Wednesday, 30 September 2020

صرف ایک ڈالر کا اوپن سورس آلہ سماعت تیار کرلیا گیا

جارجیا: دنیا بھر میں آلہ سماعت کی قیمتیں ہزاروں روپے سے لے کر سینکڑوں ڈالر تک ہوسکتی ہے لیکن اب جارجیا ٹیک کے انجینیئروں نے تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اوپن سورس ہیئرنگ ایڈ بنایا ہے جس کی قیمت صرف ایک ڈالر ہے۔

افریقہ اور ایشیا کے غریب ممالک کے بزرگ اور بچے اب بھی ہیئرنگ ایڈ باآسانی حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ بڑی مقدار میں تیاری پر یہ آلہ سماعت صرف 160 روپے میں فراہم کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح خود پاکستان میں بھی اچھے ہیئرنگ ایڈ کی قیمت کسی بھی طرح ہزاروں روپے سے کم نہیں ہوتی۔

جارجیا ٹیک یونیورسٹی کے ماہرین نے اسے ’لاک ایڈ‘LoCHAid کا نام دیا ہے جس میں ارزاں برقی آلات استعمال کیے گئے ہیں۔ اوپن سورس ہونے کی بنا پر یہ آلہ دنیا بھر کے کسی بھی انتہائی پسماندہ علاقے میں باآسانی چھاپا جاسکتا ہے جہاں ہزاروں لاکھوں افراد آلہ سماعت سے محروم ہیں۔

کم خرچ آلے کا معیار عین عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیوایچ او) کے مطابق ہے۔ فی الحال اس کا پہلا نمونہ کسی ایئرفون والے میوزک پلیئر سے ملتا جلتا ہے۔ تاہم اس کی ڈیزائننگ میں تبدیلی کرکے اسے کان کی پشت والے ہیئرنگ ایڈ کی طرح بنایا جاسکتا ہے۔

جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے نائب پروفیسر سعد بھاملہ اور نے بنایا ہے۔ ان کے مطابق سب سے اہم مشکل یہ تھی کہ اسے کس طرح بین الاقوامی معیار کے تحت بنایا جائے اور کس طرح یہ لاکھوں کروڑوں غریب افراد کے ضرورت پر پورا اترسکتا ہے۔

پوری دنیا میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کے ایسے 20 کروڑ افراد ہیں جو ثقلِ سماعت میں مبتلا ہیں اور آلہ سماعت خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ بالخصوص غریب اور وسط آمدنی والے ممالک کے صرف تین فیصد ضرورت مندوں کے پاس آلہ سماعت ہے اور باقی اس سے محروم ہیں۔ صرف امریکہ میں ہی ایک آلہ سماعت 3 سے 5 ہزار ڈالر میں دستیاب ہے۔

سماعت کی کمزوری خفت اور مشکلات کے ساتھ ساتھ خود حادثات کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔ ایک جانب تو سڑک پر ٹریفک کی آواز نہ سننے سے حادثات ہوسکتے ہیں اور دوسری جانب سماعت نہ ہونے سے چلنے پھرنے کا عمل بھی غیرمتوازن ہوجاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ثقلِ سماعت اکتساب اور دماغی صلاحیت کو بھی کم کردیتی ہے۔

ایک ڈالر کے آلے کو بطورِ خاص بزرگوں کے لئے بنایا گیا ہے اور اس میں خاص فلٹر لگائے گئے ہیں جو اطراف کے شور کو دباتے ہیں اور صرف بولنے والے کی آواز ہی سناتے ہیں۔

The post صرف ایک ڈالر کا اوپن سورس آلہ سماعت تیار کرلیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/30EgBzN

موسم سرما : بچوں اور بڑوں کو لاحق بیماریاں، احتیاط اور علاج

جوں جوں سردی کا موسم قریب آتا ہے، ننھے منے پھول جیسے بچے زیادہ سردی لگنے سے مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہونے لگتے ہیں۔

بچوں کا مدافعتی نظام اتنا مضبوط نہیں ہوتا، اس لیے وہ تھوڑی سی بد احتیاطی سے بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سردیوں میں ناک بہنا ، زکام، کھانسی، بخار، سانس کا تیز چلنا بچوں میں ہونے والی عام علامات ہیں۔ ان سب پر مناسب توجہ سے آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔

ان حالتوں میں زیادہ تر سانس کے نظام کا اوپر والا حصہ متاثر ہوتا ہے۔ یہ عموماً وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن کوئی اور بیکٹیریا بھی انفیکشن کرسکتا ہے اور مناسب توجہ نہ دینے کی وجہ سے نمونیہ اور ٹی بی جیسے موذی مرض بھی ہوسکتے ہیں جس سے بچے کے لیے بہت زیادہ مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

علاج اور بچاؤ

-1نظام تنفس کے اوپر کے حصہ کی بیماریاں جنہیںURTIبھی کہتے ہیں یا تو وائرس کی وجہ سے ہوتی ہیں یا پھر بیکٹیریا کی وجہ سے۔ ان میں بچہ بے چین ہوتا ہے۔ بخار کی وجہ سے جسم گرم محسوس ہوتا ہے۔ ٹانسل اور نظام تنفس کے اوپر والے حصے کے دوسرے حصے سوجے اور پھولے نظر آتے ہیں۔ سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ ان سب حالات میں ماں کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس کا کام ہے کہ تسلی سے بچہ کی حرکات و سکنات اوررویے میں تبدیلی کو دیکھے اور ان حالات میں بچے کو ایک صاف اور ہوا دار کمرے میں رکھا جائے۔ دوسرے صحت مند بچوں کواس سے دور رکھا جائے۔

-2بخار وغیرہ کی صورت میں بچے کو کچھ نہ کچھ کھلاتے پلاتے رہنا چاہیے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ مائیں اس صورت میں بچے کو کھلانے پلانے سے احتراز کرتی ہیں۔ ماں کو بد ستور اپنا دودھ پلاتے رہنا چاہیے اور زیادہ تر پینے والی اشیاء دینا چاہئیں۔

-3بچے کی نیند اور آرام کا مکمل خیال رکھنا چاہیے۔

-4اگر ٹمپریچر زیادہ ہو تو پھر ٹھنڈی پٹیاں کر کے اس کو کنٹرول کرنا چاہیے۔

-5بخار کم کرنے کے لیے کوئی بخار کم کرنے والی دوا استعمال کریں لیکن 12سال سے کم عمر بچوں میں اسپرین یا ڈسپرین کبھی استعمال نہ کی جائے کیونکہ اس سے جگر اور دماغ کی بیماری ہوسکتی ہے۔

-6مچھلی کا تیل(Cod liver oil) یا شہد بچوں کے لیے اچھی غذا ہے اور یہ نظام تنفس کے امراض کو روکنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

-7بہت سے ایسے امراض ہیں جن میں اینٹی بائیوٹکس دواؤں کے استعمال کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ان کی ضرورت وائرس سے ہونے والی انفیکشن میں بالکل نہیں ہوتی۔

اگر اوپر دی گئی ہدایات پر عمل کرنے سے بچے کا بخار کم نہ ہو اور سانس میں رکاوٹ بد ستور بر قرار رہے تو پھر ڈاکٹر سے مشورہ کرکے بچے کا باقاعدہ علاج شروع کروانا چاہیے تاکہ باقاعدہ تشخیص کرکے صحیح علاج کیا جاسکے۔

 بڑی عمر کے لوگوں میں ہونے والی علامات، بیماریاں اور علاج

سردیوں کے موسم میں بچوں کی طرح بڑے بھی مختلف بیماریوں اور چیسٹ انفیکشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جان لیوا خشک کھانسی اور بلغمی کھانسی پیچھانہیں چھوڑتی۔ گلے میں سوجن کی وجہ سے آواز نہیں نکلتی۔ زکام کی وجہ سے ہر وقت ناک بہتا رہتا ہے۔ دمہ کے مریضوں میں انفیکشن کی وجہ سے دمہ کے مرض میں شدت آجاتی ہے۔

 خشک اور بلغمی کھانسی کا علاج

انسانی جسم کا مدافعتی نظام بہت مضبوط ہے۔ جب بھی جسم پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے جسم کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا مقابلہ کیا جائے۔ کھانسی کا آنا بھی اسی مدافعتی نظام کا حصہ ہے۔ کھانسی کے ذریعے سانس کی نالی کے اوپر والے حصے سے جمی ہوئی بلغم باہر نکلتی ہے جس سے سانس لینا آسان ہو جاتا ہے۔

کھانستے رہنے سے سانس کی نالی صاف ہوتی رہتی ہے۔ اس بلغم کا اخراج نہ ہو تو سانس کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور یوں سانس پھولنے اور دمہ کی بیماری کے حملے ہونے لگتے ہیں۔ اس لیے اس طرح کی کھانسی کو روکنے کے لیے کسی قسم کی دوا کی ضرورت نہیں رہتی۔

اصل میں کھانسی کی دوا صرف اور صرف اس وقت استعمال کرنا چاہیے جب اس کے ساتھ ساتھ دوسری تکالیف ہوں یعنی بخار یا کوئی اور انفیکشن جن کا علاج بہت ضروری ہے۔

بعض اوقات گرم پانی اور نمک کے غرارے کرنے یا پھر بھاپ لینے سے کھانسی دور ہو جاتی ہے۔ مختلف قسم کی نت نئی کھانسی کی دوائیں حقیقتاً کھانسی روکنے میں ذرا بھی مدد نہیں کرتیں۔ ان کا بے جا استعمال صرف اور صرف پیسے کا ضیاع ہے۔ اس لیے ان کے استعمال سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔

زکام اور سر درد سے نجات

بعض نام نہاد حکیم اور جعلی ڈاکٹر ذرا سے زکام میں مختلف دواؤں کی کاک ٹیل بنا کر دیتے ہیں جس میں درد دور کرنے والی دوا الرجی کے لیے دوا، اینٹی بائیوٹک دوا اور سٹیر ائیڈ شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس سے فوری افاقہ تو ہو جاتا ہے لیکن ان دواؤں کے مضر اثرات کی وجہ سے بعد میں خاصے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

زکام یا فلو ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے جس میں ان ساری دواؤں کے استعمال کا ذرا بھی فائدہ نہیں۔ زکام میں ناک میں ڈالنے والی یا بند ناک کھولنے والی دواؤں سے حتی المقدور پرہیز کریں کیونکہ اس سے بلڈ پریشر اور خون کی نالیاں سکڑنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

اس لیے بہتر ہے کہ ایسی تمام دواؤں کے استعمال سے بچا جائے۔ تاہم زکام کی وجہ سے اگر سر درد یا بخار ہو تو اس صورت میں سر درد یا بخار کے لیے پیراسٹا مول یا ڈسپرین لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس طرح زکام میں سٹیرائیڈز اور اینٹی بائیوٹک دواؤں کے استعمال کا بالکل کوئی فائدہ نہیں۔ زکام ہونے کی صورت میں مندرجہ ذیل آسان گھریلو نسخے پر عمل کریں:

٭زکام یا فلو ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے جس پر مختلف قسم کی دواؤں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس کا سب سے بہتر علاج بھاپ لینا ہے۔ بھاپ لینے سے وائرس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

٭زکام کے دوران وٹامن سی کا استعمال بھی فائدہ مند ہے۔ وٹامن سی کے لیے اورنج جوس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

٭زکام کے دوران سوپ لیں اور جوشاندہ وغیرہ کا استعمال کریں۔

٭کھانسی اور گلے کی خراش کی صورت میں غرارے کریں۔

٭ملٹھی کا استعمال کریں۔

گلے کے امراض کے لیے دوائیں اور علاج

گلے کی مختلف تکالیف کے لیے دواؤں کا استعمال کرتے وقت اس بات کا تعین کرنا بہت ضروری ہے کہ واقعی دوا کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ معمولی گلا خراب ہونے یا گلے میں خارش ہونا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ کھانے پینے میں احتیاط نہ کرنے اور بہت زیادہ ٹھنڈی یا زیادہ گرم اشیاء کھانے سے بھی گلا خراب ہو جاتا ہے۔ جو ایک آدھ دن بعد خودبخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گلے میں انفیکشن ہونے کی صورت میں اینٹی بائیوٹک دواؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرلیا جائے۔ گلے کی معمولی تکلیف بعض اوقات صرف غرارے کرنے سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تکلیف زیادہ دیر برقرار رہے تو بہتر ہے ڈاکٹر کے مشورہ سے علاج کیا جائے۔

آسان اور متبادل علاج

گلے کی تکالیف دور کرنے کے لیے مندرجہ ذیل آسان آزمودہ نسخوں پر عمل کریں۔

٭نیم گرم پانی میں نمک ملا کر باقاعدگی سے غرارے کریں۔

٭ادرک کے رس میں شہد ملا کر چاٹنے سے بھی گلا ٹھیک ہو جاتا ہے۔

٭ذرا سی سونف منہ میں ڈال کر دن میں کئی بار چبائیں اور اس کا رس نگل لیں۔

٭آواز بیٹھ جانے کی صورت میں آدھا لیٹر پانی میں تھوڑی سی سونف ڈال کر پکائیں۔ چوتھا حصہ رہ جائے تو اسے اتار کر حسب ذائقہ چینی ملا کر دو تین بار دن میں استعمال کریں۔ آواز ٹھیک ہو جائے گی۔

٭ایک چمچ ’’سرکہ‘‘ پانی میں ڈال کر غرارے کریں۔

٭ایک لیموں کو پانی میں دس منٹ تک ابالیں۔ اس کا جوس نکال کر ایک گلاس میں ڈالیں۔ اس میں دو چمچ گلیسرین ڈال کر اچھی طرح ہلائیں، دو چمچ شہد ڈالیں اور گلاس کو پانی سے بھر لیں۔ کھانسی کا قدرتی شربت تیار ہے۔ گلے کی خرابی میں ہونے والی کھانسی کے دوران 5 دن تک دو چمچ صبح، دوپہر، شام استعمال کریں ان شاء اللہ افاقہ ہوگا۔

٭ملٹھی اور سونف کا استعمال بھی کھانسی روکنے میں ممد ثابت ہوتا ہے۔

دمہ میں استعمال ہونے والی دوائیں، احتیاط اور علاج

دمہ بچوں اور بڑوں کے لیے ایک بہت تکلیف دہ بیماری ہے۔

اس میں بار بار سانس اکھڑتا ہے جو بعض حالتوں میں خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

دمہ بعض اوقات الرجی کرنے والی اشیاء مثلاً گرد، ہاؤس مائٹ، پولن گرین یا کھانے پینے کی اشیاء کی وجہ سے ہوتا ہے یا پھر انفیکشن کی وجہ سے جس کی و جہ سے سانس کی نالیوں میں بلغم جمع ہو جاتا ہے ان حالتوں میں سب سے بہتر علاج الرجی کرنے والے عناصر سے پرہیز اور انفیکشن کو کنٹرول کرنا ہے۔ n

The post موسم سرما : بچوں اور بڑوں کو لاحق بیماریاں، احتیاط اور علاج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2GqfT1s

نفسیاتی مسائل، اسباب، غذا اور بچاؤ کی تدابیر

 ڈپریشن، اینگزائٹی ، ٹینشن، اور اسٹریس کا جدید دور کے مہلک ، موذی اور خطر ناک عوارض میں شمار ہوتا ہے۔ ہم میں سے اکثریت کسی نہ کسی حوالے اورکسی نہ کسی طرح سے ذہنی تناؤ، اعصابی دباؤ، نا اْمیدی اور تشویش میں مبتلا پائی جاتی ہے لیکن ہم میں سے زیادہ تر افراد اس کے ادراک سے قاصر ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مْطابق ہر سال ڈپریشن، اینگزائٹی اورسٹریس جیسے امراض کی وجہ سے دنیا بھر میں لاکھوں انسان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

پاکستان کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستانی شہریوں میں ذہنی امراض میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ان کی وجہ سے نفسیاتی و سماجی مسائل میں بھی زیادتی ہو رہی ہے۔خوشحال اور آ سودہ زندگی کا ہماری ذہنی حالت سے گہرا تعلق ہے۔ مثبت اور تعمیری سوچ کوآسودہ حال زندگی کی دلیل خیال کیا جاتا ہے۔

ماحول کی غیر موزو نیت ، حالات کی نا موافقت اور معاشی و سماجی الجھنیںزندگی کو اس قدر پیچیدہ نہیں بناتیں جس قدر ہم منفی و تخریبی سوچ کے انداز سے خود اپنے لئے زندگی کو مشکل اور تکلیف دہ بنا لیتے ہیں۔ حسد، ہوس،کینہ ، نفرت، تکبر اور بغض و بخل جیسے قبیح جذبات روح کو گھن کی طرح سے کمزور کرتے جا رہے ہیں۔ روح کمزور ہونے سے ذہنی و جسمانی امراض کی بہتات ہو رہی ہے۔

طب ِ قدیم کی رو سے انسانی جسم میں پائے جا نے والے اخلاط صْفراء ، سوداء، بلغم اور خون میں سے کسی ایک کی کمی یا زیادتی با لخصوص سوداء کی زیادتی اور خون کی کمی دماغی و ذہنی امراض کا باعث بنتی ہے۔سوداء کا غلبہ ہونے سے دماغی جھلیوں میں خشکی بڑھ جاتی ہے اور خلیات کو خون کی رسد بہم نہ ہو پانے کی وجہ سے ذہنی صلاحیتوں میں کمزوری  واقع ہونے لگتی ہے۔

چونکہ انسانی دماغ پورے جسم کے افعال کو کنٹرول کرتا ہے اور بدنِ انسانی کی تمام تر صلاحیتوں کا دارو مدار بھی دماغی کارکردگی پر ہو تا ہے۔ عضلات کے ذریعے سے جسم کے تمام نظام دماغ کے زیرِ انتظام افعال سر انجام دیتے ہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ دماغی آسودگی، صحت مندی اورمضبوطی پورے بدنِ انسانی کی درستگی، صحت اور مضبوطی کی دلیل مانی جاتی ہے۔ خلط سودا کی زیادتی پریشان خیالی ، وسواس، وہم ، مایوسی ، افسردگی ، ناامیدی ، بے یقینی کی کیفیت اور خوف کی حالت پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔

ہر وقت سوچوں میں غلطاں رہنے کی عادت اورچہرے پر بارہ بجے رہنے کی کیفیت دماغی کمزوری اور ذہنی بے چینی کی علامات میں زیادتی کا باعث بنتی ہیں۔علاوہ ازیں نفرت، ناکامی، انتقام اور حرص و ہوس جیسے قبیح جذبات بھی ذہنی بیماریاں بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔عشق محبت میں مایوسی ہونا، کاروباری معاملات میں نقصانات اٹھا نا بھی دماغی و نفسیاتی امراض کی وجہ بنتے ہیں۔ جدید طبی تحقیقات کی رو سے دماغی میٹا بولزم میں خرابی پیدا ہو جانے سے دماغی پیغام رساں خامرات نیورو ٹرانس میٹرزکی کا کردگی متاثر ہو نے کی وجہ سے دماغی امراض رو نما ہو نے لگتے ہیں۔

علاوہ ازیں نیورو پائین فرائن اور سیرو ٹونن کے افراز میں کمی واقع ہونے یا دماغی خلیات تک مناسب رسائی نہ ہو نے کی وجہ سے بھی ذہنی عوارض پیدا ہونے لگتے ہیں۔انسانی جسم میں وٹامن بی 12 اور فولک ایسڈکی مطلوبہ مقدار میں کمی واقع ہو نے اور سکون آور ادویات کے متواتر اور بے دریغ استعمال کرنے سے دماغی شرائن تک خون کے سرخ ذرات کی با قا عدہ رسد میں رکاوٹ پیدا ہونا،بلڈ پریشر، ذیا بیطس، دائمی قبض، اچانک حادثات، ذہنی صدمات، طویل عرصے تک نیند پو ری نہ ہو سکنا، مقاصد میں مسلسل ناکامیوں کا سامنا  ہونا اور ازدواجی الجھنوں میں گھرے رہنا بھی ذہنی اور دماغی امراض کا سبب بنتے ہیں۔

متواتر اور لگاتار سوچتے رہنے سے اعصابی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ تفکرات میں گھرے رہنے سے نظامِ انہضام بھی تباہ ہو جاتا ہے۔بسا اوقات بھوک کی کمی و اقع ہو جانے سے مریض کئی کئی روز کچھ کھاتا پیتا نہیں جس کی وجہ سے جسمانی عوارض پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر ذہنی مسائل کا بر وقت تدارک نہ کیا جائے تو مریض مایوسی، تشویش اور ناامیدی میں مبتلا ہو کر سکون آور ادویات کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔

وہ کسی بھی ایسے ذریعہ کی تلاش کرتا ہے جو اسے اس بے چینی، اضطراب اور بے یقینی کی کیفیت سے نجات دلائے۔اس مقصد کے لئے وہ جائز اور ناجائز ہر دو طریقے اپنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ایسا کرنا مریض کی صحت کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بدنصیبی سے ہمارے ملک میں صحت کے حوالے سے لوگوں میں پوری طرح سے شعور اجاگر نہ ہو پایا ہے۔اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اپنی ذہنی کیفیات معالج اور اپنے دوست و احباب سے بیان کرنے میں قباحت محسوس کرتے ہیں۔اگر ابتداء سے ہی ذہنی مسائل کے متعلق ادراک حاصل کرلیا جائے تو بعد ازاں کئی ایک نفسیاتی اور سماجی الجھنوں سے محفو ظ ر ہا جا سکتا ہے۔

غذائی علاج: دماغی امراض میں کیلا کمال فوائد کا حامل پھل ہے۔جدید تحقیق کی رو سے کیلے میں ایسے کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو کھانے والے کو افسردگی، اداسی، چڑچڑے پن، بد مزاجی اورمایوسی کی کیفیت سے محفوظ رکھتے ہیں۔ مغزیات جیسے بادام، پستہ، اخروٹ، چلغوزہ، مونگ پھلی وغیرہ بھی دماغ کی تقویت اور حفاظت میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔دھیان رہے کہ مغزیات کا ضرورت سے زیادہ استعمال کئی ایک دوسرے عوارض کا باعث بن سکتا ہے۔لہذا موسم کی مناسبت سے ان کا استعمال  لیکن اپنے معالج کی اجازت کے بغیر ہر گز نہ کریں۔

طبی ماہرین نے دماغی کمزوری کے لئے خمیرہ جات، مربہ جات، مقویات، مفرحا ت، اطریفلات، معجونات، جوارشات اور روز مرہ استعمال کی جانے والی غذاؤں میں سے مخصوص اجزاء کی حامل اشیاء کو بہترین قرار دیا ہے۔ زنک اور مر جان کو دماغی کمزوری سے نجات حاصل کرنے کے بہترین ہتھیار کہا جاتا ہے۔ دماغی خلیات تک آکسیجن کی رسد کے لیے فولاد کا بنیادی کردار مانا جاتا ہے۔

فولاد چستی بڑھاتا اور دماغ کو کام کرنے پر اکساتا ہے۔ کیلشیم اور فاسفورس کو دماغی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیئے خاص نسبت دی جاتی ہے۔خمیرہ گاؤزبان سادہ، خمیرہ گاؤزبان عنبری، خمیرہ گاؤزبان جواہر دار،خمیرہ مرواریدوغیرہ کو کیلشیم کا کمال درجے کا ماخذقرار دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ کیلشیم انسانی دماغ میں قوتِ برداشت، مضبوط یاد داشت،کام کرنے کی ہمت اور طاقت پیدا کرتا ہے۔ پالک، شلجم، مٹر، باتھو، لال چولائی، سلاد، بند گوبھی، دودھ، بالائی، دہی، مکھن، چھاچھ، انڈا، بادام، پستہ اور اخروٹ میں قدرتی طور پر کیلشیم کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔

موسمی پھلوں کا مناسب اور متوازن استعمال کر کے بھی ذہنی امراض سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ پھلوں میں موجود کیلیشیم، فاسفورس، فولاد، وٹامنز اے، بی اور سی کی وافر مقدار آپ کو نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی طور پر بھی صحت مند و توانا بنادے گی۔صفرا و سودا کی زیادتی کے مریض جو کے دلیے میں پھل ملا کر ناشتہ کرنے کو معمول بنا کرلذت اور صحت ایک ساتھ حاصل کر سکتے ہیں۔

گھریلو علاج:  بطورِگھریلو علاج درج ذیل تدابیر پر عمل پیرا ہو کر آپ خاطر خواہ حد تک صحت مند اور آسودہ حال ہو جائیں گے۔

زرشک شیریں ایک چمچی رات کو عرق گلاب میں بھگو کر نہار منہ زرشک شیریں کھا کر عرق کلاب پی لیا جائے۔منجملہ دماغی عوارض سے نجات کا بہترین قدرتی ذریعہ ہے۔برہمی بوٹی 1گرام، مغز بادام 7عدد فلفل سیاہ 3عددخشخاس 1گرام رات کو پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ بطریق سردائی گھوٹ کر تازہ مکھن10گرام شامل کرکے استعمال کریں ۔ یہ گھریلو ترکیب کمال فوائد اور صریح الا ثر تاثیر کی حامل ہے۔آزمائش شرط ہے۔اس کے استعمال سے دماغی کمزوری سمیت کئی دیگر فوائد بھی مل جایا کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں مندرجہ ذیل مقوی دماغ حریرہ بھی شاندار شفایابی کا ذریعہ بنتا ہے:

مغز بادام 7عدد، مغز کدو، مغز تربوز، مغز خربوزہ، خشخاس، نشاستہ3,3 گرام کی مقدار باہم پانی میں گھوٹ کر 1پاؤ خالص دودھ ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں ۔جب دودھ نصف رہ جائے تو 25گرام گائے کا مکھن ملاکر جوش دیکر اتار لیں۔ روزانہ صبح و شام نہار منہ 1چمچ دودھ کے ساتھ کھا ئیں۔

جملہ امراضِ دماغی،خشکی،نیند کی کمی،دائمی نزلہ و زکام اور دماغی کمزوری سے نجات دلانے کے لئے بہترین نسخہ ہے۔ علاوہ ازیں معجون نجاح،خمیرہ گاؤزبان عنبری، دوا ء المسک معتدل سادہ، حب ایارج، مفرح شاہی، مفرح شیخ الرئیس، خمیرہ مروارید، اطریفلِ صغیر، اطریفلِ زمانی، برشعشاء مربہ آملہ، سیب، بہی، ہرڑ اور مربہ گاجر کی مخصوص مقدار اپنے معالج کے مشورے سے استعمال میں لائی جا سکتی ہے۔

ذہنی امراض سے بچاؤ کی گھریلو تراکیب

دماغی امراض سے نمٹنے اور ان سے نجات حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی ذہنی حالت سے متعلق مکمل طور پر واقف ہوں اور ہم یہ تسلیم کریں کہ واقعی ہماری دماغی کیفیت میں خرابی پیدا ہو چکی ہے۔عام طور پر مْختصر دورانیئے کی متاثرہ دماغی حالت کو بخوبی جلد ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔اس مقصد کے لئے انتظامی تراکیب استعمال کر کے ہم کم عرصے کی کیفیت سے پیچھا چھڑا نے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔لیکن طویل عرصے کے پیدا شدہ عوارض سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ہمیں اپنا طرزِ رہن سہن، رویے اور ماحول کو تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔اگر ہم پھر بھی اپنی حالت میں بہتری پیدا کرنے میں کام یاب نہ ہوں تو پھر ماہرِ نفسیات سے مشاورت کرنا ہی لازمی ہو جاتا ہے۔

یاد رہے کہ ذہنی امراض سے نجات دلانے کے لئے دو طرح کے نفسیات داں ہوتے ہیں۔ایک وہ جو دماغی امراض کا علاج ذہنی کیفیت کو بھانپ کر مریض کی سوچ اور طرزِ فکر میں اپنے مخصوص انداز اور لفظوں کے اثر سے تبدیلی پیدا کرتے ہیں، انہیں سائکالوجسٹ کہا جاتا ہے جبکہ دوسرے وہ جو مرض میں شدت پیدا ہونے کی وجہ سے ضروری اور سکون آور ادویات کا استعمال کرواکر مریض کو بیماری سے نجات دلاتے ہیں۔ایسے ماہر نفسیات کو سائکاٹرسٹ کہا جاتا ہے۔دھیان رہے اگر ذہنی امراض کا باعث دماغی کمزوری ہواورکمزوری کا سبب جسمانی عوارض ہوں تو پہلے ان سے چھٹکارا حاصل کریں۔اس سلسلے میںکسی ماہر معالج سے رجوع کرتے ہوئے غذا اور دواتجویز کروائیں۔

ضروری وضاحت:  انسانی وجود تین اجزاء کا مجموعہ ہے۔روح ،نفس اورجسد۔روح کا مرکز دل ہو تا ہے۔نفس کی آما جگاہ دماغ مانی جاتی ہے۔جبکہ انسانی جسد کا دار ومدار جگر پر ہو تا ہے۔دل میں قوتِ حیوانی پائی جاتی ہے۔دماغ میں عقلیہ و شہوانیہ قوتیں براجمان ہو تی ہیں۔جگر پر قوتِ طبعی کا انحصارہو تا ہے۔قوتِ طبعی ایک ایسی صلاحیت کو کہا جاتا ہے جو پورے انسانی بدن کو حرارت پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ روح اور نفس کی صحت مندی یا بیماری کادارو مدار قوتِ طبعی پر ہو تا ہے۔جگر مذکورہ حرارت پہنچانے والی قوت یا ایندھن کھائی جانے والی غذا سے حاصل کرتا ہے۔

انسانی جسم کو جوغذائی اجزاء درکار ہوتے ہیں ان میں کیلشیم، پوٹاشیم، میگنیشیم، فاسفورس کلورین آیوڈین، سوڈیم، گندھک، فولاد وٹامنز، نشاستہ، پروٹین، آکسیجن اور چکنائیاں وغیرہ شامل ہیں۔ روح اور نفس کی تمام تر کار کردگی کا انحصار انہی اجزاء پر ہو تا ہے۔غذا کی بہتری یا ابتری قوتِ حیوانیہ، قوتِ عقلیہ اور قوتِ شہوانیہ کی صلاحیتوں کا تعین کرتی ہے۔خالقِ کائنات نے فرشتوں کو قوتِ عقلیہ سے نواز کراپنا قربِ خاص عطا کیا،حیوانات کو شہوت کی طاقت فراہم کر کے ا نہیںکائنات کی رونقوں میں اضافے کا ذریعہ بنادیا لیکن حضرت انسان کوعقل اور شہوت دونوں ہی دیں تاکہ وہ اپنے انتخاب کی بناء پر اپنا مقام خود بنائے۔

جب انسان قوتِ عقلیہ کا استعمال کرتا ہے تو وہ اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل کرکے مسجودِ ملائک کہلاتا ہے۔لیکن جب وہ قوتِ شہوت سے مغلوب ہوتا ہے تو حیوانوں سے بھی کمتر درجے میںشمار ہونے لگتا ہے۔یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری صلاحیتوں کے پروان چڑھنے میں ہماری غذا کا بنیادی اور اہم کردار ہوتا ہے۔روح کی مضبوطی اور توانائی کے لئے اللہ کا ذکر پہلی غذا ہے۔بطورِ مسلمان ہمارا ایمان ہو نا چاہئے کہ ” خبر دار!دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے” فرقانِ حمید کے اس حکم پر پوری طرح سے عمل پیرا ہوں۔ ہمہ وقت اللہ کی یاد کثرت سے کریں۔

تاکہ روحانی طور پر ہم مضبوط ہو سکیں۔ نفس کی غذا ہم نے اپنی خوراک کے ذریعے سے حاصل کرنی ہوتی ہے۔اب اگر ہم شہوانی جذبات کو بھڑکانے والی اشیاء کا استعمال کریںگے تو ہمارے اندر قوتِ شہوانیہ مضبوط ہو کر ہمیں حیوانی صفات سے متصف کردے گی۔اور اگر ہم عقلی جذبات کو بڑھاوا دینے والے اجزاء کا انتخاب کریں گے تو ہم قوتِ عقل سے ما لا مال ہو کر فرشتوں سے بھی بلند مقام پر فائز ہو کر ارض و سماء کو مسخر کرنے والے بن جائیں گے ۔ایسی تمام غذائیں جو ہمارے دماغ کی مضبوطی کاباعث بنتی ہیں ہم ان کا استعمال تواتر سے کریں۔

غذا و پرہیز: دھیان رہے کہ قدرتی اجزاء سے تیار اور ملاوٹ سے پاک خوراک ہی صحت مندی کا سبب بنتی ہے۔ مصنوعی اجزاء سے تیار اور ملاوٹ شدہ غذائیں صحت کی بجائے بیماری کا باعث بن کر مزید مسائل کا باعث ثابت ہو سکتی ہیں۔ فاسٹ فوڈز، کولا مشروبات، بیکری مصنوعات، چکنائیاں، مٹھائیاں، بینگن، دال مسور، بڑا گوشت، برائلر، آئسکریم، چاکلیٹس، کافی، سگریٹ نوشی، خالی پیٹ چائے اور قہوہ، منشیات کا استعمال، بادی، مرغن اور ترش غذاؤں سے مکمل دور رہا جائے۔

تمام موسمی سبزیاں، پھل، پھلوں کے رس، خالص شہد، اناج، اجناس اور ترکاریاں حسب ضرورت اور گنجائش لازمی استعمال کی جانی چاہیں۔ دودھ، دہی، مکھن، خشک میوہ جات اور مربہ جات کی مناسب مقدار روز مرہ خوراک میں لازمی شامل کریں۔ تیز قدموں کی سیر اور پسینہ آور ورزش بھی بے حد لازمی اور مفید ہے۔یاد رہے کہ سورج کی روشنی میں کی جانے والی سیر ہی فائدہ مند ہوسکے گی۔

The post نفسیاتی مسائل، اسباب، غذا اور بچاؤ کی تدابیر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3l05NDE

Tuesday, 29 September 2020

سانس کو جراثیم اور وائرس سے پاک کرنے کیلئے کیلشیئم والا نمک

ہارورڈ: کووِڈ 19 کے بعد دنیا بھر میں فضا میں اڑنے والے جراثیم اور وائرس سے بچاؤ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ اب ایک امریکی کمپنی نے کیلشیئم سے بھرپور نمک کے باریک ذرات بنائے ہیں جو انسان کے لیے تو بے ضرر ہیں لیکن بہت حد تک جراثیم اور وائرس کا قلع قمع کرسکتے ہیں۔

فینڈ نامی امریکی اسٹارٹ اپ کمپنی نے یہ اہم طبی شے ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی تحقیق کے بعد تیار کی ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ یہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو بھی روک سکتی ہے۔

کمپنی کے مطابق مائیکرون جسامت سے چھوٹے وائرس اور ذرات انسانی ناک کے ذریعے منہ، سانس کی نالی اور پھر جسم میں داخل ہوجاتے ہیں۔ صحت کے لیے مضر اتنے باریک ذرات کو عام ماسک سے روکنا محال ہوتا ہے۔ اس پر تحقیق کے بعد اس کی رپورٹ مالیکیولر فرنٹیئر میں بھی شائع ہوئی ہے۔ کیلشیئم والے نمک پر ڈاکٹر ڈیوڈ ایڈورڈ اور ڈاکٹر رابرٹ لینگر نے تحقیق کی ہے جو بالترتیب ہارورڈ اور ایم آئی ٹٰی کے سائنسداں ہیں۔

نمک کو 92 افراد پر آزمایا گیا جن میں بچے، خواتین اور مرد شامل تھے اور ان پر تین مختلف صورتحال میں نمک آزمایا گیا۔ یعنی ایک گروہ نے دفتر یا کام کی جگہ پر نمک آزمایا، دوسرا گروہ گھر تک محدود تھا اور تیسرےگروہ کو ماسک پہنایا گیا۔ واضح رہے کہ نمک میں کوئی اور دوا شامل نہیں کی گئی ہے جو منہ، ناک اور سانس کی نالی میں حیاتیاتی ذرات (بایوایئروسول) میں کمی کرتی ہے۔ اس طرح باہرخارج شدہ سانس میں بایوایئروسول میں 99 فیصد تک کمی دیکھی گئی جبکہ مجموعی طور حیاتیاتی ذرات میں 75 فیصد تک کمی نوٹ کی گئی۔

اس ایجاد کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ باہر نکلنے والی سانس میں سے جراثیم اور وائرس کا بہتر انداز میں خاتمہ بھی کرتی ہے۔ اس طرح وائرس ذدہ آبادی سے دوسروں کو متاثر ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب یہ خود صحت مند افراد کو کورونا جیسے وائرس سے بھی بچاتی ہے۔

پہلے مرحلے میں 74 کارکن اور دو بچے شامل کیے گئے جو کورونا سے پاک تھے۔ ان کی عمریں 15 سے 66 برس کے درمیان تھیں۔ ان کی اکثریت غیرمعمولی طورپراپنے منہ سے تھوک اور آبی بخارات خارج کرنے والی تھی۔ ان سب کے منہ پر کیلشیئم کلورائڈ اور سوڈیئم کلورائڈ نمک کا اسپرے کیا گیا جسے پانی میں گھولا گیا تھا۔ حیرت انگیز طور پر ان کے ناک اور منہ سے انتہائی باریک بخارات خارج ہونے کی شرح 78 فیصد تک کم ہوگئی۔

ماہرین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کیلشیئم نمک والے پانی استعمال کرنے سے سانس کی نالی میں جراثیم اور وائرس والے آبی بخارات کئی گھنٹے تک بہت کم رہے ۔ اس طرح فینڈ کی ایک خوراک کئی گھنٹوں تک جراثیم اور وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتی ہے۔

The post سانس کو جراثیم اور وائرس سے پاک کرنے کیلئے کیلشیئم والا نمک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/33cfpoJ

Study Finds People Have Short-Lived Immunity to Seasonal Coronaviruses

Caption: Artistic rendering of coronaviruses. Credit: iStock/Naeblys A key metric in seeking to end the COVID-19 pandemic is the likely duration of acquired immunity, which is how long people infected with SARS-CoV-2, the novel coronavirus that causes COVID-19, are protected against reinfection. The hope is that acquired immunity from natural infection—or from vaccines—will be long-lasting, but data to confirm that’s indeed the case won’t be in for many months or years. In the meantime, a useful place to look for clues is in long-term data on reinfections with other seasonal coronaviruses. Could the behavior of less life-threatening members of the coronavirus family give us some insight into what to expect from SARS-CoV-2? A new study, published in the journal Nature Medicine, has taken exactly this approach. The researchers examined blood samples collected continuously from 10 healthy individuals since the 1980s for evidence of infections—and reinfections—with four common coronaviruses. Unfortunately, it’s not particularly encouraging news. The new data show that immunity to other coronaviruses tends to be short-lived, with reinfections happening quite often about 12 months later and, in some cases, even sooner. Prior to the discovery of SARS-CoV-2, six coronaviruses were known to infect humans. Four are responsible for relatively benign respiratory illnesses that regularly circulate to cause the condition we recognize as the common cold. The other two are more dangerous and, fortunately, less common: SARS-CoV-1, the virus responsible for outbreaks of Severe Acute Respiratory Syndrome (SARS), which ended in 2004; and MERS-CoV, the virus that causes the now rare Middle East Respiratory Syndrome (MERS). In the new study, a team led by Lia van der Hoek, University of Amsterdam, the Netherlands, set out to get a handle on reinfections with the four common coronaviruses: HCoV-NL63, HCoV-229E, HCoV-OC43, and HCoV-HKU1. This task isn’t as straightforward as it might sound. That’s because, like SARS-CoV-2, infections with such viruses don’t always produce symptoms that are easily tracked. So, the researchers looked instead to blood samples from 10 healthy individuals enrolled for decades in the Amsterdam Cohort Studies on HIV-1 Infection and AIDS. To detect coronavirus reinfections, they measured increases in antibodies to a particular portion of the nucleocapsid of each coronavirus. The nucleocapsid is a protein shell that encapsulates a coronavirus’ genetic material and serves as important targets for antibodies. An increase in antibodies targeting the nucleocapsid indicated that a person was fighting a new infection with one of the four coronaviruses. All told, the researchers examined a total of 513 blood samples collected at regular intervals—every 3 to 6 months. In those samples, the team’s analyses uncovered 3 to 17 coronavirus infections per study participant over more than 35 years. Reinfections occurred every 6 to 105 months. But reinfections happened most frequently about a year after a previous infection. Not surprisingly, they also found that blood samples collected in the Netherlands during the summer months—June, July, August, and September—had the lowest rate of infections for all four seasonal coronaviruses, indicating a higher frequency of infections in winter in temperate countries. While it remains to be seen, it’s possible that SARS-CoV-2 ultimately may share the same seasonal pattern after the pandemic. These findings show that annual reinfections are a common occurrence for all other common coronaviruses. That’s consistent with evidence that antibodies against SARS-CoV-2 decrease within two months of infection [2]. It also suggests that similar patterns of reinfection may emerge for SARS-CoV-2 in the coming months and years. At least three caveats ought to be kept in mind when interpreting these data. First, the researchers tracked antibody levels but didn’t have access to information about actual illness. It’s possible that a rise in antibodies to a particular coronavirus might have provided exactly the response needed to convert a significant respiratory illness to a mild case of the sniffles or no illness at all. Second, sustained immunity to viruses will always be disrupted if the virus is undergoing mutational changes and presenting a new set of antigens to the host; the degree to which that might have contributed to reinfections is not known. And, third, the role of cell-based immunity in fighting off coronavirus infections is likely to be significant, but wasn’t studied in this retrospective analysis. To prepare for COVID-19 this winter, it’s essential to understand how likely a person who has recovered from the illness will be re-infected and potentially spread the virus to other people. While much more study is needed, the evidence suggests it will be prudent to proceed carefully and with caution when it comes to long-term immunity, whether achieved through naturally acquired infections or vaccination. While we await a COVID-19 vaccine, the best way to protect yourself, your family, and your community is to take simple steps all of us can do today: maintain social distancing, wear a mask, avoid crowded indoor gatherings, and wash your hands. References: [1] Seasonal coronavirus protective immunity is short-lasting. Edridge AWD, Kaczorowska J, Hoste ACR, Bakker M, Klein M, Loens K, Jebbink MF, Matser A, Kinsella CM, Rueda P, Ieven M, Goossens H, Prins M, Sastre P, Deijs M, van der Hoek L. Nat Med. 2020 Sep 14. doi: 10.1038/s41591-020-1083-1. [Published online ahead of print.] [2] Rapid decay of anti-SARS-CoV-2 antibodies in persons with mild Covid-19. Ibarrondo FJ, Fulcher JA, Goodman-Meza D, Elliott J, Hofmann C, Hausner MA, Ferbas KG, Tobin NH, Aldrovandi GM, Yang OO. N Engl J Med. 2020 Sep 10;383(11):1085-1087. Links: Coronavirus (COVID-19) (NIH) Lia van der hoek (University of Amsterdam, the Netherlands)

Post Link

Study Finds People Have Short-Lived Immunity to Seasonal Coronaviruses

NIH Blog Post Date



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/3n2d7R3

کسی دوا کے بغیر سرطانی خلیات کو تباہ کرنے میں کامیابی

سنگاپور سٹی: سائنسدانوں نے ٹیکنالوجی کے ذریعے ’بہروپ‘ بھرے انداز میں کینسر کے خلیات پر حملہ کرکے ان کا قلع قمع کیا ہے۔ یہ تجربات زندہ جانوروں پر کئے گئے ہیں جس میں کوئی دوا استعمال نہیں کی گئی ہے۔

اس بالکل نئی ٹیکنالوجی میں نینو ذرات کو ایل فینائل ایلانائن نامی امائنو ایسڈ میں ڈبویا گیا ہے۔ یہ کئی ایسے کئی ایسڈ میں سے ایک ہے جس کی بدولت سرطانی خلیات نشوونما پاتے ہیں۔ ایل فینائل ایلانائن جسم میں نہیں  بنتے بلکہ گوشت اور ڈیری مصنوعات سے اسے ہمارا جسم جذب کرتا ہے۔

تجرباتی طور پر چوہوں پر نینواسکوپک فینائل ایلانائن پورس امائنو ایسڈ ممک یا Nano-pPAAM کا نام دیا گیا ہے۔ جب یہ کینسر کے خلیات کے پاس جاتےہیں تو وہ خود کو اس کا دوست سمجھتے ہیں لیکن دھیرے دھیرے کینسر کو گھلادیتےہیں۔ لیکن وہ اطراف کے صحتمند خلیات کو نقصان نہیں پہنچاتے۔

سنگاپور کی نانیانگ یونیورسٹٰی کے پروفیسر ڈالٹن ٹے نے یہ کام کیا ہے جس میں نینومٹٰریل کو دوا لے جانے والے نظام کی بجائے خود دوا کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اس عمل میں ایل فینائل ایلانائن کسی ٹروجن ہارس کا روپ دھار کر اندرونی طور پر نینوتھراپی کرتا ہے۔

Nano-pPAAM کو مختلف چوہوں پر آزمایا گیا تو چھاتی، آنتوں اور جلد کے 80 فیصد سرطانی خلیات ختم ہوگئے جو کیموتھراپی سے بھی ممکن نہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس میں کوئی مضراثریا سائڈ افیکٹ بھی سامنے نہیں آیا۔ تاہم انسانوں پر اس کی آزمائش کئی برس دوری پر ہے لیکن ابتدائی تجربات بہت حوصلہ افزا ہیں۔

The post کسی دوا کے بغیر سرطانی خلیات کو تباہ کرنے میں کامیابی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/343nhIs

کورونا وائرس کی روایتی چینی دوا کی پاکستان میں طبّی آزمائشوں کا آغاز

کراچی: جامعہ کراچی کے ڈاکٹر پنجوانی مرکز برائے سالماتی طب و ادویاتی تحقیق (پی سی ایم ڈی) میں انڈس ہاسپٹل کے تعاون سے ناول کورونا وائرس کے خلاف مؤثر چینی دوا کی طبّی آزمائشوں (کلینیکل ٹرائلز) کا آغاز ہوگیا ہے۔ یہ بات بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) کے سربراہ ڈاکٹر اقبال چوہدری نے ایک اجلاس کے دوران بتائی۔

تفصیلات کے مطابق ’’پی سی ایم ڈی‘‘ کے ذیلی ادارے، سینٹر فار بایو ایکوی ویلنس اسٹڈیز اینڈ کلینیکل ریسرچ (سی بی ایس سی آر) میں ’’جنہوا کنجن گرینولس‘‘ نامی یہ روایتی چینی دوا آئندہ پانچ سے دس دنوں کے دوران کووِڈ 19 کے ایسے 300 پاکستانی مریضوں پر آزمائی جائے گی جو اس وائرس سے معتدل طور پر متاثر ہیں۔ یعنی ان میں یہ بیماری موجود تو ہے لیکن بہت شدید کیفیت میں نہیں۔

واضح رہے کہ بایو ایکوی ویلنس میں عام طور پر قدیم اور روایتی ادویہ کے اثرات پر جدید سائنسی اصولوں کے مطابق تحقیق کرکے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ آیا یہ ادویہ آج کے دور کی ایلوپیتھک دواؤں جیسے اثرات رکھتی ہیں یا نہیں۔

مذکورہ چینی دوا مختلف قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ سیکڑوں سال سے استعمال ہورہی ہے جسے حالیہ عالمی وبا کا باعث بننے والے ناول کورونا وائرس کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر مفید پایا گیا۔ تاہم اس پر جدید طبّی تقاضوں اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی وضع کردہ گائیڈ لائنز کی مطابقت میں تحقیق ہونا باقی تھی۔

ڈاکٹر اقبال چوہدری نے اجلاس کو بتایا کہ یہ طبّی آزمائشیں ’’نیشنل بایو ایتھکس کمیٹی‘‘ اور ’’ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان‘‘ (ڈریپ) کی منظوری سے شروع کی جارہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سینٹر فار بایو ایکوی ویلنس، جامعہ کراچی دراصل ’’ڈریپ‘‘ کے جاری کردہ ایک لائسنس کے تحت ملکی اور غیر ملکی مارکیٹ کو کلینیکل ٹرائلز (طبّی آزمائشوں) کی سہولت فراہم کرنے کےلیے ایک کنٹریکٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی حیثیت سے کام کرتا ہے جو چینی اور مغربی ممالک کی ادویاتی کمپنیوں کو یہ سہولت فراہم کرتا رہا ہے۔

اس اجلاس میں سینٹر فار بایو ایکوی ویلنس کے سربراہ اور اس کلینیکل ٹرائل کے نگراں پروفیسر ڈاکٹر رضا شاہ کے علاوہ شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، وزیر اعظم پاکستان کی ٹاسک فورس برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمان (ایف آر ایس)، چیئر پرسن ڈاکٹر پنجوانی میموریل ٹرسٹ محترمہ نادرہ پنجوانی اور حسین ابراہیم جمال فاؤنڈیشن کے سربراہ عزیز لطیف جمال بھی موجود تھے۔

The post کورونا وائرس کی روایتی چینی دوا کی پاکستان میں طبّی آزمائشوں کا آغاز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3cDG29n

Monday, 28 September 2020

روغنیات۔۔۔ غذائیت بھی اور دوا بھی

ہمارے یہاں تیل کا استعمال عموماً کھانا پکانے کے لیے کیا جاتا ہے، مگر زمانۂ قدیم سے تیل مختلف جسمانی مسائل میں بطور دوا کے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

بازار میں انواع و اقسام کے تیل دست یاب ہیں۔ یہاں میں ہم چند مفید تیلوں کا ذکر کر رہے ہیں، جن کے خواص و فوائد سے آگاہ ہوکر آپ بھی مطلوبہ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

السی کا تیل:

کسی بھی قسم کے درد میں السی کے تیل کا مساج فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دمہ، نزلے، بلغمی کھانسی کی شکایات کی صورت میں بھاپ لے کر نیم گرم پانی میں دو قطرے السی کا تیل ملا کر پینا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ السی میں چونے کا پانی ملاکر پھوڑے پھنسیوں اور جسم کے جلے ہوئے مقامات پر لگانے سے بھی کافی افاقہ ہوتا ہے۔

روغن بادام شیریں:

یہ تیل جسمانی نشوونما میں بے حد اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچوں سے لے کر بزرگوں تک اور مرد و خواتین، سبھی کی صحت کے لیے یکساں مفید ہے۔ ایک چھوٹے چمچے کے برابر روغن بادام شیریں نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے قبض کی شکایت دور ہوتی ہے۔ سر اور جسم میں اس کی مالش سے خشکی دور ہوتی ہے اور بے خوابی کی شکایت رفع ہوتی ہے۔ جسم میں چُستی اور توانائی پیدا ہوتی ہے اور دماغ اور بصارت کو تیز کرتا ہے۔ بالوں کی نشوونما میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔

مچھلی کا تیل:

حافظہ بڑھانے میں اس تیل کا جواب نہیں۔ اس کی مالش ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے۔ دائمی نزلے، جوڑوں کے درد، پٹھوں کے درد اور عرق النسا میں بھی یہ بے حد مفید ہے۔ بچوں کے اس تیل کی مالش کرنے سے وہ بیماریوں سے محفوظ اور چاق وچوبند رہتے ہیں۔

روغن نیم:

سر میں اس کی مالش بالوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ خشکی، سکری اور جوؤں کا خاتمہ کرتی ہے۔ خارش وغیرہ سمیت مختلف جلدی امراض،  یہاں تک کہ ایگزیما وغیرہ میں بھی مفید بتایا جاتا ہے۔ چند قطرے غذا میں شامل کر لیں، تو اس سے خون صاف ہوتا ہے۔

روغن مولی:

یہ قبض کشا اثرات کا حامل ہے۔ بالوں میں لگانے سے جوؤں اور خشکی کا خاتمہ کرتا ہے۔ چہرے کے داغ دھبوں پر رات کو سوتے وقت ہلکے ہاتھوں سے مالش کریں، تو بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔

روغن میتھی:

ذیابیطس (شوگر) کے مریض اس کو گھیکوار کے حلوے کے ساتھ استعمال کریں، تو جسمانی کمزوری دور کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ خون کی کمی اور اعصابی کمزوری کو دور کرنے میں بہترین ہے۔ اسے نیم گرم کر کے اگر پسلیوں اور پیٹھ کی مالش کی جائے تو بلغم دور کرتا ہے اور اگر پٹھوں اور جوڑوں پر مالش کی جائے تو اسے بھی آرام پہنچاتا ہے۔

لونگ کا تیل:

پٹھوں اور جوڑوں اور کمر درد کی صورت میں سرسوں کے تیل میں ملا کر مالش کرنے سے آرام آ جاتا ہے۔ دانت کے درد میں اگر دو قطرے روئی کے پھائے پر کھ کر متاثرہ دانت پر رکھ لیں، تو افاقہ ہوتا ہے۔ فالج اور لقوہ کے مریضوں کو بھی اس کی مالش سے فائدہ ہوتا ہے۔ تاہم گرم موسم میں اس کے استعمال سے پرہیز کریں۔

روغنِ بابونہ:

جسم کے ورم کو تحلیل کرتا ہے، بوقت ضرورت نیم گرم کر کے متاثرہ جگہ پر مالش کریں، سر اور جسم میں اس کی مالش اعصاب کو سکون دے کر توانائی پیدا کرتی ہے۔ بے خوابی کی شکایت دور کرتی ہے۔

The post روغنیات۔۔۔ غذائیت بھی اور دوا بھی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3cJpBbp

بچوں میں ذہنی دباؤ۔۔۔

صرف بڑے ہی نہیں، بچے بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ بچوں کے اندر بڑھتے ہوئے ذہنی مسائل آج ایک بڑا مسئلہ ہیں۔

ہمارے معاشرے میں جو بہت زیادہ پیچیدگیاں اور بہت سخت مقابلے کی فضا پیدا ہوچکی ہے، اس سے کئی بچے ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔ بچے والدین کی توقعات پر پورے نہیں اتر رہے، جو اسکول کی تعلیم سے وابستہ ہوتی ہیں۔ بہت زیادہ مقابلے بازی، بچے کو بہت جلد اسکول داخل کروانے کا دباؤ، اسکولوں میں کمزور تدریسی ماحول اور غیر معیاری تعلیم باہم مل کر بچے کے لیے معاشرتی، جذباتی اور سیکھنے کے عمل میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

بچوں میں دباؤ کی ایک بڑی وجہ ان سے بہت زیادہ غیر معمولی توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں۔ دیکھا جائے، تو پوری دنیا میں تعلیم یافتہ والدین کی اپنے بچے کے بارے میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ امتحانات میں سب سے زیادہ نمبر لے اور جو بھی کام کرے ، اس میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرے اور جب ان کی توقعات پر بچہ پورا نہیں اترتا، تو وہ اس کو ملامت کرتے ہیں اور ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ دوسرے بچوں کی مثال پیش کرتے ہیں۔ جو پڑھائی میں ان کے بچے سے آگے ہوتے ہیں۔ انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کا یہ رویہ بچے پر کس قدر منفی اثر ڈالے گا۔ یہ رویہ بچے کو غیر محفوظ بناتا ہے اور اس کے اعتماد کو بھی کم کرتا ہے۔

اکثر والدین یہ سنگین غلطی کرتے ہیں کہ کب بچے کی  گھر کی یا اسکول کی کارکردگی کا دوسروں کے بچوں کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں یا دوسرے بچوں کی مثالیں دیتے ہیں یا پھر انہیں یہ کہہ کر ڈراتے ہیں کہ تم نہیں کر سکتے، تم کر ہی نہیں سکتے ہو، یہ انداز بچے کے اندر احساس کمتری کو جنم دیتا ہے اور ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ بچے پر جذباتی لعن طعن کا بھی اس پر نہایت برا یعنی منفی اثر پڑتا ہے جو بچے کی شخصیت کو مسخ کر کے رکھ دیتا ہے۔

بہت زیادہ ذہنی دباؤ بچے کی صلاحیتوں کو بھی متاثر کرتا ہے اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کل کے دور میں ایک عام بچہ بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ بچوں کے ذہنی اور جسمانی دباؤ کی وجوہات کوئی نئی نہیں ہیں۔ بچوں کے ذہنوں پر اسکول کے حوالے سے بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے، جہاں اسے بہت زیادہ ہوم ورک اور اس سے بڑھ کر امتحان اور ٹیسٹوں کا دباؤ رہتا ہے، جس کے لیے انہیں زائد وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔ ایک اور وجہ جو بچوں کی پریشانی کا باعث بنتی ہے وہ بچے کا ٹی وی، موبائل اور نیٹ وغیرہ پر بہت زیادہ وقت برباد کرنا ہے۔

ان سب سے بڑھ کر والدین بچوں سے اسکول میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے یا بورڈ کے پیپرز میں اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے، جو بچوں کے نوخیز ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور اسی وجہ سے بچے ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں، جو بعض اوقات بہت پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔

بچوں میں ڈپریشن اس وقت ہوتا ہے جب بچے یہ سوچنا شروع کردیں کہ کوئی دوسر ان پر توجہ نہیں دے رہا ان کی باتیں اور پریشانیاں محسوس نہیں کر رہا، مسائل کو نہیں سمجھ رہا اور انہیں ناپسند کیا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بسا اوقات بڑے بچوں کی تکالیف اور جذباتی محرومیوں کو سمجھ نہیں پاتے۔ اسکول کا دباؤ اور ذمہ داریاں بڑھنے کا احساس بعض بچوں کے لیے اس سے کامیابی کے ساتھ نمٹنے کے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم خود کو یہ باور کرائیں کہ بچوں کے جو مسائل ہمارے لیے غیر اہم ہیں وہ ان کے لیے بہت ہی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

بچوں میں ڈپریشن کی علامات دیکھی جاسکتی ہیں جب کبھی آپ کا بچہ ڈپریشن کا شکار ہو تو ممکن ہے کہ وہ اس موضوع پر بات کرنا پسند کرے۔ آپ کے لیے پہلی علامت ممکن ہے کہ اس کے رویے میں تبدیلی ہو، جو منتشر اور غمگین ذہن کی نشاندہی کرے ایک بچہ جو بہت متحرک ہو اور بہت سے کاموں میں شامل ہو مگر ایک دم خاموش ہوجائے اور ہر چیز سے بچنے کی کوشش کرے یا ایک اچھا طالب علم کمتر پوزیشن حاصل کرنے لگے۔ اب اسے ماہرانہ رائے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح محسوسات میں تبدیلی بھی ممکن ہے مگر کیسے؟ آپ کا بچہ ناخوشی کا اظہار کرے ، غم زدہ ہو، خوف زدہ ہو جائے یا ٹھکرائے جانے کا احساس رکھے۔ سردرد یا پیٹ درد کی تکلیف کا اظہار کرے ۔ توانائی میں کمی یا سونے اور کھانے میں مسائل پیدا ہو رہے ہوں یا تمام وقت سستی اور تھکن کی شکایت کرے یہاں تک کہ وہ خودکشی کے بارے میں سوچنا شروع کر دے۔ ایسے بچے سے بات چیت کریں۔ گفتگو سے اندازہ ہوجائے گاکہ وہ کیسے جذبات و احساسات رکھتا ہے بچہ خاموش رہنا چاہے تو بھی اسے گفتگو پر آمادہ کریں، تاکہ وہ اپنی مشکلات آپ سے بیان کرے۔

ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کے شکار بچوں کو اسکول کاؤنسلنگ ضروری ہے۔ ڈپریشن قابل علاج ہے۔ بچے نوجوانوں اور بڑوں کو ڈپریشن سے نکلنے کے لیے مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے پہلے تو اپنے خاندانی معالج سے ابتدا کی جانی چاہیے کہ کہیں کوئی جسمانی وجہ تو بچے کو پریشان نہیں کر رہی ہے۔

اس کا موڈ خراب ہے تو کیوں؟ پھر بچے کے اسکول کے بارے میں بات چیت کریں۔ اس کے ٹیچر سے پتا کریں کہ بچے کا رویہ ان اساتذہ اور ساتھی بچوں کے ساتھ کیسا ہے؟ اسکول کونسلر یا خاندانی ڈاکٹر ممکن ہے کہ آپ کے بچے کو کسی نفسیاتی یا ذہنی کلینک جانے کا مشورہ دے اور اگر نزدیک کوئی ایسا کلینک نہ ہو تو ممکن ہے قریب میں کوئی نفسیات دان یا ماہر نفسیات موجود ہو جو بچوں کے لیے خصوصی مہارت رکھتا ہو۔

پہلے مرحلے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ اپنے بچے کے ڈپریشن کی شناخت کر سکیں۔ جب تک یہ علم نہ ہو کہ بچہ کیوں ڈپریس ہے آپ خود کو بدحواس نہ کریں، تھراپسٹ سے چند نشستوں میں بچے کی مشاورت ہو جائے، تو یہ بچہ نارمل ہوجائے گا۔

نفسیاتی عوارض بھی جسمانی عارضوں کی طرح ایک حقیقت ہیں، اس کے حوالے سے خود بھی قبولیت پیدا کریں اور لوگوں کو بھی اس سمت قائل کریں کہ جیسے ہم جسمانی صحت کے لیے علاج کراتے ہیں، بالکل ایسے ہی ذہنی صحت کو بھی بعض اوقات علاج کی حاجت ہو سکتی ہے اور اس میں بڑوں کے ساتھ بچے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

The post بچوں میں ذہنی دباؤ۔۔۔ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3i9XdjJ

کیا بچوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہے؟

لندن: تین لاکھ سے زیادہ افراد پر کی گئی ایک عالمی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 20 سال سے کم عمر نوجوانوں اور بچوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ، بڑی عمر کے لوگوں سے 44 فیصد تک کم ہے۔

اس تحقیق میں دنیا بھر میں کورونا وائرس انفیکشن سے متعلق کیے گئے 32 مطالعات سے حاصل شدہ معلومات (ڈیٹا) کا تجزیہ کیا گیا جن میں 269,000 بالغ مردوں اور عورتوں کے علاوہ 20 سال سے کم عمر کے تقریباً 42,000 نوجوان اور بچے شامل تھے۔

ریسرچ جرنل ’’جاما پیڈیاٹرکس‘‘ کے تازہ ترین شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، یہ موازنہ یکساں حالات اور ماحول کا سامنا کرنے والے بچوں اور بڑوں پر کیا گیا جس سے پتا چلا کہ 20 سال سے کم عمر والے افراد میں ناول کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ، بڑی عمر والے افراد کے مقابلے میں واضح طور پر کم ہے۔

خاص بات یہ تھی کہ 10 سال سے کم عمر بچوں میں ناول کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ سب سے کم تھا۔

یہ بھی معلوم ہوا کہ گھروں میں رہنے والے بچے، جن کی عمریں 12 سے 14 سال کے درمیان تھیں، ان میں بالغ افراد کی نسبت کورونا وائرس متاثر ہونے کا امکان 59 فیصد کم تھا؛ چاہے گھر میں کوئی اور فرد کورونا وائرس سے متاثر ہی کیوں نہ ہوچکا ہو۔

البتہ اس تحقیق کے نگراں اور یونیورسٹی کالج لندن میں ’’انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ‘‘ کے ڈاکٹر رسل وائنر نے ان نتائج کو امید افزا قرار دیتے ہوئے محتاط رہنے کی درخواست کی ہے اور اس بارے میں مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ نتائج ایک ایسے وقت میں شائع ہوئے ہیں جب پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں کورونا وبا کی شدت کم ہوچکی ہے اور وہاں اسکول، کالج اور جامعات سمیت مختلف تعلیمی ادارے کھلنا شروع ہوگئے ہیں۔

ڈاکٹر رسل وائنر نے کہا کہ اگرچہ تعلیمی ادارے کھولنا یا نہ کھولنا ایک انتظامی فیصلہ ہے لیکن ’’اس کا انحصار سیاست پر نہیں بلکہ ٹھوس بنیادوں پر کی گئی سائنسی تحقیق پر ہونا چاہئے۔‘‘

The post کیا بچوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/36gvCuU

بھارت کا آئندہ برس کے اوائل میں کورونا ویکسین کی دستیابی کا دعویٰ

نئی دہلی: بھارت کے وزیر برائے صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ برس کے شروع میں ملک میں تیار کردہ کورونا ویکسین مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر صحت اور عالمی ادارہ صحت کے ایگزیکیٹو بورڈ چیئرمین ڈاکٹر ہرش وردھن نے دعویٰ کیا ہے بھارت میں 2021 کے پہلے تین ماہ کے اندر مارکیٹ میں دستیاب ہوں گی۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے مزید کہا کہ کم از کم 3 ویکسین کا ٹرائل آخری مرحلے میں داخل ہوگیا ہے اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں، جاری تحقیق کے نتائج کے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کورونا ویکسین 2021 کی پہلی سہ ماہی کے اندر دستیاب ہوجائے گی۔

یہ خبر پڑھیں : بھارت کے کورونا ویکسین کی تیاری کے دعوے پر عالمی ادارہ صحت کا تحفظات کا اظہار

قبل ازیں انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے سربراہ ڈاکٹر بلرام بھرگاوا نے بھارت بائیوٹیک انڈیا کے اشتراک سے کورونا ویکسین 15 اگست تک تیار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، عالمی ادارہ صحت سمیت بھارتی ماہرین نے بھی اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 82 ہزار 170 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 60 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ بھارت کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔

The post بھارت کا آئندہ برس کے اوائل میں کورونا ویکسین کی دستیابی کا دعویٰ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3mXKog2

Sunday, 27 September 2020

ذیابیطس کی عام دوا سے ڈیمنشیا کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے، تحقیق

سڈنی: آسٹریلوی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں استعمال کی جانے والی عام دوا ’’میٹفورمن‘‘ جہاں خون میں گلوکوز کو کنٹرول میں رکھتی ہے وہیں دماغ کو بھی تقویت پہنچاتی ہے جس سے ڈیمنشیا اور اس جیسے دوسرے دماغی امراض کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

نیو ساؤتھ ویلز، آسٹریلیا میں کئی طبّی اداروں کے اشتراک سے کی گئی اس تحقیق کےلیے 2005 میں عمر رسیدگی اور یادداشت سے متعلق شروع کیے گئے ایک طویل مدتی مطالعے کے اعداد و شمار سے مدد لی گئی۔

یہ مطالعہ آج بھی جاری ہے اور اس میں شریک 1037 افراد کی عمریں 70 سے 90 سال کے درمیان ہیں۔ ان میں سے 127 افراد ذیابیطس کے مریض بھی ہیں، جن میں میٹفورمن کے استعمال اور ڈیمنشیا کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

ان افراد کی جسمانی اور ذہنی صحت سے متعلق چھ سال پر محیط اعداد و شمار کو کھنگالنے کے بعد یہ پتا چلا کہ ان میں سے وہ افراد جو ’’میٹفورمن‘‘ کی مدد سے ذیابیطس کنٹرول کررہے تھے، ان کے دماغ کم انحطاط پذیر ہوئے اور ان کےلیے ڈیمنشیا سمیت دوسری دماغی بیماریوں کا خطرہ بھی نمایاں طور پر کم رہا۔

اس کے برعکس وہ عمر رسیدہ افراد جو ذیابیطس میں مبتلا نہیں تھے یا پھر ذیابیطس کنٹرول کرنے کےلیے میٹفورمن کے بجائے کوئی اور دوا استعمال کررہے تھے، ان میں ڈیمنشیا اور دیگر دماغی امراض کی شرح واضح طور پر زیادہ نظر آئی۔

یہ تحقیق امریکن ڈائبٹیز ایسوسی ایشن کے مجلّے ’’ڈائبٹیز کیئر‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ 2017 میں بھی میٹفورمن اور سرطان کے حوالے سے ایک تحقیق کے نتائج شائع ہوچکے ہیں جن سے معلوم ہوا کہ یہی دوا اضافی طور پر مختلف سرطانوں کے امکانات کم کرتی ہے۔ میٹفورمن اور ڈیمنشیا میں تعلق کے بارے میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے۔

The post ذیابیطس کی عام دوا سے ڈیمنشیا کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3ihqObn

ہیپاٹائٹس فری پاکستان کیلئے مل کر جدوجہد کرنا ہوگی!!

 پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں اور اس حوالے سے پاکستان کا شمار ہیپاٹائٹس سے متاثرہ خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے۔

اس مرض کی سنگین صورتحال کے پیش نظر کے موقع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میںایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہرین صحت نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم کی رپورٹ نذر قارئین ہے۔

ڈاکٹر خالد محمود

(پراجیکٹ منیجر ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام پنجاب)

رواں سال ہیپاٹائٹس کے عالمی دن (جو کہ ہر برس 28 جولائی کو منایا جاتا ہے) کا پیغام ’ہیپاٹائٹس فری فیوچر‘ ہے۔ نوازئیدہ بچے ہمارا مستقبل ہیں لہٰذا ہمیں انہیں محفوظ رکھنا ہے۔ بچے کو پیدائش کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر حفاظتی ٹیکے لگوائے جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ حاملہ ماں کی سکریننگ بھی کی جائے ۔ ’ہیپاٹائٹس فری فیوچر‘ منصوبے کے 5 ستون ہیں جن میں بچاؤ، ٹیسٹ اور علاج، سب کی شمولیت، پروگرام کو وسیع کرنا اور اسے برقرار رکھنا شامل ہیں۔ ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور بچاؤ کیلئے آگاہی دے رہے ہیں۔

مفت ٹیسٹ اور علاج کیا جارہا ہے، دور دراز علاقوں کے لوگوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، پروگرام کو وسیع بھی کر رہے ہیں اور کورونا کی وباء کے دوران بھی ہم نے اسے برقرار رکھا ہے۔ ہمارا مائیکرو پری وینشن کا پروگرام بہترین ہے، ہم گھر گھر جا کر مریض ڈھونڈھ رہے ہیں اور ہیپاٹائٹس کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ اسے عالمی ادارہ صحت نے بھی سراہا ہے اور دنیا ہمارے کام کی معترف ہے۔

گورنرپنجاب کی ہدایت پر ہم نے سب سے پہلے بہاولپور یونیورسٹی میں تمام طلبہ اور سٹاف کی سکریننگ کی اور متاثرہ افراد کو مفت علاج بھی فراہم کیا۔ ہم ہیپاٹائٹس فری یونیورسٹی پروگرام کے تحت پنجاب کے تمام تعلیمی اداروں کی سکریننگ کریں گے۔پنجاب کے ضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں 144 کلینک کام کر رہے ہیں ، ان کی تعداد میں اضافہ ضروری ہے۔

ہمارے ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کا ماڈل ایجوکیٹ، پریوینٹ، ٹیسٹ اینڈ ٹریٹ ہے اور ہم اس کے تحت ہی ہیپاٹائٹس کے خلاف بڑی لڑائی لڑ رہے ہیں اور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔کورونا وائرس کی اس مشکل صورتحال میں بھی ہم نے ہیپاٹائٹس کا علاج جاری رکھا جو ہمارے بہترین نظام کا عکاس ہے۔

ہیپاٹائٹس سے متاثرہ ممالک میں ہم پہلے نمبر پر ہیں لہٰذا ہمیں اس کے خلاف بڑی لڑائی لڑنی ہے۔ اس کے لیے ہر شخص کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ علامات نے خود نہیں بتانا کہ ہیپاٹائٹس ہے بلکہ اس کیلئے ہمیں خود کو جاننا ہوگا، اپنا ٹیسٹ کروانا ہوگا اور پازیٹیو آنے پر مکمل علاج بھی کروانا ہوگا۔ حکومت ہیپاٹائٹس کے حوالے سے تمام سہولیات مفت فراہم کر رہی ہے۔ گزشتہ برس وزیراعظم ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کا اعلان کیا گیا تھاجو آخری مراحل میں ہے۔ 60 ارب روپے کے اس منصوبے پر جلد کام کا آغاز ہوجائے گا جس سے ہیپاٹائٹس کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

کورونا وائرس کی وجہ سے فنڈز کا مسئلہ پیدا ہوا تاہم اس بجٹ میں حکومت پنجاب نے ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کیلئے 1 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ ہیپاٹائٹس پر قابو پانے کیلئے ہمیں عالمی ادارہ صحت اور USAID کا تعاون حاصل ہے، ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بھی بے شمار کام کر رہے ہیں، ہم نے بہت لمبا سفر طے کیا ہے اور ہمارا پروگرام بھی بہترین ہے، اب ہمیں ٹیکنیکل سپورٹ نہیں بلکہ فنڈز کی ضرورت ہے تاکہ ہیپاٹائٹس کے خاتمے کا مشن پورا ہوسکے۔

پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب

(معروف ماہر امراض معدہ و جگر )

ہیپاٹائٹس سے متاثرہ ممالک میں پاکستان دوسرے نمبر ہے جبکہ پہلے نمبر پر چین ہے کیونکہ اس کی آبادی زیادہ ہے۔ اگر آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو ہم دنیا میں ہیپاٹائٹس سے متاثرہ ممالک میں سر فہرست ہیں۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے پھیلنے کا جائزہ لیں تو ماہرین کے نزدیک ملک میں جب چیچک کے ٹیکے لگائے گئے تھے۔

ا س وقت یہ مرض پھیلا۔ موجودہ تعداد کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں 1 کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس ’سی‘ کا شکار ہیں جو بہت بڑی تعداد ہے۔اس وقت دنیا کی توجہ ہیپاٹائٹس ’سی‘ پر ہے، ہیپاٹائٹس بی، اے اور ای بھی اہم ہیں تاہم ہیپاٹائٹس ’سی‘ سے جان چھڑوائی جاسکتی ہے۔

ہیپاٹائٹس ’سی‘ کے ساتھ میرا تعلق 1989ء سے ہے جب آسٹریلیامیں ایک کانفرنس میں پہلی مرتبہ ہیپاٹائٹس ’سی‘ کا ذکر ہوا تو میرے استاد محتر م پروفیسر نصراللہ چودھری نے مجھے اسائنمنٹ دی کہ ایک نئے وائرس کی تفصیل آئی ہے لہٰذا اس پر تحقیق کرو۔ اس وقت میں نے تحقیق کرکے ابتدائی پیپرز اکٹھے کیے اور ایک پریزینٹیشن دی کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس ’سی‘ کیا ہوسکتا ہے۔

تب سے اب تک میں ہیپاٹائٹس کے حوالے سے کام کر رہا ہوں۔ 1986ء میں ہیپاٹائٹس کا ایک آدھ کیس ہوتا تھا۔ 1992ء تک ہسپتالوں میں لائنیں لگ گئیں اور 2010ء کے بعد سے ہیپاٹائٹس ’سی‘ کی وجہ سے لیور کینسر کے کیسز میں اضافہ ہوا۔ اس وقت تک اسلام آباد میں ایک لیور سینٹر نے2ہزار،دوسرے نے 500، لاہور کے سینٹر نے600 جبکہ سندھ کے ایک سینٹر نے 150 لیور ٹرانسپلانٹ کیے  اور ابھی مزید کام جاری ہے۔

1995ء میں حکومت پنجاب نے سب سے پہلے ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام دیا اور ادویات منگوانی شروع کی۔ اس وقت ٹیکے لگائے جاتے تھے، یہ طریقہ علاج مہنگا بھی تھا اور ہر مریض کیلئے موثر بھی نہیں تھا۔ یہ مخصوص مریضوں کو لگائے جاسکتے تھے مگر چھوٹی عمر، شوگر و دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا تھا اور بیشتر کو لگائے ہی نہیں جاسکتے تھے، نتیجہ یہ نکلا کے ٹیکوں کے سائڈ افیکٹس ومحدود علاج ہونے کی وجہ سے کیس بڑھتے گئے اور 2005ء سے 2010ء تک ہیپاٹائٹس ’سی‘ ہر گھر کا مسئلہ بن گیا جس کے بعد 10میں سے 1 شخص کو یہ مرض لاحق ہوا۔

انتقال خون، ٹیکے، آلات جراحی، شیونگ ریزر، دانتوں کا برش، تولیہ و دیگر اشیاء سے ہیپاٹائٹس پھیل سکتا ہے۔ ہیپاٹائٹس کا مریض دوسروں کو یہ وائرس منتقل کرسکتا ہے۔اگر کسی خاندان میں ہیپاٹائٹس سی کا کوئی مریض ہے یا کسی کو پہلے ہوا ہو تو وہ پورا خاندان اپنا ہیپاٹائٹس کا ٹیسٹ کروائے اور موثر علاج کی طرف جائے ورنہ اگر یہ دائمی شکل اختیار کر گیا تو مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

ماں سے نوزائدہ بچے کو ہیپاٹائٹس کی منتقلی کا 6 فیصد امکان ہوتا ہے لہٰذا پیدائش کے 24 گھنٹے کے اندر اندر لازمی ویکسی نیشن کروائیں۔ 2015ء میں ہیپاٹائٹس کی نئی ادویات آئیں تو پنجاب حکومت نے ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کو وسیع کیا جس کے بعد تمام ٹیچنگ ہسپتالوں میں ہیپاٹائٹس کلینک بنے، ٹیچنگ گیسٹرو انٹرولوجی یونٹس کی سکیم بنی۔ا

س کے ساتھ ساتھ تمام تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز میں ہیپاٹائٹس کلینک بنے اور PKLI بنایا گیا۔ اس وقت 144 ضلعی و تحصیل ہسپتالوں اور 17 ٹیچنگ ہسپتالوں میں ہیپاٹائٹس کے کلینک موجود ہیں جہاں ہیپاٹائٹس کے حوالے سے خصوصی سٹاف، ادویات و دیگر سہولیات موجود ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں سالانہ ایک لاکھ تیس ہزار جبکہ نجی ہسپتالوں میں پانچ لاکھ سے زائد ہیپاٹائٹس مریضوں کا علاج ہورہا ہے جو بہت بڑی تعداد ہے اور ابھی اس کپیسٹی کو مزید بڑھایا جارہا ہے۔

حکومت پاکستان نے 2030ء تک ملک سے ہیپاٹائٹس کا خاتمہ کرنے کیلئے عالمی ادارہ صحت سے کمٹمنٹ کی ہے لہٰذا معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر ہیپاٹائٹس فری پاکستان بنانا ہوگا۔ 2030ء تک ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے لیے 90 فیصدایسے عوامل کو کنٹرول کریں گے جن سے یہ پھیلتا ہے۔اس میں باربر سیفٹی، انجیکشن سیفٹی، سیف بلڈ ٹرانسفیوژن و دیگر شامل ہیں۔ اس حوالے سے حکومت نے ہیپاٹائٹس ایکٹ اور سیف بلڈ ٹرانسفیوژن ایکٹ منظور کیا۔ یہ تمام کاوشیں ہیپاٹائٹس ’سی‘ کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ہے۔ دوسری مرحلہ ’ٹیسٹ اور سب کا علاج‘ ہے۔

ہم ہیپاٹائٹس کے حوالے سے 5 فیصد سے زائد ممالک کی کیٹگری میں آتے ہیں۔ ان ممالک کیلئے عالمی ادارہ صحت کی تجویز ہے کہ سب کا ٹیسٹ کریں اور علاج کریں۔ اس کے چار طریقے ہیں۔ پہلا یہ کہ آگاہی دی جائے، جس کے گھر میں ہیپاٹائٹس کا کوئی مریض موجود ہے یا کسی نے خون لگوایا ہے تو وہ اپنا ٹیسٹ لازمی کروائے اور پازیٹیو آنے کی صورت میں علاج کروائے۔

دوسرا یہ کہ اگر آپ نے کسی موقع پر خون عطیہ کیا تھا اور بعد میں ہیپاٹائٹس پازیٹیوآگیا تو سسٹم موجود ہے کہ خون لگنے والے کو ٹریس کرکے لوپ میں لاسکتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں تو سرجری و دیگر علاج سے پہلے ہیپاٹائٹس کا ٹیسٹ لازمی کیا جائے اور اس کی روشنی میں علاج کیا جائے۔ یہ تین طریقے ’میکروالیمی نیشن‘ ہیں۔ چوتھا طریقہ ’مائیکرو الیمی نیشن ‘  ہے جس پر کام ہورہا ہے۔اس میں ایسا نظام بنایا گیا ہے کہ ہم خود مریضوں کے پاس جائیں۔ اس حوالے سے گھر گھر جاکر مریض تلاش کیے جا رہے ہیں۔

اس کا پائلٹ پراجیکٹ کامیاب رہا لہٰذا اس طرح ہیپاٹائٹس کا خاتمہ زیادہ جلد اور بہتر طریقے سے ہوسکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ساتھ ایک اور کمٹمنٹ یہ بھی کی گئی ہے کہ ہم نے ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو جگر کی بیماری کی آخری سٹیج اور جگر کے کینسر سے بچانا ہے۔ اس حوالے سے بھی کام جاری ہے۔ ہیپاٹائٹس کی روک تھام کیلئے اب تک تین پی سی ون بن چکے ہیں۔

پہلا 1995ء میں بنا، دوسرا 2017ء میں بنا جبکہ اب تیسرا پی سی ون بن چکا ہے جو آخری مراحل میں ہے۔ اس کی روشنی میں آئندہ 10 برس کام کیا جائے گا۔ وزیراعظم ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کا جلد آغاز ہونے والا ہے جس کے بعد صوبائی پروگرام اس سے منسلک ہوجائیں گے تاکہ موثر طریقے سے کام کو آگے بڑھایا جاسکے۔ ہیپاٹائٹس فری دنیا اور ہیپاٹائٹس فری پاکستان کیلئے سب کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر بلال ناصر

(کنسلٹنٹ گیسٹرو انٹرولوجسٹ )

ہیپاٹائٹس ہمارے ملک میں ’ایپی ڈیمک‘ ہے۔ ہمارے 6 فیصد سے زائد افراد ہیپاٹائٹس ’سی‘ جبکہ 2 فیصد سے زائد ہیپاٹائٹس ’بی‘ کا شکار ہیں۔ ہیپاٹائٹس ’اے‘ اور ’ای‘، جو دائمی شکل اختیار نہیں کرتے مگر ان سے بھی کافی لوگ متاثر ہوسکتے ہیں۔  دائمی یرقان کے شکار زیادہ تر مریض اس وقت ہمارے پاس آتے ہیں جب بہت زیادہ خرابی ہوچکی ہوتی ہے۔

جلد از جلد تشخیص اور علاج مقصود ہے۔ جلد اور بروقت علاج سے نہ صرف پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے بلکہ اس سے ہمارے ہیلتھ سسٹم پر بوجھ بھی کم ہوگا۔  ابتدائی 8 سے 10 برسوں میں اس کی کوئی خاص علامات نہیں ہوتیں۔ جسم میں درد، جوڑوں میں درد، ہلکا بخار، تھکاوٹ ہیپاٹائٹس کی علامات میں شامل ہیں مگر یہ دیگر بیماریوں میں بھی ہوتی ہیں اس لیے لوگ زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ اس کی سنگین علامات میں پیٹ میں پانی کا بھرنا، پاؤں کی سوجن، کالا پاخانہ، خون کی قے و دیگر شامل ہیں۔ایسی حالت میں علاج کے امکانات کم ہوجاتے ہیں اور پیچیدگیاں مزید بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

ہیپاٹائٹس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری معالج سے رجوع کیا جائے اور تاخیر نہ کی جائے، اگر ابتداء میں ہی تشخیص اور علاج ہوجائے تو بہت سارے مسائل اور پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے۔ علامات ظاہر ہونے پر مریض کی سکریننگ کی جاتی ہے۔

پی سی آر کا ٹیسٹ، بیس لائن ٹیسٹ ، ایل ایف ٹی، سی بی سی و دیگر ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ ان ٹیسٹ سے مرض کی سٹیج کا تعین کیا جاتا ہے اور پھر اس کے مطابق علاج کیا جاتا ہے۔ 97 فیصد ہیپاٹائٹس کے مریضوں کا کامیاب علاج ہوجاتا ہے، اب گولیوں کی شکل میں بھی اس کا علاج ممکن ہے اور یہ طریقہ علاج ہر طرح کے لیے موثر ہے۔

گولیوں سے علاج کا طریقہ موجود ہے جو تین ماہ کیلئے دی جاتی ہیں تاہم مرض کی نوعیت یا مخصوص حالت میں دورانیہ 6ماہ تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ہیپاٹائٹس کے ہر مریض کا اس طرح علاج نہیں کیا جاتا بلکہ جن کا پی سی آر پازیٹیو ہوتا ہے ان کو ادویات دی جاتی ہیں۔ یہ ادویات ہر سٹیج کے مریض کو دی جاسکتی ہیں۔ جن کا لیور ٹرانسپلانٹ ہونا ہوتا ہے، انہیں بھی اس سے پہلے ادویات دی جاسکتی ہیں کہ ہیپاٹائٹس کا خاتمہ ہوسکے۔  ہیپاٹائٹس کی شکار حاملہ ماں کے علاج کیلئے بچے کی پیدائش کا انتظار کیا جاتا ہے۔

اس دوران بچے کو منتقلی کا ایک فیصد امکان ہوتا ہے، پیدائش کے 24 گھنٹے کے اندر اندر بچے کی ویکسی نیشن کی جاتی ہے اور پھر ماں کا علاج کیا جاتا ہے تاہم ہیپاٹائٹس ’بی‘ کا علاج پریگرینسی کے دوران بھی جاری رکھا جاتا ہے کیونکہ اس کی منتقلی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ آج کل کورونا وائرس کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا کورونا وائرس کے شکار ہیپاٹائٹس کے مریض کو ہیپاٹائٹس کی ادویات دے سکتے ہیں یا نہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ کورونا کا شکار ہونے پر بھی ہیپاٹائٹس کے مریض کی ادویات بند نہیں کر نی چاہیے بلکہ علاج جاری رکھنا چاہیے۔

The post ہیپاٹائٹس فری پاکستان کیلئے مل کر جدوجہد کرنا ہوگی!! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/30fYHTH

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے کووڈ 19 کا پلازمہ تھراپی طریقہ علاج بند کردیا

 کراچی:  ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ملک بھر میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران کیا جانے والا پلازمہ تھراپی طریقہ علاج غیراعلانیہ بند کردیا اور پلازمہ تھراپی کے کلینکل ٹرائل کے نتائج بھی ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود جاری نہیں کیے۔

جن افراد نے قومی جذبے کے تحت اپنے خون سے رضاکارانہ طور پر پلازمہ عطیہ کیا وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے دیے گئے عطیات سے کووڈ19 کے مریضوں کو کتنا فائدہ ہوا۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے پاکستان میں پہلی بار کووڈ19 کے مریضوں کی جان بچانے کے لیے اپریل میں این آئی بی ڈی کو پلازمہ تھراپی کے کلینکل ٹرائل کی اجازت دی تھی۔

ملک بھر میں کلینکل دوماہ تک جاری رہے ۔ کلینکل ٹرائل کو ایوان صدر سے براہ راست مانیٹر بھی کیاگیا تھا۔اگست میں پلازمہ تھراپی کے کلینکل ٹرائل مکمل کرکے اس کی رپورٹ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو جمع کرائی گئی تھی جس کے بعد ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے مزید ٹرائل کی اجازت دی اور نہ ہی ان کلینیکل ٹرائل کے نتائج سے عوام کو آگاہ کیا۔ پاکستان میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے 9 اپریل 2020 کو کووڈ19 کے مریضوں کے علاج کے لیے پلازمہ تھراپی کے کلینکل ٹرائل کی اجازت دی تھی۔

اس کلینکل ٹرائل میں سربراہ این آئی بی ڈی ڈاکٹر طاہرشمسی، لاہور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرام، لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو کے پروفیسر بیکا رام سمیت دیگر ماہرین شامل ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی ادارے فوڈ اینڈڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے 23 اگست2020 کو کووڈ کے مریضوں کے پلازمہ تھراپی کے ذریعے علاج ومعالجے کی اجازت اور منظوری دی تھی جس کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں اب تک ایک لاکھ سے زائد کورونا کے مریضوں کو پلازمہ تھراپی دی جاچکی ہے۔

The post ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے کووڈ 19 کا پلازمہ تھراپی طریقہ علاج بند کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3kQUf5B

سعودی عرب میں کورونا وبا کے دوران بہترین کارکردگی پر پاکستانی ڈاکٹر کیلیے اعزاز

 اسلام آباد: سعودی عرب کی وزارت صحت نے کورونا وبا کے دوران مملکت میں بہترین کارکردگی دکھانے پر سعودی قومی دن کے موقع پر پاکستانی ڈاکٹر شہزاد احمد ممتاز کو بہترین لیڈر شپ کے اعزاز سے نوازا اور تعریفی اسناد پیش کیں۔

عرب میڈیا کے مطابق پاکستانی ڈاکٹر شہزاد احمد ممتاز کنگ سلمان اسپتال میں انتہائی نگہداشت یونٹ کے انچارج اور کورون وائرس سے ہونے والی بیماری COVID-19 کے خلاف جنگ لڑنے والی طبی ٹیم کی بھی سربراہی کر رہے ہیں۔

وبائی مرض کے خلاف ڈاکٹر شہزاد کی ٹیم نے کارہائے نمایاں خدمت انجام دیتے ہوئے اسپتال میں کورونا سے بڑھتی ہوئی شرح اموات کو ختم کردیا اور اسپتال کو پہلا کورونا سے پاک اسپتال بنانے میں کامیاب رہے۔

Dr Shehzad mumtaz KSA

ڈاکٹر شہزاد کی قائدانہ صلاحیتوں اور طبی مہارت کا معترف ہوتے ہوئے  سعودی عرب کی وزارت صحت نے انہیں سعودی قومی دن کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب کے دوران بہترین لیڈرشپ ایوارڈ اور تعریفی اسناد سے بھی نوازا۔

جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقے لیہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شہزاد احمد ممتاز 18 سال قبل سعودی عرب پہنچے تھے اور مختلف اسپتالوں میں اہم ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے کنگ اسپتال میں آئی سی یو انچارج کے عہدے پر فائز ہوئے۔

The post سعودی عرب میں کورونا وبا کے دوران بہترین کارکردگی پر پاکستانی ڈاکٹر کیلیے اعزاز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3cyCPYo

نیند پوری نہ ہو تو خوشی کا احساس بھی کم ہوجاتا ہے!

وینکوور: اگر انسان کی نیند پوری نہ ہو تو وہ کئی طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوسکتا ہے لیکن کینیڈا میں کی گئی ایک تازہ ریسرچ سے مزید یہ بھی پتا چلا ہے کہ اگر نیند پوری نہ ہو تو انسان میں خوشی محسوس کرنے کی صلاحیت بھی کم ہوجاتی ہے جس کے باعث وہ شدید اکتاہٹ اور کم تر کارکردگی کا شکار ہوسکتے ہیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا، وینکوور کی نینسی سِن کی نگرانی میں کی گئی اور اس میں 33 سے 48 سال کے 2000 افراد کا مطالعہ کیا گیا۔

آٹھ دن تک جاری رہنے والے مطالعے میں شریک تمام افراد سے روزانہ ایک سوالنامہ بھروایا گیا جس میں ان سے گزشتہ رات نیند کے دورانیے، کیفیت اور اس کے بعد دن میں مختلف جذبات، احساسات اور اعصابی تناؤ وغیرہ کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔

مطالعے کے بعد شرکاء کی فراہم کردہ تمام معلومات کا تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ تمام رضاکار جنہوں نے پوری نیند لی تھی، ان میں اگلے روز نہ صرف زیادہ اعصابی تناؤ کا سامنا کرنے کی صلاحیت موجود تھی بلکہ وہ بھرپور انداز میں خوشی محسوس کرنے کے قابل بھی تھے۔


 

نیند کی اہمیت سے متعلق ایکسپریس نیوز پر شائع شدہ یہ خبریں اور مضامین بھی ضرور پڑھیے:


 

ان کے برعکس وہ افراد جنہیں صحت مند معمول سے کم نیند ملی یا جو سکون کی نیند نہیں سو سکے، انہوں نے اگلے تمام دن زیادہ اعصابی تناؤ محسوس کیا جبکہ خوشی کا باعث بننے والے واقعات پر بھی انہیں بہت کم خوشی محسوس ہوئی؛ یا پھر بالکل بھی خوشی نہیں ہوئی۔

ریسرچ جرنل ’’ہیلتھ سائیکالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیند خراب ہونے یا ضرورت کے مطابق پوری نہ ہونے کے اثرات اگر ایک طرف ہماری جسمانی صحت کو متاثر کرتے ہیں تو دوسری جانب ہماری ذہنی و جذباتی کیفیت کو بھی تباہ کرسکتے ہیں۔

اسی بناء پر ماہرین کا مشورہ ہے کہ رات کو دیر تک جاگنے سے گریز کیا جائے اور نیند بھی صحیح وقت پر، پوری لی جائے۔ بصورتِ دیگر آپ کی صحت شدید طور پر متاثر ہوسکتی ہے۔

The post نیند پوری نہ ہو تو خوشی کا احساس بھی کم ہوجاتا ہے! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/336A2CH

Saturday, 26 September 2020

ویڈیوگیم کھیلنے سے یادداشت میں بہتری ممکن

بارسلونا: ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کم عمری میں ویڈیو گیم کھیلنے والے بچے اگلے کئی برس تک بہتر حافظے کے مالک بن سکتے ہیں اور یہ حافظہ انہیں چند امور کو بہتر انجام دینے میں مدد دے سکتا ہے۔

ماہرین اور لوگوں کے درمیان ویڈیو گیم کھیلنے کے فوائد اور نقصانات پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔ والدین کا خیال ہے کہ بچے گھنٹوں اسکرین کے سامنے ویڈیو گیم کھیلتے رہتے ہیں اس طرح وہ بے کار اور سست ہوتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ باتیں درست ہیں لیکن اب ثابت ہوچکا ہےکہ ویڈیو گیم کھیلنے سے یادداشت بہتر ہوسکتی ہے۔

اسپین کے شہر بارسلونا میں واقع اوبرٹا یونیورسٹی کے ماہرین نے شرکا کو کھیلنے کے لیے ایک خاص گیم ’سپر ماریو 64‘ دیا۔ اس گیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ گیم دماغ میں کچھ ایسی ساختی تبدیلیاں پیدا کرسکتا ہے جو بعض افعال اور جگہوں (اسپاشیئل) یادداشت سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس نئی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جن افراد نے یہ گیم کھیلا تھا ان کی عملی (ورکنگ) یادداشت گیم نہ کھیلنے والوں سے بہتر تھی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ویڈیو گیم کھیلنے سے توجہ اور دماغی صلاحیت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ٹرانس کرینیئل میگنیٹک ا سٹیمیولیشن

اس مطالعے میں گیم کے اثرات کو جاننے کے لیے ایک خاص تکنیک کو استعمال کیا گیا جسے ٹرانس کرینیئل میگنیٹک اسٹیمیولیشن (ٹی ایم ایس) کہا جاتا ہے۔ اسے ٹیکنالوجی کو انسانی موڈ پڑھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ 2008ء میں اسے ڈپریشن کے علاج کے لیے ایف ڈی اے نے منظور کرلیا تھا۔

اب تک 60 سے زائد ایسی رپورٹ سامنے آچکی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ٹی ایم ایس سے دماغی صلاحیت اور یادداشت بہتر ہوتی ہے لیکن یہ عمل مختصر وقفے کے لیے ہوتا ہے۔

پھر ماہرین کو خیال آیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ویڈیو گیم ٹریننگ اور ٹی ایم ایس دونوں سے ہی ذہنی صلاحیت بہتر ہوتی ہے یا پھر اگر کوئی ایک طریقہ دیکھا جائے تو اس سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔

اس کے لیے 27 صحت مند افراد کو بھرتی کیا گیا جن کی اوسط عمر 29 برس تھی۔ انہیں ویڈیو گیم کھیلنے کے دس سیشن کرائے گئے۔ یعنی دس دن تک ہرروز ڈیڑھ گھنٹے کے لیے سپرماریو 64 کھیلنے کو دیا گیا۔

ہر بار ڈاکٹروں نے ٹی ایم ایس کے ذریعے پری فرنٹل کارٹیکس کا جائزہ لیا جو پیچیدہ دماغی افعال بشمول یادداشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین نے تمام سیشن ختم ہونے کے 15 روز بعد بھی دماغ کا جائزہ لیا۔ ان میں دماغی افعال، ردِ عمل کا وقت، عملی یادداشت، توجہ کا دورانیہ ، نظری اور جگہوں کی معلومات اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا گیا۔

اس سے معلوم ہوا کہ ویڈیو گیم کھیلنے کے اثرات بہت دنوں تک دماغ پر حاوی رہے۔ اسی طرح ایک اور جائزے میں معلوم ہوا کہ جن افراد نے لڑکپن نے ویڈیو گیم کھیلے کئی برس بعد بھی ان کی یادداشت بہت اچھی دیکھی گئی ہے۔

The post ویڈیوگیم کھیلنے سے یادداشت میں بہتری ممکن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Gbdo3f

Friday, 25 September 2020

سوشل میڈیا پر’لائکس‘ کی کمی ڈپریشن کا شکار بناسکتی ہے

ایک نئی تحقیق کے مطابق اگر نوجوانوں بالخصوص نوعمر اور نو بالغ بچوں کو فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر مطلوبہ لائکس نہ ملیں تو وہ اداسی اور مایوسی کے شکار ہوسکتے ہیں۔

اس کا انکشاف ’چائلڈ ڈویلپمنٹ‘ نامی ایک جریدے میں شائع نئے مقالے میں ہوا ہے۔ اس میں ماہرین نےآن لائن رہتے ہوئے تین تجربات کئے ہیں۔ تجربے میں شریک نوعمر لڑکے اور لڑکیوں سے کہا گیا کہ وہ ایک نیا پروفائل بنائیں اور اپنے ہم عمروں سے کے اسٹیٹس کو دیکھیں اور لائک بھی کریں۔

تجرباتی طور پر شریک تمام نوعمر لڑکے اور لڑکیوں کے پروفائل کو لائکس کی بنیاد پر اوپر اور نیچے رکھا گیا، یعنی زیادہ لائکس والے بچوں کا نام اوپر اور کم لائکس والے نوعمروں کا نام نیچے دکھائی دیا۔

لیکن اس کھیل کے پیچھے سافٹ ویئر تھا یعنی کمپیوٹر اسکرپٹ ہی اپنی مرضی سے کسی کو کم اور دوسرے کو زیادہ لائکس دے رہے تھے۔ یہ سلسلہ دوہرایا گیا اور اس کے بعد تمام شرکا سے ایک سوالنامہ بھروایا گیا جو انہیں کے موڈ کو ظاہر کررہا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنہیں زیادہ لائکس ملے انہوں نے مسرت کا اظہار کیا اور کم لائکس ملنے والے اداس اور تناؤ کے شکار نظر آئے۔

اس خبر سے ہٹ کر بھی ایسے کئی رحجانات سامنے آچکے ہیں جونوعمروں پر سوشل میڈٰیا کے مخفی اور منفی اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سروے ٹٰیکساس یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات ڈیوڈؑ ایگر اور ان کے ساتھیوں نے کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ براہِ راست ثبوت ہے کہ کم لائکس ملنے سے نوعمر افراد اپنی قدر کھونے لگتے ہیں اور یوں اداسی اور ڈپریشن انہیں گھیرلیتی ہے۔ تاہم تجربے کے نتائج کے بعد شرکا کو بتایا گیا کہ ان کے لائکس کی تعداد کو انسان کی بجائے کمپیوٹر کنٹرول کررہا تھا۔

اسی تجربے سے ایک بات یہ بھی سامنے آئی کہ جن بچوں کو جتنے زیادہ منفی الفاظ یا کم لائکس ملے ان میں ڈپریشن اور تناؤ کی شدت اتنی ہی زیادہ دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق لڑکپن سے جوانی تک کا موڑ بہت حساس ہوتا ہے اور اس دوران کوئی بھی منفی تاثر اور ذہنی تناؤ ان کی سوچ پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے نوعمر بچوں کی خود اعتمادی کا ہر ممکن خیال رکھیں۔

The post سوشل میڈیا پر’لائکس‘ کی کمی ڈپریشن کا شکار بناسکتی ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/32Zv36T

Thursday, 24 September 2020

انسانی دل کے انتہائی تفصیلی نقشے سے مؤثر علاج کی راہیں کھلیں گی

 لندن: ہم انسانی دل کو جان کر ہی اس کے امراض دور کرنے کے کچھ قابل ضرور ہوئے ہیں اور اب پہلی مرتبہ کئی اداروں نے مل کر انسانی خلیات کا پورا نقشہ مرتب کیا ہے جسے ’ہارٹ سیل اٹلس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں دل کے تمام اقسام کے خلیات (سیل) اور سالمات (مالیکیول) کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔

اس تحقیق سے کئی امراضِ قلب کو بہتر انداز میں سمجھنے اور معالجے کی راہ ہموار ہوگی۔ اس تحقیق میں ویلکم سینگر سینٹر انسٹٰی ٹیوٹ، ہارورڈ میڈیکل اسکول، امپیریئل کالج، البرٹا اور کیمبرج یونیورسٹٰی کے ساتھ کئی ادارے شامل ہیں۔ برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن، نیشنل سائنس فاؤنڈیشن اور ویلکم ٹرسٹ نے اس کی مالی معاونت کی ہے۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ دل کے ہر پٹھے کے خلیات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ خون کی نالیاں بھی متنوع ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ دل کے خلیات کس طرح مل کر ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہوئے دل کو چلاتے اور زندگی کو جاری رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر پانچ لاکھ خلیات کا گہرا مطالعہ کیا گیا ہے جس کی تفصیلات نیچر میں شائع ہوئی ہیں۔

اس تحقیق سے افزائشی (ری جنریٹوو) طب اور مریضوں کے لئے انفرادی علاج کی راہیں ہموار ہوں گی۔ دل پورے جسم میں خون پمپ کرتا ہے اور ہر عضو تک آکسیجن پہنچاتا ہے۔ روزانہ دل ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے اور پورے جسم میں خون پہنچاتا ہے۔ دل کے دھڑکنے میں کئی خلیات ایک ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور ہر دھڑکن پر پورا دل یکسو ہوکر کام کرتا ہے۔

تحقیق کے لئے سائنسدانوں نے 14 افراد کے عطیہ کردہ دل کا معائنہ کیا۔ اس میں لگ بھگ 5 لاکھ انفرادی خلیات بھی پڑھے گئے۔ تاہم عطیہ کنندگان کا تعلق چھ مختلف علاقوں یا ممالک سے تھا۔ اس تحقیق کے لئے سنگل سیل ٹٰیکنالوجی، مشین لرننگ اور امیجنگ ٹیکنالوجی استعمال کی۔ اس کے علاوہ خلیات کے جینیاتی اثرات بھی نوٹ کئے گئے۔ واضح رہے کہ مطالعے میں شامل تمام دل مکمل طور پر صحتمند تھے۔

خلوی اٹلس سے معلوم ہوا کہ دل کے مختلف حصوں کے خلیات بھی الگ الگ ہوتے ہیں ۔ ان کام بھی مختلف ہوتا ہے اور یوں ان کے علاج کا طریقہ بھی جداگانہ ہونا چاہیے۔ دل کے چھ مختلف گوشوں میں 11 مختلف اقسام کے خلیات پائے جاتے ہیں لیکن ان کی ذیلی اقسام کی تعداد 62  کے قریب ہے۔

سائنسدانوں نے یہ بھی دیکھا کہ خون کی نالیوں میں موجود خلیات اپنے کام کے لحاظ سے مرتب ہوتے ہیں اور مختلف اقسام کا دباؤ برداشت کرتے ہیں۔ امید ہے کہ اس طرح دل کی رگوں (کارڈیوویسکیولر) امراض پر بھی روشنی ڈالی جاسکے گی۔

The post انسانی دل کے انتہائی تفصیلی نقشے سے مؤثر علاج کی راہیں کھلیں گی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3j6Mmsg

کراچی میں عوام کی بڑی تعداد کورونا کے خلاف مدافعت پیدا کرچکی ہے، ماہرین

کراچی: قومی ادارہ برائے امراضِ خون (این آئی بی ڈی) میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کراچی کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد میں ناول کورونا وائرس کے خلاف قدرتی طور پر مدافعت پیدا ہوچکی ہے جبکہ کارخانوں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں میں یہ مدافعت سب سے زیادہ دیکھی گئی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے تحقیقی مجلے ’’جرنل آف پبلک ہیلتھ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق، یہ تحقیق مئی سے جولائی تک این آئی بی ڈی میں کورونا وائرس کی جانچ پڑتال کےلیے موصول ہونے والے، خون کے 1675 نمونوں پر کی گئی۔

تجزیئے کے بعد پتا چلا کہ ان میں سے 600 کے لگ بھگ نمونوں میں ناول کورونا وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز موجود تھیں، جو اس بات کا ثبوت تھیں کہ یہ لوگ کووِڈ 19 کے خلاف مؤثر مزاحمت پیدا کرچکے ہیں اور اس وائرس کو شکست دے چکے ہیں۔

ان نتائج کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کراچی کے کارخانوں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور طبقے کی سب سے زیادہ یعنی نصف تعداد (50.3 فیصد) میں کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز دیکھی گئیں۔ عام لوگوں میں یہ شرح 34 فیصد جبکہ طبّی عملے میں 13.2 فیصد دیکھی گئی۔

اس طرح کراچی کے تقریباً 36 فیصد شہریوں میں قدرتی طور پر کورونا وائرس کے خلاف مدافعت دیکھی گئی۔

اسی تسلسل میں این آئی بی ڈی کے سربراہ اور پاکستان کے مایہ ناز ماہرِ امراضِ خون ڈاکٹر طاہر شمسی نے راقم کو بتایا کہ جولائی کے بعد سے اب تک کراچی کے شہریوں میں کورونا وائرس کے خلاف مدافعت کی مجموعی شرح 50 فیصد سے بھی بڑھ چکی ہے جبکہ اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر کراچی کے شہریوں میں کورونا وائرس کے خلاف مدافعت میں اضافے کا یہی رجحان جاری رہا تو جب تک اس وائرس کی ویکسین دستیاب ہوگی، تب تک کراچی کی 75 فیصد سے بھی زیادہ آبادی قدرتی طور پر ہی کورونا وائرس سے محفوظ ہوچکی ہوگی۔

The post کراچی میں عوام کی بڑی تعداد کورونا کے خلاف مدافعت پیدا کرچکی ہے، ماہرین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3i1HT8O

Wednesday, 23 September 2020

نوجوان امراض قلب کا شکار کیوں ہورہے ہیں؟

قلب ایک ایسا عضو ہے جو جاندار کو حرکت دینے کے قابل کرتا ہے ، اسی لیے علم طب میں اسے قوتِ حیوانی کا مرکز کہا جاتا ہے۔

نباتات بھی جاندار ہیں ان میں احساس بھی ہے، مگر قلب نہیں لہذا وہ حرکت نہیں کر سکتے۔ جسم کے تمام اعضاء کی طرح قلب کا تعلق بھی دماغ سے ہے۔ دماغ اعصاب کے ذریعے تمام اعضاء کو قابو میں رکھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ انفغالات نفسانیہ ( خوشی، غمی، احساس) کے موقع پر جہاں چہرے کا رنگ تغیر پذیر ہوتا ہے ، وہاں قلب کی حرکت میں بھی تبدیلی ہوتی ہے، یہاں تک کہ تجسس کے دوران نہ صرف حرکت ِ قلب ہی بدلی ہوتی ہے بلکہ نیند بھی نہیں آتی ۔

اسی طرح دماغی تناؤ کھچاؤ ، زیادہ غم و غصہ ایسے امور ہیں کہ حرکت قلب میں نہ صرف تبدیلی ہوتی ہے بلکہ انسان دل کا مریض بھی ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اسٹریس ہارمون دل کے عضلات پر برا اثر کرتا ہے ۔ یہ ہارمون ہی سوتے ہوئے خون میں شامل ہوتا ہے اور صبح کی شوگر میں اضافے کا سبب ہوتا ہے ۔

اعصاب جو حرکتِ دل کو قابو کرتے ہیں وہ کچھ اشیاء سے متا ثر ہوتے ہیں ، مثلاً افیم دل کی حرکت کم کرتی ہے، کیفین جو دل کی حرکت کو بڑھاتی ہے، نکو ٹین دل کی حر کت کو تیز کرتا ہے۔ اسی وجہ سے چائے ،کافی وغیرہ کے استعمال سے دل کی حرکت بڑھ جاتی ہے نتیجہ کے طور پر ’حرارتِ غریبہ‘  زیادہ پیدا ہوتی ہے، آخر کار عضلاتِ قلب تھکنے کے باعث اپنی طاقت کھو بیٹھتے ہیں ۔

مخدرات (افیم ، دھتورہ، بھنگ) کے زیادہ استعمال سے دل کی حرکت کم ہوتی ہے، جس سے حرارت عضلاتِ قلب میں جمع ہو جاتی ہے، اور عضلات کو آہستہ آہستہ پھاڑ دیتی ہے یعنی ’مائیوکارڈیل انفراکشن‘ ،یعنی حرکتِ قلب زیادہ ہونے سے بھی دل کے اعضلات کونقصان ہوا اور کم کرنے سے بھی یہی وجہ ہے کہ ڈرگ کا بے جا استعمال کرنے والے افراد کافی جلدی امراضِ قلب میں مبتلا نظر آتے ہیں جدید میڈیکل سائنس کے نظریے کے مطابق چالیس سال کی عمر سے پہلے امراض ِ قلب نہیں ہوتے ، مگر جن اشخاص کے اباؤ اجداد کو دل کا مرض رہا ہو وہ پہلے بھی اس مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

 جوان لوگ دل کے مرض میں کیسے مبتلا ہوتے ہیں؟

1۔غم :-ایک ایسا زہر ہے جو انسان کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتا ہے ۔ آج کل تنگی معاش اور معاشی حالت کو مزید بہتر بنانے کی سوچ سونے نہیں دیتی ، کم نیند جب بھی لیں ، تو دل کی رفتار میں تغیر آ جاتا ہے ، ایک حد تک دل کے عضلات متحمل ہوں ،برداشت کرتے ہیں ، پھر ایک دم دل کا دورہ پڑ جاتا ہے۔

2۔ ورزش یا سست رہنا: -اکثر جوان اشخاض ورزش وریاضت نہیں کرتے ،سمجھنے لگتے ہیں کہ جوانی میں کوئی مرض نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں دل کو خون پہنچانے والی شریان میں چربی بھر جاتی ہے ،جس سے ’کارڈیک اسچیمک ڈزیز‘ ہوتی ہے۔

3۔بہت زیادہ محنت و مشقت:- اس خیال میں کہ یہ عمر مشقت کی ہے، جو کچھ کریں بیمار نہیں ہوں گے، اکثر کم سن افراد رات دیر تک کام کرتے ہیں ، نیند بھگانے کے لیے چائے یا کافی کا استعمال کرنے لگ جاتے ہیں،مگر حقیقت سے نا آشنا رہتے ہیں کہ نیند بھگانے اور زیادہ چائے یا کافی پینا ہر صورت میں عضلاتِ قلب اور اعصاب کے لیے مضر ہیں ، ’ٹیکی کارڈیا‘ کے مریض بن جاتے ہیں۔

4۔ سن کرنے والی اشیاء (مخدرات) کا استعمال :-شروع وقت میں ایسی اشیاء کے استعمال سے محسوس نہیں ہوتا کہ کس قدر پُرخطر ہیں ، مگر کچھ ہی عرصے میں ان کا دل ڈوبنے لگتا ہے، اس خیال میںکہ ریح تنگ کر رہی ہے، ان اشیاء کا استعمال نہیں ترک کرتے ، بالآخر ’ بریڈی کارڈیا‘ (حرکتِ قلب کا سست ہونا) میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

5۔ اسٹریس: -بعض افراد کے پیارے ان سے جدا ہو جاتے ہیں ، وہ ان کے خیال میں دن رات ڈوبے رہتے ہیں ، جس سے خاص ہارمون کا افراز ہوتا ہے، جو دل کی رفتار کبھی تیز کرتا ہے کبھی سست، اس تغیر پذیری کے نتیجے میں دل کے عضلات متاثر ہوتے ہیں ، دل کے عضلات کافی حساس ہیں ، وہ ذرہ سی تبدیلی کو محسوس کرتے ہیں حتیٰ کہ معدے کی ریح سے بھی متاثر ہو جاتے ہیں، اس تغیر کے نتیجے میں ایک دم دل کی دھڑکن رک جاتی ہے جسے اصطلاح میں ’کارڈیک ایرسٹ‘ کہتے ہیں۔

دل کے امراض کی پہچان

ایسے لوگ دل کی کمزوری کی وجہ سے ایک معالج پر یقین نہیں رکھتے خواہ متعدد مرتبہ اس کے علاج سے بہتر ہو چکے ہوں (مجرباتِ انصاریہ) یعنی وسوسوں کا شکار ہوتے ہیں ۔عام طور پر ان کی دل کی رفتار بدلنے کے ساتھ ریشہ خارج ہوتا ہے، چہرہ پیلا معدہ کمزور ، طبعیت میں چڑچڑا پن اور لاغری، پیٹ کی چربی میں اضافہ دیکھا جاتا ہے، اگر ایسی کیفیت پر دھیان نہ دیا جائے تو اگلہ درجہ رات کو ٹھنڈے پسینے ، دم گھٹنا، چلنے کے دوران غیر معمولی طور پر سانس پھولنا ،  چکر ومتلی کی شکایت ہوتی ہے۔

اکثر اشخاص اس کیفیت پر بھی توجہ نہیں دیتے جس کی بنا پر سینے میں بائیں جانب درد ، سانس کی بندش، بائیں ہاتھ انگلیوں تک سخت درد اور بے حسی ، جبڑوں میں سخت درد کی علامات ہوتی ہیں ، اسے دل کا درد (انجائینا ) کہتے ہیں ، یہ دورہ ٹھہر ٹھہر کر ہوتا ہے ، اکثر افراد اس درد سے جان دیتے ہیں جو بچتے ہیں انہیں روزانہ اس کے دورے ہوتے ہیں۔ اگر ایک ہفتہ متواتر دورہ نہ ہو تو نہایت اچھی علامت ہے۔

دل کے امراض سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

1۔ منفی خیالات کو پیدا نہ ہونے دیں، اگر پیدا ہو جائیں تو ذہن بٹانے کی کوشش کریں ، منفی خیالات سے دل شکنی کی بجائے نمٹنے کی راہ سوچنا زیادہ عمدہ ہے۔

2۔ سوتے وقت دن کے معاملات ذہن میں نہ آنے دیں اور پُر سکون نیند لیں، یاد رہے کہ نیند کے دوران تمام خلیات و عضلات تازگی لیتے ہیں اور غذاء حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔

3۔ صبح کی سیر کسی ایسے علاقے میں ضرور کریں جہاں سبزہ اور تازگی ہو، ویران اور ریتلیے علاقوں میں سیر کا فائدہ نہیں۔

4۔ جلد پر روکھا اور زرد رنگ ظاہر ہونے لگے توصحت پر خاص توجہ دیں۔

5۔غصہ سے پرہیز کریں۔

6۔ غم ہو جائے تو ذہن کسی اور کام میں لگائیں یا سبز علاقے میں جا کر گہری سائنس لینے سے اسٹریس میں آسانی ہوتی ہے۔

7۔ معدے کی صحت پر توجہ دیں ، ریح دل کے عضلات پر اذیت پہنچاتی ہے۔

8۔ہر قسم کی ڈرگ سے پرہیزکریں۔

9۔ ہفتے میں ایک مرتبہ مچھلی کا گوشت ضرور لیں کہ یہ ’ اومیگا فیٹی ایسڈ‘ کا منبع ہے۔

10۔ نو تا آٹھ گھنٹے آرام کا خیال رکھیں۔

علاج

پاکستان میں 250,000 سے زائد اموات کی وجہ دل کا مرض ہے،  علاج اتنا مشکل نہیں ، سہنا ضرور مشکل ہے۔

طبِ قدیم

آملہ پاوڈر، صندل سفوف کو خمیرہ مروارید آدھ چمچ کے ساتھ دوپہر میں لیں۔

ایلوپیتھی علاج:

1۔ اسٹیٹن ادویہ، 2۔ بیٹا اور کیلشیم بلاکر ادویہ، 3۔ خون کو پتلا رکھیں، 4۔ مرض نہ قابو آئے تو سرجری کی جاتی ہے، 5۔ نیند آور ادویہ، 6۔ دورہ کے وقت اگر بلڈ پریشر زیادہ ہو تو ’ نائی ٹروگلیسرائیڈ‘ کی گولی زبان کے نیچے رکھنے کو دیتے ہیں، مگر یہ چکر بھی لاتی ہیں۔

دل کی طاقت کے لیے خوراک

دیسی مرغی، مچھلی، وٹامن ای،وٹامن سی اور وٹامن ڈی،وہ پھل اور سبزیاں جن میں ’ مائیوسین‘ پروٹین ہو کہ یہ دل کے لیے بہتر ہیں، چپاتی لیں نان سے پرہیز کریں، جو غذاء بلڈ پریشر بڑھائیں ان سے پرہیز کریں۔

The post نوجوان امراض قلب کا شکار کیوں ہورہے ہیں؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2ErFeaL

سر کے بال گرنے کیسے روکے جائیں؟

اللہ تعالی نے انسان کو اپنی تمام مخلوقات سے اشرف و افضل بنایا  اور اسے بہترین شکل وصورت پر پیدا کیا ہے۔ اسے ہر چیز اہم اور  ہر چیز متناسب عطا کی ہے کہ کسی ایک چیز کی کمی آپ کو بد ہیت بنادیتی ہے۔ مثلا ً سر کے بال  ہر مرد و عورت کی خوبصورتی ہوتی ہے۔

بالوں کے بغیر  شکل و صورت  بہت عجیب دکھائی دیتی ہے۔  یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے بالوں کے متعلق بہت حساس ہوتے ہیں۔ آج کل  خواتین وحضرات کی ایک بڑی تعداد بالوں کے مسائل سے دوچار ہے۔ ان مسائل میں بالوں کا بہت زیادہ گرنا  ہے، بالخصوص مردوں کا گنجا پن ( baldness ) سر فہرست ہے ۔ اسے Alopecia areata کہتے ہیں۔

ایلوپیسیا ایریٹا  جسم کے بالوں والے کسی بھی  حصہ سے بالوں کے غائب ہوجانے کو کہتے ہیں۔ یہ دائروں کی شکل میں بھی ہوسکتا ہے اور  سر یا داڑھی سے دائروں میں بال اڑ جانا  بھی ہوسکتاہے حتیٰ کہ جلد چکنی ہوجا ئے۔ عموماً  مردوں میں سر کے درمیان میں سے  بال اڑ جاتے ہیں اور  خواتین کے سامنے یا سر کی سائیڈ سے بال کم ہوتے ہوتے بالکل ختم ہوجاتے ہیں،اسے آپ baldness بھی کہتے ہیں۔

اسکے علاوہ  بالوں کا  کمزور ہونا، الجھنا، کنگھا بھر کے  بال  گرنا بھی سنگین مسائل سمجھے جاتے ہیں۔ اکثر خواتین کہتی دکھائی دیتی ہیںکہ صرف ہاتھ لگانے سے بھی بالوں کی لٹیں ہاتھوں میں آجاتی ہیں، بال  پتلے،  بے رونق ہوجاتے ہیں ، ان میں خشکی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ بھی مسئلہ ہوتا ہے کہ بال گرنے کے بعد  دوبارہ یعنی نئے بال  نہیں اگتے، اگر اگتے بھی ہیں تو ان کی رفتار بہت سست  ہوجاتی ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کی لیے ہر دوسری خاتون اور مرد  پریشان ہے۔

ان مسائل کا حل جاننے سے پہلے یہ جان لیں کہ بالوں کا اسٹرکچر   بنتا کس  سے ہے؟ اور  ہمارے جسم میں ایسی کس چیز کی کمی ہوتی ہے کہ بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں؟

بالوں کا ماخذ چونکہ  پروٹین ہے یعنی پروٹین سے بنتے ہیں جسے ’ کیراٹن ‘ کہتے ہیں۔ بال ہمارے جسم کا وہ حصہ ہیں  جو مرنے کے بعد  برسوں تک اپنی ساخت برقرار رکھتے ہیں، گل سڑ کر مٹی میں نہیں ملتے۔ اب آجاتے ہیں اس سوال پر کہ بال آخر گرتے کیوں ہیں ؟؟بالوں کے مسائل کی دو اہم وجوہات ہوسکتی ہیں ۔ ایک آپ کے ہارمونز کی  خرابی اور دوسری آئرن  کی کمی۔ آپ کے بال کسی بھی  وجہ سے گر رہے ہیں، اس کے لیئے ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ہے تاکہ وہ آپ کو صحیح مشورہ اور ادویہ تجویز کرسکے۔

بال چونکہ پروٹین سے بنتے ہیں  اس لیے آپ کی خوراک میں اگر پروٹین لحمیات کم ہوجائے تو بھی بال گرنے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ بال گرنے کی کچھ عمومی وجوہات بھی  ہوتی ہیں ۔

ذہنی دباؤ اسٹریس ، کام کی زیادتی ، نیند کا پورا نہ  ہونا ، ہاضمہ کی خرابی ، مرغن و  بازاری  غذاؤں کا استعمال ، نہانے یا سر دھونے  کے لیئے خراب یا کھارے  پانی کا استعمال۔ اس کے علاوہ  یہ مرض موروثی بھی ہوتا ہے خاص کر مردوں میں جن کے سر کے بال درمیان سے غائب ہوجاتے ہیں عموماً تیس سال کے بعد جبکہ خواتین میں حمل اور دودھ پلانے کے زمانے میں بھی  بال بہت تیزی سے گرتے ہیں۔اس کے علاوہ   مسلسل بخار  ٹائیفائیڈ  بھی ایک سبب بن سکتاہے۔

کسی قسم کی سرجری یا بالوں میں بہت زیادہ کیمیکل  والے شیمپو ، کلر ، سیدھے کرنے کے  خشک کرنے لیئے اسٹیٹنر  یا  ڈرائیر کے استعمال سے بھی آپ  اپنے بالوں سے ہاتھ دھوسکتے ہیں۔

وٹامنز کی کمی سے بھی آپ کے بال گر سکتے ہیں۔ پتلے  اور بے رونق ہوجاتے ہیں۔

علاج !!

اب آتے ہیں علاج کی طرف ۔ بالوں کی صحت کے لئے اچھی متوازن غذا  بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ آپ کی خوراک میں کاربوہائیڈریٹ کم اور پھل و سبزیاں زیادہ ہونی چاہئیں لیکن ساتھ ہی پروٹین بھی آپ کی غذا کا لازمی حصہ ہو۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ گوشت، مرغی،  مچھلی، انڈے، خشک میوہ جات کو اپنی غذا کا باقاعدہ حصہ بنائیں۔ اس کے علاوہ ہرے پتوں والی سبزیاں اوردالوں کا استعمال کیجیئے  تاکہ آپ کو ان میں موجود زنک آئرن آیوڈین  سیلینیم  مل سکے جو آپ کے بالوں کی غذا ہے۔

آپ کے بالوں کے  تمام  مسائل کا حل ہومیو معالجین کے پاس ہوتا ہے۔ ہومیوپیتھک میں Alopecia بہترین دوائیں موجود ہیں۔ فاسفورس ، سیپییا ، ایسڈ فلور ، ایسڈ فاس ، اس کے علاوہ  ارنیکا ، جبرانڈی ۔

The post سر کے بال گرنے کیسے روکے جائیں؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/306aUdr

ورزش، بہت سی بیماریوں کا مفت اور نہایت مفید علاج

وجود اور عدم ، ہونے نہ ہونے کے مابین پایا جانے والا فاصلہ محض ایک سانس کی دوری پر ہے۔

انسانی وجود کی حرکات و سکنات کا دارو مدار چلتی سانس پر ہے اور سانس ہوا کا ایک چند ثانیوں پر مشتمل ایسا دباؤ ہے جو اگر واپس وجود میں نہ آسکے تو زندگی کا اختتام ہو جاتا ہے۔جب تک سانس کا پنکھا گھومتا رہتا ہے، سانس وجود سے باہر اور اندر اپنا ردھم برقرار رکھتا ہے تب تک زندگی اپنے ہونے کا ثبوت دیتی رہتی ہے اور جونہی سانس کا یہ سلسلہ تھمتا ہے تو وجود عدم میں ڈھل جاتاہے۔

بدن انسانی کی صحت مندی کے لیے جہاں حوائج ضروریہ ماحول، غذا ، پانی، لباس اور گھر وغیرہ ضروری ہے وہیں سانسوں کے سلسلے کو جاری رہنے کے لیے ہوا جسے میڈیکل اصطلاح میں آکسیجن کہا جاتا ہے بنیادی اور لازمی ضرورت ہے۔ ہم اپنی ضرورت کی آکسیجن کھائے جانے والی غذا، پیے جانے والے پانی ، تواتر سے آتی جاتی سانس اور جلدی مسامات سے پوری کرتے ہیں۔

جدید میڈیکل کی رو سے انسانی وجود کی تخلیق خلیہ سے ہوئی ہے اور انسانی بدن لا تعداد خلیات کا مجموعہ ہے۔ خلیات کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی لازمی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر چند ثانیے بھی کسی جاندار کو آکسیجن میسر نہ آسکے تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

آکسیجن جس قدر تازہ اور وافر ہوگی اسی قدر ہمارا بدن زیادہ چست وچاک وچوبند ہوگا، بدن میں خون کی روانی عمدہ ہوگی۔ جب تک خلیات، عضلات، اعصاب ، اعضاء اور بافتوں کو خون کی رسد مناسب ملتی رہتی ہے تب تک بدنی نظام بہترین کار کردگی کا مظاہرہ کرتا رہے گا۔

جونہی خون کی رسد میں کمی یا دوران خون میں کمزوری پیدا ہوتی ہے تو بتدریج خلیات، عضلات ، اعصاب ، اعضاء اور بافتیں اپنا کام پوری طرح سرانجام نہیں دے پاتے اور نتیجتاً صحت کو برقرار رکھنے والا خود کار دفاعی نظام کمزوری کا شکار ہوکر بیماریوں کے خلاف اپنی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔

یوں مرحلہ وار بیماریاں حملہ آور ہوکر بدن انسانی کی جوانی، خوبصورتی اور طاقت کا خاتمہ کرنے کے درپے ہوجاتی ہیں جو بالآخر موت کی صورت میں انسانی زندگی کے خاتمے کا اعلان سمجھاجاتا ہے۔

موت مبینہ طور پرسانس رکنے یا ہوا کا انسانی وجود میں داخلہ بند ہوجانے کا نام ہی تو ہے۔یوں اگر عمیق مشاہدہ کیا اوربغور جائزہ لیا جائے تو مبینہ طور پر ایک حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ کہ انسانی وجود کی زندگی کا تمام تر دارو مدار اور انحصار ہوا یا آکسیجن پر ہی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ اپنی صحت مندی اور زندگی کے وجود کو قائم رکھنے کے لیے معیاری، تازہ اور وافرمقدار آکسیجن کے حصول کو روز مرہ ضروریات میں شامل کریں۔ اجزائے خورونوش کے علاوہ صاف ستھرا ماحول، تازہ آب و ہوا اور آلودگی سے پاک فضاء بھی تازہ، معیاری اور وافر مقدار میں آکسیجن کے حصول کا بہترین ذرائع مانے جاتے ہیں۔

فی زمانہ بڑھتے ہوئے امراض کی سب سے بڑی وجہ ملاوٹ سے بھر پور خوراک ،گردو غبار سے اٹاماحول اور آلودگی سے لبریز فضاء کو سمجھا جاتا ہے۔

صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خوراک کو ملاوٹ سے پاک خورونوش اجزاء سے ترتیب دیں۔اپنے گردو نواح میں مقدور بھر صفائی ستھرائی اور آلودگی کے خاتمے کے لیے کوشاں رہیں۔ مصنوعی اور بازاری غذاؤں کے استعمال سے حتی الوسع بچیں اور قدرتی خوراک، صاف ماحول اور سادہ طرز رہن سہن کو اپنانے کی سعی کریں۔ بیماریوں سے بچاؤ اور نجات پانے کا ایک ہی آسان، مفت اور مفید راستہ ہے اور وہ ہے ورزش کرنا۔

اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں، جو لوگ آج بھی صبح کی سیر اور چلنے پھرنے کو ترجیح دیتے ہیں وہ دوسروں کی نسبت صحت مند و توانا زندگی گزار تے دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں بعض ایسے غلط رواج عام ہوگئے ہیں کہ محنت و مشقت کرنے کے باوجود بھی ہماری کوشش بے کار چلی جاتی ہے۔ بعض لوگ علم کے نام پر جہالت پھیلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور کوئی نیا غیر صحت مندانہ شوشہ چھوڑ کر عام آدمی کو گمراہ کرتے رہتے ہیں۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ کئی لوگ رات کو ٹریک سوٹ پہنے سڑکوں پر ہانپتے ہوئے عام پائے جاتے ہیں، یہ سب بزعم خود سیر اور ورزش کرتے ہیں جبکہ ان کی یہ سیر اور ورزش ان کے لیے با لکل بھی مفید ثابت نہیں ہوتی ، بلکہ ہوسکتا ہے کہ کوئی نقصان کا پیش خیمہ ہی بن رہی ہو۔ سیر اور ورزش کے حوالے سے ایک بات طے ہے کہ یہ تازہ اور معیاری آکسیجن کے حصول کا سبب ہیں۔

دھیان رہے کہ آکسیجن فضاء میں دن کے وقت وافر مقدار میں پائی جاتی ہے اور رات کے وقت فضاکاربن ڈائی آکسائیڈ گیس سے لبریز ہوتی ہے۔کاربن ڈائی آکسائیڈ ایک مضر صحت گیس ہے جسے جاندار سانس کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔

انسانی صحت کا دارو مدار تازہ آکسیجن کے حصول پر ہے جبکہ رات کو سیر اور ورزش کرنے والوں کو سوائے سڑکوں کی دھول کھانے اور پسینے کے رستے مفید نمکیات بہانے جیسے نقصان کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور ہیومن سائنس بھی زیر غور رہے کہ اللہ کریم نے انسانی وجود کی راحت وسکون کے لیے نیند بنائی ہے اور صحت مند نیند صرف اور صرف رات کو ہی میسر آتی ہے۔ یوں ایسے لوگ آرام کے وقت بدن کو مشقت میں ڈال کر مزید اس پر ظلم کرتے ہیں۔ سیر اور ورزش کے سلسلے میں چند پہلوؤں کو مد نظر رکھا جانا چاہیے۔

سیر اور ورزش ہمیشہ علی الصبح اس وقت کرنی چاہئے جب طلوع سورج کی کرنیں ہر سو اجالا پھیلاتی ہیںکیونکہ اس وقت ماحول قدرے صاف و شفاف اور فضا میں آلودگی کم ہوتی ہے جبکہ آکسیجن کی تازہ اور معیاری مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ سیر اور ورزش کرتے وقت سانس، ناک کے رستے لینی اور منہ کے رستے خارج کرنی چاہیے۔

ناک کے نتھنوں میں قدرتی طور پر خالق نے ایئر فلٹرز نصب کیے ہوئے ہیں جو سانس فلٹر کر کے پھیپھڑوں میں گندے ذرات جانے کو روکتے ہیں۔ صحت مند طرز تو یہی ہے کہ ہمہ وقت سانس کا اخراج منہ کے رستے اور حصول ناک سے ہی کیا جائے۔ سیر اور ورزش ہمیشہ خالی پیٹ کی جانی چاہیے تاکہ معدہ دوران ورزش حصول توانائی کی غرض سے جسمانی زہریلے ذرات کو استعمال کرکے بدن کو مضر آلائشات (کولیسٹرول، یورک ایسڈ،شوگر وغیرہ) سے پاک کردے۔

سیر ہمیشہ تیز قدموں سے کی جائے جس سے بدن پسینے میں شرابور ہوجائے،یقین مانیے یہی’’ سیر‘‘ حصول صحت میں معاون ثابت ہوگی ورنہ عام اور دبے قدموں چلنے سے مطلوبہ نتائج نہیں حاصل ہوپائیں گے۔ سیر اور ورزش سے فارغ ہونے کے فوری بعد کچھ کھانا پینا ،نہانا،ٹھنڈی ہوا میں آنا بھی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ دوران سیر یا ورزش اگر پیاس کا شدید احساس ہو تو سادہ پانی کے دو سے تین گھونٹ ٹھہر ٹھہر کر پینا چاہیے۔

جم کلب میں ورزش کریں خواہ تیراکی،فٹ بال کھیلیں یا ہاکی،کرکٹ کی پریکٹس ہو یا بیڈ منٹن ،گھڑ سواری کریں یا سائیکلنگ سب کا مقصد تازہ آکسیجن کا حصول، بدن کی حرکات میں چستی اور صحت مندی ہی ہونا چاہیے۔ دوران سیر یا ورزش اپنی سوچ کو جسمانی صحت مندی پر مرکوز رکھنا بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ سیر کرتے وقت دھیان رکھیں کہ آپ کی آنکھوں اور چہرے کی ورزش بھی لازمی ہونی چاہیے۔

بھرپور قہقہ لگا کر ہنسنا چہرے کے خلیات و اعصاب میں تازگی لاتا ہے جبکہ آنکھوں کا دائیں ،بائیں، اوپر، نیچے گھمانا، پھرانا آنکھوں کے اعصاب وعضلات کو مضبوطی فراہم کرتا ہے۔ ورزش کے حوالے سے نماز پنجگانہ بہترین مواقع مہیا کرتی ہے۔رکوع وسجود سے ریڑھ کی ہڈی کی زبردست ورزش ہوجاتی ہے۔علاوہ ازیں نفلی روزے رکھنے سے بھی اندرونی اعضاء کی ورزش کے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

آج کل سیر گاہوں میں سیفٹی ماسک کے بغیر داخل نہیں ہونے دیا جاتا اور سیر کرنے والے اکثر خواتین  وحضرات ماسک سے منہ ڈھانپے سیر کر تے عام دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایک وضاحت ضروری ہے کہ سیفٹی ماسک کا استعمال لازمی کریں لیکن یاد رہے کہ ماسک پہننے سے آکسیجن کی مطلوبہ مقدار میسر نہیں آ پاتی، یوں سیر کا مقصد پورا نہیں ہو پائے گا۔

یہاں ایک اور وضاحت بھی لازمی ہے کہ عام فرد اور طبی ماہرین سمیت سبھی جانتے ہیں کہ’’ کورونا وائرس‘‘ بدن انسانی میں آکسیجن کی کمی کا سبب بن کر ہی تنگئی تنفس جیسے گھمبیر مسائل پیدا کرتا ہے ۔ یہی آکسیجن کی کمی ذرا سی بے احتیاطی کے باعث موت کا سبب بھی بن جاتی ہے۔

ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ ماسک ضرور پہنیں ،رش والی جگہوں پر جاتے وقت اورپبلک مقامات پر ہی لیکن ہر وقت ماسک پہننے کی عادت آپ کے بدن میں آکسیجن کی کمی کا سبب بن کر مزید کسی بدنی مسئلے میں الجھا بھی سکتی ہے۔

متواتر اور ہمہ وقت ماسک کا ا ستعمال کرتے رہنا آکسیجن کی مطلوبہ مقدار میں کمی کا باعث ہی نہ بن جائے۔کورونا وائرس کی دوسری لہر کی متوقع آمد کے پیش نظر احتیاطی تدابیر (سماجی فاصلہ،میل ملاپ میں کمی،گھر پر محدود رہنا اور وقفے وقفے سے ہاتھ دھونا) پر عمل پیرا ہونا ہی بچاؤ ہوسکتا ہے۔سیر یا ورزش کے بعد توانائی سے بھرپور متوازن خوراک لی جانی چاہیے۔

دلیے میں خشک میوہ جات ملا کر کھانا بھی بہترین جسمانی فوائد مہیا کرتا ہے۔ ناشتے میں دہی، مکھن،انڈہ،سفید و سیاہ چنے،بکرے کے پائے اور مربہ جات و حلوہ جات بہترین قدرتی غذائیں ہیں۔یاد رکھیں کہ نہار منہ دودھ پینے، پھل کھانے، اور پھلوں کے رس لینے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ ورنہ آپ کا پیٹ خراب ہو سکتا ہے۔

آپ اگر چاہتے ہیں کہ سدا بہار صحت مند و تن درست وتوانا رہیں تو روزانہ ایک گھنٹہ سیر اور ورزش کرنے کو معمول بنا لیں،چکنائیوں، مٹھائیوں، کولامشروبات، بیکری مصنوعات، نمک، تیز مسالہ جات اور فاسٹ فوڈز سے پرہیز کریں۔ پانی ابلا ہوا اورسادہ پییں اور روزانہ کم از کم 8 گھنٹے نیند تواتر سے پوری کریں۔رات کو جلدی سونے اور صبح جلدی اٹھنے کی عادت بنائیں۔ہم وثوق سے کہتے ہیں کہ بیماریاں آپ سے دور رہنے پر مجبور ہوں گی۔

The post ورزش، بہت سی بیماریوں کا مفت اور نہایت مفید علاج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2HjKsX8

کام کی زیادتی سے پیدا ہونے والی کیفیت ’برن آؤٹ‘ کیا ہے؟

عالمی ادارہ صحت نے ’برن آؤٹ‘ یا کام کی زیادتی سے نڈھال ہو جانے کی کیفیت کی نئی تشریح کی ہے۔

اگر سنہ 1970 کی دہائی میں آپ نے یہ کہا ہوتا کہ آپ ’برن آؤٹ‘ یا نقاہت اور تھکان کا شکار ہو رہے ہیں تو شاید اس سے کچھ لوگوں کو پریشانی ہوتی۔ اس وقت یہ اصطلاح نشے کے عادی لوگوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے لیے استعمال ہوتی تھی جس میں مثال کے طور پر ذہنی صلاحیت میں کمی کا واقع ہونا شامل تھا۔ ایسا بہت زیادہ پارٹیاں کرنے والے لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا تھا۔

جرمن نژاد امریکی ماہر نفسیات ہربرٹ فورائڈن برگر نے سنہ 1974 میں نیویارک شہر میں نشے کے عادی افراد اور بے گھر لوگوں کے لیے قائم کلینک میں پہلی مرتبہ اس مسئلہ کا پتا لگایا تو وہ نشے کے عادی افراد کے بارے میں نہیں سوچ رہے تھے۔

کلینک میں کام کرنے والے رضا کار انتہائی مشکل میں تھے۔ ان کا کام بہت زیادہ محنت طلب تھا اوران میں سے بہت سے کام سے بددل اور ذہنی طور پر اپنے آپ کو ہلکان محسوس کرنے لگے تھے۔گو انھیں اپنا کام اب بھی بے معنی نہیں لگتا تھا لیکن وہ مایوسی اور پژمردگی کا شکار تھے اور اپنے زیر علاج مریضوں کو وہ توجہ نہیں دے پا رہے تھے جس کے وہ مستحق تھے۔

فورائڈن برگر نے تشویش کا باعث اس نڈھال پن اور نقاہت کو، جس کی وجہ طویل عرصے تک کام کی زیادتی تھی، بیان کرنے کے لیے ’برن آؤٹ‘ کی اصطلاح استعمال کی۔

برن آؤٹ کیا ہے؟

برن آؤٹ کے تین عنصر ہیں۔ تھکان یا نقاہت، کام سے بددلی اور کارکردگی میں کمی۔ اس نظریے کو دنیا بھر میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور آج عالمی سطح پر اسے ایک مسئلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

برن آؤٹ کا شکار لوگوں کے اعداد و شمار حاصل کرنا بہت مشکل ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق سنہ 2018 میں برطانیہ میں تقریباً چھ لاکھ لوگ کام کی جگہ پر ہونے والے دباؤ یا ’ورک پلیس سٹریس‘ کا شکار ہیں۔ کھلاڑی بھی اس کیفیت کا شکار ہوتے ہیں، یوٹیوب سٹار بھی اس کا شکار ہوتے ہیں۔ بزنس مین بھی اس کا سامنا کر سکتے ہیں۔ فورائڈن برگر بھی آخر میں اس کا شکار ہو گئے تھے۔

برن آؤٹ کی تشریح میں تبدیلی

گزشتہ ماہ کے آخر میں عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ اس مسئلہ کو بیماریوں کی فہرست کے عالمی ہدایت نامے میں بیماری کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے اس کی تعریف ایک ایسی کیفیت کے طور پر کی ہے جو کام کی دائمی یا طویل عرصے تک زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے اور اس کا ابھی تک کوئی کامیاب حل نہیں ڈھونڈا جا سکا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ’برن آؤٹ‘ کے تین عنصر ہوتے ہیں جن میں نقاہت یا تھکان، کام سے بیزاری اور ناقص کارکردگی شامل ہیں۔

یہ احساس کیا ہوتا ہے؟

تو آپ کسی طرح اس بات کا تعین کریں گے کہ آپ مکمل طور پر نہیں لیکن کافی حد ’برن آؤٹ‘ ہو گئے ہیں۔ آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں نفسیاتی امراض کی معالج اور ’برن آؤٹ‘ کے مسئلہ پر ایک کتاب کی مصنفہ شیوبان مرے کا کہنا ہے کہ برن آؤٹ کی بہت سے علامات ڈپریشن کی علامات سے ملتی جلتی ہیں۔

برن آؤٹ کا شکار ہونے کے خدشے سے دوچار لوگوں کے لیے مرے کا مشورہ ہے کہ وہ بری عادتوں کے بارے میں ہوشیار رہیں جن میں شراب نوشی اور دن گزارنے کے لیے زیادہ چینی کا استعمال شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے ایسے لوگوں کو تھکان کے مستقل احساس کے بارے میں خبردار رہنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ صبح دس بجے تک سکون کی نیند سوتے ہیں اور اس کے بعد دوبارہ سونے کا وقت گننا شروع ہو جائیں یا آپ اپنے جسم میں توانائی محسوس نہ کریں تو آپ برن آؤٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ ڈپریشن کے لیے تو بہت سے علاج دستیاب ہیں لیکن برن آؤٹ کی کیفیت کو صرف طرز زندگی تبدیل کر کے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔

مرے کا کہنا ہے کہ جیسے ہی آپ کو ایسی کیفیت محسوس ہونا شروع ہو آپ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ انھوں نے کہا کہ ڈپریشن اور برن آؤٹ سے پہلے کی کیفیت تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔ گو کہ حال ہی میں اس بارے میں بہت زور شور سے یہ کہا جا رہا ہے کہ برن آؤٹ کو ایک طبی حالت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے لیکن ابھی اسے کام سے متعلق ہی ایک مسئلہ تصور کیا جاتا ہے۔

یہ ضروری ہے کہ آپ کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں جو کہ دونوں حالتوں، ڈپریشن اور برن آؤٹ میں امتیاز کر سکے کیونکہ ڈپریشن کے علاج کے بہت سے طریقے دستیاب ہیں لیکن برن آؤٹ کا تدارک صرف طرز زندگی تبدیل کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔

آپ کو یہ کیسے علم ہو گا کہ آپ برن آؤٹ کے دہانے پر ہیں؟ مرے کا کہنا ہے کہ دباؤ بہت ضروری ہے اور فکر مندی آپ کو بہترین کارکردگی دکھانے پر مجبور کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس وقت پریشان کن ہوتی ہے جب آپ مستقل طور پر دباؤ میں یا فکر مند رہیں اور آپ کی اس سے جان نہ چھوٹ رہی ہو تب آپ برن آؤٹ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ برن آؤٹ کی طرف بڑھنے کی ایک اور بڑی علامت مزاج میں تلخی ہے۔ اس بات کا احساس کے آپ کے کام کی کوئی قدر نہیں، آپ سماجی محفلوں سے کنارہ کشی کرنے لگتے ہیں اور مایوسی طاری ہونے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔

برن آؤٹ

لندن میں مقیم برن آؤٹ کی کیفیت پر تحقیق کرنے والے نفسیاتی معالج فرانسس والکر کا کہنا ہے کہ کوئی شخص جو اس کیفیت کا شکار ہونے والا ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو جذبات سے عاری اور دماغی طور پر الگ تھلک محسوس کرنے لگتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ برن آؤٹ کی آخری اور یقینی علامت نہ ختم ہونے والا احساس ہوتا ہے کہ آپ کے کام کا معیار گرتا جا رہا ہے۔

والکر کہتی ہے کہ جب لوگ یہ کہنا شروع کر دیں کہ ’میں تو ایسا نہیں تھا، میں تو بہت کچھ کر لیتا تھا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ اگر وہ جسمانی طور پر اپنے آپ کو پوری طرح توانا محسوس نہیں کرتے تو یقینی طور پر وہ اپنی معمول کی کارکردگی نہیں دکھا پائیں گے۔

اگر آپ کو یہ طریقہ زیادہ سائنسی نہ لگے تو آپ مارش برن آؤٹ انونٹری (ایم بی آئی) دیکھ سکتے ہیں یہ ایک ٹیسٹ ہے جو برن آؤٹ کا اندازہ لگانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ ایم بی آئی کا جنرل سروے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ نقاہت، بد مزاجی اور کام پر آپ کی کارکردگی کیسی جا رہی ہے۔ یہ سنہ 1981 میں پہلی مرتبہ شائع کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے بے شمار مرتبہ مختلف تحقیقاتی مکالوں میں حوالے کے طور پر استعمال ہوا ہے۔

اگر آپ کی برن آؤٹ سے پہلے کی کیفیت ہے تو آگے کیا ہو گا؟

برن آؤٹ سے بچنے کا اور ہمیشہ کے لیے اس سے جان چھڑانے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ اس کی جڑیں ہی ختم کر دی جائیں۔ مرے کا کہنا ہے کہ ’آپ اپنی زندگی میں ایسا کیا کر رہے ہیں جن سے آپ عارضی یا مستقل طور پر جان چھڑا سکیں۔ مثال کے طور زیادہ نیند تاکہ جسمانی تھکن کو دور کیا جا سکے۔‘

والکر نے اس ضمن میں ایک مرحلہ وار پروگرام تجویز کیا ہے۔ جس میں سب سے پہلے اس بات کا تعین کرنا ہے کہ آپ کیا کر سکتے ہیں اور آپ سے کیا کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ ’کئی صورتوں میں آپ بہترین نظر آنا چاہتے ہیں اور اس کوشش میں آپ زیادہ کام کرتے ہیں کہ آپ میں جو کمی ہے وہ پوری ہو جائے۔‘

کبھی کبھار کام کی جگہ کا ماحول بھی ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ سنہ 2018 کے گیلپ کے جائزے کے مطابق ساڑھے سات ہزار امریکی ملازمین میں کام کی جگہ پر غیر مساوی یا غیر منصفانہ سلوک کی وجہ سے برن آؤٹ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ مینیجرز کی طرف سے ملازمین کے کام کی قدر نہ کرنے سے بھی ورکرز پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔( بشکریہ بی بی سی اردو )

 

The post کام کی زیادتی سے پیدا ہونے والی کیفیت ’برن آؤٹ‘ کیا ہے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2HtfYCj

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن:  چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا م...