Sunday, 31 May 2020

تھیلیسیمیا موروثی مرض ہے … ؛ ملکی وسائل محدود ہیں، بچاؤ کا راستہ اختیار کرنا ہوگا!!

 تھیلیسیمیا ایک موروثی مرض ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس بیماری کی دو اقسام، تھیلیسیمیا مائنر اور تھیلیسیمیا میجر ہیں۔ اگر والدین کی خراب جینز بچے میں منتقل ہوجائیں تو پیدا ہونے والا بچہ تھیلیسیمیا میجر ہوتا ہے لیکن اگر ایک خراب جین بچے میں منتقل ہو تو وہ تھیلیسیمیا مائنر ہوگا جسے کیریئر کہا جاتا ہے۔

اگرایک کیرئیرمرد کسی کیریئر خاتون سے شادی کرے تو اس صورت میںبچے کا تھیلیسیمیا میجر ہونے کا امکان 25فیصد ہے جبکہ 50فیصد امکان ہے کہ وہ تھیلیسیمیا مائنر کا مریض ہو۔اس وقت پاکستان میں تقریباََ ایک کروڑ افراد تھیلیسیمیا مائنر ہیں جبکہ ایک لاکھ کے قریب تھیلیسیمیا میجر کے مریض ہیں جبکہ ہر سال ہزاروں بچے اس مرض کا شکار ہورہے ہیں۔ اس بیماری کے خاتمے کے لیے سرکاری و فلاحی ادارے کام کررہے ہیں تاہم اس میں سب سے اہم لوگوں کو آگاہی دینا ہے کہ دو تھیلیسیمیا مائنر آپس میں شادی نہ کریں۔

اس مرض کے حوالے سے کیا صورتحال ہے اورحکومتی سطح پر کس طرح سے کام ہورہا ہے اس کا جائزہ لینے کے لیے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومتی و سماجی شخصیات نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

ڈاکٹر شبنم بشیر

(پراجیکٹ ڈائریکٹرپنجاب تھیلیسیمیا پریوینشن پروگرام )

تھیلیسیمیا پاکستان کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس حوالے سے اعداد و شمار الارمنگ ہیں۔ اس وقت ملک میں تھیلیسیمیا کے 80 ہزار سے 1 لاکھ مریض موجود ہیں جن کا نصف پنجاب میں موجود ہے۔24 گھنٹے میں تھیلیسیمیا کے 17 نئے مریض بچے پیدا ہورہے ہیں اور ہر سال پیدا ہونے والوں کی تعداد 6 ہزارہے۔ہمارے ہاں اچھے علاج کی وجہ سے اب یہ بچے 35 سے 40 برس کی عمر تک بھی زندہ رہتے ہیں مگر جب تک ان کی پیدائش کو نہ روکا گیا تب تک صورتحال مشکل رہے گی، ہمیں سمجھنا چاہیے کہ پریوینشن سے ہی اس مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

80 ملین آبادی والے ملک ترکی میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کی کل تعداد 5ہزار 500 ہے جبکہ ہمارے ہاں اس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ تھیلیسیمیا   صرف پاکستان میں نہیں ہے بلکہ یہ ایک پورا خطہ ہے جسے تھیلیسیمیا بیلٹ کہتے ہیںاور اس میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ایران، مڈل ایسٹ وغیرہ شامل ہیں۔

ان تمام ممالک میں صرف پریوینشن سے تھیلیسیمیا پر قابو پایا گیا۔ ڈاکٹر یاسیمین راشد نے لیڈی ولنگٹن ہسپتال میں پنجاب تھیلیسیمیا پریوینشن پروگرام کا آغاز 2009ء میں کیا تھامگر صحیح معنوں میں اس پر سر گنگا رام ہسپتال میں 2015ء میں کام شروع ہوا۔ ہم تاخیر سے اس پروگرام میں شامل ہوئے جبکہ ایران میں 1995ء، ترکی میں 2005ء میں اس کا آغاز ہوا۔ پنجاب تھیلیسیمیا پریوینشن پروگرام کا دائرہ کار پنجاب کے 36 اضلاع میں ہے۔

اب تک ہم 2 لاکھ افراد کی سکریننگ کرچکے ہیں۔جب میں نے چارج سنبھالا تو اس وقت ہماری تین لیبارٹریاں تھیں مگر اس وقت لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور اور ڈی جی خان میں ہماری 6 لیبارٹریاں موجود ہیں جبکہ جون تک گوجرانوالہ، ساہیوال اور سرگودھا میں3 نئی لیبارٹریاں قائم کر دی جائیں گی۔جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ یہ جینیاتی بیماری ہے اور والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے لہٰذا اس کے لیے ٹیسٹ کرنا پڑتا ہے۔ یہ واحد بیماری ہے جس کی تشخیص بڑی آسانی سے ہوجاتی ہے لہٰذا ہم اس حوالے سے سہولیات کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

اس سال 1ہزار افراد کی سکریننگ کا ٹارگٹ تھا جو ہم نے 1003 ٹیسٹ کرکے ٹارگٹ حاصل کیا۔ ہم کیریئر سکریننگ کرتے ہیں اور ان خاندانوں میں کرتے ہیں جہاں تھیلیسیمیا کا مریض موجود ہو۔ اس کو  ایکسٹینڈڈ فیملی سکریننگ کہتے ہیں۔ جب ہم ایسے خاندان کی سکریننگ کرتے ہیں تو وہاں ہر تیسرے فرد کو تھیلیسیمیا ہوتا ہے۔ ہم ایسے خاندانوں کو جینیٹک کونسلگ بھی دیتے ہیں کہ اگر وہ آپس میں شادی نہ کریں تو پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے۔ ہم دوران حمل بھی تھیلیسیمیا ٹیسٹ کرتے ہیں اور پھر اس کی روشنی میں اقدامات کیے جاتے ہیں۔

یہ ہم نے ڈاکٹر یاسمین راشد سے سیکھا، ہم نے گائنا کولوجسٹ کو اس حوالے سے تربیت دی اوراب تک18 ڈاکٹرز کو تربیت دی جاچکی ہے۔ شادی سے پہلے تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ کرنے کا قانون پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں موجود ہے، ہم نے یہ بل محکمہ قانون سے منظوری کے بعد کابینہ کو بھجوا دیا ہے جلد اس میں پیشرفت ہوگی۔ وفاقی سطح پر تھیلیسیمیا اتھارٹی قائم کی جارہی ہے جس کے بعد صوبوں میں بھی ذیلی اتھارٹیاں بنیں گی اور مزید موثر کام ہوسکے گا۔ کورونا وائرس کی وجہ سے تمام محکموں کے فنڈز روک دیے گئے مگر چند روز قبل میٹنگ میں ہمارے فنڈز بحال کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ مل کر تھیلیسیمیا رجسٹری کا سافٹ ویئر بنا لیا ہے جسے جلد لانچ کیا جائے گا، اس سے ہمیں ملک بھر سے تھیلیسیمیا کے کیسز کا مکمل ڈیٹا اور تعداد معلوم ہوسکے گی۔ تھیلیسیمیا کے مریضوں کو صحت انصاف کارڈز فراہم کیے جائیں گے۔ پنجاب تھیلیسیمیا پریوینشن پروگرام دنیا کا سب سے بڑا پروگرام ہے، ہم نے سب سے زیادہ ٹارگٹڈ سکریننگ کی ہے، جبکہ اب اس کی دوا کے حوالے سے ریسرچ بھی کرنے جارہے ہیں۔ تھیلیسیمیا کے حوالے سے جتنی دیر کریں گے اتنے مسائل زیادہ ہوں گے، وفاق اور دیگر صوبوں کو بھی تھیلیسیمیا پریوینشن پروگرام شروع کرنا چاہیے، اس حوالے سے ہم معاونت کرنے کیلئے تیار ہیں۔

 ڈاکٹر جویریہ منان

 (سربراہ میڈیکل ایڈوائزری بورڈ تھیلیسیمیا فیڈریشن آف پاکستان )

تھیلیسیمیا خون کی موروثی بیماری ہے، پاکستان میں ہر 100 میں سے5 یا 6 لوگ اس کی ’جین‘ رکھتے ہیں۔ اگر ان کی آپس میں شادی ہو جائے تو تھیلیسیمیا میجر کا شکار بچے کے پیدا ہونے کے 25 فیصد امکانات ہوتے ہیں اور انہیں انتقال خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا خاندان جس میں تھیلیسیمیا کی جین موجود ہو تو اس خاندان میں اس کی شرح 34 فیصد ہوتی ہے یعنی اس خاندان کے 100میں سے 34 افراد میں تھیلیسیمیا کی جین موجود ہوتی ہے لہٰذا کزن میرج کی وجہ سے تھیلیسیمیا کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ تھیلیسیمیا کے مریضوں کو خون کی ضرورت ہوتی ہے۔

جسمانی کمزوری، پیلا پن، جگر، تلی کا بڑھ جانا، چہرے کی بناوٹ کا بدلنا خون کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ فولاد کی کمی ہو تو بچے کے وزن کے مطابق اس کو لگنے والے خون کی مقدار بڑھ جاتی ہے، چھوٹے بچوں کو ایک ماہ بعد، 5 سے 7 سال کے بچوں کو 15 دن بعد جبکہ جوان کو ہر ہفتے خون لگتا ہے۔ جب بچہ جوان ہوتا ہے تو مقدار بڑ ھ جاتی ہے۔ ہر خون کی بوتل میں 200mg فولاد ہوتا ہے۔ انسانی جسم میں اضافی فولاد کو خارج کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے لہٰذا خراج فولاد کے لیے ادویات دی جاتی ہیں ، اس طرح تھیلیسیمیا کے شکار بچے دوہری پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں۔

ایک طرف خون کی کمی کا مسئلہ ہے جبکہ دوسری طرف فولاد کے خاتمے کی ادویات کا خرچ ہے ۔ ہمارے ملک میں خون کے عطیات دینے کا زیادہ رجحان نہیں ہے۔ کئی ایسے بچے ہوتے ہیں جنہیں 10 دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ بلڈ بینک کے پاس خون نہیں ہوتا، اس کی وجہ سے ان کی ہیموگلوبن کم ہوجاتی ہے۔ ہمیوگلوبن کی کمی سے تلی بڑھ جاتی ہے اور جب تلی زیادہ بڑھ جائے تو مریض کو جو خون لگایا جاتا ہے وہ تلی لے لیتی ہے اور مریض ہمیوگلوبن کی کمی کا شکار ہوجاتا ہے لہٰذا جب تلی بہت زیادہ بڑھ جائے تو پھر اسے آپریشن کے ذریعے نکال دیا جاتا ہے۔

زیادہ فولاد کی وجہ سے ہڈیوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔ یہ غدودوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ نشونما میں بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس مرض میں اور بھی پیچیدگیاں ہیں۔ ملک میں اب تھیلیسیمیا کی کافی ادویات موجود ہیں مگر یہ مسلسل بیماری ہے جس میں کسی بھی سٹیج پر لاپرواہی سے مسائل پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔

پہلے تھیلیسیمیا کے شکار بچے چھوٹی عمر میں ہی فوت ہوجاتے تھے مگر اب ہم سب کی کاوشوں سے بالغ عمر کے مریض بھی موجود ہیں۔ اس وقت ہماری فیڈریشن میں 49 این جی اوز رجسٹرڈ ہیں اور سب مل کرتھیلیسیمیا کے تدارک کیلئے کام کر رہے ہیں۔ ہر سال 6 سے 7 ہزار تھیلیسیمیا کا شکار بچے پیدا ہوتے ہیں، ہمارے ملکی وسائل محدود ہیں لہٰذا  بچاؤ کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہے اور ہمارے رسم و رواج بھی رکاوٹ ہیں۔ ہم تعلیمی اداروں میں آگاہی دے رہے ہیں، بہت زیادہ کام کیا جارہا ہے مگر جب تک شرح خواندگی میں اضافہ نہیں ہوگا تب تک ملک کو مسائل درپیش رہیں گے۔

 یاسین خان

(صدر سندس فاؤنڈیشن)

کورونا وائرس کے ملک میں آتے ہی لاک ڈاؤن کر دیا گیا، تعلیمی ادارے بند ہوگئے جو خون کا بڑا ذریعے ہیں لہٰذا یہ  خدشہ تھا کہ تھیلیسیمیا کے مریضوں کو خون کے حوالے سے شدید خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ ہمارے ادارے سمیت تھیلیسیما کے حوالے سے کام کرنے والوں میں تشویش پیدا ہوئی کہ اب مشکل صورتحال پیدا ہوجائے گی مگر اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔

میڈیا کی آگاہی کی وجہ سے لوگوں خصوصاََ نوجوانوں نے خون عطیہ کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ہمارے اسلام آباد سینٹر کا دورہ کیا تو وہاں انہوں نے بھی لوگوں سے اپیل کی اور ان کی کال پر لوگوں نے بڑی تعداد میں خون کا عطیہ دیا۔ اس کے علاوہ دعوت اسلامی کے امیر مولانا الیاس قادری نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت دی کہ وہ خون عطیہ کریں اور ہزاروں خون کی بوتلیں عطیہ کر چکے ہیں، یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی ہدایت پرسینکڑوں کی تعداد میں پولیس افسران و اہلکاروں نے بھی خون عطیہ دیا۔ سی پی او راولپنڈی احسن یونس، سی ٹی او لاہور، آر پی او فیصل آبادراجہ رفعت، بی اے ناصر، آئی جی اسلام آباد پولیس عامر ذوالفقار نے خود بھی دیا اور ان کے جوانوں نے بھی عطیہ دیا۔ یہ خوش آئند ہے کہ اس مشکل گھڑی میںکسی بھی تھیلیسیمیا کے مریض کی موت خون نہ ملنے کے باعث نہیں ہوئی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری قوم بہترین ہے اور ہر مشکل گھڑی میں مدد کیلئے پیش پیش ہوتی ہے۔میرے نزدیک ہماری قوم کو رہنمائی کی ضرورت ہے۔

حکومت کے ساتھ طے شدہ ’ایس او پیز‘ کے مطابق ہمارے سینٹر کھلے رہے تاکہ لوگ ہمارے سینٹرز میںآکر خون عطیہ کریں اور ہزاروں افراد نے خون کا عطیہ دیا۔ اس کے علاوہ مخیر حضرات نے اپنی زکوٰۃ و خیرات بھی دی تاکہ ان مریضوں کی علاج معالجے کی دیگر ضروریات پوری کی جاسکیں۔

محمد طلال احمد

( مرکزی نائب صدر جہاد فار زیرو تھیلیسیمیا پاکستان)

جہاد فار زیرو تھیلیسیمیا پاکستان رضا کاروں کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے جو 100سے زائد شہروں اور 80 سے زائد یونیورسٹیوں اور کالجوں میں موجود ہے۔ ہمارے 90 فیصد رضا کار سٹوڈنٹس ہے اور اب تک6 ہزار سے زائد افراد ہم سے منسلک ہیں۔ پہلے دن سے ہی ہماری توجہ اس بیماری کے حوالے سے آگاہی پر ہے، ہمارے رضاکار اپنی مدد آپ کے تحت ملک بھر میں کام کر رہے ہیں اور اس وقت بھی چاروں صوبوں میں کام جاری ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے کافی مشکلات پیش آرہی ہیں، ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے رضاکاروں کو خون کے عطیات دینے کیلئے جانے میں دشواری کا سامنا ہے جبکہ مریض بھی مشکل میں ہیں مگر اس کے باوجود ہم نے فاٹا، جامشورو، حیدرآباد، کوئٹہ، کراچی و دیگر شہروں میں بلڈ کیمپ لگائے، افواج پاکستان نے بھی اس میں ہماری مدد کی اور فوجی جوانون نے بھی خون کے عطیات دیے۔

2011 میں ہم نے خون عطیہ کرنے والوں کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کا سب سے بڑا بلڈ کیمپ لگا کر ریکارڈ بنایا اور اس پر عالمی ادارہ صحت نے بھی ہماری پذیرائی کی۔ اب تک ہم پچاس ہزار سے زائد خون کی بوتلیں دے چکے ہیں اور تھیلسیمیا کے مریضوں کے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں کی خون کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

ملک میں اگر ہنگامی صورتحال ہو تو ہمارے رضا کار قومی خدمت کے جذبے سے اس میں بھی پیش پیش ہوتے ہیں۔ہم each one ease one پروگرام کے تحت تھیلیسیمیا کے بچے adoptکر رہے ہیں، اب تک ہم 400 سے زائد بچے ایڈاپٹ کر چکے ہیں جن کے خون و ادویات کی ضرورت ہمارے رضاکار خود پوری کرتے ہیں۔ فاٹا میں مریضوں کو گھر سے ہسپتال آنے میں مشکلات کا سامنا تھا، ہمارے رضاکاروں نے مخیر حضرات کی مدد سے پہلی ایمبولینس سروس شروع کی جو آج تک جاری ہے۔

لیڈی ہیلتھ ورکر زکے ذریعے ملک بھر سے تھیلیسیمیا کے مریضوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاسکتا ہے، اس سے سمت متعین کرنے میں مدد ملے گی۔ خون کے عطیات دینے والے ہیروز ہیں، سرکاری سطح پر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے، سرٹیفکیٹ دینے سے دیگر لوگ بھی اس طرف راغب ہونگے۔

The post تھیلیسیمیا موروثی مرض ہے … ؛ ملکی وسائل محدود ہیں، بچاؤ کا راستہ اختیار کرنا ہوگا!! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2TWwr5j

ذیابیطس کی دوا، کورونا وائرس کے خلاف بھی مفید

اونٹاریو: کینیڈا میں واٹرلو یونیورسٹی کے طبّی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں کھائی جانے والی دوا کی ایک قسم جسے بالعموم ’’ڈی پی پی فور انہیبیٹر‘‘ یا ’’گلپٹنز‘‘ (Gliptins) کہا جاتا ہے، کورونا وائرس کو انسانی جسم کے اندر پھیلنے سے روکتی ہے اور اس طرح یہ کورونا وبا کی روک تھام میں بھی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ ڈی پی پی فور انہیبیٹر (DPP4 inhibitor) کوئی ایک دوا نہیں بلکہ ادویہ کی ایک پوری جماعت ہے جو حالیہ برسوں میں دریافت ہوئی ہے اور استعمال ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں اس قسم کی دوائیں انجکشن کے بجائے گولی کی شکل میں لی جاتی ہیں۔

ماہرین پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ کورونا وائرس کے خلاف پہلی ویکسین کم از کم ایک سال میں دستیاب ہوسکے گی جبکہ یہ عرصہ 18 ماہ یا اس سے بھی زیادہ کا ہوسکتا ہے۔ ایسے میں کورونا وائرس کی روک تھام کےلیے پہلے سے موجود مختلف دوائیں آزمانے کا سلسلہ جاری ہے۔ واٹرلو یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق بھی اسی سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی۔

اس تحقیق کے دوران کورونا وائرس کی سہ جہتی (تھری ڈی) ساخت کا مطالعہ کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ڈی پی پی فور انہیبیٹر قسم سے تعلق رکھنے والی، ذیابیطس کی مذکورہ دوائیں اس وائرس کو تقسیم ہوکر اپنی تعداد بڑھانے اور بیماری کی شدت میں اضافہ کرنے سے روک سکتی ہیں۔

مطالعے کے سربراہ ڈاکٹر پراوین نیکار نے خبردار کیا ہے کہ ڈی پی پی فور انہیبیٹر کو کورونا وائرس کی دوا ہر گز نہ سمجھا جائے، البتہ یہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور اس سے پیدا ہونے والی بیماری کی شدت کو قابو میں رکھنے کےلیے مددگار ضرور ثابت ہوسکتی ہے۔

اب ماہرین اس دوا کو کلچر ڈش میں رکھے گئے، کورونا وائرس سے متاثرہ خلیات پر آزمانے کی تیاری کررہے ہیں۔

واٹرلو یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر اس حوالے سے موجود پریس ریلیز میں واضح کیا گیا ہے کہ ابھی یہ تحقیق کسی ریسرچ جرنل میں باقاعدہ طور پر شائع نہیں ہوئی ہے، تاہم اس کے نتائج مفادِ عامّہ کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر جاری کیے گئے ہیں۔

The post ذیابیطس کی دوا، کورونا وائرس کے خلاف بھی مفید appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3cnmjZy

Saturday, 30 May 2020

وائرس وبیکٹیریا ہمارے دوست بھی ہیں

دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان عیدالفطر جوش وجذبے سے منانے کی خاطر تیاریاں کر رہے ہیں۔ اس پُرمسرت اور مقدس موقع پر ہمارے ہاں ہر گھر میں خصوصی کھانے بنتے ہیں: سویّاں‘ دہی بھلے‘ چنا چاٹ‘ شامی کباب اور بہت کچھ۔  ہر چھوٹابڑا مزے سے لذیذ کھانے کھاتا اور اپنی ماؤں‘ بہنوں‘ بیٹیوں اور بیویوں کی مدح سرائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’اے ایمان والو!  ہم نے تمہیں جو پاک صاف چیزیں دی ہیں‘ وہ کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔‘‘(سورہ البقرہ…172)۔کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ ان غذاؤں سے ہمارے لیے توانائی بنانے میں اس ننھے منے اور غیر مرئی وجود کا اہم کردار ہے جسے ہم جرثومہ (بیکٹیریا) اور وائرس وغیرہ کہتے ہیں۔یہی وجود ہمیں کئی بیماریوں سے مامونیت بھی عطا کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ نحل آیت 8 میں  فرمایا ہے کہ ہم نے ایسی کئی اشیا تخلیق کیں جنہیں انسان نہیں جانتا ۔ چودہ سو سال قبل کسی کے وہم و گمان میں نہیں ہو گا کہ اس آیت میں وائرسوں اور جراثیم کی طرف اشارہ ہے جنہیں انسانی آنکھ نہیں دیکھ سکتیں مگر وہ ہماری دنیا میں آباد ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ماہ مارچ سے اللہ تعالیٰ کی اسی غیر مرئی مخلوق کے صرف ایک رکن( وائرس) نے انسانی نظام حیات جام کرکے نوع انسان کو اس کی اوقات یاد دلا دی: ’’بے شک اس عمل میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔‘‘(سورہ نحل …12)

کوئی شے نکمّی نہیں

رب کائنات کی پیدا کر دہ غیر مرئی مخلوق میں مگر سبھی وائرس‘ جراثیم اور دیگر ننھے خرد نامیات (microorganisms)انسان دشمن نہیں بلکہ وہ انسانوں کی روزمرہ زندگی میں کئی طرح سے  ان کی مدد کرتے ہیں۔وجہ یہ کہ قرآن مجید کا مطالعہ ہی ہمیں آگاہ کرتا ہے‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہر تخلیق کردہ شے کے فوائد اور نقصان،دونوں رکھے ہیں۔

گویا بقول شاعر مشرق: قدرت کے کارخانے میں کوئی بھی چیز نکمی نہیں۔ قران پاک میں چودہ سال قبل بیان کردہ نکتے اب آ کر سائنس دانوں پر منکشف ہو رہے ہیں۔انسان کے جسم ہی کو لیجیے۔ اس جسم کے ہم اکلوتے مالک نہیں بلکہ ہمارے بدن کے تقریباً ہرحصے میں جراثیم‘ وائرس،کائی اور دیگرخرد نامیات  پائے جاتے ہیں۔ ان حصوں میں جلد‘ جگر‘ آنول نال‘ رحم اور نظام ہاضمہ شامل ہیں۔ ہمارا جسم تقریباً 80ارب خلیوں کا مجموعہ ہے۔ جبکہ اس سے کہیں زیادہ تعداد میں جراثیم‘ وائرس وغیرہ انسانی جسم میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی کل تعداد 100 ٹریلین بتائی جاتی ہے۔انسانی بدن میں رہتے ان خرد نامیات کو ’’انسانی مائکروباؤمی‘‘(Human microbiome)کا نام مل چکا۔ ان میں اہم ترین نظام ہاضمہ میں بستے جراثیم یا بیکٹیریا ہیں۔ان کی اکثریت آنتوں میں آباد ہے۔

قدرت الٰہی کا شاہکار

آنتیں ہمارے نظام ہاضمہ کا حصہ ہیں۔ یہ انسان جسم کا ایک اہم نظام ہے کیونکہ اسی میں کھائی گئی غذا تحلیل ہو کر شکر بنتی ہے۔ یہ شکر پھر خلیوں کو توانائی فراہم کرتی ہے اور یوں ہم زندہ رہتے ہیں۔ اس نظام ہاضمہ میں کوئی گڑ بڑ ہو جائے تو انسان کی صحت بھی خراب ہو جاتی ہے۔ اور بعض اوقات تو وہ کوئی کام کرنے کو قابل نہیں رہتا۔ تب سے ماہرین ہمارے جسم میں پلتے بڑھتے ان ننھے منے وجودوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ اس تحقیق سے حیرت انگیز اور دلچسپ  انکشافات سامنے آ چکے۔ سائنس داں ہمارے نظام ہاضمہ میں بستے جراثیم وغیرہ کو ’’انسانی انضہما می مائکرو بائیوٹا‘‘ (Human gastrointestinal microbiota) کا نام دے چکے۔

تحقیق سے انکشاف ہوا کہ انسانی نظام ہاضمہ خصوصاً  آنتوں میں جراثیم اور دیگر خردنامیات کی ہزار ہا اقسام آباد ہیں۔ ان کا مجموعی وزن دو کلو بنتا ہے۔ گویا یہ انسانی جسم کے سربراہ ‘ دماغ سے بھی زیادہ وزنی ہیں جو 1.04 کلو وزن رکھتا ہے۔ انسانی انہضامی مائکرو بائیوٹا کل دس سے پندرہ لاکھ جین رکھتے ہیں۔ جبکہ انسان 23 ہزار جین کا مجموعہ ہے۔ ان حقائق سے آشکارا ہے کہ نظام ہاضمہ میں بستے جراثیم معمولی شے نہیں۔ یہی وجہ ہے‘ اب تحقیق سے ماہرین جان چکے کہ یہ جراثیم درحقیقت انسان کی جسمانی ہی نہیں ذہنی صحت بھی بگاڑنے یا سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔گویا یہ ننھے منے جراثیم قدرت الٰہی کا شاہکار ہیں جن کی بدولت ہمارا جسمانی و ذہنی نظام صحت مند اور فٹ رہتا ہے۔ اگر یہ جراثیم، وائرس وغیرہ نہ ہوتے تو ہم مسلسل طبی مسائل میں مبتلا رہتے اور جلد اللہ کو پیارے ہوجائے۔

انسانی بچہ جب صرف ایک سال کا ہو تو اس میں ایک سو ٹریلین جراثیم، وائرس، کائی وغیرہ (انسانی مائکروباؤمی) پیدا ہوجاتے ہیں۔ انہی میں نظام ہاضمہ کے جراثیم بھی شامل ہیں۔ یہ پھر کاربوہائیڈریٹس، پروٹین اور چکنائی جذب کرنے میں ہمارے نظام ہاضمہ کی مدد کرتے ہیں۔یہ انسان دوست جراثیم غذا کو خمیری بناکر بدن میں جذب کراتے ہیں۔

اس عمل سے مختلف تیزابی مادے مثلاً ایسیٹک(acetic)، پروپایونک(propionic)، بوٹائرک(butyric)، لیکٹک(lactic) جنم لیتے ہیں۔ یہ سبھی تیزاب انسانی جسم مختلف طریقوں سے استعمال کرتا ہے۔مثلاً ایسیٹک تیزاب سے ہمارے عضلات اپنے آپ کو صحت مند رکھتے ہیں۔ پروپایونک تیزاب جگر کو اے ٹی پی بنانے میں مدد دیتا ہے۔ یہی سالمہ غذا کی توانائی کو جسمانی ایندھن میں تبدیل کرتا ہے۔ بوٹاٹرک تیزاب آنتوں کے خلیوں کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ لیکٹک تیزاب دماغ کے خلیے کام میں لاتے ہیں۔

ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے

انسان کے نظام ہاضمہ میں یہ جراثیم نہ ہوں تو پھر غذا ہضم کرنا کٹھن مرحلہ بن جائے۔ تب انسان کو ہروقت کھانا پڑے گا تاکہ غذا سے اسے توانائی ملتی رہے۔ ایسی صورت میں انسان کوئی دوسرا کام نہیں کرسکتا۔ اسے بس خود کو زندہ رکھنے کی فکر ستاتی رہتی۔ ہمیں نظام ہاضمہ کے جراثیم کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ ہماری کھائی بیشتر غذا  ہضم کردیتے ہیں۔ یوں ہمارے بدن کو مسلسل توانائی ملنے لگی اور ہم مختلف کام کرنے کے قابل ہوگئے۔یہی نہیں، یہ جراثیم وٹامن معدنیات اور ہارمون بنانے میں بھی انسانی جسم کی مدد کرتے ہیں۔

ان میں وٹامن بی، کے، فولیٹ، میگنیشم، کیلشیم اور فولاد جیسے اہم غذائی عناصر شامل ہیں۔ غرض ان جراثیم کا ہمارے بدن میں غدہ (Gland) جیسا کردار بھی ہے۔نظام ہاضمہ میں بستے جراثیم ہمارے مدافعتی نظام سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ حقیقتاً جدید سائنس نے دریافت کیا ہے کہ انسانی مدافعتی نظام کے ’’80 فیصد‘‘ کام ہمارے نظام ہاضمہ ہی میں انجام پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے، جب نظام ہاضمے میں کوئی گڑبڑ ہوجائے تو ہمارا موڈ بھی بگڑ جاتا ہے۔ تب کوئی کہتا ہے کہ جی متلا رہا ہے۔ کسی کو متلی آتی محسوس ہوتی ہے۔ کوئی پیٹ درد کی شکایت کرتا ہے۔ غرض ایسی صورت حال میں بعض اوقات روزمرہ کا شیڈول درہم برہم ہوجاتا ہے۔

دراصل جب بچہ جنم لے تو اس کا مدافعتی نظام  ناپختہ ہوتا ہے۔ دنیا میں آکر کئی دن تک ماں کی طرف سے دیئے گئے حفاظتی سالمے (اینٹی باڈیز )ہی اس کو بیماریوں اور انسان دشمن خرد نامیات سے محفوظ رکھتے ہیں۔ تب ضرورت ہوتی ہے، ہمارے مدافعتی نظام کے خلیوں کو سکھایا جائے کہ انہیں بچے کی حفاظت کیونکر کرنی ہے۔ سائنس دانوںکا کہنا ہے کہ بچے کے نظام ہاضمہ میں موجود جراثیم ہی ان خلیوں کو کام کرنے کا طریق کار سکھاتے ہیں۔ یہ ان جراثیم کی ایک اور بڑی خصوصیت اور انسان دوست عمل ہے۔

وجہ یہ ہے کہ نظام ہاضمہ کے جراثیم جب غذاؤں کو خمیر بناکر نامیاتی تیزاب (ایسیٹک، پروپایونک، بوٹائرک، لیکٹک) پیدا کریں تو ان کی وجہ سے کئی مدافعتی اور ہارمونی عمل جنم لیتے ہیں۔ یوں ہمارا مدافعتی نظام پرورش پاکر مضبوط بننے لگتا ہے۔ تحقیق و تجربات سے انکشاف ہوا ہے کہ جو بچے قدرتی طریق پیدائش کے بجائے سیزرین آپریشن سے پیدا ہوں، ان میں ذیابیطس قسم اول، دمہ اورموٹاپا پیدا ہونے کی شرح ’’20 فیصد‘‘ زیادہ ہوتی ہے۔وجہ یہ کہ سیزرین آپریشن ایک صاف ستھرا عمل ہے۔ اس کے باعث بچے کی آنتوں میں خصوصاً جراثیم جلد پیدا نہیں ہوپاتے۔ اسی لیے اس کا مدافعتی نظام بھی دیر سے جنم لیتا ہے۔ ایسے حالات میں یہ خطرہ بڑھ جاتا ہے کہ بچہ مخصوص عوارض میں مبتلا ہوجائے۔ قدرتی طریق پیدائش میں بچے کا فوراً جراثیم سے آمنا سامنا ہوجاتا ہے۔ اس لیے جلد وہ بچے کا مدافعتی نظام بھی متحرک کردیتے ہیں۔

 بدن کی ابتدائی حفاظتی فوج

جراثیم اور مدافعتی نظام کا تال میل سمجھنے کی خاطر سائنس دانوں نے لیبارٹری میں انوکھا تجربہ کیا۔ انہوں نے چوہوں کے ایسے بچے پیدا کیے جن میں ایک جرثومہ بھی موجود نہ تھا۔ بچوں کے مدافعتی نظام میں اہم خلیے بھی موجود نہیں تھے۔ ان بچوں کو پھر دو تین اقسام کے جراثیم دیئے گئے۔ ان جراثیم نے جسم میں پہنچتے ہی نہ صرف مدافعتی نظام کو بڑھاوا دیا بلکہ وہ خلیے بھی پیدا کر ڈالے جو پہلے عنقا تھے۔ اس تجربے سے عیاں ہوا کہ ہر زندہ جسم میں جراثیم اور مدافعتی نظام کا چولی دامن جیسا ساتھ ہے۔ہماری آنتوںکی جھلیاں جراثیم کا مسکن ہیں۔

یہ جراثیم خود بھی ہمارے بدن کی ابتدائی  حفاظتی فوج ہیں۔ جب انسان دنیا میں آئے تو منہ، ناک، آنکھ اور کان کے راستے قسم قسم کے جراثیم، وائرس اور دیگر خرد نامیات جسم میں داخل ہونے لگتے ہیں۔ جب یہ بیرونی حملہ آور نظام ہاضمہ میں داخل ہوں تو سب سے پہلے وہاں موجود جراثیم ہی ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ یہ حفاظتی فوج انسان دوست جراثیم، وائرسوں وغیرہ کو تو کچھ نہیں کہتی اور انہیں جانے دیتی ہے لیکن جو خردنامیات انسانی صحت کے دشمن ہوں، انہیں ختم کرنے کی بھرپور سعی کرتی ہے۔ گویا نظام ہاضمہ کے جراثیم انسانی جسم میں ہر اول حفاظتی دستے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جب بھی انسان کسی بیماری یا الرجی کا شکار ہو تو ہمارا مدافعتی نظام ردعمل میں سوزش پیدا کرتا ہے۔ اگر آنتوں کے جراثیم نہ ہوتے تو یہ مدافعتی نظام معمولی معمولی باتوں پر سوزش پیدا کرنے لگتا۔ یوں ہم ہر وقت تکلیف میں مبتلا رہتے اور ہماری بیشتر توانائی اس سے نجات پانے میں صرف ہوجاتی۔ آنتوں کے جراثیم کو دعا دیجیے کہ وہ نظام ہضم میں آنے والے عام حملہ آوروں کو وہیں مار دیتے ہیں اور مدافعتی نظام متحرک نہیں ہونے دیتے۔

ورنہ ہم کوئی بھی نیا کھانا کھاتے یا گاؤں جاتے جہاں مختلف اقسام کے درخت ہوتے ہیں تو ہمارا مدافعتی سرگرم ہوکر ہمیں درد میں مبتلا کردیتا۔انسانی جسم میں برداشت (Tolerance) اور ردعمل (Reaction) کے مابین توازن رکھنا مدافعتی نظام کی ذمے داری ہے۔یہ توازن اسی وقت جنم لیتا ہے جب نشوونما پاتے بچے کا مختلف اقسام کے جراثیم، وائرسوں، کائی اور دیگر خرد نامیات سے سابقہ پڑ جائے۔ ہم میں یہ توازن جنم لینا انتہائی ضروری ہے کیونکہ وہی مدافعتی نظام کے خلیوں کو پیدا کرتا اور یہ اہم نکتہ سمجھاتا ہے کہ ہر شے بری نہیں ہوتی۔ اسی توازن کی مدد سے مدافعتی نظام اچھے اور برے جراثیم، وائرسوں و دیگر خرد نامیات میں تمیز کرنا سیکھتا ہے۔

ہر انسان میں الگ الگ

بعض اوقات مضرِ صحت غذائیں زیادہ کھانے، نیند نہ لینے، سگریٹ نوش کرنے، نشہ اپنانے اور بہت زیادہ اینٹی بائیوٹک ادویہ کھانے سے ہمارے نظام ہاضمہ میں کروڑوں جراثیم مرجاتے ہیں۔ تب انسان دوست جراثیم کم ہونے سے نہ صرف حملہ آور خرد نامیات کو ہمارے نظام ہاضمہ پر حملے کرنے کا موقع ملتا ہے بلکہ مدافعتی نظام بھی متحرک ہوکر مسلسل سوزش پیدا کرنے لگتا ہے۔ اسی باعث انسان پھر ہاضمے کی بیماریوں مثلاً بدہضمی، معدے کی جلن، قبض، دست اور دیگر خطرناک امراض مثلاً ذیابیطس قسم 2، موٹاپا، ڈپریشن حتیٰ کہ کینسر میں مبتلا ہوسکتا ہے۔

انوکھی بات یہ ہے کہ ہر انسان میں خصوصاً نظام ہضم کے دو تہائی جراثیم اسی سے مخصوص ہوتے ہیں… یعنی وہ کسی اور انسان میں نہیں پائے جاتے۔ گویاوہ فنگر پرنٹس اور دانتوں کی طرح ہر انسان میں الگ الگ ہوتے ہیں۔ ہم جو کھانے کھائیں، جس ہوا میں سانس لیں اور دیگر ماحولیاتی عناصر ان جراثیم کو ہر آدمی میں علیحدہ و منفرد بناتے ہیں۔

دوسری نرالی بات یہ کہ انسانی جسم میں جتنی زیادہ اقسام کے جراثیم، وائرس اور دیگر خرد حیاتیات آباد ہوں، اتنا ہی اچھا ہے۔ اس رنگارنگی سے انسانی صحت کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ انسان کو معتدل مقدار میں ہر غذا کھانی چاہیے۔ اسی طرح انسان کے نظام ہضم میں مختلف اقسام کے جراثیم جنم لیتے ہیں۔ اگر کوئی صرف سبزیاں و پھل کھاتا رہے تو وہ ایسے انسان دوست جراثیم سے محروم رہ سکتا ہے جو سفید و سرخ گوشت میں ملتے ہیں۔

بچوں کو مٹی میں کھیلنے دیں

تحقیق سے آشکارا ہوا ہے کہ جن بچوں کے نظام ہضم میں مختلف اقسام کے جراثیم پیدا نہ ہوں، وہ آگے چل کر فوڈ الرجی، ذیابیطس اور دمے کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اسی لیے اب ماہرین کہتے ہیں کہ بچوں کو حد سے زیادہ پاک صاف جگہ میں نہ رکھا جائے کیونکہ اس باعث ان کا مدافعتی نظام مضبوط نہیں ہوپاتا۔ ظاہر ہے، جب مدافعتی نظام کا نت نئے جراثیم سے پالا ہی نہیں پڑے گا تو وہ کیسے نشوونما پاسکتا ہے؟ اسی واسطے کسی حد تک بچوں کو ریت مٹی میں بھی کھیلنے دیں اور انہیں بیرونی ماحول میں جانے سے نہ روکیں۔

اسی چلن کے ذریعے ان کا جسم مختلف قسموں کے جراثیم سے آشنا ہوگا۔امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں پروفیسر سوزین لائنچ انسانی مائکروباؤمی  پر تحقیق کررہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ جو بچے دیہی ماحول میں مرغیوں، بلیوں، کتوں، بطخوں، گائے، بھینسوں اور بکریوں کے درمیان رہتے ہوئے پرورش پائیں، ان کے جسم میں زیادہ اقسام کے جراثیم، وائرس وغیرہ ملتے ہیں۔ اسی لیے وہ نہ صرف بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ ان کا مدافعتی نظام بھی زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ شہروں کے بچوں کو ایسے ماحول سے پالا نہیں پڑتا۔ لہٰذا ان کے بدن میں جراثیم کی زیادہ رنگا رنگی کم ملتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تین چار سال کی عمر تک ہر بچہ جراثیم کی مطلوبہ اقسام حاصل کرلیتا ہے۔ اس کے بعد جسم میں شاذونادر ہی جراثیم اور وائرسوں کی مزید نئی قسمیں جنم لیتی ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جراثیم مرتے اور پھر پیدا ہوتے ہیں مگر ان کا مجموعہ کم و بیش ایک جیسا رہتا ہے۔ اگرچہ ماحولیاتی عناصر اور طرز زندگی انسانی مائکروباؤمی میں تبدیلیاں لاسکتا ہے۔

جراثیم کی رنگارنگی

انسانی بدن میں مفیدجراثیم کی زیادہ سے زیادہ اقسام ہونا ہماری صحت کے لیے ہی مفید ہے۔یہ پھر ہمیں کئی امراض سے محفوظ رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر موٹاپا! امریکا کی کورنیل یونیورسٹی کے ماہرین نے پچھلے سال ایک تجربے سے دریافت کیا کہ جن لوگوں میں جراثیم کی ایک قسم  پائی جائے، وہ سمارٹ اور چست ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ لیبارٹری میں جن چوہوںکو موٹاپا کم کرنے والے جراثیم دیئے گئے انہوں نے خوب موٹے تازے چوہوں کو بھی دبلا پتلا بنا دیا۔ انسان کے بدن میں موٹاپا مار جراثیم جین کے اثرات سے بھی جنم لیتے ہیں۔

یعنی والدین اگر سمارٹ ہیں تو عموماً ان کے بچے بھی دبلے پتلے ہوتے ہیں۔نظام ہاضمہ کے جراثیم کی رنگارنگی کینسر کے علاج میں انسان کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ کئی تجربات اور تحقیقات سے ثابت ہوچکا کہ کینسر کے جن مریضوں میںجراثیم کی اقسام ہوں، ان پر کیموتھراپی کے مضر اثرات کم مرتب ہوتے ہیں۔ یہی نہیں، ان میں کینسر ختم والی ادویہ زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔کئی مردوزن کو جان کر حیرت ہوگی کہ نظام ہاضمہ کے جراثیم ہماری ذماغی صحت بھی بہتر بناتے ہیں۔ وجہ یہ کہ یہ جراثیم مختلف کیمیائی مادے یا نیورو ٹرانسمیٹر پیدا کرتے ہیں۔ ہمارا دماغ پھر ان کیمیائی مادوں کی مدد سے مختلف دماغی اعمال انجام دیتا ہے۔ ان میں سے کئی اعمال یادداشت ،سیکھنے کے عمل اور موڈسے متعلق ہیں۔

خاص طور پر ہمارے بدن میں 90 فیصد ’’سیروٹونین‘‘(Serotonin) یہی جراثیم پیدا کرتے ہیں۔ سیروٹونین ایک اہم کیمیائی مادہ ہے۔ یہ انسانی جسم کئی افعال انجام دینے میں حصہ لیتا ہے۔ خصوصاً یہ ’’ خوشی کا کیمیکل‘‘ کہلاتا ہے۔ اس کے جنم لینے سے انسان خوشی و اطمینان کے جذبات محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیروٹونین ہمارے موڈ، معاشرتی رویے، بھوک کو منظم منضبط کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔یہی وجہ ہے، نظام ہاضمہ کے جراثیم اگر کسی وجہ سے سیروٹونین خارج نہ کریں، تو انسان مختلف نفسیاتی عوارض مثلاً ڈپریشن، پژمردگی، افسردگی وغیرہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ دماغ اور ہمارے جسم میں پائے جانے والے انسانی مائکروباؤمی پر مزید تحقیق جاری ہے۔

مثال کے طور پر آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ جب انسان زیادہ نمک کھائے، تو نظام ہاضمہ کے جراثیم پریشان ہوجاتے ہیں۔ ان کی توسط سے پھر ہمارا مدافعتی نظام دماغ کو یہ کیمیائی سگنل بھجواتا ہے کہ وہ نظام ہاضمہ سے نمک کا بوجھ کم کرے۔ان کیمیائی سگنلوں کے نتیجے میں دماغ کے دو اہم حصوں، کورٹیکس (cortex) اور ہائپو کامپس(hippocampus) میں خون کی روانی کم ہوجاتی ہے۔ یہ دونوں حصے سیکھنے اور یادداشت سے متعلق ہیں۔ جب اہم دماغی اعضا میں خون کی روانی کم ہو تو دماغ میں اسٹروک جنم لینے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اور یہی دماغی اسٹروک ہرسال دنیا بھر میں لاکھوں مردوزن کی جانیں لیتا ہے۔

آپ نے دیکھا کہ نمک زیادہ کھانے، نظام ہاضمہ کے جراثیم، مدافعتی نظام اور دماغ کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ اسی تعلق کی وجہ سے انسان نمک زیادہ کھانے کے باعث اسٹروک ہی نہیں دیگر خطرناک بیماریوں مثلاً ہائی بلڈ پریشر کا نشانہ بن جاتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ انسان کو روزانہ زیادہ سے زیادہ 5 گرام نمک کھانا چاہیے یعنی ایک چمچ۔ لیکن بہت سے لوگ روزانہ 9 سے 12 گرام نمک کھا جاتے ہیں۔ نمک کی زیادتی پھر ان کی صحت کو نقصان پہنچاتی ہے۔

غذا اور سوچ کا تعلق

درج بالا تحقیق سے یہ حیرت انگیز سچائی بھی سامنے آئی کہ ہم جو غذائیں کھاتے پیتے ہیں، وہ ہماری جسمانی ہی ذہنی صحت پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ گویا اب آپ کوئی بھی شے کھائیے یا نوش کریں، تو جان لیجیے کہ وہ آپ کی سوچ اور جذبات پر بھی منفی یا مثبت اثرات مرتب کرے گی۔مثال کے طور پر ایک تحقیق سے عیاں ہوا کہ سرخ گوشت اگر زیادہ کھایا جائے تو وہ آنتوں کے جراثیم پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ وہ اس طرح کہ سرخ گوشت نظام ہاضمہ میں ان جراثیم کی پرورش کرتا ہے جو آنتوں میں سوزش پیدا کرتے ہیں۔ اسی سوزش کے باعث انسان السر اور نظام ہاضمہ کی دیگر بیماریوں کا شکار ہوتا ہے۔ یہی نہیں، تحقیق سے معلوم ہوا  سرخ گوشت کھانے سے ان جراثیم کی تعداد کم ہوگئی جو فائبر کو جسم میں جذب کرتے ہیں۔ لہٰذا سرخ گوشت اعتدال سے کھائیے اور ان کے فوائد سے مستفید ہوں۔ مگر اس غذا کی زیادتی انسان کو مختلف طبی مسائل میں گرفتار کراسکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جس روزمرہ غذا میں گوشت زیادہ ہو اور فائبر کم، وہ نظام ہاضمہ کے لیے مضر ہے۔ ایسی غذا جسم میں سوزش پیدا کرتی اور انسان کوکینسر کا نشانہ بھی بناسکتی ہے۔ مگر انسان پھل اور سبزیاں زیادہ کھائے تو نظام ہاضمہ کے جراثیم کو فوائد پہنچتے ہیں۔ دہی بھی ان کے لیے مفید ہے مگر اسے بھی اعتدال سے کھانا چاہیے۔ اگر جراثیم کو من پسند غذائیں نہ ملیں تو نظام ہاضمہ میں ان کی تعداد کم ہوسکتی ہے۔ اس سے انسان کی جسمانی و ذہنی صحت کو نقصان پہنچتا ہے۔

سائنس دانوں نے تحقیق سے جانا ہے کہ غذائی فائبر یا ریشہ جراثیم کے لیے مفید ہے جو سبزیوں اور پھلوں میں ملتا ہے۔ ہر بالغ کو روزانہ 30 سے 40 گرام فائبر اپنی غذاؤں سے لینا چاہیے مگر کم ہی انسان یہ مقدار لیتے ہیں۔ نتیجتاً وہ فائبر کی کمی سے مختلف عوارض مثلاً قبض، گیس ٹربل، ذیابیطس قسم کے اور امراض قلب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ نیز آنتوں کے جراثیم بھی نشوونما نہیں پاتے۔

پروبائیوٹک اور پری بائیوٹک

ماہرین طب کا کہنا ہے، پروبائیوٹک (Probiotics) غذاؤں کا معتدل استعمال ہمارے انسانی مائکروباؤمی کے لیے مفید ہے۔ ایسی غذاؤں میں دہی، لسی، اچار شامل ہیں۔ان میں زندہ خرد نامیات موجود ہوتے ہیں۔ یہ ہاضمے کی خرابیاں دور کرتی اور مدافعتی نظام مضبوط بناتی ہیں۔ تاہم بہت سے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ان کا اعتدال سے استعمال ہی فائدہ دیتا ہے۔ خصوصاً زیادہ اچار کھانے سے نظام ہاضمہ میں اچھے جراثیم مرسکتے ہیں۔پھلوں اور سبزیوں میں پری بائیوٹک (Prebiotics) مرکبات بھی ملتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ انسانی جسم میں اچھے جراثیم کی نشوونما کرتے اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں جو فائبر ہمارے جسم میں جذب نہ ہوسکے، وہ انہی پری بائیوٹک مرکبات پر مشتمل ہے۔

ہمارے نظام ہاضمہ کے خردنامیات کو نقصان پہنچانے والے عناصر میں اینٹی بائیوٹک ادویہ شامل ہیں۔ دراصل ہمارے جسم میں دوست اور دشمن جراثیم وائرس وغیرہ آس پڑوس میں بستے ہیں۔ ان کے مابین ہمیشہ جنگ جاری رہتی ہے۔ انسان منفی طرز زندگی اختیار کرلے تو اس کے دوست انسانی مائکروباؤمی کو نقصان پہنچتا ہے اور ان کی تعداد کم ہوجاتی ہے۔ تب ہمارے دشمن خرد نامیات انسانی جسم پر قبضہ کرکے اسے متفرق بیماریوں کا نشانہ بناڈالتے ہیں۔

مثبت طرز زندگی راکٹ سائنس نہیں

انسان اگر مثبت طرز زندگی اپنائے رکھے تو نہ صرف اس کے جسم میں بستے کھربوں خردنامیات کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ آخر کار اسے ہی تندرستی کی دولت نصیب ہوتی ہے۔مثبت طرز زندگی اختیار کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں، بس متوازن غذا کھائیے، پانی پی کر اپنے بدن میں نمی رکھیے، ورزش باقاعدگی سے کیجیے، رات کو اچھی نیند لیجیے اور پریشانی کو اپنے اوپر سوار نہ ہونے دیجیے۔ یہ طرز حیات اپنا کر آپ بھرپور اور مثالی زندگی گزار سکتے ہیں۔

انسان کی زندگی میں غذا کی بہت اہمیت ہے۔ وجہ یہی کہ وہ جس قسم کے کھانے کھاتا ہے، وہ اس کی جسمانی اور ذہنی صحت پر اچھے یا برے اثرات ڈالتے ہیں۔ اسی نقطے کومشہور امریکی ادیبہ، ورجینیا ولف نے اپنے ایک ناول میں یوں بیان کیا: ’’انسان اگر اچھا کھانا نہ کھائے، تو وہ اچھا سوچ نہیں پاتا، محبت بھی نہیں کرسکتا اور نہ نیند اچھی لے پاتا ہے۔‘‘ لہٰذ اگر آپ نے طعام کے منفی طور طریقے اختیار کررکھے ہیں تو انہیں ختم کیجیے اور اپنی زندگی میں مثبت انقلاب لے آئیے۔

اچھی غذا کا انتخاب بھی بڑا مسئلہ نہیں۔ بس یہ دھیان رکھیے کہ  گوشت، ڈیری مصنوعات، میٹھی اشیا اور چکنائی والی غذائیں کم کھائیے۔ اپنی روزمرہ غذا میں سبزیاں، پھل، مغزیات، ثابت اناج اور دالیں زیادہ رکھیے۔ یہ صحت مندانہ غذائی عمل خصوصاً ہمارے انسانی مائکروباؤمی کو مفید غذائیت پہنچا کر تندرست و توانا رکھے گا اور ان کی تندرستی سے انسان بھی جسمانی و ذہنی طور پر چست و توانا رہے گا۔

سائنس داں اب انسانی نظام ہاضم میں پائے جانے والے تمام جراثیم، وائرسوں اور دیگر خردنامیات کی درجہ بندی کررہے ہیں۔ اس کے بعد یہ مرحلہ آئے گا کہ ہر قسم انسانی صحت پر کیونکر اچھے یا برے اثرات مرتب کرتی ہے۔ جب انسان کو تمام مطلوبہ معلومات حاصل ہوجائیں گی تو مستقبل میں انسانی مائکروباؤمی کی مدد سے نظام ہاضمہ، مدافعتی نظام اور دماغ کی کئی بیماریوں کا علاج ممکن ہوسکے گا۔

انسان کو سمجھنا چاہیے کہ وہ ابھی اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ کائنات کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔ اسے اپنی طاقت پر گھمنڈ تھا مگر ایک معمولی وائرس نے اس کی دنیا تہہ و بالا کرڈالی۔ انسان اللہ پاک کا فرماں بردار بن کر ہی کائنات میں چھپے ان گنت اسرار پاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے اور ہم اس کی پریشانیاں کم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ (سورۃ نساء۔28)

The post وائرس وبیکٹیریا ہمارے دوست بھی ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2XfZMK6

آنتوں کی سوزش کی بیماری کے مریضوں میں اضافہ ہونے لگا

کراچی: کوروناوائرس کی وباکے نتیجے میں پریشان کن معاشی صورتحال کی وجہ سے آنتوں کی دائمی سوزش کی بیماری یعنی ’’ایریٹیبل باول سنڈروم‘‘کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔

مرض میں مبتلا لوگوں کا پیٹ اکثر خراب رہتا ہے، مریضوں کو ڈائریا، قبض، گیس، پیٹ میں درد اور مروڑ سمیت دیگر شکایات کا سامنا رہتا ہے، اسٹریس اور گھبراہٹ جیسے ذہنی امراض کی وجہ سے پیٹ کے امراض میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔

شہریوں کوچاہیے کہ وہ صحت مندانہ طرززندگی اختیار کریں، روزانہ ورزش کریں اور متوازن غذا کا استعمال کرکے پیٹ کی بیماریوں سے محفوظ رہیں، ان خیالات کا اظہار ماہرین طب نے ورلڈ ڈائجسٹ ہیلتھ ڈے کی مناسبت سے ہونے والے آن لائن سیمینار سے خطاب میںکیا جس کا انعقاد پاک جی آئی اینڈ لیور ڈیزیز سوسائٹی نے دوا ساز ادارے گیٹس فارما کے تعاون سے کیا تھا۔

ماہر امراض پیٹ و جگر ڈاکٹر لبنیٰ کمانی کا کہنا تھا کہ آنتوں کی دائمی سوزش کی بیماری جسے انگریزی میں Irritable Bowel Syndrome کہتے ہیں، بیک وقت آسان اور انتہائی مشکل بیماری ہے ،دائمی سوزش کی بیماری کی علامات ڈائریا، قبض، پیٹ میں گیس اور مروڑ ہونا ہے۔

پروفیسر امان اللہ عباسی نے کہاکہ آج کل کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کا پیٹ بھی خراب ہو جاتا ہے اور تقریبا 25سے 30فیصد مریضوں کو کورونا وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے پیٹ کے امراض کا سامنا کرنا پڑتا ہے،آنتوں کی دائمی سوزش کے مرض کا کورونا وائرس سے کوئی تعلق نہیں، اس مرض میں مبتلا مریضوں کو ایسی غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں یا تو ان کو ڈائریا ہوجائے یا قبض کا سامنا کرنا پڑے۔

پی جی ایل ڈی ایس کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر شاہد احمد کا کہنا تھا کہ کورونا کے نتیجے میں معاشی صورتحال انتہائی خراب ہے جس کی وجہ سے لوگ ذہنی پریشانیوں میں گھرے ہوئے ہیں اور یہی ذہنی پریشانیاں آنتوں کی دائمی سوزش کے مرض کاایک اہم سبب بن رہی ہیں، پیٹ کے امراض میں مبتلا 75 فیصد لوگوں کو اسی مرض کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سیمینار سے ڈاکٹر حفیظ اللہ اور ڈاکٹر نازش بٹ نے بھی خطاب کیا اور پیٹ کے امراض میں مبتلا مریضوں کو مشورہ دیا کہ وہ ریشہ دار غذاؤں کا استعمال کریں، پانی زیادہ سے زیادہ پیئں اور پیٹ کی خرابی بشمول ڈائریا اور قبض کے دوران اسپغول کی بھوسی کا استعمال کریں۔

The post آنتوں کی سوزش کی بیماری کے مریضوں میں اضافہ ہونے لگا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3ckJxzu

ترک سائنسدانوں کا کورونا وائرس تلف کرنے والے برقی ماسک بنانے کا دعویٰ

استنبول : ترکی ماہرین نے کورونا سمیت مختلف اقسام کے وائرس کو تلف کرنے والا برقی ماسک بنایا ہے جو ایک مرتبہ جارچ ہونے کے بعد 12 گھنٹے تک کام کرتا رہتا ہے۔  

اکسارے یونیورسٹی کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ان کا تیارکردہ ماسک وائرس، جراثیم اور نئے کورونا وائرس کو تلف کرسکتا ہے۔ اس طرح کورونا سمیت کئی طرح کے جراثیم اور وائرس کو ختم کیا جاسکتا ہے جس سے انسان محفوظ رہ سکتا ہے یا کم ازکم اس کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اس طرح ماسک پہننے والے کو صاف اور وائرس سے پاک ہوا ملتی رہتی ہے۔ یہ ماسک دو ماہرین نے اپنے ایک منصوبے کے تحت تیار کیا ہے ۔ اس ضمن میں ڈاکٹر طارق یِلماز اور ان کے ساتھی نے پورے لاک ڈاؤن کے دوران اس ماسک پر کام شروع کیا ہے اور دن رات کی محنت کے بععد اس کا پہلا نمونہ (پروٹوٹائپ) تیار کیا ہے۔

ڈاکٹر طارق اور ان کے ساتھیوں نے نوٹ کیا کہ کورونا وبا شروع ہوتے ہیں ترکی میں عوام اور خود ڈاکٹروں کے لئے ماسک کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی۔ اسی بنا پر انہوں نے خود تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا اور ماسک بنانے کا فیصلہ کیا جس میں بطورِ خاص الٹراوائلٹ روشنی کا انتظام کیا گیا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ الٹراوائلٹ یا بالائے بنفشی شعاعیں کئی طرح کےجراثیم اور وائرس کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن کورونا وائرس سے بچنے کے لیے اسے براہِ راست انسانی جلد پر نہیں ڈالا جاسکتا کیونکہ الٹراوائلٹ شعاعیں جلد کے لیے خطرناک اور سرطان کی وجہ بھی بن سکتی ہیں۔

ڈاکٹر طارق نے بتایا کہ ایک سو سال سے ہم جانتے ہیں کہ الٹراوائلٹ شعاعیں کئی طرح کے وائرس اور جراثیم کو تباہ کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی بنا پر انہوں نے ماسک کے اندر بالائے بنفشی روشنیاں لگائی ہیں۔ اس کے علاوہ ماہرین نے ماسک کے اندر چاندی کے اوراق اور پرتیں لگائی ہیں کیونکہ جراثیم کو ختم کرنے میں چاندی کی افادیت بھی صدیوں سے مسلمہ ہے۔ اس طرح یہ ماسک ایک طرح کا برقی فلٹر بن گا ہے جو وائرس کو جسم میں داخل ہونے سے قبل ہی مارڈالتا ہے۔

دوسرے سائنسداں ایمرے ارسلان نے بتایا کہ دو ماہ کی مسلسل محنت کے بعد یہ ایجاد ممکن ہوئی ہے۔ اس ماسک کو پاور بینک سے بھی چارج کیا جاسکتا ہے۔

ان ماہرین نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے اس ماسک کی آزمائش کہاں کی ہے اور پہننے والوں کو الٹراوائلٹ شعاعوں سے بچانے کا کیا انتظام کیا گیا ہے۔

The post ترک سائنسدانوں کا کورونا وائرس تلف کرنے والے برقی ماسک بنانے کا دعویٰ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2XfV4vU

Friday, 29 May 2020

کمیاب اعصابی مرض اور پیٹ کے بیکٹیریا کے درمیان تعلق دریافت

شکاگو: اگرچہ مشرقی طب میں  دماغ کا تعلق معدے  سے بھی بتایا جاتا ہے لیکن جدید طب نے اسے ایک عرصے سے نظر انداز کیا ہے۔ اب بہت سی دریافتوں کے ساتھ پہلی مرتبہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ معدے کی ہاضماتی نالی میں پائے جانے والے خردنامیے اور بیکٹیریا ایک دماغی پٹھوں کی کم یاب بیماری کی وجہ بنتے ہیں۔

نیچر میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ہمارے معدے اور آنتوں پائے میں جانے والے بیکٹیریا ہماری دماغی اور اعصابی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک عصبی نسیجی (نیوروویسکیولر) بیماری ’کے ورنس اینجیوما‘ اور معدے کے جرثومے کے درمیان تعلق کے ٹھوس ثبوت ملے ہیں۔ ’کے ورنس اینجیوما‘ کو مختصراً سی اے بھی کہا جاتا ہے۔

اس سے قبل صرف جانوروں یعنی چوہوں پر ہی اس کے مطالعے کئے گئے تھے جو انسانوں میں ایک نایاب مرض کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس ضمن میں انسانی رضاکاروں پر بعض تجربات کئے گئے ہیں جن کی بنا پر یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔

اس تحقیق کے بانی عیصان اود ہیں جنہوں نے اس سے پہلے چوہوں پر تجربات کئے تھے۔ عیصان کہتے ہیں، ’ اس تحقیق کے بہت بلند اطلاقات ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ عین انسانوں کے لیے بھی یہ طریقہ کار درست ہے۔ عیصان کا تعلق یونیورسٹی آف شکاگو سے ہے۔

کے ورنس اینجیوما بیماری میں دماغ اور حرام مغز میں خون کی نالیوں کے گچھے سے بن جاتے ہیں لیکن یہ مرض اتنا عام نہیں اور پوری دنیا میں صرف 0.2 فیصد آبادی کو ہی یہ مرض لاحق ہوتا ہے۔ لیکن دھیرے دھیرے خون کی خلافِ معمول نالیاں بننے لگتی ہیں۔

اس کے نتیجے میں مریض کو جھٹکے لگتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شدت بڑھتی ہے اور اعضا کے ساتھ یادداشت  اور نظر بھی بری طرح کمزور ہوجاتی ہے۔ اس کی تحقیق کے لیے سائنسدانوں نے 100 افراد کے فضلے کے نمونوں کا مقابلہ کیا جو سی اے مرض کی دو مشہور بیماریوں کے شکار تھے۔

اس کا موازنہ کرنے کے لیے 250 صحتمند رضاکاروں کے فضلے کے نمونے جمع کے گئے ہیں جنہیں سی اے کی بیماری لاحق نہ تھی۔ تیجے کے طور پر دیکھا گیا کہ تمام 100 مریضوں کے جسم میں خردنامیے اور بیکٹیریا وغیرہ کی ترتیب خاصی حد تک یکساں تھی۔

ماہرین نے بتایا کہ بالخصوص مریضوں کی آنتوں میں Odoribacter splanchnicus بیکٹیریا کا تناسب بہت زیادہ تھا۔ جبکہ دیگر اقسام کے بیکٹیریا بہت کم تھے جن میں Faecalibacterium prausnitzii اور Bifidobacterium adolescentis سرِ فہرست ہے۔

واضح رہے کہ طبِ مشرق معدے سے کئی امراض کو وابستہ کرتے ہیں اور اب سائنسی طور پر اس کی حقیقت سامنے آرہی ہے گزشتہ کئی برس سے آنتوں اور معدے سے کئی دماغی امراض بشمول شیزوفرینیا اور پارکنسن کا تعلق بھی دریافت ہوا ہے۔

The post کمیاب اعصابی مرض اور پیٹ کے بیکٹیریا کے درمیان تعلق دریافت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2zMuzFp

دل کی متاثرہ اہم شریان کا جدید ٹیکنالوجی سے علاج

کراچی:  قومی ادارہ برائے امراضِ قلب نے تھوراسک اینڈوویسکیولر انیورزم  رپیئر (ٹی ای وی آر) کا پہلا کامیاب پروسیجر کر کے ایک اور کامیابی اپنے نام کرلی۔

ترجمان قومی ادارہ برائے امراض قلب کے مطابق کچھ دن قبل ٹریفک حادثے  میں 30 سالہ مریض کے دل کی اہم شریان شدید متاثر ہوئی تھی اور مریض کا بائی پاس ہونا تھا مگر این آئی سی وی ڈی میں مریض کا جدید ٹیکنالوجی (ٹی ای وی آر) کے ذریعے پروسیجر کرکے اس کی زندگی بچائی گئی۔

اس پروسیجر میں این آئی سی وی ڈی کے کارڈیک سرجنز، اینٹروینشنل کارڈیالوجسٹس اور اینستھیسیالوجسٹس نے حصہ لیا، ڈاکٹرز کے مطابق مریض کی زندگی اب خطرے سے باہر ہے جس کو کچھ دن میں اسپتال سے ڈسچارج کیا جائے گا۔

The post دل کی متاثرہ اہم شریان کا جدید ٹیکنالوجی سے علاج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3ccFUeZ

Jobs in Dubai:

Dubai is one of those richest gulf countries, which has a great wealth of opportunities. Since the gulf countries have been blessed with the natural oil resources, the traditional jobs which are available in Dubai are mostly based on oil and gas industries. Now there has been an immersed establishment of the free zone by the government of Dubai after the Dubai has come out from the great financial crises. Due to the free zone, now people can find job in many other professions also such as banking, IT, media industries etc. salaries which are offered in Dubai are highest among other countries because of being tax free. There is a great variation in the salaries of the people from different occupations based on their profession. For example, the salaries of civil engineers are highest whereas salaries of labours may be low. People across the world eagerly strive to get the job in Dubai since there are many other opportunities and benefits which are associated with those jobs such as accommodation, free medical, free transport, free visa etc.  

There are many ways by which a person can apply for the job in Dubai. Anyone who thinks that he is eligible for any job vacancy in Dubai can apply for it by sitting in his home country and can also go to Dubai on visit visa to find the job. When they get the job, their visit visa is automatically converted to the residential visa. The company in Dubai which wants to hire you will ask you to apply for the work permit from the ministry of labour and social affairs and as soon as you get the permission, the residential visa is issued by the company. The cooperation of the companies in Dubai has made it quite possible for the people to come all across the world and work in Dubai.

The new financial free zone has also been created by the Dubai government. It serves as a global financial centre for the people and the companies. The companies of Dubai get a lot of benefits from that financial centre in the form of zero tax and many technologies and some facilities. There is a huge self-contained community in the new financial zone where there are many hotels, restaurants, bars, offices and many other places for available which are providing a best platform to come on and to start the business. The companies who are searching for the place to invest money for growing itself and those individuals who are jobless and want to get a job are welcome to home here and apply for the available jobs.

 There is a wide range of jobs available in Dubai in almost all the sectors such as construction, transport, administrative work, interior design etc. The local newspaper of Dubai publishes the ads when there is a need of new workforce. The companies also advertise the available vacancies on their official website to let the world know about it. There are many websites on the internet which are not under the ownership of any company. Such websites contain the job details from all over the world. There are variety of articles written in these websites on the purpose of informing the people about the availability of the job and also some other details of the job such as salary and details of other incentives which a person will get after getting the job.  

If you are outside the Dubai and want to apply for the job available in Dubai, you will have to provide the company with several documents in order to apply for the job. Those documents are national identity card of the country of which you have a citizenship, photo copies of the identity cards of the parents, passport size coloured recent photographs, driving license, passport photocopy and also a permission that you have got from the ministry of social affairs of Dubai.

For getting a good job in Dubai, there is a need to have a perfect resume. Your resume is such a document, which you use to market your skills, abilities and achievements. A well-designed resume can help a person a lot in getting a job of his choice. If you think that your resume is not good enough, you can consult a professional resume maker to get it done for you. There are also many software which can design a perfect resume for you. Your resume should be designed in such a way that it can reflect your skills.



from Shadi Online https://ift.tt/2AfpOnD

’نیلی روشنی‘، سخت جان بیکٹیریا کے خلاف نیا ہتھیار

بوسٹن: ہم جانتے ہیں کہ ٹی بی سمیت کئی امراض ایسے ہیں جن کے سامنے ہماری تمام اینٹی بایوٹکس ادویہ تیزی سے ناکام ہوتی جارہی ہیں۔  اب روشنی کی ایک امید نیلی روشنی کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ توقع ہے کہ اس سے انتہائی ڈھیٹ بیکٹیریا تلف ہوسکتے ہیں جن میں ایم آر ایس اے بھی شامل ہے جسے مختصراً ایس آرئیس بھی کہا جاتا ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ روشنی ڈالنے کے عمل فوٹولائسس کے ذریعے تھوڑی دیر کے ایم آر ایس اے جیسے بیکٹیریا کو بھی اتنا کمزور کیا جاسکتا ہے کہ اس کے بعد وہ اینٹی بایوٹکس ادویہ سے ختم ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ’میتھی سائلِن رسسٹنٹ اسٹیفائلوکوکس آریئس ‘ نامی جرثومہ ادویہ سے مزاحمت پیدا کرنے والا سب سے مشہور بیکٹیریا ہے جس کا انفیکشن پوری دنیا میں ایک مثال ہے اور مریضوں میں موت کی بڑی وجہ بھی ہے۔

بوسٹن یونیورسٹی میں بایومیڈیکل انجینیئرنگ اینڈ الیکٹریکل انجینیئرنگ سے وابستہ پروفیسر جائی زن کہتے ہیں کہ ہمارے نئے طریقے میں طبعی طور پر ایم آر ایس اے کو کمزور کیا جاتا ہے اور اس کا مضبوط بیرونی خول ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔

پروفیسر جائی زن 2017 سے اس پر کام کررہے ہیں اور انہوں نے حادثاتی طور پر یہ عمل دریافت کیا ہے۔ ایس آریئس میں ایک سنہری مائل پیلی رنگت والا عنصر پایا جاتا ہے جسے اسٹیفائلوزینتھن( ایس ٹی ایکس) کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نیلی روشنی سے یہ شدید متاثر ہوتا ہے۔

لیکن اس عمل میں ایک اور بات یہ ہوئی کہ ایم آر ایس اے کی پورا مجموعہ یا کالونی بھی تباہ ہوگئی۔ تو معلوم ہوا کہ اگر ایس ٹی ایکس کو تباہ کیا جائے تو بیکٹیریا بھی مرجاتا ہے۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ نیلی روشنی سے ایم آر ایس اے کے 90 فیصد خلیات تباہ و برباد ہوچکے ہیں۔ اور باقی 10 فیصد بیکٹیریا کو ادویہ سے ختم کیا جاسکتا ہے۔

اگلے مرحلے میں ماہرین نے ایک چوہے کی جلد کو ایم آر ایس اے سے متاثر کیا۔ صرف دس منٹ تک ان پر روشنی ڈالی گئی اور اس کے بعد ایک مشہور اینٹی بایوٹک ڈیپٹومائسن دی گئی جس سے بیکٹیریا کی 95 فیصد تعداد ختم ہوگئ۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ نیلی روشنی بہت مؤثر انداز میں دواؤں سے نہ ختم ہونے والے بیکٹیریا کو بھی تلف کرچکی ہے۔

The post ’نیلی روشنی‘، سخت جان بیکٹیریا کے خلاف نیا ہتھیار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2M8v92H

Wednesday, 27 May 2020

بچوں کو کووڈ 19 سے کتنا خطرہ ہے؟کیا وہ وائرس پھیلا سکتے ہیں؟

انگلینڈ میں جلد ہی بچے پرائمری سکولوں میں جانا شروع کر دیں گے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ بچوں کا کورونا وائرس کی وبا میں کردار کیا ہو گا؟ بچوں کو کورونا وائرس ہو سکتا ہے مگر اس بات کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں کہ وائرس کا شکار بننے کے بعد وہ زیادہ بیمار پڑ جائیں۔

یہ بات واضح نہیں ہے کہ وہ اس وائرس کو ایک دوسرے میں یا بالغ افراد میں کس حد تک منتقل کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔آئیے! دیکھتے ہیں کہ ماہرین اب تک اس حوالے سے کیا کچھ جان پائے ہیں۔

٭کیا بچے بیمار ہوتے ہیں؟

اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ہم یہ جان پائے ہیں کہ بڑی عمر کے افراد کورونا وائرس سے ہونے والی پیچیدگیوں کا زیادہ شکار بنتے ہیں۔ انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں 24 اپریل تک انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل ہونے والے کورونا متاثرین کی اوسط عمر ساٹھ برس تھی۔

یونیورسٹی آف ویلز میں ماہر امراض بچگان پروفیسر آڈیلیا واریث کہتی ہیں کہ ’تشخیص شدہ کورونا متاثرین میں بچوں کا تناسب ایک سے پانچ فیصد کے درمیان ہے، بالغ افراد کے مقابلے میں ان میں وائرس کی علامات ہلکی نوعیت کی ہوتی ہیں جبکہ اموات کی شرح انتہائی کم۔‘

٭کیا بچے کورونا وائرس منتقل کر سکتے ہیں؟

اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق بچوں کا کورونا وائرس کے باعث بیمار ہونے کا خطرہ بہت کم ہے۔ لیکن ایک سوال یہ ہے کہ کتنے بچے اس بیماری کا شکار ہوئے ہیں اور آیا وہ یہ وائرس کس حد تک دوسروں تک منتقل کر سکتے ہیں۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ کسی مخصوص عمر کے کتنے افراد وبا کا شکار ہیں اور کس حد تک۔

کورونا وائرس بھی عام زکام کی طرح پھیلتا ہے جیسا کہ کھانسی کے ذریعے یا ایسی چیزوں کو ہاتھ لگانے سے جو کھانسی کے ساتھ متاثرہ شخص کے منھ سے نکلنے والے چھینٹوں سے آلودہ ہوں۔ ایسی اشیا میں دروازوں کے ہینڈل، پنسل اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

دوسرے افراد سے دو میٹر دور رہنے، اپنے چہرے کو چھونے اور کھانا کھانے سے قبل ہاتھوں کو باقاعدگی سے دھونے کے ذریعے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ لیکن ان تمام ہدایات پر عمل کرنا بڑوں کے لیے بھی اتنا آسان نہیں ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر میتھیو سنیپ اس تحقیق کا آغاز کر رہے ہیں کہ کتنے بچوں اور کم عمر افراد میں اب تک کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے اور انھوں نے کس حد تک وائرس کے خلاف قوت مدافعت حاصل کر لی ہے۔

پروفیسر میتھیو کہتے ہیں کہ ’آیا بچے وائرس کے پھیلاؤ میں مددگار بنتے ہیں یا نہیں یہ اس وبا سے متعلق دیگر بہت سی معلومات کی طرح نامعلوم ہے۔‘

یونیورسٹی آف ساؤتھ ہیمپٹن میں وبائی امراض کے پروفیسر سول فاسٹ کہتے ہیں کہ ’دستیاب اعداد و شمار یہی ظاہر کرتے ہیں کہ بچوں میں اب وبا کی علامات بہت ہی کم واضح ہوتی ہیں اور (بچوں کے ذریعے) بالغوں میں وائرس کی منتقلی کے محرکات مختلف ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’بہت حد تک امکان ہے کہ بچوں کے بولنے یا کھانسے سے (ان کے منھ سے) وائرل مادے کا اخراج کم ہوتا ہے۔‘

سب سے پہلے بچوں کو سکول کیوں بھیجا جا رہا ہے؟

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ پہلی جماعت سے لے کر چھٹی جماعت تک کے بچوں کو مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر پہلے سکول بھیجا جا رہا ہے:

اس گروپ کے بچوں کی تعلیمی ضروریات اہم ہیں۔

چھوٹے بچوں میں اگر انفیکشن ہوتا بھی ہے تو ان کے بیمار پڑنے کے امکانات کم ہیں۔

بڑی عمر کے بچوں کے سکول سے باہر زیادہ روابط ہونے کا امکان ہوتا ہے، لہذا وائرس منتقلی کا خدشہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔

بڑی عمر کے بچے گھر رہ کر بھی پڑھائی کر سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے چیف سائنسدان ڈاکٹر سومیا سوامی ناتھن کہتے ہیں کہ بچے وائرس کے پھیلاؤ میں کم مددگار ہوتے ہیں اور اگر وہ اس وائرس کا شکار ہو جائیں تو ان کے بیمار پڑنے کے خدشات ’انتہائی کم‘ ہوتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ ممالک جہاں وبا کے دوران سکول کھلے رہیں ہیں وہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ سکولوں میں وبا کا پھیلاؤ بڑے پیمانے پر نہیں ہوا ہے۔‘

٭کیا بچوں کو سکول میں ماسک پہننا چاہیے؟

ایسے جگہوں پر جہاں سماجی فاصلے کے قواعد پر عمل پیرا ہونا مشکل ہوتا ہے وہاں چہرے کو ڈھانپ کر اس بیماری کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکتا ہے تاہم برطانوی حکومت سکولوں میں ماسک کے استعمال کی سفارش نہیں کرتی۔ حکومت کی احتیاطی تدابیر کے مطابق چھوٹے بچے ماسک کو بغیر مدد کے درست طرح سے استعمال نہیں کر سکیں گے لہذا ان کی توجہ ہاتھ دھونے اور صفائی ستھرائی پر ہونی چاہیے۔

٭کیا بچے اس وبا سے محفوظ ہیں؟

ایک خیال یہ ہے کہ بچوں کے پھیپڑوں میں وہ ریسیپٹرز (وہ خلیے جو ماحول سے اثر وصول کرتے ہیں) کم ہوتے ہیں جنھیں کورونا وائرس خلیوں کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے اور اسی وجہ سے بچوں میں اس کے اثرات بہت کم ہوتے ہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کی اس نظریے کے سائنسی ثبوت کم ہے۔ایسی رپورٹس بھیت سامنے آئی ہیں کہ کم تعداد میں کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو اس وائرس سے زیادہ متاثر ہوئے مگر بعد ازاں ان کے جسم نے اس کے خلاف بہتر قوت مدافعت پیدا کر لی۔

٭کاواساکی جیسا مرض کیا ہے؟

برطانیہ، امریکا اور یورپ میں بہت سے بچوں کو کورونا وائرس سے ملتے جلتے مرض کاواساکی سے متاثر ہوتے دیکھا گیا ہے۔ بہت ہی کم تعداد میں بچوں میں اس سے متعلقہ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں کہ انھیں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل کروانا پڑ سکتا ہے۔کاواساکی اور کورونا کی علامات ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں، ایک جیسا جان لیوا سینڈروم، جو خون کی شریانوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس سے تیز بخار، کم بلڈ پریشر اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے لیکن بچوں میں ان علامات کو بہت کم پیمانے پر دیکھا گیا ہے، برطانیہ میں اب تک 100 بچے اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

انگلینڈ میں بچوں کی صحت کے ادارے رائل کالج پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کی صدر پروفیسر رسل وینار کہتی ہیں کہ ’اس حالت کا شکار بچوں کی بڑی تعداد میں اب صحت مند ہو رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اس ہرگز یہ مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ والدین اپنے بچوں کو لاک ڈاؤن سے نکالنے کا سوچیں۔

٭مدد کب مانگنی چاہیے؟

بچوں کو کورونا وائرس ہو تو سکتا ہے لیکن یہ شاذ و نادر ہی سنگین صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔ اگر آپ کا بچہ بیمار ہے تو ممکن ہے کہ یہ کورونا وائرس کی بجائے کوئی اور انفیکشن یا بیماری ہو۔ رائل کالج کا کہنا ہے کہ اگر بچوں میں مندرجہ ذیل علامات نظر آئیں تو فوری مدد طلب کریں:

بچوں کا رنگ زرد پڑ جائے اور ہاتھ لگانے سے ان کا جسم بہت زیادہ ٹھنڈا محسوس ہو،

سانس لینے میں تکلیف یا دشواری محسوس کریں،

ہونٹ نیلے ہونا شروع ہو جائیں،

کسی بھی قسم کا دورہ پڑنے لگ جائے،

بچہ بہت زیادہ بے چین ہو جائے، حد سے زیادہ روئے یا اسے جگانے میں مشکل محسوس ہو،

خصیوں میں درد، خاص کر درمیانی عمر کے لڑکوں میں۔

٭اگر آپ کو پہلے سے کوئی بیماری ہو؟

جن لوگوں کو پہلے سے کوئی بیماری ہے، چاہے وہ کسی بھی عمر کے ہوں وہ اس وائرس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ برطانیہ میں 55 لاکھ سے زائد افراد کو دمے کی بیماری ہے اور اس وجہ سے انھیں کورونا وائرس ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ جن بچوں کو پہلے سے ہی کوئی بیماری ہے انھیں گھر پر ہی رہنے کے لیے کہا جا رہا ہے کیونکہ انھیں کورونا وائرس سے زیادہ خطرہ ہے۔

The post بچوں کو کووڈ 19 سے کتنا خطرہ ہے؟کیا وہ وائرس پھیلا سکتے ہیں؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2TM9AJt

گردوں کو ناکارہ ہونے سے کیسے بچائیں؟

علم طب میں گردہ کو عضو ِمرؤس (خادم عضو ) کہا جاتا ہے۔چنانچہ گردے کے مقام اور افعال سے واقف ہونا لازم ہے۔

٭گردے کا مقام

پشت میں ریڑھ کے مہروں کے دائیں اور بائیں  جانب ، حجابِ حاجز (ڈایافرام) کے نیچے واقع ہیں ،ان کی شکل مونگ پھلی سے ملتی ہے، سائز 11cm x 7cm x 3cm ہوتا ہے۔

٭انسانی جسم میں گردے کا کردار

1۔ زہریلے موادکوخون سے چھاننا۔

2۔ برق پاشیدوں ( الیکٹرولائٹس) کا توازن قائم رکھنا،واضح رہے کہ ان کی خرابی سے بلڈ پریشر کا توازن خراب ہو جاتا ہے۔

3۔ خاص ہارمونز پیدا کرنا  ’اِرایتھروپوئی ٹین ‘( یہ جسم میں سرخ خلیات پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں)۔

4۔ جسم میں تیزابیت اور قلویت ( ایسیڈیٹی اور الکلائنٹی) کا توازن قائم کرنا۔

5۔وٹامِن ڈی کا استحالہ (میٹابولزم)۔

٭گردے کی کمزوری:

جس انسان کا گردہ کمزور ہو گا، اس میں مذکورہ بالا افعال بھی ٹھیک طرح  نہیں ہوسکیں گے، لہذا گردے کے مقام پر ورم پیدا ہوجاتا ہے، اور کمر پر ہلکی سوجن محسوس ہو تی ہے،علاوہ ازیں ٹانگ میں درد  اور پیشابکی مقدار میں فرق ہونے لگتا ہے۔

٭گردے کی کمزوری کی علامات

ابتدائی علامات:

1۔وزن میں کمی، 2۔ متلی، 3۔ قے،4۔ تھکان، 5۔ سر درد، 6۔ ہچکیاں،7۔ خارش۔

بعد کی علامات (اگر دھیان نہ دیا جائے تو):

1۔ بول کی مقدار کا بڑھنا یا گھٹنا، 2۔ رات بول کے خاطر بار بار اٹھنا، 3۔ خون کا دیر سے جمنا، 4۔ قے یا براز یا دونوں میں خون، 5۔ منہ سے بدبو آنا،6 ۔جسمانی عضلات میں کھچاؤ، 7۔ ٹانگوں میں دھکن،8 ۔سستی،9 ۔ جلد کی رنگت میں تبدیلی،10 ۔ برق پاشیدوں  کے توازن میںخرابی کی وجہ سے بلڈ پریشر ، 11۔گھبراہٹ اور ہاتھ پاؤں کا جلنا۔

٭گردے فیل کیوں ہوتے ہیں؟

جو چیزیں جگر کو نقصان دیتی ہیں وہ لازمی گردوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، کیونکہ گردے جگر کا فضلہ خارج کرتے ہیں۔یہی امور گردہ فیل کرنے میں معاون ہیں۔ نقصان دینے والی چند اشیا یہ ہیں:

1۔ سگریٹ نوشی، 2۔کچلہ کی زیادہ مقدار، 3۔  میلا پانی پینا (آج کل اکثر گھروں میں میلا پانی فراہم کیا جاتا ہے لہذا فلٹرڈ پانی پیئیں)،  4۔گرم موسم میں گرم مصالحہ جات کا بکثرت استعمال،5۔  شراب نوشی، 6۔ پروٹین والی غذا کا زیادہ استعمال، 7۔ بلڈ پریشر کے مریضوں کا گردے کی طرف توجہ نہ دینا  ( اکثر ایسے مریضوں کو موٹاپے اور دل کی ادویہ دی جاتی ہیں مگر گردے پر توجہ نہیں دیتے)۔

٭گردہ فیل ہونے کی علامات

گردے ناکارہ ہونے سے پہلے کئی علامات کا اظہار کرتے ہیں ، جن میں گردے کی کمزوری پہلے ہوتی ہے۔ البتہ گردہ فیل ہو جائے تو جسم میں شدید زہر پھیل جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دل، جگر اور پھیپھڑے بُری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ یرقان، جسم میں پانی بھرنا، پیٹ کا سوجنا ، کمر اور ٹانگوں میں شدید درد ، بینائی کی کمزوری ، خراب خیالات کیونکہ زہریلا مادہ دماغ میں سرایت کرجاتا ہے، سر میں شدت کا درد اور چکر، بلڈ پریشر کے توازن میں خرابی، چوٹ میں پیپ پڑنا، قے ، کھانے کی نالی میں تنگی ، بخار ، زبان کی میلی رنگت ، بول کی انتہائی بدبودارمقدار، جھٹکے پڑنا، خون میں کمی ، پانی کی کمی (پئیے جانے والا پانی خلیات کے درمیانی جگہ جمع ہو کر جسم کو پھلا دیتا ہے، پیاس برقرار رہتی ہے)۔

٭گردہ فیل ہونے لگے تو کیا کریں؟

جیسے ہی گردہ فیل ہونے کی علامات ظاہر ہوں، خصوصاً کمر کے درمیانی حصے میں درد  ہو تو لیب ٹیسٹ کرائیں۔ اور بول آور جڑی بوٹیاں استعمال کریں بالخصوص  ’بچھو پھل کا قہوہ   پیئیں۔ یہ قہوہ یورک ایسڈ میں مفید ہے۔ اگر انفیکشن ہو تو مناسب  ’یو ۔ٹی۔آئی ‘ ادویہ لیں،  مثلاََ  ’ آفلاکسا سین 200 ملی گرام  ‘ کا کورس کریں۔

٭گردے کی صحت کا خیال کیسے رکھیں؟

گردے کی صحت کیلئے رات میں پیاسا نہیں رہناچاہیے، کیونکہ دن میں پیئے جانے والا پانی جسم میں خون کی مقدار اور رقت کو توازن میں رکھتا ہے، مگر اس سے بول کی خاص مقدار نہیں بنتی، جبکہ شام کو پیئے جانے والا پانی بول کی زیادہ مقدار بناتا ہے، یعنی اس پانی کا گردے سے گزر ہوتا ہے۔ہفتے میں ایک مرتبہ نمکول کا استعمال صحت مند افراد کیلئے مفید ہے جبکہ بلڈ پریشر کے مبتلا افراد کو شہد کا استعمال پانی میں ملا کر (ماء العسل) ضرور کرنا چاہیے۔دواء کا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کو ہفتے میں ضرور کرلینا چاہیے ،کیونکہ اس مرض میں گردے اور قوتِ باہ کو بہت نقصان ہوجاتا ہے، حلتیت ، انیسون رومی ،بسکپھرا کا قہوہ ہفتہ  وار ضرور پینا چاہیے۔ مہینے میں ایک بار ’  آر ۔ ایف۔ ٹی ‘  اور  ’یو ۔ٹی۔آئی ‘  ٹیسٹ ضرور کرائیں، اکثر  بول کے انفکشن سے گردے فیل ہوتے ہیں۔

٭گردہ فیل ہونے کا علاج

پاکستان میں ہر 10لاکھ  افراد میں سے 100سے زیادہ لوگ اس مرض کا شکار ہیں۔ گردہ ناکارہ ہوجائے تو گردے کا کام مصنوعی انداز میں’ڈایالیسس‘ سے لیا  جاتا ہے۔ ’ڈایالیسس‘  سے پہلے یہ ادویہ استعمال کریں:  ریوند خطائی،  سوما کلپا،  دارچینی،  پینیکس جنسنگ کی جڑ،  ملٹھی،  سلائیبم میری اینم،  بچھو پھل، گوٹو کولا (نہ ملے تو برہمی بوٹی)۔   جب گردوں کا کام صرف 10سے 20 فیصد رہ جائے تو گردے کا فیل ہونا گردانا جاتا ہے۔ لہذا   ڈایالیسس سے پہلے ڈیڑھ ہفتہ یہ ادویہ استعمال کریں۔ ’ڈایالیسس‘ خون کو صاف کرتا ہے۔

جسم کو صحت کے قریب رکھنے کیلئے  ’ڈایالیسس‘ مدد دیتا ہے جبکہ یہ ادویہ قدرتی’ڈایالیسس‘  ہیں۔ اگرایک ہفتے میں تھوڑا سا فرق بھی محسوس ہو تو انہی کو جاری رکھیں،  ’ڈایالیسس‘  نہ کرائیں۔ ’ڈایالیسس‘  غیر ضروری نمکیات اور دوسرے زہریلے موادکو جسم میں جمع نہیںہونے دیتا ورنہ یہ جسمانی اعضاء کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اکثر ’ہیموڈایالیسس‘ کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے، اس میں یہ مشین زہریلے مواد اور غیر ضروری پانی کو خون سے خارج کرتی ہے۔ خون کو جسم سے خارج کیا جاتا ہے اور مشین اس خون کو چھانتی ہے، چھنا ہوا خون مشین جسم میں واپس ڈال دیتی ہے۔

٭فیل گردے کے لیے قدرتی ادویہ:

کیونکہ گردہ کلّی طور پر ناکارہ نہیں ہوتا ، اور نہ گردے جراحت کر کے الگ کیے جاتے ہیں ، ایسی اشیاء جن میں بول خارج کرنے کی صلاحیت پائی جائے مفید ہوتے ہیں۔ پانی ایسے مریضوں کو نہیں پلایا جاتا یا کبھی حالاتِ جسم کے پیش نظر تھوڑا دیا جاتا ہے،   ’ڈایالیسس‘  کے دوران ان ادویہ کو چبانا قوتوں کو بحال بھی رکھتا ہے اور گردے کو خود کام پر آمادہ بھی کرتا ہے۔

بسکھپرا، انیسون رومی ، سونف، حلتیت، گھوکھرو خورد (سفوف) مغز فندق، مغز بادام ان اجزاء میں بہت سارے برق پاشیدیں ہیں اور ساتھ ہی گردے کو قوت بھی دیتے ہیں ، جسم سے زہریلہ مواد ، غیر ضروری پانی کو خارج کرتے ہیں ۔

انتباہ:  یاد رکھیں کہ زیادہ مقدار میں صرف پانی پینا گردے کی صحت کا ضامن نہیں بلکہ مناسب اجزاء جو  اِس پانی کو جذب کرنے میں معاون ہوں ، بھی استعمال کرنے چاہیے۔

The post گردوں کو ناکارہ ہونے سے کیسے بچائیں؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3d953Zf

بانجھ پن کا علاج ممکن ہے، لیکن کیسے؟

ہمارے معاشرے میں عام رواج ہے کہ شادی کے بعد بہت جلد خاندان کے لوگ مختلف قسم کے سوالات شروع کر دیتے ہیں۔ ہر ایک کو یہ فکر ہوتی ہے کہ نئے جوڑے کے ہاں بچے کی آمد کب ہوگی؟ عام طور پر80 فیصد سے زائد  لڑکیوں میں شادی کے ایک سال بعد ولادت کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ 10 سے 20 فیصد لوگ جو ابتدائی طور پر اولاد کی نعمت سے محروم رہیں، سخت ذہنی اذیت کا شکار ہوتے ہیں۔ انھیں اذیت دینے میں سب سے زیادہ ہاتھ ان کے اپنے چاہنے والوں کا ہوتا ہے۔

گھر کے بزرگ خاص کر خواتین ہر وقت کے سوال و جواب اور مشورے سے ایسے جوڑوں کی زندگی اجیرن کر دیتی ہیں۔ ایک تو ان کااپنا احساس محرومی اور پھر لوگوں کے سوال و جواب انھیں جینے نہیں دیتے، یہ لوگ حد سے زیادہ ذہنی دباؤ اور اذیت کا شکار ہوتے ہیں۔

لاولدی کے مسئلے کے شکار 10 سے 20 فیصد لوگوں میں سے تقریباً آدھے لوگ علاج کے بعد ماں باپ بن سکتے ہیں۔ چونکہ یہ لوگ مایوس اور پریشان ہو جاتے ہیں اس لئے ہر قسم کے اصلی اور جعلی ڈاکٹر‘ اصلی اور جعلی پیروں کے پاس جاتے ہیں اور اکثر اوقات نقصان اٹھاتے ہیں۔ اکثر دیکھا اور سنا گیا ہے کہ بعض شادی شدہ لڑکیاں جعلی پیروں کے پاس جا کر نا صرف اپنا پیسہ ضائع کرتی ہیں بلکہ بعض اوقات لفنگے پیروں کے ہاتھوں اپنی عزت بھی گنوا بیٹھتی ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ اگر شادی کے ایک سال بعد تک اولاد نہ ہو تو میاں بیوی دونوں کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ چند ٹیسٹوں کے ذریعے پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے ہاں اولاد کیوں نہیں ہو رہی ہے۔ لاولدی کی وجہ معلوم کرنے کے لئے بنیادی طور پر مندرجہ ذیل ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں:

1۔شوہر کے مادہ تولید semen کا ٹیسٹ۔

2۔ بیوی کے بیضہ دانی کے کام یعنی ہر مہینے ایک انڈہ بنانے کی صلاحیت کا ٹیسٹ۔

3۔ بیوی کی ٹیوب (نلے) کے کام کا ٹیسٹ۔

تولیدی مادے کا ٹیسٹ

یہ سب سے آسان ٹیسٹ ہے اور چونکہ لاولدی کے معاملے میں مردوں کے تولیدی مادے semen کی خرابی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ (تقریباً 50 فیصد لاولد جوڑوں میں خرابی مردوں میں پائی جاتی ہے) اس لیے پہلے مرحلے میں یہی ٹیسٹ کرایا جاتا ہے، اس ٹیسٹ میں مادہ تولید میں جرثوموں sperms کی تعداد دیکھی جاتی ہے۔

اسپرم وہ مردانہ جرثومہ ہوتا ہے جو حمل ٹھہرنے کے لئے لازمی ہوتا ہے۔ اسپرم کی تعداد کم از کم بیس ملین فی ملی لیٹر ہونا چاہیے۔ ان میں کم از کم 50 فیصد آ گے کی طرف حرکت کرتے ہوئے نظر آنے چاہییں اور کم از کم 14 فیصد نارمل شکل کے ہونے چاہئیں۔ ہر جرثومے کے تین حصے ہوتے ہیں۔

ایک سر، درمیانی حصہ اور دم۔ جرثومے کی نارمل شکل جانچنا سب سے مشکل مرحلہ ہے۔ اس کے لیے خاص قسم کی خوردبین (مائیکرو اسکوپ) اور بہت زیادہ مہارت اور ٹیسٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بانچھ پن کا شکار جوڑوں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر مرد اولاد نہ ہونے کی صورت میں عورت کو قصور وار ٹھہراتے ہیں اور اپنا ٹیسٹ کروانا اپنی مردانگی کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ایسے مردوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ شادی کے 2، 3 سال بعد بچہ نہ ہونے کی صورت میں بیوی کے ساتھ اپنے مادہ منویہ (Semen) کا ٹیسٹ ضرور کروائیں۔

بیوی کے بیضے کا ٹیسٹ

اگر بیوی کی ماہواری کا نظام ٹھیک اور باقاعدہ ہے اور عمر 35 سال سے کم ہے تو عام طور پر انڈے دانی ٹھیک ہوتی ہے۔ یعنی ہر مہینے ایک انڈا بن رہا ہوتا ہے۔

پہلے زمانے میں اس ٹیسٹ کیلئے بچے دانی کی صفائی کی جاتی تھی۔ جو اب بالکل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہی معلومات خون کے ٹیسٹ سے معلوم ہو سکتی ہیں۔ جس دن سے ماہواری شروع ہوتی ہے وہ پہلا دن کہلاتا ہے۔ جن عورتوں کی ماہواری 20 سے 30 دن کے وقفے سے آتی ہے ان کے خون کا ٹیسٹ اکیسویں دن خون میں پروجسٹر ون کی سطح دیکھنے کے لئے کیا جاتا ہے۔

اگر خون میں ہارمون پروجیسٹرون کا لیول کم ہو تو اس کا مطلب ہے کہ انڈا باقاعدگی سے نہیں بنتا۔ اس کی وجہ معلوم کرنے کیلئے بھی صرف خون کا ٹیسٹ ہی کافی ہے۔ ماہواری کے شروع کے دنوں میں مندرجہ ذیل ہارمونز کی دماغ کے ایک غدود سے آتے ہیں ان کی سطح کی مقدار بھی جانچی جاتی ہے۔

سیریم ایف ایس ایچ FSH

سیرم ایل ایچ LH

سیرم پرولیک ٹین Prolactin

اگر سیرم پرولیک ٹین زیادہ ہو تو دواؤں کے ذریعے کم ہو جاتا ہے اور انڈے دانی کا کام باقاعدگی سے شروع ہو جاتا ہے۔ باقی دونوں ہارمونز کا بیلنس اگر الٹ ہو جائے تو بچہ دانی میں پانی کی تھیلیاں سی بن جاتی ہیں۔ اسے پولی سسٹک اووری کا نام دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے انڈے دانی میں انڈے کی بڑھوتری متاثر ہوتی ہے۔ اس بیماری کا علاج دواؤں سے ہو سکتا ہے۔ اگر یہ دونوں ہارمونز بہت زیادہ ہوں تو انڈے دانی کام نہیں کرتی اور دوائیوں کے ذریعے بھی علاج ممکن نہیں ہوتا۔

ٹیوب کا ٹیسٹ

عورتوں کے ٹیوب کا ٹیسٹ کرنا ذرا پیچیدہ عمل ہے۔ اس کے دوطریقے ہوتے ہیں۔ بچہ دانی کے منہ کے ذریعے دوائی بچہ دانی میں داخل کی جاتی ہے جو ٹیوبز (نلوں) کے ذریعے پیٹ میں داخل ہوتی ہے اس کا ایکسرے لیا جاتا ہے جس میں (دوائی) بچہ دانی سے نکل کر نلوں کے ذریعے پیٹ میں جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کے ذریعے یہ ثابت ہو جاتا کہ ٹیوبز (نلے) کھلے ہوئے ہیں۔ اس عمل میں خاصا درد ہوتا ہے کبھی کبھی درد کی وجہ سے عورت کے بے ہوش ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ ٹیوب چیک کرنے کا دوسرا طریقہ سرجری ہے۔ مریض کوبے ہوش کر کے ناف کے نیچے چھوٹا سوراخ بنا کر کیمرہ ٹیلی سکوپ (لیپرو سکوپ) پیٹ کے اندر ڈالتے ہیں اور براہ راست اندر کا معائنہ کرتے ہیں۔ بچہ دانی منہ کے ذریعے دوائی داخل کی جاتی ہے اور وہ پیٹ کے اندر جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔

لیپرا اسکوپی بہتر طریقہ ہے کیونکہ اس سے زیادہ معلومات بھی مل سکتی ہیں۔ مثلاً بچے دانی اور انڈے دانی کیسی ہے؟ اور اس کے آس پاس اور کوئی بیماری تو نہیں ہے۔ خاص کر دو اقسام کی بیماریاں اہم ہیں۔ ایک انفیکشن یعنی جرثوموں کی وجہ سے سوزش کا ہونا اگر یہ بار بار ہو تو انڈے دانی ٹیوبز اور بچے دانی آپس میں چپک جاتے ہیں۔ یا ان کے درمیان باریک جھلی بن جاتی ہے۔ ان دونوں صورتوں میں انڈے اور مرد کے جرثومے کا ملاپ ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس انفیکشن کو پی آئی ڈی یعنی پیلوک انفلے میٹری بیماری PID کہا جاتا ہے۔

دوسری بیماری کا نام اینڈو میٹروسیس Endometriosis ہے۔ یہ انڈے دانی اور ٹیوبز کو خراب کرتی ہے۔ اس میں ہر ماہواری کے ساتھ تھوڑا سا خون پیٹ کے اندر چلا جاتا ہے اور وہاں جم جاتا ہے اس بیماری کی وجہ سے ہر مہینے پیٹ کے اندر خون جمتا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ علاج ناممکن ہو جاتا ہے۔

شادی کے ایک سال تک اگر حمل نہ ٹھہرے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور ابتدائی ٹیسٹ کروا لینے چاہییں۔ اگر لڑکی کی شادی 30 سال سے زیادہ عمر میں ہوئی ہے تو مناسب ہے کہ ایک سال انتظار نہ کریں بلکہ چھ ماہ بعد ہی ٹیسٹ شروع کر دیں کیونکہ عورت کی عمر 35 سال سے زیادہ ہو جائے تو بچہ ٹھہرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ سب سے پہلے شوہر کے تولیدی جرثوموں کا ٹیسٹ ہونا چاہیے کیونکہ یہ سب سے آسان ٹیسٹ ہے۔ اگر مرد کے تولیدی مادے میں تھوڑی بہت خرابی ہو تو امید ہوتی ہے کہ یہ علاج سے ٹھیک ہو جائے گی لیکن اگر زیادہ خرابی ہو تو ایسے مردوں کا باپ بننا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ یہ خرابی یا تو پیدائشی ہوتی ہے یا بعد میں چوٹ لگنے سے یا عفونت کے اثر یعنی انفیکشن سے پیدا ہو جاتی ہے۔

عورتوں میں اگر ماہواری کی خرابی ہو یا انڈے دانی کا کام ٹھیک نہ ہو تو دوائیوں کے ذریعے کسی حد تک علاج ہو سکتا ہے۔ اگر ٹیوبز بند ہوں تو پھر ایسی عورتوں کا نارمل طریقے سے حمل ٹھہرانا ناممکنات میں سے ہے۔ ہمارے ملک میں ٹی بی کا مرض زیادہ ہے اس لئے اکثر عورتوں کو ٹیوبز کی ٹی بی ہوتی ہے اور ٹیوبز بند ہو جاتی ہیں اگر ایک ٹیوب بند ہو اور ایک ٹیوب کھلی ہو تو علاج کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

بانجھ پن کا علاج

اولاد اللہ کی خوبصورت ترین نعمت ہے۔ شادی کے بعد ہر مرد و زن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ جلد سے جلد ماں باپ بنیں۔ شادی کے فوراً بعد اگر دو تین سال تک بچہ نہ ہو تو بالکل پریشان نہ ہوں۔ اللہ سے رحمت کی دعا کریں۔ ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔ 40 سال سے زیادہ عمر کی خواتین بھی شادی کے بعد ماں بن جاتی ہیں۔ بعض اوقات سارے ٹیسٹ نارمل ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود بچہ نہیں ہوتا۔ 10 سے 12 سال گزر جاتے ہیں اور پھر اللہ کی رحمت سے اولاد ہو جاتی ہے۔ اس لیے اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں عورت، مرد دونوں ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے رو رو کر دعا کریں۔ انشاء اللہ، اللہ اپنا کرم کرے گا اور آپ بارآور ہوں گے اور اولاد کی دولت سے فیضیاب ہوںگے۔

بانجھ پن کے علاج کے مختلف طریقے ہیں۔ اگر دوائیوں سے فائدہ نہ ہو یا خرابی ایسی ہو کہ دوائیاں اثر نہ کریں یا کسی خرابی کا پتہ نہ چل رہا ہو اور دوائیوں کے باوجود حمل نہ ٹھہرتا ہو تو یہ طریقے آزمائے جاتے ہیں:

مصنوعی طریقہ سے مادہ تولیدی داخل کرنا

یہ ایک سادہ طریقہ ہے۔ اس میں ٹیوبز کا کھلا ہونا اور مادہ تولید تقریباً نارمل ہونا ضروری ہے۔ اس طریقہ علاج میں پہلے بیوی کو دوائیں دی جاتی ہیں تاکہ لازمی طور پر دو یا تین انڈے بن سکیں۔ ماہواری کے بارھویں، تیرہویں یا چودہویں دن جب الٹرا ساؤنڈ میں انڈے کا سائز اگر مناسب ہو تو شوہر کا مادہ تولید لے کر تیار کیا جاتا ہے۔ مادہ تولید کو دو ڈھائی گھنٹے تک مختلف طریقے سے صاف کرتے ہیں تاکہ صرف اچھے اور تیز حرکت والے جرثومے علیحدہ ہوجائیں اور پھر ان کو ایک باریک پلاسٹک کی نلکی کے ذریعے بچہ دانی کے اندر ڈالتے ہیں۔ یہ کسی قسم کی تکلیف کے بغیر ہوتا ہے۔ اس طریقے سے 15 فیصد کامیابی ہوتی ہے۔

ٹیسٹ ٹیوب بے بی (ابتدائی)

اس طریقہ علاج کا نام اکثر لوگوں نے سنا ہے اس کو سمجھتے کم لوگ ہیں۔ یہ طریقہ علاج پہلی بار 1978ء میں برطانیہ میں آزمایا گیا اور کامیاب ہوا۔ یہ طریقہ ان لوگوں کے لئے مفید ہے جن کی ٹیوبز بند ہیں۔ جن کے انڈے مشکل سے بنتے ہوں یا جن کے یہاں اولاد نہ ہونے کی کوئی طبی وجہ معلوم نہ ہو رہی ہو اور کوشش کرتے ہوئے پانچ سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہو۔ اس طریقہ کار میں پہلے بیوی کو مختلف قسم کی دوائیں دی جاتی ہیں تاکہ اس کے انڈے زیادہ بنیں۔ تقریباً دس سے بیس انڈے بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔

الٹرا ساؤنڈ پر باقاعدگی سے معائنہ کیا جاتا ہے جب انڈوں کا مطلوبہ سائز تیار ہو جاتا ہے تو ایک سوئی کے ذریعے ان کو باہر نکالا جاتا ہے اور لیبارٹری میں خاص قسم کے انکوبیٹر Incubator میں رکھا جاتا ہے پھر شوہر کا جرثومہ لے کر اس کو تیار کر کے رکھا جاتا ہے پھر دویا تین دن کے بعد ان میں سب سے صحت مند اور اچھے پروان چڑھنے والے دو یا تین جنین Embryo الگ کر کے بیوی کی بچہ دانی میں باریک نلکی کے ذریعے ڈال دیتے ہیں۔ پندرہ سے بیس دن کے بعد اگر ماہواری نہ ہو تو خون میں حمل ٹھہرنے کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

اس طریقہ علاج سے 40 سے 45 لوگوں کو کامیابی ہوتی ہے اور خاص کر 35 سال سے کم عمر کی عورتوں میں بچہ صحیح طریقے سے پیدا ہونے کی امید ہوتی ہے۔

ٹیسٹ ٹیوب بے بی (ایڈوانس ٹیکنیک)

یہ طریقہ کار ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی ایڈوانس ٹیکنیک ہے۔ یہ خصوصاً ایسے معاملوں میں مفید ہے جہاں مرد کی خرابی ہو۔ اسپرم یا تو کم ہوں یا حرکت کم کرتے ہوں یا ظاہری طورپر نارمل نہ نظر آتے ہوں۔ اس تکنیک کا فائدہ یہ ہے کہ اسپرم ہزاروں کی تعداد میں درکار نہیں ہوتے بلکہ جتنے انڈے ملتے ہیں اتنے ہی اسپرم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں بھی پہلے بیوی کو مختلف دوائیاں دے کر اڈے بنائے جاتے ہیں پھر ان کو نکالا جاتا ہے۔

خاص قسم کے مائیکرو اسکوپ کی مدد سے بال سے بھی باریک سوئی کے ذریعے انڈے کے اندر ایک ایک اسپرم داخل کیا جاتا ہے۔ یہ بہت ہی مہارت اور باریک بینی کا کام ہے۔ 18 گھنٹے کے بعد ان کو چیک کرتے ہیں اور اگلے دو یا تین دن تک ان کی افزائش دیکھنے کے بعد دو یا تین جینن بیوی کے بچہ دانی میں ڈال دئیے جاتے ہیں۔ پندرہ سے بیس دن کے بعد ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ وہ مرد جن کے مادہ تولید میں جرثومے بالکل نہ ہوں مگر فوطے میں جرثومے بنتے ہوں، ان کا علاج اس طریقہ سے ہو سکتا ہے۔

ان کے فوطے میں سوئی ڈال کر پانی نکالا جاتا ہے۔ یا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکال کر اس جرثومے کو ڈھونڈا جاتا ہے اور پھر اس سے ایڈوانس ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے طریقہ کار سے ایک ایک انڈے کے اندر ایک ایک اسپرم کو انجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔ اس طریقہ میں کامیابی 30 سے 35 فیصد ہوتی ہے۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی یا ایڈوانس طریقے میں کوئی خاص ذیلی اثرات نہیں ہوتے۔ خطرناک قسم کی پیچیدگیاں ہزاروں میں سے ایک کو ہوتی ہیں اور اگر بروقت علاج شروع ہو جائے تو جلدی سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔

اسلامی نقطہ نظر

اسلامی نقطہ سے یہ سب جائز طریقے ہیں کیونکہ اس میں صرف شادی شدہ جوڑوں کا علاج ہوتا ہے اور صرف شوہر کے مادہ تولید اور بیوی کے انڈے آپس میں ملائے جاتے ہیں۔ کسی تیسرے شخص کے جسمانی مادوں کا استعمال قطعی نہیں ہوتا۔ یہ سارے طریقے ایران‘ سعودی عرب اور دوسرے ممالک میں کامیابی سے استعمال کیے جاتے ہیں۔

یہ خوشی کی بات ہے کہ اس قسم کے علاج کے جدید طریقے سے پاکستان میں بھی کئی لوگوں کی زندگی میں بچے کی آمد سے بہار آ چکی ہے۔ جن خواتین کی عمر42 سال سے زیادہ ہو یا انڈے دانی نے کام کرنا چھوڑ دیا ہو یا شوہر کے اسپرم بالکل نہ بنتے ہوں ان کو راضی بہ رضا رہنا چاہیے۔ کیونکہ ایسے معاملات میں کامیابی کا زیادہ امکان نہیں ہوتا۔ اس لئے خوامخواہ ہر جگہ جانے، ٹھوکریں کھانے اور پیسے ضائع کرنے سے اچھا ہے کہ ایک دفعہ ہی تسلیم کر لیا جائے اور کوشش کر کے بچے کو گود لے لیا جائے۔ کسی بے سہارا بچے کو پالنا بہت بڑی نیکی ہے خاص کر کسی یتیم اور بے سہارا بچے یا بچی کو گود لینا بڑے ثواب کا کام ہے۔ اس سے اللہ بھی خوش ہوتا ہے اور گود لینے والا بھی خوش و خرم زندگی گزارتا ہے۔

The post بانجھ پن کا علاج ممکن ہے، لیکن کیسے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Ahh5RI

ملیریا کے خلاف منظورشدہ دوا کینسر کے خلاف بھی مؤثر ثابت

ورجینیا: سرطان کی بعض اقسام میں سب سے مہلک اور مشکل سے ٹھیک ہونے والا سرطان ’گلائیو بلاسٹوما‘ ہے لیکن ملیریا کے خلاف منظور ہونے والی ایک دوا سے اس کے علاج کی امید بھی پیدا ہوئی ہے جو ایک قسم کا دماغی سرطان ہے۔

اس دوا کا نام، لیومیفینٹرائن ہے جس کی منظوری امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے) دے چکی ہے۔ اب ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی کے ماہرین نے انکشاف کیا ہےکہ یہ جینیاتی سطح پر کام کرتے ہوئے دماغی رسولی کی افزائش روک سکتی ہے۔

واضح رہے کہ گلائیوبلاسٹوما کا علاج بہت مشکل ہوتا ہے اوریہ اپنے مریض کو بہت تیزی موت کے دہانے تک لاجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اشعاعی علاج اور بعض ادویہ کے باوجود پیچیدہ دماغ میں اس کا پھیلاؤ پیچیدہ ترین ہوتا ہے۔

اس وقت ریڈی ایشن تھراپی کے ساتھ ٹیموزولامائڈ نامی دوا دماغی سرطان میں دی جاتی ہے لیکن اس کی تاثیر بہت ہی کم ہے۔ وجہ یہ ہے کہ دماغی رسولی جلد ڈھیٹ بن کر اس پورے معالجے کو ناکام بنادیتی ہیں اور مریض تشخیص کے چار پانچ سال میں ہی لقمہ اجل بن جاتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ایک جینیاتی عمل Fli-1 سرطانی رسولی کو مزاحم بناکر علاج کے عمل کو ناکام کردیتا ہے۔ سائنسدانوں نے دیکھا کہ Fli-1 ایک خاص قسم کے پروٹین کے اظہار(ایکسپریشن) کو قابو کرتا ہے۔ اس پروٹین کو ایچ ایس پی بی ون کہا جاتا ہے۔ اس عمل کو سمجھ کر ہم اس موذی سرطان کا بہتر علاج کرنے کے قابل ہوسکتےہیں۔

سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ لیومیفینٹرائن Fli-1 کو روک سکتی ہے جو رسولی سے وابستہ پروٹین میں خلل ڈالتی ہے۔ اس طرح سے گلائیوبلاسٹوما کے علاج کی نئی راہ کھل سکے گی۔

اس ضمن میں سرطانی خلیات لے کر جب ریڈیو تھراپی، ٹیموزولومائڈ اور لیومیفینٹرائن کو باہم ملایا گیا تو کینسر زدہ خلیات بہت تیزی سے ختم ہوئے اور رسولی کی رفتار رک گئی۔ جب ملیریا کی دوا کو نکال باہر کیا گیا تو ان پر کوئی فرق نہ پڑا اور کینسر اپنی رفتار سے آگے بڑھتا رہا۔

ماہرین کے مطابق اس طرح مزید تجربات کے بعد ملیریا کی دوا سے کینسر ختم کرنے میں بہت مدد مل سکے گی۔

The post ملیریا کے خلاف منظورشدہ دوا کینسر کے خلاف بھی مؤثر ثابت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/36zJ0se

Housekeeping Jobs in UK

The United Kingdom is a financially sound country in continent Europe. The per capita income of the inhabitants and other oversea immigrants are fantastic. It is a beautiful country that pulls tourists from other countries. Similarly, there are different employees, immigrants, businessmen and students. The overseas guests reside in hotels, hostels and guest houses. The hotel and guest houses demand different types of employees including housekeeper. The housekeeper is the person that performs different activities like cleaning, dusting, vacuuming, setting beds, cleaning bathrooms and kitchens. Similarly, housekeeper also mops floors. The housekeeper jobs are required in hotel, hostels, guest houses and hospitals. In United Kingdom these jobs advertised in leading newspapers and online websites.

Housekeeping Job Responsibilities in Hotel
In the UK hotel the housekeeper performs different tasks according to the given schedule. The primary tasks assigned for the housekeeper are clean rooms and suites, lobbies, lounges, restrooms, corridors, elevators, stairways, Casino floor, etc. The housekeeper also clean rugs, carpets, furniture and use vacuum cleaner. The housekeeper in hotel empties wastebaskets, ashtrays and removes waste from rooms. The employee of this position also washes windows, door panels, ceiling and woodwork.

Housekeeping job requirements in hotel
Housekeeping job usually demands experience of this field specifically in hospitality industry. He must have the basic awareness about the cleaning machines and tools. The position demands at least high school diploma or GED. The physical fitness and mental alertness is necessary for this housekeeper job.

Housekeeping Job Responsibilities in Hostel
In the United Kingdom there are different types of hostels pacifically student’s hostels and employee hostel or old age citizen hostel. The hostel rooms are arranged and decorated by the housekeeper. The housekeeper cleans room, washrooms and common room. The housekeeper arranges bed, changes broadsheets, clean furniture, floor and remove different types of trashes.

Housekeeping job requirements in hostel
The housekeeper must have at least high school diploma, relevant experience and skills of cleaning. The employee must have experience in the field of cooking, washing, laundry and can move heavy objects like bed. He must be available in both shifts like morning and evening as well as weekends or holidays if required. Housekeeper in hostel also registers guests, attend phone calls and note messages.

Housekeeping Job Responsibilities in Hospital
In the United Kingdom hospitals are world class, equipped with all modern facilities and services. The housekeeper jobs are hired by the hospital management for the cleaning, arrangement and decoration of the rooms, lobby, waiting area and other necessary parts. The housekeeper changes bed sheets, curtains and pillows. The employee of this job cleans the floor, washrooms and vacuum carpets. Moreover, housekeepers also remove all trashes from the dustbins and other collecting points. Housekeeper always sprays different types of antiseptic on floors, washrooms and other living areas to control the diseases and infections.

Housekeeping job requirements in hospital
The hospital of the United Kingdom induct housekeeper having at least high school diploma with relevant experience. He must be aware about health and sanitation requirements in hospital rooms and waiting areas. The physical fitness is necessary for this job because it takes hours to complete. 

How to apply housekeeper job in the United Kingdom
The housekeeper jobs are published in leading English newspapers as well as online websites. Hotels and hospitals also announce these jobs in their own websites. There are two common ways to apply for these vacant positions. The common and simple way is through online application by using the provided application format. The online application format requires the personal details of the applicant. However, after filling out online application form the applicant submit it online. The other traditional method is through postal or courier application. The courier application requires hard copies of documents.

The UK work permit procedure
Once the United Kingdom employer selects the overseas housekeeper on merit than he has to arrange work permit for that particular employee. Initially the UK employer advertises this job in newspapers and online websites. If there is no suitable candidate appears for this job, then he gets permission from the labor ministry to induct oversea worker. The labor ministry after confirmation issues the permission for that. The employer then issue the job offer letter or sponsor letter. The employer dispatch the permission letter from authorities and job offer letter or sponsor letter to newly selected employee overseas. The employee then filled out work permit application form and attaches all concerned documents with this application and submits in the UK visa application centre of his home country. The visa officer thoroughly checks these provided documents and then make a decision about the work permits. The UK work permits requirements.
1. Valid job offer or sponsor letter from the UK employer and it should be by named.
2. Authority letter from the labor ministry to hire overseas worker.
3. Valid passport of the applicant and other traveling documents.
4. Attested copies of all concerned documents.
5. Visa processing fee receipt.



from Shadi Online https://ift.tt/36AYPyO

صرف 30 منٹ میں گردے کی پتھری کی تشخیص کرنے والا ٹیسٹ

اسٹینفورڈ: دو امریکی جامعات نے گردے میں پتھری کا ایک نیا ٹیسٹ وضع کیا ہے جس کے تحت پیشاب کے ذریعے بہت حد تک درستگی سے گردے میں پتھری کا انکشاف کیا جاسکتا ہے۔

پینسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی اور اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے گردوں میں پتھری کی شناخت کرنے والا ایک نیا قابلِ بھروسہ ٹیسٹ وضع کیا ہے اور اسے SLIPS-LAB کا نام دیا گیا ہے۔ پیشاب کے ذریعے کیا جانے والا یہ ٹیسٹ صرف آدھے گھنٹے میں نتائج فراہم کرتا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت گردوں میں پتھری کے جو مروجہ ٹیسٹ کئے جاتےہیں ان میں سات سے دس دن لگتےہیں۔ دوسری جانب یہ عمل بہت کم خرچ اور آسان بھی ہے۔ توقع ہے کہ جلد ہی یہ ٹیسٹ دنیا بھر میں عام دستیاب ہوگا اور اس سے دیگر بیماریوں کے مؤثر ٹیسٹ کی راہیں بھی کھلیں گی۔

ہم جانتے ہیں بعض نمکیات اور معدنیات گردے میں جمع ہوتی رہتی ہیں اور کئی اقسام کی پتھریوں کی تشکیل کرتی رہتی ہیں۔ اگر یہ پتھری پیشاب کی نالی میں پھنس جائے تو شدید تکلیف کی وجہ بنتی ہیں بلکہ بعض پتھریاں گردوں کو مکمل طور پر ناکارہ بھی کرسکتی ہیں۔ فی الحال پتھری کی شناخت کے لیے پیشاب میں خاص طرح کے کیمیکلز اور میٹابولائٹس شناخت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس میں بہت وقت صرف ہوتا ہے۔

بسا اوقات مریض کی پیشاب کے 24 گھنٹے میں جمع ہونے والے نمونے جمع کئے جاتےہیں اور ان کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور تصدیق میں سات سے دس روز لگتے ہیں۔ لیکن نئے ٹیسٹ  کے لیے ماہرین نے کیڑے مکوڑے راغب کرنے والے صراحی نما پودے یعنی پچر پلانٹ سے سبق لیا ہے۔ اس پودے کی اندرونی سطح پھسلن والی ہوتی ہے جس میں پھسل کر کیڑا اندر جاگرتا ہے۔

اسی بنا پر ماہرین نے  نے ’سلپری انفیوزڈ پورس سرفیس یعنی SLIPS-LAB نامی ایک آلہ تیار کیا ہے جس کی ہموار سطح پر پیشاب کے قطرے گویا تیرتے رہتے ہیں اور ان میں درست وقت میں کیمیکل ملتے جاتے ہیں جن کی بدولت پتھری کی شناخت ممکن ہوجاتی ہے۔

اس ٹیسٹ کے لیے کسی ماہر کی ضرورت نہیں رہتی اور پیشاب کا نمونہ ازخود مختلف کیمیکل سے ملتا رہتا ہے اور اسے مریض کے گھر، سڑک یا دفتر میں بھی انجام دیا جاسکتا ہے۔ ٹیسٹ کے نتائج اسمارٹ فون کا اسکینر سے بھی لیے جاسکتے ہیں جبکہ نتیجہ آدھے گھنٹے میں سامنے آجاتا ہے۔

The post صرف 30 منٹ میں گردے کی پتھری کی تشخیص کرنے والا ٹیسٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2B5VFYp

Monday, 25 May 2020

صرف 8 ہفتے سبزیاں اور پھل کھائیے اور دل توانارکھئے

بوسٹن: ایک نئے مطالعے (اسٹڈی) سے معلوم ہوا ہے کہ اگر کوئی بھی فرد صرف دو ماہ یا آٹھ ہفتے تک پھل اور سبزیوں کا تناسب بڑھادے تو اس کے دل پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتےہیں۔

اس نئے مطالعے کی تفصیلات اینلز آف انٹرنل میڈیسن میں شائع ہوئی ہے جس میں شرکا کو تین اقسام کی کی غذائیں کھلائی گئی تھیں۔ ان میں اول، ڈی اے ایس ایچ (ڈائٹری اپروچس ٹو اسٹاپ ہائپرٹیشن)، عام مغربی کھانے اور تیسرے گروہ کو پھل اور سبزیوں کی بہتات دی گئی تھی۔ سروے میں غذا اور دل کے باہمی تعلق پر غور کرنا تھا اور حیرت انگیز طور پر پھل اور سبزیاں دل کے لیے بہت مفید ثابت ہوئیں اور یہ مقابلہ جیت لیا۔

خلاصہ یہ ہے کہ آٹھ ہفتے تک پھل اور سبزیاں کھانے سے دل کو تقویت ملتی ہے اوراس کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ ڈی اے ایس ایچ غذا کو بلڈ پریشر بڑھنے سے روکنے کےلیے وضع کیا ہے جس کی تیاری میں دنیا کے بہترین ماہرین نے اپنا اپنا حصہ شامل کیا ہے۔

یہ تحقیق بوسٹن میں واقع بیتھ اسرائیل ڈیکونیس میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹر اسٹیفن جیوراشیک کی نگرانی میں کی گئی ہے جس میں تین اقسام کی غذاؤں کا موازنہ کیا گیا ہے۔ تجربے میں 326 افراد شامل تھے جنہیں تین گروہوں میں تقسیم کرکے الگ الگ غذائیں دی گئی تھیں۔ شرکا کی اوسط عمر 45 سال کے لگ بھگ تھی۔

پورے8 ہفتے کےدوران خون میں تین اقسام کے بایومارکرز کو نوٹ کیا گیا جو صحتِ قلب کو ظاہر کرتے ہیں اور شریک افراد دل کے کسی بھی عارضے کے شکار نہ تھے۔  غذا شروع کرانے سے قبل تمام شرکا کو 12 گھنٹے کا فاقہ کرایا گیا تھا۔ ماہرین نے خون میں ٹروپونِن آئی، این ٹرمینل پرو بی ٹائپ نیٹری یوریٹک پیپٹائڈ اور قدرے حساس سی ری ایکٹوو پروٹین کا جائزہ لیا تھا۔

آخری میں نتیجہ برآمد ہوا کہ پھل اور سبزیوں والی غذائیں ہر طرح سے دل کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں، تاہم اس مطالعے میں  شامل افراد کی تعداد بہت کم تھی۔ اگلے مرحلے میں بڑے پیمانے پر غذائی سروے کیا جائے گا۔

The post صرف 8 ہفتے سبزیاں اور پھل کھائیے اور دل توانارکھئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2X4QfFH

لال تربوز کی شناخت کے آسان طریقے

کراچی: اکثراوقات آپ تربوز خریدتے وقت اس کے ٹکڑے کو دیکھ کر اس کے میٹھے ہونے کا اندازہ لگاتے ہوں گے لیکن اس کے باوجود بھی تربوز جب پھیکا نکل آئے تو پھر مزہ کرکرا ہوجاتا ہے لیکن آپ کی اس مشکل کو حل کرنے کے لیے پکے ہوئے لال اور میٹھے تربوز کی شناخت کے آسان طریقے بتائے جارہے ہیں۔

تربوز کا باقاعدہ استعمال آپ کی جلد کو خوبصورت اور روشن بناتا ہے لیکن ان سب سے بڑھ کر اس کا ذائقہ اسی وقت بھاتا ہے جب تربوز میٹھا اور پکا ہوا ہو۔

1: یکساں گولائی اور ہموار پھل

خیال رہے کہ تربوز ہموار اور یکساں گولائی کے ساتھ ہو اور اس پر کوئی خاص نشان، کٹ کا نشان اور کہیں سے بھنچا ہوا نہ ہو۔ ان نشانات اور غیرہموار سطح کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ نمو کے دوران تربوز کو اچھی طرح سورج کی روشنی نہیں ملی ہے جس کا مطلب ہے کہ پھل مکمل طور پر پکا ہوا نہیں۔ ان نشانات کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تربوز کو کاشت کے دوران پانی کی اچھی مقدار نہیں مل سکی ہے۔

2: وزن معلوم کریں

تربوز کو ہاتھ میں اٹھا کر ضرور دیکھیں اور تسلی کریں کہ اس کا وزن اس کی جسامت سے زیادہ ہونا چاہیے۔ اس کے لیے آپ عین اسی جسامت کے دوسرے تربوز سے بھی موازنہ کرسکتے ہیں۔ اب جو تربوز بھاری ہوگا وہی میٹھا اور تیار ہوگا۔ اسی اصول کو دوسرے پھلوں کے لیے بھی آزمایا جاسکتا ہے۔

3: پیلا دھبہ تلاش کریں

تربوز زمین پر رکھے ہوتے ہیں اور وہیں پکتے ہیں لیکن جو حصہ زمین کو چھوتا ہے وہ ہلکا یا بہت گہرا پیلا ہوسکتا ہے اسے فیلڈ اسپاٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اس جگہ دھوپ نہ پہنچنے سے یہ حصہ مکمل طور پر تو سبز نہیں ہوتا لیکن ہلکا اور گہرا پیلا ضرور ہوجاتا ہے۔ اسی لیے یہ دھبہ جتنا گہرا ہوگا پھل اتنا ہی میٹھا ہوگا۔

4: رنگ کی شناخت

تربوز کی رنگت گہرے لیکن کم چمکیلی یعنی بھدی ہونی چاہیے۔ اسے میٹھے پھل کی ایک اور نشانی سمجھنا چاہیے۔

The post لال تربوز کی شناخت کے آسان طریقے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2A49JB5

Saturday, 23 May 2020

کووڈ 19 سے شفایاب افراد کا پلازما دیگر مریضوں کے مفید قرار

 نیویارک: صحت مند مریضوں کے پلازما کو وائرس سے متاثرہ افراد میں منتقل کرنے کا طریقہ اگرچہ لگ بھگ سو سال پرانا ہے لیکن ایک چھوٹے مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ طریقہ کورونا وائرس کے علاج کے لیے بھی مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔

نیویارک کے مشہور ماؤنٹ سینائی ہسپتال نے طبی تحقیقی مقالوں کے ایک ڈیٹا بیس پر کسی ماہر کے رائے سے پہلے ہی ایک تحقیقی مقالہ پوسٹ کیا ہے جس میں اس تجربے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

ماہرین نے کورونا وائرس سے پھیلنے والے بیماری سے شفایاب ہونے والے افراد کا پلازما 39 مریضوں کو لگایا اور دیگر 39 مریض ایسے بھی تھے جن کے جسم میں پلازما نہیں دیا گیا تھا۔ اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ جتنی جلدی صحتمند شخص کا پلازما کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کو دیا جائے اتنا ہی فائدہ ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کا مرکزی خلاصہ یہ ہے کہ صحتیاب افراد کا پلازما اگر کسی مریض کو لگایا جائے تو اس کے زندہ رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ مطالعہ چھوٹا سا ہے لیکن اس سے انکشاف ہوا ہے کہ جن مریضوں کو پلازما دیا گیا ان کی 18 فیصد تعداد کی طبیعت بگڑ گئی جبکہ جنہیں پلازما نہیں دیا گیا ان کی 24 فیصد تعداد مزید بیمار ہوئی۔

پلازما کے عطیے کے 16 دن بعد 13 فیصد مریض فوت ہوئے لیکن جنہیں پلازما نہیں لگایا گیا ان کی 24 فیصد تعداد لقمہ اجل بن گئی۔ اسی طرح پلازما لینے والے 72 فیصد مریض ہسپتال سے فارغ ہوگئے جبکہ پلازما سے محروم 67 فیصد ہی مریض ہی تندرست ہوکر اپنے گھروں کو لوٹ سکے۔

اس طرح یہ بات سامنے آئی کہ اگر کووڈ 19 مرض سے متاثرہ افراد کا پلازما اس کے مریضوں کو لگایا جائے تو ہسپتال سے شفایاب ہونے کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے اور اموات کی تعداد بھی کم ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ یہ طریقہ ’’انفعالی امنیت‘‘ (پیسیو امیونائزیشن) کہلاتا ہے۔ کورونا وائرس سے شدید متاثرہ افراد کے علاج میں یہی طریقہ فروری میں چین میں محدود طور پر آزمایا گیا تھا جس میں کامیابی کی شرح 80 فیصد نوٹ کی گئی تھی۔

چند ہفتے قبل سے پاکستان میں بھی اسی طریقے پر کورونا متاثرین کا علاج شروع کیا جاچکا ہے اور اس سلسلے میں کورونا وائرس سے متاثر ہو کر صحتیاب ہوجانے والے افراد سے درخواست کی جارہی ہے کہ وہ اپنا خون عطیہ کریں تاکہ اس سے پلازما الگ کرکے شدید متاثرہ مریضوں کے علاج میں مدد لی جاسکے۔

The post کووڈ 19 سے شفایاب افراد کا پلازما دیگر مریضوں کے مفید قرار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2WWx3JU

Friday, 22 May 2020

کلوروکوائن اورہائیڈروکسی کلوروکوائن کی دوبارہ طبی آزمائش شروع

 لندن: کلوروکوائن اور ہائیڈروکسی کلوروکوائن کا نام کورونا وائرس کے تناظر میں بار بار سننے کو ملا ہے اور اس کا استعمال متنازعہ ہونے کے باوجود لگ بھگ 40 ہزار ایسے افراد یہ دوائیں دی جائیں گی جو ڈاکٹر اور طبی عملے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ کورونا کے شکار مریضوں کا علاج کررہے ہیں۔

کلوروکوائن اور ہائیڈروکسی کلوروکوائن لگ بھگ 70 برس سے ملیریا کے خلاف ایک مؤثر دوا کے طور پراستعمال ہوتی رہی ہے لیکن کورونا وائرس کے تناظر میں اس کی متنازعہ حیثیت دوبارہ سامنے آئی ہے۔ اب بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس دوا کو کورونا وائرس سے لاحق ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے خلاف مؤثر سمجھ رہے ہیں حالانکہ ممتاز سائنسداں اور ڈاکٹر اس کے منفی اثرات سے خبردار کرتے رہے ہیں۔

لیکن یہ دوائیں اب برطانوی شہر برائٹن اور آکسفورڈ میں ہسپتالوں کے طبی عملے کو حفاظتی نقطہ نظر سے کھلائی جائیں گی اور دیگر عملے کو فرضی دوا کا پلے سیبو دی جائے گی۔ پورے مطالعے میں برطانیہ بھر کے 25 ہسپتال شامل ہیں اور سال کے آخر تک دونوں دواؤں کی آزمائش جاری رہے گی۔

مطالعے کے سربراہان میں سے ایک پروفیسر نکولس وائٹ کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں معلوم کہ آیا کلوروکوائن اور ہائیڈروکسی کلوروکوائن کا استعمال کووڈ 19 کے معالجے اور روک تھام میں مفید ہے یا مضر لیکن اس دوہرے ان دیکھے (ڈبل بلائنڈ) مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آجائے گی۔ اس میں نہ ہی عملے اور نہ ہی دوا کھانے والے کو یہ معلوم ہوگا کہ اسے دو دوائیں دی گئیں یا فرضی ٹیبلٹ کھلائی جاری ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر دونوں ادویہ کووڈ 19 روکنے میں کسی طرح کا کوئی کردار سامنے آتا ہے تو یہ بہت بہتر ہوگا کیونکہ برطانوی ماہرین کے مطابق کورونا روکنے کے لیے ویکسین ابھی بہت دور ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ کے ساتھ ساتھ تھائی لینڈ میں بھی کلوروکوائن اور ہائیڈروکسی کلوروکوائن کی آزمائش کی جائے گی۔

The post کلوروکوائن اورہائیڈروکسی کلوروکوائن کی دوبارہ طبی آزمائش شروع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3cWUkAZ

Thursday, 21 May 2020

سائیکل چلائیے، بیماریاں بھگائیے اور طویل عمر پائیے

 لندن: سائیکل چلانا ایک بہترین ورزش ہے اور اب معلوم ہوا ہے کہ اس کی عادت آپ کی زندگی کی طوالت میں اضافہ کرسکتی ہے۔

برطانیہ میں مردم شماری اور دیگر اقسام کے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ اگر کار چلانے کے کی عادت کو کچھ کم کرکے معمول کے تحت سائیکل چلائی جائے تو اس سے دیگر کے مقابلے میں قبل ازوقت موت کو 20 فیصد تک دور کیا جاسکتا ہے۔

اس ضمن میں برطانوی ماہرین نے گزشتہ 25 برس کا ڈیٹا لیا ہے اور اس کا مطالعہ کیا ہے۔ اس میں لاکھوں افراد کی صحتمندانہ سرگرمیوں کو بھی نوٹ کیا ہے۔ اس میں کار کے ذریعے سفر کرنے اور پیدل چلنے، عوامی ٹرانسپورٹ یا پھر سائیکل چلانے اور اموات کے درمیان تعلق نوٹ کیا گیا ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ باقاعدہ طور پر سائیکل چلانے سے کینسر اور دل کے امراض کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ پھر کووڈ 19 کے لاک ڈاؤن کے تناظر میں بھی ماہرین نے سائیکل سواری پر زور دیا ہے۔ اس مطالعے میں شامل تمام ماہرین اور ڈاکٹروں نے سائیکل چلانے پر زور دیا ہے۔

یہ تحقیق امپیریل کالج اور جامعہ کیمبرج نے مشترکہ طور پر کی ہے جس میں 1991 سے لے کر 2016 تک برطانیہ اور ویلز کے تین لاکھ افراد کا ڈیٹا پڑھا گیا ہے۔ اعدادوشمار کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی کہ کار چلانے والوں کے مقابلے میں جو لوگ سائیکل چلاتے ہیں ان میں قبل ازوقت موت کا خطرہ 20 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح دل کے امراض کا خدشہ بھی 24 فیصد تک کم دیکھا گیا اور کینسر سے مرنے کی شرح 16 فیصد کم دیکھی گئی ہے۔ یہ تمام فرق سائیکل چلانے یا پیدل چلنے کی اہمیت کو ثابت کرتے ہیں۔

اب اگرکو پیدل چلنے کی عادت ہے تو ایسا نہ کرنے والوں کے مقابلے میں کینسر کی شرح میں سات فیصد اور دل کے امراض سے مرنے کی شرح میں 20 فیصد کمی واقع ہوسکتی ہے۔

اس سے قبل 2017 میں جامعہ گلاسگو نے 263,000 افراد کا جائزہ لیا تھا اور کہا تھا کہ سائیکل چلانا بہت ہی مفید ہے اور اس کی باقاعدہ عادت کینسر اور امراضِ قلب کو دور رکھتی ہے۔

اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ مصروف شہری زندگی میں سائیکل چلانے کی عادت اپنا کر بہت سے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

The post سائیکل چلائیے، بیماریاں بھگائیے اور طویل عمر پائیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3e6sYbY

Wednesday, 20 May 2020

شوکت خانم ہسپتال : صحت کے اداروں کیلئے ایک روشن مثال

ایک وقت تھا جب پاکستان میں ایسا ہسپتال بنانے کا خیال جہاں کینسر کے علاج کی جدید ترین سہولیات ہر فرد کے لیے بلا امتیاز دستیاب ہوںلوگوں کو ایک ناممکن بات لگتی تھی لیکن پاکستانی عوام کے تعاون اور عمران خان کی لگن سے پاکستان کا پہلا کینسر ہسپتال بن بھی گیا اور یہاں گزشتہ پچیس سالوں سے 75فیصد سے زائد مریضوں کا مفت علاج بھی ہو رہا ہے جس پر اب تک 46ارب روپے سے زائد کی رقم خرچ کی جاچکی ہے۔

شوکت خانم ہسپتال نے 29دسمبر 1994کو اپنے دروازے مریضوں کے لیے کھولے تھے اور اس وقت سے آج تک خدمت کا یہ سفر کبھی نہیں رکا بلکہ وقت کے ساتھ اور لوگ بھی اس مشن کا حصہ بنتے گئے۔ یہ سلسلہ آگے بڑھا اور مارچ 2011 میں پشاور میں دوسرے شوکت خانم ہسپتال بنیاد رکھی گئی جو 29دسمبر 2015 کو پایہ تکمیل تک پہنچا۔ تیسرا شوکت خانم ہسپتال کراچی میں بننے جا رہا ہے جبکہ لاہور کے ہسپتال میں کلینکل ٹاور کی تعمیر بھی رواں برس شروع کرنے کا ارادہ ہے جس سے اس ہسپتا ل کی گنجائش تقریباً دوگنا ہو جائے گی۔

پچھتر فیصد سے زائد مستحق مریضوں کو کینسر کا مفت علاج فراہم کرنے کی مثال دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی

اس ہسپتال نے ملک بھر میں کینسر کے مریضوں کا دنیا کی بہترین سہولیات تو فراہم کی ہی ہیں اس کے ساتھ  جب بھی وطن ِ عزیز پر کوئی مشکل وقت آیا چاہے وہ زلزلہ یا سیلاب جیسی قدرتی آفات آئی ہوں یا پھر ڈینگی جیسی وباء ہو ، شوکت خانم ہسپتال نے قوم کی خدمت میں حتی المقدوراپناحصہ ڈالا ہے ۔ بد قسمتی سے اس وقت پھرہمارا ملک کرونا وائرس کی وجہ سے ایک مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔چنانچہ وقت کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے شوکت خانم ہسپتال اس سا ل کرونا وائرس اور کینسر جیسے دو محاذوں پر مصروف عمل ہے ۔  اس وقت یہاں وہ تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں جو کہ کرونا وائرس کے مہلک اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

ان اقدامات میں لاہور کے ہسپتال میںکرونا وائرس کے مریضوں کو ابتدائی سکریننگ اور ٹیسٹ کی مفت فراہمی کے لیے  تمام ضروری سہولتوں سے آراستہ  کیمپ کووڈکا قیام، چارمیں سے تین اِن پیشنٹ یونٹس(In-patient) کو کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے مختص کرنا، اوروینٹی لیٹرز سے لیس35 بیڈز کے انتہائی نگہداشت یونٹ(ICU)  کا قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ تمام میڈیکل اور پیرامیڈیکل سٹاف کی ٹریننگ کے ساتھ ساتھ عوام الناس اور خصوصاً شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے افراد میںآگاہی پھیلانے کے لئے میڈیا کیمپین بھی جاری ہے۔ شوکت خانم ہسپتال، لاہور گورنمنٹ کے نامزد کردہ ان چند ہسپتالوں میں سے ایک ہے جو کرونا وائرس کے مفت ٹیسٹ کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

شوکت خانم ہسپتال لاہور میں کرونا وائرس کی سکریننگ اور ٹیسٹنگ کے لیے ہنگامی بنیادو ں پر کیمپ کووڈ قائم کیا گیا جہاں تمام سہولیات کی فراہمی بلا معاوضہ کی جا رہی ہے۔

ہسپتال کی جانب سے 600سے زائد کرونا ٹیسٹ بلا معاوضہ فراہم کیے گئے ہیں۔

گزشتہ 25سالوں کے دوران ہسپتال کے آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ میں 20لاکھ سے زائد مریضوں کو خدمات فراہم کی گئیں جبکہ یہاں کیمو تھراپی ، ریڈی ایشن اور سرجری کے تقریباً 16لاکھ پروسیجرز کیے گئے۔ کینسر کے تمام مریضوںکو تشخیص و علاج کی بین الا قوامی معیار کی سہولیات فراہم کرنا ہمیشہ اس ہسپتال کی پہلی ترجیح رہی اور ان سہولیات کے معیار پرکبھی سمجھوتہ نہیں کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ شوکت خانم ہسپتال کے قیام سے پاکستان میں کینسر کے علاج کی سہولیات میں انقلابی تبدیلیاں آئیں ۔ یہاں مریضوں کے علا ج کے لیے وہ جدید ترین آلات اور ٹیکنالوجی موجودہے جو کسی بھی بین الاقوامی ہسپتال میں ہونی چاہیے۔

اپنی کارکردگی کی بدولت یہ اب ایک ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے جوعلاج کے ساتھ تحقیق اور تربیت کے میدان میں بھی نمایاں خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ درجنوں اونکالوجسٹس اور فیزیسٹس یہاں سے ٹریننگ حاصل کر کے پاکستان اور دیگر ممالک میں کینسر کے علاج کے حوالے سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ پہلا فلاحی ہسپتال ہے جہاں ریڈی ایشن ٹیکنالوجی کی ٹریننگ دی جاتی ہے جس سے اس فیلڈ سے وابستہ بہت سارے افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ یہاں کے ریڈیالوجی ، پتھالوجی ، انٹرنل میڈیسن ،  انستھیزیا ، جنرل سرجری اور دیگر ٹریننگ پروگرام کالج آف فیزشنز اینڈ سرجنز پاکستان سے منظور شدہ ہیں ۔

شوکت خانم ہسپتال میں اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا اور جدید کلنیکل اور ریڈی ایشن اونکالوجی ڈپارٹمنٹ کام کر رہا ہے

اگرچہ شوکت خانم ہسپتال کینسر کے مریضوں کے لئے بنایا گیا ہے تاہم اس ہسپتال میں ایڈز ،HIV ، ہپاٹاٹیس اور ٹی بی جیسی موذی بیماریوں کی نہ صرف تشخیص بلکہ علاج کی بھی مکمل سہولیات موجود ہیں۔ ہسپتال نے عوام کی سہولت کے لیے تقریباً سارے پاکستان میں اپنے لیبارٹری کولیکشن سنٹرز کھول رکھے ہیں جہاں ان کو اپنے گھر سے قریب ہی جدید ترین ٹیکنالوجی اور طریقہ کار کے تحت تمام امراض کی تشخیص کے مستند نتائج فراہم کیے جاتے ہیں پھران سنٹرز سے حاصل ہونے والی آمدنی کینسر کے مریضوں کے مفت علاج پر خرچ کی جاتی ہے۔

شوکت خانم ہسپتال میں مریضوں کو دی جانے والی اعلیٰ معیار کی سہولیات کے پیش نظر اس ہسپتال کی خدمات کو نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی سراہا گیا اور طبی میدان میںاسی بہترین کارکردگی کی بدولت اعلیٰ ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ۔ شوکت خانم میموریل ٹرسٹ پاکستان کا واحد ادارہ ہے جس کے دونوں ہسپتالوں کو جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل سے ایکریڈیٹیشن حاصل ہے ۔

ہسپتال کی جانب سے طبی عملے کی راہنمائی کے لیے خاص طور پرتربیتی وڈیوزبنا کر آن لائن فراہم کی گئیںتا کہ وہ خود کووائرس کے پھیلاؤسے محفوظ رکھ سکیں۔

بعض افراد کو یہ شکایت بھی ہوتی ہے کہ ہسپتال میں ان کے مریض کو داخلہ نہیں ملا۔ شوکت خانم ہسپتال کی جانب سے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ یہاں آنے والے تمام مریضوں کا علاج کیا جائے لیکن ہسپتال کے محدود وسائل کے پیش ِ نظر ایساممکن نہیں ہے ۔ان شکایات کی دوسری وجہ کینسر کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والا اضافہ بھی ہے ۔ پاکستان میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ سے زائد کینسر کے نئے کیسز سامنے آتے ہیں اور اتنی بڑی تعداد کو اکیلا شوکت خانم ہسپتال علاج کی سہولیات فراہم نہیں کرسکتا جبکہ ہر مریض کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا علاج شوکت خانم ہسپتال سے ہی ہو لہٰذا ضرورت ہے کہ پاکستان میں کینسر کے مزید ہسپتال بنائے جائیں۔

اس ہسپتال کو بنانے اور چلانے میں جہاں پاکستان میں موجود لوگوں نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیا وہیں دنیا بھر میں پھیلے اوور سیز پاکستانیوں کی خدمات بھی نا قابل ِ فراموش ہیں ۔ شوکت خانم ٹرسٹ نے دیگر ممالک جیسے دوبئی ، یورپ، کینیڈا ، امریکا، آسٹریلیا اور جاپان میں اپنے دفاتر کھول لیے ہیں تا کہ وہاں پر پاکستانی عوام اور دیگر لوگوں کو چندہ دینے میں کوئی دشواری نہ ہواور وہاں کے لوگ بھی نہ صرف ہسپتال کی کارکردگی سے آگاہ رہ سکیں بلکہ اپنے طور پر ہسپتال کے لیے آسانی سے کام بھی کر سکیں۔

لاہور اور پشاور کے بعد کراچی ہسپتال کے تعمیراتی کاموں کی تیاری مکمل ہو چکی ہے اور رواں سال ہی پاکستان کے اس سب سے بڑے ہسپتال کی تعمیر شروع ہوجائے گی۔

شوکت خانم ہسپتال اپنے قیام سے اب تک زیادہ سے زیادہ مریضوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور لاہور کے بعد پشاور کا ہسپتا ل اسی جذبے کا مظہر ہے جبکہ کراچی میں تیسرے ہسپتال کے منصوبے پر بھی جلد کام شروع ہونے والا ہے ۔سال 2020کے لیے ہسپتال کا بجٹ 17ارب روپے ہے اورموجودہ صورتحال کے پیشِ نظر ہسپتال کو آمدنی فراہم کرنے والی خدمات بھی محدود کی جا چکی ہیں تا کہ ان خدمات پرمامور تربیت یافتہ عملے اور وسائل کو کرونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال میں بروئے کار لایاجاسکے۔

اس صورتحال میں آج ہسپتال کو پہلے سے بھی زیادہ زکوٰۃ و عطیات کی صورت میںعوام کی مدد کی ضرورت ہے تا کہ یہاںنہ صرف مستحق کینسر کے مریضوں کو علاج کی سہولیات ملتی رہیں بلکہ کرونا وائرس کے مریضوں کو انتہائی نگہداشت کی سہولیات فراہم کرنے کے اس بہت بڑے چیلنج سے بھی نبرد آزماہوا جا سکے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہسپتال پاکستانی عوام نے بنایا تھا، عوام ہی چلا رہے ہیں اور آئندہ بھی نہ صرف چلتا رہے گا بلکہ مزید ہسپتال بھی بنتے جائیںگے ۔انشاء اللہ یہ ہسپتال اپنے سپورٹرز، بہی خواہوں، مخیر حضرات اور سٹاف کے بے لوث جذبے کی بدولت دکھی انسانیت کی خدمت کے اس مشن کو جاری و ساری رکھے گا۔

The post شوکت خانم ہسپتال : صحت کے اداروں کیلئے ایک روشن مثال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/36iucxY

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن:  چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا م...