Saturday, 31 October 2020

قوت مدافعت جانچنے کیلیے خود کو کورونا سے بیمار کرنے والے وائرولوجسٹ کے اہم انکشافات

 ماسکو: سائبیریا سے تعلق رکھنے والے ماہرِ وائرسز 68 سالہ الیگزینڈر سیفرنوف نے کورونا وائرس کو سمجھنے کے لیے خود کو جان بوجھ کر کورونا وائرس لگایا اور اس اہم مطالعے کے نتائج میں حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نووسیبیرسک سے تعلق رکھنے والے معروف وائرولوجسٹ الیگزینڈر سیفرنوف رواں برس مارچ میں کورونا کا شکار ہوگئے تھے، انہیں  بخار، سینے میں درد اور سونگھنے کی حس ختم ہونے کی شکایت تھی تاہم ان میں تشخیص نمونیا کی ہوئی تھی۔

بعد ازاں 68 سالہ وائرولوجسٹ نے کورونا اینٹی باڈیز ٹیسٹ کرایا جو کہ مثبت آیا جس پر انسٹیٹوٹ آف کلینیکل اینڈ ایکسپیرمنٹل میڈیسین سے رجوع کیا جہاں انہوں نے اپنے جسم میں پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز کا مطالعہ کیا جس میں انکشاف ہوا کہ بیماری سے تحفظ فراہم کرنے والی اینٹی باڈیز 3 ماہ بعد ہی ختم ہوگئیں۔

اینٹی باڈیز کے ختم ہو جانے پر وائرسز کے ماہر الیگزینڈر سیفرنوف  نے خود کو جان بوجھ کر دوبارہ کورونا وائرس سے متاثر کیا لیکن جسم میں اینٹی باڈیز ختم ہو جانے کے باعث ان میں نا صرف شدت سے علامتیں ظاہر ہوئیں بلکہ اسپتال میں بھی داخل ہونا پڑا۔

الیگزینڈر سیفرنوف کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کئی برسوں تک ہمارے درمیان ہی رہے گا جب کہ ان کا تجربہ اجتماعی مدافعت کی حکت عملی کے خلاف ایک انتباہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مہلک وائرس کیخلاف ویکسین کے کئی ڈوز استعمال کرنا ہوں گے۔

واضح رہے کہ اب تک کووڈ 19 سے 2 بار متاثر ہونے کے چند ہی کیسز کی تصدیق ہوئی ہے اور ان میں سے بھی اکثریت ان لوگوں کی تھی جو دو قسم کے وائرسز سے متاثر ہوئے تھے اور غالب امکان یہی ہے کہ الیگزینڈر سیفرنوف بھی دو قسم کے وائرسز کا شکار ہوئے ہوں تاہم ان کی تحقیق نے طبی ماہرین میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

The post قوت مدافعت جانچنے کیلیے خود کو کورونا سے بیمار کرنے والے وائرولوجسٹ کے اہم انکشافات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3efYfKM

ڈینگی…کرونا کی موجودگی میں مزید خطرناک ہو سکتا ہے

ان دنوں پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر کے ساتھ ڈینگی بھی دوبارہ سر اٹھا رہا ہے، جو کہ صحت عامہ کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔

دونوں امرا ض خطرناک اس لیے بھی ہیں کہ ان کے خلاف عالمی سطح پر تاحال نہ تو کوئی ویکسین بن سکی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی مستند علاج دریافت ہوا ہے۔ تاہم احتیاطی تدابیر اور عوامی شعور و آگاہی کے ذریعے ان پر پر قابو پانا ممکن ہو سکتا ہے۔ اس سنگین مسئلے کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مکمل اور جامع تحریر قارئین کی نظر کی جارہی ہے، جس سے استفادہ کرتے ہوئے ہوئے ڈینگی پر قابو پانے میں معاونت حاصل ہوگی۔

پاکستان میں ڈینگی کا پہلا کیس 1994 ء میں کراچی میں سامنے آیا لیکن بڑے پیمانے پر ڈینگی بخار 2010ء اور 2011ء میں نمودار ہوا۔ ایک محدود اندازے کے مطابق 2011ء میں 370 کے قریب لوگ موت کا شکار ہوئے اور 15000 لوگ اس وباء سے متاثر ہوئے۔ اس کے بعد ایک تسلسل سے پشاور سے گوادر تک کم یا زیادہ ڈینگی کیس نمودار ہورہے ہیں۔

ڈینگی افریقی زبان کا لفظ ہے۔ یہ افریقہ کی سواہیلی (Swahili) زبان سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے(Seizure) جھٹکے لگنا، اس بیماری کا آغاز بھی افریقہ سے ہوا اور یہاں سے یہ بیماری دیگر براعظموں تک پھیلی۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق اس وقت آدھی سے زیادہ دنیا ڈینگی بخار میں مبتلا ہونے کے رسک پر ہے۔ دنیا میں سالانہ تقریباً 2 کروڑ افراد اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

ہر سال 25,000 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ڈینگی کا پہلا وبائی حملہ 1780ئکی دہائی میں منظر عام پر آیا، جس میں براعظم ایشیا، افریقہ اور شمالی امریکہ بیک وقت شدید متاثر ہوئے۔ 1789ء میں Benjamin Rush پہلا انسان تھا، جس نے اس بیماری کو کمر توڑ بخار(Break Bone fever) کا نہ صرف نام دیا بلکہ پہلے کیس کو باقاعدہ تشخیص کیا۔اس کو کمرتوڑ بخار اس لیے کہتے ہیں کہ متاثرہ مریض کی کمر،پٹھوں اور جوڑوں میں شدید درد ہوتا ہے اور مریض چلنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔

انسانی تاریخ میں ڈینگی کے سب سے پہلے کیس کا تذکرہ چینی انسائکلوپیڈیامیں 365-420 میں ملتا ہے، جہاں اس کو ’’آبی زہر‘‘ (Water Poision) کا نام دیا گیا۔

ڈینگی بخار ایک مخصوص جراثیم (وائرس) کی وجہ سے ہوتا ہے، جس کی چار اقسامDENV-1,DENV-2,DENV-3,DENV-4 ہیں۔ یہ جراثیم کرہ ارض پر پائے جانے والے تین ہزار سے زیادہ اقسام کے مچھروں میں سے صر ف دو مخصوص مچھرAedes Albopictus اورAedes Aegypti، ایک انسان سے دوسرے انسان اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں۔ (Aedes Albopictus) کا مطلب سفید رنگے کے دھبے ہوتا ہے۔ یہ لاطینی زبان سے نکالے گئے الفاظ ہیں۔ Alboکا مطلب سفید اور pictus کا مطلب دھبہ ہے۔دوسرے مچھر کو  Aegypti Aedes اس لیے کہتے ہیں کہ یہ مچھر مصر(Egypt)  میں دریافت ہواتھا۔

یہ بات بڑے تعجب کے ساتھ پڑھی جائے کہ مچھر چاہے ملیریا کا ہو یا ڈینگی کاصرف مادہ مچھر ہی خون چوستی ہے۔ نرمچھر بے چارہ گھاس پھوس پر گزارا کر لیتا ہے۔ ڈینگی کے مادہ مچھر کو انڈے بنانے کے لیے ایک خاص پروٹین درکار ہوتی ہے جو کہ خون میں موجود ہوتی ہے۔مادہ مچھر یہ انسانوں اور جانوروں کے خون سے چوس کر حاصل کرتا ہے۔

جب مادہ مچھر ڈینگی سے متاثرہ شخص کا خون چوستی ہے تو ڈینگی کا جراثیم مادہ مچھر کے جسم میں داخل جاتا ہے اور اس طرح صحت مند مچھر ڈینگی سے متاثر ہوجاتا ہے۔ جب یہ ڈینگی سے متاثرہ مچھر ایک صحت مند انسان کوکاٹتی ہے تو یہ جراثیم (وائرس) انسان میں داخل ہوجاتا ہے اور انسان ڈینگی بخار کے مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس طرح ڈینگی کا انسان سے مچھر اور مچھر سے انسان کا سائیکل چل پڑتا ہے۔

ڈینگی کے مچھر عام مچھروں کے مقابلے میں جسامت میں ذرا بڑے ہوتے ہیں اور دو اوقات سورج نکلنے اور غروب آفتاب سے قبل زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔  ڈینگی کے ایک قسم کے وائرس کا حملہ صرف ایک بار ہی ہو سکتا ہے۔ دوسری مرتبہ ڈینگی بخار دوسری قسم کے وائرس سے ہو سکتا ہے اور یوں زندگی میں کسی بھی شخص کو زیادہ سے زیادہ چار مرتبہ یہ عارضہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری گرم اور نیم گرم علاقوں میں پائی جاتی ہے۔

دیگر مچھروں کے برعکس ڈینگی بخار کا باعث بننے والا مچھر بڑا صفائی پسند ہوتا ہے۔ گندے تالابوں اور جوہڑوں کے بجائے یہ مچھر گھریلو واٹر کولر، ٹینکوں کے قرب و جوار، صاف پانی سے بھرے برتنوں، پودوں کے گملوں، غسل خانوں اور بارش کے صاف پانی میںتقریباً سارا سال ہی پلتا رہتا ہے، تاہم برسات کے موسم میں یہ تیزی سے افزائش نسل کرتا ہے۔

یہاں اس بات کو بھی سمجھنا ضروری ہے کہ یہ بیماری براہ راست ایک شخص سے دوسرے شخص(From Person to Person) کو منتقل نہیں ہوتی بلکہ مخصوص مچھر ہی اس کے انتقال کا باعث بنتا ہے۔متاثرہ مریض کے ساتھ رہنا،کھانا پینا، تولیہ ،کنگھی ،برتن وغیرہ استعمال کرنا ہر طرح سے محفوظ ہے۔

یہ یاد رہے کہ متاثرہ مچھر کا صرف ایک بار ہی کاٹنا ڈینگی بخار کا باعث بن سکتا ہے۔ڈینگی کا مچھر زیادہ سے زیادہ 100 میٹر یا 300فٹ تک پرواز کرسکتا ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ اگر کسی گھر میں ڈینگی کا مریض ہے یا ڈینگی مچھر یا لاروا موجود ہوتو اس علاقے کے300 فٹ کے اردگرد مچھر مار سپرے کیا جائے۔ ڈینگی مچھر کی عمر 3 دن سے لے کر 3 ماہ ہوسکتی ہے لیکن اوسط عمر کا دورانیہ 7 سے 14 دن ہوتا ہے۔

اس بات کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ اگر ایک مچھر ڈینگی سے بیمار یا متاثر ہوتا ہے تو وہ زندگی بھر بیماری پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔پاکستان میں کیونکہ یہ بیماری اب مستقل موجود ہے اس لیے پورا سال لوگ اس کا شکار رہیں گے۔

البتہ جون تا نومبر تک ڈینگی مچھر کے لیے آئیڈیل ہوتا ہے، سردیوں میں مچھر زیادہ متحرک نہیں ہوتا۔ اس بات کوبھی توجہ کے ساتھ پڑھا جائے کہ ڈینگی کا مچھر ہر اس جگہ پر پرورش پاسکتا ہے جہاں انسانی سوچ تصور نہیں کر سکتی۔ ڈینگی مچھر گچھوں کی صورت میں انڈے دیتی ہے اور یہ ایک خاص گوند کی طرح کے مواد کے ذریعے خالی جگہوں مثلاً کباڑ ، خالی ڈبوں ،خول ،ڈرم، کٹے ہوئے تنے،گملے ، پرانے ٹائرز اور ایئر کولر وغیرہ میں چپک جاتے ہیں اور یہ انڈے 10سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

جونہی ان کو ساز گار ماحول یعنی پانی اور نمی ملتی ہے ان انڈوں کی افزائش شروع ہوجاتی ہے۔2011ء کے سیلاب نے بڑے پیمانے پر پاکستان میں تباہی مچائی اور پانی وسیع جگہوں پر گیا جس سے ان پرانے چپکے ہوئے انڈوں کو سازگار ماحول ملا اور اس بیماری نے پاکستان میں اپنے ہونے کا واضح ثبوت دے دیا۔ ڈینگی کا مچھر صرف ڈینگی بخار کا باعث نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ دیگر بیماریاں مثلاًییلوفیور(Yellow fever) اور چکن گنیا( Chikungunya,) وغیرہ کا بھی باعث ہے۔

وائرس کو لے جانے والے مچھر کے کاٹنے کے دو سے سات روز کے اندر ڈینگی کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ان علامات میں تیز بخار، سردی لگنا، جسم میں شدید درد اور کمزوری، منہ کا ذائقہ کڑوا ہوناشامل ہیں۔ ڈینگی بخار کی یہ علامات دو تا چار دن رہنے کے بعد ختم ہو جاتی ہیں۔

مریض کو پسینہ زیادہ آتا ہے اور نارمل محسوس کرنے لگتا ہے مگر بہتری کی یہ حالت تقریباً ایک دن رہتی ہے جس کے بعد بخار دوبارہ تیزی سے چڑھ جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی جسم پرسرخ باریک دانے نمودار ہوسکتے ہیں۔ ڈینگی بخار کی شدید شکل جو بہت خطرناک اور جان لیوا ہو سکتی ہے، اسے ڈینگی ہیمریجک فیور(Dengue Hemorragic Fever)  یا خونی بخارکہتے ہیں۔

اس کی نمایاں علامات میں آنکھوں کے پیچھے شدید درد، پیٹ درد اور جسم کے مختلف حصوںدانتوں، مسوڑھوں، ناک ، پیشاب پخانے،زنانہ راستے سے خون یا خون سے ملتی جلتی رطوبات کا رسنا شامل ہیں۔ خون میں Platelets ذرات کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے۔ خون کے اس غیر ضروری بہاؤ کی وجہ سے خون کے دباؤ میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس حالت کو  Dengue Shock Syndrome کہا جاتا ہے جو کہ موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ایسی حالت میں مریض کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈینگی بخار کی تشخیص دو طریقوں سے ہوتی ہے۔مریض کی علامات سے اور لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے۔ ابتداء میں اس کا انحصار علامات پر ہوتا ہے جیسے بخار، جلد پر سرخ دھبے بننا، جسم میں درد اور آنکھوں کے پیچھے درد وغیرہ۔ خون کے ٹیسٹ میں  Plateletsکی تعداد میں کمی ہوجاتی ہے۔

دوسری قسم کے ٹیسٹ میں ڈینگی کے خلاف خون میں مخصوص اینٹی باڈیزIGM  اورIGG کی موجودگی کو دیکھاجاتا ہے اور ڈینگی بخار میں ان دونوں اینٹی باڈیز کا لیول بڑھ جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ اگر ابتدائی علامات میں کروا لیا جائے تو Negative بھی ہو سکتا ہے کیونکہ عام طور پر اس اینٹی باڈی کو جسم میں بننے اور شناخت کرنے میں چار سے پانچ دن لگتے ہیں۔ آج کے جدید دور میں بھی ڈینگی کا کوئی مستند علاج دریافت نہیں ہوا۔اس بیماری کے علاج کے لیے مریض کو  supportive therapy دی جاتی ہے۔

اس سے کہا جاتا ہے کہ پانی اور دوسرے مشروبات کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرے۔ بخار اور جسم درد کی صورت میں  Paracetamolدی جاتی ہے ۔ اگر مریض زیادہ کھاپی نہ رہا ہو تو Drip لگانی چاہیے۔ اگر Platelets بہت کم ہو جائیں جس سے خون جاری ہونے کا احتمال ہو تو اس صورت میں Platelets کی  Pack لگانا ضروری ہو جاتا ہے۔ مریض کو مسلسل زیر نگرانی رکھ کر اس کے خون کے دباؤ، درجہ حرارت اور خون کے نظام کو نارمل رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پوری دنیا میں ڈینگی کے مرض پر قابو پانے کے لیے مختلف احتیاطی تدابیر کی جارہی ہیں جس میں اس کے خلاف مؤثر Vacine ویکسین کی تیاری بھی شامل ہے۔ یہ ویکسینDengvaxiaکے نام سے مارکیٹ میں دستیاب ہے۔البتہ اس سے فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جو انتہائی رسک والے علاقے میں رہ رہے ہوتے ہیںاور پہلے اس بیماری کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں۔

نوسال سے کم عمر کے بچوں کے لیے عالمی ادارہ صحت اس کو تجویز نہیں کرتا۔Biological Control حیاتیاتی کنٹرول سے مچھر پرقابوپانے کے لیے تالابوں اور جھیلوں میں مخصوص مچھلیوں کی اقسام جن میں Guppies،Kataba Gambusia affinisاور Koi carp fish شامل ہیں،استعمال کی جاتی ہیں۔ جوکہ ڈینگی مچھر کے لاروے کو کھا جاتی ہیں اس طرح مچھر کی افزائش کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ان مچھلیوںکی اقسام پاکستان میں بھی دستیاب ہیں۔

اس کے علاوپ چند مفید درخت اور پودے لگانے سے بھی یہ مچھر مرجاتے ہیں جن میںClove Plants,Euphorbia ,Catnip,(تلسی)Basil plant l,(لیمن گراس)Lemongrass  ،)اسطوخودوس( Lavender (لیونڈر)، Rosemary ،(موتیا)Marigoldاور( سفیدہ)Eucalyptus وغیرہ شامل ہیں۔یہ تمام مچھر کو نہ صرف بھگاتے ہیں بلکہ ان کو مارنے میں بھی اہم ہیں۔ ان پودوں کو گھروں، دفاتر اور عوامی جگہوں پر لگانا ضروری ہے۔

یہ پودے پاکستان میںہر جگہ باآسانی دستیاب ہیں۔ یہ سرکاری و نیم سرکاری اور پرائیویٹ نرسریوں سے حاصل کیے ساسکتے ہیں۔ ڈینگی کے مچھر کو ایک مخصوص جراثیم سے بھی قابو کرنے کی کوشش جاری ہے ۔جراثیم Wolbachia Bacteria سے مچھر کو متاثر کیا جاتا ہے اس طرح اس بیمار مچھر میں ڈینگی کے خلاف مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ بیماری پھیلانے کا باعث نہیں بنتے۔

ڈینگی کو قابو کرنے کے لیے جہاںکیمیائی کنٹرول( Chemical Control ) جس میں مچھر مار اسپرے کا استعمال ،میٹ ،کوئل یا جلیبی،تیل ،لوشن کا استعمال شامل ہے وہاں جدید خطوط پر مندرجہ بالاحیاتیاتی کنٹرول کو(Biological control)یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے جہاں سارا سال ڈینگی متحرک رہے گا ۔اور جیسے کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ اس موذی مرض کے لیے آج کے موجودہ دور میں کوئی مستند علاج دریافت نہیں ہوا۔یہی وجہ ہے کہ اس کے پھیلاؤ اور بچاؤکے لیے عوامی شعور وآگاہی کے ساتھ ایک منظم ومربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

اگرچہ رواں سال ملک میں مون سون کا دورانیہ بھی بڑھ گیا، جس کی وجہ سے بارشیں زیادہ ہوئیں، شہری علاقوں میں پانی زیادہ جمع رہا ،سیوریج کا نظام متاثر ہوا، سیلابی صورتحال بھی رہی جوکہ ڈینگی کی وبائی صورت میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس امر کا اظہار بھی بہت ضروری ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں ڈینگی کے خلاف کوئی موثر منصوبہ بندی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔

کرونا کی موجودگی میں ڈینگی کا بھی دوبارہ سر اٹھانا ہر سطح پر ایک توجہ طلب مسئلہ ہے۔ پاکستان میں اگرچہ ڈینگی وباء موسم سرما کی آمد کے ساتھ کم ہوجائے گی لیکن بچاؤکے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں ۔حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کی صحت کے معاملات کو اپنی ترجیحات میں صف اول پر رکھے تاکہ اس موذی مرض پر قابو پانا ممکن ہو سکے۔

میںہر جگہ باآسانی دستیاب ہیں۔ یہ سرکاری و نیم سرکاری اور پرائیویٹ نرسریوں سے حاصل کیے ساسکتے ہیں۔ ڈینگی کے مچھر کو ایک مخصوص جراثیم سے بھی قابو کرنے کی کوشش جاری ہے ۔جراثیم Wolbachia Bacteria سے مچھر کو متاثر کیا جاتا ہے اس طرح اس بیمار مچھر میں ڈینگی کے خلاف مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ بیماری پھیلانے کا باعث نہیں بنتے۔

ڈینگی کو قابو کرنے کے لیے جہاںکیمیائی کنٹرول( Chemical Control ) جس میں مچھر مار اسپرے کا استعمال ،میٹ ،کوئل یا جلیبی،تیل ،لوشن کا استعمال شامل ہے وہاں جدید خطوط پر مندرجہ بالاحیاتیاتی کنٹرول کو(Biological control)یقینی بنایا جاسکتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے جہاں سارا سال ڈینگی متحرک رہے گا ۔اور جیسے کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ اس موذی مرض کے لیے آج کے موجودہ دور میں کوئی مستند علاج دریافت نہیں ہوا۔

یہی وجہ ہے کہ اس کے پھیلاؤ اور بچاؤکے لیے عوامی شعور وآگاہی کے ساتھ ایک منظم ومربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اگرچہ رواں سال ملک میں مون سون کا دورانیہ بھی بڑھ گیا، جس کی وجہ سے بارشیں زیادہ ہوئیں، شہری علاقوں میں پانی زیادہ جمع رہا ،سیوریج کا نظام متاثر ہوا، سیلابی صورتحال بھی رہی جوکہ ڈینگی کی وبائی صورت میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس امر کا اظہار بھی بہت ضروری ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں ڈینگی کے خلاف کوئی موثر منصوبہ بندی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔کرونا کی موجودگی میں ڈینگی کا بھی دوبارہ سر اٹھانا ہر  سطح پر ایک توجہ طلب مسئلہ ہے۔ پاکستان میں اگرچہ ڈینگی وباء موسم سرما کی آمد کے ساتھ کم ہوجائے گی لیکن بچاؤکے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں ۔حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کی صحت کے معاملات کو اپنی ترجیحات میں صف اول پر رکھے تاکہ اس موذی مرض پر قابو پانا ممکن ہو سکے۔

The post ڈینگی…کرونا کی موجودگی میں مزید خطرناک ہو سکتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3mFUzVD

Friday, 30 October 2020

تنہائی اور سماجی علیحدگی سے خواتین میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تحقیق

برٹش کولمبیا: کینیڈا میں 28 ہزار سے زائد بالغ افراد پر کیے گئے ایک مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ اکیلے پن اور سماجی علیحدگی کے احساس سے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے کا خطرہ، مردوں کی نسبت خواتین میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ بلند فشارِ خون یعنی ہائی بلڈ پریشر میں رگوں کے اندر خون کا دباؤ معمول سے بہت بڑھ جاتا ہے جو آگے چل کر فالج اور ہارٹ اٹیک سمیت کئی طرح کے امراضِ قلب اور اچانک موت کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں زینب حسینی کی قیادت میں کی گئی اس تحقیق میں عوامی صحت سے متعلق ایک وسیع طبّی سروے کے دوران جمع کیے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔

مطالعے میں 45 سے 85 سال کے 28,238 افراد کا ڈیٹا کھنگالا گیا جن میں مردوں اور عورتوں کی تعداد مساوی تھی۔

ڈیٹا کے تجزیئے سے معلوم ہوا کہ غیر شادی شدہ، طلاق یافتہ یا کسی بھی دوسری صورت میں اکیلی رہنے والی ایسی خواتین جن کے سماجی رابطے 85 سے کم تھے، اور جو مہینے میں دو یا دو سے کم مرتبہ تقریبات یا میل ملاقات میں شریک ہوتی تھیں، ان میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ ایسی خواتین سے زیادہ تھا جو زیادہ میل ملاپ رکھنے والی، شادی شدہ اور مختلف تقریبات میں زیادہ شریک رہنے والی تھیں۔

سماجی علیحدگی اور اکیلے پن کے ساتھ ساتھ ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بھی واضح طور پر بڑھتا دیکھا گیا۔ خواتین میں سماجی علیحدگی کے باعث موت کا امکان تقریباً سگریٹ نوشی جتنا ہی جان لیوا تھا۔

مردوں کا معاملہ اس کے برعکس رہا: شادی شدہ اور زیادہ سماجی رابطے رکھنے والے مردوں میں تنہائی پسند مردوں کے مقابلے میں ہائی بلڈ پریشر کا امکان زیادہ تھا۔

قبل ازیں ایک اور مطالعے میں یہ معلوم ہوا تھا کہ اکیلی اور کم سماجی رابطے رکھنے والی خواتین میں موٹاپے کا امکان، سماجی طور پر سرگرم عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

تازہ تحقیق بھی اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے جو ریسرچ جرنل ’’ہائپرٹینشن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔

The post تنہائی اور سماجی علیحدگی سے خواتین میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/37Xu7Tu

کووڈ 19 کا مرض دماغ کو کئی برس بوڑھا کرسکتا ہے

 لندن: کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد بھی کئی برس تک دماغی کیفیت متاثر رہ سکتی ہے اور یوں اس کا حملہ دماغ کو آپ کی حقیقی عمرکے مقابلے میں 10 سال بوڑھا کرسکتا ہے۔ لیکن یہی نہیں بلکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صحتیاب ہونے کے باوجود کورونا دماغی افعال پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

اس ضمن میں امپیریئل کالج لندن نے کورونا  سے صحتیاب ہونے والے 84 ہزار مریضوں کا جائزہ لیا ہے لیکن یہ مطالعہ ابھی تک کسی تحقیقی جرنل میں شائع نہیں ہوا ہے۔ تاہم کالج سے وابستہ سائنسداں پروفیسر ایڈم ہیمپشائر کہتے ہیں کہ ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ کورونا وائرس مریضوں کی ذہنی و دماغی کیفیت کو متاثر کرتا ہے اور طویل عرصے تک اس کے اثرات باقی رہتے ہیں۔

اسی مقالے میں کہا گیا ہے کہ مرض سے صحتیاب ہونے والے مریضوں میں اکستابی کمی ہوسکتی ہے۔ اس کے لیے ایک ذہانت کا ٹیسٹ کیا گیا جسے ’گریٹ برٹش انٹیلی جینٹ ٹیسٹ ‘ کہا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ سے الزائیمر جیسی بیماریوں کو بھی پکڑا جاتا ہے اور اس میں انہیں کوئی معمہ حل کرنے کو کہتے ہیں۔

اس مطالعے کے نتائج پر دیگر اسکالروں نے ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں نیورولوجی پروفیسر مسعود حسین کہتے ہیں کہ کووڈ 19 سے دماغ متاثر ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ تاہم ایڈنبرا یونیورسٹی میں دماغی عکس نگاری کی ماہر کا خیال ہے کہ یہ اثرات عارضی ہوسکتے ہیں اور مریض وقت کے ساتھ ساتھ نارمل ہوجائے گا۔

تاہم ان تمام مریضوں کی کووڈ 19 سے متاثر ہونے سے پہلے کی دماغی کیفیت کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہوسکا اور تحقیق میں یہی ایک کمی رہ گئی ہے۔

دماغی دھند

دوسری جانب ایک الگ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا سے متاثرہ عمررسیدہ مریضوں میں فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب بعض مریضوں میں توجہ کی کمی، دماغی وہم، نسیان اور دیگر عوارض دیکھے گئے۔ خطرناک بات یہ ہے کہ بعض مریضوں میں کووڈ 19 کے بعد دماغی سوجن بھی دیکھی گئی ہے۔

The post کووڈ 19 کا مرض دماغ کو کئی برس بوڑھا کرسکتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3jFaYHV

Thursday, 29 October 2020

ناکارہ جگر کی اہم وجوہ کے انکشاف سے علاج میں پیشرفت ممکن

اسرائیل: ماہرین نے خلیاتی (سیلیولر) سطح پر مکمل طور پر جگر کی ناکارگی (اکیوٹ لیور فیلیئر) کا راز دریافت کیا ہے اور اسی عمل کو روک کر مریضوں کو موت کے منہ سے بچایا جاسکتا ہے۔

جگرفیل ہونے کا مرض تیزی سے بدترین ہوجاتا ہے اور 80 فیصد کیفیات کا نتیجہ موت پر نکلتا ہے۔  خود مغربی ممالک میں بھی یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور بسا اوقات پیراسیٹامول کے بے تحاشہ استعمال سے جگر اس حالت تک پہنچتا ہے۔

اب وائزمان انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کےپروفیسر ایران ایلی نیف اور آئیڈوامیت نے چوہوں میں دیکھا کہ جگر میں تین ذیلی اقسام کے خلیات ایک ساتھ مل کر جگر کو فیل یا ناکارہ بناتے ہیں۔ اس عمل میں آنتوں کے بیکٹیریا خود بیمار خلیات بھی سگنل بھیجتے ہیں۔ اب ہم اس عمل کو سمجھتے ہوئے اگر سگنل کو روک سکیں یا آنتوں کے مخصوص خردنامیوں کو ختم کرسکیں تو اس سے موت کو ٹالا جاسکتا ہے اور مریضوں کو کچھ وقت مل سکتا ہے۔

ماہرین اس عمل میں مرض سے پہلے اور بعد میں چوہے کے جگر کے خلیات دیکھے اور خود انسانی مریضوں کے خلیات بھی نوٹ کئے۔ ان دونوں کے درمیان حیرت انگیز یکسانیت دیکھی گئی۔ پھر ماہرین نے جگر کی ناکارگی میں مبتلا چوہوں میں مخصوص سگنل روکے تو ان کی طبیعیت بہتر ہوئی اور جگر کی صورتحال بھی بہتر ہونا شروع ہوگئی۔

تاہم جگر کے بہت سے خلیات میں سے جگر فیل کرنے والے خلیات کی نشاندہی بہت مشکل کام تھا۔ پہلے چوہوں کے جگر کا تمام خلیات کا پورا نقشہ بنایا گیا اور بالخصوص جگر کے عارضےاور ناکارگی کو نوٹ کیا گیا۔ اس طرح خلیات کے 49 ذیلی اقسام سامنے آئی اور آخرکار تین اقسام کے خلیات پر نظر آکر ٹھہری۔ یہ خلیات بہت سی رطوبتیں بھی خارج کرتے ہیں۔

دوسری جانب سائنسدانوں نے آنتوں سے آنے والے سگنل کا راستہ (پاتھ وے) بھی معلوم کیا اور پھر چن چن کر ان خردنامیوں کو ختم کیا جو ایسے سگنل خارج کررہے تھے۔ اس کے فوراً بعد ہی جگر کے بیمار چوہے بہتر ہوگئے اور وہ باقی ماندہ چوہوں کے مقابلے میں زیادہ عرصے زندہ رہے۔

آج نہیں تو کل یہ طریقہ انسانوں پر آزما کر جگر کی فوری ناکارگی کو ٹالا جاسکتا ہے۔

The post ناکارہ جگر کی اہم وجوہ کے انکشاف سے علاج میں پیشرفت ممکن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2TIIbHT

سانپ سیڑھی کا یہ کھیل بچوں کے پیٹ کے کیڑے کم کرسکتا ہے!

نائیجیریا: بچے کھیل کھیل میں بہت کچھ سیکھ جاتے ہیں اور اب ’سانپ سیڑھی‘ کی طرز پر ’کیڑے اور سیڑھی‘ نامی بورڈ گیم بنایا گیا ہے جو بچوں کی آنتوں میں انفیکشن اور نتیجتاً  پیٹ کے کیڑوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔

یہ گیم بالخصوص دیہی ماحول میں رہنے والے بچوں کو صحت و صفائی کے اصول سکھاتا ہے اور سب سے پہلے نائیجیریا کے بچوں پر آزمایا گیا ہے۔ اس کھیل کی بدولت واضح فائدہ دیکھا گیا۔

نائیجیریا میں فیڈرل یونیورسٹی آف ایگریکلچر سے وابستہ طفیلیوں (پیراسائٹولوجی) کےماہر ڈاکٹر اویم ایکپو نے کہا کہ بالخصوص افریقی بچے دیہی ماحول میں کھیلتے ہیں اور وہاں مٹی میں موجود کیڑوں کے انڈے کسی طرح بچوں کی آنتوں میں پہنچ جاتے ہیں جسے ہیمنتھس کہتے ہیں۔

’ہم نے چھ ماہ تک بچوں کو یہ ’کیڑے اور سیڑھی‘ کا گیم کھلایا اور نوٹ کیا کہ بچوں میں پیٹ کے کیڑوں کی شرح 25 سے 5.6  فیصد پر آگئی،‘ ڈاکٹر اویم نے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اس گیم میں جگہ جگہ تصاویر اور معلومات لکھی ہیں جو بچوں کو حفظانِ صحت کے اصولوں سے آگاہ کرتی ہیں۔

ماہرین نے اس اہم کام  کی تفصیلات پبلک لائبریری آف سائنس ( پی ایل او ایس) میں شائع اس رپورٹ میں چھ اسکولوں کے منتخب بچوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ کو کیڑے اور سیڑھی کھلایا گیا اور دوسرے کو عام سانپ سیڑھی (اسنیکس اینڈ لیڈرز) کھیلنے کو دیا گیا۔

استاد کی مدد سے بچوں کو کھیل کھیل میں صفائی کے اصول اور کیڑوں کے انفیکشن کے بارے میں بتایا گیا۔ اس کے نتیجے میں بچوں میں مٹی سے آنتوں تک جانے والے پیٹ کے کدودانوں سے بچاؤ کا شعور پیدا ہوا۔ پورے چھ ماہ کے دوران بچوں کی 98 فیصد تعداد نے کسی نہ کسی طرح یٹ کے کیڑوں سے بچاؤ کا ایک طریقہ معلوم کرلیا جبکہ صرف سادہ سانپ سیڑھی کھیلنے والے بچوں کی سات فیصد تعداد ہی اس درجے پر پہنچی۔

واضح رہے کہ پیٹ کے کیڑے ننگے پیر چلنے سے بھی پروان چڑھتے ہیں اور ان کے باریک انڈے کسی طرح مٹی سے ہوتے ہوئے جلد میں اترتے ہیں اور وہاں سے آنتوں تک پہنچتے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق دنیا بھر میں گیلی زمین اور کیڑوں کی آماجگاہ پر رہنے والے بچوں کی تعداد 60 کروڑ ہے جن کی 24 فیصد تعداد پیٹ کے کیڑوں کی شکارہوتی ہے جن میں افریقہ سرِ فہرست ہے۔

The post سانپ سیڑھی کا یہ کھیل بچوں کے پیٹ کے کیڑے کم کرسکتا ہے! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/35KXwxl

NIH at 80: Sharing a Timeless Message from President Roosevelt

This Saturday, October 31, marks an important milestone in American public health: the 80th anniversary of President Franklin Delano Roosevelt’s dedication of the campus of the National Institutes of Health (NIH) in Bethesda, MD. The President’s stirring speech, delivered from the steps of NIH’s brand-new Administration Building (now called Building 1), was much more than a ribbon-cutting ceremony. It gave voice to NIH’s commitment to using the power of science “to do infinitely more” for the health of all people with “no distinctions of race, of creed, or of color.” “We cannot be a strong nation unless we are a healthy nation. And so, we must recruit not only men and materials, but also knowledge and science in the service of national strength,” Roosevelt told the crowd of about 3,000. To get a sense of what it was like to be there on that historic day, I encourage you to check out the archival video footage above from the National Archives and Records Administration (NARA). These words from our 32nd President are especially worth revisiting for their enduring wisdom during a time of national crisis. In October 1940, with World War II raging overseas, the United States faced the prospect of defending its shores and territories from foreign forces. Yet, at the same time as he was bolstering U.S. military capacity, Roosevelt emphasized that it was also essential to use biomedical research to shore up our nation’s defenses against the threats of infectious disease. In a particularly prescient section of the speech, he said: “Now that we are less than a day by plane from the jungle-type yellow fever of South America, less than two days from the sleeping sickness of equatorial Africa, less than three days from cholera and bubonic plague, the ramparts we watch must be civilian in addition to military.” Today, in the midst of another national crisis—the COVID-19 pandemic—a similar vision is inspiring the work of NIH. With the aim of defending the health of all populations, we are supporting science to understand the novel coronavirus that causes COVID-19 and to develop tests, treatments, and vaccines for this disease that has already killed more than 225,000 Americans and infected more than 8.6 million. As part of the dedication ceremony, Roosevelt thanked the Luke and Helen Wilson family for donating their 70-acre estate, “Tree Tops,” to serve as a new home for NIH. (Visitors to Wilson Hall in Building 1 will see portraits of the Wilsons.) Founded in 1887, NIH had previously been housed in a small lab on Staten Island, and then in two cramped lab buildings in downtown Washington, D.C. The move to Bethesda, with NIH’s first six buildings already dotting the landscape as Roosevelt spoke, gave the small agency room to evolve into what today is the world’s largest supporter of biomedical research. Yet, as FDR gazed out over our fledging campus on that autumn day so long ago, he knew that NIH’s true mission would extend far beyond simply conducting science to providing much-needed hope to humans around the world. As he put it in his closing remarks: “I voice for America and for the stricken world, our hopes, our prayers, our faith, in the power of man’s humanity to man.” On the 80th anniversary of NIH’s move to Bethesda, I could not agree more. Our science—and our humanity—will get us through this pandemic and show the path forward to brighter days ahead. Links: Who We Are: History (NIH) Office of NIH History and Stetten Museum (NIH) “70 Acres of Science” (Office of NIH History) Coronavirus (COVID-19) (NIH)

Post Link

NIH at 80: Sharing a Timeless Message from President Roosevelt

NIH Blog Post Date



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/3oCyysx

Wednesday, 28 October 2020

میاں بیوی میں دل کی صحت بھی ایک جیسی ہوتی ہے، تحقیق

میری لینڈ: طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ میاں بیوی کی عادتیں اور شکل صورت ایک جیسی ہو یا نہ ہو، ان میں دل کی صحت ایک جیسی ضرور ہوجاتی ہے۔

یہ مطالعہ امریکا میں 5400 جوڑوں پر کیا گیا جس میں مرد و زن کی قلبی صحت کا جائزہ لیا گیا۔ ان تمام جوڑوں کی عمر 39 سے 55 سال کے درمیان تھیں، یعنی وہ ادھیڑ عمری کی دہلیز پر قدم رکھ چکے تھے۔

دل کی صحت جانچنے کےلیے ’’امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن‘‘ کے متعین کردہ 7 پہلوؤں کو بنیاد بنایا گیا جن میں سگریٹ نوشی، جسمانی سرگرمی، صحت بخش غذا، مجموعی کولیسٹرول، بلڈ پریشر، صبح ناشتے سے پہلے کی بلڈ شوگر اور باڈی ماس انڈیکس (وزن اور قد کی مناسبت سے جسم میں چربی کی مقدار) شامل ہیں۔

ان ساتوں پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے جہاں یہ ثابت ہوا کہ جوڑوں کی قلبی صحت ایک جیسی ہوتی ہے، وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ امریکا میں 80 فیصد جوڑوں کے دل اچھی حالت میں نہیں: ان سات میں سے بیشتر کی علامات منفی رجحانات اور خراب قلبی صحت کی طرف اشارہ کررہی تھیں۔

اس تحقیق کی نگراں ڈاکٹر سامعہ مورا کا کہنا ہے کہ اس عمر میں دل کی خراب صحت تشویش ناک ہے کیونکہ عمر بڑھنے کے ساتھ مجموعی صحت ویسے بھی خراب تر ہوتی جاتی ہے۔

البتہ، اس مطالعے میں ایک خامی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے: اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ زیرِ مطالعہ مرد و زن کتنے سال سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

یہ تحقیق ’’جاما اوپن نیٹ ورک‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔

The post میاں بیوی میں دل کی صحت بھی ایک جیسی ہوتی ہے، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3e9Xwei

روایت اور سائنس کا موازنہ، چند حقائق جان لیجئے

دنیا بھر میں ایک غلط فہمی تواتر اور وثوق سے پھیلائی جاتی ہے کہ بیماریاں موروثیت میں نسل در نسل پھیل رہی ہیں حالانکہ اس نظریے کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔

سائنسی طور پر جو موروثیت DNA سے ثابت ہوتی ہے، اس سے متعلق ہر ذی شعور جانتا ہے کہ تما م انسانوں میں پایا جانے والا ڈی این اے 99 فیصد  تقریباً ایک جیسا ہی ہوتا ہے،صرف ایک فیصد انفرادی مادہ ہوتا ہے جو کسی بھی صاحب DNA کی حیثیت کو دوسروں سے جدا ثابت کرتا ہے۔

ان گنت اور بے شمار خلیات،بافتوں، اعضاء،اعصاب اور نظاموں کی موجودگی میں بھلا ایک فیصد اتنی بڑی اور مہلک بیماریوں کو کیسے نسل در نسل منتقل کرنے کا ذمہ دار ہو سکتا ہے۔ہمارے  نزدیک خورونوش عادات، روز مرہ معمولات اور طو ر اطوار موروثی ہوتے ہیں۔ کسی بھی خاندان کے باورچی خانے میں استعمال ہونے والے غذائی اجزاء، مسالہ جات اور پکوان اس خاندان کی صحت مندی اور بیماری پر بہت زیادہ اثرات مرتب کرتے ہیں۔ایسے خاندان جن کے گھروں میں گوشت خوری، مرغن خوراک اورسہل پسندی نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے۔

ان کے افراد میں یورک ایسڈ، کولیسٹرول کی زیادتی کے مسائل عام دیکھنے کو ملیں گے۔  بعد ازاں کولیسٹرول کی متواتر زیادتی خون کی نالیوں کی تہوں کوسخت کرکے نظام دوران خون میں خرابی کا سبب بن کر امراض قلب،بلڈ پریشر،فالج اور برین ہیمبریج جیسے موذی اور جان لیوا امراض کا باعث بنتی ہے۔

اسی طرح یورک ایسڈ اور یوریا کی زیادتی شائیٹیکا پین،کمر درد،اتھرائیٹس اور گردے ناکارہ کرنے کا سبب بنتی ہے۔ قابل غور پہلو یہ ہے کہ جو افراد حفظان صحت  کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی خورونوش کی عادات اور روز مرہ معمولات میں تعمیری اور مثبت تبدیلی پیدا کرلیتے ہیں وہ خاندان کے دوسرے افراد کی نسبت بہتر اور صحت مند زندگی کے ساتھ طویل عمر پاتے ہیں۔ ترقی پزیر ممالک کے صاحبانِ دانش مغربی علوم سے اس قدر مرعوب ہیںکہ وہ مغربی چال چلن اور طور اطوار کی اندھی تقلید میں ہی نجات سمجھتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق جدید میڈیکل سائنس کی بے پناہ ترقی کے باوجود دنیا کی86 فیصد آبادی آج بھی قدرتی ادویات استعمال کر رہی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے ادارہ ’’پاپولیشن فنڈ کے مطابق پاکستان کی76 فیصد آبادی مختلف امراض کے سلسلے میں نیچرل میڈیسنز کا استعمال کرتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق فطری طرز علاج اور روایتی ادویات دور حاضر کی بیماریوں کا موثر علاج  ثابت ہو رہی ہیں لہٰذا انہیں صحت کی ابتدائی دیکھ بھال میں شامل کرنا چاہیے۔ڈبلیو ایچ او بھی قدرتی ادویات اور فطری طرز علاج کو متبادل طریقہ علاج کے طور پر تسلیم کر چکی ہے۔ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں لہسن، ملٹھی، بنفشہ ، جن سنگ ، تلسی ، سونف ، دارچینی ، ادرک ، پودینہ، الائچی اور  کچن میں استعمال کے دیگر اجزاء پھول، پھل، سبزیاں، اجناس اور ترکاریوں کا بطور دوا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے۔

جدید طبی نظریات میں بھی کافی حد تک کجی اور کمی دیکھنے کو عام ملتی ہے۔ عام اور کم پڑھا لکھا فرد بھی جانتا ہے کہ بیماریاں خوراک کی کمی سے پیدا نہیں ہوتیں بلکہ غیر ضروری خورو نوش اور بے اعتدالی سے پیدا ہورہی ہیں۔ دنیا بھر میں سروے کرکے دیکھ لیں ، لوگ بھوک اور افلاس سے اس قدر  نہیں مر رہے جتنے بسیار خوری (Over eating) سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

جدید میڈیکل سائنس کے پیرو کار ذیابیطس کے مریضوں کو ہر گھٹے ، دو گھنٹے بعد کھانے پینے کی ترغیب دیتے ہیں جو بذات خود ان کے مرض میںاضافہ کرنے کے مترادف ہے۔ہم وثوق سے کہتے ہیں کہ اگر شوگر کا مریض اپنی خورونوش کی عادات پر قابو پالے اورخوراک میں اعتدال پیدا کر لے تو مرض کی سنگینی سے مکمل محفوط رہ سکتا ہے۔ اس حوالے سے دوران ماہ رمضان ہم نے شوگر کی مریضوں کی کثیر تعداد کو بہ سہولت اور بہ آسانی16 گھنٹے کا روزہ نبھاتے دیکھا ہے۔

اگر شوگر کا مریض حالت روزہ میں16 گھنٹے تک بھوک اور پیاس برادشت کرسکتا ہے تو عام دنوں میں کیا امر مانع ہے کہ وہ مناسب وقفے کے ساتھ خوراک استعمال نہ کرسکے۔ ہمارے ہاں ایک خاص ذہنیت کار فرما ہے جس کا مفاد مبینہ طور پر دوافروشی سے منسلک ہے۔’’غذا کھاؤ یا نہ کھاؤ لیکن دوا ہر صورت کھاؤ‘‘کے نظریے اور رجحان کوپروان چڑھانا کسی طور بھی انسان دوست رویہ نہیں ہوسکتا۔

اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو سائنسی ترقی بھی مبینہ طور پر کاروباری مائنڈ سیٹ اپ کے زیر اثر دکھائی دے رہی ہے۔ دنیا بھر میں سامنے آنے والی ایجادات اور سائنسی دریافتوں کے ثمرات چند کاروباری اداروں افرادکو نوازتے دکھائی دیتے ہیں۔ جدید سائنسی ارتقاء انسانی فلاح وبہبود کے لیے کسی طور بھی کام کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ کیا آتشین اسلحہ سے لے کر جدید جنگی آلات کی تیاری،ایٹمی آلات اور زہریلے مواد کی ایجادات انسان دوستی ہے؟

ماضی قریب و بعید پر طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو بے شمار سائنسی پروپیگنڈے جو کل تک مفید تھے آج مضر اور بے معنی ثابت کیے جا رہے ہیں۔ابھی کل کی بات ہے قدرتی غذا دیسی گھی سے دوری پیدا کرنے کی غرض سے بناسپتی کے فوائد بڑھا چڑھا کے پیش کیے جاتے تھے کہ عام انسان نے اسے صحت مندی کا سب سے بڑا ذریعہ مان کر اس کا بے دریغ استعمال شروع کردیا۔

اب یار لوگوں نے بناسپتی سے اگلے درجے کی ایجاد کوکنگ آئل کر لی تو بناسپتی تمام بیماریوں کا سبب کہلانے لگا۔ تازہ دودھ ، لسی، ستو اور سکنجبین سے ڈرا کر کیمیائی اجزاء سے تیار شدہ مشروبات کی ترویج کی گئی اور انہی سافٹ ڈرنکس کو مضر صحت قرار دیا جارہا ہے۔ دیسی مٹھاس کے حامل گڑ اور شکر کے خلاف خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا حالانکہ سفید چینی نے شوگر کی بیماری تحفے میں دیدی۔ نصف صدی قبل امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک میں میدے کی افادیت اور استعمال کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی  تھی لیکن آج انہی ممالک میں میدے کے نقصان کو سامنے لاکر میدہ استعمال کرنے کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے۔

اسی طرح جدید ادویات کا حال ہے،  ہم نے کئی ادویات جو کبھی بے حد فوائد کا سبب سمجھ کر ڈاکٹرز حضرات لکھا کرتے تھے لیکن پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دنیا بھر میں ان کا استعمال ترک کردیا گیا۔ متروک ہونے والی ادویات میں زینٹیک(رینی ٹائیڈ)پمپ بلاکر اور موثر پروٹون پر اس لیے پابندی لگانی پڑی کہ اس کا استعمال بعد ازاں کینسر جیسا موذی ومہلک مرض پیدا کرنے کا باعث بننے لگا تھا۔

اسی طرح میٹا میزول سوڈیم جو پیٹ درد کی موثر دوا مانی جاتی تھی اسے بھی جسم انسانی کے خون میں سفید خلیات کی کمی واقع ہونے کے سبب ترک کردیا گیا۔ والسر ٹن بلڈ پریشر کے لیے استعمال کی جانے والی جدید دوا کو بھی کینسر کا مرض پیدا کرنے کی وجہ سے ترک کیا گیا۔

میتھورفارن کھانسی کے لیے مفید سمجھی جانے والی دوا محض اس لیے ترک کرنی پڑی کہ اسے استعمال کرنے والا کھانسی سے تو جان چھڑا لیتا تھا لیکن اس کا عادی ہوکر اس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہوجاتا تھا۔ فیورزولیڈون پیٹ کے امراض میں موثر اینٹی بائیوٹیک سمجھ کر استعمال کی جاتی رہی لیکن اسے بھی دل کی دھڑکن میں زیادتی اور کینسر جیسے مہلک امراض کا سبب بننے کے باعث ترک کردیا گیا۔

ہمارا مقصد سائنس کے خلاف مقدمہ باندھنا نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ سائنسی نظریات یا علوم حتمی نہیں ہیں بلکہ وقت کے بدلتے تقاضوں کے مطابق ان میں ردو بدل بھی کیا جانا انسانی مجبوری بن جاتی ہے۔ جدید میڈیکل سائنس کی ایجادات اور دریافتوں سے کوئی ذی شعور انسان کسی طور انکاری ہوہی نہیں سکتا۔ طبی شعبے میں زندگی بچانے والی ادویات، طبی آلات اور روز مرہ سہولیات کی دریافتیں جدید میڈیکل سائنس کی انسان دوست کامیابیوں کے طور پر رہتی دنیا تک یاد گار رہیں گی۔

حاصل مضمون صرف اتنا ہے کہ سائنسی سہولیات کی طرح قدیم روایات کی اہمیت اور افادیت کو تسلیم کیا جائے۔ مان لیا جائے کہ  فی زمانہ کئی روایات اشرافیہ میں متروک ہوچکی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ان کی افادیت و اہمیت ہی ختم ہوگئی ہے۔جیسا کہ الیکٹرک فین اور ائیر کنڈیشنر کی جدید سہولیات میسر ہونے سے ہاتھ والے پنکھوں کا استعمال تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے لیکن آج بھی جن علاقوں اور خاندانوں میں جہاں بجلی کی آمد و رفت لگی رہتی ہے ہاتھ کے پنکھے کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

جدید اور قدیم طبی ماہرین کو چاہیے کہ مثبت اور انسان دوست سوچ اور اپروچ اپناتے ہوئے باہم مشترکہ ادویات، طبی آلات اور انسانی فلاح کے لیے مفید دریافتوں پر کام کریں۔یوں قدیم طبی روایات کی کجیاں اور کمیاں بھی دور ہوجائیںگی اور جدید سائنس کی مفید سہولیات سے استفادہ بھی مزید عام ہو جائے گا۔

The post روایت اور سائنس کا موازنہ، چند حقائق جان لیجئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3jEi6nS

کورونا پھر سر اٹھا رہا ہے

ہوشیار! خبردار!

کورونا پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔ دنیا بھر میں یہ دوبارہ سے پنجے گاڑ رہا ہے۔ پیر کے روز دنیا کے مختلف ممالک میں چار لاکھ سے زیادہ کیسز سامنے آئے اور ہزاروں اموات ہوئیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کورونا کی دوسری لہر پہلی سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں بھی کورونا کے تازہ کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔

روزانہ پانچ یا چھ سو کیسز سامنے آرہے ہیں۔ کورونا سے ہونے والی اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ روزانہ 13-10 افراد کورونا سے جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ دو ماہ پہلے ملک کے مختلف ہسپتالوں میں کورونا وارڈ بند کر دیے گئے تھے۔ اب انہیں پھر سے چالو کر دیا گیا ہے۔ ہسپتالوں میں پھر سے وینٹی لیٹرز کی کمی ہونے لگی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کورونا کیوں بڑھ رہا ہے؟ اس کی کیا وجوہات ہیں اور اس سے بچاؤ کی کیا تدابیر ہیں؟

کورونا کیسز کے بڑھنے کی بنیادی وجہ بد احتیاطی اور احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنا ہے۔ عوام الناس یہ بھول گئے ہیں کہ ابھی کورونا کا خطرہ باقی ہے۔  بعض شہروں میں لگتا ہے کہ ماسک پہننے کا رواج بالکل ختم ہو گیا ہے۔100 لوگوں میں سے 90 لوگ ماسک سے بے نیاز نظر آتے ہیں۔ بڑی بڑی مارکیٹوں میں کھوئے سے کھوا چھل رہا ہے۔ پارٹیاں اور شادیاں ہو رہی ہیں جن میں معانقے بھی ہو رہے ہیں اور مصافحے بھی۔ مساجد میں ابھی تک لوگ SOPs پر عمل کر رہے ہیں جبکہ بازاروں، مارکیٹوں، ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، حال وغیرہ پر کسی قسم کے SOPs  پر کوئی عمل نہیں ہو رہا۔

کورونا کے دنوں میں میڈیا لوگوں کو گائیڈ کر رہا  تھا، احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کو کہہ رہا تھا لیکن اب اس بارے میں کوئی پروگرام نہیں پیش کیا جا رہا۔ عوام الناس ماسک، قرنطینہ اور سماجی فاصلوں کے تصور کو بھول گئے ہیں۔ ہسپتالوں میں دیکھا گیا ہے کہ دوسری لہر میں زیادہ تر نوجوان لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔

اس کے علاوہ  زیادہ عمر کے لوگ بھی اس کی پکڑ میں آرہے ہیں جن بوڑھے اشخاص کو سانس یا دل کی تکلیف ہے وہ آسانی سے کورونا سے متاثر ہو کر ہسپتال آتے ہیں اور چند دن وینٹی لیٹر پہ رہ کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان حالات میں بچت کی ایک ہی صورت ہے کہ کورونا کے موذی مرض سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے:

٭حکومت کی بتائی ہوئی احتیاطی تدابیر اور SOPs پر عمل کیا جائے۔

٭گھر سے باہر جاتے ہوئے لازماً ماسک پہنیں۔ پرانے ماسک کو کم از کم تین دن بعد بدل ڈالیں۔

٭کورونا سے بچنے کے لیے سماجی فاصلہ رکھنا بہت ضروری ہے۔ ایک دوسرے سے تین چار فٹ کا فاصلہ رکھیں۔

٭اگر گھر میں کسی کو بخار، کھانسی، نزلہ ہو جائے تو اس کو فوراً چند دن کے لیے ایک کمرہ میں قرنطینہ کر لیں۔

٭کورونا سے بچاؤ کے لیے صبح نہار منہ ایک کپ گرم دودھ میں ایک چمچ شہد، ایک چمچ زیتون کا تیل اور ایک چمچ ہلدی کا استعمال کریں۔ اس سے آپ کے پھیپھڑے مضبوط ہو ںگے۔ ہلدی اکسیر ہے، یہ کورونا وائرس کو ختم کرنے میں بڑی مددگار ہے۔ کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی طرف سے ملک بھر میں ہلدی، زیتون کا تیل اور شہد کا مرکب کورونا پلس شربت مفت تقسیم کیا گیا ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں انسانوں کی جان بچی۔ نہ صرف وہ کورونا سے محفوظ رہے بلکہ دورانِ کورونا میں بھی  اس شربت کو استعمال کر کے صحت یاب ہوئے۔

٭سردی کے موسم میں دن میں تین بار گرم پانی میں شہد ڈال کر استعمال کریں۔

٭اگر آپ کو کھانسی، نزلہ، زکام بخار ہے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

٭سینہ کے امراض کے مریض اور دل کی بیماریوں والے اپنا چیک اپ کروائیں اور دوائیں ڈاکٹر کے مشورہ سے لیں۔

٭بہت ضروری ہے کہ پبلک مقامات پر بڑے بڑے اجتماعات سے پرہیز کیا جائے۔ اگر کسی کو فنکشن میں جانا ضروری ہو تو SOPs پر عمل کیا جائے۔

٭اگر گھر میں کسی کو کورونا کی ابتدائی علامات تین دن سے زیادہ بخار، مسلسل کھانسی یا سانس میں دشواری وغیرہ ہو تو فوراً اسے گھر میں ہی قرنطینہ کیا جائے، اس سے سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے۔

٭قرنطینہ میں رہنے والے مریضوں کو نفسیاتی طور پر مطمئن اور خوش و خرم رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ علیٰحدہ رہنے سے مریض بہت ڈپریشن اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس دوران مریض کی نفسیاتی طور پر نگہداشت بہت ضروری ہوتی ہے۔

٭مریض کو تمام ادویات ڈاکٹر کے مشورے سے دی جائیں۔ گھر میں قرنطینہ کے دوران ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر مریض کا بخار تین یا چار روز میں کنٹرول نہ ہو یا اس کے سانس میں تکلیف ہو،  سانس لینا اس کے لیے دو بھر ہو رہا ہو اور اس کی آکسیجن سیچوریشن بتدریج کم ہو رہی ہو توضروری ہے کہ مریض کو فوری طور پر ہسپتال شفٹ کیا جائے۔

وہاں آکسیجن لگا کر یا پھر وینٹی لیٹر پہ رکھ کر مریض کا علاج ہوتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا کہ لوگ مریض کو ہسپتال لے جانے میں تذبذب کا شکار ہوتے ہیں اور اسی دوران دیر ہو جاتی ہے اور مریض بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں سنہری اصول یہی ہے کہ جب مریض کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہو،  بخار میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہو تو اسے فوری طور پر ہسپتال لے جانا بہت ضروری ہے۔

٭قرنطینہ میں رہتے ہوئے پینے والی چیزیں سوپ، قہوہ، گرم پانی اور شہد وغیرہ زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔

مرض اللہ کی طرف سے آتا ہے اور اللہ ہی شفاء دیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ علاج کے ساتھ ساتھ شفاء کے لیے اللہ سے دُعا کریں۔ صدقہ دیں انشاء اللہ شفاء ملے گی۔ قرنطینہ میں رہنے والوں کے لیے Diet  چارٹ

صبح نہار منہ فجر کی نماز کے بعد: چار گلاس گرم پانی + دو چمچ Olive oil

صبح 7 بجے: دو گلاس فریش جوس (سٹرابری)

ناشتہ: ایک گلاس دودھ+ دو سلائس+ ایک ابلا ہوا انڈہ یا آملیٹ+ دو چمچ شہد

دس بجے: ایک کپ چائے + تین چار  بسکٹ

12 بجے: دو کپ گرم پانی۔ ایک کپ لیمن گراس قہوہ

دوپہر کا کھانا: دو چپاتی/ ایک پلیٹ گوشت/ سبزی  سالن + ایک کپ دہی+ تازہ پھل اور سلاد

شام کی چائے/ لسی: دو گلاس نمکین لسی/ایک کپ چائے/ ایک گلاس فروٹ جوس

رات کا کھانا: (سونے سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے) دوچپاتی  +ایک پلیٹ سالن گوشت/ سبزی یا

ایک پلیٹ چاول + ایک پیالی دھی+ تازہ پھل اور سلاد

سونے سے آدھ گھنٹہ پہلے: ایک گلاس دودھ+ دوچمچ Olive oil + دو چمچ شہد+ آدھا چمچ ہلدی

ضروری ہدایات

٭مرغن غذاؤں سے پرہیز کریں۔

٭مرچ، مصالحہ اور گھی کم استعمال کریں۔

٭پانچ وقت نماز ادا کریں۔

٭فجر کے بعد اور سونے سے پہلے قرآن پاک کی تلاوت کریں۔

٭ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں۔

٭روزانہ صدقہ دیں۔

The post کورونا پھر سر اٹھا رہا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3eaqUAT

Tuesday, 27 October 2020

ملک میں روزانہ 1000 افراد فالج کا شکار ہو رہے ہیں، طبی ماہرین

کراچی: طبی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں روزانہ ایک ہزار افراد فالج کے حملے کا شکار ہو رہے ہیں۔

پاکستان اسٹروک سوسائٹی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر روی شنکر، پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی کے سابق صدر پروفیسر محمد واسع، پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی کے رکن ڈاکٹر بشیر سومرو اور پاکستان اسٹروک سوسائٹی کے نائب صدر ڈاکٹر عبد المالک نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں روزانہ ایک ہزار افراد فالج کے حملے کا شکار ہو رہے ہیں، جن میں سے تقریباً 400 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، 200 سے 300 افراد روزانہ مستقل معذوری کا شکار ہو رہے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی جیسے شہر میں قومی ادارہ برائے امراض قلب کی طرز پر فالج کے علاج کا اسپتال قائم کیا جائے، ان خیالات کا اظہار

پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع نے کہا کہ پاکستان میں ہر ایک لاکھ افراد میں سے 12 سو افراد فالج سے متاثر ہو رہے ہیں، 15 سال پہلے یہ تعداد محض ڈھائی سو تھی، پاکستان میں روزانہ فالج کے نتیجے میں 400 افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، کورونا وائرس کے بعد مارچ سے اب تک فالج سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو گیا،صوبائی حکومتوں کو فالج کی بیماری پر قابو پانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ضلعی اسپتالوں میں فالج یونٹس قائم کرنے ہوں گے۔

 

The post ملک میں روزانہ 1000 افراد فالج کا شکار ہو رہے ہیں، طبی ماہرین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3jxPv3B

کم عمر یوٹیوبر، بچوں کو ’غیرصحت بخش غذا‘ کھانے کی ترغیب دے رہے ہیں

 نیویارک: یوٹیوب اپنی مقبولیت کی وجہ سے اب تفریح، تعلیم اور رہنمائی کا ایک اہم مرکزبن چکا ہے۔ لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسی پلیٹ فارم پر چھوٹے بچے دیدہ زیب ویڈیو بناکر دوسرے بچوں کو جنک فوڈ کھانے کی ترغیب دے رہے۔ ان سینکڑوں یوٹیوبر کی ویڈیوز اب تک اربوں مرتبہ دیکھی جاچکی ہیں۔

نیویارک یونیورسٹی اسکول آف گلوبل پبلک ہیلتھ کے سائنسداں، والدین کو خبردار کررہے ہیں کہ وہ بچوں کو ایسی ویڈیو سے دور رکھیں اور خود یوٹیوب سے بھی وارننگ جاری کرنے اور سخت قوانین سازی پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جنک فوڈ کمپنیاں ان بچوں کی مالی مدد بھی کررہی ہیں۔

یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر مضرِ صحت غذا اور جنک فوڈ کی تشہیر غیرمعمولی طور پر بڑھی ہے۔ میٹھے مشروبات اور جنک فوڈ بنانے والے اپنی تشہیر کے لیے سالانہ 1.8 ارب ڈالر خرچ کرتی ہیں اور اب انہوں نے پینترا بدل کر یوٹیوب فنکاروں کا سہارا لینا شروع کردیا ہے۔

دوسری جانب ایسی ویڈیو بھی دیکھی جاسکتی ہیں جن میں سافٹ ڈرنکس اور ٹافیوں کے کھیل دکھائے جاتے ہیں اور اس طریقے سے بھی بچوں کو فضول غذائیں کھانے اور انہیں کھیل میں ضائع کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ اس طرح یہ ویڈیو بچوں کو صحت افزا غذاؤں سے دور کررہی ہیں جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

نیویارک یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ ڈجیٹل میڈیا پر بچوں کو صحت بخش غذائیں کھلانے والی ویڈؑیوز اور مضامین کی شدید ضرورت ہے۔ کووڈ 19 کے تناظر میں والدین بچوں کو یوٹیوب پر ویڈیو لگادیتے ہیں جس کے بعد بچے ازخود جنک فوڈ ویڈیو تک جاپہنچتےہیں۔ یہاں کم عمر فنکار ان بچوں کو جنک فوڈ کی ترغیب دیتے نظرآتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک 8 سالہ ویڈیو انفلیوئنسر نے 2 کروڑ60 لاکھ ڈالر تک کمائے اور وہ اب تک سب سے زیادہ کمانے والا یوٹیوبر ہے۔

والدین نہیں جانتے کہ ان بچوں کو فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ کمپنیاں بے تحاشہ رقم دیتی ہیں۔ ماہرین نے 2019 کے پانچ بڑے لیکن کم عمر ویڈیو انفلوئنسر کو دیکھا جن کی عمر 3 سے 14 برس ہے اور ان کی 418 ویڈیوز دیکھیں تو ان میں جابجا مختلف برانڈ کی کھانے پینے کی اشیا اور جنک فوڈؑ نظرآیا۔ اس طرح یوٹیوب پر مشہور بچوں کی نصف تعداد کسی نہ کسی طرح کھانے اور پینے کی اشیا کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان میں سے غذاؤں کی بڑی تعداد بچوں کے لیے صحت بخش نہیں ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچے ان ویڈیو کا اثر لے کر والدین سے فرمائش کرتے ہیں اور یوں وہ بہت جلد موٹاپے اور دیگر امراض میں گرفتار ہوسکتےہیں۔

The post کم عمر یوٹیوبر، بچوں کو ’غیرصحت بخش غذا‘ کھانے کی ترغیب دے رہے ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3muNerS

Protein Mapping Study Reveals Valuable Clues for COVID-19 Drug Development

Credit: DE Gordon et al., Science, 2020 One way to fight COVID-19 is with drugs that directly target SARS-CoV-2, the novel coronavirus that causes the disease. That’s the strategy employed by remdesivir, the only antiviral drug currently authorized by the U.S. Food and Drug Administration to treat COVID-19. Another promising strategy is drugs that target the proteins within human cells that the virus needs to infect, multiply, and spread. With the aim of developing such protein-targeted antiviral drugs, a large, international team of researchers, funded in part by the NIH, has precisely and exhaustively mapped all of the interactions that take place between SARS-CoV-2 proteins and the human proteins found within infected host cells. They did the same for the related coronaviruses: SARS-CoV-1, the virus responsible for outbreaks of Severe Acute Respiratory Syndrome (SARS), which ended in 2004; and MERS-CoV, the virus that causes the now-rare Middle East Respiratory Syndrome (MERS). The goal, as reported in the journal Science, was to use these protein “interactomes” to uncover vulnerabilities shared by all three coronaviruses. The hope is that the newfound knowledge about these shared proteins—and the pathways to which they belong—will inform efforts to develop new kinds of broad-spectrum antiviral therapeutics for use in the current and future coronavirus outbreaks. Facilitated by the Quantitative Biosciences Institute Research Group, the team, which included David E. Gordon and Nevan Krogan, University of California, San Francisco, and hundreds of other scientists from around the world, successfully mapped nearly 400 protein-protein interactions between SARS-CoV-2 and human proteins. You can see one of these interactions in the video above. The video starts out with an image of the Orf9b protein of SARS-CoV-2, which normally consists of two linked molecules (blue and orange). But researchers discovered that Orf9b dissociates into a single molecule (orange) when it interacts with the human protein TOM70 (teal). Through detailed structural analysis using cryo-electron microscopy (cryo-EM), the team went on to predict that this interaction may disrupt a key interaction between TOM70 and another human protein called HSP90. While further study is needed to understand all the details and their implications, it suggests that this interaction may alter important aspects of the human immune response, including blocking interferon signals that are crucial for sounding the alarm to prevent serious illness. While there is no drug immediately available to target Orf9b or TOM70, the findings point to this interaction as a potentially valuable target for treating COVID-19 and other diseases caused by coronaviruses. This is just one intriguing example out of 389 interactions between SARS-CoV-2 and human proteins uncovered in the new study. The researchers also identified 366 interactions between human and SARS-CoV-1 proteins and 296 for MERS-CoV. They were especially interested in shared interactions that take place between certain human proteins and the corresponding proteins in all three coronaviruses. To learn more about the significance of these protein-protein interactions, the researchers conducted a series of studies to find out how disrupting each of the human proteins influences SARS-CoV-2’s ability to infect human cells. These studies narrowed the list to 73 human proteins that the virus depends on to replicate. Among them were the receptor for an inflammatory signaling molecule called IL-17, which has been suggested as an indicator of COVID-19 severity. Two other human proteins—PGES-2 and SIGMAR1—were of particular interest because they are targets of existing drugs, including the anti-inflammatory indomethacin for PGES-2 and antipsychotics like haloperidol for SIGMAR1. To connect the molecular-level data to existing clinical information for people with COVID-19, the researchers looked to medical billing data for nearly 740,000 Americans treated for COVID-19. They then zeroed in on those individuals who also happened to have been treated with drugs targeting PGES-2 or SIGMAR1. And the results were quite striking. They found that COVID-19 patients taking indomethacin were less likely than those taking an anti-inflammatory that doesn’t target PGES-2 to require treatment at a hospital. Similarly, COVID-19 patients taking antipsychotic drugs like haloperidol that target SIGMAR1 were half as likely as those taking other types of antipsychotic drugs to require mechanical ventilation. More research is needed before we can think of testing these or similar drugs against COVID-19 in human clinical trials. Yet these findings provide a remarkable demonstration of how basic molecular and structural biological findings can be combined with clinical data to yield valuable new clues for treating COVID-19 and other viral illnesses, perhaps by repurposing existing drugs. Not only is NIH-supported basic science essential for addressing the challenges of the current pandemic, it is building a strong foundation of fundamental knowledge that will make us better prepared to deal with infectious disease threats in the future. Reference: [1] Comparative host-coronavirus protein interaction networks reveal pan-viral disease mechanisms. Gordon DE et al. Science. 2020 Oct 15:eabe9403. Links: Coronavirus (COVID-19) (NIH) Krogan Lab (University of California, San Francisco) NIH Support: National Institute of Allergy and Infectious Diseases; National Institute of Neurological Disorders and Stroke; National Institute of General Medical Sciences

Post Link

Protein Mapping Study Reveals Valuable Clues for COVID-19 Drug Development

NIH Blog Post Date



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/37PeFbR

امریکا میں کورونا وائرس کی ’’تیسری لہر‘‘ کا آغاز

واشنگٹن: اس وقت جبکہ ناول کورونا وائرس کی عالمی وبا کی دوسری لہر نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں اس وبا کی تیسری لہر بھی شروع ہوچکی ہے۔

واضح رہے کہ کووِڈ 19 کی عالمی وبا سے مقابلے میں امریکا اور بھارت کو ناکام ترین ممالک قرار دیا جارہا ہے جہاں اب تک اس وبا کی شدت نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔

جمعہ 23 اکتوبر کو امریکا میں کورونا وائرس کے 83,757 مصدقہ نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 26 اکتوبر کو یہ تعداد 74,323 رہی۔

واشنگٹن پوسٹ میں شائع شدہ ایک تجزیئے کے مطابق، امریکا میں اب تک کورونا وائرس کی دو لہریں آچکی ہیں جبکہ کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں حالیہ اضافے کو تیسری لہر قرار دیا جارہا ہے۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تیسری لہر کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے جبکہ دسمبر 2020 تک امریکا میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ سے بھی زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ سرِدست یہ تعداد ڈھائی لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ اکتوبر کا مہینہ بھی ختم نہیں ہوا ہے۔

امریکا میں ادویہ اور غذاؤں سے متعلق مرکزی ادارے ’’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘‘ (ایف ڈی اے) کے سابق سربراہ اسکاٹ گوٹلیب نے گزشتہ روز سی این بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں خیال ظاہر کیا کہ بیشتر امریکی ریاستوں میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ بہت کم وقت میں اور بہت تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔

طبی ماہرین ٹرمپ انتظامیہ کے طرزِ عمل پر شدید نالاں ہیں جس نے پہلے اس وبا کی موجودگی سے انکار کیا، پھر اس کا پھیلاؤ روکنے میں تاخیر کرنے کے ساتھ ساتھ ناکافی اقدامات کا سہارا لیا۔ اب امریکی حکومت کا سارا زور اس وائرس کی دوا (بشمول ویکسین) تیار کرنے پر ہے لیکن اب بھی کورونا وبا کو قابو کرنے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں کورونا وبا کی پہلی لہر کبھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی اس لیے یہاں دوسری اور تیسری لہر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اس سے قطع نظر کہ امریکا میں کورونا متاثرین کی تعداد میں حالیہ اضافے کو تیسری لہر کہا جائے یا نہیں، اتنا بہرحال طے ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک بڑی وبا کے مقابلے میں خود کو بدترین طور پر ناکام ثابت کردیا ہے۔

The post امریکا میں کورونا وائرس کی ’’تیسری لہر‘‘ کا آغاز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3jC83Qm

اکتاہٹ اور تنہائی پسندی… ڈیمنشیا کی علامات بھی ہوسکتی ہیں، تحقیق

سان فرانسسکو: نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کی وجہ سے انسان اکتاہٹ اور تنہائی پسندی کا شکار ہوجاتا ہے لیکن امریکا میں کی گئی ایک طویل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہی دونوں کیفیات ڈیمنشیا کی علامت بھی ہوسکتی ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو میں 70 سے 80 سال کے 2000 سے زائد مریضوں پر 9 سال تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں ڈیمنشیا اور تنہائی پسندی/ اکتاہٹ کے درمیان واضح تعلق سامنے آیا ہے۔

ریسرچ جرنل ’’نیورولوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر میریڈتھ باک کا کہنا ہے کہ یہ تعلق اس قدر نمایاں ہے کہ اسے ڈیمنشیا کی علامت بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ رویہ ڈیمنشیا کی وجہ ہر گز نہیں۔

واضح رہے کہ ڈیمنشیا کوئی ایک بیماری نہیں بلکہ مختلف دماغی امراض کا مجموعی نام ہے؛ اور ان سب کی وجہ دماغی خلیوں کا تیزی سے ختم ہونا ہے جس کے نتیجے میں الزائیمرز اور پارکنسنز جیسی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔

اس تحقیق میں دیکھا گیا کہ جن بزرگوں میں تنہائی پسندی اور خلافِ معمول اکتاہٹ کی علامات جتنی زیادہ تھیں، ان کے ڈیمنشیا میں مبتلا ہونے کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ اور نمایاں تھے۔

حتی کہ وہ بزرگ جو شدید قسم کی تنہائی پسندی اور اکتاہٹ میں مبتلا تھے، ان میں دوسرے صحت مند اور معمول کے مطابق میل جول رکھنے والے بزرگوں کے مقابلے میں ڈیمنشیا کا شکار ہونے کا امکان 80 فیصد زیادہ تھا۔

The post اکتاہٹ اور تنہائی پسندی… ڈیمنشیا کی علامات بھی ہوسکتی ہیں، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/34uizoo

Monday, 26 October 2020

دیس بدیس کے کھانے

قیمہ بھری گوبھی
اجزا:
بند گوبھی (ایک عدد)،
بڑے گوشت کا قیمہ (آدھا کلو)،
پیاز (تین پائو،)
لال مرچ (ایک چھٹانک)،
ہلدی (ایک تولہ)،
پسا ہوا ہرا دھنیا (ایک تولہ)،
ادرک (آدھی گانٹھ)،
ثابت گرم مسالا (پائو چھٹانک)،
نمک (حسب ذائقہ)

ترکیب:
قیمے میں تھوڑا سا نمک اور آدھا گرم مسالا ملاکر رکھ دیجیے پھر گھی کڑکڑاتے ہوئے اس میں پیاز کے تھوڑے سے لچھے لال کرلیجیے۔ اس کے بعد قیمہ گھی میں بھون کر سرخ کر لینے کے بعد پتیلی سے نکال کر کسی پلیٹ میں رکھ لجیے۔ اسی طرح بند گوبھی کے پتوں کو بھی پانی میں (جس کی مقدار زیادہ نہ ہو) صرف اتنا بال کر کہ یہ ذرا ذرا نرم پڑ جائیں۔ پانی سے نکال کرالگ رکھ لیجیے۔ اب باقی گرم مسالا پیس کر اس کی آدھی مقدار بھنے ہوئے قیمے میں ملادیجیے۔

(گرم مسالا بہت باریک پیسنا چاہیے) پیاز اور ادرک کو بہت باریک کتر کر ان میں دھنیا شامل کر کے نصف گوبھی کے ابلے ہوئے پتوں پر تہہ کی شکل میں جما دیں۔ اس تہہ پر بھنا ہوا قیمہ پچھا دیں۔ قیمہ کے اوپر دھنیے پیاز اور ادرک کی بقیہ آدھی مقدار کی تہہ جمائیں اور پھر پتوں کو دھاگے سے باندھ دیں۔ اب گرم مسالے کی بقیہ مقدار کو گھی میں بھونیں اور دھاگا لپٹتے ہوئے پتے اس گھی میں تلیں۔

آنچ دھیمی رکھیں۔ جب دیکھیں کہ پتے بھننے پر آگئے تو پتیلی کا ڈھکنا آٹے سے بند کر دیں اور منہ بند پتیلی کو ہر چند منٹ بعد آہستہ آہستہ ہلادیں۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد پتیلی چولھے پر سے اتار لیں۔ قیمہ بھری گوبھی تیار ہے۔

The post دیس بدیس کے کھانے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3ooT0Nw

ہیل والی سینڈل پہنیں ضرور مگر ۔۔۔

صنف نازک اپنی خوب صورتی کو بڑھانے کے لیے بہت جتن کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، ان کا بناؤ سنگھار صرف چہرے تک محدود نہیں، بلکہ ہاتھ، پاؤں ،کپڑوں، جوتے، جیولری اور ہینڈ بیگز کی لمبی فہرست بھی شامل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

عمدہ اور تزئین و آرائش سے بھرپور ملبوسات کی شوقین خواتین کی دوسری ترجیح جوتوں کا انتخاب ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ ہر اس معیار کا جوتا خریدنے کی کوشش کرتی ہیں، جسے پہن کر وہ نمایاں دکھائی دیں۔ خواتین اپنی شخصیت کو پر کشش بنانے میں کوشاں ہیں، لیکن وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ بناؤ سنگھار کی کچھ چیزیں ان کے لیے پریشانی کا سبب بھی بن سکتی ہیں اور اس میں سب سے زیادہ جسمانی تکلیف کا باعث ہیل والا جوتا ہے۔

جب اپنے دماغ میں یہ بات بٹھا لی جائے کہ ہمیں سب سے نمایاں اور دل کش دکھائی دینا ہے، توکوئی چیز بھی آپ کو خود ستائشی اور خود نمائی سے نہیں بچا سکتی، چاہے وہ صحت کے لیے کتنی ہی نقصان دہ کیوں نہ ہو۔ یہ بات درست ہے کہ آپ اونچی ہیل والے جوتے پہن کر منفرد اور اسمارٹ دکھائی دیتی ہیں، مگر یہ بات نہیں جانتیں کہ مسلسل اونچی ایڑی والے جوتے پہننے سے جسم کی اندرونی ساخت متاثر ہوتی ہے۔

اونچی ایڑی والے جوتے جسم کے مختلف حصوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسی خواتین جو اونچی ہیل کا بکثرت استعمال کرتی ہیں، ان کی گردن میں اکژ درد رہتا ہے کیوں کہ یہ جوتے کمرے کے قدرتی توازن کو برقرار نہیں رکھتے اور سارا بوجھ کندھوں اور گردن پر آجاتا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف پٹھے متاثر ہوتے ہیں بلکہ گردن میں بھی درد رہتا ہے۔ جب آپ اونچی ہیل پہن کر چلتی ہیں، تو آپ کو اپنی کمرکے نچلے حصے میں کھچاؤ واضح محسوس ہوتا ہوگا۔

یہ اسی غیر متوازن کیفیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب بہت زیادہ اونچی ہیل پہن کر چلا جائے، تو آپ اپنے توازن کو بر قرار رکھنے کے لیے گھٹنو ں پر دباؤ ڈالتے ہیں، جس کی وجہ سے گھٹنے کے اندرونی اعضا کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے بعد یہ ہی دباؤ آپ کے پنڈلی کے نچلے حصے کو بھی نقصان پہنچا کر آپ کو شدید جسمانی اذیت سے دوچار بھی کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اونچی ایڑی والے جوتے سے جسم کے پٹھے سکڑ کر چھوٹے ہونے لگتے ہیں، جس کی وجہ سے چلنے پھرنے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔ پاؤں اور ٹانگوں میں شدید درد محسوس ہوتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق تقریبا چالیس فی صد خواتین اونچی ہیل سے گرنے کی وجہ سے مختلف چوٹوں کا شکار ہوئی ہیں، جس میں موچ آنا، ٹخنے اور پنڈلی کی ہڈی کا فریکچر شامل ہیں۔

پاؤں کی ایڑیاں اور پنجے اونچی ایڑی سے پیدا ہونے والی تکلیف کا سب سے بڑا نشانہ ہیں۔ بہت تنگ منہ والے جوتے پہننے سے پاؤں کا اگلا حصہ بری طرح دبتا ہے، جس کی وجہ سے انگلیوں اور انگوٹھوں کے نیچے چھوٹے چھوٹے گٹّے پڑ جاتے ہیں، جو شدید تکلیف کی وجہ بنتے ہیں۔

کچھ احتیاطی تدابیر اپنانے سے سے آپ اونچی ہیل کے پیدا کردہ نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔ اس بات کو ذہن میں رکھیے کہ بہت فینسی جوتے زیادہ دیر پہننے کے لیے نہیں بنے ہیں۔

صحیح جوتے کا انتخاب کرنا یقیناً ایک مشکل مرحلہ ہے، لیکن جوتا خریدتے وقت آپ اپنی عمر، جسامت کی نوعیت کو مدنظر رکھیں۔ تنگ منہ والے جوتے پاؤں کے درمیانی حصے پر اس قدر زیادہ دباؤ ڈالتے ہیں کہ جوڑ کے اپنی جگہ سے ہلنے کا اندیشہ ہوتا ہے، اس لیے کوشش کریں کہ کسی تقریب میں جانے سے پہلے اپنے ساتھ سادہ چپل رکھیں، تاکہ جیسے ہی واپسی کے لیے نکلنے لگیں، جوتے تبدیل کر لیں، اس سے یہ ہوگا کہ سفر میں جو وقت گزرے گا اس میں آپ کو آسانی رہے گی اور پاؤں سیدھی حالت میں رہ سکیں گے۔

پینسل ہیل والے جوتوں کی نسبت چوڑی ہیل والے جوتے زیادہ آرام دہ ہوتے ہیں، اس لیے کوشش کریں کہ اپنے شو ق کو پورا کرتے ہوئے ذرا چوڑی ہیل کے جوتے خریدیں، تاکہ آپ موچ یا فریکچر سے بچ سکیں۔ بہت زیادہ دیر تک ہیل والے جوتے پہننے سے پاؤں بے سکون ہوتے ہیں، اس لیے تھکے ہوئے پاؤں کو آرام پہنچانے کے لیے ان کی مالش یا مساج بہت ضروری ہے۔

اس کے لیے کسی کھلے برتن میں نیم گرم پانی لیں اور اس میں ایک چمچا نمک ڈال کر 15 سے 20 منٹ پاؤں ڈبوئے رکھیں، اس سے بے آرام پاؤں کو سکون ملے گا۔ ہیل والا جوتا پہننے کے لیے سب سے پہلے اس کی پریکٹس کریں، تاکہ جب آپ کسی جگہ پہن کر جائیں، تو آپ کو مشکل پیش نہ آئے۔

The post ہیل والی سینڈل پہنیں ضرور مگر ۔۔۔ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/35DOmmo

کورونا مریضوں میں اسپرین کے استعمال سے اموات میں کمی واقع ہوئی، تحقیق

امریکا میں کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے اسپرین کی ایک گولی کے روزانہ استعمال سے کووڈ-19 کے اسپتال میں زیر علاج مریضوں میں اموات کی شرح میں کمی دیکھی گئی ہے۔ 

سائنسی جریدے ’اینستھیزیا اینڈ اینلجیسیا‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف میڈیسین نے اسپتال میں زیر علاج کووڈ-19 کے مریضوں کو دی جانے والی ادویہ اور ان کے جان بچانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا جن میں سے 412 مریض ایسے تھے جو اسپرین کی ایک گولی روزانہ لے رہے تھے۔

تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ جن مریضوں کو اسپرین دی جا رہی تھی یا وہ دل کے دورے کے خطرے کے پیش نظر پہلے ہی سے اسپرین استعمال کررہے تھے، ایسے مریضوں میں موت کا خطرے میں 74 فیصد کمی دیکھی گئی جب کہ آئی سی یو میں داخلے میں 43 اور وینٹی لیٹر پر منتقلی کے خطرے میں 44 فیصد کمی ہوئی۔

محققین نے دعویٰ کیا ہے سستی سی دوا اسپرین جو بآسانی بھی دستیاب ہے سے کورونا کی پیچیدگیوں سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور اس تحقیق سے مستقبل میں اسپرین کے کورونا کے مریضوں میں استعمال کے لیے بڑے پیمانے پر مطالعے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

The post کورونا مریضوں میں اسپرین کے استعمال سے اموات میں کمی واقع ہوئی، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3op3qNn

سرسے خشکی ختم کرنے کے چند گھریلو جادوئی نسخے

سر کی خشکی ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں مرد اور خواتین، دونوں مبتلا نظر آتے ہیں۔ خوبصورت بالوں میں خشکی کے ذرات نہایت بدنما لگتے ہیں اور انسان کی خوبصورت شخصیت پر نہایت بدصورت محسوس ہوتے ہیں جب کہ خشکی کی وجہ سے ہونے والی خارش تمام لوگوں کے سامنے شرمندگی کا باعث بھی بنتی ہے۔

خشکی سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلیے مارکیٹ میں  کئی طرح کی مہنگی پروڈکٹس دستیاب ہیں جن کے بنانے والے سر سے خشکی کا مکمل خاتمہ کرنے کا دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم خشکی کا خاتمہ تو دور کی بات، ان پروڈکٹس میں شامل کیمیکلز بالوں کےلیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں جن کی وجہ سے بالوں کے گرنے اور بے جان ہونے کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ البتہ خشکی سے متاثرہ لوگ کیمیکلز والی مہنگی پروڈکٹس استعمال کرنے کے بجائے یہ چند گھریلواور سادہ نسخے استعمال کرکے دیکھیں تو ہمیں یقین ہے کہ یہ نسخے خشکی ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

دہی

خشکی کے خاتمے کےلیے دہی بہترین ہے۔ پرانے وقتوں میں خواتین خشکی کے خاتمے کےلیے دہی استعمال کرتی تھیں۔ یہ ٹوٹکا آج بھی اتنا ہی کارگر ہے جتنا پچھلے زمانے میں تھا۔ نقصان دہ کیمیکلز سے بھرپور مختلف طرح کے شیمپو استعمال کرنے کے بجائے اگر سر کی جڑوں میں دہی لگالی جائے تو اس سے نہ صرف خشکی کا خاتمہ ہوگا بلکہ بالوں کی نشوونما بھی تیز ہوگی۔ دہی میں قدرتی طور پر ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جو سر میں خشکی پیدا کرنے والے بیکٹریا اور فنگس پر حملہ کرکے ان کا خاتمہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دہی استعمال کرنے کے کوئی مضر اثرات بھی نہیں ہیں۔

نیم کے پتوں کا مکسچر (پیسٹ)

نیم کہنے کو تو کڑوا ہوتا ہے لیکن قدرت نے اس کڑوے درخت میں بیش بہا فوائد چھپا رکھے ہیں۔ نیم بہترین جراثیم کش ہے جو بیکٹیریا ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ نہ صرف خشکی ختم کرنے کا کام کرتا ہے بلکہ اس سے پیدا ہونے والی خارش کو بھی ختم کرتا ہے۔ خشکی سے متاثرہ افراد نیم کے چند پتے لے کر پانی کے ساتھ اس کا پیسٹ بنالیں اور اسے کھوپڑی کی جڑوں پر لگائیں اور پھر اپنا سر سادہ پانی سے دھولیں۔ یہ ٹوٹکا کارگر ثابت ہوگا۔

ٹی ٹری آئل

ٹی ٹری دراصل خوشبو والی جھاڑیاں ہوتی ہیں جن کا تیل مارکیٹ میں دستیاب ہوتا ہے۔ یہ تیل ایکنی (چہرے پر نکلنے والے دانوں) کےلیے بھی بہت فائدہ مند ہے۔ یہ تیل جلد کو صاف کرتا ہے اور اسے فنگس سے بچاتا ہے۔ خشکی سے پریشان افراد یہ تیل اپنے روزمرہ تیل میں ملاکر لگائیں اور تھوڑی دیر بعد بال دھولیں۔ یہ نسخہ خشکی ختم کرنے میں بہت موثر ثابت ہوگا۔

سیب کا سرکہ اور لیموں کا رس

سیب کا سرکہ اور لیموں کا رس اپنے اندر کئی خصوصیات رکھتے ہیں۔ ان دونوں چیزوں کو ملا کر سر کی جڑوں میں لگائیے۔ لیکن یاد رہے سر میں پہلے سے موجود تیل اور مٹی وغیرہ دھو لیجیے۔ یہ طریقہ خشکی سے نجات حاصل کرنے کےلیے بہترین ہے۔ اس کے بعد اپنا سر 15 منٹ بعد کسی بھی اچھے شیمپو سے دھو لیجیے۔ پہلی بار آزمانے پر آپ واضح فرق محسوس کریں گے۔

The post سرسے خشکی ختم کرنے کے چند گھریلو جادوئی نسخے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2pDnK0y

Sunday, 25 October 2020

کورونا اتنی تیزی سے کیوں پھیلتا ہے، سائنسدانوں نے وجہ ڈھونڈ نکالی

 لندن: کورونا وائرس نے دنیا کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے اس ننھے سے وائرس نے جہاں 11 لاکھ سے زائد انسانوں کی زندگیوں کے چراغ گل کردیئے وہیں کاروبار کا پہیہ بھی منجمد اور سماجی سرگرمیاں بھی صفر ہو کر رہ گئیں۔ وبا کے دوران سب سے بڑا سوال یہ اُٹھا کہ آخر یہ وائرس اتنا متعدی کیوں ہے جس کا سائنسدانوں نے جواب ڈھونڈ نکالا ہے۔

سائنسی جریدے جنرل سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی کے محققین نے کورونا وائرس کے انسانی جسم میں داخل ہونے کے راستے کو دریافت کرلیا ہے۔ یہ ایک ریسیپٹر ہے جس کا نام نیوروویلین 1 ہے جس کے ذریعے وائرس انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے اور اسے استعمال کرتے ہوئے جسم میں تیزی سے پھیل جاتا ہے۔

محققین نے اپنے مقالے میں انکشاف کیا کہ نئے کورونا وائرس کے اسپائیک پروٹین کے سیکونس کا تجزیہ کرنے کے بعد ہم نے ایسے امینو ایسڈز کے چھوٹے سیکونس کو دیکھا جو انسانی پروٹینز یعنی نیوروپلین 1 میں پائے جانے والے سیکونس کی نقل جیسا تھا۔ جس سے سوال اُٹھا کہ کیا اسپائیک پروٹین، نیوروپلین 1 سے مل کر انسانی خلیات میں اس بیماری کا باعث بنتا ہے۔

قبل ازیں ایک اور تحقیق میں یہ معلوم ہوچکا تھا کہ کورونا وائرس ’ایس 2‘ نامی ایک ریسیپٹر کے ذریعے انسانی خلیات کو جکڑنے کا کام کرتا ہے، انسانی خلیات کی سطح پر موجود اسپائیک پروٹین کووڈ 19 کے پہلے مرحلے کے دوران میزبان خلیے کو وائرس کا ہدف بناکر اس میں داخل ہونے میں مدد دیتا ہے اور وائرس تیزی سے اپنی نقول بنانا شروع کردیتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے اس تحقیق سے کورونا کی دوا بنانے والی کمپنیوں کو مدد مل سکے گی، ریسپٹر نیوروویلین 1 کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کردی جائے تو وائرس ریسیپٹر تک نہیں پہنچ کر انسانی جسم میں داخل نہیں ہوسکے گا۔

The post کورونا اتنی تیزی سے کیوں پھیلتا ہے، سائنسدانوں نے وجہ ڈھونڈ نکالی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/37EHOGx

Saturday, 24 October 2020

چھاتی کا سرطان ۔۔۔ خاموش قاتل

 زندگی نشیب و فراز کا نام ہے۔ اچھے برے حالات آتے ہی رہتے ہیں۔ خوشی اور غم کا چولی دمن کا ساتھ ہے۔

بعض لوگوں کی پر سکون جھیل نما زندگی میں اچانک ایسا پتھر گرتا ہے کہ نہ ختم ہونے والی ہلچل پیدا ہو جاتی ہے۔صوبہ سندھ کے گاؤں گھوٹکی سے تعلق رکھنے والی اسماء گبول کے زندگی میں اس وقت طلاطم خیز طوفان اٹھا جب وہ پہلی بار تیس کی دہائی میں ماں بنیں۔

اسماء اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’’اپنی بچی کو دودھ پلانے کے لئے ہر ممکن کوشش کے بعد بھی جب ایک چھاتی سے دودھ نہ نکلا تو مجھے اندر ہی اندر احساس ہوا کہ کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہے۔بظاہر چھاتی بالکل ٹھیک تھی بس بہت زیادہ کوشش کرنے اور زور لگانے پر ہلکی سی سوجن ہو گئی اس سے پہلے ایسا کچھ بھی نہ تھا ہاں بس پوری پریگنینسی میں مجھے 99 بخار رہا جو میری جان دوا کھانے کے باوجود نہیں چھوڑ رہا تھا۔

اس کے علاوہ ایک عجیب سی اداسی مجھے گھیرے ہوئی تھی۔ ڈاکٹرز کو دیکھایا مگر انہوں نے کہا کچھ بھی نہیں ہے لیکن جب میں تشویش زدہ ہو کر ضیاء الدین ہسپتال کراچی میموگرام کے لئے گئی تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ کیا کسی ڈاکٹر نے یہ ٹیسٹ تجویز کیا؟ ابھی تو آپ کی عمر بھی صرف چونتیس برس ہے اور یہ ٹیسٹ چالیس برس سے کم عمر خواتین کے لئے نہیں۔ناچار مجھے واپس آنا پڑا۔ اس دوران ایک روز میری چھاتی سے ڈسچارج ہوا(سفید یا زردی مائل مادہ) اور اس کے بعد خون بھی نکلا تو مجھے احساس ہوا کہ بات واقعی بڑھ گئی ہے۔

اس کے بعد میں دوبارہ کراچی گئی اور آغاخان ہسپتال میں مجھے شعبہ سرطان کی مستند ڈاکٹر کا نمبر مل گیا جو کہ میری خوش قسمتی تھی ۔ جس پر انہوں نے دیکھتے ہیں کہا کہ بائی آوپسی، میمو گرام‘ سی ٹی سکین کروائیں اس کے بعد یوٹریس اور Lungsکا سی ٹی سکین ہوا ۔ سارے پلوک کا الٹرا ساؤنڈ ہوا۔

رپوٹیس آئیں تو بریسٹ کینسر نکلا۔ اس کے بعد ڈاکٹر نے پہلے بریسٹ ریمو کرنے کے بعد علاج شروع کرنے کا کہا کیونکہ کینسر کی وجہ سے اندر ساری کھچڑی پک چکی تھی۔ پھر جب بون اسکین ہوا تو اس کے بعد میں دو دن اپنی بچی سے نہیں مل سکی اور یہ سب تکلیف دہ وقت تھا مجھے لگتا تھا میری سرجری کے دوران مرگئی تو اپنی چار ماہ کی بچی کو پھر کبھی دیکھ نہ پاؤں گی۔

جب Mastectomy (چھاتی کاٹ دینا تاکہ کینسر نا پھیل سکے) کی تو پتا چلا کہ کینسر تیسری سٹیج پر پہنچ چکا تھا۔ اس کے بعد ایک اذیت ناک سفر شروع ہوا اوراکیس دنوں کے وقفے سے کیمو تھراپی شروع ہوئی۔پہلی کیمو تھراپی میں میرے شوہر میرے ساتھ کراچی آئے اور یہ بہت مشکل مرحلہ تھا کہ اپنی بچی کو آیا کے سپرد کر کے میلوں دور آئے تھے۔

پہلی دو کیمو مشکل تھیں مگر اس کے بعد سلسلہ چل پڑاجس میں بارہ کیمو آٹھ آٹھ دن کے وقفے سے ہونا تھیں تو ہر بار بارہ گھنٹے بس کا سفر کر کے آنے اور جانے کی ہمت نہ رہی تھی مگر میں اسی روز کیمو کروا کر واپس بارہ گھنٹے کا سفر کر کے گھوٹکی جاتی۔ کیمو کے بعد ریڈیشن ہونا تھی اور وہ مشین پہلے خراب تھی تو بڑی مشکل سے ٹھیک ہو کر آئی اب بیس ریڈیشن کا مطلب تھا ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن پھر تو اس دوران مجھے پورے چالیس دن کراچی میں رہنا وہ بھی بغیر بچی کے زندگی کا مشکل ترین دور تھا ۔

ریڈیشن سے لوگ ڈرتے ہیں مگر اس سے کچھ بھی ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ لوگ کیمو سے بھی ڈرتے ہیں مگر کچھ نہیں ہوتا ہاں پہلی ایک دو مشکل ہوتی ہیں اب تو الٹی کو روکنے والی اتنی دوائیں آ گئی ہیں ڈاکٹر وہ دیتے ہیں منہ میں چھالے نکلتے ہیں اس کی تکلیف ہوتی ہے مگر دوا سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

کچھ دنوں کی تکلیف تو بہرحال ہوتی ہے پھر آپ عادی ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعدTargeted cancer tharapyکی باری آئی جس میں ایک انجیکشن جس سے پہلے اور بعد میں ڈرپس لگاتے ہیں کینسر کو دوبارہ جڑ پکڑنے سے روکنے کے لئے کی جاتی ہے۔ تو تھراپی کافی مہنگی ہوتی ہے قریباً تیس دن میں اس تھراپی سے گزری۔ اس کے بعد مجھے ڈاکٹرز نے ملٹی ونامنز دیئے ہڈیوں کی طاقت کے لئے دوائیں دیں۔ الحمدللہ اب میں بالکل ٹھیک ہوں ہر سال یا چھ ماہ بعد فالواپ کے لئے ڈاکٹر کے پاس جاتی ہوں۔

اسماء گبول سے جب کینسر تشخص ہونے کے بعد کی مشکلات کی بابت سوال کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ ’’اس کڑے وقت میں اگر کوئی میرے ساتھ کھڑا تھا تو وہ میرے شوہر تھے۔ بریسٹ کٹنے کی باری آئی تو میں ڈر رہی تھی کہ اب ادھوری عورت بن جاؤں گی مگر انہوں نے کہا کہ جسم کا ایک حصہ کٹنے سے تم میرے لئے بدل نہیں جاؤ گی۔

یوں جب کیمو کے چودہ دنوں بعد بال گرنے تھے تو اس سے پہلے ہی میرے شوہر نے خود شیو کر دی کہ گرنے سے دکھ نہ ہو۔ اس دوران لوگوں کی تلخ باتیں تو سننے کو ملیں یہاں تک کہ میں خود یہ سوچنے لگی کہ میں تو مر جاؤں گی اپنے شوہر کی دوسری شادی خود کروادوں ۔ مگر اس پر بھی وہ مجھے حوصلہ دیتے کہ ایک بیماری کی وجہ سے میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا اور میری دوسری شادی کا خیال دل سے نکال دو‘ انہوں نے پیسے کی زرہ برابر پرواہ نہیں کی اورکبھی مجھ سے بیجا فرمائش نہ کی۔ ایک تکلیف دہ احساس یہ تھا کہ میں اپنی بچی کو اپنے ساتھ نہیں سلاپائی تھی اس ڈر سے کہ کہیں سینے میں لات نہ مار دے۔اسے اٹھا نہیںپاتی تھی کہ زیادہ وزن اٹھانے کی سکت نہیں ۔ مگر ایک بات یہ کہنا چاہوں گی کہ لوگوں کی ان باتوں میں نہ آئیں کہ فلاں حکیم دوا دے گا تو کینسر ٹھیک ہو جائے گا۔

دم درود ضرور کروائیں مگر کینسر علاج سے ہی ٹھیک ہو گا۔ لوگوں نے کیمو کو ہوا بنا رکھا ہے حقیقت میں ایسا کچھ نہیں کہ یہ علاج بہت لمبا اور مہنگا ہے مگر اسے کروائے بنا کوئی چارہ نہیں۔ میرے علاج پر کم وبیش ڈیڑھ کروڑ تک خرچ ہوئے جس میں ٹارگٹ تھراپی (کینسر کودوبارہ آنے سے روکنے کا نیا طریقہ علاج ) بھی شامل تھی۔ بال گرنے اور بریسٹ کٹنے سے لوگ ڈر کر علاج نہیں کرواتے تو کیا بال اور بریسٹ آپ کی زندگی سے بڑھ کر ہیں؟ عورتیں تو خوبصورتی کے لئے بریسٹ امپلانٹ کرواتی ہیں تو کیا ہم اپنی بیماری کی وجہ سے نہیں کروا سکتے۔ بیماری کے دنوں میں تو میں اس قدر خوف زدہ ہو گئی تھی کہ ڈاکٹر سے کہا میرا دوسرا بریسٹ بھی کاٹ دیں کیونکہ یہ تو میرے موت بن چکا ہے مگر پھر آہستہ آہستہ اللہ نے ہمت دی۔

آخر میں اسماء کہتی ہیں کہ میری عورتوں سے التجا ہے کہ اپنی بیماری کو مت چھپائیں جیسے پہلے تین ماہ میں نے اپنی غلطی کی وجہ سے چھپایا اگر میں بروقت علاج شروع کروا دیتی تو شاید Mastectomyکے بعد کیمو کی ضرورت ہی نہ پڑتی مگر جو تکلیف لکھی تھی وہ کاٹنی پڑی۔ اگر کسی کو کوئی ا یسی علامات محسوس ہوتی ہیں تو اپنے شوہر کو اعتماد میں لیں اور فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔ یہ کوئی شرم کی بات نہیں آپ کی زندگی کا معاملہ ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق اگر آپ کی فیملی میں کینسر پازٹو ہے تو اٹھائیس برس کی عمر میں پہلا میمو گرام ہو جانا چاہئے۔

فروا کی والدہ کو سن 2016ء میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہیں کبھی بخار نہیں ہوا بس چھاتی میں ایک درد محسوس ہوتا تھا اور ٹیسیں نکلتی تھیں تو جب یہ چار پانچ مہینے تک چلتا رہا تو ڈاکٹر کو دکھانے لاہور شوکت خانم گئے وہاں بائی آوپسی ہوئی اور ایم آر آئی تو پتہ چلا کہ کینسر سکینڈ سٹیج پر پہنچ چکا ہے۔

پھر علاج شروع کروایا جس میں آپریشن سے دو گٹھلیاں نکال لی گئیں اور پھر کیموتھراپی شروع ہوئی۔ اس دوران ہم ڈرے بھی ہوئے تھے۔ مگر ہم لوگوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ علاج پر تیرہ چودہ لاکھ خرچ ہوئے مگر شکر ہے کہ امی اب بالکل ٹھیک ہیں ہاں دوائیں لیتی ہیں اور فالو اپ کے لئے 6 ماہ کے وقفے سے ڈاکٹرکے ہاں جاتی ہیں۔ اس سب کے دوران ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ آگاہی آ گئی ہمارے ہاں امی کو پوچھنے جو خواتین آتی تھیں ان میں سے بھی دو تین عورتوں کو تشخیص میں آسانی ہوئی اور بروقت علاج کروانے لگیں۔ میری بھی تمام خواتین سے یہ درخواست ہے کہ اپنے جسم کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہ برتیں اگر کچھ بھی غیر معمولی لگ رہا ہو تو چوکنا ہو جائیں۔

مندرجہ بالا دونوں کہانیاں ایسی خواتین کی ہیں جو کہ کینسر سے لڑ کر اب ایک خوشحال زندگی بسر کر رہی ہیں۔ گوکہ یہ بات درست ہے کہ آگاہی نہ ہونے مرض کی تشخیص میں مشکلات کا باعث بنتا ہے لیکن اس بات کو بھی قطعاً نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس مرض کی تشخیص سے علاج تک کا سفر انتہائی مہنگا اور مشکل ہے۔

ایسے ممالک جہاں آبادی زیادہ اور وسائل کم ہیں وہاں علاج معالے کی سہولیات کے ناکافی ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگاہونے کی وجہ سے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے خصوصاً غریب طبقہ علاج کی سہولت سے محروم رہتا ہے۔ ریاست عوام کی جان و مال و آبرو کے تحفظ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کے لئے سہولیات کو یقینی بنایا جائے اور کینسرخصوصاً چھاتی کے سرطان کی تشخیص کے لئے سن یاس کو پہنچ جانے والی خواتین کے مفت سکین یا میمو گرام کا انتظام کیا جائے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج سے قیمتی جانوں کا ضائع روکا جاسکے۔  n

قاتل مرض

خواتین کوسب سے زیادہ متاثر کرنے والاخطرناک بریسٹ کینسر ہر سال2.1ملین عورتوں کو اپنا شکار بناتا ہے۔2018ء کے اعداد وشمار کے مطابق چھ لاکھ ستائیس ہزار خواتین بریسٹ کینسر کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں۔ گو کہ بریسٹ کینسر کی شرح ترقی پذیر ممالک میں ترقی یافتہ ممالک کی نسبت کم تصور کی جاتی ہے مگر یہ ہر خطے میں پر زور طریقے سے حملہ آور ہوتا ہے۔

پاکستان کی بات کی جائے تو دوسرے ایشیائی ممالک کی نسبت یہاں برسٹ کینسر کے اعداد وشمار بلندسطح پر ملیں گے۔ ہر برس تقریباً 90ہزار خواتین بریسٹ کینسر کاشکار ہوتی ہیں جن میں سے چالیس ہزار کے قریب لقمہ اجل بن جاتی ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق ہر 9میں سے ایک خاتون جو 50کی دہائی میں قدم رکھ چکی وہ چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہو سکتی ہے بروقت تشخص ہو جائے توبچنے کیاتناسب نوے فیصد ہے۔ عموماً50برس سے زائد عمر کی ہر 3میں سے ایک خاتوں جب میمو گرام کرواتی ہیں تو چھاتی کے سرطان کا رسک 11فیصد ہوتا ہے۔ بریسٹ کینسر کی وجوہات میں سرے فہرست بچوں کو اپنا دودھ نہ پلانا‘ ناقص غذا اور سگریٹ نوشی شامل ہیں۔ عموماً آگاہی کی کمی اور معاشی و سائل کی عدم دستیابی مرضی کی تشخیص اور علاج میں روکاوٹ کا باث بنتے ہیں۔

The post چھاتی کا سرطان ۔۔۔ خاموش قاتل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/34p9IEs

اسموگ۔۔۔تباہی جو انسان خود اپنے ہاتھوں پھیلا رہا ہے

موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی اسموگ نے اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کر دیا ہے۔ یہ اسموگ گزشتہ چند برسوں سے تسلسل کے ساتھ ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔

عالمی وبا کرونا کے پیش نظر، جس کا ٹارگٹ بھی زیادہ ترنظامِ تنفس ہے، اسموگ صحت عامہ کے لیے ایک سنگین مسئلہ ثابت ہو سکتا ہے، جس کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ایک مکمل اور جامع تحریر قارئین کی نظر کی جارہی ہے۔

اسموگ دو الفاظ دھواں(Smoke) اور دھند (Fog) کے باہمی اشترک سے بنا ہے جو کہ پہلی مرتبہ 1900ء کے اوائل میں لندن میں استعمال ہوا، جہاں دھند اور دھوئیں نے لندن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مختلف ذرائع کے مطابق یہ لفظ Dr. Henry Antoine des Voeux نے اپنے مکالے فوگ اینڈ اسموگ (Fog & Smog)میں استعمال کیا۔ اسموگ نظر آنے والی ماحولیاتی آلودگی ہے۔

یہ نائٹروجن آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، اوزون(ozone)، دھوئیں اور ہوا میں معلق دیگر اجزاء پر مشتمل ہے۔ اس میں نہ نظر آنے والے مادے کاربن مونو آکسائیڈ (CO) کلورو فلورو کاربن(CFC) اور تابکار اجزاء شامل ہیں۔ انسانی ذرائع سے پیدا ہونے والی اسموگ کوئلے کے جلنے، گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی اداروں کے اخراج اور جنگلی یازرعی آگ سے پیدا ہوتی ہے۔ جب یہ زہریلے مادے سورج کی روشنی سے ملاپ کرتے ہیں تو اسموگ بنتی ہے۔ فضا میںآلودگی کے دو طرح کے ذرات پائے جاتے ہیں۔

بنیادی آلودگی کے ذرات: یہ وہ ذرات ہیں جو براہ راست ماحول میں شامل ہوتے ہیں

ثانوی آلودگی کے ذرات: یہ ذرات کیمیائی ردعمل کے ملاپ سے بنتے ہیں

فوٹو کیمیکل اسموگ نظر نہیں آتی لیکن یہ بہت زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ یہ صنعتی ترقی کے انقلاب کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے۔ یہ تمام جدید شہروں میں پائی جاتی ہے، جہاں سورج زیادہ دیر تک روشن رہتا ہے ا ور موسم خشک و گرم ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ وہاں بھی جہاں روڈ ٹرانسپورٹ زیادہ ہوتی ہے۔ اسموگ کی قدرتی وجوہا ت میں ایک وجہ آتش فشاںکا پھٹنا بھی ہے، جس میں سلفرڈائی آکسائیڈ کی وافر مقدار اور اس کے ساتھ دیگر معلق مادے موجود ہوتے ہیں ۔آتش فشاں کے پھٹنے سے جو اسموگ پیدا ہوتی ہے اسے ووگ (Vog )کہتے ہیں۔

اسموگ پیدا کرنے کے لیے چند عوامل جن میںالڑاوائلٹ لائٹ( Ultraviolet Light)،ہائیڈروکاربنز( Hydrocarbons)، نائٹروجن آکسائیڈ(Nitrogen oxides )سمیت دیگر اجزا جن میں (Volalite Organic Compounds VOCs)بخاراتی نامیاتی کمپاؤنڈ شامل ہیں، قابل ذکر ہیں۔

صنعتی انقلاب اور ذرائع آمد رفت میں اضافہ و تیزی دو بنیادی ذرائع ہیں جن سے یہ مادے بڑی مقدار میں خارج ہورہے ہیں۔ دن کا وقت بھی بہت اہم ہے جو کہ فوٹو کیمیکل اسموگ بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ جیسے ہی صبح کا آغاز ہوتا ہے ٹریفک کا رش بڑتا ہے تو نائٹروجن کا اخراج اور نامیاتی مادوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ درمیانی اوقات میں ٹریفک میں کمی ہوتی ہے، اس کے ساتھ نائٹروجن اور بخاراتی نامیاتی مادے آپس میں مل کر نائٹروجن آکسائیڈ بناتے ہیں۔

سورج کی روشنی میںنائٹروجن ڈائی آکسائیڈ بائی پراڈکٹس (Byproducts)میں تحلیل ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں اوزون بنتی ہے علاوہ ازیں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، بخاراتی نامیاتی مادوں(VOCs) سے مل کر PAN(Peroxyacetyl Nitrates) بناتی ہے PAN انسان اور پودوں کیلئے نقصان دہ ہے یہ بات توجہ طلب ہے کہ غروب آفتاب کے بعد اور اوزون بننے کا عمل رک جاتا ہے ۔

اسموگ کے انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں، مثلاً نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ آنکھوں اور نظام تنفس کیلئے مضر ہے، سلفر ڈائی آکسائیڈ سانس کے راستے کو متاثر کرتی ہے اور پھیپھڑوںمیں گیسوں کے تبادلے میں رکاوٹ ڈالتی ہے، بخاراتی نامیاتی مادے (VOCs) جن میںشامل میتھین (Methane)گلوبل وارمنگ کرتی ہے ، بنزین(Benzene) کینسر پیدا کرتی ہے، اوزون ناک ، کان اورگلے کو متاثر کرتی ہے۔

اس کے علاوہ حاملہ خواتین میں بچوں کی وقت سے پہلے پیدائش ، پیدائشی طور پر جسم کی ساخت میں نقائص مثلاً سر کا چھوٹا ہونا، دماغ اور حرام مغز کی کم نشوونما ہوناLow Birth Weight  (نومولود کا کم وزن ہونا) مضر اثرات کی فہرست میں شامل ہیں۔

اسموگ کے نباتات پر بھی ضر ررساں اثر ات مرتب ہوتے ہیں، جن میں فصلوں کی بڑھوتری اور پیداواری کمی شامل ہیں۔ فصلوں اور درختوں کو اوزون (Ozone)اور پینPAN شدید متاثر کرتے ہیں۔ PAN پودوں اور فصلوں کے پتوں کو مار دیتا ہے، جس سے انگور، آلو اور تباکو کی فصل کو 50 فیصد اور کپاس کو  30فیصد نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسموگ ربڑ ، پلاسٹک ، رنگوں ، پتھر ، کپڑا اور کنکریٹ کو بھی متاثر کرتی ہے۔

اس میں شامل سلفیورک ایسڈ اور نائٹرک ایسڈ جیسے زہریلے اجزاشامل ہیں، اسموگ کسی بھی شہر، کسی بھی موسم میں بن سکتی ہے جہاں پہ صنعتوں سے پیدا ہونے والے دھوئیں اور گیسوں کا اخراج زیادہ ہوتا ہے ۔اسموگ کی شدت کی پیمائش کی جاسکتی ہے جس کیلئے ایک خاص قسم کا آلہ جسے نیفلو میٹر(Nephelometer) کہتے ہیں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا میں معیار کے پیمانے مثلا ملائشینAPI

(Air Pollution index)،امریکن (American Air Quality Index)AQIاورسنگاپورPSI

) (Pollutant Standards Index شامل ہیں، استعمال ہوتے ہیں۔

فضائی آلودگی کی تازہ ترین بین الاقوامی رینکنگ میںشامل ٹاپ 25ممالک

نمبر        شہر کانام  ملک کا نام ایئر کوالٹی انڈکس(AQI)

1          ڈھاکہ    بنگلہ دیش            213

2          دہلی       انڈیا       203

3          شنگھائی   چین      189

4          ممبئی      انڈیا       169

5          کالکاتا     انڈیا       168

6          لاہور     پاکستان   165

7          اولانباتار منگولیا     160

8          کاٹھمانڈو نیپال      158

9          کراچی    پاکستان   155

10       جکارتا     انڈونیشیا  155

11       ہانگزو     چین      154

12       کابل      افغانستان 153

13       سکوپجی   ماکیڈونیا  147

14       سوفیا      بلجیریا     136

15       کیی        یوکرائن  127

16       بیجنگ     چین      118

17       ہانوئی      ویٹانم     113

18       گووانگزو چین      113

19       پوزنان   پولینڈ     112

20        کاؤسوئنگ           تائیوان  112

21       جیروسلم  اسرائیل 110

22        کوئیت سٹی            کوئیت    102

23        ٹائیپی      تائیوان  102

24        شنیانگ   چین      100

25        چنگڈو     چین      93

اس تازہ ترین عالمی رینکنگ کے مطابق براعظم ایشیا نہ صرف آبادی کے لحاظ سے بلکہ فضائی آلودگی کے لحاظ سے بھی سرفہرست ہے۔ اس رینکنگ کے مطابق ڈھاکہ 213 ائیر کوالٹی انڈکس کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے جبکہ دہلی 203 کے سکورکے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ لاہور 165 کے سکور کے ساتھ چھٹے اور کراچی155 کے سکور کے ساتھ نویںنمبر پر ہے۔

اسموگ سے معاشرے کا ہر فر د متاثر ہوسکتا ہے لیکن وہ لوگ جو گھروں سے زیادہ باہر رہتے ہیں وہ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جسمانی مشقت کرنے والے عموماًگہرا اور لمبا سانس لیتے ہیں اس طرح ان کے پھیپھڑے اوزون (Ozone)و دیگر مادوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

چار قسم کے گروپ اسموگ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں

1 ۔ بچے

بچے چوں کہ زیادہ متحرک رہتے ہیں اور زیادہ وقت کھیل کود میں ہی باہر گزارتے ہیں، اس لیے اسموگ سے متاثر ہو سکتے ہیں، ان میں دمہ و دیگر سانس کی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

2 ۔ نوجوان

وہ نوجوان جو باہر کا کام کرتے ہیں خواہ وہ کسی بھی عمر یا جنس کے کیوں نہ ہوں اور کسی بھی نوعیت کا کام چاردیواری سے باہر کرتے ہیں شدید رسک پر ہوتے ہیں۔

3۔ بیمار

جو لوگ دل اور سانس کی بیماری میں پہلے سے مبتلا ہوتے ہیں یہ لوگ دیگر صحت مند انسان کے مقابلے میں اسموگ سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔

4 ۔ بزرگ

بزرگ افراد شدید اسموگ کے موسم میں باہر جانے سے گریز کریں۔ اسموگ سے نہ صرف انسانی حیات اور ماحول پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ روڈ ٹریفک حادثات میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

اسموگ سے بری ، بحری اور ہوائی ٹریفک متاثر ہوتی ہے ۔لوگوں کو چاہیے کہ اسموگ میں فوگ لائیٹس کا استعمال کریں ،غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، گاڑیوں کی مرمت کروائیں،چھوٹی گاڑیوں ، بیل گاڑیوں ، گدھا ریڑھی اور تانگہ گھوڑے پر ریفلکٹر سٹیکر کا استعمال کریں ،غیر ضروری طور پر لمبے سفر سے اجتناب کریں۔صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک کا سفر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کا استعمال لازمی طور پر کریں۔ کھلی فضا میں کام کرنے والے افراداور شدید رسک پر افراد گھر سے نکلتے وقت فیس ماسک اور چشموں کا استعمال کریں۔ غیر ضروری طور پر عمارتوں کو منہدم نہ کیا جائے۔اس کے علاوہ درختوں کی غیر ضروری کٹائی نہ کی جائے بلکہ شجر کاری کو فروغ دیا جائے۔

(Industrialization ) صنعتی بڑھوتری (Urbanization)اربنائزیشن اور(Globalization) عالمگیریت جہاں انسان کے لیے وسائل پیدا کر رہے ہیں، وہاں ماحولیاتی آلودگی کے مسائل بھی درپیش ہیں۔

پاکستان میں وفاقی و صوبائی سطحوں پر ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے بڑی اچھی قانون سازی موجود ہے لیکن اس پر عمل درآمد اتنا زیادہ موثر نہیں ہے، ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرانے کے ساتھ موجودہ صورت حال کے پیش نظر نئی قانون سازی کی ضرورت ناگزیر ہے۔ وفاقی ،صوبائی و مقامی حکومتوں کوایک جامع ومربوت حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ جس سے ماحولیاتی آلودگی کو کم کر کے انسانی ، نباتاتی و ماحولیاتی بقا کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

The post اسموگ۔۔۔تباہی جو انسان خود اپنے ہاتھوں پھیلا رہا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3mkelWx

خراب مسوڑھوں اور امراضِ قلب، ذیابیطس اور الزائیمر کے درمیان تعلق دریافت

ٹورنٹو، کینیڈا: خراب مسوڑھے کئی طرح کی بیماریوں کو جنم دیتے ہیں۔ اب ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ انتہائی خراب مسوڑھے ذیابیطس، امراضِ قلب، حتیٰ کہ الزائیمر کی وجہ بھی بن سکتے ہیں۔ مسوڑھوں کی خرابی امنیاتی نظام کو متاثر کرتی ہے اور پورے جسم کے خلیات میں سوزش کی وجہ بنتی ہے۔

پیریوڈونٹائٹس یا مسوڑھوں کا مرض منہ کی خراب صحت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے بلڈ پریشرمیں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے الزائیمر کے مریضوں میں بھی یہ کیفیت دیکھی گئی ہے۔ اب یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے سائنسدانوں نے اس کی ایک ممکنہ وجہ ڈھونڈی ہے۔

اس کے لیے امنیاتی خلیات کی پہلی صف کے انتہائی اہم خلیات نیوٹروفلس کو دیکھا گیا جو کسی چوٹ، تکلیف یا انفیکشن کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ چوہوں کے مسوڑھے متاثر کرنے کے بعد ان میں نیوٹروفلس کی تعداد بڑھ گئی۔ معدے، آنتوں اور خون میں بھی انہیں دیکھا گیا۔ یعنی مسوڑھوں کی وجہ سے یہ خلیات پورے جسم میں جاپہنچے۔

اس سے جسم میں سائٹوکائنس کا اخراج شروع ہوگیا جو ذیابیطس، دل کے امراض اور دیگر کئی امراض کی وجہ بنتے ہیں۔ اس کےبعد متعدد رضاکار بھرتی کئے گئے جنہوں نے تین ہفتوں تک برش نہیں کیا تھا۔ آخرکار بہت سے لوگوں کو مسوڑھوں کی سوزش لاحق ہوگئی۔ ان میں بھی نیوٹروفلس بڑھے اور دل، شوگر اور دیگر امراض کے بایومارکر بڑھنے لگے۔

The post خراب مسوڑھوں اور امراضِ قلب، ذیابیطس اور الزائیمر کے درمیان تعلق دریافت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2TkWUsD

ایف ڈی اے نے کورونا کی پہلی دوا کی منظوری دیدی

 واشنگٹن: کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ-19 کے لیے ’ریمڈیسیور‘ کو پہلی باضابطہ دوا کے طور پر منظور کر لیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے گِلی ایڈ سائنسز کی اینٹی وائرل دوا ’ریمڈیسیور‘ کو کورونا کے علاج کے لیے منظور کرلیا ہے جسے دوا ساز کمپنی نے ’’ویکلری‘‘ کا نام دیا ہے۔ یہ پہلی دوا ہے جسے کورونا کے علاج کے لیے منظور کیا گیا ہے تاہم یہ دوا صرف اسپتال میں زیر علاج مریضوں کو دی جا سکے گی۔

قبل ازیں اس دوا کو صرف ہنگامی بنیادوں پر استعمال کی اجازت دی گئی تھی جس کے دوران دیکھا گیا کہ اس دوا سے مریض اوسطاً 15 کی بجائے 10 روز میں صحت یاب ہو جاتا ہے۔ امریکی صدر کو بھی کورونا میں مبتلا ہونے پر یہی دوا دی گئی تھی جس سے وہ صحتیاب ہوئے اور اب اپنی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔

اس دوا کو محض ماہر ڈاکٹرز اور طبے عملے کی نگرانی میں اسپتال میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور صرف ایسے مریضوں کو دی جائے گی جن کی عمر 12 سال سے زیادہ اور وزن 40 کلو گرام ہو تاہم اس دوا کو ملیریا کے استعمال ہونے والی دوا ’کلوروکوئن فاسفیٹ ‘کے ساتھ نہیں دیا جا سکتا کیوں اس سے مضر اثرات ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکا نے دوا ساز کمپنیوں ’فائزر‘ اور ’بایو این ٹیک‘ کو ایک ارب 95 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے جس کے عوض کمپنی 5 کروڑ امریکیوں کو بغیر منافع کمائے اپنی ویکسین فراہم کریں گی۔ اس طرح ایک ویکسین کا خرچہ 39 ڈالر آئے گا جو عام فلو کی ویکسین جتنا ہے۔

The post ایف ڈی اے نے کورونا کی پہلی دوا کی منظوری دیدی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/37yYDCV

Friday, 23 October 2020

کیا دمے کی دوا سے ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں؟

نوٹنگھم: برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دمے کے دورے میں عام استعمال ہونے والی دوا ’’کورٹیکو اسٹیرائیڈ‘‘ سے ممکنہ طور پر ہڈیاں بھی کمزور اور بھربھری ہوسکتی ہیں۔

یہ دوا گولیوں اور انہیلر، دونوں کی صورت میں دستیاب ہوتی ہے البتہ دمے کا دورہ پڑنے پر انہیلر سے استعمال کرنے پر یہ براہِ راست پھیپھڑوں تک پہنچتی ہے اور دمے کی شدت کم کرتے ہوئے دورہ ختم کرتی ہے۔

برسوں سے یہ بات نوٹ کی جارہی تھی کہ کورٹیکو اسٹیرائیڈز کی گولیاں باقاعدگی سے، بالخصوص زیادہ مقدار میں کھانے والے مریضوں میں ہڈیوں کی کثافت کم ہوجاتی ہے؛ یعنی وہ کمزور ہوجاتی ہیں۔ انہیلر کے ذریعے سونگھی جانے والی کورٹیکو اسٹیرائیڈز کے بارے میں بھی اسی طرح کی کچھ شہادتیں سامنے آچکی تھیں۔ تاہم اس بارے میں کوئی باضابطہ تحقیقی مطالعہ نہیں کیا گیا تھا۔

کورٹیکو اسٹیرائیڈز کے استعمال اور ہڈیوں کی کمزوری میں تعلق جاننے کےلیے یونیورسٹی آف نوٹنگھم اسکول آف میڈیسن، برطانیہ میں پی ایچ ڈی ریسرچ فیلو کرسٹوس کیلتسیوس نے دمے کے ایسے 3700 بزرگ مریضوں کے میڈیکل ریکارڈ کا جائزہ لیا جو اوسٹیوپوروسس (ہڈیوں کے بھربھرے پن) میں بھی مبتلا تھے، یا پھر ان کی میڈیکل ہسٹری میں ہڈی ٹوٹنے کے واقعات بھی موجود تھے۔

انہوں نے واضح طور پر دیکھا کہ جو مریض گولیوں کی شکل میں کورٹیکو اسٹیرائیڈز استعمال کر رہے تھے، ان کی ہڈیاں یہ دوا استعمال نہ کرنے والے مریضوں کے مقابلے میں کمزور تھیں۔ یہی نہیں، بلکہ اس دوا کی زیادہ خوراک (ڈوز) لینے والے افراد میں ہڈیوں کی کمزوری زیادہ نمایاں اور واضح تھی۔

اعداد و شمار کی بنیاد پر انہیں معلوم ہوا کہ ہفتے میں چار یا چار سے زیادہ مرتبہ کورٹیکو اسٹیرائیڈز کی گولیاں کھانے والے مریضوں میں یہ دوا استعمال نہ کرنے والے مریضوں میں ہڈیوں کے بھربھرے پن کا امکان چار گنا زیادہ تھا۔ اسی طرح ہفتے میں 9 یا زائد مرتبہ کورٹیکو اسٹیرائیڈز کھانے والے مریضوں میں یہ امکان بڑھ کر آٹھ گنا تک پہنچ گیا تھا۔

انہیلر یعنی سانس کے ذریعے لی جانے والی کورٹیکو اسٹیرائیڈ کے اثرات قدرے کم تھے: انہیلر سے یہ دوا لینے والے مریضوں میں اوسٹیوپوروسس (ہڈیوں کے بھربھرے پن) کا امکان، یہ دوا استعمال نہ کرنے والے مریضوں کے مقابلے میں 35 فیصد سے 60 فیصد تک زیادہ تھا۔

اگرچہ اس مطالعے میں کورٹیکو اسٹیرائیڈز اور ہڈیوں کی کمزوری میں واضح تعلق سامنے آیا ہے لیکن ابھی حتمی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ کورٹیکو اسٹیرائیڈز ہی ہڈیوں میں کمزوری کی وجہ ہیں۔

لہٰذا، ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی وہ دمے کے مریضوں کو یہ مشورہ ہر گز نہیں دیں گے کہ وہ کورٹیکو اسٹیرائیڈز کا استعمال ترک کردیں۔ البتہ وہ اتنا ضرور تجویز کرنا چاہیں گے اس دوا کے ساتھ ساتھ وٹامن ڈی اور کیلشیم سپلیمنٹ کا استعمال بھی جاری رکھا جائے تاکہ ہڈیوں کی ممکنہ کمزوری کا ازالہ ہوتا رہے۔

اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’تھوریکس‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

The post کیا دمے کی دوا سے ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3opde9O

Thursday, 22 October 2020

جین تھراپی سے نابیناپن دور کرنے میں اہم کامیابی

 واشنگٹن: جین تھراپی اور پروٹٰین تھراپی سے مکمل طور پر نابینا چوہوں میں بینائی کی بحالی کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس تجربے سے انسانوں کو بھی فائدہ ہوگا۔

امریکہ میں واقع نیشنل آئی انسٹی ٹیوٹ نے دیگر اداروں کے ساتھ ملکر ایم سی او ون اوپسن نامی پروٹین کو مکمل نابینا چوہوں کے ریٹینا پر موجود بائی پولر خلیات پر چسپاں کیا ہے۔ اس کی تفصیلات نیچر جین تھراپی میں شائع ہوئی ہیں جس میں MCO1 اوپسن نامی پروٹین کو بایوانجینیئرنگ سے بنایا گیا تھا۔

نابینا چوہوں میں روشنی کا احساس بالکل نہ تھا۔ جب ان کا علاج کیا گیا تو اس کے بعد بہت حد تک بصارت لوٹ آئی اور ریٹینا کے افعال بحال ہوئے۔ ان چوہوں کی بصارت کے کئی ٹیسٹ کئے گئے اور وہ ان پر پورا اترے۔ ان ٹٰیسٹ میں حرکت کرتی اشیا کا اندازہ لگانا، بھول بھلیوں میں سے باہر نکلنا اور دیگر اہم معیاری ٹیسٹ شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اوسپن ایسے پروٹین ہوتے ہیں جو بصارتی عمل کے لیے دیگر خلیات کو سگنل بھیجتے ہیں۔ صحتمند افراد میں یہ سلاخ نما اور تکونے فوٹوریسپٹر کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ روشنی پڑنے کی صورت میں یہ پھڑکتے ہیں اور ایسے ہی سگنل، ریٹینا کے دیگر نیورون (عصبیوں) تک بھیجتے ہیں۔ پھر وہاں سے یہ دماغ میں جاکر روشنی کا احساس پیدا کرتے ہیں۔

نابیناپن لانے والے دو امراض، یعنی ایچ ریلیٹڈ میکیولر ڈی جنریشن ( اے ایم ڈی) اور ریٹینائٹس پگمینٹوسا میں آنکھ میں روشنی وصول کرنے والے فوٹوریسپٹر متاثر ہوتے ہیں۔ تحقیق میں شامل مرکزی سائنسداں ڈاکٹر سمریندرا موہانتی نےکہا کہ فوٹوریسپٹر کے آخری کناروں پر بائی پولر خلیات پائے جاتے ہیں۔ ان خلیات میں ایم سی او ون آپسن جین کو ان خلیات میں ڈالا گیا تو ناکارہ فوٹوریسپٹر بھی کام کرنے لگے۔

اس اہم کارنامے سے آپسن جین تھراپی کی راہ ہموار ہوئی ہے جس میں آنکھ کے اندر صرف ایک انجیکشن لگایا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کئی اقسام کے نابیناپن کا شافی علاج بن سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چوہوں پر اس کے کوئی مضر اثرات نمودار نہیں ہوئے اور نہ ہی آنکھ میں کوئی اندونی سوزش یا خرابی پیدا ہوئی۔

سائنسداں اگلے برس اسے انسانوں پر آزمائیں گے لیکن ان کا خیال ہے کہ مریض اس طرح 20/60 بصارت کی بحال کرسکیں گے۔ 20/60 کو نظر کی دھندلاہٹ قرار دیا جاتا ہے جبکہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کو نارمل نظر کہا جاتا ہے۔

The post جین تھراپی سے نابیناپن دور کرنے میں اہم کامیابی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3mhf9LI

Study Highlights Need for Continued Care of COVID-19 Survivors

Credit: Composed of images from Getty The past several months have shown that most people hospitalized with COVID-19 will get better. As inspiring as it is to see these patients breathe on their own and converse with their loved ones again, we are learning that many will leave the hospital still quite ill and in need of further care. But little has been published to offer a detailed demographic picture of those being discharged from our nation’s hospitals and the types of community-based care and monitoring that will be needed to keep them on the road to recovery. A recent study in the journal EClinicalMedicine helps to fill in those gaps by chronicling the early COVID-19 experience of three prominent hospitals in the Boston area: Massachusetts General Hospital, Brigham and Women’s Hospital, and Newton-Wellesley Hospital. These data were reported from a patient registry of 247 middle-aged and older COVID-19 patients. The patients were admitted over three weeks last March into one of these hospitals, which are part of New England’s largest integrated health network. The data confirm numerous previous reports that COVID-19 disproportionately affects people of color. The researchers, led by Jason H. Wasfy and Cian P. McCarthy, Massachusetts General Hospital and Harvard Medical School, Boston, found a large number of their patients were Hispanic (30 percent) or Black (10 percent). Wasfy said these numbers could be driven by many factors, including a low income, more family members living in one home, greater difficulty accessing healthcare, presence of chronic illness (health disparities), and serving as essential workers during the pandemic. The researchers also tracked the patients after discharge for about 80 days. About a third of patients left the hospital for a post-acute care facility to continue their rehabilitation. After discharge, many required supplemental oxygen (15 percent), tube feeding (9 percent), or treatment with medications including antipsychotics and prescription painkillers (16 percent). About 10 percent were readmitted to the hospital within weeks or months of their initial discharge. Wasfy and colleagues also found: · Many patients undergoing treatment were enrolled in Medicaid (20 percent) or both Medicaid and Medicare (12 percent). · A substantial number also were retired (36 percent) or unemployed (8.5 percent), highlighting the role of non-occupational spread. Many others worked in the hospitality industry, healthcare, or public transportation. · A large proportion (42 percent) of hospitalized patients required intensive care. The good news is that most of them (86 percent) ultimately recovered enough to be discharged from the hospital. Tragically, 14 percent—34 of 247 people—died in the hospital. These findings represent hospitals in just one notable American city hard hit early in the pandemic. But they spotlight the importance of public health efforts to prevent COVID-19 among the most vulnerable and reduce its most devastating social impacts. These are critical points, and NIH has recently begun supporting community engagement research efforts in areas hardest hit by COVID-19. With this support and access to needed post-discharge care, we aim to help more COVID survivors stay on the road to a full recovery. Reference: [1] Early clinical and sociodemographic experience with patients hospitalized with COVID-19 at a large American healthcare system. McCarthy CP et al. EClinicalMedicine. August 19, 2020. Links: Coronavirus (COVID-19) (NIH) Massachusetts General Hospital (Boston) Brigham and Women’s Hospital (Boston) Newton-Wellesley Hospital (Newton, MA) Jason Wasfy (Massachusetts General Hospital)

Post Link

Study Highlights Need for Continued Care of COVID-19 Survivors

NIH Blog Post Date



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/3jmppAs

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن:  چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا م...