Monday, 31 August 2020

قیلولہ کیجیے لیکن ایک گھنٹے سے کم، ماہرین کا مشورہ

بیجنگ: چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ قیلولہ کرتے ہیں تو بہتر ہے کہ اس کا دورانیہ ایک گھنٹے سے کم رکھیے ورنہ یہ مفید ہونے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ دوپہر میں کھانے کے بعد کچھ دیر سستانے یعنی قیلولہ کرنے کے فوائد آج سائنسی طور پر ثابت شدہ ہیں لیکن یہ معاملہ ابھی تک طے نہیں ہو پایا ہے کہ کتنی دیر کا قیلولہ مناسب ہے۔ ایک تحقیق کہتی ہے کہ صرف دس منٹ کا قیلولہ کافی ہے تو دوسری تحقیق دو گھنٹے قیلولہ کرنے کے حق میں ہے۔

یہ بحث حل کرنے کےلیے چینی سائنسدانوں نے گزشتہ چند عشروں کے دوران قیلولہ سے متعلق کیے گئے 20 مطالعات کا نئے سرے سے جائزِہ لیا جن میں تین لاکھ سے زائد افراد شریک تھے؛ اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جن لوگوں نے ایک گھنٹے روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت کےلیے قیلولہ کرنے کو اپنا معمول بنایا ہوا تھا، انہیں دل کی بیماری ہونے کا امکان ایسے لوگوں کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ تھا جو ایک گھنٹے سے کم قیلولہ کرتے تھے؛ جبکہ کسی بھی جان لیوا کیفیت میں ان کے مبتلا ہونے کا امکان 30 فیصد تک زیادہ دیکھا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک گھنٹے سے زیادہ قیلولہ کرنا ہی دل کی بیماریوں یا کسی دوسری جان لیوا کیفیت کی وجہ ہے، تاہم ان دونوں میں گہرا تعلق ضرور ثابت ہوگیا ہے۔

علاوہ ازیں، یہ بھی معلوم ہوا کہ 30 سے 45 منٹ تک قیلولہ کرنا سب سے محفوظ حکمتِ عملی ہے جسے اپنا کر آپ اپنی صحت کو معمول پر رکھ سکتے ہیں۔

اسی تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ رات کے وقت چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند نہیں لیتے اور دن میں اونگھتے رہتے ہیں، ان کےلیے امراضِ قلب کے خطرات بہت زیادہ ہیں۔ ماہرین نے اس کیفیت کو ’’نیند کا قرض‘‘ کا عنوان دیا ہے۔

فی الحال یہ تحقیق کسی ریسرچ جرنل میں شائع نہیں ہوئی ہے البتہ ’’یوروپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی‘‘ کی سالانہ کانگریس برائے 2020 کے ایک سیشن میں ضرور پیش کی جاچکی ہے۔

The post قیلولہ کیجیے لیکن ایک گھنٹے سے کم، ماہرین کا مشورہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3lBwjV3

بلڈ پریشر کی دوائیں کورونا وائرس بچانے میں مفید

لندن: برطانیہ میں کورونا وائرس کے تقریباً 29 ہزار مریضوں پر کیے گئے ایک مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کنٹرول کرنے والی بعض دوائیں مریضوں کی جان بچانے میں مفید ہیں۔ دواؤں کی یہ اقسام ’’ایس انہیبیٹر‘‘ اور ’’اے آر بیز‘‘ کے طبّی ناموں سے پہچانی جاتی ہیں۔

یہ تحقیق برطانیہ کی یونیورسٹی آف نورفوک، نوروِچ یونیورسٹی ہاسپٹل اور یونیورسٹی آف ایسٹ اینجلیا کے ماہرین نے مشترکہ طور پر انجام دی ہے۔

کورونا وبا کی ابتداء میں بعض تحقیقات سے یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ ہائی بلڈ پریشر اور امراضِ قلب میں خون پتلا کرنے اور رگوں کو نرم کرنے کےلیے دی جانے والی مذکورہ دوائیں نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

اس خیال کی صداقت کرنے کےلیے ان تینوں جامعات کے ماہرین نے گزشتہ چند ماہ کے دوران کیے گئے 19 مطالعات کا ایک بار پھر جائزہ لیا، جو مجموعی طور پر ایسے 28872 مریضوں پر کیے گئے تھے جو کورونا وائرس کے باعث مختلف اسپتالوں میں داخل کیے گئے تھے۔

ان میں سے 25 فیصد مریض پہلے ہی دل کی کسی بیماری یا ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا تھے۔ توقعات کے برعکس، انہیں معلوم ہوا کہ ایس انہیبیٹر اور اے آر بیز نے ان مریضوں کو نقصان پہنچانے کے بجائے فائدہ پہنچایا اور ان کی جانیں بچائیں۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’کرنٹ ایتھیروکلیروسس رپورٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں اس حوالے سے شائع شدہ تحقیق میں ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ امراضِ قلب اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض اگر کورونا وائرس کا شکار ہوجاتے ہیں تو وہ اپنی دوائیں معمول کے مطابق جاری رکھ سکتے ہیں، کیونکہ یہ دوائیں اضافی طور پر کورونا وائرس کی شدت کم کرنے میں بھی ان کی مددگار رہیں گی۔

The post بلڈ پریشر کی دوائیں کورونا وائرس بچانے میں مفید appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2G9ZpdP

Saturday, 29 August 2020

دوائی کے بغیر مخصوص طریقہ علاج سے ایڈز کے مریض شفایاب

ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لاعلاج سمجھے جانے والے مرض ایڈز میں ایک مخصوص طریقہ علاج کے ناقابل یقین نتائج سامنے آئے ہیں جس میں مریض کو دوائیں بھی دینا نہیں پڑتیں۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ  کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والی 66 سالہ خاتون لورین ویلن برگ میں 1992 میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تھی جو اب بغیر کسی دوا یا بون میرو ٹرانسپلانٹ کے صحت یاب ہوگئی ہیں۔

تحقیق کی سربراہی کرنے والے ساؤ پاؤلو یونیورسٹی کے ڈاکٹر ریکارڈو ڈیاز نے اپنی تحقیق میں لکھا کہ اس طریقہ علاج میں وائرس کو جگانے اور مدافعتی نظام کو بڑھانے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ وہ ایک وار میں ہی چھپے ہوئے وائرس کا خاتمہ کردے۔

ڈاکٹر ریکارڈو نے مزید لکھا کہ نکوٹینمائیڈ متاثرہ خلیات میں وائرس سے لڑنے کے ساتھ ساتھ انہیں تباہ کرنے پر مجبور کرتی ہے اور دوسری طرف مدافعتی نظام کو بھی متحرک کرتی ہے جس سے مریض ایچ آئی وی سے لڑنے کے قابل ہوجاتا ہے۔

لورین ویلن برگ کی صحت یابی میں بھی کسی دوا یا دیگر طریقہ علاج کے بجائے ان کے اپنے قوت مدافعت کے بیدار و مضبوط ہونے کا ہاتھ ہے۔ لورین سمیت 64 مریضوں پر یہ تحقیق ریگن انسٹیٹوٹ میں کی گئی۔

لورین کے سوا باقی 63 افراد کے نظام مدافعت نے قدرتی طور پر اپنے ایچ آئی وی کو کنٹرول تو کرلیا لیکن وہ اس کی نقول نہیں بناسکا جب کہ لورین کے کیس میں وائرس کی نقول بھی بن گئیں۔ ان سے قبل بھی 2007 میں 2 افراد ٹموتھی براؤن اور ایڈ کاسٹیلجو کو ایچ آئی وی سے مکمل صحتیاب قرار دیا جاچکا ہے۔

تحقیق کے سربراہ نے اس طریقہ کار کے نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اگر یہ نیا تجرباتی طریقہ علاج دیگر مریضوں میں بھی کام کر گیا تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

The post دوائی کے بغیر مخصوص طریقہ علاج سے ایڈز کے مریض شفایاب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3b7O9Kk

50 سال سے کم عمر افراد میں بڑی آنتوں کے کینسر میں تشویشناک حد تک اضافہ

اٹلانٹا: حال ہی میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا میں 50 سال تک کی عمر کے افراد میں بڑی آنتوں اور ریکٹم کے کینسر میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

تحقیقی ادارے امریکن کینسر سوسائٹی کے مقالے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 50 سال سے کم عمر افراد میں کولن یعنی بڑی آنت اور ریکٹم کے کینسر میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے تاہم 65 سال سے زائد عمر کے افراد میں اس کینسر کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

محققین کم عمری میں آنتوں اور ریکٹم کے کینسر میں اضافے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے مزید ریسرچ میں مصروف ہیں لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جن افراد میں آنتوں اور ریکٹم کے کینسر میں اضافہ ہوا ان میں ایک قدر مشترک ہے یعنی موٹاپا۔

تحقیق کے دوران محققین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ امریکا میں 2017 میں آنتوں اور ریکٹم کے کینسر سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 52 ہزار 547 تھی اور ان میں زیادہ تر کی عمریں 70 سال سے زائد تھی تاہم جوان اور ادھیڑ عمر افراد اس سے محفوظ تھے۔

محققین کے مطابق 2000 کے بعد جو لوگ امریکا میں آنتوں اور ریکٹم کے کینسر میں مبتلا ہوئے ان کی عمریں زیادہ سے زیادہ 66 سل تک تھی تاہم اب تازہ ترین اعداد و شمار میں یکھنے میں آیا ہے کہ 50 سال کی عمر تک کے افراد زیادہ اس کینسر میں مبتلا ہوئے ہیں۔

امریکی محققین کا کہنا ہے کہ حیران کن طور پر اور 2017 کے برعکس 50 سال سے زائد عمر والے افراد اس موزی کینسر سے محفوظ رہے ہیں۔ محض تین سال میں اتنی بڑی تبدیلی پریشان کن ہے۔

ماہرین اس تحقیق کو کینسر جیسے موزی مرض کے خلاف ریسرچ کے لیے اہم مواد تصور کرتے ہوئے پُر امید ہیں کہ طبی سائنس بہت جلد کینسر سے مکمل طور پر نبرد آزما ہونے کے قابل ہوجائے گی۔

 

The post 50 سال سے کم عمر افراد میں بڑی آنتوں کے کینسر میں تشویشناک حد تک اضافہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3jqT3Fe

Friday, 28 August 2020

Rainbow PUSH Coalition/Peachtree Street Project Town Hall Meeting

I enjoyed taking part in the virtual Town Hall Meeting titled “Help Prevent the Spread of Coronavirus COVID-19.” The hour-long session, held on August 24, 2020, was convened by the Rainbow PUSH Coalition/Peachtree Street Project. Participants included the Reverend Jesse Jackson, Sr., president and founder, Rainbow PUSH Coalition; Leon McDougle (pictured, right), president, National Medical Association, and associate dean for Diversity and Inclusion, The Ohio State University Wexner Medical Center, Columbus; and Debra Furr-Holden, associate dean for Public Health Integration, Michigan State University, Flint. The Rainbow Coalition is a multi-racial, multi-issue organization with offices throughout the U.S. The Atlanta-based Peachtree Street Project is an office of the Rainbow Coalition and conducts research and education activities to advance public understanding of equal opportunity in the southeastern U.S.

Post Link

Rainbow PUSH Coalition/Peachtree Street Project Town Hall Meeting

NIH Blog Post Date



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/2EJfZAI

صرف 10 منٹ میں ہارٹ اٹیک کی تصدیق کرنا والا ٹیسٹ

تل ابیب: دل کے دورے کی جانچ کے لیے اب تک جو ٹیسٹ مؤثر ترین ہے اس میں خون کے اندر خاص قسم کے پروٹین ٹروپونن کی مقدار کو دیکھا جاتا ہے۔ لیکن اس میں بہت وقت ( ایک سے چار گھنٹے) لگتا ہے۔ لیکن اب فوری طور پر صرف لعاب دہن کے ٹیسٹ سے دل کے دورے کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔

اس انوکھے ٹیسٹ کی تفصیلات یورپی سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی کانفرنس میں پیش کی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لعاب کے ٹیسٹ کی بدولت صرف 10 منٹ میں نتائج سامنے آجاتے ہیں۔ اس کے لیے مریض کو صرف ٹیسٹ ٹیوب میں اپنا لعاب دہن دینا ہوگا اور فوری نتیجہ سامنے آجائے گا۔

اسرائیل میں واقع سوروکا یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹر روئے ویسٹرخ اور ان کے ساتھیوں نے یہ ٹیسٹ وضع کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ٹیسٹ اسپتال لے جانے سے قبل گھر میں بھی کرنا ممکن ہوگا جیسے سینے میں درد یا دیگر ابتدائی علامات کے بعد انجام دیا جاسکتا ہے۔

دل کے دورے فوری توجہ چاہتے ہیں کیونکہ اس میں خون کی بند شریانوں میں خون کی رسائی فراہم کرنا ہوتی ہے یا پھر ای سی جی کے بعد دل کو بحال رکھنے کے کئی طریقے اپنانے ہوتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ دل کے دورے میں دل کے پٹھے متاثر ہوتے ہی ایک خاص پروٹین ’ٹروپونِن‘ خارج کرتے ہیں۔ لیکن خون میں اس کی تشخیص میں خاصا وقت لگ جاتا ہے۔

اس کے لیے  ڈاکٹر روئے ویسٹرخ اور ان کے ساتھیوں نے پہلے تھوک میں اس پروٹین کو جاننے کی کوشش کی لیکن اس کی پروسیسنگ کے لیے خاص طریقہ کار کی ضرورت تھی جس پر محنت کی گئی۔

بعد ازاں ، ابتدائی تجربے میں 32 ایسے مریضوں کو لیا گیا جن کا خون میں ٹروپوننِ مثبت تھا یعنی انہیں دل کا دورہ پڑچکا تھا۔ اسی کے ساتھ 13 مکمل صحتمند افراد کو بھی شامل کیا گیا۔ تمام افراد کو اپنا لعاب دہن کا نمونہ دینے کو کہا گیا ۔ اب نصف نمونوں کو پروسیس کیا گیا اور بقیہ آدھے کو قدرتی حالت میں ہی رہنے دیا گیا۔

اس کےبعد پروسیس اور غیرپروسیس نمونوں میں ٹروپونِن کو تلاش کیا گیا۔ پھران کا موازنہ خون کے ٹیسٹ کے ذریعے بھی کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ پروسیس شدہ نمونوں کی 84 فیصد درستگی سے ٹروپونن موجود تھا۔ اس طرح تھوک کے ٹیسٹ کی افادیت 100 میں سے 84 فیصد تک سامنے آئی ہے جو ایک غیرمعمولی بات ہے۔

اگلے مرحلے میں اس ٹیسٹ کو مزید کئی افراد پر آزمایا جائے گا تاکہ اس افادیت کا اندازہ کیا جاسکے۔ توقع ہے کہ اگلے چند برس میں یہ باقاعدہ کمرشل ٹٰیسٹ کی جگہ لے سکے گا اور اس سے کئی افراد کی جان بچانا ممکن ہوگا۔

The post صرف 10 منٹ میں ہارٹ اٹیک کی تصدیق کرنا والا ٹیسٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3b3wJ1H

Thursday, 27 August 2020

Farm Worker Jobs in Canada

Farm Worker Jobs:-

Canada is a developed country of the North America continent. Canada got fame because of immigrant’s induction from all parts of the world. Canada is the prime destination of the world’s immigrants because of its soft immigration policies. Canada hires and inducts skilled and qualified workers from all countries of the world to overcome skilled workers shortage. Canada welcomes and encourages the qualified employees for its different needs. This country requires workers for its industries and farm or agricultural activities. In Canada, there are thousands of farm houses and land owners those need skilled farm workers. The farm workers job are based on skills, experience and expertise, but it does not demand any specific education. Canada farm worker jobs advertised in leading French and English newspapers. Similarly, these jobs are also announced in jobs advertising websites. However, the farm workers from overseas need valid work visa for that. The farm works visa is also known as Level C or D visas. Canadian occupation list indicate this farm works as general farm worker, harvesting employee, agricultural harvest labor, pet groomers and animal care workers.

Canada Farm Workers Responsibilities

Canada farm workers or employees are hired from the foreign countries for specific tasks or assignments. These farm workers job are usually advertised for limited period or one season. However, some landowners or farm house owner induct farm workers for long-term. Canada farm workers perform different types of duties in the farm works just like they cultivate different crops. Similarly, watered crops and gardens, ready farm machinery, disperse fertilizers, spray different types of insecticides and herbicides. Moreover, the farm workers also perform some other tasks like clean stables, barns and clean workplaces. Farm workers ready the field or soil for the new vegetables, crops or plants. There are many other non listed works which are done by these farm workers like loading, unloading farming and hay forming. Besides these there are numbers of tasks which are done by the farm workers round the clock. The farm worker at farm house coordinates with other individuals like supervisors, managers and employer.

Canada farm workers play vital role in the agricultural and farming activities in this part of the world. The farm workers plant different types of tress according to the plan and strategy of the employer. However, prior to plantation the farm worker prepare land for that plantation and after that watered the plants through drains. The farm workers also cultivate different types of crops and then irrigate according to schedule. The farm worker also provides feed to livestock and poultry. These workers also milking the cows, goats, etc. The farm worker or employees ready the farm machinery and related equipment. Farm employees also sort out and identify different types of disease and health issues in plants, crops and farm animals including poultry. These employees also maintain the suitable temperature in barns, pens and chicken coops. Farm employees also ready the products for marketing.

Canada Farm Workers Qualification and Skills

Canada farm employees are hired on the basis of their skills, experience and expertise. However, there is no need for any kind of specific qualification or certification. It is compulsory for the farm workers that they must have solid skills of farming or harvesting. The farm worker must understand the mechanism of plantation, cultivation and irrigation methods. Canada farm worker must have the skills of driving and operating other devices and equipment. The farm workers always have a schedule about watering, cultivation, harvesting, storing and preparation of soil for agricultural activities. The physical fitness is necessary in this job along with other farming or agricultural skills. The fitness and stamina are the basic requirement of this job. The main criterion for the inducting of the farm workers from overseas is strong physique because the worker works round the clock and most of the time on feet. The farm works demand dedication from the farm house workers and without this thrill it is difficult. The farm worker usually work outdoors and do their activities through modern machines and equipment. 

Canada Farm Worker Visa Procedure

Canada is a vast country and it inducts skilled and qualified workers from other countries. Canada has unique position due to immigrants and it offers fantastic job opportunities. The farm worker jobs are published in the leading newspapers and online websites. The job advertisers or owner of the farm houses invite application on their postal address or email. The employees from other region of the world contact or send their application along with covering letter or supporting documents. Canadian employer check the received application and documents and then select the more suitable candidate for his farm work. The farm works job does not need any certification or diploma, but general awareness about the work. The overseas worker is hired by the employer through legal procedure. The valid works permit is required for this job and that is arranged by the employer.

Canadian employer initially applies for the positive Labor Market Impact Assessment (LMIA). This authority confirms from the labor market that whether any native is available for this advertised job or not. In case there is no suitable candidate for this job, then they issue the positive LMIA report. The employer after this positive report issues the job offer letter or sponsor letter for the newly appointed overseas employee. The farm works visa requires IMM 1295 Form along other supporting documents. The positive LMIA report, job offer letter and other related documents are submitted by the overseas employee in Canadian embassy of his own country. The application also needs visa processing fee receipt attached with this application. The applicant of this visa secure interview appointment from the visa officer and after interview the visa is issued for limited period. The farm works visa is usually for one season or for during the labor shortage to fulfill the requirement of the agricultural activities. 

Canada Farm Worker Visa Requirements

Canada farm worker visa is necessary document that is required to enter in this country on the temporary basis. This work visa needs few basic documents like job offer letter or sponsor letter from the employer. The Labor Market Impact Assessment (LMIA) positive report is another vital document for this work permits. It is also vital for the employee that he must be equipped with all basic skills of farming and agricultural activities. The farm works job in this part of the world are based on physical fitness, stamina and mental alertness of the candidate. That is why the applicant must be in good health condition and active. Besides these official documents and necessary skills there are few basic or fundamental requirements for this work permit.

1. Sponsor letter from Canadian employer and it should be verified from all other relevant authorities.

2. The Labor Market Impact Assessment report about overseas employee appointment.

3. The passport of the applicant must be valid and its validity should be more than six months. Similarly, other traveling documents must be valid.

4. Color pictures of the farm work visa applicant.

5. Copies of all supporting documents or experience letters from the ex-employer.

5. Medical fitness certificate from the nominated hospital or clinic. 

6. Police security clearance certificate from the applicant belonging country. 



from Shadi Online https://ift.tt/2EKE8qg

Wednesday, 26 August 2020

ہر باورچی خانہ، ایک شفاخانہ بھی ہے!

کیا آپ جانتے ہیں کہ بہت سے امراض کا علاج آپ کے گھر میں ہی موجود ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہےکہ شفا کے ان خزانوں کا درست ادراک اور استعمال کیا جائے تو پہلے ہلدی سے شروع کرتے ہیں۔

جوڑوں کا درد اور ہلدی

ہلدی پر تحقیق برق رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے اور اب اسے سپر فوڈ کہا جارہا ہے۔ اس میں شامل اہم مادہ سرکیومن دل، آنتوں، امنیاتی نظام اور دیگر اعضا کو بہتر بناتا ہے۔ یہ کینسر روکنے اور بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

لیکن اس کے استعمال سے پہلے یاد رہے کہ اگر ہلدی میں کالی مرچیں اور کچھ چکنائی ڈال کر استعمال کی جائے تو اس سے سرکیومن کی بدن میں جذب ہونے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ بصورتِ دیگر سرکیومن کی بڑی مقدار ضائع ہوجاتی ہے۔

ہلدی جوڑوں کے درد اورجلن کو کم کرتی ہے اور ہڈیوں کے درد کو بھی رفع کرتی ہے۔ اپنے سوزش کم کرنے والے اجزا کی وجہ سے باقاعدہ لوگ اسے اپنی خوراک کا حصہ بنارہے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہلدی کا باقاعدہ استعمال الزائیمر اور دیگر دماغی امراض سے بھی بچاتا ہے۔

السراور الائچی

الائچی سینکڑوں سال سے اپنے ذائقے اور تاثیرکی وجہ سے استعمال ہورہی ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ الائچی معدے کی صحت برقرار رکھنے اور السر کو ختم کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوئی ہے۔

الائچی کے بیجوں کا تیل اور اس کے چھلکے میں بھی کئی ادویاتی اجزا موجود ہیں۔ لیکن اب جدید سائنس بتاتی ہے کہ الائچی میں جسمانی اندرونی سوزش کم کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت موجود ہے اور اس سے ایچ پائیلوری جیسے بیکٹیریا کو ختم کرنے میں بہت مدد ملتی ہے جو السر کی وجہ بنتے ہیں۔

اجوائن اورسرطان

اجوائن کو تازہ اور خشک کرکے استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس میں ایپی گینائن نامی ایک طاقتور مرکب موجود ہے جو ڈی این اے کی ٹوٹ پھوٹ کو کم  کرکے کینسر سے بچاتا ہے۔

اجوائن میں وٹامن کے کی بڑی مقدار کے ساتھ ساتھ وٹامن اے، بی اور سی اور فولاد کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ یہ پیٹ کی گرانی کم کرتی ہے اور گردوں کے افعال کو بہتر بناتی ہے۔

بلڈ پریشر اور جقندر

چقندر میں موجود قیمتی نائٹرئٹس جسم میں نائٹرک آکسائیڈ بناتے ہیں اور خون کی شریانوں کو وسیع کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

ایک سال قبل اسکنڈے نیویا ممالک میں لاکھوں افراد پر ایک سروے کیا گیا تھا جس میں دیکھا گیا کہ صرف ایک کپ چقندر کا رس روزانہ پینے سے ایک ہفتے میں بلڈ پریشر معمول پرآنے لگا۔ اس میں موجود نائٹریٹ صرف دس منٹ بھی ہی دل کے پٹھوں کو مضبوط کرتے ہوئے بھی دیکھے گئے ۔

اس طرح ہم چقندر کو دل کا محافظ کہہ سکتے ہیں۔

سبز چائے اور صحتمند مسوڑھے

سبز چائے ایک حیرت انگیز ٹانک ہے جو وزن گھٹاتی ہے۔ لیکن سبز چائے دانتوں میں خلا، منہ کی بدبو دور کرنے اور مسوڑھوں کو صحتمند رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

بعض طبیب ٹھنڈی سبز چائے کو بہترین ماؤتھ واش قرار دیتے ہیں۔ یہ منہ میں بدبو اور سڑاند پیدا کرنے والے بیکٹٰریا کا قلع قمع کرتی ہےاور مسوڑھوں کی سوزش کو کم کرتی ہے۔ یہاں تک کہ مہنگے ماؤتھ واش بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

لیکن سبز چائے کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔ ایک جانب تو یہ بلڈ پریشر قابو میں رکھتی ہے تو دوسری جانب دل کو طاقت پہنچاتی ہے۔

لہسن دل کا دوست

لہسن خون کو پتلا کرنے میں لاثانی ہے۔ یہ دل کی دیواروں کو بھی مضبوط رکھتا ہے اور بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں بہت مددگار ہوتا ہے۔

اس ضمن میں کئ سائنسی تحقیقات ہوچکی ہیں اور لہسن کے فوائد سامنے آچکے ہیں۔ اس میں ایک اہم مرکب ایلیسن ہے جو دل اور خون کے نظام کے لیے بہت مفید ہے۔ یہ خون پتلا کرنے میں بھی لاجواب ہے۔

لہسن باقاعدہ کھانے سے جاڑے کی لپیٹ میں آنے کا خظرہ 70 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ ماہرین نے حال ہی میں لہسن میں اینٹی بایوٹک اجزا بھی دریافت کئے ہیں جو آنتوں اور معدے کے امراض کے ذمے دار جراثیم کو چن چن کر مارتے ہیں۔

The post ہر باورچی خانہ، ایک شفاخانہ بھی ہے! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Qr32hh

ہسٹیریا؛ اسباب ، علامات اور علاج

ہسٹیریا کی اصطلاح ایک یونانی لفظ ہسٹیریا (Hysteria) سے لی گئی ہے جس کے معنی رحم کے ہیں۔ پہلے کے زمانے میں اسے رحم کی بیماری سمجھا جاتا تھا لیکن یہ بیماری ایسی عورتوں میں پائی جاتی ہے جن کے رحم پیدائشی طور پر نہ ہوں۔

بعض مردوں کو بھی یہ بیماری لاحق ہوتی ہے۔ اس لیے اب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اس بیماری کی وجہ رحم نہیں ہے البتہ یہ صحیح ہے کہ اگر اس مرض کے ساتھ رحم کی بیماریاں بھی شامل ہوجائیں تو اس کی شدت زیادہ ہو جاتی ہے۔ اور کچھ لوگ اس کو خواتین کے غیر شادی شدہ ہونے سے جوڑتے ہیں اور کہیں تو اسے جن بھوت اور آسیب کا سایہ تک کہہ کر علاج بھی نہیں کروایا جاتا۔

جدید میڈیکل سائنس ان سب باتوں کی نفی کرتی ہے بلکہ ہسٹیریا لفظ اب میڈیکل کی زبان میں استعمال نہیں ہوتا اور اس بیماری کو Conversion Disorder کہتے ہیں۔

سب سے پہلے یہ غلط فہمی دور ہونی چاہیے کہ اس کا تعلق عورت کے رحم سے ہے۔ اس کا عورت کے رحم سے کوئی تعلق نہیں ۔ اب یہ بیماری نہ صرف عورتوں بلکہ مردوں اور ٹین ایج بچوں میں بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ ہمارے ملک میں چونکہ نفسیاتی بیماریاں عموماً خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہیں اس لیے اس بیماری کا شکار بھی زیادہ تر خواتین ہی ہوتی ہیں۔

ہسٹیریا ایک اعصابی بیماری ہے جو اعصابی کمزوری کی حالت میں جذباتی ہیجان یا کسی فوری تحریک سے لاحق ہوتی ہے اور اپنے ساتھ بے شمار بیماریوں کی علامتیں رکھتی ہے۔ اس مرض کا رجحان والدین سے بچوں میں بھی ہو سکتا ہے یہی نہیں بلکہ اعصابی لحاظ سے کمزوریاں یا بڑی بہن کی دیکھا دیکھی بھی یہ بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔

انسان کے ذہن میں کاپی کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے اسی لیے یہ کسی ایسی بیماری کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے جو اس مریض نے کبھی دیکھ رکھی ہو۔ اکثر لوگ مرگی اور کنورژن ڈس آرڈر کو ایک ہی بیماری سمجھتے ہیں۔

میڈیکل کی زبان میں ذہنی امراض کی ایک کیٹاگری کو Somatization کہتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ آپ کی ذہنی کشیدگی اور اسٹریس جسمانی بیماری کی صورت میں ظاہر ہو۔عام طور پر اس مرض میں مبتلا مریض ذہنی دباؤ یا کسی پریشانی کا شکار ہوتا ہے اس کا ذہن نہ حالات کو قبول کرتا ہے اور نہ ہی اس صورتحال سے بچنے کا کوئی راستہ ہوتا ہے۔ ایسے میں کوئی واقعہ یا کوئی اچانک جذباتی دھچکا اس بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ نروس سسٹم یا جسمانی اعضا میں کوئی خرابی نہیں ہوتی اس کی وجہ ذہنی اور جسمانی دباؤ ہوتا ہے اور علاج بھی اس کا یہی ہے کہ مریض کو اس ذہنی دباؤ سے نکالا جائے۔

مریض کسی ایسی ذہنی اذیت یا تکلیف دہ صورتحال سے گزر رہا ہوتا ہے جس کو برداشت کرنے کی صلاحیت اس کے اعصاب میں نہیں ہوتی اور یہ ذہنی کشیدگی جسمانی بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ بیماری ہر مریض میں مختلف انداز سے ظاہر ہوتی ہے کچھ لوگوں کو جھٹکے لگتے ہیں اور کسی مریض کا اچانک کوئی بھی جسمانی اعضا کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، کسی کی اچانک بینائی چلی جاتی ہے تو کسی کا جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں لوگ پیروں فقیروں کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ جن کا سایہ ہے، کوئی کہتا ہے بھوت آگیا ہے لیکن دراصل یہ بیماری ہے اور اس کا علاج صرف اور صرف ڈاکٹر کے پاس ہی ہے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اداکاری کر رہا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہوتا دراصل اس حالت میں مریض بے بس ہوتا ہے اور ایسے مریض کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

روز مرہ معمول کیجو لوگ ہمارے اردگرد ہوتے ہیں ان کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے:

کچھ بچوں کے والدین کا ان پر پریشر ہوتا ہے کہ اسکول میں پوزیشن لینی ہے۔ سب سے زیادہ نمبر آئیں دوسرے بچے کے نمبر تم سے زیادہ کیسے آئے وغیرہ وغیرہ۔ دوسری طرف استاد کی سزا کا خوف ہوتا ہے ایک طرف ماں باپ نے اس کی پوزیشن کو موت زندگی کا مسئلہ بنایا ہوتا ہے۔ دوسری طرف استاد کی سزا کا خوف اور امتحان میں ناکامی کی وجہ سے وہ اس ذہنی بیماری میں جگہ ڈھونڈتا ہے اور یہ سب کچھ وہ لاشعوری طور پر کرتا ہے۔

خواتین جن کی شادی نہ ہوئی ہو یا شادی ہوگئی بچے نہیں ہیں تو ہمارے معاشرے میں اس صورت حال میں جو لوگوں کے رویے ہوتے ہیں اس سے بچنے کے لیے اور ہمارا معاشرہ ایک صحت مند انسان کو بیمار بنا دیتا ہے۔ اگر مریض خود اور مریض کے گھر والے اس مرض کو اچھی طرح سمجھ لیں تو علاج کا مرحلہ آسان ہو جاتا ہے۔

علامات

ہسٹیریا کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کی علامتیں متعدد اور غیر واضح ہوتی ہیں پھر اس پر بے شمار دوسری بیماریوں کا دھوکہ ہوتا ہے عام طور پر یہ بیماری حسب ذیل تین صورتوں میں سے کوئی ایک صورت اختیار کرتی ہے۔

1 ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حلق میں گولہ سا اٹھ رہا ہے یا گلا گھٹنے کا احساس ۔

2 ۔ تشخیصی صورت: جس میں باؤ گولہ کے ساتھ چیخیں نکلتی ہیں اور ناقابل ضبط رونا یا ہنسی اور تشنج لاحق ہوتا ہے۔

3 ۔ وہ بے قاعدہ صورتیں جو شدید دردوں کے درمیانی وقفے میں پیدا ہوتی ہیں۔ عام طور پر پیشاب کے اخراج میں بہت تفاوت ہوتا ہے جو بعض اوقات تھوڑا آتا ہے، کبھی بہت زیادہ آتا ہے۔

عام طور پر مریضہ اپنے آپ کو دل یا رحم وغیرہ کی کسی شدید بیماری میں مبتلا سمجھتی ہے لیکن یہ خیال صرف وہم ہوتا ہے کیونکہ درد اور احساسات جن کی شکایت مریضہ کرتی ہے خالص اعصابی نوعیت کے ہوتے ہیں۔

امدادی ذرائع: دل و دماغ کو کام میں لگائے رکھنا، ہمدردی کا اظہار کرنے والے افراد سے دور رہنا، شاور باتھ لینا، نیم گرم پانی استعمال کرنا، محرک اشیا سے پرہیز۔ یہ خیال دور کرلینا چاہیے کہ ہسٹیریا کی کمزوری سے بچنے کے لیے روزانہ شراب کا استعمال مفید ہے۔ اس کی وجہ سے بیماری کی بدترین علامتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ دیر سے سونا اور دیر سے جاگنا اور عام زندگی بسر کرنے کی مصنوعی عادتیں بالکل چھوڑ دینی چاہئیں۔ غذا، آرام، مطالعہ، تفریح، ورزش اور مختلف جسمانی افعال پر خاص طور پر توجہ دینی چاہیے۔

احتیاطی تدابیر

دورہ کے وقت مریضہ کے کپڑے خصوصاً وہ کپڑے جو گردن اور سینہ کے گرد ہوں ڈھیلے کردینے چاہئیں اور زیادہ سے زیادہ تازہ ہوا مہیا کرنی چاہیے۔ سانس روکنے کے لیے ناک اور منہ چند سیکنڈ کے لیے پکڑ کر رکھنا چاہیے یا ٹھنڈے پانی کو اس کے چہرے پر انڈیل دینا چاہیے۔ ان ترکیبوں سے جو عارضی کمی واقع ہوتی ہے وہ طویل حملوں کے لیے بے حد مفید ہوتی ہے۔ مریضہ کو ایک لمبا سانس دلانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ لمبے سانس کے بعد تشنج عام طور پر کم ہو جاتا ہے اور دورہ ختم ہو جاتا ہے۔

دوروں کے درمیان وقفوں میں باقاعدہ ورزش کرنی چاہیے اور خوشگوار ماحول میں رہنا اور دماغ کو اچھے کاموں میں لگانا چاہیے۔

ہومیوپیتھک علاج

درد کے درمیانی عرصوں میں استعمال کرنے کے لیے اگنیشیا، پلسٹلا، سیمی سی فیوگا۔

روزمرہ کی دوا بے ہوشی کے دورے میں ماسکس3۔ دورے کی حالت میں ہر 15 منٹ کے بعد دہی۔

شدید دورہ کی حالت میں کمیفرQ۔ ایک قدرہ فی خوراک تھوڑے سی شہد پر ڈال کر ہر پانچ دس منٹ کے بعد کھلائیں۔

مستقل علاج کی دوائیں

چوٹی کی دوا اگنیشیا

2۔ایسافوئیڈا

3۔ماسکس

4۔ٹرنٹولا ہسپانیکا

5۔ پلاٹینا

6۔نکس وامیکا

7۔جلیسیم

8۔کالن فاس

اگنیشیا 30 ۔ غم کے اثرات کی وجہ سے ہسٹیریا کا شروع ہوجانا۔ لہٰذا اس دوا کی سب سے بڑی علامت لمبی لمبی (ٹھنڈی یا گرم سانسیں) یا آہیں سمجھ لیجیے۔ جو دورہ کے ختم ہونے پر عام طور پر واقع ہوتی ہیں۔ گلے میں ہوا کے گولے کا پھنس جانا اس دوا میں اور ایسافوئیڈا میں پایا جاتا ہے۔ مریضہ کبھی ہنستی اور کبھی روتی ہے۔

2۔ایسافوئیڈا30: اس دوا کی سب سے بڑی علامت گلے میں گولے کا پھنسنا ہے لہٰذا مریض متواتر گولے کو نگلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس علامت کے ساتھ پیٹ میں بہت ریح ہوتی ہے جو اوپر کو زور کرتی ہے۔

3۔ماسکس: بے ہوشی کے ہسٹیریائی دورہ کے پڑنے کی خاص دوا۔ پیشاب کا زیادہ آنا۔

4۔ ٹرنٹولا ہسپانیکا30: اس کا مریض ہر وقت حرکت میں رہتا ہے۔ بے چینی، بے آرام

5۔ پلاٹینا30: مغرور عورتیں جو دوسروں کو حقیر جانیں۔

6۔نکس موسکیٹا30: ہر وقت غنودگی کا احساس منہ بہت زیادہ خشک اور پیاس کا نہ ہونا۔

7۔جلیسیم: ہر وقت پیشاب کی خواہش۔

8۔پلسٹیلا: حیض بند ہونے کے وقت ذرا سی تسلی سے رونا۔ خوبصورت، موٹاپا

9۔کال فاس: بایو کیمک کی ہسٹیریا کی نمبر ون دوا کسی دوا کی واضح علامات نہ ملے تو دینا چاہیے۔

تمام دوائیں ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔

(نوٹ)

یہ مرض عام طور پر شہری نفیس مزاج اور امرا گھرانے کی عورتوں کا خاص مرض ہے اور چونکہ یہ عصبی مرض ہے اس لیے دوا کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ مریضہ جذباتی واقعات مثلاً خوف، غم، غصہ وغیرہ سے دوچار نہ ہو۔

The post ہسٹیریا؛ اسباب ، علامات اور علاج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2EvRtD9

ڈپریشن، 65 فیصد پاکستانی شکار

ڈپریشن، اداسی اور مایوسی تینوں مختلف کیفیات ہیں۔انہیں ایک ہی کیفیت کے مختلف نام سمجھنا غلطی ہے۔کچھ کیفیات ملتی جلتی ضرور ہوتی ہیں۔ہمارے ملک میں ڈپریشن زیادہ تر خواتین اور بچوں کو ہوتا ہے،جبکہ اداسی اور مایوسی کاروباری اشخاص کو زیادہ ہوتی ہیں۔

پاکستان میں ڈپریشن 65 فیصد اشخاص کو گھیرے ہوئے ہے، کیمیاوی جائزہ لیا جائے تو ڈپریشن چند محرکات (ہارمونز) کے عدم توازن سے ہوتا ہے ۔کبھی کچھ حالات و واقعات کے ردِعمل کے طور پر یہ عدم توازن واقع ہوتا ہے۔ منفی سوچیں ڈپریشن کا باعث بنتی ہیں جبکہ مایوسی اور اداسی اُس وقت لاحق ہوتی ہیں جب کوئی شخص اپنے مستقبل وغیرہ کو گرتے دیکھ رہا ہو اور اس کا حل اِسے نہ مل رہا ہو۔ دنیا میں ہر مسئلے کا حل رب تعالیٰ نے فرمایا ہے اور مایوسی کو کفر کا نام دیا ہے۔

ڈپریشن کا حل اچھی بات چیت سے نکل آتا ہے، لیکن اداسی اور مایوسی کا مکمل حل تب ہی نکلتا ہے جب اس مسئلے سے نمٹنے کا راستہ دریافت ہوجائے ۔

ڈپریشن کے اسباب:

1۔ احساس کمتری اکثر اشخاص کو ڈپریشن میں مبتلا کر دیتی ہے، بعض لوگوں نے کچھ دوسرے، احباب یا کوئی خیالی شخصیت سوچی ہوتی ہے۔ جب وہ اپنے آپ کو اس کیفیت تک لانے میں ناکام سمجھتے ہیں تو ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہر شخص ایک انفرادی حیثیت رکھتا ہے ، اس لیے اسے اپنی شخصیت میں نکھار لانے کی سعی کرنی چاہیے نہ کہ کسی کی شخصیت میں اپنے کو ڈھالنے کی۔

2۔ کچھ افراد کی یہ کیفیت موروثی ہوتی ہے۔

3۔ بعض لوگوں کو بچپن سے ڈرتے رہنے کا ماحول ملا ہوتا ہے۔ یہ بچے بالغ ہونے پر بھی ڈرتے ڈرتے ڈپریشن کا مریض ہو جاتے ہیں۔

4۔ اگر دماغ کا سامنے والا حصّہ سست ہو، تب بھی یہ عارضہ لاحق ہوجاتا ہے۔

5۔ معدے کی خرابی سے جب بدبو دار ریاح دماغ کی جانب چڑھتی ہیں ، تب بھی کچھ وقت کے لیے ڈپریشن میں مبتلا کردیتی ہے۔

6۔ آکسیجن کی کمی سے دماغی نظام منتشر ہوجاتا ہے ، اسی وقت پیاس لگتی ہے ساتھ ہی اس عارضے کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

7۔ شور وغل کے ماحول میں پرورش پانے والے بچے اس مرض سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔

8۔ نیند کی کمی ڈپریشن میں اس لیے مبتلا کرتی ہے کہ ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے۔

9۔ بعض افراد کی کچھ خواہشیں پوری نہیں ہوپاتیں ، وہ اس مغالطے میں پڑ جاتے ہیں کہ قدرت نے ان سے نا انصافی کی،حالانکہ اگر وہ اپنے اس معاملے میں کی گئی سعی پر نظر ڈالیں تو ڈپریشن میں مبتلا نہ ہوں۔

10۔ اگر کسی کو کھلے ماحول سے روک کر بند ماحول کی طرف کردیا جائے تو وہ ضرور دماغی مریض ہو کررہے گا خواہ ذمہ دار خود ہی ہو، (ارسطو)۔

علامات مردوں میں:

1۔ ذراسی بات پر غصّہ ،بے چین رہنا، چیزوں کو توڑنا۔

2۔ ناامید رہنا،خالی بیٹھے رہنا، معدے کا خراب رہنا۔

3۔ پسندیدہ کاموں سے اجتناب ، کسی کام میں دلچسپی نہ لینا ،جلدی تھک جانا۔

4۔ خودکشی کی ترکیب سوچنا۔

5۔ حافظے کا کمزور ہونا، دھیان بٹا رہنا۔

6۔ دن کو سونا ،بہت سونا یا بالکل نہ سونا۔

7۔ سردرد ، تھکاوٹ ،سستی، چڑچڑاپن۔

علامات خواتین میں:

1۔ غصّہ اکثر بچوں پر سختی کرنا ۔

2۔ وزن بڑھنا، سر میں بوجھل پن، جلد کا پیلا ہونا۔

3۔ رات میں سانس کا ایک دم رکنا پھر ٹھیک ہوجانا۔

4۔ دم گھٹنا، رات آنے لگے تو وحشت ناک ہونا۔

5۔دل چسپی کا فقدان، تنہائی پسندی، چڑچڑاپن۔

6۔ حافظے کی کمزوری، نیند کی کمی، کچھ کو نیند زیادہ آتی ہے۔

7۔ آواز میں تبدیلی، جلد تھک جانا۔

8۔ دل کی دھڑکن میں تبدیلی محسوس ہونا، درد ِ سر اور چکر۔

علامات بچوں میں:

1۔ غصّہ ،چڑچڑا رہنا، ذرا سی بات یا مذاق پر رونا۔

2۔ اداس رہنا، سوچنا کہ میں کچھ نہیں کرسکتا۔

3۔ تنہائی پسندی، سکول جانے سے ڈرنا، خودکشی کا سوچنا۔

4۔ حافظے کی کمزوری، نیندکے وقت کا بگڑنا، ضدی پن۔

5۔ وزن بڑھنا، توانائی کی کمی اور سستی، تھکاوٹ، ریح کا زیادہ ہونا۔

6۔ دھیان اور توجہ کی کمی، منفی سوچیں۔

7۔ جلد کا نرم ہونا، زبان میں سفید دھبے، نہار منہ یہ دھبے با آسانی دکھتے ہیں۔

ہم ڈپریشن سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

1۔ بچوں پر ڈانٹ ڈپٹ سے پرہیز کریں۔

2۔ امتحان میں نا کامی ہو جائے تو بچوں کو امید دلائیں ،حوصلہ دیں،کیونکہ ایسی حالت میں اپنا نفس بھی ملامت کرتا ہے، حوصلہ شکنی یا ڈانٹ ڈپٹ سے ڈپریشن لاحق ہوتا ہے۔

3۔ گھر میں زیادہ دیر رہنے سے پرہیز کریں، سبز گھاس پر چلیں۔

4۔ کسی کام کو ذہن پر سوار نہ ہونے دیں، نیند کا بہت خیال رکھیں۔

5۔ مقوی دماغ میو ہ جات علی الخصوص پستہ استعمال کریں۔

6۔ ’’میڈی ٹیشن‘‘ کے ذریعے تھکاوٹ دور کریں۔

7۔ خواتین جلدی اس عارضے میں مبتلا ہوتی ہیں کیونکہ ان کا مزاج نازک ہوتا ہے، لہذا درگزر سے کام لیں۔

8۔ جب کسی کو کھوئے کھوئے دماغ میں پائیں تو اس کا دھیان اس کی پسندیدہ چیزوں کی طرف مائل کرنے کی کوشش کریں۔

طبی علاج:

اسگندھ، تخم کونچ، گھوکھروخورد کا سفوف ہمراہ پانی یا دودھ۔

ایلوپیتھی علاج:

’’سپروٹنن ری اپ ٹیک ‘‘ کرنے والی ادویہ کے ساتھ ’’جنکوبائی لوباایکس ٹریکٹ‘‘

The post ڈپریشن، 65 فیصد پاکستانی شکار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/32toesO

جراحی کے بعد باقی ماندہ سرطانی خلیات کو تباہ کرنے والا پلازمہ پین

 واشنگٹن: دنیا بھر میں کئی طرح کے کینسر ذدہ حصوں کو نکالنے کی جراحی کے لاتعداد عمل روزانہ ہی ہوتے ہیں۔ لیکن ہرطرح کی احتیاط کے باوجود بعض ٹشو اور خلیات باقی بچ جاتے ہیں اور انہیں ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر انہیں ختم نہ کیا جائے تو مرض دوبارہ سر اٹھاسکتا ہے۔ صرف برطانیہ میں ہی پانچ میں سے ایک خاتون چھاتی کے سرطان کے خاتمے کی دوبارہ شکار ہوجاتی ہے کیونکہ کینسر کے باقی رہ جانے والے خلیات دوبارہ مرض کو پیدا کردیتے ہیں۔

لیکن اب ایک پلازمہ پین بنایا گیا ہے جو بہت مؤثر انداز میں آپریشن کے بعد سرطان کے خلیات کو تباہ کردیتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت یہ پین نما شے مختلف شدت کی پلازمہ شعاعیں خارج کرتی ہے۔

اس ایجاد کا پورا نام ’کینیڈی ہیلیوس کولڈ پلازما سسٹم‘ ہے جس میں برقی طور پر چارج شدہ گیس جسم پر ڈالی جاتی ہے اور وہ رسولیوں کی باقیات کو ختم کردیتی ہے، جب پین کو کینسر خلیات کا پتا چلتا ہے تو یہ فری ریڈیکلز جیسے زہریلے سالمات خارج کرتے ہیں جس سے سرطانی خلیات تباہ ہوجاتے ہیں جبکہ صحت مند خلیات برقرار رہتے ہیں۔ کینسر خلیات میں بھی فری ریڈیکلز پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بیماری کو بڑھاوا دیتے ہیں۔

چھاتی کا سرطان ہو یا کسی اور مقام کا اس کی وجہ بننے والی ٹھوس رسولی کو سرجری سے نکالا جاتا ہے۔ اس عمل میں اطراف کے بعض صحتمند ٹشوز بھی نکالے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود ماہرین کو خدشہ رہتا ہے کہ بعض سرطانی خلیات رہ گئے ہیں۔

واشنگٹن میں طبی آزمائش سے گزرنے والا پلازما پین سے انتہائی گرم کی بجائے ٹھنڈی یا کولڈ پلازمہ خارج ہوتی ہے۔ جو صرف 35 سے 40 درجہ سینٹی گریڈ تک گرم ہوتی ہے۔ بعض جانوروں پر تجربات سے دیکھا گیا کہ صرف دو منٹ کی پلازمہ تھراپی سے سرطانی خلیات کی بڑی مقدار ختم ہوگئی۔ 2011 میں بھی ایسے تجربات کئے گئے تھے جس میں سرد پلازمہ کے مختصر مدتی جھماکوں سے سرطانی خلیات بہت کامیابی سے تباہ کئے گئے تھے۔

یہ ٹیکنالوجی جلد، چھاتی، گردن اور سر، مثانے اور جگر کے کینسر میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ برس امریکی ایف ڈی اے نے 20 مریضوں پر اس کے تجربات بھی کئے ہیں جن کے نتائج ابھی آنے باقی ہیں۔ لیکن یہ پلازمہ تھراپی کسی بھی طرح کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی کی جگہ نہیں لے سکتی بلکہ اسے سرطانی خلیات کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

The post جراحی کے بعد باقی ماندہ سرطانی خلیات کو تباہ کرنے والا پلازمہ پین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/31vfJy5

Tuesday, 25 August 2020

Masks Save Lives

Reminding others that “masks save lives” isn’t just sound advice. It’s a scientific fact that wearing one in public can help to slow the spread of SARS-CoV-2, the virus responsible for the coronavirus disease 2019 (COVID-19) pandemic. I’m very careful to wear a mask outside my home whenever I’m out and about. I do it not necessarily to protect myself, but to protect others. If by chance I’ve been exposed to the virus and am currently incubating it, I wouldn’t want to spread it to other people. And any of us could be an unknowing superspreader. We owe it to everyone we encounter, especially those who are more vulnerable, to protect them. As my NIH colleague Tony Fauci recently demonstrated, it’s possible to wear your mask even while you’re outside exercising. But there are still skeptics around. So, just how much does a facial covering protect those around you? Quite a bit, according to researchers who created a sophisticated mathematical model to take a more detailed look [1]. Their model shows that even if a community universally adopted a crude cloth covering that’s far less than 100 percent protective against the virus, this measure alone could significantly help to reduce deaths. These findings, funded partly by NIH, were published recently in Nature Communications. They come from Colin Worby, Broad Institute of MIT and Harvard, Cambridge, MA, and Hsiao-Han Chang, National Tsing Hua University, Taiwan. The researchers noted several months ago that recommendations on wearing a mask varied across the United States and around the world. To help guide policymakers, the researchers simulated outbreaks in a closed, randomly interacting population in which the supply and effectiveness of crude cloth or disposable, medical-grade masks varied. Under different outbreak scenarios and mask usages, the researchers calculated the total numbers of expected SARS-CoV-2 infections and deaths from COVID-19. Not surprisingly, they found that the total number of deaths and infections declined as the availability and effectiveness of face masks increased. The researchers’ model primarily considered the distribution of medical-grade, surgical masks. But because such masks are currently available in limited supply, they must be prioritized for use by health care workers and others at high risk. The researchers go on to note that the World Health Organization and others now recommend wearing homemade face coverings in public, especially in places where the virus is spreading. While it’s true the ability of these face coverings to contain the virus is more limited than medical-grade masks, they can help and will lead to many fewer deaths. Another recent paper also suggests that while wearing a mask is primarily intended to prevent the wearer from infecting others, it may also help lower the dose, or inoculum, of SARS-CoV-2 that the wearer might receive from others, resulting in milder or asymptomatic infections [2]. If correct, that’s another great reason to wear a mask. Already, more than 175,000 people in the United States have died from COVID-19. The latest estimates [3] from the Institute for Health Metrics and Evaluation (IHME) at the University of Washington’s School of Medicine, Seattle, predict that the COVID-19 death toll in the U.S. may reach nearly 300,000 by December 1. But that doesn’t have to happen. As this new study shows, face coverings—even those that are far from perfect—really can and do save lives. In fact, IHME data also show that consistent mask-wearing—starting today—could save close to 70,000 lives in the months to come. Saving those lives is up to all of us. Don’t leave home without your mask. References: [1] Face mask use in the general population and optimal resource allocation during the COVID-19 pandemic. Worby CJ, Chang HH. Nat Commun. 2020 Aug 13;11(1):4049. [2] Masks Do More Than Protect Others During COVID-19: Reducing the Inoculum of SARS-CoV-2 to Protect the Wearer. Gandhi M, Beyrer C, Goosby E. J Gen Intern Med. 2020 Jul 31. [3] New IHME COVID-19 forecasts see nearly 300,000 deaths by December 1. Institute for Health Metrics and Evaluation. August 6, 2020. Links: Coronavirus (COVID-19) (NIH) Colin Worby (Broad Institute of MIT and Harvard, Cambridge, MA) Hsiao-Han Chang (National Tsing Hua University, Taiwan) NIH Support: National Institute of Allergy and Infectious Diseases

Post Link

Masks Save Lives

NIH Blog Post Date



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/3hodToa

براعظم افریقا سے وائلڈ پولیو کا خاتمہ ہوگیا، عالمی ادارہ صحت

جنیوا: عالمی ادارہ صحت نے نائجیریا میں پولیو کے نئے کیسز سامنے نہ آنے پر براعظم افریقا کو وائلڈ پولیو سے پاک قرار دیدیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے شمال مشرقی نائجیریا میں پولیو کے آخری کیس سامنے آنے کے چار سال بعد عالمی ادارہ صحت نے براعظم افریقا میں وائلڈ پولیو کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتوں، ڈونرز، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز اور کمیونٹیز کی انتھک کوششوں کی بدولت 1.8 ملین بچوں کو پولیو جیسے موزی مرض سے بچالیا ہے۔

نائجیریا آخری افریقی ملک ہے جس کو وائلڈ پولیو سے پاک قرار دیدیا گیا ہے۔ نائجیریا میں آخری کیس چار سال قبل سامنے آیا تھا اور اس کے خاتمے کے لیے نائجیریا نے نصف دہائی سے بھی کم عرصے میں پولیو کو شکست فاش دیدی۔ نائجیریا میں خاتمے کے بعد یہ بیماری اب صرف افغانستان اور پاکستان میں رہ گئی ہے۔

پولیو عام طور پر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے، اور بعض اوقات بچوں میں ناقابل واپسی مفلوج کا باعث بنتا ہے۔ اس موزی وائرس سے موت بھی واقع ہوسکتی ہے اور اس کے علاوہ سانس لینے والے عضلات بھی فالج سے متاثر سکتے ہیں۔

پولیو وائرس سے ہونے والی بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے، صرف پولیو ویکسین ہی بچوں کو زندگی بھر کی معذوری سے بچا سکتی ہے۔ یہ پولیو ایک ایسا وائرس ہے جو عام طور پر آلودہ پانی کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان تک پھیلتا ہے۔

The post براعظم افریقا سے وائلڈ پولیو کا خاتمہ ہوگیا، عالمی ادارہ صحت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2YuqjmT

Monday, 24 August 2020

پانی کو ایک منٹ میں صاف کرنے والی الٹراوائلٹ بوتل

ہانگ کانگ: تصور کیجئے ایک ایسی شفاف بوتل کا جس میں پانی بھرتے ہی ازخود ایک منٹ میں جراثیم سے پاک ہوجاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شفاف بوتل کو اندھیرے میں بطور ٹارچ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اگر آپ سفر میں ہیں تو بہت سے مقامات پر صاف پانی کا حصول مشکل ہوجاتا ہے۔ اس موقع پر’آئی یو وی آئی‘ ایک بہترین معاون ثابت ہوتے ہوئے بوتل کے پانی کو صرف 60 سیکنڈ میں جراثیم سے سے پاک کرسکتی ہے۔ اس میں الٹروائلٹ ایل ای ڈی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ الٹراوائلٹ شعاعیں نہایت مؤثر انداز میں پانی اور دیگر اشیا کو صاف کرسکتی ہے۔

ضرورت پڑنے پر اس بوتل کو ٹارچ، سگنل لائٹ یا کسی کو اشارے سے مدد کےلیے بلانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسی بوتل کے ساتھ چارج کرنے والا پاور بینک بھی شامل ہے اور ہر جگہ بار بار چارج کرنے کی ضرورت بھی ختم ہوجاتی ہے۔

آئی یو وی آئی میں کوئی بٹن نہیں لگا بلکہ اس میں ٹچ سینسر نصب ہے۔ جیسے ہی آپ بوتل کے ڈھکنے کو چھوتے ہیں اور اس میں شامل بہت سے آپشن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ ٹچ سینسر ہر کام کے لیے آپ کو سہولت فراہم کرتا ہے۔  ایک مرتبہ چارج کرنے پر اس کی بیٹری پورے مہینے چلتی رہتی ہے۔

اگر آپ ڈھکنے کو تین مرتبہ چھوتے ہیں تو ٹارچ روشن ہوجاتی ہے جبکہ چوتھی مرتبہ چھونے پر اندر یو وی لائٹ روشن ہوکر پانی صاف کرتی ہے۔ تاہم حادثاتی طور پر کھلنے اور بند ہونے کے لیے ڈھکنے پر لاک لگایا جاسکتا ہے۔

فی الحال یہ ایجاد انٹرنیٹ کراؤڈ فنڈنگ سے گزررہی ہے اور 65 یورو میں ایک چارجر، ایک بوتل اور ایک اڈاپٹر خریدا جاسکتا ہے۔

The post پانی کو ایک منٹ میں صاف کرنے والی الٹراوائلٹ بوتل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3gmRNkx

پاکستانی ڈاکٹر کا اعزاز،ملک میں’دردِ سرسے وابستہ امراض‘کے پہلے ماہر بن گئے

 کراچی: دنیا کے کئی ممالک کی طرح خود پاکستان میں دردِ سر کے دائمی مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے تاہم اب پہلی مرتبہ کسی پاکستانی ڈاکٹر نے اس شعبے میں تخصیص کی سند حاصل کرلی ہے۔

ڈاکٹر عبدالمالک پاکستان کے پہلے دماغی ماہر ہیں جو پہلے ہی نیورولوجی ( دماغ و اعصاب) میں معاون پروفیسر کا درجہ رکھتے ہیں۔ اب انہوں نے یونیورسٹی آف کوپن ہیگن سے ’ہیڈ ایک ڈس آرڈرز‘ دردِ سر اور اس سے وابستہ امراض کے شعبے میں ماسٹرز بھی کرلیا ہے۔

اس طرح ڈاکٹر عبدالمالک سے قبل پاکستان میں دردِ سر کے علاج سے متعلق کوئی مستند ڈگری یافتہ ماہر ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔ پاکستان میں دردِ سر کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جبکہ دردِ شقیقہ ( مائگرین) سے متاثر ہونے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستا ن کی 10 فیصد آبادی مائگرین کی شکار ہے لیکن دردِ سر کی ہر کیفیت کو مائگرین نہیں کہا جاسکتا ہے۔ اسی لیے معالج ازخود علاج ( سیلف میڈیکیشن) سے منع کرتے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹرعبد الملک کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں سردرد کو روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھ لیا گیا ہے اور اس کا واحد علاج درد کش ادویات کو ہی سمجھا جاتا ہے۔

ڈاکٹرعبدالمالک کہتے ہیں کہ  مریض کو طویل عرصے تک درد کُش ادویات نہیں لینی چاہئیں کیونکہ ان ادویات کا زیادہ استعمال سر درد سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ درد کُش ادویات کا زیادہ استعمال دیگر امراض کا باعث بن سکتا ہے جب کہ یہ گردوں اور جگر کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے، ڈاکٹر عبد المالک کہتے ہیں مستقل سر درد کی شکایت کے باوجود پاکستانیوں کی اکثریت اسے سنجیدہ نہیں لیتی۔

انہوں نے کہا کہ  تین ہفتوں کے دوران ہر ہفتے دو سے زائد مرتبہ سر درد کی صورت میں اُسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

The post پاکستانی ڈاکٹر کا اعزاز،ملک میں’دردِ سرسے وابستہ امراض‘کے پہلے ماہر بن گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3j8ywoS

Helper Jobs in Dubai

Dubai is located in the Gulf region and it is main part of the United Arab Emirates. Dubai is converted into the business hub of this area because all international companies headquarters are situated in this Emirate. Moreover, international commercial units and banks are also functioning from this city. Dubai is famous for oil and gold marketing and earns huge revenue from these products. In Dubai there are numbers of companies and industries manufacturing different things. However, oil and construction companies are abundant and perform their pacific works. These companies, industries and other organization need helper to facilitate the professional or experts. The helpers are usually raw hand and do not have any skills. Helper’s jobs are published in newspapers and sometime in construction companies websites.

Helper job responsibilities in construction company:-
Helper services are necessary in all works specifically in construction works. The helper assists different types of skilled employee and provides different things or material which they require at that time. Helper also handles different types of machines and equipment when the skilled employee is busy another work. Helper collects all working tools and equipment after finishing the task. Helper also brings different required items from the store room or other places. Helper also removes hurdles and blockage from the way. In Dubai construction and oil companies usually hired for collecting different tools, equipment and transport to new location or workplace.

Helper job responsibilities in industries:-
In Dubai industries or manufacturing units the helper provides full assistance to the qualified and skilled workers. Helper brings different raw material from the store and arrange according to the need and demands of the worker. Moreover, helper also collect the finished products and arrange according to packing. Helper also transports different tools and equipment to other workplaces. In Dubai helper also clean the workplaces before the work star and after the work he collects all tools and other material.

Helper job responsibilities in packing:-
Helper also assist the packagers in different ways and collect packed material. They also bring products and packing material that is required by the packager. The helper arranges packed items, count, make inventory or list and do some other works of the same nature. Helper also packs items if there is shortage of labor or worker.

Helper job responsibilities in oil exploring company:-
In Dubai there are numbers of oil companies from the overseas as well as native. All they need helper’s job for the assistance of their skilled and qualified employees. The oil, exploring and extracting companies have heavy equipment and machines and they transport these things from one site to another that is why they need the job of helpers. Helper in oil companies pack and unfold the machines and other parts at new site, similarly, helper also load and unload these things in trucks.

Helper job requirements:-
There is no specific or special education is required for this job, but physical fitness and alertness. The helpers are assigned in different location that is why they just assist the skilled employee. The helper job is tough and need physical fitness because some time they pick heavy load. It is also vital that he has the basic education to read the instructions, measurement or any other caution. In Dubai the employer always prefer those helpers which have a prior experience of this field.

How to apply helper job in Dubai:-
Dubai employer, industries, companies and other organization published their vacant position in newspapers including helper jobs. Similarly, these jobs also announced in the online jobs advertising websites. Nowadays it is very simple for the candidates who are going to apply helper or other jobs. They can send their application online by using the provided application form. The application’s form need basic details of the applicant and then submits. The applicant can also dispatch their application through traditional postal services with supporting documents. These jobs usually filled with the assistance of recruiting agencies. Dubai work visa procedure
Dubai work visa is an official document that allows the overseas worker to enter in this Emirate. The employer in Dubai initially issues the job offer letter or sponsor letter. After selecting the overseas employee, the employer then submits his case in the Ministry of Human Resources and Emiratisation (MoHRE) to start work visa process. The employer also pays the visa processing fee on the behalf of the employee. This MoHRE authority after confirmation of provided denouements issues the two months work permit that allow the foreign worker to enter in Dubai. However, after entering in Dubai the overseas employee have to clear his medical tests and secure medical clearance certificate. Once all required documents are completed then the employer applies for Dubai employment visa at the Dubai’s Ministry of Labor. Similarly, the employee also need the residence visa for the legal stay in this Emirate along with the labor card that is vital for job continuation.



from Shadi Online https://ift.tt/3leK3Vt

Sunday, 23 August 2020

حادثات اور صدموں سے وقت کے ساتھ دماغی صلاحیت متاثر ہوتی ہے

بوسٹن: دیگر افراد کے مقابلے میں بچپن یا جوانی میں کسی بڑے صدمے، استحصال یا حادثے (ٹراما) کے شکار ہونے والے افراد میں عمر کے ساتھ ساتھ سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت کم ہوسکتی ہے۔

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچپن کے مقابلے میں جوانی میں اس صورتحال کا اثر قدرے سخت ہوتا ہے اور بعض اقسام کے اکتساب اور ذہنی صلاحیتوں میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔

یہ تحقیق برینڈائس یونیورسٹی کی ماہرِ نفسیات مارگی لیکمن اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر والدین میں سے کوئی ایک فوت ہوجائے یا والدین میں علیحدگی ہوجائے تو اس کا گہرا نفسیاتی اثر ہوتا ہہے اور اسی تناسب سے ذہنی صلاحیت ماند پڑسکتی ہے لیکن یہ عمل یکدم ہونے کی بجائے پوری زندگی برقرار رہ سکتا ہے۔

اس ضمن میں انہوں نے سال 2004 سے 2013 کے درمیان 28 سے 84 سال کے ڈھائی ہزار مردوخواتین کا جائزہ لیا ہے۔ تمام شرکا سے 12 اقسام کے صدمات کی بابت پوچھا گیا۔ ان میں والدین کی طلاق یا موت، ذہنی یا جسمانی زیادتی اور مارپیٹ، گھریلو ناچاقیاں، آتشزدگی، شراب اور منشیات کی لت، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کو بھی شامل کیا گیا۔ یہ تمام کیفیات وقتی طور پر شدید نفسیاتی کوفت کی وجہ بنتی ہیں۔

اس ضمن میں شرکا سے تفصیلی سوالنامے بھی بھروائے گئے اور اس کا دو دماغی کیفیات پر اثر دیکھا گیا۔ ان میں دماغی کی ایگزیکٹو فنکشننگ ( ای ایف) یا ایپی سوڈک میموری ( ای ایم ) شامل ہے۔ ای ایف کا عمل توجہ، منصوبہ بندی،مسائل کے حل اور ملٹی ٹاسکنگ کو ممکن بناتا ہے۔ جبکہ ای ایم میں ہم حال ہی میں یاد کی ہوئے یا سیکھی ہوئی معلومات کو دوہراتے ہیں۔

مسلسل نو برس تک تمام شرکا کو دیکھا گیا۔ جو لوگ حادثات کے شکار ہوئے یا صدموں سے گزرے ان میں ای ایف اور ای ایم شدید متاثر دیکھی گئی اور وقت کے ساتھ ساتھ سیکھنے اور سمجھنے والی ان دو دماغی کیفیات میں تبدیلی ہوتی رہی اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں کمی واقعہ ہوتی جاتی ہے۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا کہ صدمہ ڈپریشن اور دباؤ کو جنم دیتا ہے جس سے ذہنی صلاحیت کو دھچکا لگتا ہے۔ اس کے ساتھ صدمات جسم میں اندرونی سوزش اور امنیاتی نظام کو بھی متاثر کرتے ہیں جس سے دماغ مزید کمزور ہوتا ہے۔

The post حادثات اور صدموں سے وقت کے ساتھ دماغی صلاحیت متاثر ہوتی ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2EaSiBt

Saturday, 22 August 2020

چکوترے اور صنوبر سے حاصل شدہ، ماحول دوست کیڑے مار دوا

واشنگٹن: چکوترے کے چھلکے اور صنوبر کے درخت میں پائے جانے والے ایک خاص مرکب ’’نُوٹ کیٹون‘‘ سے تیار کردہ ایک نئی اور ماحول دوست کیڑے مار دوا امریکا میں استعمال کےلیے منظور کرلی گئی ہے۔

یہ دوا طبّی تحقیق کے امریکی ادارے ’’سی ڈی سی‘‘ نے تیار کی تھی جبکہ ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی ’’ای پی اے‘‘ نے چند دن پہلے اسے محفوظ قرار دیتے ہوئے عمومی استعمال کےلیے منظور بھی کرلیا ہے۔

نُوٹ کیٹون وہ عام نامیاتی مرکب ہے جو چکوترے (گریپ فروٹ) کی مخصوص خوشبو کی وجہ بنتا ہے جبکہ یہ صنوبر کے درختوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

اگر یہ کم مقدار میں استعمال کیا جائے تو مچھروں، پسوؤں اور کھٹملوں کو بھگانے کا کام کرتا ہے جبکہ اسی مرکب کی زیادہ مقدار ان کے علاوہ دوسری کئی اقسام کے کیڑوں کو موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے۔

اس طرح نُوٹ کیٹون مختلف کیڑے مکوڑوں سے ہونے والی بیماریوں کا پھیلاؤ بھی کم کرسکتا ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ نُوٹ کیٹون ایسے کیڑوں کو بھی ہلاک کرسکتا ہے جو ڈی ڈی ٹی، پائریتھرائیڈز اور دوسری حشرات کش دواؤں سے بھی نہیں مرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نُوٹ کیٹون کو ہاتھ دھونے والے صابن میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ انسان کےلیے بے ضرر ہے۔

علاوہ ازیں، اسی صابن کو پانی میں حل کرکے متاثرہ مقام پر اس کا چھڑکاؤ بھی کیا جاسکتا ہے، تاکہ کیڑے مکوڑے وہاں سے دور رہیں اور جو کیڑے اس جگہ موجود ہوں، وہ اس مرکب کا سامنا ہونے پر مر جائیں۔

اگرچہ اس وقت بھی لیمن گراس اور پودینے کے تیل کے علاوہ سٹرونیلا جیسے قدرتی مرکبات بھی کیڑے مکوڑوں کو دور رکھنے میں استعمال ہورہے ہیں مگر ان کا اثر جلد ہی ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس، نُوٹ کیٹون کے اثرات ایک گھنٹے کے بعد بھی برقرار رہتے ہیں۔

اگلا مرحلہ اس مرکب کو استعمال کرتے ہوئے کیڑے مکوڑے بھگانے اور مارنے والی مصنوعات کی تیاری کا ہے، جس کےلیے مختلف اداروں نے رابطے شروع کردیئے ہیں۔

قوی امکان ہے کہ اس بارے میں کوئی معاہدہ جلد ہی طے پا جائے گا اور آئندہ برس کسی بھی وقت نُوٹ کیٹون سے تیار کردہ ’’دافع حشرات‘‘ اور ’’حشرات کش‘‘ قسم کی مصنوعات مارکیٹ میں دستیاب ہوں گی۔

The post چکوترے اور صنوبر سے حاصل شدہ، ماحول دوست کیڑے مار دوا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3aQpJFm

پانی پانی …….اور پانی!

 زباں فہمی نمبر 62

رکھ نہ آنسو ‘سے وصل کی امید

کھاری پانی سے دال گلتی نئیں

قدرت اللہ قدرتؔ (۱۴/۱۷۱۳ء تا ۹۱/۱۷۹۰ء) جیسے غیر معروف شاعر کا یہ شعر ہم ایسے ’’غم زدگان ِ کراچی‘‘ کے لیے ہر لحاظ سے معنی خیز ہے جنھیں آسمان سے برسنے والے بے حساب پانی کے باوجود، پانی کی طلب ہے (پینے کے لیے)۔ اپنے میرؔ صاحب جنھوں نے کسی ایسے ہی وقت کے لیے ، کسی ایسی ہی سرکار کے لیے کہا تھا، ؎ مژگاں تو کھول، شہر کو سیلاب لے گیا، عمر میں قدرتؔ سے کوئی دس برس چھوٹے تھے، مگر شہرت میں اُن سمیت بے شمار شعراء سے بہت آگے نکل گئے۔ خاکسار نے ’’غم زدگان ِ کراچی‘‘ کی اصطلاح وضع کی ہے ، اگر اجازت ہو تو اسے ’’باراں زدگانِ کراچی‘‘ کرلوں؟؟ بات چلے گی تو پھر سیاسی ہوجائے گی اور سیاسی گفتگو کرنا محض عوام کے لیے ممنوع ہے۔

یہ ہدایت ایک مدت سے گھٹیا قسم کے چائے خانوں اور سرائے نُما ہوٹلوں میں دیواروں پر لکھی ہوئی اَب بھی موجود ہے۔ راقم یہ کہے کہ اس پانی نے ’’محمودوایازکو ایک ہی صف میں ‘‘ لاکھڑا کیا ہے تو کچھ بے جانہ ہوگا۔ فلیٹ میں رہنے والے ہوں یا مکان میں، ڈیفنس، کلفٹن اور پی ای سی ایچ ایس کے امیرباشندگان ہوں یا ناجائز (غیرقانونی) تجاوزات کے بظاہر غریب مالک و مکین……..سبھی ڈوبے، کم۔یا۔ بیش۔ ہاں نہیں ڈوبے تو وہ جنھیں بقول کسے شرم سے ڈوب جانا چاہیے تھا، یا اسی سیلاب میں غرق ہوجانا چاہیے تھا۔

جن کے آباء و اجداد نے کبھی پکے مکان میں رہنے کا خواب بھی شاید ہی دیکھا ہو، وہ آج عوام کے پیسے پر عیاشی کرتے ہوئے، محلات کے مالک بن بیٹھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ’’مفت کی پیتے ہیں‘‘ اور غالبؔ نہیں، بلکہ اُن کے معاصر، استادِشاہ، شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ کی زبان میں یہ کہتے ہیں: زاہد! شراب پینے سے کافر ہوا مَیں کیوں+کیا ڈیڑھ چُلّو پانی میں ایمان بہہ گیا؟……لطف کی بات یہ ہے کہ اگر ایسے ’’مہان‘‘ پکڑے بھی جاتے ہیں تو اِن کی بوتل سے شہد برآمد ہوتا ہے، مگر اِن کے طفیل متعدد تشہیری ادارے، اخبارات اور ٹی وی چینلز زیرِعتاب آجاتے ہیں، مالکان کی تو خیر ہے، ملازمین تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔

ہائے ہائے……آج کا کالم خواہ مخواہ سیاسی ہورہا ہے، بلکہ ہوچکا ہے۔ ان جیسے ناعاقبت اندیش (عاقبت نااندیش کہنا اور لکھنا زبان سے ناواقفیت کی دلیل ہے) یہ نہیں جانتے کہ اردو کے قدیم پنجابی شاعر، حضرت عبدالرّضا رضاؔ تھانیسری نے مدتوں پہلے کہہ دیا تھا: آدمی بلبلہ ہے پانی کا+کیا بھروسا ہے زندگانی کا۔ یہی شعر، ترتیب بدل کر میرؔ سے یوں منسوب کردیا گیا، کیا بھروسا ہے زندگانی کا+آدمی بلبلہ ہے پانی کا…..اور اپنے وقت کے ذی علم سخنور امیرؔ مینائی نے یوں کہا تھا: زیست کا اعتبار کیا ہے امیرؔ+آدمی بلبلہ ہے پانی کا!۔ یہاں اہل سیاست کو کچھ دیر کے لیے فراموش کرکے، کچھ اور خیال آرائی یا قیاس آرائی کرلوں؟ مجھے یوں لگتا ہے کہ چونکہ مولوی عبدالرّضا رضاؔ تھانیسری، مریدِامام بخش تھانیسری قادری المتخلص بہ تھانیسریؔ (زمانہ بارھویں صدی ہجری یعنی تین سو سال پہلے) اپنے عہد میں ممتاز ہونے کے باوجود، اردوئے قدیم میں اتنے معروف نہ تھے اور اُن کا یہ شعر مشہور ہوگیا تھا تو کچھ بعید نہیں اساتذہ نے اسے اپناتے ہوئے طبع آزمائی کرلی ہو۔ فارسی اور اردو کے اساتذہ سخن میں توارد، سرقے اور چربے کی بے شمار مثالیں موجود ہیں اور اس ضمن میں، (جنھیں خاکسار کہتا ہے کہ ہر دور میں غالب اور ہر دور پر غالب ہیں)، میرزا غالبؔ بھی پیچھے نہیں رہے۔ {ان صوفی بزرگ اور ان کے مرید رحمہم اللہ کا کلام ’پنجاب کے قدیم اردو شعراء از خورشید احمدخان یوسفی، ناشر مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، مطبوعہ ۱۹۹۲ء میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ہمارے سو سالہ مشفق ومہربان، کرم فرما، محقق ِ شہیر، محترم محمد شمس الحق صاحب نے اپنی کتاب ’اردو کے ضرب المثل اشعار۔ تحقیق کی روشنی میں‘ میں رضاؔ تھانیسری کا ایک ہی شعر نقل کیا ہے جو خاکسار نے یہاں پیش کردیا}۔

پانی، عناصر ِ اربعہ (تخلیق کائنات کے چار عناصر) میں شامل (دیگر مٹی، ہوا اور آگ) ہے اور اس کرّہ ارض پر موجود ہر مخلوق کے لیے بہت اہم ہے اور ہر زبان کے ادب میں اس سے جڑے ہوئے الفاظ، تراکیب اور محاورے نیز کہاوتیں اس کی اہمیت اجاگر کرتی ہیں۔ سنسکِرِت ، اردو کی ماؤں میں شامل ہے۔ اس زبان سے، پانی کے لیے لفظ ’جَل‘ (قدیم ہندی اور) قدیم اردو میں داخل ہوا۔ یہ لفظ آج بھی پوری طرح متروک یا نامانوس نہیں۔ ہندوستانی فلمیں اور ٹی وی ڈرامے دیکھنے والے ’’گنگاجَل‘‘ (یعنی دریائے گنگا کا پانی) جیسی ترکیب سے آشنا ہیں۔ اہل زبان آج بھی ’جَل کُکڑی‘ بمعنی جلنے کڑھنے والی عورت یا لڑکی جیسا مرکب لفظ (ترکیب) بولتے ہیں جو لغوی اعتبار سے پہلے جل کُکّڑ (دونوں کاف پر پیش اور آخری کاف پر تشدید کے ساتھ) یعنی سیاہ سرَ والی مُرغابی (مُرغ ِ آبی) تھا۔ {ہندی اردو لغت از راجہ راجیسور راؤ اصغرؔ}۔ عربی لفظ ’ماء‘ ہمارے یہاں قرآنی آیات اور بعض ادویہ کے ناموں کے طفیل جانا جاتا ہے۔

گو محدود سطح پر۔ فرہنگ آصفیہ ہمیں بتاتی ہے کہ (قدیم) اردو میں ’مرد میں پانی پڑنا‘ اور ’عورت میں پانی پڑنا‘ بھی محاورے کے طور پر بولا جاتا تھا جس سے مراد، ان کا بلوغت کی عمر کو پہنچنا ہوتا تھا۔ آج شاید کوئی سو سالہ بزرگ ہی اس کے استعمال سے واقف ہو۔ اس لفظ کے لغوی اور اصطلاحی معانی بھی کثیر ہیں۔ بہت زیادہ بارش کے لیے کہا جاتا تھا کہ بڑا پانی پڑا۔ اصل نسل، رونق، تازگی، عزت، آبرو سمیت متعدد معانی لغات میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

فعل کی گردان ملاحظہ ہو تو پانی اُتارنا، پانی اُترنا، پانی اُٹھانا ، پانی اُٹھنا، پانی باندھنا، پانی بجھانا، پانی برسنا، پانی بڑھنا، پانی بَلانا، پانی بہانا، پانی بھرنا، پانی پانی کرنا، پانی پانی ہونا، پانی پر بنیاد ہونا، پانی پڑنا، پانی پِلانا، پانی پھِرجانا، پانی پھُوٹنا، پانی پھونکنا، پانی پھیردینا، پانی پی پی کر دعا دینا، پانی ………….اوہ اوہ………….پانی ہی پانی ہے جدھر دیکھو، کئی صفحات تک پھیلا ہوا ہے، لغات میں۔ پانی پانی کرگئی مجھ کو قلندر کی یہ بات+تُو جھکا جب غیر کے آگے ، نہ من تیرا نہ تن۔ علامہ اقبال نے اگر یہ شعر (موجودہ سیاسی صورت حال کے تناظر میں) وطن عزیز کے لیے (پیش بینی کے طور پر) کہا تھا تو بالکل ٹھیک کہا تھا۔

پچھلے تہتر سالوں میں کم وبیش ستر سال ، غیروں کے آگے جھکتے ہوئے ہی گزرے ہیں اور آگے بھی یہی آثارہیں۔ اب آپ سوچ میں پڑگئے ہوں گے کہ بھئی یہ کہاں سے مطلب نکال لیا ، علامہ کے شعر کا؟؟ جناب یہی تو کمال ہے کہ شعر کسی بھی پس منظر میں کہا گیا ہو، ایک ذرا سی ہوشیاری سے اس کی تشریح ، سیاق وسباق سے ہٹ کر، کی جاسکتی ہے ۔…..مزید کچھ کہنے سے پہلے ایک دل چسپ نکتہ عرض کروں۔ کسی سیاست داں سے پوچھیے کہ حضور! یہ سیاست کا کیا مطلب ہے تو وہ بڑے Style سے کہے گا، عوام کی خدمت۔ حالانکہ سیاست کے لغوی معنی ہیں، حکومت کرنے کا علم۔ یہ اور بات کہ اب ہمارے یہاں سیاست، سیاہ۔ ست ہوچکی ہے، کسی زہریلے پھل کا سَت۔ سیاست کی سیاہی پر ہر قلم کار، قلم کی سیاہی خرچ کرتا ہے اور صفحہ قرطاس سیاہ کرتا ہے، مگر چونکہ خاکسار نے ایک مدت سے قلم میں سیاہی (یعنی روشنائی) ہی نہیں بھری اور یہ کالم (نیز اکثر مضامین اور ٹیلی وژن، ریڈیو کے مسودات) براہ راست کمپیوٹر کے ’’چوہے‘‘ (معاف کیجئے گا Mouse) کی مدد سے لکھتا یا ٹائپ کرتا ہے تو اس کالک پر مزید کالک مَلنا، غیرضروری سمجھتا ہے۔ پانی میں آگ لگانا، فعل متعدی ہے جس کے معانی ہیں: ناممکن بات کرنا، جہاں لڑائی نہ ہوتی ہو (یعنی سدا امن ہو)، وہاں لڑائی کرادینا، لگائی بُجھائی کرنا، بقول میر یار علی ؎ لگایا کرے آگ پانی میں سوکن +کبھی میری، اُن کی جُدائی نہ ہوگی۔

نیز اس کے معانی میں شعبدہ بازی کرنا، شعبدہ دِکھانا، فتنہ خُفتہ کو بیدارکرنا اور سوتی راڑ جگانا شامل ہیں، بقول ناسخؔ، نہیں ہے بادۂ گل رنگ یہ خَمّار نے، رِندو!+دِکھایا شعبدہ تازہ لگاکر آگ پانی میں۔ (فرہنگ آصفیہ کا مطالعہ اس ساری تفصیل کے لیے مفید ہے)۔ اس تفصیل سے قطع نظر، موسیقی کے ماہر افراد، زمانہ قدیم میں اپنے فن سے پانی میں آگ لگا کر دکھایا کرتے تھے۔

راقم نے اسی تناظر میں یہ ہائیکو کہی تھی: دیپک راگ سُنا/مَن بَگیا میں ہلچل ہو/جَل میں آگ بَپا۔ سانپ کے کاٹے اور نہایت تیز تلوار کی تعریف میں کہتے ہیں، پانی نہ مانگنا، بقول مُنیر شکوہ آبادی ؎ اَلاماں کیوں نہ دل اِس تیغ سے جانی مانگے + جس کا مجروح نہ لے سانس، نہ مانگے پانی۔ یہ وہی شاعر ہیں جن کا ذکر آپ نے میرے کالم زباں فہمی نمبر ساٹھ بعنوان ’کالاپانی کہاں کہاں ہے؟‘ مطبوعہ روزنامہ ایکسپریس، مؤرخہ نو اگست سن دوہزار بیس میں ملاحظہ فرمایا ہوگا۔ لفظ پانی ارد و ہی نہیں، بلکہ اس کی ہم رشتہ دیگر زبانوں کی شاعری میں بھی عہد قدیم سے مستعمل ہے (جنھیں ہم اردو کی ماں بہن کہہ سکتے ہیں)۔ خوشحال خان خٹک (۱۶۱۳ء تا بیس فروری ۱۶۸۹ء) کے استاد اور مددگار، فارسی اور ہندکو کے شاعر، استاد صاحب حق (پشاوری) رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: گھار ہمیش اے دوزخ اسدا+جس نُوںبجھاوے نہ کوئی پانڑی]پانی [، (یعنی اس کا گھر ہمیشہ کے لیے دوزخ کی آگ والا ہوگیا، جس آگ کو کوئی پانی ٹھنڈا نہیں کرسکتا)۔ {اردو زبان کا ماخذ ہندکو از پروفیسر خاطرغزنوی}۔ }یہاں وضاحت ضروری ہے کہ ہندکو اور گوجری میں نون کو ’’ن+ڑ=نڑ‘‘ بولتے ہیں، مگر رسم الخط یکساں ہونے کی وجہ سے نون لکھ دیا جاتا ہے، جبکہ سندھی میں اس کے برعکس، نون اور نڑ جدا جدا ہیں۔

سرائیکی رسم الخط سے پوری طرح آشنائی نہ ہونے کے باوجود، راقم کو یہ علم ہے کہ اس کے رسم الخط میں بھی یہ مخصوص آواز لکھی جاتی ہے۔ کچھ گہرائی میں جائیں تو معلوم ہوگا کہ اردوئے قدیم کی بعض زندہ اور بعض متروک یا مردہ بولیوں میں بھی یہ آواز پائی جاتی ہے{۔ اچھا تو قارئین کرام اور ناقدین باتمکین! آج کا موضوع ہے، پانی۔ وہی مایع جسے انسان کی اور کائنات کی تخلیق میں بنیادی عنصر کا درجہ ملا۔ سورہ الفرقان کی آیت نمبر چوون(54)کے مفہوم پر غور کریں، اللہ تعالیٰ نے انسان کو پانی کے مانند نطفے سے پیدا کیا۔ سورہ الطارق میں یہاں تک واضح کیا گیا کہ انسان کو قوت سے، اچھلتے ہوئے پانی یعنی قوی ومتحرک مادّہ تولید سے پیدا کیا گیا جو پیِٹھ اور کولھے کی ہڈیوں کے درمیان یعنی پیڑو سے نکلتا ہے۔

قرآن اور سائنس کے موضوع پر تحقیق کرنے والے بھی، کائنات میں زندگی کی ابتداء، پانی سے ہونے کے قائل ہیں۔ سیارہ زمین کا اکہتر فی صد ( 71%) پانی پر مشتمل ہے۔ ذرا سوچیے کہ اگر ساری زمین ہی خشکی پر مشتمل ہوتی تو کیا ہوتا؟؟ باقی باتیں تو ایک طرف، ہمیں سمندر، دریا، جھیل، ندی، چشمے، جھرنے، نالے اور نہریں دیکھنے کو نہ ملتیں، محض پہاڑ ہوتے، میدان ہوتے یا ریگستان ……وہ بھی کسی قسم کے سبزے کے بغیر، کیونکہ نباتات، خواہ خشکی پر ہوں یا تہہ ِ آب میں، انھیں پانی ہی سینچتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو کیا یہ دنیا، جا بجا قدرت کی صناعی کی ایسی تصویر ہوتی کہ بے ساختہ حضرت انسان کے دل سے صدا آتی: اگر فردوس بر روئے زمینست، ہمینست و ہمینست وہمینست (اگر جنت زمین پر ہے تو یہی ہے، یہی ہے، یہی ہے) {خاکسار نے صوتی ادائی کے اعتبار سے املا ء لکھا ہے} اور ایسے کتنے ہی مقامات ہیں جہاں ہمارے دل سے یہ صدا نکلتی ہے۔

انسان نے زمین پر صدیوں مزے کرنے کے بعد، یہ سوچا کہ کسی اور سیارے کی تلاش کی جائے جہاں زندگی کے آثار بھی ایسے ہی ہوں یعنی سب سے پہلے تو پانی موجود ہو اور وافر ہو، خواہ کوئی اور مخلوق ہو نہ ہو، وہاں رہنا ممکن ہو۔ اس تلاش میں جہاں چاند پر ڈورے ڈالے گئے، مریخ کی خوب خبر لی گئی، دیگر سیاروں کے متعلق بھی تحقیق کی گئی اور اب تک کی جارہی ہے، وہیں یہ کرشمہ بھی ہوگیا۔2007ء میں Gliese 581dنامی، زمین نما سیارہ دریافت ہوگیا جو ہماری زمین سے بیس اعشاریہ تین نوری سال (20.3 Light years)کے فاصلے پر ہے یعنی 192ٹریلین کلومیٹر……..اف اف اف! پھر کیا خیال ہے، چلیں وہاں؟؟ }چلو کہیں دور، یہ سماج چھوڑدیں{۔ (ویسے راز کی بات بتاؤں، ستارہ سہیل [Canopus] بھی زمین سے بہت دور واقع ہے اور سورج سے 355گُنا بڑا ہے۔ سہیل ہماری کائنات کا دوسرا سب سے روشن ستارہ ہے اور یہ موسم خزاں کے اوائل میں نکلتا ہے….. باقی تفصیل لکھوں گا تو زباں فہمی کی بجائے سہیل سرائی ہوجائے گی…..ہاہاہا)۔ اب ملاحظہ فرمائیے پینے کا پانی فروخت کرنے والی دو کمپنیوں کے اشتہارات اور دیکھیں کہ کیسے زبان وبیان کی صحت کا خیال رکھا گیا ہے:الف)…….(نام)۔ پینے کا (کے) معیاری پانی کی ترسیل کا کام آپ کے (آپ کے) علاقے میں شروع کیا جارہا ہے۔

اعلیٰ معیار کی نئی بوتل، نئے فلٹریشن پلانٹ اور بااخلاق عملے کے ساتھ۔ ہماری بھرپور کوشش ہوگی کہ صارف کو اعلیٰ معیار، بیکٹیریا سے پاک اور غیرضروری کیمیکلز کی آمیزش سے مبرہ، انسانی جسم کی ضروریات سے مطابقت کا حامل پانی فراہم کیا جائے، کیونکہ پانی کا ہماری جلد، بالوں، معدے اور سب سے بڑھ کر ہمارے گُردوں پر اثر ہوتا ہے۔ ہمیں خدمت کا موقع دیں۔ (ب)۔ پانی ہر ذی روح کا بنیادی حق ہے۔

صاف پانی کا استعمال انسانی صحت کے لئے (لیے) بنیادی جُز (جُزو) ہے۔ صاف پانی ایک صحت مند زندگی کی علامت ہے۔ روزآنہ (روزانہ) 8-10گلاس صاف پانی آپ کو بے شمار پریشانیوں سے بچاتا ہے۔ ہمارے ملک، خصوصاً شہر ِکراچی میں صاف پانی کا حصول ناپید (ناممکن) ہوتا جارہا ہے، یہی وجہ ہے کہ نہ جانے کتنی نام نہاد کمپنیاں صاف پانی کی آڑ میں نہ صرف مُضِرّصحت پانی کو (کو غیرضروری ہے) فروخت کررہی ہیں، بلکہ انسانی جانوں کو لگنے والی کئی مُہلک بیماریوں کا سبب بھی ہیں۔ (……صاف پانی کی آڑ میں، مُضِرّصحت پانی فروخت کرکے کئی مُہلک بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہیں)۔

حالیہ دنوں میں (حال میں) جاری ہونے والی خوفناک انکشافات کی رپورٹ (حال میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے خوفناک انکشافات نے ) نہ صرف (ناصرف) اہلیان کراچی (اہل کراچی) کو شدید ہیجان میں مبتلا کردیا ہے (پریشانی میں مبتلا کردیا ہے)، بلکے (بلکہ) وہ (یہ) سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ہزاروں روپے ماہانہ خرچ کرکے بھی وہ اپنے اہل خانہ کے لیے (لیے) مُضِرّصحت پانی ہی حاصل کرپا رہے (کررہے) ہیں۔ PSQC سے منظورشدہ…………..(نام) نے عوام الناس کا دیرینہ مسئلہ حل کردیا ہے۔ اب انتہائی کم لاگت میں صاف وشفاف (صاف شفاف) R.O water پانی اَب آپ کے (آپ کے ) گھر کی دہلیز پر……(نام) انتہائی جدید پلانٹ پر پانی کو تمام بیکٹیریا سے پاک کیا جاتا ہے۔ بعدازاں (بعدازآں) PSQC کی تمام جانچ پڑتال اور تصدیقی سرٹیفکیٹ کے بعد آپ تک پہنچایا جاتا ہے۔ آپ کے

اعتماد کا اولین نشان…..(نام)۔

آج کا مفصل کالم پڑھ کر آپ کی آنکھوں سے پانی (یعنی آنسو) جاری ہوا تو سمجھوں گا، محنت وصول ہوگئی، اور جن کے دِیدوں کا پانی مرگیا ہے، خدا انھیں اگلی برسات میں شرم سے پانی پانی کردے اور عوام کے مسائل حل فرمانے کا وسیلہ عطا فرمائے۔ کہیے آمین!

The post پانی پانی …….اور پانی! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/32gJ2nd

Friday, 21 August 2020

اسٹیم سیل بھرے کیپسول سے ٹوٹے ہوئے دل کی مرمت ممکن

 نیویارک: اسٹیم سیل اپنے خواص کی بنا پر قسم کےخلیات میں ڈھلنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب چھوٹے کیپسول میں خاص خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) بھر کر انہیں چوہوں میں داخل کیا گیا تو ہارٹ اٹیک سے متاثرہ دل میں بہت بہتری نوٹ کی گئی۔

دل کے شدید دورے یا ہارٹ اٹیک کےبعد دل کے پٹھوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔ اس کی تلافی کے لیے رائس یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اسٹیم سیل سے بھرپور چھوٹے کیپسول بنائے ہیں اور اس سے متاثرہ دل کے حصوں کی مرمت دیکھی گئی ہے۔

اگرچہ ہارٹ اٹیک کے بعد دل خود اپنی مرمت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دل کے پٹھوں کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن بعض پٹھے ناقابلِ مرمت ہوجاتے ہیں اور دل کی دھڑکن بےترتیب ہونے سے لے کر دیگر کئی مسائل جنم لیتے ہیں اور اس سے دل کے مزید دوروں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

لیکن خلیاتِ ساق کو جب دل پر رکھا جاتا ہے تو وہ بہت دیر تک وہاں نہیں رہتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دل انہیں اجنبی اجسام تصور کرتے ہوئے مسترد کردیتا ہے اور وہ دل سے اترنے لگتے ہیں۔ اس مسئلے کےحل کے لیے انہوں نے میسن کائمل اسٹیم سیلز ( ایم سی ایس) کا انتخاب کیا اور انہیں خاص قسم کے ہائیڈروج کیپسول میں بھرا گیا جسے بھوری الجی سے بنایا گیا تھا۔

مرکزی سائنسداں روی گھانٹا نے بتایا کہ توقع کے برخلاف اسٹیم سیل منتقلی کے بعد مرنے لگے اور وہ دل کا حصہ نہیں بنے لیکن ایک کام اور ہوگیا ۔ خوش قسمتی سے خلیاتِ ساق سے بعض کیمیکل خارج ہوئے جو دل کی مرمت کرنے لگے اور چوٹ کی شدت کم ہوئی۔ اسی تصور کے تحت اب یہ ممکن ہے کہ کسی طرح دل کے اوپر خلیات کو دیر تک زندہ رکھا جائے اور وہ متاثرہ دل کو صحت مند بنائے رکھیں۔

ماہرین نے ایک کیپسول میں ڈیڑھ ملی میٹر کے 30 ہزار خلیاتِ شامل کئے اور انہیں چوہوں کے متاثرہ دل میں لگایا۔ جن چوہوں میں اسٹیم سیل لگائے گئے ان کے دل کی بہتری ڈھائی گنا زائد دیکھی گئی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے اگر خلیاتِ ساق دل سے نہ چپکے تب بھی وہ اپنا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

یہ تحقیق  جرنل آف بایومٹیریلز سائنس میں شائع ہوئی ہے۔

The post اسٹیم سیل بھرے کیپسول سے ٹوٹے ہوئے دل کی مرمت ممکن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3aLFIEt

Thursday, 20 August 2020

اسمارٹ فون کیمرے سے ذیابیطس کی 80 فیصد درست شناخت ممکن

سان فرانسسکو: اب اسمارٹ فون کا کیمرہ ذٰیابیطس کا ڈاکٹر بن کر نہایت درستگی سے ٹائپ ٹو قسم کی شوگر یا ذیابیطس کا سراغ لگاسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو (یوسی ایس ایف) کے ماہرین نے ایک نئے طریقے سے اسمارٹ فون کیمرے کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کی 80 فیصد درستگی سے شناخت کرسکتا ہے۔ جامعہ سے وابستہ سائنسداں رابرٹ اورام اور ان کے ساتھیوں نے ذیابیطس کی شناخت کے لیے ایک خاص الگورتھم بنایا ہے جو کیمرے کی مدد سے ذیابیطس کا نشاندہی کرتا ہے۔

اس عمل کو طب کی زبان میں ’فوٹوپلائتھس موگرافی‘ ( پی پی جی ) کہا جاتا ہے۔ اس تکنیک میں روشنی کو کسی کھال یا بافت (ٹشو)پر ڈالا جاتا ہے جس سےخون کے حجم میں کمی بیشی کو نوٹ کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ عین اسی طریقے سے شہادت کی انگلی پر سینسر لگا کر خون میں آکسیجن کی مقدار اور دھڑکن کو معلوم کیا جاتا ہے۔

اس کے لیے پہلے ایک الگورتھم بنایا گیا اور پھر غور کیا گیا آیا اسمارٹ فون کیمرہ ذیابیطس کی وجہ سے خون کی رگوں کو پہنچنے والے کسی نقصان یا تباہی کو ظاہر کرسکتا ہے یا نہیں؟ پھر پی پی جی کی لاکھوں ریکارڈنگ کو ایک بڑے ڈیٹا بیس میں رکھا گیا اور انہیں تربیت دی گئی تاکہ وہ صحت مند اور بیمار بافتوں کے درمیان فرق کرسکے۔ اس کے بعد پی پی جی ٹیکنالوجی کو ذبابیطس کی شناخت کے لئے استعمال کیا گیا۔

اس پورے تجربے میں کل 53 ہزار سے زائد 26 لاکھ پی پی جی ریکارڈنگز کو دیکھا گیا اور تمام افراد میں ذیابیطس کی درست شناخت ہوئی۔ دوسرے تجربے میں لوگوں کے تین گروہوں کا اسمارٹ فون کیمرے سے جائزہ لیا گیا اور ان کی انگلیوں پر کیمرے لگائے گئے۔ پورے سسٹم 80 فیصد درستگی کے ساتھ ذیابیطس کی شناخت کی۔

اس طرح ماہرین نے اسے کم تکلیف والا ایک مؤثر ٹیسٹ قرار دیاہے جس کی بدولت عام اسمارٹ فون کے ذریعے ذیابیطس کی شناخت کی جاسکتی ہے۔

The post اسمارٹ فون کیمرے سے ذیابیطس کی 80 فیصد درست شناخت ممکن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3ggAd1L

شہد میں واقعی شفا ہے: سائنس سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا

آکسفورڈ: برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کھانسی اور زکام میں کسی بھی دوسری دوا کے مقابلے میں شہد زیادہ مفید ہوتا ہے۔ یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے ماہرین کی اس تحقیق کے نتائج ’’بی ایم جے ایویڈنس بیسڈ میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ مشرقی ممالک، بالخصوص مسلمان ملکوں میں شہد کو سیکڑوں سال سے مختلف امراض کے علاج میں عام استعمال کیا جاتا ہے جبکہ حالیہ برسوں کے دوران مختلف سائنسی تحقیقات سے شہد کی طبّی افادیت بھی ثابت شدہ ہے۔

ان طبّی تحقیقات کی تفصیل تحقیقی مجلے ’’فارماکوگنوسی ریسرچ‘‘ کے ایک شمارے میں شائع شدہ ’’ریویو آرٹیکل‘‘ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں جو 2017 میں آن لائن اشاعت پذیر ہوا تھا۔

البتہ نزلہ، زکام اور کھانسی میں ’’شہد چٹانے‘‘ کا گھریلو ٹوٹکا صدیوں، بلکہ شاید ہزاروں سال پرانا ہے۔ کچھ تحقیقات میں یہاں تک دعوی کیا گیا ہے کہ یہ گھریلو ٹوٹکا، دیگر تمام ادویہ (بشمول اینٹی بایوٹکس) سے بھی زیادہ مؤثر، محفوظ اور مفید ہے۔

تازہ تحقیق میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے طبّی ماہرین نے بطورِ خاص نزلے، زکام اور کھانسی وغیرہ میں شہد کی مبینہ افادیت کے بارے میں کی گئی 14 سابقہ تحقیقات کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جن میں مجموعی طور پر 1,761 افراد شریک تھے۔

اگرچہ اس تجزیئے کے نتیجے میں بھی یہی بات سامنے آئی کہ نزلہ، زکام اور کھانسی میں اینٹی بایوٹکس کے مقابلے میں شہد واقعتاً زیادہ مفید ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ ماضی میں کی گئی تحقیقات کا معیار بہت اچھا نہیں تھا اور ایسے ہر مطالعے میں کچھ نہ کچھ تکنیکی خامیاں ضرور تھیں۔

ان نکات کی روشنی میں ماہرین کا کہنا ہے کہ تاریخی طور پر شہد کی طبّی افادیت ایک طے شدہ امر ہے جبکہ حالیہ چند عشروں کے دوران کی گئی سائنسی تحقیقات کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس بحث کو حتمی طور پر پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلیے ایک وسیع تر اور محتاط سائنسی مطالعے کی ضرورت ہے۔

The post شہد میں واقعی شفا ہے: سائنس سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Eg24lk

Wednesday, 19 August 2020

تمباکو چبانے والے ممالک میں پاکستان کا دوسرا نمبر

 نیویارک: پوری دنیا میں بنا دھوئیں یا چبانے والے تمباکو سے اموات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور سالانہ ساڑھے تین لاکھ افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ ان میں سرِ فہرست ممالک بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش ہیں۔ پوری دنیا میں سالانہ جتنا تمباکو کھایا جاتا ہے اس کی 25 فیصد مقدارجنوبی ایشیا کے تین ممالک میں کھائی جاتی ہے جس میں بھارت کا حصہ 70 فیصد، پاکستان کا 7 فیصد اور بنگلہ دیش 5 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔  

حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سات برس میں عالمی سطح پر تمباکو سے اموات میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یورک یونیورسٹی کے ماہرین نے یہ تحقیق کورونا وبا کے تناظر میں کی تھی جس میں لوگوں کے تھوکنے کی عادات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

برصغیر پاک وہند میں تمباکو کھاکر جگہ جگہ تھوکنے کا عام رحجان ہے جو موجودہ کورونا وبا میں مزید خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کورونا کا مریض تمباکو چبا کر تھوکتا رہے تو اس سے مرض پھیلنے کا خدشہ دوچند ہوجاتا ہے۔

یورک یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹر کامران صدیقی نے عوامی مقامات پر تھوکنے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ تمباکو کا استعمال منہ میں لعاب کو بڑھاتا ہے جسے بار بار تھوکنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور یوں اس سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ بڑھتا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ریسرچ نے 2017 میں کہا تھا کہ تمباکو کھانے سے ہر سال منہ، حلق اور غذائی نالی کے کینسر سے 90 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ جبکہ دل اور دیگر بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد 258,000  بتائی گئی ہے لیکن اب ان کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

اس تحقیق کی تفصیلات بایومیڈ سینٹرل کے تازہ شمارے میں چھپی ہیں جس میں 127 ممالک کا ڈیٹا لیا گیا ہے اور تمباکو کے عالمی سروے سے بھی مدد لی گئی ہے۔ ان میں سے 25 فیصد تمباکو صرف تین ممالک یعنی پاکستان، بنگہ دیش اور بھارت میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ماہرین نے اس رحجان کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے سخت قوانین اور پابندیوں کا مطالعہ کیا ہے۔

The post تمباکو چبانے والے ممالک میں پاکستان کا دوسرا نمبر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Q6gw1W

ڈینگی پھر سر اُٹھا رہا ہے!

پاکستان میں ڈینگی بخار پھر سر اُٹھا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال پانچ کروڑ سے زائد افراد ڈینگی بخار کا شکار ہوتے ہیں اور بیس ہزار سے زائد افراد اس کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔

دنیا کے ایک سو کے قریب ممالک میں ڈینگی وائرس پھیلانے والے اڑتیس اقسام کے مچھر ہیں جس میں سے پاکستان میں ان میں سے صرف ایک قسم کا مچھر پایا جاتا ہے۔ ڈینگی فیور سے بچاؤ کی نہ تو کوئی دوا ہے اور نہ ہی کوئی ٹیکہ، اسے صرف حفاظتی تدابیر سے روکا جا سکتا ہے۔

پاکستان سمیت ایشیا میں ڈینگی بخار کا خطرہ بڑھ رہا ہے، ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ایشیا میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسوں کی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ کئی علاقوں میں شدید بارشیں سیلاب اور بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ عالمی ادارہ برائے صحت نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومتوں نے ضروری اقدامات نہ کیے تو ڈینگی بخار سے دنیا کی تقریباً ڈھائی ارب آبادی کو خطرہ لاحق ہے۔ ان سب اعداد و شمار کے باوجود ڈینگی بخار خطرناک اور جان لیوا امراض کے زمرے میں نہیں آتا۔ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس پہ قابو پایا جا سکتا ہے۔

ڈینگی وائرس سے بننے والا مچھر

ڈینگی بخار کا باعث بننے والا مچھر بہت نفیس اور صفائی پسند ہے۔ یہ خطرناک مچھر گندے جوہڑوں میں نہیں بلکہ بارش کے صاف پانی گھریلو واٹر ٹینک کے آس پاس صاف پانی کے بھرے ہوئے برتنوں، گھڑوں اور گلدانوں، گملوں وغیرہ میں رہنا پسند کرتے ہیں، جو گھروں میں عام طور پر سجاوٹ کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ گھر میں جہاں بھی صاف پانی کھلا پڑا ہو وہ ڈینگی پھیلانے والے مچھر کی آماجگاہ ہوگا یہ مچھر انسان پر طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس بخار کا علم تین سے سات دن کے اندر ہوتا ہے عام سے نزلہ بخار کے ساتھ شروع ہونے والا بخار شدید سر درد پٹھوں میں درد اور جسم کے جوڑ جوڑ کو جکڑ کر انسان کو بالکل بے بس کر دیتا ہے۔

اسی وجہ سے اس بخار کو ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے۔ جسم کے اوپری حصوں پر سرخ نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ نوعیت شدید ہو جائے تو ناک اور منہ سے خون بھی جاری ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ مخصوص حالات میں پیدا ہونے والا انتہائی خطرناک معتدی وائرس بخار ہے۔

ابتدائی علامات

ڈینگی وائرس بخار کی علامات میں اس طرح ہوتی ہیں:

-1 تیز بخار، -2سر میں شدید درد، -3 آنکھوں کے ڈھیلے میں شدید درد، -4 پورے جسم کی ہڈیوں، پٹھوں اور جوڑوں میں شدید درد،-5 متلی، قے اور بھوک میں کمی۔

بیماری کے حملے کے دوران میں مریض شاک میں جا سکتا ہے جس سے بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے،  پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں، جسم کے اندرونی اور بیرونی حصوں پر باریک سرخ دانے ابھرتے جاتے ہیں۔ ڈینگی وائرس کا شکار ہونے والے افراد پر اگر یہ وائرس دوبارہ حملہ آور ہو تو جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ بیماری Aedes Aegypti قسم کے مچھر کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس قسم کے مچھر انسان کے قریب قریب شہروں میں ہی رہتے ہیں۔ کچھ مچھر ایسے ہوتے ہیں جن کی افزائش تالابوں اور جوہڑوں میں ہوتی ہے جبکہ کچھ اقسام ایسی ہیں جوگھروں کے اندر بھی افزائش کر لیتی ہیں۔ ایڈی قسم کے مچھروں سے تین براعظموں میں یعنی ایشیاء، افریقہ اور امریکا میں یہ وبا پھیلی تھی۔ پاکستان میں 1994ء میں پہلی مرتبہ اس سے متاثرہ مریض دیکھے گئے۔

شدید حملہ

ڈینگی کی بیماری کی ابتدائی علامات میں بخار، کمزوری پسینہ آنا اور بلڈ پریشر کم ہو جانا شامل ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ جسم کے سارے نظاموں پر اثر کرتا ہے۔ خون کی باریک نالیاں جنہیں ہم Capillaries کہتے ہیں وہ پھٹنا شروع ہو جاتی ہیں جسم کے جس حصہ پر یہ دھبے نمایاں ہوں وہ حصہ نمایاں ہوتا ہے۔  جب یہ بیماری دماغ اور حرام مغز پر حملہ کرتی ہے تو مریض کی موت بھی ہو سکتی ہے لیکن زیادہ تر مریض ایک یا ڈیڑھ دن میں بہتر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ بہتری نہ ہونے کی صورت میں بخار، سر درد، پٹھوں، جوڑوں میں درد، بھوک کم لگنا، الٹی آنا، پسینہ زیادہ آنا، جسم ٹھنڈا ہو جانا جیسی علامات ہوتی ہیں۔

مریض کا بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے، نبض آہستہ آہستہ اور کمزور ہو جاتی ہے ، جسم پر دھبے پڑ جاتے ہیں اور جگر بڑھ جاتا ہے ۔جب بیماری دماغ اور حرام مغز پر حملہ کرتی ہے تو فالج بے ہوشی، لقوہ جیسی علامات ہوتی ہیں یا تو مریض کے جسم کا کوئی حصہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے یا وہ بے ہوش ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کی تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ اور ایکسرے کیے جاتے ہیں۔ دماغ اور حرام مغز میں پہنچنے والی بیماری کی تشخیص سی ٹی CT اور ایم آر آئی MRI سکین سے کی جاتی ہے۔

پہلی سٹیج میں جب وائرس حملہ آور ہوتا ہے تو مندرجہ ذیل علامات ہوتی ہیں۔

1۔بخار تیزی سے چڑھتا ہے۔

2۔شدید سردرد، جسم اور جوڑوں میں دردیں ہوتی ہیں کمر میں بھی درد ہوتی ہے۔

3۔چہرہ سرخ ہو جاتا ہے اور یہ سرخی جسم کے باقی حصہ میں بھی پھیل جاتی ہے۔

4۔آنکھیں بھی سرخ ہو جاتی ہیں روشنی اچھی نہیں لگتی اور پانی بہتا ہے آنکھوں کی حرکت سے بھی ان میں درد پیدا ہوتی ہے۔

5۔گردن میں گلٹیاں بھی نمودار ہوسکتی ہیں۔

6۔گردن میں اکڑاؤ آ جاتا ہے۔

7۔نیند نہیں آتی۔

یہ مرحلہ بہت سخت ہوتا ہے اور مریض کی حالت قابل رحم ہو جاتی ہے جس کی وجہ شدت کا بخار اور درد ہے۔ تین سے چار دنوں میں بخار میں کمی آ جاتی ہے اور مریض کی حالت سنبھلنے لگتی ہے اس مرض کا بچاؤ صرف اور صرف ڈینگی مچھر سے بچاؤ ہے۔ جہاں جہاں یہ مچھر پیدا ہو وہاں اس کے لیے مچھر مار دواؤں کا استعمال کثرت سے کرنا چاہیے۔ مارکیٹ میں ایسے تیل بھی ہیں جو جسم اور ہاتھوں کے کھلے حصے پر لگانے سے مچھر آپ کو نہیں کاٹتا۔

مشرقی طب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کا دوسرا نام Dengue Hemorrhagic Fever ہے یعنی وہ بخار جس میں جسم سے خون بھی بہتا ہے جس کا عرف عام نام ڈینگی ہے۔ یہ وائرس بھی کئی اقسام کے ہیں۔ اس بیماری کا پھیلاؤ انسانوں میں ایک خاص قسم کے مچھر کی وجہ سے ہوتا ہے جب یہ مچھر ایک بیمار شدہ مریض کو کاٹ کر کسی صحت مند شخص کو کاٹتا ہے تو یہ بیماری پھیل سکتی ہے۔  یہ بیماری عام طور پر دنیا میں گرم مرطوب علاقوں میں ہوتی ہے اس بیماری کا پھیلاؤ ملیریا کی طرح ہے بیماری زیادہ تر افریقہ، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور انڈیا میں مغربی بنگال کے علاقے میں ہوتی ہے۔

اس بیماری کی وجہ سے خون کے جو Platelets ذرات ہیں،۔ بہت کم ہو جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے جسم کے کئی حصوں میں خون بہہ سکتا ہے اور جلد کے نیچے خون جم جاتا ہے جس سے سرخ دھبے اور نشانات پڑ جاتے ہیں عام طور پر یہ بیماری چھ یا سات دن تک رہتی ہے اور کئی دفعہ ایک جان لیوا بیماری کی شکل یعنی Dengue Shock Syndrom اختیار کر لیتی ہے۔

علاج

اس بیماری کا علاج مندرجہ ذیل طریقوں سے کیا جا سکتا ہے:

1۔Supportive Therapy دی جاتی ہے۔2۔بیماری کے دوران مکمل آرام کیا جائے،  پینے والی اشیاء صاف پانی، مشروبات فریش فروٹ جوس سوپ کااستعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے تازہ پھلوں اور سبزیوں کے سوپ کا استعمال بھی مریض کی توانائی بحال کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ 3۔اگر مریض زیادہ کھا پی نہ سکے تو پھر Platelets کی Drip لگانا بہت ضروری ہے۔ Platelets کی Drip بلڈ بنک سے حاصل کی جا سکتی ہے۔4۔پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ اس مچھر سے Aedes Aegypti کو پھلنے پھولنے سے مکمل طور پر روکا جائے۔ سب سے اہم بات ایسی جگہوں پر اسپرے ہے جہاں مچھر پیدا ہوتے ہیں اسی طرح سے جہاں بھی پانی کھڑا ہو جائے وہاں پانی کو کھڑا نہ ہونے دیا جائے جہاں ایسا ممکن نہ ہو وہاں فوراً اسپرے کیا جائے گھروں میں مچھر کے بچاؤ کی تدابیر کرانی چاہئیں جن میں مچھر دانی یعنی Mosquite net کا استعمال بہت ضروری ہے۔

ڈینگی بخار کے خلاف مفید غذائیں

-1 شہد: ڈینگی فیور کے لیے ایک بہترین علاج ہے ایک چمچ شہد ایک کپ نیم گرم پانی میں ملا کر صبح نہار منہ جبکہ دوپہر و رات کھانے سے ایک گھنٹہ قبل استعمال کرنا چاہیے پروپولس (رائل جیلی) جو کہ شہد کی مکھی کے چھتے سے نکلتا ہے ایک طاقتور اینٹی وائرل ہے یورپ میں یہ عام دستیاب ہے لیکن وطن عزیز میں ہم اسے شہد نکالے چھتے سے حاصل کر سکتے ہیں اس چھتے کے تین تین گرام کے پیس کاٹ لیں اور ایک ٹکڑا صبح دوسرا شام اور رات دن میں چار مرتبہ چبا کر رس چوس لیں پروپولس کی مطلوبہ مقدار حاصل ہو جائے گی۔ اس سے قوت مدافعت میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے جس سے ڈینگی وائرس زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

-2 پپیتے کے پتے: پپیتے کے پتے بھی اس مرض کا شافی علاج ہیں۔ پپیتے کے دو تازہ پتے یا ان کا رس صبح شام پینے میں Platelets حیران کن طور پر چند گھنٹوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

-3 کالی مرچ کلونجی چرائتہ افسنیتن: کالی مرچ کلونجی چرائتہ افسنتین میں سے ہر ایک دس گرام لے کر باریک پیس لیں۔ تینوں کو اچھی طرح ملا لیں اور ایک گرام دن میں تین مرتبہ صبح دوپہر شام اجوائن و پودینے کے قہوے کے ساتھ ڈینگی بخار کے مریض استعمال کریں۔

-4 وٹامن: ڈینگی فیور سے متاثرہ افراد وٹامن کے وٹامن بی اور وٹامن سی سے بھرپور خوراک کا استعمال کریں۔

-5 سبزیاں اور چاول: چاول مونگ کی دال کھچڑی، شلجم چقندر گاجر گوبھی کریلا، انار سنگترہ، مسمی میٹھا اور امرود اس میں مفید غذا ہے۔

ڈینگی بخار کا موثر علاج ۔۔۔ شربت پپیتہ :

ڈینگی وائرس پھیلانے والا مادہ مچھر بڑا نفاست پسند ہے اور صاف پانی میں رہتا ہے، طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت حملہ آور ہوتا ہے۔ زیادہ بڑے گھروں میں رہنے والوں کو متاثر کرتا ہے۔ ڈینگی وائرس کی روک تھام کے لیے ابھی کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوئی، سائنس دان سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی پیش رفت نارتھ کیرولیناسٹیٹ یونیورسٹی نے کی ہے جس میں خاص بیکٹیریا Wolbateria Bacterium کو مادہ مچھر کے جسم میں داخل کیا جائے گا جس سے وہ وائرس آگے منتقل کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔

مقامی طور پر ڈینگی کے علاج کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے تحت چلنے والے فلاحی ہسپتالوں میں ’’پپیتہ‘‘ کے پتوں کا جوس نکال کر اس میں چند دوسری مفید جڑی بوٹیاں شامل کر کے ’’شربت پپیتہ‘‘ تیار کیا گیا ہے۔ پپیتہ کے پتے ڈینگی کا بخار ختم کرنے، جسم میں مدافعت پیدا کرنے اور بیماری کی حالت میں خون کی ’’پلیٹلٹس کی مقدار‘‘ نارمل رکھنے میں بے حد کارآمد ہیں۔

قدرت نے ’’پپیتہ‘‘ کے پتوں میں بے پناہ صلاحیت رکھی ہے، ڈینگی سے بچاؤ اور علاج کے لیے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں مچھر دانیوں کو پپیتہ کے پتوں میں بھگو کر تیار کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے پتے بیماری سے بچاؤ اور علاج کے ساتھ مچھروں کو دور بھگاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جن گھروں کے لانوں میں پپیتہ کے درخت لگے ہوئے ہیں، ڈینگی پھیلانے والے مچھر وہاں سے دور بھاگتے ہیں۔ مزید برآں مچھروں سے بچاؤ کے لیے پپیتہ کے پتوں سے تیار کردہ Repellents بھی بنائے گئے ہیں۔

پپیتہ کے پتوں میں ایک انزائم ’’پاپین‘‘ پایا جاتا ہے۔ جس میں 212 امائنو ایسڈ ہوتے ہیں۔ یہ انزائم جسم میں داخل ہو کر ڈینگی وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا کرتا ہے جس سے وائرس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ وائرس کے ختم ہونے سے خون میں پلیٹلٹس کی مقدار بھی نارمل ہو جاتی ہے۔ امائنو ایسڈ کے علاوہ پپیتہ کے پتوں میں وٹامن اے، سی، ای، کے، بی کمپلیکس اور بی 17 بھی پایا جاتا ہے۔

ان پتوں میں موجود فائٹو کیمیکل جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔ جسم میں مدافعتی نظام مضبوط ہونے کے باعث جسم میں داخل ہونے والا وائرس زیادہ پیچیدگیاں نہیں پھیلا سکتا۔ اس کے علاوہ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ’’پپیتہ‘‘ کے پتوں میں موجود ’’پاپین‘‘ میں اینٹی وائرل خصوصیات موجود ہیں۔ علاوہ ازیں ’’پاپین‘‘ کا استعمال دوسری بیماریوں جوڑوں کے درد، السر، جسم میں سوجن اور کینسر کی بیماریوں میں بھی مفید ہوتا ہے۔

پپیتہ کے پتوں میں شامل امائنو ایسڈ، معدنیات اور دوسرے قدرتی اجزاء جسم میں قوت پیدا کرتے ہیں اور مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں۔ اس میں شامل وٹامن چہرے کی جھریوں کو بھی کم کرتے ہیں۔ پپیتہ کے پتوں میں موجود فائٹو کیمیکل خون میں شامل ہو کر نہ صرف جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ خون میں اِن کے شامل ہونے سے ایسے کیمیائی اجزاء اینٹی باڈیز پیدا ہوتی ہے جو ڈینگی وائرس پر حملہ کر کے اُس کو غیر موثر بنا دیتی ہے۔

The post ڈینگی پھر سر اُٹھا رہا ہے! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Yk8k2u

موسم برسات میں جلدی امراض سے کیسے رہیں محفوظ؟

جس طرح آنسوؤں کا آنا دل دُکھنے کی خبر دیتا ہے، اسی طرح پسینے کا آناجسم میں گرمی کی خبر دیتا ہے، یا جسم کا لرزنا لاغری کی خبر دیتا ہے۔

برسات کے موسم کی خبر جہاں حبس سے ملتی ہے، وہاں جِلد ی امراض بھی اس کی گواہی دیتے ہیں۔ دراصل آلودہ ہوا خواہ گاڑیوں کے دھوئیں کی وجہ سے ہو یا صنعتوں کے فضلات کی وجہ سے ہو،  ہوا میں مختلف اجزاء میں تبدیلی کے ساتھ کئی جراثیم کی افزائش کا سبب بھی بنتی ہیں ۔

انسان کی جلد جہاں جراثیم کی وجہ سے بیمار ہوتی ہے وہاں مختلف کیمیائی ردِعمل سے بھی تغیر پذیر ہوتی ہے۔(مثلاً آکسیڈیشن یا ریڈکشن کا عمل) ، جس طرح اگر کوئی شخص اپنے سر کے بالوں کو کنگھی کر کے آلودگی سے بھرے علاقے جاتا ہے ، تو اس کے بال خشکی کی وجہ سے نہایت عجیب شکل اختیار کر تے ہیں، اور چہرے کی رنگت بھی زرد ی مائل ہو تی ہے، ساتھ ہی جِلد کے کئی خلیات ہوا میں موجود  دخانات (کاربن ڈائی آکسائیڈ) سے متاثر ہوتے ہیں۔

اسی طرح موسمِ برسات میں ہوا میں موجود نمی سے جِلد پر دانے ،خارش،کیل مہاسے وغیرہ نمودار ہوجاتے ہیں ۔جس طرح خشک ماحول میں جراثیم اُڑتے پھرتے ہیں ،اس کے برعکس موسم ِبرسات میں جراثیم کم اُڑتے ہیں، مگر جس جگہ بیٹھتے ہیں ، وہاں اپنے سَمّی (زہریلے) مواد خارج کرتے ہیں ،جب ان کا جلد کے ساتھ ردِعمل ہوتا ہے تو جلد بیمار ہوجاتی ہے خواہ یہ بیماری دانوں کی شکل میں ہو یا خارش کی صورت میں۔

پانی کسی بھی شے کو زندہ رکھنے کے لیے ایسی ضروری ہے کہ مٹی پرجاندار پودے نکل آتے ہیں،  اسی طرح نمی چھوٹے چھوٹے جراثیم کی افزائش کے لیے عمدہ آثارِ حیات مہیا کرتی ہے، اکثر جراثیم پیرازائیٹ ہوتے ہیں  یعنی جب خود افزائش پاتے ہیں تو اپنی میزبان (انسانی جلد) کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔اسی لیے علم طب کے مطابق خشکی پیدا کرنے سے ایسے اجسام مر جاتے ہیں۔

آلودہ ہوا میں موجود مختلف کیمیائی اجزاء پانی کے ساتھ ایک نیا تیزابی محلول بنا دیتے ہیں مثلاً اگر ہوا میں گندھک جیسے اجزاء ہیں تو بارش کا پانی ان کے ساتھ خاص محلول’ سلفیورک ایسڈ‘ بناتا ہے، جب یہ پانی انسان کے سر اور جلد پر گرتا ہے تو جلد وغیرہ کو جلا دیتا ہے حتی کے کئی عمارات کے رنگ کو خراب کردیتا ہے۔

اگر ہوا میں ’نائیٹروجن ‘محلول ہے تو ’نائیٹروجن آکسائیڈ ‘ کی بارش ہوتی ہے، الغرض یہ سب زہریلے تیزاب ہیں ، یہ گنجاپن کے علاوہ جلد پر شدید خارش پیدا کرتے ہیں۔ دھواں جو گاڑیوں سے خارج ہوتا ہے ، اس میں جلے ہوئے ایندھن کے اجزاء ہوتے ہیں جو ہوا میں جمع ہو جاتے ہیں سادہ پیٹرول کو تو کوئی ہاتھ میں لگانا پسند نہیں کرتا، مگر بارش کے ہمراہ ایک خاص محلول کی شکل میں یہ پیٹرول ہماری آنکھوں ، بال اور جلد تک پہنچ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے برسات کے موسم میں جلد پر نت نئے امراض نمودار ہوتے ہیں۔

علاوہ ازیں ہوا میں موجود چھوٹے چھوٹے ذرات بھی بارش کے ساتھ ہماری جلد پر گرتے ہیں ، جس کے نتیجے میں جلد کے مسامات بند ہوجاتے ہیں ،اب پسینہ اور دیگر زہریلیا مواد جو جسم پسینے کی راہ خارج کرتا ہے ، رُک جاتے ہیں اور خارش ،جلد پر دھبے،چکتے وغیرہ کا سبب بنتے ہیں۔جِلد کی راہ خون کی گرمائی بھی خارج ہوتی ہے، اور مسامات کے بند ہونے سے یہ گرمائی اندرونِ خلیات گُھٹ جاتی ہے،جس سے جلد پر جلن کا مرض لاحق ہوتا ہے۔

مثال ایسی ہے کہ ناک میں جب زیادہ دیر مخاط (ریٹھ) ٹھہر جاتی ہے تو پھنسیاں رونما ہوجاتی ہے اور ناک میں چبھن کی تکلیف سے دوچارہونا پڑتا ہے، ان کی وجہ بھی یہی ہے کہ ریٹھ ناک کے اندر کے مسامات کو عارضی طور پر بند کر دیتی ہے،جس کے نتیجے میں پھتسیاں نکلتی ہیں۔ نیز دانے ، پھوڑے،خون بہنا،چکتّے،سرخ پھنسیاں وغیرہ سب اپنے اندر رطوبت لیے ہوتے ہیں۔

ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے جومرہم لگایا جاتا ہے،وہ کیمیائی طور پر انہیں خشک کردیتا ہے، یہاں تک کے کھرنڈ جم جاتی ہیں، البتہ برسات کے موسم میںکھرنڈ اس لیے دیر سے بنتی ہے کہ موسم میں موجود نمی کی وجہ سے جلد کے زہریلے مواد دیر سے خشک ہوتے ہیں۔

معالج جب مشاہدہ کرلیتا ہے کہ یہ خارش مسامات میں کچھ پھنسنے کی وجہ سے ہوتی ہے تو تیل کی مالش کی ہدایت اس لیے کرتے ہیں کہ ذرہ پھسل جائے یوں مریض کو اس خارش سے نجات مل جاتی ہے مگر نم مواد کی وجہ سے اکثر دانے یا پیپ والے دانے کے علاج میں سفوف کے چھڑکنے کی ہدایت کی جاتی ہے جو زہریلی رطوبت کو خشک کرے۔ طب میں کہا جاتا ہے کہ ورزش سے جلد نکھرتی ہے، اس کی یہی وجہ ہے کہ تیز پسینہ مسامات کو کھول دیتا ہے۔

موسمِ برسات میں جلدی امراض سے کیسے بچیں:

1 ۔ جلد پر ’ٹالکم پاوڈر ‘ یا سفوف سنگ جراہت پھیلائے رکھیں۔

2  ۔ بارش کے پانی میں نہ بھیگیں ، اگر بھیگنا پڑے تو اچھے صابن سے نہا لیں۔

3  ۔ صبح کو غسل کے بعد جسم پر’ اینٹی سیپٹک‘ لوشن لگائیں۔

4  ۔ بارش میں بھیگنے کے بعد اگر جلد پر جلن ہو تو ’اینٹی ہسٹامن ‘دوائیں لیں۔

5  ۔ موسم برسات میں ٹھنڈی غذاؤں کا استعمال نہ کریںورنہ معدہ خراب ہوجاتا ہے۔

علاج

1 ۔ اگر جلد پر سرخ دانے نکلیں تو ’سفوف جدوار‘  چھڑکیں۔

2  ۔ اگر پھنسیاں رونما ہو ں تو روغنِ خشخاش کی مالش مفید ہے۔

3  ۔ اگر پیپ کے دانے جلد پر نکل آئیں تو مصفی ِخون  قہوے کے علاوہ اسگندھ کے سفوف کو چھڑکیں۔

4  ۔گول چکتّوں کی صورت میں ’جل ایلوویرا‘ مفید ہے۔

ایلوپیتھی علاج

اینٹی الرجک دوا ء دیں اور دانوں ، چکتوں پر مرہم ’بیٹا میتھاسون ‘ اور’ سیلی سک ایسڈ‘ ملیں۔

The post موسم برسات میں جلدی امراض سے کیسے رہیں محفوظ؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3gd837G

’’سنہرا دودھ‘‘ جو انسانی صحت کو ہزاروں فوائد بخشتا ہے

جرمنی میں صحت بخش ’سنہرا دودھ‘ تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے لیکن یہ ہے کیا؟

آپ کو شاید تعجب ہو، سنہرا دودھ دراصل ہلدی ملے دودھ کو کہتے ہیں، جسے برصغیر پاک و ہند کے لوگ صدیوں سے استعمال کر رہے ہیں۔

بھارت، پاکستان اور بنگلادیش جیسے جنوبی ایشیائی ممالک میں اندرونی چوٹوں اور جسمانی درد کی صورت میں ہلدی ملے دودھ کا استعمال عام بات ہے لیکن اب اس قدیمی آیورویدک نسخے کا استعمال جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں بھی بڑھ رہا ہے۔

یورپ میں ’ سنہرے دودھ‘ کو متبادل طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ اس کی غذائی خصوصیات کے باعث بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے اجزاء  شفا بخش قوتوں کے حامل اور انسانی مدافعتی نظام کے لیے بھی مفید ہیں اور اگر آپ اسے اپنی پسند کے مطابق تیار کر لیں، تو یہ لذیذ بھی ہوتا ہے۔

سنہری دودھ کے اجزاء اور خصوصیات

اس مشروب کی تیاری کے لیے پہلی چیز ظاہر ہے دودھ ہی ہے۔ لیکن اگر آپ سبزی خور ہیں یا ’ ویگان‘ ، یعنی گوشت، دودھ اور جانوروں سے حاصل کی گئی کسی بھی قسم کی مصنوعات استعمال نہیں کرتے، تو ایسی صورت میں آپ سویا، بادام یا ناریل کا دودھ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

دوسری چیز ہلدی ہے، جو اس مشروب کو سنہرا رنگ دیتی ہے۔ ہلدی کی اچھی رنگت اور ذائقے کے ساتھ ساتھ اس کے دیگر فوائد بھی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس میں ایسا اینٹی آکسیڈینٹ پایا جاتا ہے، جو سوزش ختم کرتا ہے۔ علاوہ ازیں ہلدی نظام ہضم کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔

کئی بار گولڈن مِلک نامی مشروب میں ہلدی کے ساتھ ساتھ ادرک اور دارچینی بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ ادرک کے بھی کئی طبی فوائد ہے اور اسے بھی قدیم چینی اور بھارتی طریقہ علاج میں کئی صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق انسانی نظام ہضم کو بہتر بنانے میں ادرک کافی معاون ثابت ہوتا ہے۔ ادرک یا انگریزی میں جنجر میں پائے جانے والے مادے جنجرولز کی انسداد سوزش کی خاصیت بھی مسلمہ ہے، جو پٹھوں کا درد ختم کرنے کے لیے بہت کارگر ہوتی ہے۔ ادرک کا استعمال ’بلڈ شوگر‘ میں بھی کمی لاتا ہے، جس کے باعث خاص طور پر ذیابیطس کے مرض میں مبتلا افراد کے دل کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خطرات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

سنہرا دودھ تیار کرنے کا نسخہ

مشروب کی تیاری کے لیے درج ذیل اشیاء درکار ہوتی ہیں:

دودھ: 300 ملی لٹر

ہلدی: 1 چائے کا چمچ

شہد: 1 چائے کا چمچ

دارچینی: 1/2 چائے کا چمچ

ادرک: 1 چائے کا چمچ

کالی مرچ: حسب ذائقہ

ناریل کا تیل: 1 چائے کا چمچ

دودھ کو ہلکی آنچ پر رکھیں تاکہ اس میں ابال نہ آئے۔ اس میں درج بالا اشیاء ایک ایک کر کے ڈالتے جائیں اور ساتھ ساتھ دودھ کو چمچ سے ہلاتے رہیں۔ اچھی طرح مکس کرنے کے بعد اسے چھان کر کپ میں ڈالیں، صحت بخش اور لذیذ سنہرا دودھ تیار ہے۔

The post ’’سنہرا دودھ‘‘ جو انسانی صحت کو ہزاروں فوائد بخشتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3aGXgSj

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن:  چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا م...