلیے دستیاب ہوگی جب کہ آئندہ برس کے ابتدا میں عام افراد کی دسترس میں ہوگی۔

چین کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کے سربراہ گائو فو نے میڈیا کو بتایا کہ 3 ویکسین پر یہ یک وقت کام جاری ہے اور پہلے کامیاب ٹرائل مکمل کرلیے گئے ہیں، کچھ دوسرے اور ایک تیسرے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ ستمبر تک طبی عملے کے لیے جب کہ آئندہ برس کے ابتدا میں عوام کے لیے دستیاب ہوگی۔

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی بھی ستمبر تک ویکسین کی تیاری کے لیے پرعزم ہے جس کے لیے رضاکاروں پر ٹرائل جاری ہے، اسی طرح امریکا، جرمنی، روس سمیت دیگر ممالک میں بھی ویکسین پر کام جاری ہے تاہم یہ آئندہ برس ہی دستیاب ہوسکیں گی۔

اس سے قبل عالمی ادارہ صحت اور ادویہ ساز کمپنیوں سمیت عالمی قوتوں نے کہا تھا کہ ہر ممکن کوشش کے باوجود ویکسین کی دستیابی میں 12 سے 18 ماہ لگ سکتے ہیں تاہم چین کی جانب سے ستمبر تک ویکسین کی دستیابی کے اعلان کے بعد سے کورونا وائرس سے لڑتی دنیا کو نیا حوصلہ ملا ہے۔

خیال رہے کہ چین کی ایک بڑی دوا ساز کمپنی چائنا سائینو فارم انٹرنیشنل کارپوریشن کے جنرل منیجر نے قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) اسلام آباد کو کووِڈ 19 کے لیے تیار کردہ ویکسین کا پاکستان میں کلینکل ٹرائل کرنے کی دعوت بھی دی تھی جس پر پاکستان نے مزید معلومات طلب کی ہیں۔

 

The post چین کی کورونا وائرس ویکسین ستمبر تک دستیاب ہوگی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2S9MZpC

Saturday, 25 April 2020

دُنیا بھی اک پتلی گھر ہے! سمجھو تو ۔۔۔۔

امید و یقین پر قائم ہے یہ دنیا، یہ فانی جہاں۔ امید و یقین ہی تو امنگ ہے جینے کی، یہی تو خوش خبری ہے، اور امید و یقین ہی سنبھالتی ہے انسان کو۔۔۔۔ شکست دیتی ہے مایوسی کو۔ میرا سوہنا رب کہتا ہے ناں امید و یقین کا دامن تھامے رہو، میں کروں گا تمہاری مرادوں کو پورا، میں ہی تو کرسکتا ہوں تمہاری آرزوؤں کی تکمیل، میں ہی تو کرسکتا ہوں تمہیں آسودہ، میں ہی تو بنا سکتا ہوں تمہیں تونگر اور میں ہی تو بدل سکتا ہوں حالات کو، مخلوق کے دلوں کو، میں ہی تو کارسازِ حقیقی ہوں۔

میں ہی ہوں دلوں کا پھیرنے والا، چراغِ محبت روشن کرنے والا، تمہارے دوستوں کو بڑھاوا دینے والا اور تمہارے دشمنوں کے چہروں کو خاک آلود کرنے والا، انہیں نابود کردینے والا۔ میں ہی ہوں ہر شے پر قادر، قادرِ مطلق۔۔۔۔! سب ہیں میرے محتاج، میں تو کسی کا بھی محتاج نہیں ہوں۔ مجھ سے کون پُوچھ سکتا ہے! میں جسے عزت دینا چاہوں کون اس کی تذلیل کرسکتا ہے؟ اور میں ہی کسی کو ذلیل کردوں تو کون ہے جو اس کی تکریم کرے؟

ہاں جو میرے لیے ذلّت برداشت کرے تب اُس کا مقام بلند ہے، جو میرے لیے ٹھکرا دیا جائے اس کا کیا کہنا، جو میرے لیے محروم کردیا جائے اُس کی شان مت پوچھو۔ رب امید و یقین ہے اور ابلیس مایوسی و ناامیدی۔ تم جانتے ہو شیطان کا نام ابلیس ہے۔ ابلیس، مایوس کردینے والا۔ مایوسی کو پھیلانے والا۔ تنہا کردینے والا۔ خوف دلانے والا۔ وسوسے پیدا کرنے والا۔ ہر طرح کا خوف۔۔۔۔ رزق کا خوف، موت کا خوف، بھوک و پیاس کا۔ جب نام ہی ابلیس تو مایوسی ہی پھیلائے گا ناں! بندگانِ رب کبھی مایوس نہیں ہوتے۔ کسی بھی حالت میں خوف کا شکار نہیں ہوتے۔ تُو بس بندۂ رب بن، اور شیطان ابلیس کو دُھتکار دے۔ لعنت بھیج دے اُس پر!

ہمارے خُلد مکیں بابا جی حضور بہت دُکھ سے کہتے تھے: ’’مجھے اس غریب پر حیرت ہوتی ہے، بہت رحم آتا ہے جو مفلس ہوکر بھی رب کی طرف نہ پلٹے، رب کا دامن نہ تھامے۔ امیر کا تو سمجھ میں آتا ہے کہ وہ دولت کے نشے میں مدہوش ہوکر بُھول جائے رب کو۔ غریب کیوں نہیں رب سے مانگتا، کیوں نہیں اپنے رب کا در پکڑتا، کیوں آہ و زاری نہیں کرتا، مجھے حیرت ہے ایسے غریب و مفلس پر!‘‘

ہاں! فقیر کو ازبر ہیں ان کی باتیں۔ آبِ زر سے لکھی جانے والی دانش و بصیرت افروز۔ ہمارے اردگرد بھی ایسی وبا پھیلی کہ حالات بہت بگڑ گئے۔ خاک بسر روٹی ڈھونڈ رہے ہیں۔۔۔۔ رشتے ناتے ٹوٹ گئے، دلوں کی دنیا اُجڑ گئی، موت کا ہرکارہ ہر طرف گھوم رہا ہے، نوجوان مایوس ہیں، پہلے تو اپنوں کے لیے فرصت نہیں تھی اور اب گھر میں رہتے ہوئے بھی اجنبی ہوگئے سب۔۔۔۔ کسی سے مسئلہ پوچھو تو وہ ’’یہ میرا ذاتی مسئلہ ہے‘‘ کہہ کر بیٹھ جاتا ہے، اور وہ بتاتا اس لیے نہیں کہ اعتبار ہی نہیں رہا۔ بندہ اعتبار کرے بھی تو کس پر؟ اندر کچھ، باہر کچھ۔۔۔۔۔!

یہ عذاب نہیں! بالکل بھی نہیں کہ عذاب میں تو کوئی کبھی کسی صورت بچ ہی نہیں سکتا۔ ہمارے آقا و مولاؐ کی دعا ہمارے حق میں قبول کی گئی ہے کہ میری اُمّت کو کبھی عذاب نہ دیا جائے۔ رب تعالی کریم و رحیم کا وعدہ پکّا ہے کہ اُمّت رسول کریمؐ کبھی عذاب سے دوچار نہیں کی جائے گی۔

یہ آزمائش و امتحان و تنبیہ ہے بس! کتنی بڑی آزمائش میں آگئے ہم، جی آزمائش میں! کتنے دُکھی ہوگئے، تنہا ہوگئے، بے یار و مددگار ہوگئے، بے دست و پا ہوگئے ۔۔۔۔! ہمارے شہر اجڑ گئے، بستیاں ویران ہوگئیں۔۔۔۔۔ اداسی اور تنہائی اوڑھے ہوئے ہیں ہم۔ اتنے بڑے ہجوم میں ہر ایک تنہا۔

لیکن فقیر کے بابا جی نے تو بتایا تھا کہ یہ سب کچھ رحمت ہے۔ یہ سب اس لیے ہے کہ ہم اپنی اصل کی طرف لوٹ جائیں۔ اپنے مالک حقیقی کو پہچان لیں، اسے منائیں، آہ و زاری کریں۔۔۔۔ ہم سے بہت بڑا ظلم ہوگیا، ہم گم راہ ہوگئے تھے، ہم سے گناہِ عظیم ہو گیا، تُو ہمیں معاف کردے، ہمارے گناہوں کو نہ دیکھ اپنی رحمت کو دیکھ، اپنے پیارے حبیبؐ کے صدقے، اپنی رحمت کے طفیل ہمیں معاف کردے، ہم سے درگزر فرما دے، ہم بے سہارا ہیں، بس تُو ہی تو ہے ہمارا سہارا۔ اور دیکھ تُو ہمیں معاف نہیں کرے گا تو ہم ظالموں میں سے ہو جائیں گے۔ ہم پر رحم کردے!

ہاں ہمیں وعدہ کرنا چاہیے تھا کہ آیندہ نہیں ہوگا اس طرح۔ ہم نہیں چھوڑیں گے تیرا دامن۔ ہم در در کے بھکاری بن گئے، اپنے غیبی خزانے ہم پر کھول دے، ہمیں رسوا نہ کر، ہاں ہم آیندہ تیرا در نہیں چھوڑیں گے۔ لیکن کتنے دُکھ کی بات ہے، کتنی محرومی ہے کہ ہم اس مصیبت میں بھی اُسے بُھول گئے ہیں۔

بہت خراب ہیں، بہت زیادہ خراب ہیں حالات۔ ہر پل نیا حادثہ، نیا واقعہ۔ بندہ بشر اپنی وقعت کھو بیٹھا ہے، تکریمِ انسانیت دم توڑ گئی ہے، اعتبار ختم ہو گیا ہے۔ حد ہے انسان، انسان سے خوف زدہ ہے، بے کل ہے، بے چین ہے، کوئی جائے اماں نہیں، سائباں نہیں۔ نفسانفسی ہے۔ کہیں چھینا جھپٹی ہے، معمولی سی چیز پر قتل و غارت گری ہے، شہر اجڑ رہے اور شہر خموشاں میں بدل رہے ہیں۔ کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔ بہت ابتر ہیں حالات۔ رونا ہے، آہیں ہیں، سسکیاں ہیں، نالے ہیں۔ کوئی نہیں ہے اپنا، بے گانے بن گئے سب۔

کیوں ہوا ایسا! کبھی سوچا ہم نے؟ سوچ لیں گھڑی دو گھڑی۔ آپ کیا سوچتے ہیں، فقیر کیا جانے! بڑے بڑے دانش وروں کو دیکھتا ہے۔ وہ نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں۔۔۔۔! اس نے یہ کر دیا، ہم نے تو یوں کیا تھا، اب ایسا کرلو، وہ ہیں ذمے دار، فلاں نے بیج بویا تھا۔۔۔۔۔ پھر تلخ کلامی، الزامات، یہ جا وہ جا۔ چھوڑیں جانے دیں، آپ بہت سمجھ دار ہیں۔

فقیر کو لگتا ہے۔۔۔۔ لگتا کیا ہے۔۔۔۔! یقین ہے، ہم اجتماعی گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ہم رب کے باغی ہیں۔ ہم نے رب کی نعمتوں کا کفران کیا ہے۔ ہم غیروں پر بھروسا کرتے ہیں۔ ہم نے اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سہارے تلاش کیے۔ انہیں پُوجا۔ رب نے ہمیشہ کرم کیا، ہمیشہ معاف کیا۔ ہمارے بابے کہتے ہیں، انسان کی گُھٹی میں پڑا ہوا ہے گناہ، نافرمانی، سرکشی اور نہ جانے کیا کیا۔ گناہ ہو جائے تو رب کے سامنے ندامت سے سر کو جھکاؤ، آنسو بہاؤ، وہ معاف کرتا رہے گا، اپنی نعمتیں برساتا رہے گا۔

اور ہم نے کیا کیا! سرکشی کی اور اس پر اترائے، گناہ کیے اور ان پر فخر کیا، بغاوت کی اور اس پر اکڑے۔ کون سا گناہ ہے جو ہم نے نہیں کیا! ہم پر سے رب کا حفاظتی حصار اٹھ گیا ہے۔ بس ایک ہی در ہے، بس ایک ہی ذاتِ باری ہے جو ہمیں بچا سکتی ہے۔۔۔۔۔ اﷲ جی۔۔۔۔۔! بس وہی اور کوئی نہیں، کوئی بھی نہیں۔ ہم تو سوچتے بھی نہیں ہیں۔ گھڑی دو گھڑی سوچیے!

دل کی دھڑکن، خون کی گردش دھوکا ہے

تن من سارا خاک نگر ہے‘ جانو تو

ان دیکھی اک ڈوری کا سب کھیل ہے یہ

دنیا بھی اک پُتلی گھر ہے‘ جانو تو

جی لینا بھی فن تھا‘ اب تو عزّت سے

مر سکنا بھی ایک ہنر ہے! جانو تو

علم و دانش کسی کی بھی میراث نہیں ہے۔ بس مومن کی میراث ہے، میرے آقا و مولاؐ کا ارشاد گرامی ہے حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ جہاں سے بھی ملے، اور یہ جو مراکزِ علم و دانش ہیں یہ بہت ضروری ہیں، ان میں تشنگانِ علم و فن بہت قابل قدر ہیں لائق تحسین ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اگر کوئی ان علمی مراکز میں نہیں رہا، وہ نرا جاہل رہ گیا۔ ایسا نہیں ہے، فطرت نے علم کا دائرہ بہت وسیع کیا ہے، حدود و قیود سے بالاتر، پوری کائنات اور اس کے مظاہر علم کا سرچشمہ ہیں۔ بس غور کرنے کی دیر ہے، اسرار کائنات کھلنے لگتے ہیں۔

فقیر بہت سے لوگوں کو جانتا ہے، پہچانتا ہے، ان میں رہا ہے، وہ کسی بھی مکتب میں نہیں رہے۔ کتاب کو چُھوا تک نہیں۔ بس غور کیا، فکر کیا، رب کی عنایت سے وہ جانتے ہیں، پہچانتے ہیں اور بیان کرتے ہیں۔ جب ان سے بڑے بڑے مسائل کو پلک جھپکتے حل ہوتا دیکھتے ہیں تو دانتوں تلے پسینہ آجاتا ہے۔ بہت ہی سادہ الفاظ، عجز و انکسار کا پیکر واہ کیا بات ہے ان کی! میرا وہ دوست بھی بالکل ان پڑھ ہے، کسی اسکول کی شکل نہیں دیکھی، عسرت و تنگ دستی میں آنکھ کھولی۔

مزدوری کی، بہت محنت سے موٹر مکینک بنا اور پھر گاڑی ہم وار راستوں پر روانہ ہوئی۔ اپنے کام کا ماہر، کسی بھی قسم کا انجن ہو اس کا کیڑا۔ کتنے ہی آوارہ لڑکوں کو مارپیٹ کر کام سکھایا اب سب اسے دعائیں دیتے ہیں۔ وہ ہے ہی دعاؤں کے لائق، پیار کے قابل۔ ایک دن میں اس کے ورکشاپ میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ ایک انجن پر جُھکا ہوا تھا۔ پھر نہ جانے اسے کیا ہوا۔ کہنے لگا: یار بابے! جاپانیوں نے جو انجن بنائے ہیں کمال کے ہیں لیکن جو جرمن نے بنائے ہیں ان کی تو ٹور ہی نرالی ہے۔

میں نے کہاں ہاں۔ پھر وہ کہنے لگا: ہر گاڑی کے ساتھ، ہر انجن کے ساتھ، ہر مشین کے ساتھ چاہے وہ چھوٹی ہو بڑی ہو۔ ایک کتاب آتی ہے جس میں لکھا ہوا ہے اسے استعمال کرنے سے پہلے یہ کتاب پڑھو اور جس طرح ہم کہہ رہے ہیں اسے استعمال کرو، یہ خراب نہیں ہوگی ہماری گارنٹی ہے لیکن۔۔۔۔۔ لیکن کیا؟ میں نے پوچھا۔ لیکن یہ کہ ہم کبھی وہ کتاب کھول کے بھی نہیں دیکھتے وہ تو بس پلاسٹک کی تھیلی میں بند رہتی ہے اور ہم اپنی تگڑم لڑاتے رہتے ہیں۔ مشین چل تو جاتی ہے۔ لیکن دیرپا نہیں رہتی اور خراب ہو جاتی ہے۔

اگر مشین خراب ہوجائے تو ہم وارنٹی کلیم کرتے ہیں اور جب مشین بنانے والے اس مشین کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں آپ نے اسے غلط استعمال کیا ہے۔ اب خراب ہوگئی تو ہم جواب دہ نہیں ہیں۔ ہم اس وقت ذمے دار تھے جب آپ اسے ہماری ہدایات پر استعمال کرتے پھر ہم اس کے لیے ذمے داری قبول کرتے۔ اب تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ میں نے بے زار ہوکر پوچھا: یار تُو عجیب آدمی ہے، میں کیا کروں پھر؟ پتا نہیں کیا بکواس لے کر بیٹھ گیا۔ تب اس کی آواز گونجی: چھوٹے! بیٹا ذرا کڑک سی چائے لا۔ خان کا میٹر گھوم گیا ہے جا میرا بیٹا جلدی سے۔ وہ پھر انجن کو ٹھک ٹھک کرنے لگا۔

ہاں تو خان صاحب کا میٹر صحیح ہوگیا۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا، کیا پھر بکواس کرے گا؟ میں نے اس کی بات کاٹی۔ میری بات تو سن لے یار، ہر کسی سے تو میں نہیں کہتا ناں۔ ویسے تو تم لوگ لیکچر دیتے رہتے ہو سب کی سنو اور حال یہ ہے تمہارا۔ اچھا بول، کر اپنی بکواس۔ ہاں یہ ہوئی ناں بات، اب بول بھی چُک۔ تو میں کہہ رہا تھا مشینیں بنانے والے کی بات نہ سنو تو مشین خراب ہو جاتی ہے اور ہمارے گلے پڑ جاتی ہے۔

اب دیکھو یہ جو انسان ہے ناں۔ یہ اﷲ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ اور اسے ٹھیک ٹھیک انسان بننے کے لیے ایک کتاب دی ہے کہ یہ لو۔ اس طرح رہو گے تو ٹھیک رہو گے اور ساری زندگی سُکھی گزرے گی اور ہماری ذمّے داری میں رہو گے۔ تمہاری ہر چیز کا ذمّے دار میں خود ہوں۔ تم بے فکر رہو اور اگر اپنی مرضی کرنا ہے تو ذمے داری بھی خود قبول کرو میں بری الذّمہ ہوں۔ انسان نے اپنی مرضی کی اب نتیجا سامنے ہے۔ اب رو رہا ہے۔ اب تو اﷲ تعالیٰ کی ذمّے داری نہیں ہے ناں۔ اب جو بویا ہے وہ کاٹو اپنا خود کیا ہے یہ نقصان تو رونا کس بات کا؟ واہ چَریا! تُونے یہ کہاں سے سیکھی ؟ میں نے پوچھا۔ اِدھر اُدھر سے سُن سن کر سیکھ لیں بس۔ پھر ہم کیا کریں اب؟ یہ تو میں نہیں جانتا۔ وہ پھر سے انجن پر جُھک گیا۔

فقیر کو یاد آیا ایک دن ہمارے بابے جی نے بتایا تھا۔ رونے دھونے سے بگڑے کام بن جاتے ہیں، ناکامی کام یابی بن جاتی ہے، چیخیں قہقہوں میں بدل جاتی ہیں۔ دُکھ، سُکھ کی جون بدل لیتے ہیں۔ تکلیف راحت اوڑھ لیتی ہے، اداسی مسکراہٹ بن جاتی ہے، تنہائی محفل ہو جاتی ہے، روٹھے ہوئے جاں نثار کرتے اور واری جاتے ہیں، سب کچھ ہو سکتا ہے، ہر کام چاہے ناممکن ہو، بن جاتا ہے سنور جاتا ہے۔ رونے دھونے سے، بس ایک چھوٹے سے فرق کے ساتھ، مخلوق کے سامنے نہیں رونا، خالق کے سامنے رونا ہے، مخلوق کے آگے دست سوال نہیں دراز کرنا، خالق کے سامنے کرنا ہے۔ آہ و زاری کرنا ہے، خوشامد کرنی ہے۔ آنسوؤں کے نذرانے پیش کرنے ہیں۔

بس اپنے رب کے سامنے صرف اپنے خالق کے سامنے، یہ آنسو کوئی معمولی شے نہیں ہیں۔ یہ آنکھوں سے برسنے والے لعل و گوہر ہیں۔ نمکین پانی کی بوندیں نہیں ہیں۔ بے وقعت تو ہرگز نہیں ہیں۔ ہزار لفظوں پر بھاری ہیں۔ یہ آنسو، یہ موتی مناجاتوں کی قبولیت کا نشان ہیں۔ انہیں بس ویسے ہی نہ سمجھو، یہ بہت انمول ہیں، بہت نایاب ہیں۔

میں نے اپنا حال بتانا چاہا بھی

لیکن آنسو مجھ سے پہلے بول دیا

قوسِ قزح سی حد نظر تک بکھرا دی

اشکوں نے جو رنگ دیا انمول دیا

انکھیوں میں آنسو کیوں امڈ آتے ہیں۔ نیناں رم جھم، رم جھم کیوں برستے ہیں۔ یہ ساون بھادوں کیوں برستا ہے۔ اس لیے کہ آنسو علامت ہیں، بے بسی کے! آنسو اعلان ہیں بے چارگی کے! آنسو نشان ہیں اعتراف کے! یہ بہت انمول ہیں! بہت زیادہ قیمتی اور بے مثال!

ہمارے پاس بس ایک ہی راہ رہ گئی ہے ہم نے خود اپنے لیے جہنم بنا لی ہے یہ زمین، ہم خود ہیں اس کے ذمے دار، ہمارے چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ سب کچھ برباد ہو گیا ہے ہر طرف تباہی ہے۔ بس ایک ہی راہ رہ گئی ہے ہمارے پاس ہمارے آنسو، مجھے آپ سے زیادہ دیر بات نہیں کرنا، بس رونے دھونے سے بگڑے کام بن جاتے ہیں ناکامی، کام یابی بن جاتی ہے۔ سب کچھ ہو سکتا ہے۔ ہم پھر سے فلاح پا سکتے ہیں۔ خالق کے سامنے رونے سے، اعتراف سے، رب کے ساتھ ناتا جوڑنے سے اور کوئی راہ نہیں ہے۔ کوئی بھی نہیں۔

فقیر کا کام تو صدا لگانا ہے جی! جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا۔ یقین رکھیے اور چاہے تو لکھ لیجیے فقیر کی بات کہ بہت جلد ہم اس آزمائش سے سُرخ رُو نکل جائیں گے۔ بس دعا کیجیے کہ مالک کبھی تنہا اور بے یار و مددگار نہ چھوڑے، مالک ہم پر رحم کرے۔ اور ہمیں یہ سمجھ دے، یہ توفیق دے کہ مالک حقیقی کو پہچانیں، زمینی خداؤں کا انکار کردیں اور اپنے رب سے اپنا رشتہ جوڑ لیں۔ دو پل کا جینا ہے اور پھر اندھیری رات سجنو! کچھ بھی تو نہیں رہے گا۔

بس نام رہے گا اﷲ کا

مایوسیوں کے گھور اندھیروں میں روشنی

غم کے سمندروں میں کنارا ہے تیرا نام

تنظیم مری بکھری ہوئی ذات کی ہوئی

جب روح و دل سے میں نے گزارا ہے تیرا نام

The post دُنیا بھی اک پتلی گھر ہے! سمجھو تو ۔۔۔۔ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2yF9609

کیا وائرس آنکھوں کے ذریعے پھیل سکتا ہے؟

آنکھیں انسان کی شخصیت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ کہا جاتا ہے آنکھیں بولتی ہیں۔لیکن بولتی آنکھوں کی زبان سمجھنا ضروری ہے کیونکہ وہ پیغام جو لفظ پہنچانے سے قاصر رہتے ہیں، وہ آنکھیں لمحوں میں پہنچا دیتی ہیں۔ اہم یہ ہے کہ آنکھوں کا خیال رکھا جائے۔

ہمارے اردگرد ماحول میں گرد وغبار اس قدر موجود ہے کہ ناچایتے ہوئے بھی ہماری آنکھیں اس سے متاثر ہوتی ہیں اور نتیجتاً مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتی ہیں۔ آنکھوں اور ان کی صحت و حفاظت سے جڑے کئی سوالات کے جوابات کی تلاش اس انٹرویو کا محرک بنی اور شاہینوں کے شہرسرگودھا سے تعلق رکھنے والے آئی سرجن ڈاکٹر فضل محمود تک لے گئی۔ ان سے کئے ٹیلیفونک انٹرویو کا احوال کچھ یوں ہے؛

ایکسپریس: کیا آنکھوں کے ذریعے کوئی وائرس پھیل سکتا ہے؟

ڈاکٹرفضل: بنیادی طور پر تین جگہوں سے وائرس پھیلتا ہے جوکہ آنکھیں منہ اور ناک ہیں۔ اگر وائرس زدہ ہاتھ آنکھوں کو لگا دیئے جائیں تو وائرس پھیلتا ہے۔

ایکسپریس: عمومی طور پر آنکھوں کی بیماریاں کونسی ہیں؟

ڈاکٹرفضل: آنکھوں کی تو بے شمار بیماریاں ہیں، کچھ الرجیز ہیں، انفکشن ہیں، کچھ Congenital ہیں جوکہ موروثی بیماریاں یا پھر ٹروما کی وجہ سے ہوسکتی ہیں پھر اس میں متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں، جیسے عمر اور ماحول وغیرہ۔ عموماً ہمارے ہاں الرجی کے مریض بہت زیادہ آتے ہیں، یا جن مریضوں کی بلڈپریشر کی وجہ سے آنکھیں متاثر ہوئی ہیں لیکن زیادہ تر الرجی اور انفکیشن کے مریض ہی زیادہ آتے ہیں۔

ایکسپریس: شوگر کے مریضوں کے آنکھوں میں اکثر خارش اور چھبن رہتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آنکھوں میں ریت چبھ رہی ہو۔ اس کی کیا وجہ ہوتی ہے اور ایسی صورت میں مریض کو کیا کرنا چاہیے؟

ڈاکٹرفضل: ہمارے ہاں الرجی کا موسم شروع مارچ سے لے کر جون جولائی تک چلتا ہے جس میں الرجی کے زیادہ کیسز آتے ہیں۔ الرجی کی وجہ سے آنکھوں میں زیادہ خارش ہوتی ہے۔ ایسے میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنی چاہیے۔ عموماً ہمارے ہاں سیلف میڈیکیشن ہوتی ہے۔ لوگ خود سے ہی دوا لیتے ہیں جو قطرے ڈالتے ہیں وہ سٹیرائڈز (Steroids) ہوتے ہیں جن سے فوری طور پر تو خارش میں کمی واقعہ ہوتی ہے مگر اس کے زیادہ استعمال سے کمپلیکیشنز شروع ہوجاتی ہیں۔ جس سے کالا موتیا کے چانس ہوتے ہیں۔ الرجی کے لیے خصوصی دوائیں موجود ہوتی ہیں جنہیں چیک کرواکر ڈاکٹر کے مشورے کے بعد ہی استعمال کرنا چاہیے۔

ایکسپریس: آنکھوں میں خارش کی بڑی وجوہات کیا ہیں اور کچھ لوگوں کی آنکھیں خشک رہنے لگتی ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اور کیا اس سے بینائی بھی متاثر ہوسکتی ہے؟

ڈاکٹرفضل: آنکھوں میں خشکی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ عموماً ہمارا ماحول اور آب و ہوا کیوں کے گرم مرطوب ہے وہ آنکھوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح لمبے عرصے تک دواؤں کے استعمال سے بھی آنکھوں میں خشک پن آجاتا ہے جیسے کالے موتیے کے مریض ہیں ان کو کیونکہ دوائیں زیادہ عرصے تک استعمال کرنا پڑتی ہیں، یا پھر کچھ مستقل امراض کے مریض جیسے کہ جوڑوں کا درد ان میں بھی یہ مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے اور ایسے میں اگر مصنوعی آنسوؤں کا استعمال نہ کیا جائے اور یہ بڑھ جائے تو مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ آنکھ کا سرفیس خشک ہونا شروع ہوجاتا ہے جو اور کئی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ ایسے میں بروقت علاج شروع نہ کروایا جائے تو اس سے پیدا ہونے والی پچیدگیوں سے بینائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

ایکسپریس: کیا نارمل آئی چیک اپ کے دوران کالے موتیا کی شناخت ہو سکتی ہے؟

ڈاکٹرفضل: بنیادی طور پر پیشنٹ یہ علامات محسوس کرتا ہے کہ اس کی نظر کمزور ہورہی جب ڈاکٹر کے پاس جائے گا تو پھر معلوم ہوگا۔ مگر عموماً ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی کو محسوس ہوکہ نظر کمزور ہورہی ہے تو وہ آپٹو مٹرسٹ (Optometrist) ماہر بصارت کے پاس چلے جاتے ہیں۔جہاں وہ کوئی نہ کوئی نمبر گلاسز میں لگادیتے ہیں اور مریض کو لگتا ہے کہ میرا مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ جب بھی آپ محسوس کریں کہ آپ کی ویژن کم ہورہی ہے تو آپ ڈاکٹر کو ضرور چیک کروائیں تاکہ وہ اس کو پراپر چیک کرے اور اس کی اصل وجہ تلاش کرسکے۔ نظر کم تو بہت سی وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے جیسے عمر، موتیا اور دیگر وجوہات اس کے پیچھے کار فرما ہوسکتی ہیں۔ سوخالی عینک لگا دینا اس کا حل نہیں ہوسکتا۔

ایکسپریس:موتیا کیوں ہوجاتا ہے اور ایک عام انسان اس کو کیسے سمجھ سکتا ہے؟

ڈاکٹرفضل:موتیا کی دو اقسام ہیں ایک (Catoracts) جسے عام لوگ سفید موتیا کہتے ہیں جس کا علاج ممکن ہے اورآپریشن کے بعد ویژن بلکل صاف ہونے لگتا ہے۔ دوسرا کالا موتیا ہے جس کا پہلے ذکر ہوا اس میں ویژن (بینائی) آہستہ آہستہ متاثر ہوتی ہے یا اچانک سے اس کا اٹیک ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں جو بینائی جاتی ہے وہ واپس نہیں ملتی۔ مریض کا بینائی کی کمزوری کو محسوس کرنا اس کی علامت ہے سو اگر جلدی معلوم ہوجائے تو آج کل جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سرجری کردی جاتی ہے۔ اگر زیادہ مسئلہ ہو تو آرٹیفیشل لینز کا بھی ڈال دیئے جاتے ہیں۔

ایکسپریس: آج کل لیئزر سرجری کا رجحان بہت بڑھ رہا ہے، خصوصاً عینک سے چھٹکارا پانے کے لیے تو کیا اس کے اثرات و نتائج دیرپا ہوتے ہیں اور کیا اس کے کوئی نقصانات ہیں؟

ڈاکٹرفضل: عموماً اٹھارہ یا بیس برس میں نظر سٹیبل ہوجاتی ہے کیونکہ لیئزر سرجری جوکہ گلاسیز ریمو کرنے کے لیے کی جاتی ہے، اس کے لیے نظر کا ایک جگہ ٹھہرنا ضروری ہوتا ہے۔ پھر ایک اور چیز ہے کہ پہلے مختلف ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اور آنکھ کا جو کالا پردہ ہمیں دکھائی دے رہا ہوتا ہے اس کی موٹائی چیک کی جاتی ہے کیونکہ لیئزر کے ساتھ اس کو کاٹا جاتا ہے۔ پھر نمبر دیکھنا ہوتا اس کے ساتھ دوسری بہت سے چیزیں جیسے کہ کوئی بیماری تو نہیں کہ پردہ پیچھے ٹھیک ہیں یا نہیں نمبر ایک جگہ ٹھہرا ہوا ہے کہ نہیں کوئی مورثی بیماری تو نہیں۔ پھر ایک خاص حد تک کے نمبر کے لیے لینز کی جاسکتی ہے۔

7 سے 8 نمبر تک آسانی سے ہٹاسکتے ہیں۔ مریض کا مکمل معائنہ کرنے کے بعد اور ٹیسٹ کرنے کے بعد ہی یہ مشورہ دیا جاتا ہے۔ باقی اس کی اپنی پیچیدگیاں ہیں جیسے جو خشک آنکھوں (Dried eyes) والے مریض ہوتے ہیںان کو سرجری ریکمنڈ نہیں کرتے۔اس کے علاوہ بعد میں ڈرائی نیس فیل ہونا شروع ہوجانی ہے تو اگر ڈرائینس ہو یا الرجی ہو یا کوئی اور آنکھوں کے پردوں کا مسئلہ ہو تو پھر سرجری نہیں کرتے۔ اگرسرجری کرنے کے بعد آنکھوں میں خشکی یا نمبر دوبارہ آجائے تو ایسا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔

مگر اس کے بہت کم امکانات ہوتے ہیں۔ اس لیئزر سرجری کی تین بنیادی اقسام ہیں۔ پی آر کے، لیسک اور فیمؤبیسک اور آجکل اس کی ایک نئی قسم آئی ہے جوکہ سمائل لیئزر سرجری کہلاتی ہے۔

کچھ ڈاکٹرز کا خیال ہے کہ پی آر کے اس حوالے سے بہتر ہے کیونکہ لیسک میں ایک فلیئر بناتے ہیں جس کی اپنی پیچیدگیاں ہوتی ہیں خصوصاً سرجری کے دوران اور اس کے بعد بھی۔ لیکن زیادہ تر لیسک ہی تجویز کی جاتی ہے کیونکہ اس میں جلد بہتری ہوتی ہے اور درد بھی کم ہوتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پی آر کے میں ریکوری دیر سے ہوتی ہے۔ آنکھوں سے بلیڈنگ ہوتی ہے اور درد رہتا ہے۔ اس کے علاوہ فیمٹو لیسک ہے جس میں ایکوریسی (Accuracy) زیادہ ہے اور نظر بہت جلد بحال ہوجاتی ہے۔ لیئزرٹریٹمینٹ مہنگاہے چونکہ لینز مشین کافی مہنگی ہوتی ہے تو اس حساب سے ان کے چارجز بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

ایکسپریس: آنکھوں کے پردے کمزور ہونے سے کیا مراد ہے؟

ڈاکٹرفضل: آنکھوں کے پردے جسے ہم ریٹینا (Retina) کہتے ہیں اس کو عام طور پر نظر سے جوڑا جاتا ہے لیکن اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی بے شمار بیماریاں ہیں۔ نظر کی کمزوری کے لیے Laymanterm میں کہہ سکتے کہ آنکھوں کے پردے کمزور ہیں۔ اس کی تین لیئرز ہوتی ہیں۔

ایک اندر والی جوکہ نظر کے لیے کام کررہی ہوتی ہے۔ تو لوگوں کو سمجھانے کے لیے کہا جاتا ہے کہ آپ کی نظر کم ہورہی ہے جس سے آپ کے آنکھوں کے پردے کمزور ہورہے ہیں۔ اس کے پیچھے متعدد وجوہات ہوسکتی جیسے گلوکوما ی، موروثی بیماری یاٹروما وغیرہ۔ لیکن اصل وجہ کی شناخت مکمل تشخیص کے بعد ہی ممکن ہے۔

ایکسپریس: نظر کی کمزوری کا آنکھوں کے پردوں پر اثر ہونے کی صورت میں لیئزر ٹریٹمنٹ کیا جاسکتا ہے؟

ڈاکٹرفضل: بعض اوقات گلاسز کا نمبر بہت زیادہ ہوتا ہے تو ریٹینا Stratch ہونا شروع ہوجاتا ہے جس سے اس پر ہلکے ہلکے سلاٹ Slot بنانا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس کا لینز کے ذریعے کنفیکٹڈ ٹریٹمنٹ کرتے ہیں تاکہ ریٹینا ڈی ٹیچ نہ ہو۔ کیونکہ ایسے مریضوں میں رٹینا کے ڈی ٹیچ ہونے کا چانس ہوتا ہے تو لینز کے ذریعے اسے سٹیبل کیا جاتا ہے۔

اسی طرح شوگر کے مریضوں کی آنکھوں کے پردوں میں خون کی نالیاں کمزور ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور ان سے لیکیج ہونا شروع ہوجاتی ہے، جس سے آنکھ کے پردے متاثر ہونے لگتے ہیں تو ان لیکیج یا متاثرہ جگہ کو لیئزر کے ذریعے ٹھیک کرتے ہیں تاکہ بینائی کو بچایا جاسکے۔ اسی طرح بہت سی کنڈیشنز ہوتی ہیں جن میں لیئزر کیا جاتا ہے اور پھر لینز کی بھی بہت سی قسمیں ہوتی ہیں تو بیماری کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ کونسا ٹریٹمنٹ کرنا ہے۔

ایکسپریس: کیا کوئی ایسے ڈراپس بھی ہیں جو ہر وقت فرسٹ ایڈ باکس میں موجود ہونے چاہئیں؟ اگر ایمرجنسی ہوجاتی یا آنکھ میں کچھ چلا جاتا ہے تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

ڈاکٹرفضل: اصل میں اللہ تعالیٰ نے قدرتی طور پر ہماری آنکھ کے اندر ایک نظام رکھا ہوا ہے کہ پانی کی ایک لیئر ہوتی ہے جس سے مسلسل پانی بن رہا ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں اینٹی باڈیز بھی رکھی ہیں اور اس میں پروٹکٹیو چیزیں بھی ہیں جوکہ ہماری آنکھ کو محفوظ بنارہی ہوتی ہیں۔ عموماً تو ایسے ڈراپس کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن کیونکہ ہمارا ماحول بہت گرد آلودہ ہے تو باہر نکلنے پر آنکھوں میں دھواں یا مٹی چلی جاتی ہے تو ایسی صورت میں جب بھی گھر واپس آئیں آنکھوں میں ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں تو آپ کی آنکھیں صاف ہوجاتی ہیں۔

اگر آنکھوں میں خدا ناخواستہ کوئی کیمیکل چلا جاتا ہے تو ایسی صورت میں آنکھ میںاچھی طرح پانی ڈالیں، اور فوراً ڈاکٹر کو چیک کروائیں کیونکہ کوئی ایسے ڈراپس نہیں جن کے بارے میں کہا جاسکے کہ و ڈالنے سے نقصان نہیں ہوگا۔ ہاں البتہ پانی کے اچھی طرح چھینٹے مارنے سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر تک پہنچنے سے پہلے کم سے کم نقصان ہو۔ ڈراپس بعد میں معالج ہی تجویز کرسکتا ہے۔

ایکسپریس: کچھ لوگوں کو بظاہر کوئی بیماری نہیں ہوتی مگر ان کی آنکھیں سرخ رہتی ہیں تو اس کا کیا راز ہے؟

ڈاکٹرفضل: جیسے ہر شخص کی رنگت الگ ہوتی ہے، اسی طرح آنکھوں کی رنگت بھی جدا ہوتی ہے۔ جیسے کسی کی سرخی مائل، کسی کی زردی مائل اور کسی کی سفیدی مائل اگر قدرتی رنگ ہی ایسا ہو تو پھر پریشانی والی کوئی بات نہیں۔ لیکن اگر خداناخواستہ کوئی چیز چلی جاتی ہے یا انفکشن ہوجاتا ہے تو آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں۔

اگر آنکھوں کا قدرتی رنگ سرخ ہے تو کوئی مسئلہ نہیں، اگر الرجی ہے تو اس کے ڈراپس موجود ہیں اور اگر انفکشن ہے تو دیکھنا ہوگا کہ بیکٹرئیل انفکیشن ہے، وائرل ہے یا کوئی اور قسم ہے تو اس کا ٹریٹمنٹ دیں گے تو اس صورت آنکھوں کی سرخی ختم ہوگی۔اگر وائرل انفکشن ہے تو اس میں عموماً کسی اینٹی باڈی کی ضرورت نہیں ہوتی، اس میں آرٹیفیشل ٹیئرز ڈالیں تو وہ کچھ دنوں کے بعد ٹھیک ہوجاتا ہے۔ بیکٹرئیل انفیکشن کی صورت میں پیٹنٹ اینٹی باڈیز ڈالنے سے پانچ سے سات روز میں آپ کی وہ ریڈنس ختم ہوجائے گی۔

ایکسپریس: آشوب چشم کی کیا وجوہات ہوتی ہیں اور اس میں کیا کرنا چاہیے؟

ڈاکٹرفضل: آشوب چشم ایک وائرل انفکشن کی صورت پھیلنے والی وباء ہے جوکہ عموماً ایک سے دوسرے فرد کو لگ سکتی ہے۔ اس میں اگر حفظان صحت کا خیال رکھیں تو کم سے کم متاثر ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ مثلاً ہاتھ اور چہرہ اچھے طریقے سے دھلا ہو اور صاف ہونا چاہیے۔ عموماً گندے ہاتھ منہ پر اور آنکھوں میں لگانے سے یہ انفکشن پھیلتا ہے۔ متاثرہ شخص کی استعمال شدہ اشیاء مثلاً اس کا تولیہ استعمال کرنے سے پھیل سکتا ہے۔

 

اگر ہائی جین (Hygiene) کا خیال رکھیں، مکمل صفائی رکھیں، متوازن غذا کا اہتمام کریں اور گھروں میں مناسب ہوا کا بندوبست ہو تو اس کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ جن علاقوں میں عموماً سیلاب کے بعد ایسی ایپی ڈیمک (Epidemic) یا وباء پھوٹ پڑتی ہے، تو اگر مناسب حفاظتی اقدامات کریں تو اس سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ کسی دوسرے کی آنکھوں میں دیکھنے سے یہ وباء ہرگز نہیں پھیلتی لیکن اختلاط سے جیسے گھروں میں خواتین جو چھوٹے بچوں کو اٹھاتی اور ان کی دیکھ بھالی کرتی ہیں یا چھوٹے بچے جو آپس میں کھیلتے ہیں یا اگر گھر میں سب ہی افراد ایک ہی تولیے کا استعمال کرتے ہوں یا عینک جو ایک بندے نے لگائی وہ دوسرا بھی لگائے تو یہ فوراً دوسرے شخص کو لگ سکتا ہے۔

ایکسپریس: الرجی کی بہت سی اقسام ہیں۔ ایسی کونسی علامات ہیں جو الرجی کو ظاہر کرتی ہیں؟

ڈاکٹرفضل: عموماً مریض کو آنکھوں میں چبھن ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ آنکھیں سرخ ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور ان میں سوجن ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ تو ان علامات سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ الرجی ہوگئی ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اس کی کافی ادویات موجود ہیں جنہیں استعمال کرنے سے افاقہ ہوتا ہے۔

ایکسپریس: دھندلا دکھائی دینا کس چیز کی جانب اشارہ کرتا ہے؟ عموماً لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نظر کی کمزوری کوئی بہت بڑی بیماری ہے تو اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟

ڈاکٹرفضل: نظر کی کمزوری کی متعدد وجوہات ہوتی ہیں عموماً اسی صورت میں عینک کی ضرورت پڑتی ہے۔ آج کل بچوں کی نظر کمزور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی آؤٹ ڈور (Outdoor) ایکٹوٹیز بہت کم ہوتی ہے۔ ہر وقت گیجیٹس استعمال کرنے سے نظر کمزور ہونے کے چانسز بہت زیادہ ہوجاتے ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ بچوں کو موبائل بہت کم استعمال کردینے دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ آؤٹ ڈور ایکٹویٹز بہت ضروری ہیں۔ اگر نظر کمزور ہوگئی ہے تو عینک کے استعمال سے اس روکا جاسکتا ہے۔ اگر عینک استعمال نہیں کریں گے تو نظر کے مزید خراب ہونے کے چانسز ہوں گے۔ کانٹیکٹ لینزز کا مستقل استعمال آنکھوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر اپنی ڈائٹ اچھی رکھیں، میک اپ کم سے کم استعمال کریں، آؤٹ ڈور مشاغل اپنائیں تو نظر پر بہتر اثرات مرتب ہوں گے۔ عموماً 18 سے 20 برس تک گروتھ مکمل ہوجاتی ہے اور اس کے بعد ایک عینک سے چھٹکارا پانا چاہیں تو لیئزر بھی کروایا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس: کچھ بچوں کی آنکھوں سے پانی آتا ہے صبح اٹھنے کے بعد انہیں آنکھیں کھولنے میں دقت کا سامنا رہتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہوتی ہے اور کیا کرنا چاہیے؟

ڈاکٹرفضل: عموماً انفکیشن کی صورت میں ایسا ہوتا ہے صبح اٹھنے پر آنکھوں میں ڈس چارج آیا ہوتا ہے۔ بیکٹریل انفکشن کی وجہ سے کافی ڈسچارج آنا شروع ہوجاتا ہے تو اینٹی باڈیز یوز کریں، پانی کے چھٹے لگائیں یہ ہفتہ دس دن کے اندر اندر ٹھیک ہوجاتا ہے۔

ایکسپریس: آنکھوں کی اچھی صحت کے لیے بطور ماہر امراض چشم کیا ہدایات دینا چاہیں گے؟

ڈاکٹرفضل: سب سے اہم یہ بات ہے کہ اپنی صفائی کا خیال رکھیں۔ اپنے ہاتھوں اورجسم کو صاف رکھیں، اپنے گھروں کو صاف رکھیں، متوازن غذا کا انتخاب کریں، نیند پوری لیں، ورزش کریں تو بہت سی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔ اگر اپنے طرز زندگی کو بہتر بنایا جائے تو ناصرف آنکھوں کی بلکہ بہت سی بیماریاں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی۔ میرے خیال سے کرونا نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ زندگی نان سٹاپ کام کرنے کا ہی نام نہیں، ہمیں کچھ وقت اپنی فیملی کے ساتھ بھی گزارنا چاہیے۔

کالا موتیا سے جانے والی نظر دوبارہ واپس نہیں آتی:ڈاکٹر فضل
ایکسپریس:گلوکوما یعنی کالا موتیا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا کوئی علاج نہیں کیا یہ درست ہے؟ کیا اس کے علاج کے حوالے سے کسی بڑے بریک تھرو کی توقع کی جاسکتی ہے؟ کیا اس کے حملے کی کوئی پیشگی علامات ہیں جن سے بروقت بینائی بچانے کی کوئی سبیل کرسکے؟
ڈاکٹرفضل: کالے موتیے کی مختلف اقسام ہیں جیسے اس کی ایک قسم Angle Closure Glaucoma ہے۔ اس کے مریض کو شدید درد شروع ہوجاتی ہے۔ خاص طور پر شام کے وقت جب روشنی مدہم پڑتی ہے تو کیونکہ وہ Narrow angle ہوتا ہے تو آنکھ کی پتلیاں پھیلنے لگتی ہیں۔ سو مریض جب ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو وہ تشخیص کرلیا جاتا ہے۔ ایک ہوتا ہے۔


Open Angle Glaucoma جس میں آہستہ آہستہ مریض کی آنکھیں متاثر ہورہی ہوتی ہیں مگر اسے محسوس نہیں ہوتا۔ جب مریض کو لگتا ہے کہ اس کی نظر کم ہورہی ہے تو وہ ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ گھمبیر ہوچکا ہے۔ عموماً ایسے مریضوں میں فیملی ہسٹری ہوتی ہے۔ جن کے خاندان میں گلوکوما (کالا موتیا) ہو انہیں وقفے وقفے سے چیک کروانا چاہیے۔ عموماً چالیس برس (40) کے بعد اگر فیملی ہسٹری میں گلوکوما ہو تو آہستگی سے نظر کے متاثر ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ تو اس کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور وقفے وقفے سے اپنی آنکھوں کا چیک اپ کرواتے رہناچاہئے۔

اب تو میڈیکلی اور سرجیکلی بھی اس کا بروقت علاج ممکن ہے۔ اس میں دوائیں مسلسل استعمال کرنا ہوتی ہیں۔ اگر یہ تشخیص ہوجائے تو ڈاکٹر سے مسلسل دوا لے کر اسے قابو کیا جاسکتا ہے اور دوائوں کے استعمال سے ویژن(بینائی) سٹیبل رہ سکتا ہے۔ اگر کوئی دوا اثر نہیں کرتی تو ڈاکٹر سے چیک اپ کرواکر اسے بدلابھی جاسکتا ہے، جس سے بہتر نتائج آسکتے ہیں۔ لیکن اگر ایک دفعہ کالے موتیے کی وجہ سے نظر چلی گئی تو پھر واپس نہیں آسکتی۔

The post کیا وائرس آنکھوں کے ذریعے پھیل سکتا ہے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2VBnFuL

مٹی کے چولہے صحت کے لیے مزید خطرناک قرار

چھتیس گڑھ: اس وقت دنیا کے لاکھوں کروڑوں گھروں کے اندر کچے مٹی اور گارے کے چولہے استعمال ہورہے جن میں لکڑی اور کوئلہ وغیرہ جلایا جاتا ہے۔ اس عمل سے کاربن ذرات اور سیاہ دھواں بنتا ہے جو خواتین اور بچوں کے لیے بالخصوص بہت تباہ کن ہوسکتا ہے۔

سینٹ لوئی میں واقع واشنگٹن یونییورسٹی کے سائنسداں راجن چکروتی نے بھارتی دیہاتوں پرایک مفصل تحقیق کی ہے۔ چھتیس گڑھ کے اس علاقے میں اپنی تحقیق میں نوٹ کیا کہ گھروں کے اندر نصب کچے چولہوں سے اٹھنے والی کاربن اور دیگرسیاہ ذرات کپڑوں، گھروں کی دیواروں سمیت سانس کی نالیوں میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ اس سے صحت پر خطرناک نتائج اثرانداز ہوتے ہیں۔

عام طور پر چولہے میں فصلوں کا پھوگ، گائے کا گوبر،لکڑی اور برادہ وغیرہ بھی جلایا جاتا ہے جو گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ بھی بنتا ہے۔ اس طرح یہ ماحول اور انسان دونوں کے لیے ہی خطرناک ثابت ہورہا ہے۔

اس تحقیق میں سیاہ کاربن کے ذرات کو انتہائی مضر قرار دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ماہرین کی ٹیم نے چھتیس گڑھ کے علاقے میں مختلف اقسام کے 30 سے زائد ٹیسٹ کئے جن میں مختلف ایندھنوں کے اثرات بھی دیکھے گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ مٹی اور گارے سے بنے تندور نما چولہوں سے سفید اور سیاہ دھواں خارج ہوتا ہے جس میں بلیک کاربن بھی ہوتا ہے اور بھورا یعنی براؤن کاربن بھی پایا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس دھوئیں میں سیاہ کاربن کے ساتھ ساتھ پولی سائیکلک ایئرومیٹک ہائیڈروکاربنز بھی پایا جاتا ہے جو انسان اور جانوروں میں کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں۔ ایسے چولہے افریقہ، ایشیا اور دنیا کے دیگر غریب ممالک میں عام استعمال ہوسکتے ہیں۔

ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ اکثر گھروں میں چولہے اندر کی جانب لگائے جاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال تھر کے اندر مخصوص گھروں یعنی چونرا کے اندرایسے چولہے لگائے جاتے ہیں اور اس کا دھواں گھرکے اندر ہی گھومتا رہتا ہے۔ یہ دھواں انتہائی خطرناک ذرات کے ساتھ گھر کےکپڑوں اور اطراف میں نفوذ کرجاتا ہے۔

The post مٹی کے چولہے صحت کے لیے مزید خطرناک قرار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3bF6sWU

Friday, 24 April 2020

انسانی اسکن کے ذریعے کورونا کا سرایت کرنا ناممکن، ڈاکٹرز

کراچی: جب سے کورونا وائرس کی وبا پھیلی ہے اس وقت سے طرح طرح کی باتیں سننے میں آرہی ہیں اور اس وبا کے حوالے سے جتنے منہ اتنی باتیں سامنے آرہی ہیں اور لوگوں میں بہت سے غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔

کورونا کیا ہے؟ اور اس سے کیسے بچاجاسکتا ہے؟ اور اس حوالے سے دیگر معلومات دینے کے لیے ایکسپیریس نے عوامی سروے کیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آخر لوگ جاننا کیا چاہتے ہیں؟ اور اس پھر ان سوالوں کو ماہرین صحت کے سامنے رکھا ہے۔

سوال: کورونا وائرس کپڑوں پر کتنی دیر تک رہتا ہے؟ کیا یہ انسانی بالوں پر بھی زندہ رہ سکتا ہے اور کیا یہ انسانی جسم میں سرایت کرسکتا ہے؟ جواب: جامعہ کراچی کے ادارہ برائے وبائی امراض کے ڈاکٹر محمد راشد کا کہنا تھا کہ انسانی بالوں یا کھال یعنی اسکن کے ذریعے اس وائرس کا سرایت کرنا ناممکن ہے، یہ صرف اور صرف منہ، ناک یا آنکھوں کے ذریعے ہی انسانی جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔ اگر وائرس آپ کے بالوں یا کپڑوں پر موجود ہے تو بھی آپ محفوظ ہیں جب تک آپ اسے چھو نہیں لیتے اور اس کے بعد ہاتھ دھوئے بغیر آپ اپنے ناک، منہ یا آنکھوں نہ چھو لیں۔

جہاں تک سوال ہے کپڑوں پر وائرس کی موجودگی کا تو اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس ریشمی کپڑوں پر زیادہ دنوں تک رہ سکتا ہے جبکہ کاٹن یا پولیسٹر وغیرہ پر یہ زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہتا۔ یہ وائرس سخت اور چمکدار اشیا یا سطحوں پر 72 گھنٹوں یعنی تین دنوں تک رہ سکتا ہے۔

اسی حوالے سے مائیکرو بائیولوجسٹ ڈاکٹر صدف اکبر نے بتایا کہ اس بارے میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، جو کپڑے آپ پہن کر باہر گئے ہوں انہیں گھر واپس آنے کے بعد فوری طور پر دھو ڈالیں اور شاور لے لیں لیکن احتیاط کریں کہ نہانے اور کپڑے تبدیل کرنے سے قبل گھر میں کسی فرنیچر وغیرہ پر نہ بیٹھیں۔

ڈاکٹر راشد کا کہنا تھا کہ کوشش کریں کہ جب گھر سے باہر جائیں تو کم سے کم اشیا اپنے ہمراہ لے کر جائیں بلکہ بہترین بات تو یہ ہوگی کہ آپ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ لے کر جائیں بجائے اس کے کہ پیسے اپنے پرس یا والٹ وغیرہ میں رکھیں کیونکہ اس صورت میں گھر واپسی پر آپ کو زیادہ اشیا کی صفائی کی ضرورت ہوگی۔ جہاں تک بات جوتوں کی ہے تو اگر تو وہ دھوئے جاسکتے ہوں تو انہیں دھو لیں۔ اگر ممکن ہو تو گھر سے باہر اور گھر کے اندر پہننے کے لیے جوتے علیحدہ رکھ لیں۔

سوال: کیا گھر سے باہر جاتے وقت ماسک اور دستانوں کا استعمال ضروری ہے یا خطرناک؟ کیا ماسک اور دستانوں کو دوبارہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے؟ یا انہیں ایک بار استعال کے بعد ضائع کردیا جائے؟ جواب: ڈاکٹر صدف نے اس بارے میں بتایا کہ یہ سمجھنا خطرناک ہے کہ ماسک اور دستانوں کے ذریعے ہمیں وائرس سے مکمل تحفظ حاصل ہو جاتا ہے۔ اسے اس طرح سمجھیے کہ دستانوں کے ساتھ یا دستانوں کے بغیر آپ بار بار ایک سطح کو چھوتے ہیں جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے اور اگر اس کے بعد اس کے بعد اپنے منہ کو چھوتے ہیں تو بھی اس کے بعد آپ کو انفیکشن لگنے کا خطرہ ہوتا ہے لہذا بہتر بات یہی ہے کہ اپنے ہاتھوں کو دھولیں اور اپنے منہ کو چھونے سے گریز کریں۔بہترین کام تو یہ ہے کہ سبزیوں اور پھلوں کو کھانے والے سوڈے کے ذریعے دھولیا جائے اگر تو ان کا چھلکا الگ کرکے انہیں کھایا جاتا ہے لیکن جو پھل اور سبزیاں براہ راست کھالی جاتی ہیں انہیں صرف پانی سے دھولینا بھی کافی ہے۔

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی، لاڑکانہ کی وائس چانسلر ڈاکٹر انیلا عطا الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں لوگوں کی عادت ہے کہ وہ جب پھل یا سبزیاں وغیرہ خریدنے جاتے ہیں تو بلاوجہ انہیں ہاتھوں یں لے کر دیکھتے ہیں اور بھاؤ تاؤ کرتے ہیں اس عمل سے اجتناب کیا جانا چاہئے۔

ڈاکٹر انیلا کا کہنا تھا کہ بطور ایک ماہر وبائی امراض میں یہ کہوں کہ زیادہ تر پاکستانیوں کی قوت مدافعت بہت کمزور ہے اور اس بات کے خدشات ہیں کہ مئی کے اختتام تک ملک میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوگا اور کمزور قوت مدافعت کی وجہ سے بیشتر پاکستانی خطرات کی زد میں ہوں گے۔

 

The post انسانی اسکن کے ذریعے کورونا کا سرایت کرنا ناممکن، ڈاکٹرز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2yE5nQD

اسمارٹ فون کی مدد سے جینیاتی ٹیسٹ کرنے والا آلہ تیار

بیجنگ: ماچس کی ڈبیا سے بھی چھوٹا ایک جدید آلہ بنالیا گیا جو اسمارٹ فون کی بجلی سے ڈی این اے کا تجزیہ کرتے ہوئے کئی جینیاتی کیفیات کا جائزہ لے سکتا ہے۔

اس وقت ڈی این اے کو تجربہ گاہ کے بڑے اور مہنگے آلات پر ہی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف چین کی آرمی میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر منگ چین اور ان کی ٹیم نے تھری ڈی پرنٹر سے بنائے گئے بعض پرزوں سے ایک آلہ بنایا ہے جو کم خرچ، تیز رفتار اور بہت مؤثر ہے، یہ آلہ اپنی توانائی اسمارٹ فون سے کشید کرتا ہے اور کسی بھی اسمارٹ فون سے چلایا جاسکتا ہے۔

جسمانی مائعات مثلاً خون، لعاب اور پیشاب وغیرہ کے نمونوں سے یہ سسٹم ڈی این اے پڑھ سکتا ہے۔ اس کا وزن صرف 60 گرام اور قیمت صرف 10 ڈالر کے لگ بھگ ہوسکتی ہے۔ ایک مرتبہ نمونہ شامل کرنے کے 80 منٹ کے اندر اندر یہ اپنا نتیجہ ظاہر کردیتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ آلہ اسمارٹ فون کی حرارت سے چلتا ہے۔ نلکی نما ڈٹیکٹر میں پہلے سے ہی بعض کیمیکل شامل ہوتے ہیں اور اگر ڈی این اے کا نمونہ پچھلے سے یکسانیت رکھتا ہے تو اس کیمیکل کا رنگ بدل جاتا ہے یا روشنی خارج کرتا ہے۔ اس کے سگنل اسمارٹ فون کیمرے تک جاتے ہیں اور ڈسپلے پر نتائج ظاہر ہوتا ہے۔

ابتدائی تجربات میں اس آلے نے خون میں ایلفا اور بی ٹا تھیلیسیمیا جیسی کیفیات کو بخوبی نوٹ کرلیا۔ بعض افراد کے گال سے رگڑے گئے لعاب کے پھائے سے ان کا جینیاتی تجزیہ کرکے یہ بھی بتادیا کہ ان میں سے کونسے افراد شراب نوشی سے زہر خورانی کے شکار ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب یہ نظام دودھ اور دریا وغیرہ میں ای کولائی بیکٹیریا بھی شناخت کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کیوی کے پھلوں کو متاثر کرنے والا ایک اور بیکٹیریئم بھی اسی سسٹم سے نوٹ کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرعام تجربہ گاہ سے موازنہ کیا جائے تو اسمارٹ فون نظام 97 فیصد درستی سے کام کرتا ہے۔ معمولی کوشش سے یہ آر این اے کی شناخت بھی کرسکتا ہے اور اس کے بعد کورونا وائرس پہچاننے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔

The post اسمارٹ فون کی مدد سے جینیاتی ٹیسٹ کرنے والا آلہ تیار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2S5gJE4

Thursday, 23 April 2020

روزہ امنیاتی نظام کو مضبوط بناکر وائرس اور جراثیم سے بچاتا ہے

 کراچی: ماہِ رمضان کے روزے جہاں ہم مسلمانوں کے لیے روحانی مسرت اور دینی بالیدگی کی وجہ بنتے ہیں وہیں ان کے بہت سے طبی فوائد بھی ہیں۔ ان میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ چند دنوں تک روزہ رکھنے سے جسمانی گلوکوز ختم ہونا شروع ہوجاتا ہے اور اس کے بعد اسٹیم سیل متحرک ہوکر خون کے نئے سفید خلیات (وائٹ بلڈ سیلز) بنانا شروع کردیتا ہے۔ یہ خلیات قدرتی طور پر کئی وائرس اور بیکٹیریا کے حملے سےبچاتے ہیں۔

اس ضمن میں برسوں قبل یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا نے ایک تحقیق میں کہا تھا کہ فاقہ یا روزہ خون کے سفید خلیات کو تقویت دیتا ہے اور اس سے امنیاتی طور پر کمزور افراد اور کینسراور ایچ آئی وی کے ماہرین کو بھی فائدہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح روزہ ہمیں کورونا کی وبا سے بچانے میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ روزے کا عمل اسٹیم سیل کو متحرک کرتا ہے اور وہ خون کے نئے سفید خلیات بنانے لگتے ہیں یہاں تک کہ پورے امنیاتی نظام کی تشکیلِ نو بھی ہوسکتی ہے۔

اسی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر 70 گھنٹے کا فاقہ کیا جائے تو کیموتھراپی کے زہریلے اثرات کو بہت حد تک کم بھی کیا جاسکتا ہے۔

ماہ رمضان کے روزے

اب سے دس برس قبل جرنل آف پروٹیومکس میں شائع ایک تحقیق میں فجر سے لے کر مغرب تک مسلسل 30 روزوں پر کئے گئے ایک سروے کی روداد شائع ہوئی تھی۔ اس تحقیق سے ثابت ہوا تھا کہ اس عمل میں جسم میں اینٹی کینسر اجزا پیدا ہوتے ہیں، گلوکوز اور شکر بہتر رہتی ہے، شکستہ ڈی این اے کی مرمت ہوتی رہتی ہے اور امنیاتی نظام سمیت کئی نظام بہتری کی جانب مائل ہوتے ہیں۔

اس ضمن میں 18 سال سے زائد افراد کی بڑی تعداد کو مطالعے میں شامل کیا گیا تھا اور ان سے رمضان کے سارے روزے رکھنے کو کہا گیا تھا۔ اس مطالعے میں پروٹیومکس، سیرم ، خون میں گلوکوز، کئی اقسام کے بایو مارکر اور انسانی فضلے کا جائزہ بھی لیا گیا تھا۔

اس تحقیق کے اختتام پر ماہرین نے کہا تھا کہ مسلسل 30 دن روزہ رکھنے سے جسم کا دفاعی نظام بہت مؤثر ہوجاتا ہے اور یوں انسان کئی طرح کی بیماریوں اور وائرس کے حملے سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ دوسرا اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ مسلسل ایک ماہ کے روزے کینسر کو بڑھاوا دینے والے کئی افعال کو روکتے ہیں۔

تیسرا اہم فائدہ یہ سامنے آیا کہ اس سے دماغی اور نفسیاتی صلاحیت میں غیرمعمولی اضافہ ہوتا ہے۔ روزہ بالخصوص دماغ کی اکتسابی صلاحیت کو بھی بڑھاتا ہے اور اعصابی قوت میں اضافہ کرتا ہے۔

The post روزہ امنیاتی نظام کو مضبوط بناکر وائرس اور جراثیم سے بچاتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3bAIjke

Wednesday, 22 April 2020

شیرخوار بچے والدین کی آغوش کو پہچانتے ہیں

ٹوکیو: ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر شیرخوار یا نومولود بچے کو والدین گلے لگائے تو وہ اجنبی کی آغوش سے اس کا امتیاز کرتے ہوئے فرق کو محسوس کرسکتا ہے۔

پیدائش کے پہلے برس بچہ جذباتی، نفسیاتی اور فعلیاتی انداز میں تیزی سے پروان چڑھتا ہے۔ اگرچہ وہ بول نہیں سکتا لیکن اپنے والدین سے تعلق استوار کرتا ہے۔ جاپان کی ٹوہو یونیورسٹی کے پروفیسر سیچائن یوشیدا نے اس ضمن میں اپنی تحقیق پیش کی ہے جس کے تحت بچے نفسیاتی اور فعلیاتی طور پر گلے لگانے اور آغوش کا احساس کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ بچے کو بانہوں میں بھرنا ایک عام بات ہے لیکن اس کی ہمیں بہت کم معلومات تھیں۔ جیسے ہی ایک چار ماہ کے بچے کو گلے لگایا جاتا ہے تو وہ بہت سکون محسوس کرتا ہے، جبکہ کھانا دینے سے یہ تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ اگرچہ بچے کو گلے لگانے کا عمل اسے تھامنا بھی ہے تو دوسری جانب ہم اسے کھانا دینے کے لیے بھی آغوش میں لیتے ہیں۔

لیکن بچے کو سینے سے لگانے سے اس کی ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بڑھتا ہے لیکن بچہ اس سے پریشان ہونے کی بجائے اس سے خوش ہوتا ہے اور اس کے دل کی دھڑکن پر مثبت اثر ہوتا ہے۔

اس ضمن میں ماہرین نے 20 ، 20 سیکنڈ تک بچے کو اٹھانے، سینے سے لگانے اور مزید زور سے بھینچنے کے تجربات کئے اور اس دوران بچے کے دل کی دھڑکن کو آر آر ائی طریقے سے نوٹ کیا گیا۔ اس ٹیسٹ میں بچے کی ماں اور والد نے بھی شرکت کی جنہیں بچہ تھمایا گیا تھا۔

اس سے معلوم ہوا کہ جیسے ہی بچے کو والدین نے گلے لگایا اس کے دل کو قدرے سکون ملا اور وہ آرام محسوس کررہا تھا۔ لیکن والدین کے علاوہ کسی اور نے انہیں گلے لگایا تو اس سے بچے پر کوئی فرق نہیں ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں اور باپ کی آغوش بچے کی صحت پر بہترین اثر ڈالتی ہے۔ اس دوران خود والدین پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوئے۔

اس تحقیق سے بہت سارے دلچسپ انکشافات کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ والدین شیرخوار بچوں کو گلے یا سینے سے لگائیں تو اس کے بہت سے فوائد سامنے آتے ہیں۔

The post شیرخوار بچے والدین کی آغوش کو پہچانتے ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3eJ4vL6

کورونا وائرس طویل عرصہ رہے گا، عالمی ادارہ صحت

واشنگٹن / برلن / ریاض: دنیا میں 26 لاکھ 22 ہزار افراد کورونا وائرس سے متاثر ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 82 ہزار سے زیادہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈراس نے خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس ایک طویل عرصے تک ہمارے ساتھ رہے گا،مغربی یورپ میں تو وبا کے پھیلاؤ میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے لیکن افریقہ، مشرقی یورپ، وسطی اور جنوبی امریکہ میں اس حوالے سے پریشان کن اشاریے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں، ابھی ایک طویل دورانیہ باقی ہے، یہ وائرس ایک طویل عرصے تک ہمارے ساتھ رہے گا، چین نے امریکی ریاست میسوری کی جانب سے کورونا وائرس پھیلانے کے مقدمہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ژینگ شوانگ نے بدھ کوروزانہ بریفنگ میں کہا کہ اس قانونی کارروائی کی کوئی حقیقت پسندانہ اور قانونی بنیاد نہیں ہے، اس وباء کا آغاز ہونے کے بعد سے چین نے شفاف اور ذمہ دارانہ اندازمیں وبا کو روکنے کے اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر اورحکومت کو اس طرح کی تکلیف دہ قانونی چارہ جوئی کو مسترد کرنا چاہیے، ادھر امریکا میں 2750 مزید اموات کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 45 ہزار اور متاثرین کی تعداد 8 لاکھ سے زائد ہو گئی۔

ریاست نیویارک میں 257125 کیسز ہیں اور یہاں مجموعی 18821 افراد ہلاک ہوئے ہیں، برطانیہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 763 افراد ہلاک ہونے کے بعد ملک میں کل اموات کی تعداد 18100 ہو گئی ہے، اٹلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 437 اموات ہوئی ہیں جس سے کل اموات 25085 ہلاکتیں ہو چکی ہیں، اسپین میں اب تک 21282 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق رمضان المبارک میں کرفیو میں نرمی کر دی جائے گی، صبح 9 سے شام 5 بجے تک باہر نکلنے کی اجازت ہو گی، بحرینی حکومت کی جانب سے جاری لاک ڈاؤن کے دوران عوامی و تفریحی مراکز پر عائد پابندیوں میں 7 مئی تک توسیع کر دی گئی ہیں۔

 

The post کورونا وائرس طویل عرصہ رہے گا، عالمی ادارہ صحت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3bwDkRt

Monday, 20 April 2020

فرحت بخش تربوز میں چھپے صحت کے خزانے

 کراچی: تربوز موسمِ سرما کی ایسی سوغات ہے جس کا جتنا شکر کیا جائے کم ہے۔ یہ سستا اور لذیذ پھل گویا ایک جانب تو گرمیوں کے لیے ایک تحفہ ہے جبکہ دوسری جانب ہمارےجسم کے لیے قیمتی اجزا سے بھرپور بھی ہے۔

روایتی طب اور جدید میڈیکل سائنس دونوں ہی تربوز کی اہمیت کا اعتراف کرتی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ تربوز میں کون سے اجزا ایسے ہیں جو ہمارے جسم کے لیے مفید ہے اور ہمیں بیماریوں سے بھی بچاتے ہیں۔

پانی اور قیمتی اجزا

تربوز 90 فیصد تک پانی پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کے نرم لذیذ گودے میں وٹامن اے، وٹامن بی کی کئی اقسام، وٹامن سی ، امائنو ایسڈز، لائسوپین اور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس میں کیلوریز کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ ایک کپ تربوز کے ٹکڑوں میں کل 40 کیلوریز ہوسکتی ہیں۔

اس میں موجود انٹٰی آکسیڈنٹس جسمانی ٹوٹ پھوٹ کو خلوی سطح تک روکتے ہیں اور سرطان سےبچاتے ہیں۔ امائنو ایسڈ کو پروٹین کی اینٹیں کہا جاتا ہے اور اس میں موجود امائنوایسڈ جسمانی تعمیر کرتے ہیں۔ تربوز میں سرخ رنگت لائسوپین کی وجہ سے ہوتی ہے اور یہ کیمیکل جسم کو تندرست رکھتے ہوئے کئی طرح کے کینسر سے بچاتا ہے۔

یاد رہے کہ تربوز جتنا سرخ ہوگا اس میں لائسوپین کی مقدار اتنی ہی زیادہ ہوگی اور یہ مقدار جلد اور آنکھوں کی حفاظت بھی کرتی ہے۔

غذائی اجزا

یاد رہے کہ تربوز میں شامل غذائی اجزا کی فہرست بہت طویل ہے۔ اس میں چکنائی کی شرح صفر ہے۔ فائبر اور کاربوہائیڈریٹ کی بڑی مقدار تربوز میں موجود ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ فولاد اور کیلشیئم کی اچھی مقدار بھی موجود ہوتی ہے۔

طبی فوائد

تربوز کا باقاعدہ استعمال کئی طرح کے طبی فوائد کی وجہ بنتا ہے۔

دل کے لیے مفید

اوپر لائسوپین کا ذٓکر کیا گیا جو ایک طرح سے خلیات کی ٹوٹ پھوٹ کو روکتا ہے اور سالماتی سطح پر جسم کی مرمت کرتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ دل کے خلیات کو بھی تندرست رکھتا ہے اور دل کے امراض سے بچاتا ہے۔

بلڈ پریشر قابو میں رکھے

پوردوا یونیورسٹی میں ایک عرصے تک کئے گئے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ تربوز کا باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر قابو میں رکھتا ہے اور اس کے کھانے سے خون میں کولیسٹرول کی سطح بھی معمول پر رہ سکتی ہے۔

دوسری جانب اس میں موجود ریشے یا فائبر کی بڑی مقدار سے نظامِ ہاضمہ پر مجموعی طور پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

کھلاڑیوں کے لیے تحفہ

ایتھلیٹ اور دیگر سخت کھیلوں والے افراد اگرمشقت اور مقابلے سے قبل تربوز کھائیں تو اس سے بہت مدد ملتی ہے۔ 2013 میں اس ضمن میں ایک تفصیلی تحقیق ہوئی تھی۔ اپنے خواص کی بنا پر تربوز پٹھوں کی تکلیف اور عضلات کی ٹوٹ پھوٹ کو روکتا ہے۔ یہ سب جادو امائنو ایسڈ اور سیٹرولائن کی وجہ سے ہوتا ہے۔

اس لیے نوجوان کھلاڑی تربوز کو اپنی خوراک کا حصہ ضرور بنائیں۔

The post فرحت بخش تربوز میں چھپے صحت کے خزانے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2VnaRYE

سورج کی تپش کورونا کو جلد تباہ کرسکتی ہے، امریکی ماہرین

واشنگٹن: امریکی ماہرین کے مطابق سورج کی تپش کورونا وائرس کو جلد تباہ کرسکتی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا کی سرکاری لیبارٹری کی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ سورج کی تپش کے ساتھ ہی کورونا وائرس کا خاتمہ ہو سکے گا۔

دوسری جانب امریکی محکمہ داخلہ نے اس حوالے سے بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی غیر مطبوعہ معلومات پر بات نہیں کر سکتے۔ جس سے لوگ غلط اور غیر حقیقی نقطہ نظر قائم کریں، ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں بھی کورونا وائرس کے خاتمے کا امکان نہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت امریکا کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔

 

The post سورج کی تپش کورونا کو جلد تباہ کرسکتی ہے، امریکی ماہرین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3cx3dkg

Sunday, 19 April 2020

اسپرین کا مسلسل اور طویل استعمال کینسر سے بچانے میں مددگار

بولونا، اٹلی: اسپرین دل کے امراض اور فالج سے بچانے والی ایک جادوئی دوا تصور کی جاتی رہی ہے۔ اب اس کے بارے میں مزید شواہد ملے ہیں کہ یہ کئی اقسام کے سرطان سے بھی بچاتی ہے۔

بہت سارے مطالعات اور سائنسی رپورٹوں کے تجزیاتی جائزے یعنی میٹا اسٹڈی سے معلوم ہوا ہے کہ اسپرین نظامِ ہاضمہ اور معدے وغیرہ کے سرطان کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس ضمن میں بعض طبی آزمائشیں بھی کی گئی ہیں۔

اطالوی سائنسدانوں نے اپنی توجہ اسپرین کے طویل عرصے تک استعمال اور نظامِ ہاضمہ کے سرطان کے درمیان تعلق کا بطورِخاص مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعے میں کل 113 تحقیقات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اسپرین لبلبے اور جگر کے سرطان کو بھی روکتی ہے۔  معلوم ہوا کہ اگر ہفتے میں ایک سے دو مرتبہ اسپرین کا استعمال کیا جائے تو کئی طرح کے کینسر کو لاحق ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔ یعنی آنتوں کے سرطان میں 27 فیصد، معدے کے کینسر میں 36 فیصد اور لبلبے کے کینسر میں 22 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔ اگر اسپرین کی خوراک کی مقدار اور اسے کھانے کا دورانیہ بڑھا دیا جائے تو اس سے مزید فائدہ بھی ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر 75 سے 100 ملی گرام اسپرین استعمال کی جائے تواستعمال نہ کرنے والے کے مقابلے میں  اس سے کینسر کا خطرہ 10 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح 325 ملی گرام اسپرین اس خطرے کو 35 فیصد تک ٹال دیتی ہے جبکہ 500 ملی گرام اسپرین کی خوراک 50 فیصد تک سرطان کوروک سکتی ہے۔

تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ مسلسل پانچ سے دس برس تک اسپرین کھانے کو معمول بنائیں کیونکہ جیسے جیسے دورانیہ بڑھے گا اسپرین کا فائدہ بھی بڑھتا جائے گا۔

The post اسپرین کا مسلسل اور طویل استعمال کینسر سے بچانے میں مددگار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2VNH7n4

Saturday, 18 April 2020

طبی ماہرین نے روزوں کو انسانی صحت کیلیے مفید قرار دیدیا

کراچی: ملکی و بین الاقوامی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ رمضان میں مسلسل روزے رکھنے سے وزن میں کمی لاکر نہ صرف شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ مسلسل روزے رکھنے سے ذہنی حالت بہتر ہوتی ہے اور مختلف اقسام کے کینسر سے بچاؤ بھی ممکن ہے۔

ذیابطیس کے مریضوں کو رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے اپنے معالجین سے مشورہ کرنا چاہیے تاکہ ان کی دواؤں اور انسولین کی ڈوز میں رمضان کے لحاظ سے مطابقت لائی جاسکے جبکہ انہیں ماہرین غذائیت سے مشورہ کرکے ایسی غذائیں استعمال کرنی چاہیے جس کے نتیجے میں وہ بغیر کسی دشواری کے روزے رکھ سکیں اور رمضان کے اختتام پر ان کا وزن بھی کم ہو سکے، ان خیالات کا اظہار ملکی اور بین الاقوامی ماہرین صحت نے ہفتے کے روز چھٹی بین الاقوامی ذیابطیس اور رمضان آن لائن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائبیٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کی جانب سے کیا گیا اور دنیا بھر سے 10 ہزار سے زائد لوگوں نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے کانفرنس میں شرکت کی، بین الاقوامی کانفرنس سے پاکستان سمیت امریکا، برطانیہ، سعودی عرب، قطر سمیت دیگر کئی ملکوں سے ماہرین نے شرکت کی اور رمضان کے حوالے سے اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر ڈاکٹر خالد طیب کا کہنا تھا کہ دنیا میں ہر سال ذیابطیس میں مبتلا کروڑوں مسلمان روزے رکھتے ہیں اور ان میں سے کئی روزوں کے روحانی اور جسمانی فوائد سے فیضیاب ہوتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اپنی لاعلمی کے باعث بیماری میں اضافے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے چند ہفتے پہلے ذیابطیس کے مریضوں کو تیاری شروع کر دینی چاہیے اور ماہرین صحت کے مشورے سے اپنی دواؤں اور غذا میں تبدیلی لانا شروع کر دینی چاہیے، رمضان شروع ہونے سے پہلے روزوں کی تیاری سے ذیابطیس کے مریض کسی مشکل کا شکار نہیں ہوتے اور نہایت آسانی سے 30 دن کے روزے مکمل کرتے ہیں اور ماہِ مقدس کی روحانی اور جسمانی فوائد سے فیضیاب ہوتے ہیں۔

کانفرنس کے چیئرمین اور رمضان اینڈ حج اسٹڈی گروپ پاکستان کے سربراہ پروفیسر یعقوب احمدانی نے اپنی اور بین الاقوامی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مسلسل تیس دن کے روزے رکھنے سے وزن میں کافی حد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔

پروفیسر یعقوب احمدانی کا مزید کہنا تھا کہ رمضان کے روزے دماغی صحت کے لئے انتہائی مفید ہیں اور ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ روزے ڈپریشن، گھبراہٹ اور ذہنی دباؤ کم کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوتے ہیں، روزے رکھنے سے کینسر سے بچاؤ میں بھی مدد ملتی ہے لیکن ان تمام فوائد کو حاصل کرنے کے لیے تمام مریضوں کو اپنے معالجین کی ہدایات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

پاکستان کے معروف ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر زاہد میاں کا کہنا تھا کہ ذیابطیس کے مرض میں مبتلا ایسے لوگ جو کہ انسولین استعمال کرتے ہیں وہ بھی روزے رکھ سکتے ہیں لیکن انہیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ اگر روزے کے دوران ان کی شوگر انتہائی کم یا زیادہ ہو جائے تو وہ روزہ توڑ دیں گے کیونکہ اللہ تعالی انسانوں سے فرماتا ہے کہ اپنی جانوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔

ڈاکٹر زاہد میاں کا کہنا تھا کہ آج سے دس پندرہ سال قبل انسولین استعمال کرنے والے مریضوں کو روزہ رکھنے سے منع کردیا جاتا تھا لیکن آج تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اگر انسولین استعمال کرنے والے مریض اپنے معالج سے مشورہ کریں اور ان کی ہدایات پر عمل کریں تو وہ بھی بغیر کسی دشواری کے تیس دن تک نہایت سکون سے روزے رکھ سکتے ہیں۔

برطانیہ کی معروف ماہر غذائیت سلمیٰ مہر کا کہنا تھا کہ رمضان کے مہینے کو کھانے پینے کا تہوار سمجھنے کے بجائے اس کی روح کے مطابق گزارا جائے تو نہ صرف جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ بے شمار روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں، انہوں نے اس موقع پر برصغیر کے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ نہایت احتیاط کے ساتھ ایسی غذائیں استعمال کریں جو ان کے وزن میں اضافے کے بجائے ان کو صحت مند رکھیں بغیر چھنے ہوئے آٹے کی روٹی، سبزیاں اور دالیں استعمال کی جائیں۔

 

The post طبی ماہرین نے روزوں کو انسانی صحت کیلیے مفید قرار دیدیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2XOxSWa

پاکستان کا اعزاز؛ FDA نے این آئی بی ڈی کی پیسیو ایمونائزیشن تکنیک رجسٹرڈ کرلی

کراچی: امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن(FDA ) نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز میں کورونا سے صحت یاب یونے والے افراد کے پلازمہ نکلنے کی passive ایمونائزیشن تکنیک کو رجسٹرڈ کرلیا جو پاکستان کے ماہرین کے لیے  اعزاز کی بات ہے۔

’ایکسپریس ٹریبون ‘ سے بات چیت کرتے ہوئے پروفیسر طاہر شمسی نے بتایا کہ پاکستان میں کیے جانیوالے Passive immunisation Clinical کلینکل ٹرائل کے پرٹوکول کو FDA نے رجسٹرڈ کرلیا ہے جبکہ مذکورہ تیکنیک کے پروٹوکول سے عالمی ادار صحت WHO کو مطلع کردیا ہے۔

ڈاکٹر طاہر شمسی نے بتایا کہ کسی بھی تیکینک کو مریضوں پر استعمال کرنے سے قبل منظور شدہ عالمی اور ملک کے متعلقہ اداروں سے منظوری اور رجسٹرڈ کرانا طبی ضابطہ اصول ہوتے ہیں، ان ملکی اور عالمی اداروں اداروں کی منظوری کے بعد ہی انسانوں پر تیکنیک شروع کی جاتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹرطاہر شمسی نے کراچی میں صحت یاب ہونے والے کورونا کے مریضوں سے پلازمہ نکلنے کی خوشخبری دیتے ہوئے بتایا کہ جن صحت یاب ہونے والے افراد سے پلازمہ حاصل کیا گیا ہے ان کے پلازمہ پر تحقیق مکمل کرلی گئی ہے جس میں یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے کہ پلازمہ دینے والوں کا مستقبل میں دوبارہ کورونا وائرس سے متأثر ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ یہ ایک حوصلہ افزا اور خوش آیند بات ہے۔

دریں اثنا ہفتے کو صوبائی وزیرِصحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی زیرِ صدارت صوبائی کمیٹی برائے کورونا وائرس کے تجرباتی علاج کیلیے مریضوں سے حاصل کردہ پلازما سے پیسیو امیونائزیشن کمیٹی کااجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر ڈاکٹر اعجاز خان زادہ، سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر دْر ناز جمال،این آئی بی ڈی کراچی کے ڈین ڈاکٹر طاہر شمسی، پروفیسر خالد ہاشمی، پروفیسر سلمان عادل اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔

اجلاس میں پیسیو امیونائزیشن کے تجرباتی علاج کیلیے صوبہ سندھ کیلیے کورونا وائرس کے پلازما سے علاج کیلیے حکومت سے منظور شدہ تمام اداروں کو محکمہ صحت کے زیرِ نگرانی کام کرنے کے فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں اس کلینیکل ٹرائل کیلیے پلازما عطیہ کرنے والے افراد کی فلاح و بہبود کیلیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اور سفارشات کو پروٹوکول کا حصہ بنانے پر رضامندی ظاہر کی گئی۔

اجلاس کے شرکا اور ماہرین طب نے اطمینان کا اظہار کیا کہ این آئی بی ڈی میں کی جانے والی طبی تحقیق میں کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے مریضوں کے پلازما میں دوبارہ کورونا وائرس کے مستقبل میں کوئی امکانات نہیں جو ایک خوش آئند بات ہے،اجلاس کے شرکا کو صحتیاب ہونے والے مریضوں سے پلازما کو حاصل کرنے کیلیے کراچی میں این آئی بی ڈی،جام شورو میں لیاقت یونی ورسٹی اور سکھر میں ریجنل بلڈ سینٹر کو ذمہ داری دینے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر دْرِ ناز جمال نے این آئی بی ڈی کو جام شورو اور سکھر میں اندرون سندھ کے مریضوں کیلیے پلازما جمع کرنے کی ٹریننگ دینے اور سینٹر شروع کروانے کی ہدایت کی۔

نیشنل فوکل پرسن برائے پیسیو امیو نائزیش ڈاکٹر عرشی نازنے کمیٹی کو بتایا کہ اگلے ہفتے سے جامشورو میں پلازما جمع کرنے کا کام شروع کروادیا جائیگا۔ کمیٹی کے اجلاس میں ان سفارشات کو سندھ حکومت کی مقرر کردہ فوکل کمیٹی برائے کورونا وائرس کو اگلے ہفتے پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ انکی منظوری کے بعد پورے صوبے میں پلازما کا استعمال یقینی طور پر مؤثر بنایا جاسکے۔

کورونا وائرس کے علاج کیلیے مخصوص اسپتالوں کے سربراہان، فوکل پرسنز اور کورونا وائرس کا علاج کرنے والے فزیشنز کو پیسیو امیونائزیشن کے استعمال کے صحیح طریقے کی رہنمائی کی جائے۔

 

The post پاکستان کا اعزاز؛ FDA نے این آئی بی ڈی کی پیسیو ایمونائزیشن تکنیک رجسٹرڈ کرلی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3bmrk4W

کورونا کونسی بیماریاں چھوڑ جائے گا؟

چینی کہاوت ہے کہ ’’آفات کبھی بھی تنہا نہیں آتیں‘‘ یہ اپنے ساتھ کئی بلائیں لے کر آتی ہیں۔ جلد یا بدیر وہ خود تو ٹل جاتی ہیں، مگر اپنے ساتھ مزید بلاؤں جوکہ کبھی بیماریوں کی صورت تو کبھی بھوک کی، پیچھے چھوڑ جاتی ہیں۔ جن کے اثرات تادیر غالب رہتے ہیں۔

مسائل اور پریشانیوں کا پیش خیمہ یہ آفات انسان کے بس میں تو نہیں ہوتی مگر انسان کہیں نہ کہیں ان کا ذمہ دار ضرور ہوتا ہے اور ان آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا بھی خود انسان ہی ہے۔ قدرتی آفات کی بات کی جائے تو موجودہ صورتحال میں کورونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچاکر رکھ دی ہے۔ یہ ہفتوں نہیںبلکہ دنوں میں لاکھوں زندگی نگل گیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں ہر شخص خوف کے سائے تلے جی رہا ہے جس کی وجہ کورونا وائرس ہے۔

اس وباء کے حوالے سے انتہائی خطرناک بات یہ ہے کہ یہ تیزی سے پھیلتی ہے۔ ہر فرد اس وباء کے نشانے پر ہے اور اسے روکنے کے لیے ماہرین ابھی تک تحقیق میں الجھے ہیں لیکن کوئی حفاظتی دوا نہیں تیار کرسکے، سوائے حفاظتی اقدامات تجویز کرنے کے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد جہاں کثیر ہے ونہی اس کے خوف میں دنیا بھر کی آبادی مبتلا ہے۔

فی الحال تو کچھ یقین سے کہا نہیں جاسکتا کہ یہ کب تک دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھے گا اور کتنی جانوں کا خراج لے کر جائے گا۔ مگر اہل فکر کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ کرونا اگر چلا بھی جاتا ہے تو یہ اپنے پیچھے چند خوفناک اور اذیت ناک یادیں اور ذہنی بیماریاں چھوڑ کر جائے گا۔ اس عالمی وباء کے اثرات دیر پا رہیں گے جس سے تمام افراد پر کسی نہ کسی صورت میں اثر پڑے گا۔

ماہرین نفسیات اس حوالے سے فکر مند ہیں کہ چند ایسی نفسیاتی کیفیات جوکہ سنگین ذہنی عارضوں کا روپ دھار لیتی ہیں کورونا کے بعد لوگوں کوبڑی تعداد میں متاثر کریں گی۔ ان میں مندرجہ ذیل اہم ہیں۔

آبسیسو کمپیلسیوڈس آرڈر (OCD)

بعض اوقات کچھ چیزیں ہم بار بار کرتے ہیں جس کے پیچھے ہماری ضرورت یا خواہش کارفرما ہوتی ہے جوکہ قعطاً غیر معمولی بات نہیں، لیکن اکثر اوقات ہم ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں یا ان سے ملتے ہیں جو کسی عادت یا کام کو بے تحاشہ سرانجام دیتے ہیں جس کے پیچھے ان کی ضرورت یا خواہش کارفرما نہیں بلکہ لاشعوری طور پر وہ ایسا کرتے ہیں۔

جیسے کسی کو ڈرامے دیکھنے کا جنون سوار ہو اور وہ بھوک پیاس فراموش کرکے بس ڈرامے ہی دیکھے یا کوئی جھوٹ بے حد بولتا ہو، بے وجہ بولتا ہو۔ ایسے لوگوں کے رویے کی سمجھ سامنے والے کو نہیں آرہی ہوتی۔ کچھ کاموں میں یہ مددگار بھی ثابت ہوسکتا ہے مگر باربار دہرائے جانے کا یہ عمل تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔

اگر ذہن میں بار بار کوئی تکلیف دہ خیالات آتے ہوں یا کوئی ایک ہی کام کرنے کا تقاضا دل بار بار کرے تو یہ آبسیوکمپلسیوڈس آرڈر (او۔سی۔ڈی) ہوسکتا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس نفسیاتی کیفیت کا کورونا وائرس یا اس کے بعد کی صورتحال سے بھلا کیا تعلق ہوسکتا ہے تو جیسا کہ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر میں ہاتھ دھونا اور بار بار ہاتھ دھونا اس سے بچاسکتا ہے۔

ایسے میں باربار ہاتھ دھونا لوگوں کی ضرورت بن گئی ہے اور اس تناظر میں یہ عادت بھی بن جائے گی، جوکہ ایک حد تک اچھی بات ہے مگر اگر یہ صورتحال طوالت اختیار کرجاتی ہے تو اکثریت اس ذہنی بیماری کی کیفیت میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ جیسے وہم کے خیالات میرے ہاتھ گندے ہوگئے بار بار ہاتھوں کو دھونا، پانی کا گلاس صاف نہیں۔ بیٹھنے کی جگہ صاف نہیں۔ ایسے کاموں کو کرنے کے لیے مریض خود کو بے بس پاتا ہے۔ اس موضوع کے انتخاب کے بعد صفحہ قرطاس پر بکھرنے سے پہلے جب اس سلسلے میں سروے کیا گیا تو اس دوران ایک نجی ادارے میں کام کرنے والی خاتون آمنہ (فرضی نام) کا کہنا تھا کہ ’’میں اس وقت شدید ذہنی اذیت سے گزر رہی ہوں۔

ڈیوٹی کے بعد گھر جاتی ہوں تو بار بار اپنے اور اپنے بچوں کے ہاتھ دھوتی ہوں۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میں یا میرے بچے اور گھر والے کورونا وائرس کا شکار نہ ہوجائیں۔ حتیٰ الامکان کوشش ہوتی ہے کہ گھر سے باہر نہ نکلنا پڑے۔ کھانا پکانے کے دوران بھی بار بار ہاتھ دھوتی ہوں۔ شوہر گھر آتے ہیں تو تفصیل سے پوچھتی ہوں کہ وہ کہاں کہاں گئے ،تاکہ پتہ چل سکے کہ کسی ایس جگہ تو نہیں گئے جہاں بیماری لگنے کا اندیشہ تھا۔ انہیں جوتے گھر کے اندر نہیں لے کر آنے دیتی اور مجبور کرتی ہوں کہ نہائیں اور فوراً کپڑے بدلیں۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں بے انتہا وہمی ہورہی ہوں مگر خوف ہر چیز پر حاوی ہوجاتا ہے۔ گوکہ گھروالوں کو اس سے بہت مسئلہ ہوتا ہے مگر میں خود کو بے بس پاتی ہوں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ہاتھ دھونے والی اور وہم والی عادت مزید پختہ ہورہی ہے۔‘‘

ماہرین کی نگاہ میں معمول میں اگر کوئی مرد یا عورت ایسا کرتا کرتا یا کرتی ہے تو کوئی زیادہ پریشان کن بات نہیں مگر اگر وہ انہی خیالات میں اپنے گھر والوں کو شامل کرنے کی کوشش کرے تو وہ ایک پریشان کن بات ہوسکتی ہے آو۔سی۔ڈی کا شکار افراد عام طور پر ذہنی لحاظ سے بالکل صحیح ہوتے ہیں لیکن اس بیماری کا اظہار کرتے ہچکچکاتے ہیں کہ لوگ انہیں پاگل نہ سمجھیں اور یہ عموماً بیس یا بائیس برس کی عمر میں ہوتا ہے۔ اگر اس کا علاج نہ کروایا جائے تو ذہنی دباؤ اور ڈپریشن جیسے سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

کیا کرنا چاہیئے؟

اوسی ڈی عموماً موروثی، ذہنی دباؤ، زندگی میں اچانک تبدیلیوں، ذہنی تبدیلی اور شخصیت میں بدلاؤ کے نتیجے میں لاحق ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو جو لوگ اس کے خاتمے کے لیے کوشش کرتے ہیں وہ اس کا مزید شکار ہوجاتے ہیں، کیونکہ وہی خیالات بار بار ان کے دماغ میں آتے ہیں۔ ایسے صحیح خیالات ذہن میں لانا جو بڑے خیالات کے خاتمے کا سبب بنیں، ہی اس سے جان چھڑانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

ایک بہت اہم کام جو کیا جاسکتا ہے وہ شاید سننے میں عجیب لگے مگر وہ ہے اپنی مدد آپ کرنا، اپنے آبسپشنز کا سامنا کرنا، اپنے ڈر کو بار بار ریکارڈ کریں اور سنیں یا لکھ لیں اور بار بار پڑھیں۔ ایک باقاعدگی سے روزانہ آدھے گھنٹے پر عمل دہرایا جائے اور تب تک جب تک گھبراہٹ کم نہ ہو تو یہ بہت مدد دے گا۔ سنگین صورتحال میں کاگنٹییو تھراپی ایک نفسیاتی علاج ہے جس سے پیچیدگیوں کو کم کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ادویات اور ای۔آر۔پی سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ اس مرض کے علاج کے لیے ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بہتر یہی ہے کہ اپنے دل سے ڈر اور خوف کو نکال پھینکیں اور وہم میں مبتلا نہ ہوں۔

تھینیٹو فوبیا(Thanato phobia)

موت کا خوف یا تھینٹوفوبیا (Thonatophobia) اینگزائٹی یا اضطراب کی ایسی شکل کا نام ہے جس میں انسان خود اپنی یا اپنے کسی پیارے کی موت سے خوف زدہ ہونے لگتا ہے۔ یہ بذات خود پیدا ہونے والی ذہنی کیفیت نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں جیسے کہ ذہنی دباؤ، ڈپریشن یا اینگزائٹی۔ اس صورت میں فرد انتہائی اضطراب اور ڈر کا شکار ہوتا ہے جس میں کسی اپنے سے جدائی، کھو دینے کا ڈر اور اپنے پیاروں کو چھوڑ دینے کا ڈر غالب ہوتا ہے۔ موت سے خوف زدہ ہونا کوئی انوکھی یا بڑی بات نہیں، کوئی بھی نارمل انسان موت سے خوف کھائے گا مگر اس خوف کا حد سے بڑھ جانا اور اسے سر پر سوار کرلینا پیچیدگیوں کو جنم دیتا ہے۔ جب موت کا یہ خوف انسانی ذہن پر اس قدر حاوی ہوجائے کہ روزمرہ زندگی کے معاملات اس سے متاثر ہونے لگیں تو ایسے میں خبردار ہونے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے بھلا تھینٹوفوبیا کا کیا لینا دینا تو ماہرین نفسیات کے مطابق اس وقت دنیا میں کورونا وائرس کے نتیجے میں ہونے والی اموات نے لوگوں کو بے حد خوف زدہ کردیا ہے،اور امکان یہ ہے کہ لوگوں میں Fear of death جیسی ذہنی کیفیات سنگین روپ دھار سکتی ہیں۔ خاص طور پر وہ افراد جو (Covid-19) کوویڈ۔19 سے بلواسطہ یا بلاواسطہ متاثر ہوئے یا جن کے قریبی و عزیز اس عالمی وباء کا شکار ہوئے ان میں تھینٹوفوبیا پیدا ہونے کے واضح امکانات ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق نوجوان افراد اس کا وسیع شکار ہوتے ہیں جبکہ ایک اور تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی کہ مردوں کی نسبت خواتین تھینٹوفوبیا سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں جس سے مزید نفسیاتی مسائل جیسے کہ فوبیا کی دوسری اقسام، پینک ڈس آڈریا اینگزائٹی بھی جنم لے سکتے ہیں۔

کیا کرنا چایئے؟

موت کے خوف میں مبتلا ہوجانے والوں کے لیے بہت سے نفسیاتی طریقہ کار موجود ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے اس خوف پر قابو پاسکتے ہیں۔ اس ضمن میں ٹاک تھراپی بہت کارگر ثابت ہوتی ہے جس میں اپنے معالج کو اپنے خوف اور اس سے جڑی جزویات کے حوالے سے آگاہ کرنا نفسیاتی طور پر راحت بخش ثابت ہوتا ہے۔

اسی طرح کاگنیٹو بیہیورل تھراپی بھی معاونت فراہم کرتی ہے ،کیونکہ اس کا مقصد ذہنی دھارے کو مثبت روش پر ڈھلنا ہوتا ہے۔ اس سے موت کا پنپتا ہوا خوف کم ہوسکتا ہے اور زندگی نارمل روٹین کی جانب لوٹ سکتی ہے۔اس کے علاوہ مراقبہ اور لمبے سانس لینے کی تجاویز بھی کارآمد ہوتی ہے کیونکہ اس سے انسان ذ ہنی و جسمانی طور پر پرسکون ہوجاتا ہے۔ ساری باتوں کا لب لباب دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اندر پیدا ہوجانے والے ڈر اس کی نفسیاتی کیفیات کے ساتھ اس کے ایمان کی کمزوری کی علامت ہوتے ہیں۔ دراصل جب انسان حال کے بجائے مستقبل میں رہنا شروع کردے تو اس کا حال بے حال ہوجاتا ہے۔ اس بات میں شک نہیں کہ دنیا اس وقت مشکل دور سے گزر رہی ہے مگر انسان پر امید رہے تو وہ بہترین زندگی گزار سکتا ہے۔

اینگزائٹی/ گھبراہٹ

انسان کی زندگی میں کبھی نہ کبھی مشکل یا کڑا وقت ضرور آتا ہے۔ ایسے وقت میں گھبراہٹ کا شکار ہوجانا انسانی فطری احساسات کا حصہ ہے۔ عام طور پر چوکنا ہونے، خطرات سے بچاؤ اور مسائل کا سامنا کرنے پرخوف اور گھبراہٹ مفید ہوسکتے ہیں مگر جب یہ احساسات شدید ہوجائیں یا ان کا دورانیہ طویل عرصے پر محیط ہوجائے تو زندگی تکلیف دہ ہوسکتی ہے۔

گھبراہٹ کی ذہنی و جسماین علامات کی وجہ سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید انہیں کو شدید جسمانی بیماری ہوگئی ہے جس سے اس کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ گھبراہٹ یا اینگزائٹی کے ایسے دور ے پینک اٹیک (Panic Attack) کہلاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ڈپریشن بھی حملہ آور ہوجاتا ہے۔ گھبراہٹ کی ذہنی علامات کچھ یوں ہیں۔

ہر وقت پریشانی کا احساس، تھکن کا احساس، توجہ مرکوز نہ کرپانا، چڑچڑے پن کا احساس، نیند کے مسائل جبکہ اس کی جسمانی علامات میں دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونا، زیادہ پسینہ آنا، پٹھوں میں کھنچاؤ اور درد رہنا، سانس کا تیزی سے چلنا، سر چکرانا، بے ہوش ہوجانے کا ڈر، بدہضمی اور اسہال سرفہرست ہیں۔ تحقیق کے مطابق ہر دس میں سے ایک شخص کبھی نہ کبھی اینگزائٹی یا گھبراہٹ کا شکار ضرور بنتا ہے مگر وہ اس کے علاج کی خاطر ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتے۔ گو تحقیق یہ بتاتی ہے کہ گھبراہٹ کا یہ احساس بعض لوگوں کو وراثت میں ملتا ہے اور وہ ہر وقت پریشانی کا شکار رہتے ہیں،تاہم زندگی میں درپیش آنے والے سخت حالات نارمل انسانوں کو بھی گھبراہٹ میں مبتلا کرسکتے ہیں۔

جیسے کہ موجودہ صورتحال میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہر فرد انفرادی و اجتماعی سطح پر گھبراہٹ کا شکار ہے جوکہ فطری امر ہے مگر بعض ماہرین کے خیال میں یہ گھبراہٹ مستقل ان کے رویے کا حصہ بن سکتی ہے۔ عمومی طور پر تو گھبراہٹ کا دورانیہ مختصر ہوتا ہے اور جیسے ہی حالات معمول پر آتے ہیں وہ گھبراہٹ ختم ہوجاتی ہے لیکن بعض اوقات وہ حالات اتنے خوفناک اور تکلیف دہ ہوتے ہیں کہ ان سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ طویل شکل اختیار کرجاتی ہے اور وہ ان واقعات کے زیر اثر رہتے ہیں۔

جیسے اگر کوئی شخص کسی حادثے کا شکار ہوا ہو جیسے ایکسیڈنٹ یا آگ لگ جانا تو چاہے اس کی جان بچ گئی ہو اور اسے کوئی چوٹ نہ آئی ہو وہ گھبراہٹ اور پریشانی سالوں تک لاحق رہتی ہے۔ ایسی علامات کو پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ اس وقت پوری دنیا کورونا کے خوف میں مبتا ہے۔ نجانے کب یہ خطرناک وائرس ختم ہوگا لیکن اس دوران جو ذہنی کیفیات خصوصاً گھبراہٹ اور بے چینی ہے وہ ان کے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑیں گی اور امکان یہ ہے کہ لوگ وباء کا زور تھم جانے کے بعد بھی خوف اور گھبراہٹ کا شکار رہیں گے کہ کہیں انہیں کورونا وائرس نہ ہوجائے۔

کیا کرنا چاہیے؟

اس ذہنی کیفیت میں عموماً انسان پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے کہ آخر کس سے بات کی جائے؟ اور کیا کیا جائے؟مثلاً اگر شادی ناکام چل رہی ہو، گھر میں بیماری ہو یا روزگار چھوٹ جائے تو ایسی صورت میں عموماً دوستوں یا رشتہ داروں سے یہ سوچ کر مسائل پر بات چیت کی جاتی ہے کہ شاید وہ بھی ایسے حالات سے گزرے ہوں اور کوئی بہتر حل تجویز کرسکیں، تو اس میں کوئی غلط بات نہیں مسائل کو ان افراد سے شیئر کرنا چاہیے جوکہ مخلص اور قابل اعتماد ہوں۔ کورونا وائرس کے حوالے سے اینگزائٹی کے شکار افراد کو چاہیے کہ وہ پرسکون رہیں۔

گھر پر رہنے سے گو کہ وہ خود کو قیدی سا تصور کررہے ہیں مگر اس بات کو سمجھیں کہ اسی میں بہتری پنہاں ہے۔ اگر پرسکون رہنے میں بذات خود مدد نہیں مل پارہی تو اس سلسلے میں ماہرین کی مدد لی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کتابوں اور ویڈیوز کے ذریعے بھی سیکھا جاسکتا ہے۔ اگر صورتحال قابو سے باہر ہوجائے تو ایسی صورت میں سائیکو تھراپی، ادویات اور خصوصاً اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اینگزائٹی کو معمولی مت سمجھیں اور اس میں شدت کی صورت فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

 اپنے اندر یقین پیدا کر نے اور رب سے تعلق مضبوط کرنے سے مسائل حل ہوسکتے ہیں، ماہرِنفسیات

روزنامہ ایکسپریس نے کورونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر پیدا ہونے والے ذہنی مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے ماہر نفسیات ارسہ فاطمہ مخدوم سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ واقعتاً ایک خوفزدہ کردینے والی صورتحال ہے، مگر اس سب سے نمٹنے کے لیے جو سب سے بڑا نفسیاتی ہتھیار ہے وہ ہے اپنے مذہب سے لگاؤ، آپ جتنے زیادہ مذہبی ہوں، جتنا زیادہ اپنے رب سے تعلق مضبوط ہوگا اور جتنا یہ یقین رکھیں گے کہ زندگی صرف دنیا کی ہی کی نہیں بلکہ اس کے بعد بھی ایک زندگی ہے آپ اس ساری مشکل صورتحال سے باآسانی نکل سکتے ہیں۔ آپ ڈیٹھ اینگزائٹی سے نکل سکتے ہیں۔ اس ضمن میں پوزیٹو سیکالوجی سے مدد لی جاسکتی ہے۔ شکر گزاری اختیار کریں۔ لوگوں سے اور خصوصاً اللہ سے۔ جب اللہ کا شکر ادا کریں گے تو اس حوالے سے بہت سی پریشانیاں دور ہوجائیں گی۔‘‘

اس حوالے سے ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ ’’ایک اور بہت اہم چیز ہے ’’سیکالوجیکل سٹرینتھ‘‘ جس میں سیکلوجیکل کیپٹل آتا ہے جوکہ انسان کی مجموعی ذہنی استعداد کو مضبوط کرتا ہے۔ جس میں امید، مثبت انداز فکر، خود آفادیت اور سیلف ریزلینس کا مرقع ہے۔ جس سے آپ یہ یقین رکھتے ہیں کہ آپ یہ کرسکتے ہیں۔

جب یہ یقین مضبوط ہوتا ہے تو پھر اس ساری صورتحال سے باہر نکلنا ممکن ہوجاتا ہے۔ جب آپ کے اندر یہ یقین ہوگا کہ اس وائرس سے بہتر طریقے سے لڑسکے ہیں، خود کو بچاسکتے ہیں تو آپ اس اینگزائٹی سے ڈپریشن سے نکل آئیں گے۔ جہاں ریزلینس کی بات کریں تو اس سے مراد یہ ہے کہ کسی مشکل صورتحال سے کس طرح نکل سکتے ہیں جب اسے بڑھائیں گے تو تمام پریشان کن حالات سے نکل پائیں گے۔ بالکل اسی طرح اگر آپ مستقبل کے حوالے سے پر امید رہیں گے کہ یہ برا وقت جلد گزر جائے گا اور مثبت انداز میں سوچیں گے تو اس سب سے نکلنے میں مدد ملے گی۔

اب لڑنے اور مشکلات سے نکلنے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک مثبت اور ایک منفی انداز۔ آپ نے منفی کے بجائے مثبت انداز اپنانا ہے، ان سارے حالات کو نظر انداز نہیں کرنا بلکہ اس کے مثبت پہلوؤں پر غور کرنا ہے اور انہیں بڑھانا ہے۔

جیسے اگر آپ بار بار ہاتھ دھورہے ہیں تو اس سے یہ مراد لیں کہ اپنی بہتری کے لیے ایسا کررہے ہیں جوکہ فائدہ دے گا ناکہ نقصان‘‘ اس خوف کے اثرات کو زائل کرنے کے بارے میں ارسہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ ’’اس ساری صورتحال میں ایک چیز جو ہم کہتے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ یہ کہ فلاں نہیں کرنا، فلاں نہیں کرنا، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس پر توجہ دیں جوہم کرسکتے ہیں۔ جیسے گھر کے اندر رہتے ہوئے کیا کرنا چاہیے۔ایسا کرنے سے بہت سے نفسیاتی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اس دوران آپ اپنے اندر کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھار سکتے ہیں۔ وہ سارے کام وہ ساری اسائمنٹس جو پہلے نہیں کرسکے انہیں نجام دے سکتے ہیں۔ یوں کورونا آپ کے لیے وبال جان نہیں بنے گا۔‘‘

The post کورونا کونسی بیماریاں چھوڑ جائے گا؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2VHivfs

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن:  چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا م...