Thursday, 12 November 2020

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن: چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا مؤثر حل نکالا ہے۔ اس عمل میں حلق کے اندر بجلی کے ہلکے جھماکے ڈالے جاتے ہیں جس کے بعد مریض کھانا نگلنے میں بہتری محسوس کرتا ہے۔

یہ آلہ روایتی علاج کے مقابلے میں بہت مؤثر ہے جسے برطانوی کمپنی ’فیجینیسِس‘ نے تیار کیا ہے۔ آلے کو فیجینِکس کا نام دیا گیا ہے جو نگلنے کے دائمی اور شدید مرض میں آرام کی وجہ بنتا ہے۔ اس میں ایک تار ناک کے ذریعے حلق کے اندر ڈالا جاتا ہے۔ ٹچ اسکرین سے اسے قابو کیا جاتا ہے اور تار میں ہلکی بجلی پیدا ہوتی ہے جس سے حلق کےاندرونی پٹھے متحرک ہوتے ہیں۔

ٹچ اسکرین پر وقت سیٹ کرکے اگر روزانہ 10 منٹ تک بجلی دی جائے تو جلد ہی مریض کھانے پینے میں آرام وآسانی محسوس کرنے لگتا ہے۔ اکثر مریض صرف تین روز میں بہتر ہونے لگتے ہیں کیونکہ حلق کے متاثرہ حصے کے اعصاب کی تحریک دماغ تک جاتی ہے۔ دماغ میں وہ اس حصے پر اثر ڈالتی ہے جوہمارے کھانے اور نگلنے کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے بعد مریض آرام سے کھانے لگتا ہے اور اسے غذائی نلکی کی ضرورت نہیں رہتی۔

اس ضمن میں برطانوی جامعات سے ملحق کئی ہسپتالوں میں آزمایا گیا ہے اور کل 255 مریضوں پر آزمائش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جرمنی اور آسٹریا میں بھی ایسے مریضوں کو لگایا گیا جو پانچ مختلف اعصابی عارضوں کی وجہ سے کھانے پینے میں شدید تکلیف محسوس کررہے تھے۔

ہر مریض کو تین ماہ تک روزانہ تین مرتبہ دس دس منٹ کے لیے آلے سے بجلی دی گئی اور نگلنے میں مشکل کے مرض ، ڈس فیگیا میں بہت کمی واقع ہوئی۔

یہ تحقیق شاہین حامدی نے کی ہے جو اس ادارے میں چیف ٹیکنکل آفیسر بھی ہیں۔ شاہین کہتے ہیں کہ فیجینِکس کو استعمال کرنا بہت آسان ہے اور مریضوں کو کھانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

The post کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2JWvM1u

سورائسز صرف جلدی بیمار نہیں، علاج میں تاخیر سے اندرونی اعضا متاثر ہوسکتے ہیں، ماہرین امراض جلد

 لاہور: سورائسز صرف جلدی بیماری نہیں اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو دل ، دماغ، جگر، گردے اور دیگر اندرونی اعضا متاثر کر کے زندگی بھر کے لیے معذور بنا سکتی ہے، یہ موروثی بیماری ہونے کے علاوہ شراب، منشیات، تمباکو نوشی اور پروٹین کازیادہ استعمال کرنے والے افراد کو زیادہ لاحق ہو سکتی ہے۔

سورائسز کا جدید ترین طریقہ علاج ’’فوٹو تھراپی‘‘ ہمارے ملک میں بھی دستیاب ہے تاہم اسے مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کی آگاہی کیلیے ڈاکٹرز کے ریفریشر کورسز وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے پروٹوکول کے مطابق سورائسز کی جلد تشخیص، معالج و علاج تک رسائی اور مریض کو نفسیاتی مسائل سے نکالنا ضروری ہے۔ یہ سیمینار سورائسز کے حوالے سے آگاہی دینے میں انتہائی اہم ہے، اس طرح کے آگہی سیمینارز سے اس مرض پر قابو پانے میں خاصی مدد ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین امراض جلد نے ایکسپریس میڈیا گروپ اور نووارٹس فارما کے زیر اہتمام ’’سورائسز‘‘ کے حوالے سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ آگاہی سیمینار سے کیا جس کی میزبانی کے فرائض ایڈیٹر فورم اجمل ستار ملک نے سرانجام دیے۔

میو ہسپتال لاہور کے شعبہ امراض جلد کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ سورائسز دنیا میں عام پائی جانے والی بیماری ہے جس سے 2 فیصد افراد متاثر ہیں، شمالی یورپ اور امریکا میں یہ زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس بیماری میں جسم کے مختلف حصوں پر سرخ رنگ کے دھبے پڑ جاتے ہیں۔

مچھلی کی طرح سفید جھلی بن جاتی ہے۔ سورائسز کا جدید طریقہ علاج ’’فوٹو تھراپی‘‘ پاکستان میں موجود ہے،سربراہ شعبہ امراض جلد لاہور جنرل اسپتال پروفیسر انیلہ اصغر نے کہا کہ مرض کی علامات ظاہر ہونے پر فوری ماہر امراض جلد سے رجوع کرنا چاہیے۔

اگر ابتدا میں ہی تشخیص اور علاج ہوجائے تو پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے۔ مرض بچوں کو بھی متاثر کرتا ہے، 16 سے 22 برس اور 40 سے 50 برس کی عمر کے لوگ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اتائیوں کی وجہ سے درست علاج نہیں ہورہا، حکومت کو ان کیخلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ امراض جلد لاہور جنرل اسپتال ڈاکٹر کہکشاں طاہر نے کہا کہ جلدی امراض سے لوگوں کو زیادہ آگاہی نہیں۔ جنرل پریکٹیشنرز بھی سورائسز جیسی بیماریوں سے لاعلم ہیں یا انتہائی کم آگاہی رکھتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا یہ ایجنڈا ہے کہ جنرل پریکٹیشنرز کو آگاہی دی جائے تاکہ وہ اس کی درست تشخیص کرکے ماہر امراض جلد کو ریفر کرسکیں۔

یہ اچھوت کی بیماری نہیں ہے، یہ مریض کو چھونے سے کسی دوسرے کو نہیں لگتی ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ امراض جلد لاہور جنرل اسپتال ڈاکٹر طاہر کمال نے کہا کہ اگر مرض کو 1 سے 2 برس ہوئے ہیں تو نارمل طریقہ علاج ہے لیکن اگر پیچیدہ ہوگیا ہے اور اس نے دیگر اعضا کو بھی متاثر کیا ہے تو پھر طریقہ علاج بھی اسی لحاظ سے ہوگا۔

The post سورائسز صرف جلدی بیمار نہیں، علاج میں تاخیر سے اندرونی اعضا متاثر ہوسکتے ہیں، ماہرین امراض جلد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Unw9nQ

بیکٹیریا اور خردنامیوں کی مزید 12 ہزار اقسام دریافت

 واشنگٹن: اگرچہ تجربہ گاہوں میں بھی بہت سے بیکیٹریا، خرد نامیوں (مائیکرو آرگنزم) اور یک خلوی آرکیا پیدا کیے جاسکتے ہیں لیکن ان کی تعداد یہیں تک محدود رہی تاہم اب ایک نئے طریقے کے تحت لگ بھگ 12500 خردنامیوں، بیکٹیریا اور آرکیا کی شناخت ہوئی ہے جو اس سے قبل سائنس کی نگاہ سے اوجھل تھے۔

بین الاقوامی ماہرین نے میٹا جینومکس کے ذریعے اس عمل کو انجام دیا ہے۔ ماہرِ جینیات اسٹیفن نے فیش کہتے ہیں کہ ’  میٹاجینوم میں براہِ راست کسی ماحول یا نمونے کو دیکھا جاتا ہے اور اس میں شامل تمام جان داروں کی جینیاتی اور ڈی این اے ترتیب کے تحت انہیں دیکھا جاتا ہے، ضروری نہیں کہ تمام خرد نامیے تجربہ گاہ میں پیدا کیے جائیں کیونکہ میٹا جینومکس کسی بھی قدرتی جگہ سے جینوم کا احوال بتاتا ہے، خواہ وہ کھیت کی مٹی ہو کوئی تالاب ہی کیوں نہ ہو‘۔

ماحول کے میٹاجینومکس عمل سے براہِ راست ہزاروں نئے خرد نامیے سامنے آئے ہیں جو ہماری نگاہوں سے اوجھل تھے لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ 10 ہزار میٹا جینوم کا ڈیٹا جمع کرنے اور اسے دیکھنا بہت مشکل اور وقت طلب عمل ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ کسی بھی ماحول میں تمام جینوم کا ایک ساتھ مطالعہ اور شناخت میٹا جینومکس میں عام ہوتا ہے۔ اس میں جینوم کے آدھے، پونے ٹکڑے ہوتے ہیں جنہیں بعد ازاں جگسا پزل کی طرح جوڑ کر شناخت کیا جاتا ہے۔

اس ڈیٹا میں 52,515 جینیاتی پارچے دیکھے گئے اور اس طرح کئی خردنامیوں کا 50 فیصد جینوم مکمل کرکے نوٹ کیا گیا ہے۔ یہ میٹاجینوم دنیا بھر سے لیے گئے ہیں جن میں سمندر، ریگستان، کھیت اور جانوروں کے مسکن شامل ہیں۔ اس طرح اب بیکٹیریا اور خرد نامیوں کا کیٹلاگ 44 فیصد تک وسیع ہوگیا ہے جو ایک بہت بڑا اضافہ ہے۔

The post بیکٹیریا اور خردنامیوں کی مزید 12 ہزار اقسام دریافت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2UmcDIo

Planning Your Holidays During the COVID-19 Pandemic

Credit: Getty Images With the holiday season fast approaching and coronavirus disease 2019 (COVID-19) surging in most parts of the country, millions of Americans—including me and my family—will break with tradition this year to celebrate in ways that we hope will help to keep us all safe and healthy. Granted, this may present some difficult emotional and logistical challenges, but I’m confident that the American can-do spirit will rise to meet those challenges. I also recognize that this will be hard for many of us. Celebrating holidays alone or with your immediate household members can sound rather dreary. After all, who wants to roast and carve a turkey for just a few people? But, if you look at it another way, the pandemic does offer opportunities to make this holiday a season to remember in new and different ways. Here are a couple of ideas that you may want to consider: Send Gifts. Although COVID-19 has changed our lives in many ways, sending cards or gifts remains a relatively easy way to let loved ones know that you’re thinking of them. Who wouldn’t want to receive some home-baked goodies, a basket of fresh fruit, or a festive wreath? If you enjoy knitting, candle making, or other ways of crafting gifts for the holidays, now’s the time to start planning for Thanksgiving through the New Year. Make Videos. When I’m visiting family, there is often music involved—with guitar, piano, and maybe some singing. But, this year, I’ll have to be content with video recording a few songs and sending them to others by text or email. Come to think of it, the kids and the grandkids might enjoy these songs just as much—or even more—if they can watch them at a time and place that works best for them. (On the other hand, some of them might roll their eyes and decide not to open that video file!) If you don’t play a guitar or like to sing, you can still make your own holiday-themed videos. Maybe share a dance routine, a demonstration of athletic skill, or even some stand-up comedy. The key is to have fun and let your imagination run free. Share a Meal Remotely. Most of our end-of-the-year holidays involve the family sitting around a table overflowing with delicious food. With all of the videoconferencing platforms now available, it is easy to set aside a block of time to share a meal and good conversation remotely with friends and family members, whether they live nearby or across the country. Rather than one cook slaving over a hot stove or a certain person monopolizing the dinner table conversation, everyone gets a chance to cook and share their stories via their smartphone, tablet, or laptop. You can compare your culinary creations, swap recipes, and try to remember to leave room for dessert. If you have a tradition of playing games or giving thanks for your many blessings, you can still do many of these activities remotely. Take an After-Dinner Walk. Due to the physical demands and psychological impacts of the COVID-19 pandemic, it’s been difficult for many of us to stay physically active. The key is making exercise a daily priority, and the holidays are no different. After your holiday meal, go on a virtual group walk through your respective neighborhoods to work off the food. Thanks to your smartphone’s camera, you can share your time outdoors and all of the interesting sights along the way. (Yes, the new playground in the local park looks fantastic, and the neighbors really did just paint their house purple!) Stay Safe. If you plan to go ahead and join a holiday gathering in person, it’s important to remain vigilant, even when interacting with dear friends and loved ones. The greatest risk for spread of COVID-19 right now is these family gatherings. Remember there are risks associated with travel and with interacting with people who’ve not been tested for the coronavirus prior to the event, especially if they reside in a COVID hot spot—which is almost everywhere these days. Try to keep any family gatherings brief and relatively small, about five people or less. If the weather permits, hold the get-together outdoors. To protect yourself and your loved ones, both now and over the holidays, please follow these 3 W’s: • Wear a mask when you are out in public and when you are indoors with people who are not part of your immediate household. The only exception is while eating or drinking!
Watch your distance, staying at least 6 feet away from people who are not part of your immediate household.
Wash your hands thoroughly and frequently. Making all of these adjustments is a lot to consider when you’re trying to have a good time and there are children and older adults in the mix. That’s why I and my wife Diane decided the best plan for us this holiday season is to stay home in Maryland and forgo our traditional trips to family in Michigan and North Carolina. Not only did we want to reduce the risk of possibly contracting COVID-19 from—or transmitting it to—our faraway loved ones, we want to do everything we can to protect our local friends and co-workers from the coronavirus. While this holiday season is likely to be memorable in ways that we never could have imagined, I’m confident that, thanks to the rapid advances being made by medical research, we ultimately will get the COVID-19 pandemic under control so we can once again give everyone we love a big hug in person. Until then, please stay safe. Wishing each of you a wonderful and healthful holiday season, starting with a Happy Thanksgiving! Links: Coronavirus (COVID) (NIH)

Your Health: Holiday Celebrations and Small Gatherings (Centers for Disease Control and Prevention, Atlanta)

Your Health: Personal and Social Activities (CDC)

Post Link

Planning Your Holidays During the COVID-19 Pandemic

NIH Blog Post Date



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/3kjOdty

Wednesday, 11 November 2020

یورک ایسڈ کا علاج غذا سے کیجئے

تیزابیت، تبخیر،گیس اور قبض جیسے عوارض اس قدر عام ہوچکے ہیں کہ ہر دوسرا فرد ان کے ہاتھوں تنگ دکھائی دیتا ہے۔

ملاوٹ سے بھرپور اور مصنوعی غذائی اجزاء کے استعمال سے معدے کی قدرتی کارکردگی بری طرح متاثر ہوکر رہ گئی ہے۔ سگریٹ و چائے نوشی،بازاری مشروبات و بیکری مصنوعات،مرغن اور چٹخارے دار خوراک اور تیز مسالہ جات و فاسٹ فوڈز کے بے دریغ استعمال نے معدے اور انتڑیوں کے افعال واعمال کا ستیا ناس کر دیا ہے۔ تیزابیت،تبخیر اور گیس کی ایک بڑی وجہ قبض سمجھی جاتی ہے۔

جب قبض کے سبب انتڑیوں میں فاسد مادوں کا اجتماع ہوتا ہے تو طبیعت میں ناگواری،بے چینی اور اضطرابی کیفیت کا اظہار سامنے آتا ہے۔ معدے میں تیزابی مادے بہت زیادہ جمع ہوجاتے ہیں تو ان کا اخراج گردوں کے رستے بذریعہ بیشاب مشکل ہوجاتا ہے اور یہی تیزابی مادے بعد ازاں جسم کے مختلف جوڑوں میں جمع ہو کر نقرص،گھنٹیا، شائیٹیکا پین، کمر درد،گردے ناکارہ کرنے ،کولیسٹرول کی افزائش، بلڈ پریشر ،امراض قلب اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا باعث بنتے ہیں۔

جسم میں بڑھے ہوئے تیزابی مادوں کو طبی اصطلاح میں یورک ایسڈ کہا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر سرخ گوشت(Red meet)  گائے کے گوشت، بکرے کے گوشت،کلیجی، پائے، مغز، نہاری، گردوں، کپوروں  میں زیادہ پایا جاتا ہے لیکن جب میٹا بولزم کی کارکردگی درست طور پر کام نہ کر پا رہی ہو تو ٹماٹر،پالک، دالیں، لوبیا اور چنوں وغیرہ کا استعمال بھی یورک ایسڈ کا سبب بن جاتا ہے۔ ایک صحت مند جسم میں 2.4 سے 6.5 ملی گرام تک یورک ایسڈ کی موجودگی لازمی سمجھی جاتی ہے۔

جب یورک ایسڈ مطلوبہ مقدار سے بڑھتاہے تو جسم میں مختلف امراض کی علامات رو پزیر ہونے لگتی ہیں۔ ایک صحت مند انسان کے جسم سے اضافی یورک ایسڈ کی مقدار کو گردے پیشاب کے رستے خارج کرتے رہتے ہیں لیکن جب اس کی مقدار زیادہ بڑھ جائے تو گردے بھی اسے خارج کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ یورک ایسڈ کی بڑھی ہوئی مقدار یوریا کی شکل میں گردوں کی کارکردگی کو متاثر کرنے سمیت جسم کے جوڑوں میں کرسٹل بن کر جمع ہونے لگتی ہے جو بعد ازاں جوڑوں کی حرکات و سکنات میں رکاوٹ کا باعث بن کر درد اورسوجن کا سبب بن جاتی ہے۔

یورک ایسڈ کے مسائل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ بدن میں اس کی مطلوبہ مقدار سے زیادہ جمع نہ ہونے دیا جائے۔ یورک ایسڈ کی غیر ضروری افزائش سے بچنے کے لیے معدے اور انتڑیوں کی کار کردگی کا درست ہونا لازمی ہے۔ معدے میں تیزابیت، تبخیراور گیس کی علامات کو پیدا ہونے سے روکا جائے۔اس کا بہترین حل یہی ہے کہ کم از کم 8  گھنٹے کے وقفے سے کھانا کھایا جائے۔کھانے کے فوری بعد سونے اور نہانے سے بچا جائے۔کھانا کھاتے ہی مشقت والا کام بھی نہ کیا جائے ۔ سخت محنت والا کام کرنے کے فوراً بعد ٹھنڈا پانی پینے سے بھی پرہیز کیا جائے۔رات کا کھانا کھاتے ہی لیٹنے اور سونے سے بھی احتیاط کرنی چاہیے۔

پانی صرف اتنا ہی پیا جائے جتنی طلب ہو،کھانے کے فوری بعد پانی کم سے کم پیا جائے، کولڈ ڈرنکس اور ٹھنڈے پانی کا استعمال بالکل نہ کیا جائے۔ چائے، کافی اور قہوہ وغیرہ کھانے کے بعد مناسب وقفے سے استعمال کیے جائیں۔ چکنائیوں سے لبریز پکوان ، تیز مسالہ جات اور بھنے ہوئے سالن کا استعمال کرنے سے بھی گریز لازم ہے۔

قبض سے بچنے کے لیے ریشے دار غذائی اجزاء جیسے جو اور گندم کا دلیہ، کچی سبزیاں، پھل اور پھلوں کے جوسز وغیرہ بکثرت استعمال کیے جائیں۔معدے اور انتڑیوں کی کارکردگی کو مناسب اور متواتر رکھنے کے لیے نہار منہ تیز  قدموں کی سیر ورزش کرنا بھی ضروری ہے۔سیر اورو رزش کو بھی روز مرہ معمولات کا لازمی حصہ بنائیں۔

ایسے افراد جو یورک ایسڈ کی زیادتی میں مبتلا ہوچکے ہوں انہیں چاہیے کہ سب سے پہلے چائے اور سگریٹ نوشی پر قابو پائیں اور ان کا استعمال کم سے کم کرنے کی کوشش کریں۔گاجر، مسمی اور سیب کا مرکب جوس روزانہ ایک گلاس لازمی پینا شروع کریں۔ ناشتے میں جو کا دلیہ پانی میں بنا ہوااستعمال کیا جائے،دوپہر میں مولی کے شوربے کے ساتھ چپاتی کھائی جائے۔ مولی ،کھیرا، سلاد کے پتے اور پیاز بطور سلاد کھانا بھی مفید ہوتا ہے۔ رات کو ہلکا پھلکا کھانے کے بعد اجوائن کا قہوہ پینا بے حد فوائد پہنچاتا ہے۔

سوتے وقت مربہ ہرڈ تین سے چار دانے دھوکر کھائیں اور گٹھلیوں کو دیر تک چوستے رہیں۔ ایسے افراد جنھیں یورک ایسڈ کی زیادتی کے باعث کمر درد کا عارضہ لاحق ہوگیا ہے،انہیں چاہیے کہ وہ بطورِ علاج نہار منہ معجونِ فلاسفہ کا ایک چھوٹا چمچ صبح و شام کھانا شروع کردیں۔ جن لوگوں کے جوڑوں میں درد کی کیفیت اور سوجن ہوگئی ہو وہ سورنجاں شیریں کا سفوف بنا کر چھوٹے چمچ کا ایک چوتھائی حصہ صبح و شام کھانے کے ایک گھنٹہ بعد نیم گرم پانی کے ساتھ کھایا کریں۔ پانی میں سونف ابال کر پینے کے لیے استعما ل کریں۔

گھریلو طبی تراکیب سے یورک ایسڈ کا خاتمہ

ہمارے گھروں میں عام استعمال ہونے والے اجزاء یورک ایسڈ کا خاتمہ کرنے کے لیے بہترین ثابت ہوتے ہیں۔ ہر گھر کے کچن میں اجوائن لازمی پائی جاتی ہے۔اجوائن ایک چوتھائی چھوٹاچمچ ایک کپ پانی میں پکا کر بطور قہوہ پینا یورک ایسڈ اور اس سے جڑے عوارض سے فوری نجات دلاتا ہے۔

اجوائن کا قہوہ دن میں ایک پینا کافی ہوتا ہے۔ایک پاؤ اجوائن کو لیمن کے پانی میں اچھی طرح بھگو کر خشک کر لیں۔ جب اجوائن خشک ہوجائے تو اس میں آدھ پاؤ کالا نمک اور آدھ پاؤ خوردنی سوڈا (میٹھا سوڈا) ملا کر مرکب بنا لیں۔ دن میں دو بار کھانے کے ایک گھنٹہ بعد نیم گرم پانی کے ساتھ آدھا چھوٹا چمچ کھا لیا جائے۔ تیزابیت، تبخیر، گیس، قبض سمیت یورک ایسڈ کا خاتمہ کرنے کا بہترین آسان اور گھریلو فارمولہ ہے۔

موسم سرما میں اکثر گھروں میں السی کی پنیاں بنانے کا رواج عام ہے۔السی کا عام اور آسان استعمال یہ ہے کہ اسے ہلکا سو بھون کر محفوظ رکھ لیں۔ صبح نہار منہ ایک چمچ السی ایک گلاس نیم گرم پانی میں دو چمچ خالص قدرتی سرکہ ملا کر کھا لیا جائے۔ چند دنوں میں ہی یورک ایسڈ کے عوارض سے نجات مل جائے گی۔ سوہانجنے کے نرم پتوں کو سائے میں خشک کر کے سفوف بنا کر آدھی چمچی نہار منہ نیم گرم پانی میں آدھا لیموں نچوڑ کر کھانے سے بھی یورک ایسڈ کے مسائل سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔

ادرک ہمارے کچن کا تقریباً لازمی حصہ مانی جاتی ہے۔ایک گرام ادرک کو ایک پانی میں اچھی طرح پکا کر اس میں خالص شہد کی آدھی چمچی ملا کر پینا بھی یورک ایسڈ کے خاتمے کا بہترین ذریعہ ہے۔ سبز چائے ایک گرام اور ادرک ایک گرام کو ایک کپ پانی میں پکا کر بطور چائے پینا بھی بے حدمفید ثابت ہوتا ہے۔

سنا مکی کے چند پتے ،چند گلاب کی پتیاں اور ایک گرام ادرک ایک کپ پانی میں پکا کر پینا قبض سمیت یورک ایسڈ کے لیے بہت مفید طبی ترکیب ہے۔ آسگند ایک مشہور نبات ہے،اس کا سفوف بنا کر نہار منہ دودھ کے ساتھ کھانے سے بھی یورک ایسڈ اوراس کے پیدا کردہ مسائل جوڑوں کا درد، کمر درد وغیرہ سے مکمل شفاء نصیب ہوتی ہے۔یورک ایسڈ کی زیادتی کے باعث جوڑوں کی سوجن اور درد میں افاقہ کے لیے سورنجاں شیریں ایک تولہ کو سبز دھنیا کے ساتھ پیس کر پیسٹ بنا لیں۔

متاثرہ جگہوں پر لیپ کرنے سے درد اور سوجن سے فوری افاقہ ہوگا۔گاجر، مسمی، سیب،مولی، کھیرا، بند گوبھی، کریلے وغیرہ کا روز مرہ خوراک میں استعمال لازمی طور پر کیا جانا چاہیے۔قبض سے چھٹکاراپانے کے لیے رات سوتے وقت روغن بادام کے چار چمچ نیم گرم دودھ میں ملا کر پینا معمول بنا لیں۔ دھیان رہے اسپغول کے چھلکے کا زیادہ استعمال پیٹ کے منجملہ امراض کا سبب بنتا ہے،لہٰذا اسپغول کا استعمال کبھی کبھار ہی کیا جا نا چاہیے۔

روز مرہ پرہیز

روز مرہ غذاؤں میں گوشت، چاول، دالیں، لوبیا، مٹر، پالک، بیگن، چائے، سگریٹ وشراب نوشی، کولا مشروبات،بیکری مصنوعات اوربادی و ترش اشیا کے استعمال سے مکمل طور پر پرہیز لازم ہے۔درد دور کرنے والی ادویات کا غیر ضروری استعمال کرنا بھی مناسب نہیں ہوتا۔ اسی طرح کسی مستند معالج کی مشاورت کے بغیر اینٹی بائیوٹیک اوراسٹیرائیڈز ادویات کا استعمال بھی یورک ایسڈ کی افزائش کا سبب بنتا ہے اور گردوں کے لیے مضر صحت ثابت ہوسکتا ہے۔

غیر ضروری طور پر پروٹینز (گوشت ، انڈا ، دالیں، لوبیا مٹر، مکئی ) شوقیہ کیلشیم( ملٹی وٹامنز) اور سدا جوان رکھنے والی بازاری دواؤں اور غذاؤں(فوڈ سپلیمنٹس) سے اجتناب بھی یورک ایسڈکی افزائش سے بچاتا ہے۔

ورزش ہمارے جسم میں غیر ضروری جمع ہونے والے زہریلے مادوں کو (Burn) ختم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔روز مرہ ورزش کو اپنی زندگی میں ایسے ہی شامل کریں جیسے ہم اپنی خوراک اور لباس کا اہتمام کرتے ہیں۔دو کھانوں کے درمیان کم از کم 6 سے 8 گھنٹوں کا وقفہ لازمی کریں تاکہ معد ہ اپنے نظامِ ہضم کو متواتر اور متوازن رکھ سکے۔

موسم کی مناسبت سے خورونوش کا انتخاب کریں۔ سبزیوں اور پھلوں کو اپنی غذا کا لازمی حصہ بنائیں۔ پالک ،ٹماٹر،آڑو،بیگن،اروی، آلو، پھول گوبھی اور دیگر بادی اجزا کے حامل غذائیںاگرچہ یورک ایسڈکی افزائش اور زیادتی کا سبب بنتی ہیں لیکن اپنے معالج کے مشورے سے ان کے استعمال کا طریقہ ،مقدار اور وقت طے کیا جا سکتا ہے۔

The post یورک ایسڈ کا علاج غذا سے کیجئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2UgDVzM

شوگر: وجوہات، اثرات اور پیچیدگیاں

محمد اکرم کے چہرے سے پریشانی اور خوف کے تاثرات عیاں تھے۔ زندگی سے بیزاری اور غربت کے بھیانک احساس نے اُسے بے بس اور مجبور کر دیا تھا۔

تین بچوں کا باپ، کرائے کے گھر پر رہائش پذیر اندرون لاہور کا ایک مزدور، شوگر کی وجہ سے پاؤں پر بننے والے زخم (Ulcer) کے باعث میوہسپتال کے ڈائبیٹیز اینڈ فٹ کیئرکلینک (DFC) میں سرجھکائے ایک کونے میں بیٹھا تھا۔

’’ڈاکٹر صاحب! زخم سے میں تھک چکا ہوں ۔ گزشتہ چھ ماہ سے مختلف ہسپتال، کلینک اور ڈاکٹروں سے علاج کے باوجود زخم ٹھیک نہیں ہوا۔ خدارا! اس کا علاج کریں تاکہ میں گھر کا خرچ اُٹھا سکوں۔‘‘

آنکھوں میں آنسو، لہجے میں تھکاوٹ اور مزاج میں مایوسی واضح طور پر نمایاں تھی۔ چھ ماہ میں زخم اس قدر گہرا اور خراب ہو چکا تھا کہ اگر فوری طور پر اس کی ٹانگ نہ کاٹی جاتی تو یہ تعفن (Septicemia) اس کی جان لے سکتا تھا۔

یہ کہانی صرف اکرم کی نہیں بلکہ دنیا میں ہر 20 سیکنڈز کے بعد کسی اور جگہ پر انہی حالات و واقعات کی وجہ سے شوگر کے باعث ایک مریض اپنی ٹانگ ضائع کر دیتا ہے۔ یاد رہے کہ چند سال قبل تک یہ شرح ہر 30 سیکنڈز تھی جو اب 20 سیکنڈز ہو چکی ہے۔

14 نومبر کو ہر سال عالمی دن برائے شوگر منایا جاتا ہے، جس کا مقصد جہاں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی شوگر کے علاج کے حوالے سے مہارت کو بڑھانا ہے، وہاں عوام میں شوگر کے مرض کی وجوہات، اقسام، طریقہ ہائے پرہیز ،علاج اور اس کی وجہ سے جنم لینے والی پیچیدگیوں (Complications) کو رفع کرنا بھی ہے۔

شوگر کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں

1۔ T1DM(Type 1 Diabetes Mellitus)

یہ قسم عام طور پر بچوں میں پائی جاتی ہے۔ شوگر کے کل مریضوں میں اس کی شرح 5سے 10فیصد ہوتی ہے۔ اس کا دنیا بھر میں علاج کے دسیتاب طریقوں میں سوائے انسولین کے کوئی موثر اور دیر پاعلاج نہیں۔

2۔ T2 DM(Type 2 Diabetes Mellitus)

یہ عام طور پر بڑوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے وجوہات میں خاندانی/ موروثی اثرات کے ساتھ موٹاپا بھی شامل ہے۔ شوگر کے کل مریضوں میں اس کی شرح 90سے95فیصد ہوتی ہے۔ گولیوں کے ساتھ انسولین بھی اس کے علاج میں شامل ہے۔

3۔ GDM  (Gestational Diabetes Mellitus)

یہ حاملہ خواتین میں پائی جاتی ہے۔ حاملہ خواتین میں اس کی شرح 10فیصد ہوتی ہے۔

انتہائی دلچسپ اور قابل عمل بات یہ ہے کہ T2DM مریضوں میں سے کم وبیش 90 فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی شوگر، ہفتے میں پانچ دن موثر ورزش، صحت مند متوازن خوراک اور مناسب وزن اختیار کرنے سے مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ 2015ء تک یہ شرح 80 فیصد تھی جو کہ اب بڑھ کر 90 فیصد ہو چکی ہے۔

دوسرے نیشنل ڈائبیٹیز سروے آف پاکستان (2nd National Diabetes Survey of Pakistan) منعقدہ 2016-17 ء کے مطابق پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی شرح تقریباً 27 فیصد ہے، جن میں سے تقریباً 20 فیصد اپنے مرض کے بارے میں علم رکھتے ہیں جب کہ 7 فیصد شوگر کے مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود لاعلم ہیں، مزید برآں پاکستان میں Pre-Diabetes کی شرح تقریباً 15 فیصد ہے اور یہ وہ افراد ہیں جو بداحتیاطی اور لاعلمی کے باعث اگلے تین سے پانچ سالوں میں شوگر کے مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

شوگر کی وجہ سے جسم کا کوئی عضو (Organ) اور حصہ (Tissue)ایسا نہیں ہوتا کہ جو اس کی (Complication) یعنی پیچیدگی سے محفوظ رہے بہت سی (Complications) کے ساتھ پاؤں میں ہونے والی Diabetic Foot Disease پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کی شدت (Morbidity) بہت زیادہ ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان بھر میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر Diabetes  کی وجہ سے ہونے والی پاؤں کی complication کا علاج کرنے کے لیے فٹ کیئر کلینکس (Foot Care Clinics)  نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند سال قبل تک ہر 30 سیکنڈ کے بعد شوگر کی وجہ سے جو ٹانگ کاٹی جا رہی تھی اب بڑھ کر 20 سیکنڈ ہو چکی ہے۔ اس complication کا علاج کرنے کے لیے ہمیں حکومتی سطح پر موثر ترجیحی پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔

صحت کے پالیسی ساز اداروں کو درج ذیل اقدامات فوری طور پر کرنے کی ضرورت ہے۔

۱۔عوام اور اداروں میں شوگر کے حوالے سے آگاہی دینے کے لیے مہمات (Campaigns) کا آغاز

۲۔الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال

۳۔ہیلتھ کیئر پروفیشنلز (Healthcare Professionals) جن میں پیرا میڈکس اور ڈاکٹرز شامل ہیں، ان کی پیشہ وارانہ مہارت میں اضافہ (Capacity Building)کرنے کے لیے ورکشاپس کا انعقاد

۴۔ ہر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) کی سطح پر ڈائبیٹیز اینڈ فٹ کیئر کلینکس کا انعقاد ہونا چاہیے۔

(انچارج ڈائبیٹز اینڈ فٹ کیئر کلینک، میو ہسپتال، لاہور)

The post شوگر: وجوہات، اثرات اور پیچیدگیاں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/38Ea7FF

شوگر: وجوہات، اثرات اور پیچیدگیاں

محمد اکرم کے چہرے سے پریشانی اور خوف کے تاثرات عیاں تھے۔ زندگی سے بیزاری اور غربت کے بھیانک احساس نے اُسے بے بس اور مجبور کر دیا تھا۔

تین بچوں کا باپ، کرائے کے گھر پر رہائش پذیر اندرون لاہور کا ایک مزدور، شوگر کی وجہ سے پاؤں پر بننے والے زخم (Ulcer) کے باعث میوہسپتال کے ڈائبیٹیز اینڈ فٹ کیئرکلینک (DFC) میں سرجھکائے ایک کونے میں بیٹھا تھا۔

’’ڈاکٹر صاحب! زخم سے میں تھک چکا ہوں ۔ گزشتہ چھ ماہ سے مختلف ہسپتال، کلینک اور ڈاکٹروں سے علاج کے باوجود زخم ٹھیک نہیں ہوا۔ خدارا! اس کا علاج کریں تاکہ میں گھر کا خرچ اُٹھا سکوں۔‘‘

آنکھوں میں آنسو، لہجے میں تھکاوٹ اور مزاج میں مایوسی واضح طور پر نمایاں تھی۔ چھ ماہ میں زخم اس قدر گہرا اور خراب ہو چکا تھا کہ اگر فوری طور پر اس کی ٹانگ نہ کاٹی جاتی تو یہ تعفن (Septicemia) اس کی جان لے سکتا تھا۔

یہ کہانی صرف اکرم کی نہیں بلکہ دنیا میں ہر 20 سیکنڈز کے بعد کسی اور جگہ پر انہی حالات و واقعات کی وجہ سے شوگر کے باعث ایک مریض اپنی ٹانگ ضائع کر دیتا ہے۔ یاد رہے کہ چند سال قبل تک یہ شرح ہر 30 سیکنڈز تھی جو اب 20 سیکنڈز ہو چکی ہے۔

14 نومبر کو ہر سال عالمی دن برائے شوگر منایا جاتا ہے، جس کا مقصد جہاں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی شوگر کے علاج کے حوالے سے مہارت کو بڑھانا ہے، وہاں عوام میں شوگر کے مرض کی وجوہات، اقسام، طریقہ ہائے پرہیز ،علاج اور اس کی وجہ سے جنم لینے والی پیچیدگیوں (Complications) کو رفع کرنا بھی ہے۔

شوگر کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں

1۔ T1DM(Type 1 Diabetes Mellitus)

یہ قسم عام طور پر بچوں میں پائی جاتی ہے۔ شوگر کے کل مریضوں میں اس کی شرح 5سے 10فیصد ہوتی ہے۔ اس کا دنیا بھر میں علاج کے دسیتاب طریقوں میں سوائے انسولین کے کوئی موثر اور دیر پاعلاج نہیں۔

2۔ T2 DM(Type 2 Diabetes Mellitus)

یہ عام طور پر بڑوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے وجوہات میں خاندانی/ موروثی اثرات کے ساتھ موٹاپا بھی شامل ہے۔ شوگر کے کل مریضوں میں اس کی شرح 90سے95فیصد ہوتی ہے۔ گولیوں کے ساتھ انسولین بھی اس کے علاج میں شامل ہے۔

3۔ GDM  (Gestational Diabetes Mellitus)

یہ حاملہ خواتین میں پائی جاتی ہے۔ حاملہ خواتین میں اس کی شرح 10فیصد ہوتی ہے۔

انتہائی دلچسپ اور قابل عمل بات یہ ہے کہ T2DM مریضوں میں سے کم وبیش 90 فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی شوگر، ہفتے میں پانچ دن موثر ورزش، صحت مند متوازن خوراک اور مناسب وزن اختیار کرنے سے مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ 2015ء تک یہ شرح 80 فیصد تھی جو کہ اب بڑھ کر 90 فیصد ہو چکی ہے۔

دوسرے نیشنل ڈائبیٹیز سروے آف پاکستان (2nd National Diabetes Survey of Pakistan) منعقدہ 2016-17 ء کے مطابق پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی شرح تقریباً 27 فیصد ہے، جن میں سے تقریباً 20 فیصد اپنے مرض کے بارے میں علم رکھتے ہیں جب کہ 7 فیصد شوگر کے مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود لاعلم ہیں، مزید برآں پاکستان میں Pre-Diabetes کی شرح تقریباً 15 فیصد ہے اور یہ وہ افراد ہیں جو بداحتیاطی اور لاعلمی کے باعث اگلے تین سے پانچ سالوں میں شوگر کے مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

شوگر کی وجہ سے جسم کا کوئی عضو (Organ) اور حصہ (Tissue)ایسا نہیں ہوتا کہ جو اس کی (Complication) یعنی پیچیدگی سے محفوظ رہے بہت سی (Complications) کے ساتھ پاؤں میں ہونے والی Diabetic Foot Disease پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کی شدت (Morbidity) بہت زیادہ ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان بھر میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر Diabetes  کی وجہ سے ہونے والی پاؤں کی complication کا علاج کرنے کے لیے فٹ کیئر کلینکس (Foot Care Clinics)  نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند سال قبل تک ہر 30 سیکنڈ کے بعد شوگر کی وجہ سے جو ٹانگ کاٹی جا رہی تھی اب بڑھ کر 20 سیکنڈ ہو چکی ہے۔ اس complication کا علاج کرنے کے لیے ہمیں حکومتی سطح پر موثر ترجیحی پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔

صحت کے پالیسی ساز اداروں کو درج ذیل اقدامات فوری طور پر کرنے کی ضرورت ہے۔

۱۔عوام اور اداروں میں شوگر کے حوالے سے آگاہی دینے کے لیے مہمات (Campaigns) کا آغاز

۲۔الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال

۳۔ہیلتھ کیئر پروفیشنلز (Healthcare Professionals) جن میں پیرا میڈکس اور ڈاکٹرز شامل ہیں، ان کی پیشہ وارانہ مہارت میں اضافہ (Capacity Building)کرنے کے لیے ورکشاپس کا انعقاد

۴۔ ہر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) کی سطح پر ڈائبیٹیز اینڈ فٹ کیئر کلینکس کا انعقاد ہونا چاہیے۔

(انچارج ڈائبیٹز اینڈ فٹ کیئر کلینک، میو ہسپتال، لاہور)

The post شوگر: وجوہات، اثرات اور پیچیدگیاں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/38Ea7FF

یہ ماسک دھوپ میں رکھنے سے جراثیم سے پاک ہوجاتا ہے

ڈیوس: ایک سال سے کورونا وبا ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ اب کہیں یہ دوسری اور کہیں تیسری لہر کی صورت میں ہے۔ اس لیے لوگ کپڑے کے ماسک بھی پہن رہے ہیں جو جلدی آلودہ ہوجاتے ہیں لیکن خاص کپڑے سے بنا ایک ماسک دھوپ کی موجودگی میں کئی اقسام کے جراثیم سے ازخود پاک ہوجاتا ہے۔

وائرس اور بیکٹیریا کپڑوں پر چپک جاتے ہیں اور یہی معاملہ فیس ماسک کے ساتھ بھی ہوتا ہے جس پر دن بھر کے استعمال کے بعد جراثیم (بیکٹیریا) اپنا گھر بنالیتے ہیں۔ اب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس کے ماہرین نے ایک ایسا کپڑا بنایا ہے جس سے بنا ماسک اگر ایک گھنٹے دھوپ میں رکھا جائے تو اس کے 99.9999 فیصد بیکٹیریا اور وائرس تباہ ہوجاتے ہیں۔

فیس ماسک کھانسی یا چھینک سے پھیلنے والے  نینو پیمانے (ایک میٹر کے ایک اربویں حصے) کے آبی بخارات کا پھیلاؤ کم کرسکتے ہیں جن میں کووڈ 19 بھی شامل ہے۔ لیکن اس سے چپکنے والے زندہ بیکٹیریا بعد میں بھی خطرناک ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے یہ کپڑا دھوپ میں ’ری ایکٹیو آکسیجن اسپیشیز‘ یا آر او ایس خارج کرتا ہے جس سے جراثیم مرجاتے ہیں۔ یوں دفتر اور کام کی جگہ پر نماز یا ظہرانے کے اوقات میں ماسک کو پاک کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔

اس کےلیے عام سوتی کپڑے پر مثبت چارج والی 2 ڈائی تھائلامینوایتھائل کلورائیڈ یعنی DEAE-Cl کو کپڑے پر ڈالا گیا۔ اس کے بعد کپڑے کو منفی چارج والے ایک فوٹو سینسٹائزر سے رنگا گیا تو اس کے بہت اچھے نتائج سامنے آئے۔ اس طرح ’بنگال کا گلاب‘ نامی ایک رنگ سے بھی کپڑے کو رنگا کیا گیا تو اس نے 99.9999 فیصد جراثیم کو ختم کردیا۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان میں خود ٹی سیون بیکٹیریوفیج بھی شامل ہے جو کورونا وائرس سے بھی سخت جان ہوتا ہے۔

اس طرح ماسک کو بار بار دھویا بھی جاسکتا ہے اور دھوپ سے وہ جراثیم سے پاک بھی ہوسکتا ہے۔

یہ تحقیق امریکن کیمیکل سوسائٹی کے مجلّے ’’اے سی ایس اپلائیڈ مٹیریئل اینڈ انٹرفیسس‘‘ میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔

The post یہ ماسک دھوپ میں رکھنے سے جراثیم سے پاک ہوجاتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/36rfVjg

فلٹر والا مہنگا ماسک، کورونا وائرس کو پھیلنے سے نہیں روکتا، تحقیق

میری لینڈ: ایک امریکی انجینئر نے باقاعدہ تجربات سے ثابت کیا ہے کہ بازار میں مہنگے داموں فروخت ہونے والے ایسے فیس ماسک جن پر چھوٹے فلٹر جیسا ’اخراجی والو‘ (ایگزیلیشن والو) لگا ہوتا ہے، وہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ بالکل بھی نہیں روکتے۔

انہوں نے صارفین کو ایسے ماسک پہننے کا مشورہ دیا ہے جن پر فلٹر یعنی اخراجی والو نصب نہ ہو؛ اور جن کی موٹائی نسبتاً زیادہ ہو۔

امریکی ادارے ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی‘‘ (NIST) کے انجینئر میتھیو اسٹیمیٹس نے خصوصی کیمروں کی مدد سے مختلف ماسک پہننے کے بعد سانس لینے میں ہوا خارج ہونے کے عمل کی عکس بندی کی، جس سے ظاہر ہوا کہ ’اخراجی والو‘ (فلٹر) والے مہنگے این 95 ماسک، منہ سے باہر نکلنے والی ہوا کو بالکل بھی نہیں روکتے۔

ان کے برعکس، جب سستا لیکن موٹے کپڑے والا ماسک پہنا گیا، تو اس نے منہ سے نکلنے والی ہوا بڑی کامیابی سے روک لی۔

یہ تحقیقی مقالہ اور متعلقہ ویڈیو، دونوں ہی ’’فزکس آف فلوئیڈز‘‘ کی ویب سائٹ پر گزشتہ روز شائع ہوئے ہیں۔

’’اخراجی والو (فلٹر) والا ماسک صرف اتنا کرتا ہے کہ اپنے پہننے والے کو ہوا میں پھیلے ہوئے کورونا وائرس سے بچاتا ہے، لیکن اگر اسے پہننے والا خود ہی کورونا وائرس میں مبتلا ہو، تو یہ ماسک اس شخص سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو نہیں روکے گا،‘‘ میتھیو نے وضاحت کی۔

اپنے مقالے میں انہوں نے ایسے افراد کی طرف خصوصی توجہ دلائی ہے جو اگرچہ کورونا وائرس کا شکار ہیں مگر ان میں کسی قسم کی ظاہری علامات موجود نہیں۔ فلٹر والا ماسک پہن کر یہ لوگ دوسروں کے پھیلائے ہوئے کورونا وائرس سے تو بچ جاتے ہیں مگر خود ان کے کھانسنے، چھینکنے اور سانس سے ہوا میں خارج ہونے والا کورونا وائرس، فلٹر والا ماسک نہیں روک پاتا۔

آسان الفاظ میں یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ مہنگا ماسک پہننے والے خود کو تو محفوظ کررہے ہوتے ہیں لیکن اگر وہ خود کورونا وائرس میں مبتلا ہوں تو دوسرے لوگ ان کے ذریعے کووِڈ 19 کا شکار ہوتے رہیں گے؛ اور اس معاملے میں یہ ’فلٹر والا‘ مہنگا ماسک بالکل ناکارہ ہے۔

The post فلٹر والا مہنگا ماسک، کورونا وائرس کو پھیلنے سے نہیں روکتا، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/32AI2vc

Tuesday, 10 November 2020

ملٹی وٹامن اور منرل سپلیمنٹس کے ’فائدے‘ صرف دل کا بہلاوا ہیں، تحقیق

میساچیوسٹس: امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ملٹی وٹامن اور معدنیات (منرلز) سے بھرپور سپلیمنٹس استعمال کرنے والے افراد کو صرف ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں ان سے فائدہ ہورہا ہے، ورنہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔

بوسٹن، میساچیوسٹس میں ہارورڈ میڈیکل اسکول کے منیش پارانجپی کی قیادت میں 15 امریکی تحقیقی اداروں سے وابستہ ماہرین کی ایک بڑی ٹیم نے امریکیوں میں عمومی صحت سے متعلق کیے گئے ایک قومی سروے کا جائزہ لیا اور اس میں سے 21,603 ایسے بالغ امریکیوں کا انتخاب کیا جن میں سے نصف کا کہنا تھا کہ وہ ملٹی وٹامن اور معدنیات کے حامل سپلیمنٹس استعمال کرتے ہیں جبکہ باقی نصف ان سپلیمنٹس کا استعمال نہیں کرتے تھے۔

ان تمام افراد میں کم از کم 12 مہینوں کے دوران جسمانی بیماریوں اور نفسیاتی کیفیات کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ اگرچہ ملٹی وٹامنز اور معدنیات استعمال کرنے والے 30 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ یہ سپلیمنٹس استعمال کرنے پر انہیں بہتر محسوس ہوا، لیکن دوسری جانب انہیں پورے سال ویسی ہی تمام بیماریوں اور نفسیاتی مسائل کا سامنا رہا کہ جو اِن سپلیمنٹس کو استعمال نہ کرنے والے افراد کو درپیش رہے۔

جب یہ ڈیٹا مزید باریک بینی سے کھنگالا گیا تو معلوم ہوا کہ ملٹی وٹامن اور معدنیات والے سپلیمنٹس استعمال کرنے کا عملاً کوئی فائدہ نہیں، بلکہ انہیں کھانے والوں میں ’اچھی صحت‘ کا صرف ایک مصنوعی احساس پیدا ہوتا ہے جو دراصل ان سپلیمنٹس کے پرکشش اشتہارات اور سنی سنائی باتوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔

ریسرچ جرنل ’’بی ایم جے اوپن‘‘ کی ویب سائٹ پر 9 نومبر کے روز شائع ہونے والی اس تحقیق میں اگرچہ ملٹی وٹامن اور منرل سپلیمنٹس استعمال کرنے والوں کو کوئی مشورہ تو نہیں دیا گیا ہے لیکن پیغام بہت واضح ہے: اگر آپ یہ مہنگے سپلیمنٹس نہیں بھی کھائیں گے تب بھی آپ کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا!

The post ملٹی وٹامن اور منرل سپلیمنٹس کے ’فائدے‘ صرف دل کا بہلاوا ہیں، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2JXFkcI

پاکستان میں کورونا ٹیسٹ کے لیے تھری ڈی پرنٹڈ ’’سواب‘‘ تیار

 کراچی: کووڈ 19 کی عالمی وبا کے باعث دنیا بھر میں تشخیصی ٹیسٹ کے لیے درکار اشیا اور اجزا کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ اس ضمن میں آغا خان یونیورسٹی ( اے کے یو) نے اب تھری ڈی (سہ جہتی) نہ صرف ناک سے نمونے جمع کرنے والا سواب تیار کیا ہے بلکہ اس کا کامیاب معالجاتی تجربہ بھی کیا جاچکا ہے۔

آغا خان یونیورسٹی کے مطابق پاکستان  کووڈ 19 کے ٹیسٹ کے لیے ناک میں داخل کرنے والا سواب (پھایا) تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ کووڈ 19 کے نمونے حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ جیسے جیسے دنیا بھر کے ممالک ٹیسٹنگ کی سہولیات میں اضافہ کر رہے ہیں، ناک میں داخل کرنے کے لیے سواب کی ضرورت بڑھ رہی ہے، پاکستان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں رہی اور اسے کووڈ-19 ٹیسٹنگ کے لیے بڑے پیمانے پر  سواب درآمد کرنے پڑ رہے تھے۔

اس برس ماہ اپریل سے مئی تک ان اشیا کی طلب میں بے پناہ اضافہ اور رسد میں کمی واقع ہوئی جس کی بنا پر اے کے یو کی انوویشن لیب نے مسئلے کے حل کی تلاش شروع کی اور اس کے لیے مقامی طور پر سواب کا ڈیزائن تشکیل دیا اور اسے تیار کیا۔

محققین ، کلینیکل لیبارٹری کے ماہرین اور بائیو میڈیکل انجینئرز پر مشتمل ایک ٹیم نے بنیادی نمونہ تیار کرنے کے لیے تھری ڈی پرنٹر استعمال کرتے ہوئے ڈیزائن تشکیل دیا، اس بنیادی نمونے کے ساتھ کیے جانے والے معالجاتی آزمائشی مطالعوں سے ثابت ہوتا ہے کہ تھری ڈی پرنٹڈ سواب محفوظ، موثر ہے اور درآمد کیے جانے والے سواب کی مانند استعمال میں آسان بھی ہے۔

اے کے یو کے ٹیکنالوجی انوویشن سپورٹ سینٹر اور ڈیجیٹل ہیلتھ ریسورس سینٹر کے ڈائریکٹر سلیم سیانی نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پرنٹر ایک دن میں 1,000 سے زائد سواب تیار کر سکتا ہے اور اس کی قیمت درآمد شدہ سواب کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اے کے یو میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر عدیل حیدر نے بتایا کہ تھری ڈی پرنٹڈ سواب کی تیاری سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس عالمی وبا کے دوران ہمارے ماہرین مقامی طور پر جدت طرازی کے ذریعے مقامی مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اے کے یو کے ڈیپارٹمنٹ آف پیتھالوجی اینڈ لیبارٹری میڈیسن کی پروفیسر زہرہ حسن اس پراجیکٹ کی معاون بنیادی تفتیش کار ہیں، انہوں نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تھری ڈی پرنٹڈ سواب ناک کی رطوبت کا نمونہ لینے کے لیے درآمد کیے جانے والے سواب کی ضرورت کو کم کرے گا اور پاکستان بھر میں کووڈ 19 کی تشخیصی صلاحیت میں اضافے میں معاون ثابت ہوگا۔

The post پاکستان میں کورونا ٹیسٹ کے لیے تھری ڈی پرنٹڈ ’’سواب‘‘ تیار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3kj9CDg

Monday, 9 November 2020

زخموں کو تیزی سے درست کرنے اور نشانات مٹانے والا ہائیڈروجیل

نارتھ کیرولینا: ہائیڈروجیل کا استعمال طب میں بڑھتا جارہا ہے اور اب ایک ایسا ہائیڈروجیل بنایا گیاہے جو نہ صرف گہرے زخم اور ناسور بھردیتا ہے بلکہ امنیاتی نظام کو متحرک کرکے زخموں کے نشانات کو بھی ختم کردیتا ہے۔

ڈیوک یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے ماہرین نے نے مشترکہ طور پر جلد کے لیے ایک نیا ہائیڈروجیل بنایا ہے جو گہرے ناسور اور زخموں کو دوبارہ صحتمند بناتا ہے اور اس کی مدد سے زخم مندمل ہونے کے نشانات بھی بڑی حد تک غائب ہوجاتے ہیں۔

جلد پر چوٹ لگنے کی صورت میں ہمارے جسم کا دفاعی نظام زخم پر فوری طور پر کچی کھال یا ٹشو کی ایک باریک جھلی چڑھاتا ہے تاکہ زخم کو کسی انفیکشن اور تکلیف سے محفوظ رکھ سکے۔ اس کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ یہ ٹشو مستقل کھال پر جم کر چوٹ کا نشان بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسداں ایک عرصے سے جلد کو پرانے زخموں کے تاحیات نشانات سے پاک کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس کے لیے 2015 میں ایک نیا بایومٹیریل تیار کیا گیا تھا جسے ’مائیکروپورس اینی لیڈ پارٹیکل (ایم اے پی) ہائیڈروجل کا نام دیا گیا تھا۔ عموماً ہائیڈروجیل پانی بھری پٹیاں اور پھائے ہوتے ہیں جو زخموں کو کئی پیچیدگیوں سے بچاتے ہوئے جلد کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ ایک بنیادی مچان یا فریم کی طرح کام کرکے جلد کے خلیات کی افزائش بھی کرتے ہیں۔ زخم مندمل کرنے کے بعد جیل ازخود گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔

اب اسی ہائیڈروجیل کو بہتر بنایا گیا اور اب یہ زخم کو ٹھیک کرتے ہوئے نہ صرف نشانات کو ختم کرتے ہیں بلکہ بالوں کے مساموں کو بھی بحال کرتے ہیں جو ایک اہم بات ہے۔ اس طرح کھال کا معیار بڑھتا ہےاور نہایت ہموار اور یکساں کھال اگ آتی ہے۔

اس کے لیے جسم میں پایا جانے والے ایک اسٹرکچرل پروٹین سے پیپٹائڈ لیا گیا ہے۔ اس طرح جیل بہت تیزی سے ختم ہوگیا اور اپنے بیچھے مضبوط کھال چھوڑگیا اور اس طرح زخم کا نشان نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس عمل میں جسم کا قدرتی دفاعی نظام اینٹی باڈیز اور خود اپنے خلیات متاثرہ مقام تک لے جاتا ہے اور گہری اور مضبوط کھال بنتی ہے۔

The post زخموں کو تیزی سے درست کرنے اور نشانات مٹانے والا ہائیڈروجیل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3nm56pB

Targeting a lipid-mediated pro-longevity pathway as Alzheimer's therapy

Appl ID

10197488

Award Amount

48650.00

Is Activie

Funding IC

Org Name

BAYLOR COLLEGE OF MEDICINE

Org Country

UNITED STATES

Org State

TX

Fiscal Year



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/3pfsrL1

SBIR Phase II: Protein A Membrane Columns for Rapid Protein Purification

Appl ID

10174506

Award Amount

289381.00

Is Activie

Funding IC

Org Name

PURILOGICS, LLC

Org Country

UNITED STATES

Org State

SC

Fiscal Year



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/3nacLHa

SAC-COVID: An FDA-approved Phase III clinical trial evaluating the safety and therapeutic efficacy of CD24Fc in severe COVID-19 patients

Appl ID

10145067

Award Amount

1000000.00

Is Activie

Funding IC

Org Name

ONCOIMMUNE, INC.

Org Country

UNITED STATES

Org State

MD

Fiscal Year



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/3lhroYS

Mechanism of BET Proteins in Th17 Cell Differentiation

Appl ID

10146806

Award Amount

342914.00

Is Activie

Funding IC

Org Name

ICAHN SCHOOL OF MEDICINE AT MOUNT SINAI

Org Country

UNITED STATES

Org State

NY

Fiscal Year



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/38ulCQ6

Epithelial control of responses to allergen challenge and viral exacerbation

Appl ID

10146137

Award Amount

197489.00

Is Activie

Funding IC

Org Name

BENAROYA RESEARCH INST AT VIRGINIA MASON

Org Country

UNITED STATES

Org State

WA

Fiscal Year



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/2JLh9Os

COVID-19 Knowledge and Attitudes among Nursing Home Patients, Family and Staff.

Appl ID

10157015

Award Amount

163750.00

Is Activie

Funding IC

Org Name

JOHNS HOPKINS UNIVERSITY

Org Country

UNITED STATES

Org State

MD

Fiscal Year



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/35d1mAo

Robotic Lung Ultrasound for Triage of COVID-19 Patients in a Resource-Limited Environment

Appl ID

10199160

Award Amount

386461.00

Is Activie

Funding IC

Org Name

WORCESTER POLYTECHNIC INSTITUTE

Org Country

UNITED STATES

Org State

MA

Fiscal Year



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/2IjiUlt

Epithelial control of responses to allergen challenge and viral exacerbation

Appl ID

10168800

Award Amount

924424.00

Is Activie

Funding IC

Org Name

BENAROYA RESEARCH INST AT VIRGINIA MASON

Org Country

UNITED STATES

Org State

WA

Fiscal Year



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/3pgOCR2

Pre-exposure Immunologic Health and Linkages to SARS-COV2 Serologic Responses, Endothelial Cell Resilience, and Cardiovascular Complications: Defining the mechanistic basis of high risk endotypes.

Appl ID

10222085

Award Amount

1358850.00

Is Activie

Funding IC

Org Name

CASE WESTERN RESERVE UNIVERSITY

Org Country

UNITED STATES

Org State

OH

Fiscal Year



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/3ePOG5B

Development of NLRP3 inflammasome inhibitors towards Alzheimer's disease

Appl ID

10149565

Award Amount

462952.00

Is Activie

Funding IC

Org Name

VIRGINIA COMMONWEALTH UNIVERSITY

Org Country

UNITED STATES

Org State

VA

Fiscal Year



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/3ncuUnE

نئی کورونا ویکسین کی تیاری میں ترک جوڑے کا نمایاں کردار

کولون جرمنی: فائزر کمپنی نے آج کووڈ 19 کے خلاف ویکسین کی انسانی آزمائش کے ابتدائی نتائج کا اعلان کیا ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کی پشت پر جرمن نژاد ترک میاں بیوی کا نہایت اہم کردار ہے۔

55 سالہ اووَر شاہین اور ان کی 53 سالہ بیوی اوزلم توریکی دونوں ہی پیشے کے لحاظ سے سائنس داں ہیں جو کینسر کی امیونوتھراپی میں بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں۔

نیویارک میں قائم فائزر کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ویکسین 43 ہزار سے زائد افراد پر آزمائی گئی ہے جس میں امریکی، جرمن اور ترک شامل ہیں لیکن درحقیقت ایک اور جرمن کمپنی، بایون ٹیک نے اس اہم ویکسین میں نہایت کامیاب کردار ادا کیا ہے۔ یہ کمپنی جرمنی میں پناہ لینے والے ترک جوڑے نے قائم کی ہے۔

یہ پڑھیں : امریکی اور جرمن کمپنیوں نے کورونا ویکسین تیار کرلی

جرمن شہر، مینز میں قائم بایونٹیک اس لحاظ سے ایک بڑی کمپنی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے جس نے کورونا ویکسین کے لیے بڑے پیمانے میں طبی آزمائش کی ہے اور اب تک نئی ویکسین 90 فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے اور اس کے کوئی سائیڈ افیکٹ بھی سامنے نہیں آئے۔

اب حال یہ ہے کہ اووَرشاہین اس وقت جرمنی کے 100 امیرترین افراد میں شامل ہیں اور کمپنی کے بورڈ اراکین میں ان کی بیگم بھی شامل ہیں۔ گزشتہ سال بایون ٹیک کے اثاثے 4.6 ارب ڈالر تھی اور گزشتہ ہفتے اس کے حصص 21 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔ یہ جوڑا کینسر کے ابھرتے ہوئے علاج یعنی امیونوتھراپی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : روس کا بھی 90 فیصد مثبت نتائج کی حامل ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ

2008ء میں اس کمپنی کی بنیاد رکھی گئی تھی اور اب تک بہت ترقی کرچکی ہے لیکن اس کے باوجود اووَر انتہائی منکسر المزاج اور سادہ ہیں۔ وہ اہم کاروباری میٹنگ میں سادہ سی جینز پہن کر آتے ہیں اور سائیکل ہیلمٹ پہن کر پشت پر بیگ لٹکائے سائیکل چلاتے نظر آتے ہیں۔

اوور شاہین ڈاکٹر بننا چاہتے تھے اور وہ جرمنی کے شہر کولون کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر بن گئے جہاں ان کی ملاقات اوزلم سے ہوئی۔ یہ دونوں سائنسی تحقیق کے جنونی بھی ہیں اور اپنی شادی کے روز بھی جرمنی کے شہر ہومبرگ کی ایک تجربہ گاہ میں سائنسی تفتیش میں مصروف تھے۔

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خود جسم کے امنیاتی دفاعی نظام کو سرطان سے لڑنے پر نمایاں تحقیق کی ہے اور یوں کینسر امیونو تھراپی کی راہیں ہموار ہوئی ہیں۔

سال 2001ء میں انہوں نے گینی میڈ کے نام سے ادارے کی بنیاد رکھی جہاں کینسر سے لڑنے والی اینٹی باڈیز پر کام آگے بڑھا اور یہی تجربہ کورونا ویکسین سازی میں بھی کام آیا تاہم 2016ء میں یہ کمپنی جاپان کو تقریباً 1.4 ارب ڈالر میں فروخت کردی گئی۔

پھر دونوں نے ایک اور کمپنی بایون ٹیک کی بنیاد رکھی۔ اس مرتبہ شاہین اور اوزلم نے ایم آر این اے ( یعنی پیغام رساں ڈی این اے مالیکیول) کو سرطان سے لڑنے کے لیے استعمال کیا۔ جنوری 2020ء میں چین کے شہر ووہان میں کورونا وبا پھوٹنے کے بعد اوور شاہین نے  ایم آر این اے سے ویکسین بنانے پر کام شروع کردیا۔

’لائٹ اسپیڈ‘ نامی پروجیکٹ کے تحت بایون ٹیک نے 500 ماہرین کے اسٹاف کو تحقیق پر لگا دیا تاکہ کووڈ 19 کے خلاف مؤثر مرکبات (کمپاؤنڈز) بھی تلاش کیے جاسکیں۔ اب اس تمام کاوش کا پھل اس ویکسین کی صورت میں دنیا کے سامنے ہے۔

The post نئی کورونا ویکسین کی تیاری میں ترک جوڑے کا نمایاں کردار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2GKoyMZ

90 فیصد موثر نتائج کی حامل کورونا ویکسین کا کامیاب تجربہ

 نیویارک: کورونا وبا کے تناظر میں ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے جس میں ایک ویکسین کو وسیع پیمانے پر آزمایا گیا ہے اور اس کے 90 فیصد نتائج سامنے آئے ہیں۔

مشہور ادویہ ساز کمپنی فائزر اور بایون ٹیک نے مشترکہ طور پر ایک ویکسین کی وسیع پیمانے پر آزمائش کے نتائج ظاہر کیے ہیں اور اس میں 90 فیصد کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یعنی یہ ویکسین 100 میں سے 90 افراد کو وائرس کے حملے سے بچاسکتی ہے۔

اس کے بعد ایک جانب تو ان کمپنیوں کا شہرہ ہوگیا ہے تو دوسری طرف اب تک 10 لاکھ سے زائد افراد کو ہلاک کرنے والے کووڈ 19 مرض کو لگام دینے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ توقع ہے کہ فائزر اور بایوین ٹیک کی یہ ویکسین سال کے اختتام تک دستیاب ہوسکے گی۔

ویکسین کو کئی ممالک کی آبادی پر بڑے پیمانے پر آزمایا گیا ہے اور تجزیہ کاروں کے توقع کے برعکس اس نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے تاہم یہ اولین ابتدائی تجربات ہے اور ویکسین کی آزمائش اب تک جاری ہے جس کا سلسلہ دسمبر تک چلتا رہے گا۔ اس ماہ کے اختتام تک اس کا تمام سیفٹی ڈیٹا ظاہر کردیا جائے گا یہی وجہ ہے کہ کمپنیاں دن رات ویکسین پر کام کررہی ہیں۔

فائزر کمپنی کے صدر دفاتر نیویارک میں ہیں جبکہ بایوین ٹیک ایک چھوٹی کمپنی ہے جسے جرمنی اور یورپی سرمایہ کاری بینک کی مدد حاصل ہے۔ ان دونوں کمپنیوں نے کہا ہے کہ اب تک اس کے حفاظتی پہلوؤں پر خوش اسلوبی سے کام جاری ہے اور کوئی منفی ضمنی اثرات (سائیڈ افیکٹ) سامنے نہیں آئے ہیں۔ دوسری جانب ریگولیٹری اداروں نے کہا ہے کہ اگر یہ ویکسین 50 فیصد افراد کو بھی تحفظ دے سکے تو اس کی منظوری دے دی جائے گی۔

روسی اسپتنک فائیو ویکسین

دوسری جانب روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی اسپتنک فائیو ویکسین بھی کورونا کی روک تھام میں 90 فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ روس کی وزارتِ صحت کے ترجمان کے مطابق  ویکسین کو ہرطرح سے آزمایا گیا ہے اور اسے مؤثر پایا گیا ہے۔

The post 90 فیصد موثر نتائج کی حامل کورونا ویکسین کا کامیاب تجربہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3pcEb13

خردبینی سوئیوں والی پٹی سے ملیریا کی 20 منٹ میں تشخیص

ہیوسٹن، ٹیکساس: رائس یونیورسٹی کے انجینئروں نے ایک انتہائی باریک اور چھوٹی چھوٹی سوئیوں والی ایک ایسی پٹی (بینڈیج) ایجاد کرلی ہے جو صرف بیس منٹ میں ملیریا کا پتا لگا سکتی ہے، جبکہ اس کےلیے متاثرہ فرد کے جسم سے خون نکالنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہوتی۔

اگرچہ اس وقت بھی ملیریا کے تیز رفتار تشخیصی ٹیسٹ موجود ہیں جو 2 سے 15 منٹ میں نتیجہ دے دیتے ہیں مگر ان سب میں متاثرہ فرد کے جسم سے خون نکال کر خاص طرح کے بڑے اور مہنگے آلات سے جانچنا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ ٹیسٹ خاصے مہنگے بھی ہوتے ہیں۔

ان دونوں مشکلات کی وجہ سے یہ ٹیسٹ اُن دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں ممکن نہیں جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات تک کا فقدان ہے۔

رائس یونیورسٹی میں مکینیکل انجینئرنگ کی پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ فیلو ژوئی جیانگ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر پیٹر بی للیہوج نے ’’خردبینی سوئیوں‘‘ والی یہ تشخیصی پٹی ایجاد کی ہے۔

دیکھنے میں یہ زخم پر چپکانے والی عام پٹی جیسی ہے لیکن اس میں خاص طرح کی 16 عدد باریک باریک سوئیاں یعنی ’’مائیکرو نیڈلز‘‘ نصب ہیں جن میں سے ہر سوئی صرف 375 مائیکرومیٹر چوڑی ہے۔

جب اس پٹی کو کھال پر چپکایا جاتا ہے تو یہ سوئیاں جلد میں معمولی سی دھنس کر، جلد میں موجود مائع کی بہت معمولی مقدار اپنے اندر جذب کرلیتی ہیں۔ سوئیوں کی پشت پر ایک چھوٹی سی ’’ٹیسٹ چپ‘‘ اس مائع کا تجزیہ کرتی ہے اور اس میں ملیریا سے تعلق رکھنے والی اینٹی باڈیز کی موجودگی یا عدم موجودگی کا پتا لگاتی ہیں۔

ملیریا اینٹی باڈیز موجود ہونے کی صورت میں یہ پٹی اپنا رنگ بدل لیتی ہے اور یوں ڈاکٹر کو پتا چل جاتا ہے کہ مریض کو واقعی ملیریا ہے یا نہیں۔

ڈاکٹر ژوئی اور پیٹر کا کہنا ہے کہ اس تشخیصی پٹی کو ان دونوں نے خود پر آزمایا ہے اور انہیں معمولی سی چبھن کے احساس سے زیادہ کچھ نہیں ہوا۔

ملیریا کی یہ تشخیصی پٹی ’’بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن‘‘ کی فنڈنگ سے ایجاد کی گئی ہے جس کے بارے میں ڈاکٹر پیٹر کہتے ہیں کہ اگرچہ ’’ہم نے اسے ملیریا کی تشخیص کےلیے تیار کیا ہے لیکن معمولی ترمیم کے ساتھ یہی ٹیکنالوجی دوسری بیماریوں کی تشخیص میں بھی استعمال کی جاسکے گی کیونکہ کھال کے نیچے موجود جسمانی مائع میں کئی امراض کی اینٹی باڈیز موجود ہوتی ہیں۔‘‘

انہیں امید ہے کہ اگر یہ پٹی بڑے پیمانے پر تیار کی جائے تو اس کی لاگت صرف ایک ڈالر یا اس سے بھی کم رہ جائے گی۔

اس ایجاد کی تفصیلات ’’نیچر پبلشنگ گروپ‘‘ کے تحقیقی جریدے ’’مائیکرو سسٹمز اینڈ نینو انجینئرنگ‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

The post خردبینی سوئیوں والی پٹی سے ملیریا کی 20 منٹ میں تشخیص appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3pdvIuo

Sunday, 8 November 2020

ماحولیاتی آلودگی کم کیجئے، دل صحتمند رکھئے، عالمی ماہرین کی اپیل

لائپزگ، جرمنی: یورپی ہارٹ جرنل میں دنیا کے ممتاز سائنسدانوں کا ایک خط شائع ہوا ہے جس میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ اب عمل کا وقت آگیا ہے کہ ہر قسم کی آلودگی بشمول فضائی آلودگی کو کم کیا جائے تاکہ لوگوں کو قلب کو صحتمند رکھا جائے۔

جرمنی، فرانس، یورپ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے سائنسدانوں نے اپنی رپورٹ میں ناقابلِ تردید شواہد پیش کئے ہیں اور کہا ہے کہ شور اور فضائی آلودگی پوری دنیا میں ہرجگہ موجود ہے اور دل کے لیے انتہائی مضر ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

اس سے قبل تحقیقات بتاتی ہیں کہ پوری دنیا میں فضائی آلودگی قبل ازوقت 90 لاکھ اموات کی وجہ بن رہی ہے جو تمباکو نوشی جیسی مضر ہے۔ اس کے علاوہ صوتی آلودگی اور شور سے دماغی و جسمانی امراض جنم لے رہے ہیں۔اس وقت دنیا کی 90 فیصد آبادی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تحت ماحولیاتی آلودگی میں رہ رہی ہے۔ فضا میں اس آلودگی کی شرح 10 مائیکروگرام فی مربع میٹر ہے جو صحت کے لیے خوفناک اور مضر ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ میں میں یہ شرح 25 مائیکروگرام فی مربع میٹر ہے جو عالمی ادارے کی حدود سے بھی ڈھائی گنا زائد ہے۔ اگر اسے قابو کرلیا جائے تو صرف یورپ میں ہی ہر سال چار سے پانچ لاکھ افراد کو مرنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ تاہم ترقی پذیراور غریب ممالک میں فضائی آلودگی نہایت گھمبیر اور تباہ کن ہے۔

اب یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ گندی ہوا میں سانس لینا ذیابیطس، فالج اور دیگر امراض کو بھی بڑھاتا ہے۔ اس ضمن میں سب سے بڑی ذمے داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر ممکن طور پر قوانین کو سخت بنائیں تاکہ فضا میں آلودگی کی شرح کم کی جاسکے۔

اگر اس وقت برقی کاروں کو لایا جائے تب بھی بہت کم فرق ہوگا کیونکہ بڑی سواریاں پیٹرول اور ڈیزل پر ہی چل رہی ہیں۔ دوسری جانب ماہرین نے یہ زور بھی دیا ہے کہ غریب ممالک میں بڑی عوامی ٹرانسپورٹ اسکیموں کو متعارف کرایا جائے۔

The post ماحولیاتی آلودگی کم کیجئے، دل صحتمند رکھئے، عالمی ماہرین کی اپیل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3n6KNfq

Saturday, 7 November 2020

ڈپریشن کے علاج میں ’’جادوئی کھمبی‘‘ دوسری دواؤں سے 400 فیصد بہتر ہے، تحقیق

میری لینڈ، امریکا: ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید ڈپریشن کے علاج میں ’’سائیلوسائیبن‘‘ نام کا ایک مرکب موجودہ دواؤں سے 400 فیصد زیادہ بہتر اور مؤثر پایا گیا ہے۔ یہ ’جادوئی کھمبی‘ یا ’سائیلوسائیبن مشروم‘ کہلانے والی کھمبیوں میں پایا جانے والا مخصوص مرکب ہے۔

ویسے تو سائیلوسائیبن (psilocybin) کا شمار منشیات میں کیا جاتا ہے لیکن حالیہ چند برسوں کے دوران اسے مریضوں میں تشویش اور ڈپریشن جیسی کیفیات بھی ختم کرنے میں بھی مؤثر پایا گیا ہے، جس کے بعد اسے شدید ڈپریشن کے علاج میں باقاعدہ آزمانے کا فیصلہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ ایسا شدید ڈپریشن جو کم از کم دو طرح کی اینٹی ڈپریسنٹ دوائیں دینے پر بھی ختم نہ ہو، اسے طبّی زبان میں ’’ایم ڈی ڈی‘‘ یعنی ’’میجر ڈپریسیو ڈس آرڈر‘‘ کہا جاتا ہے۔

اس کیفیت میں مریض شدید ترین مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ وہ بار بار خودکشی کی کوششیں بھی کرنے لگتا ہے۔ ڈپریشن کی یہ کیفیت بعض مرتبہ اتنی خطرناک ہو جاتی ہے کہ عام اینٹی ڈپریسنٹس (ڈپریشن کی عام دواؤں) سے بھی ختم نہیں ہوتی۔

جان ہاپکنز اسکول آف میڈیسن میں کی گئی مذکورہ تحقیق کا مقصد بھی ’’ایم ڈی ڈی‘‘ کے علاج میں سائیلوسائیبن کی اثر پذیری جانچنا تھا۔ اس ضمن میں پہلے مرحلے کی طبی آزمائشیں کامیاب ہوچکی تھیں، جس کے بعد ایف ڈی اے کی منظوری سے طبّی آزمائشوں کا مرحلہ شروع کیا گیا جس میں 27 مریض شریک کیے گئے جن میں ایم ڈی ڈی کی تمام علامات موجود تھیں۔

تمام مریضوں کو دو ہفتے کے فرق سے سائیلوسائیبن کی صرف دو خوراکیں دی گئیں جبکہ اس دوران کاؤنسلنگ یا اس جیسے دوسرے مشاورتی طریقوں سے ان میں ڈپریشن کی شدت کم کرنے کی کوششیں جاری رکھی گئیں۔

مزید چار ہفتے گزر جانے کے بعد ان تمام مریضوں کا ایک بار پھر تفصیلی معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ان میں سے 24 مریضوں نے تعاون کرتے ہوئے مطالعہ مکمل کیا تھا جبکہ 3 مریضوں نے درمیان ہی میں مطالعہ سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

ان 24 میں سے 17 مریضوں میں ایم ڈی ڈی کی علامات 50 فیصد کم ہوچکی تھیں اور وہ خود کو پہلے سے کہیں بہتر محسوس کررہے تھے۔

طبّی تحقیقی جریدے ’’جاما سائکیاٹری‘‘ کے تازہ شمارے میں اس مطالعے کی تفصیلات اور نتائج شائع ہوئے ہیں جو بہت امید افزا ہیں۔

اب سائیلوسائیبن سے ڈپریشن کے علاج کی تیسری اور حتمی طبّی آزمائش کی تیاری بھی شروع کردی گئی ہے۔ امید ہے کہ قانونی منظوری کے بعد تیسرے مرحلے کی طبّی آزمائشیں بھی اگلے سال کسی بھی وقت شروع کردی جائیں گی۔

اگر یہ دوا اِن آزمائشوں میں بھی اتنی ہی کارآمد اور مفید ثابت ہوئی تو امید ہے کہ 2024 تک یہ مارکیٹ میں دستیاب ہو جائے گی۔

The post ڈپریشن کے علاج میں ’’جادوئی کھمبی‘‘ دوسری دواؤں سے 400 فیصد بہتر ہے، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2IfgCUe

وٹامنز سے بھرپور غذائیں

مشہور محاورا ہے کہ جان ہے تو جہان ہے۔ جان بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ایسی خوراک استعمال کی جائے جو کہ نا صرف غذائیت بخش ہو بلکہ خوش ذائقہ بھی ہو اور وہ اپنے اندر وہ تمام اجزاء لئے ہو جو جسم کی نشوونما میں معاون ثابت ہوں۔اس ضمن میں وٹامنز کا استعمال ناگزیر ہے۔

وٹامنز وہ مادے ہیں جو کہ جسم کے خلیوں کی کارکردگی، بالیدگی اور نشوونما کے ذمے دار ہوتے ہیں۔ یہ نا صرف جسم کو کام کرنے کی صلاحیت بخشتے ہیں بلکہ بیماریوں سے لڑنے کے لئے قوتِ مدافعت بھی فراہم کرتے ہیں۔ان کا استعمال انسان میں طاقت پیدا کرتا ہے جو کہ معمولاتِ زندگی کی انجام دہی کہ لئے درکار ہوتی ہے،لیکن کیاآپ کویہ بات معلوم ہے کہ وٹامنز کن غذائوں میں پائے جاتے ہیں؟

آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ وہ کونسی غذائیں ہیں جن میں وٹا منز کی بنیادی طور پر چودہ اقسام ہیں جیسے کہ k, e, d, c, b12,b9, b6, b5,b3, b2,b1,b,a وغیرہ گو کہ کچھ وٹا من چکنائی میں جذب ہوتے ہیں اور ان میں سبزیوں سے زیادہ وٹا منز ملتے ہیں جیسے کہ گوشت‘ تیل اور ڈیری مصنوعات۔

پھلیاں
تمام پھلیوں میں ہمہ جہت غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جس میں سبزیاں اور پروٹین شامل ہیں۔ پھلیوں میں لوفیٹ پروٹین پائے جاتے ہیں جس کے ساتھ فائبر اور غذائی اجزاء موجود ہیں جو کہ ذیابتس‘ امراض قلب اور مخصوص اقسام کے کینسر کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ پھلیوں کو اپنی غذاء کے طور پر استعمال کرنے کا بہترین طریقہ تو انہیں سلاد کی زینت بنانا ہے لیکن اس کو سالن اور سوپ کی شکل میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ جیسے لوبیے کا سالن‘ چنے وغیرہ

دہی
نرم‘ لذیز اور گاڑہا دہی پروٹین‘ پوٹاشیم ا ور کیلشیم کا مرقع ہوتا ہے۔ دہی اپنی ذات میں خود اینٹی باؤٹک کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے اندر پائے جانے والے غذائی اجزاء ہڈیوں کی مضبوطی‘ نظام ہضم کی فعالیت اور مدافیاتی نظام کو قوی بناتے ہیں۔ دہی کو استعمال کرنے کا بہترین طریقہ اسے سلاد یا پھر چٹنی کی زینت بنانا ہے۔ میٹھا دہی بھی افادیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ خصوصاً ناشتے میں دہی لینا معدے کے لئے بہترین غذا ہے۔

شکر قندی
بے پناہ غذائیت رکھنے والی غذائوں میں سے ایک شکر قندی ہے خاص طور پر اس صورت میں جب اس کو چھلکے سمیت استعمال کیا جائے۔ شکر قندی پوٹاشیم سے بھرپور ہوتی ہے اور وٹا من اے سے بینائی کو تقویت پہنچاتی ہے۔ سب سے اہم چیزیہ ہے کہ اس میں فیٹس نہیں ہوتے جو کہ کو لیسٹرول بڑھاتے ہیں۔ مزید دارلذیز شکر قندی میں کیلریز کی مقدار بھی قدرے کم ہوتی ہے۔ انہیں اپنی خوراک میں شامل کرنے سے ذہن اور جسم کو بھرپور غذائیت ملتی ہے۔

مونگ پھلی
مونگ پھلیمیں پائی جانے والی پروٹین جسم میں پٹھوں کو مضبوط بنانے کا کام کرتی ہے۔ اس میں موجودحرارے دل کی صحت کے لئے مفید ثابت ہوئے ہیں۔ یہ دل کی بیماریوں کو حملہ آور ہونے سے روکنے کا کام دیتی ہے اور ذیابتیس کے مرض کے علاج میں بھی معاونت فراہم کرتی ہے۔ مونگ پھلی کو چھلکے کے ساتھ کھانا بہترین ہے۔

سٹابری
موسم گرما کی پسندیدہ ترین سوغات سٹابری صرف ذائقے میں ہی لذیز نہیں ہوتی بلکہ یہ وٹا من سی حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہوتی ہے۔ جس سے آپ کی جلد پر چمک پیدا ہوتی ہے۔ یہ نظام انہظام کو فعال بناتی ہے اور دانتوں کے ساتھ ساتھ ہڈیوں کو مضبوطی بخشتی ہے۔ اس میں موجود فلیونائڈ نا صرف ذہنی صحت کے لئے بہترین ہوتے ہیں بلکہ بریسٹ کینسر اور پروسٹیٹ کینسر سے لڑنے میں مدد دیتی ہے۔ تازہ سٹابریز انتہائی فائدہ مند ہیں۔ انہیں چاکلیٹ یا پھر فورٹ چاٹ کے اندر ڈال کر کھانا ایک زردست تجربہ ہے۔

کھمبیاں
کھمبیاں اپنے اندر کینسر جیسے موذی مرض سے لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور صحت کے لئے بے انتہا افادیت بخش ثابت ہوتی ہیں۔ یہ اپنے اندر وٹا من ڈی کا بہترین ذخیرہ رکھنے کے ساتھ ساتھ پوٹاشیم اور کاپر سے بھی لیس ہوتی ہیں جو کہ دل کی دھڑکن کی فعالیت اور خون کے سرخ خلیوں کے لئے تشکیل نو کا کام دیتے ہیں۔

انناس
وٹا من سی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہونے کے ساتھ انناس میں منرلز‘ فائبر اور وٹامن بی بڑی تعداد میں موجود ہوتا ہے۔ یہ انزائمز کے حصول کا بھی بہترین ذریعہ ہوتے ہیں۔ انناس کے استعمال سے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر اسے روزانہ اپنی خوراک کا حصہ بنا لیا جائے تو افادیت کے ساتھ کینسر کے بچاؤ میں بھی معاونت فراہم کر سکتا ہے۔

پستہ
یہ لزیز ہی نہیں بلکہ صحت بخش غذاء بھی ہے اس میں وٹا من بی e-6 پوٹا شیم میگنشم اور فائبر بھی موجود ہے جو کہ ایک مکمل غذائیت بخش غذا کے تمام اجزا پر مشتمل ہے۔ یہ انفکیشنز کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والے سیلز کی مرمت کا کام خوش اسلوبی سے سرانجام دیتا ہے۔ ٹائپ 2 زیابتیس اور دل کی بیماریوں میں اس کا استعمال مفید ہوتا ہے۔

سورج مکھی
چھوٹے چھوٹے بیجوں میں بے پناہ قوت اور طاقت ہوتی ہے۔ ان میں Monossnsaturaledاور Polyuasatuoated حرارے ہوتے ہیں جو کہ دل کی بیماریوں سے بچاتے ا ور بلڈ فشار خون کو روکتے ہیں۔ ان بیجوں کو سلاد اوردیگر اجزاء کے ساتھ ملا کر کھانے سے دل کی بیماریوں اور کینسر کے حملے سے بچاؤ کے امکانات کم کئے جا سکتے ہیں۔

پاپ کون
عموماً سنکیس کی شکل میں استعمال کئے جانے والے پاپ کون کو ہم صرف چسکا ہی سمجھتے ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے یہ مکی کے دانوں سے بنتے ہیں جو کہ انتہائی صحت بخش ہیں اور ایک پاؤ میں صرف 30کیلیریز کے ساتھ فائبر ‘ پروٹین و ٹا منز اور منرلز موجود ہوتے ہیں اور اس میں موجود اینٹی اکیسڈینٹس جسم کو کینسر سے حفاظتی ڈال دیتے ہیں۔

انڈے
یقینا سب لوگ ناشتے میں انڈے کو آملیٹ یا ابلی ہوئی شکل میں لینا پسند کرتے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ شایدیہ نہیں جانتے کے انڈوں میں وٹا من بی 2‘ بی 5اور b12 کے ساتھ ساتھ وٹا من d کی بڑی مقدار بھی پائی جاتی ہے۔ اس امر سے قطع نظر کے انڈوں میں بڑی مقدار میں کولسٹرول پایا جاتا ہے یہ مناسب مقدار میں کھانا دل کے لئے مفید ہیں۔

مٹر
ہرے ہرے گول مٹول دانوں والے مٹروں میں وٹا من A‘B1 اور بیٹا کیروٹائین موجود ہوتے ہیں جوہ آنکھوں کی تندرستی میں مدد دیتے ہیں اور جسم کے لئے پروٹین کا ایک بہترین ذریعہ بھی ثابت ہوتے ہیں۔

ڈرائی فروٹ
ڈرائی فروٹ کسے پسند نہیں۔ مگر صرف پسند کی نظر سے نہیں بلکہ غذائیت کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ قدرت کا بہترین تحفہ ہیں ان میں وٹا میں اے‘ وٹا من بی 6 ‘ وٹا من K اور بیٹا کروٹائین موجود ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایک دن میں ایک مٹھی سے زائد مقدار نہیں لینی چاہئے۔

کینو
پاکستان میں سردیوں کی سوغات کی بات کی جائے تو کینو کا نام سرفہرست آتا ہے۔یہ وٹا من سی سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ناصرف ڈائقے بلکہ خوشبو میں بھی کسی کا ثانی نہیں رکھتے انہیں کھانے سے جلد نکھرتی ہے اور خون صاف ہوتا ہے۔

The post وٹامنز سے بھرپور غذائیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Idnguc

Friday, 6 November 2020

’عکسی ہاتھوں‘ کی عجیب کیفیت کا پہلا مریض سامنے آگیا

 لندن: دنیا میں ایک کمیاب ترین مرض ایسا ہے جب مریض ایک ہاتھ ہلاتا ہے تو عین اسی انداز میں دوسرا ہاتھ بھی ہلتا ہے۔ ایسے مریض زندگی میں پیانو بجانے، ٹائپنگ کرنے اور دیگر امور انجام دینے سے قاصر رہتے ہیں کیونکہ کی بورڈ پر جو انگلی پڑے گی دوسرا ہاتھ بھی اس کی نقل کرتے ہوئے عین وہی کی دبائے گا۔

اب بھارت کی ایک 19 سالہ بچی اس حال میں دیکھی گئی ہے جو پوری دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد اور نایاب واقعہ بھی ہے۔ اس کیفیت کو ’عکسی حرکات‘ (مِرر موومنٹ) کا نام دیا گیا ہے کیونکہ ایک ہاتھ کی حرکت کا ہوبہو انداز دوسرے ہاتھ کا ہوتا ہے۔ لیکن یہی لڑکی ایک اور کیفیت کی بھی شکار ہے جسے ٹرنر سنڈروم کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ کیفیت اس وقت سامنے آئی تھی جب نامعلوم بچی کی عمر 13 برس تھی لیکن اب چھ برس بعد اس میں ٹرنر سنڈروم کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

اس طرح دونوں نقائص میں مبتلا یہ پہلا کیس بھی ہے کیونکہ بھارت کی 13 سالہ لڑکی ایک جانب ٹرنر سنڈروم کی شکار ہے تو دوسری جانب مرر موومنٹ بھی رکھتی ہے۔ اب چاہے وہ ایک ہاتھ سے چٹکی بجائے، اسے لہرائے، بند کرے یا کھولے دوسرا ہاتھ بھی عین یہی کرتا ہے۔ یعنی ایک ہاتھ کی گونج دوسرے ہاتھ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن دس لاکھ بچوں میں سے ایک ہی مرر سنڈروم میں مبتلا ہوتا ہے۔ اگر وہ ایک ہاتھ سے فتح کا نشان بنائے تو دوسرے ہاتھ کی انگلیاں کھل کر فتح کو ظاہر کرتی ہیں۔ خیال ہے کہ اس میں دماغ کے ایک حصے کے اعصاب دماغٰ کے دوسرے نصف حصے کے اعصاب سے بات کرتے ہیں اور یوں ان کی حرکات یکساں ہوجاتی ہیں۔

دوسری توجیہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو دماغ ایک جیسی ہدایت دیتا ہے اور دونوں دماغ کا حکم ماننے پر مجبور ہوتے ہیں۔ لیکن سائنسدانوں کا اتفاق ہے کہ ابھی اس مرض کو مزید سمجھنا ہوگا۔ تاہم سیریبرل پالسی کے کچھ مریضوں میں ہلکی نوعیت کی عکسی کیفیت ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب ٹرنر سنڈروم میں جسمانی ہارمون کے برتاؤ کے درمیان رابطہ نہیں رہ پاتا ہے۔ اس بچی کے دل میں بھی کچھ تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ مثلاً دل کے ایک والو (اورٹک والو) میں دو کے بجائے تین پردے ہیں۔ نیچے ویڈیو میں اسے دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کس طرح انگلیوں پر شمار کررہی ہیں اور آرام کی کیفیت میں سیدھے ہاتھ میں بھی وہی حرکات پیدا ہورہی ہیں۔

The post ’عکسی ہاتھوں‘ کی عجیب کیفیت کا پہلا مریض سامنے آگیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/32oMzkm

Thursday, 5 November 2020

جسمانی جلن کم کرنے والی غذائیں فالج اور امراضِ قلب کو روک سکتی ہیں

ہارورڈ: ہمارے دسترخوان پر بعض غذائیں ایسی ہیں جو جسم میں اندرونی جلن ( انفلیمیشن) کو بڑھاتی ہیں۔ ایسی غذائیں بلڈ پریشر، فالج اور امراضِ قلب کو بڑھا سکتی ہیں۔ دوسری جانب ایسی سستی غذائیں بھی ہیں جو اندرونی سوزش کم کرتی ہیں اور ان کا باقاعدہ استعمال کئی امراض سے محفوظ رکھا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق بتاتی ہے کہ اگر اندرونی سوزش بڑھانے والی غذاؤں کا استعمال جاری رکھا جائے تو نہ کھانے والوں کے مقابلے میں فالج کا خطرہ 28 فیصد اور امراضِ قلب کا خطرہ 46 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ شکر، مٹھائیاں، بیجوں کے تیل، کیمیائی عمل سے گزارا گیا بالخصوص سرخ گوشت، فاسٹ فوڈ، شراب نوشی، سیر شدہ چکنائیاں، سافٹ ڈرنکس جسم میں اندرونی جلن کو بڑھاتی ہیں جبکہ انڈہ، کیلا، ٹماٹر، ہرے پتے والی سبزیاں مثلاً پالک، بادام، مغزیات اور گریاں، اسٹرابری اور اس نسل کے پھل اور دیگراجزا سوزش کم کرتی ہیں۔

امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے دو لاکھ افراد کی تاریخ، غذائی عادات اور ان میں جلن کی وجہ بننے والے تین اہم بایومارکرز پر غور کیا ہے۔ تمام افراد کا کئی عشرے تک جائزہ لیا جاتا رہا تھا۔ اس طرح یہ پہلا مطالعہ ہے جس میں غذا اور انفلیمیشن کے درمیان تعلق پر تفصیلی غور کیا گیا ہے۔

اس مطالعے میں غذاؤں کو 18 درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ان میں جلن والی اور جلن کم کرنے والی غذائیں بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب  ماہرین نے اندازہ لگایا کہ مستقل ایسی غذائیں کھانے سے فالج اور امراضِ قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ جسمانی سوزش کسی نہ کسی سنگین خرابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے اور اب اس کے اور خطرناک امراض کے درمیان تعلق بھی دریافت ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین مفید غذاؤں پر زور دیتے آئے ہیں۔

The post جسمانی جلن کم کرنے والی غذائیں فالج اور امراضِ قلب کو روک سکتی ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2IdASWb

Speeding COVID-19 Drug Discovery with Quantum Dots

Credit: Ethan Allen and Alan Hoofring/NIH Medical Arts These round, multi-colored orbs in the illustration above may resemble SARS-CoV-2, the coronavirus responsible for COVID-19. But they’re actually lab-made nanocrystals called quantum dots. They have been specially engineered to look and, in some ways, act like the coronavirus while helping to solve a real challenge for many labs that would like to study SARS-CoV-2. Quantum dots, which have been around since the mid-1980s, are designed with special optical properties that allow them to fluoresce when exposed to ultraviolet light. The two pictured here are about 10 nanometers in diameter, about 3,000 times smaller than the width of a human hair. The quantum dot consists of a semi-conductive cadmium selenide inner core (orange) surrounded by a zinc sulfide outer shell (teal). Molecules on its surface (yellow) allow researchers to attach the viral spike protein (purple), which SARS-CoV-2 depends on to infect human cells. To the left is a human cell (gray) studded with the ACE2 receptors (blue) that those viral spike proteins bind to before SARS-CoV-2 enters and infects our cells. In the background, you see another spike protein-studded quantum dot. But human neutralizing antibodies (pink) are preventing that one from reaching the human cell. Because SARS-CoV-2 is so highly infectious, basic researchers without access to specially designed biosafety facilities may be limited in their ability to study the virus. But these harmless quantum dots offer a safe workaround. While the quantum dots may bind and enter human cells just like the virus, they can’t cause an infection. They offer a quick, informative way to assess the potential of antibodies or other compounds to prevent the coronavirus from binding to our cells. In work published in the journal ACS Nano, a team that included Kirill Gorshkov, NIH’s National Center for Advancing Translational Sciences (NCATS), Rockville, MD, along with Eunkeu Oh and Mason Wolak, Naval Research Laboratory, Washington, D.C., demonstrated how these quantum dots may serve as a useful new tool to speed the search for new COVID-19 treatments. The dots’ fluorescent glow enabled the researchers to use a microscope to observe how these viral mimics bind to ACE2 in real time, showing how SARS-CoV-2 might attach to and enter our cells, and suggesting ways to intervene. Indeed, imagine thousands of tiny wells in which human cells are growing. Imagine adding a different candidate drug to each well; then imagine adding the loaded quantum dots to each well and using machine vision to identify the wells where the dots could not enter the cell. That’s not science fiction. That’s now. With slightly different versions of their quantum dots, the NCATS researchers and their colleagues at the Naval Research Laboratory will now explore how other viral proteins are important for the coronavirus to infect our cells. They also can test how slight variations in the spike protein may influence SARS-CoV-2’s behavior. This work provides yet another stunning example of how scientists with widely varying expertise have banded together—using all the tools at their disposal—to forge ahead to find solutions to COVID-19. Reference: [1] Quantum dot-conjugated SARS-CoV-2 spike pseudo-virions enable tracking of angiotensin converting enzyme 2 binding and endocytosis. Gorshkov K, Susumu K, Chen J, Xu M, Pradhan M, Zhu W, Hu X, Breger JC, Wolak M, Oh E. ACS Nano. 2020 Sep 22;14(9):12234-12247. Links: Coronavirus (COVID-19) (NIH) I Am Translational Science: Kirill Gorshkov (National Center for Advancing Translational Sciences/NIH) U. S. Naval Research Laboratory (Washington, D.C.) NIH Support: National Center for Advancing Translational Sciences

Post Link

Speeding COVID-19 Drug Discovery with Quantum Dots

NIH Blog Post Date



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/3n1tsEV

Wednesday, 4 November 2020

پاکستان میں ملیریا پھیلانے والے مچھر کی جینیاتی انجینئرنگ

برکلے، کیلیفورنیا:  امریکی ماہرین نے ایک ایسے مچھر کو جینیاتی انجینیئرنگ سے گزارا ہے جو پاک و ہند میں ملیریا پھیلاتا ہے۔ مچھر کو جدید ترین کرسپر سی اے ایس 9 ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیل کیا گیا جس کے بعد وہ مرض پھیلانے کے قابل نہیں رہتے۔

ماضی میں بڑے پیمانے پر جینیاتی انجینیئرنگ کے ذریعے مچھروں کی نسل کشی اور بیماری پھیلانے کی صلاحیت روکی گئی ہے تاہم اس مرتبہ کرسپر سی اے ایس 9 کی بدولت پاکستان اور ہندوستان میں ملیریا کی وجہ بننے والے مشہور مچھر اینوفیلس اسٹیفنسائی کے کروموسوم میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس کے بعد وہ ملیریا کی وجہ بننے والے طفییلیے کو مزید پھیلانے سے قاصر رہتے ہیں۔

اس عمل کو ’آبادی میں تبدیلی‘ یا پاپولیشن‘ موڈی فکیشن بھی کہاجاتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے، یوسی ایل اِرون، اور یوسی ایل سان دیاگو کے ماہرین نے ایسے جینیاتی مچھر بنائے ہیں جو ملیریا نہیں پھیلاسکتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے جیسے مادہ مچھر مزید انڈے دیتی ہے تو اگلی نسلوں میں بھی ملیریا پھیلانے کے صلاحیت مزید مضبوط ہوتی جاتی ہے۔

اس تحقیق کے مرکزی سائنسداں پروفیسر اینتھونی جیمز کہتے ہیں کہ ’سیکنڈ جنریشن جین ڈرائیو سسٹم‘ میں بہت سے جین دیکھے گئے ہیں جنہیں سلا کر مچھروں کی نسل خیزی اور مرض بڑھانے کی صلاحیت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عین اسی طریقے سے حشرات کو بدل کر لیشمینیا، سلیپنگ ڈیزیز اور دیگر امراض کو قابو کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی پاکستان اور ہندوستان میں ملیریا کی بڑی وجہ بننے والے ایک مچھر اینوفیلس اسٹفینسائی کو مرض سے پاک کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ تاہم نر مچھروں میں ان کی افادیت دیکھی گئی اور اگلی نسل تک اس کا پھیلاؤ 99 فیصد تک دیکھا گیا لیکن مادہ میں کم تھا۔

اس کمی کو دور کرنے کے لیے مزید تحقیق کی گئی اور اس میں کامیابی ملی۔ یعنی مادہ مچھر نے بیماری نہ پھیلانے والے خواص اگلی نسلوں میں بھی منتقل کئے ۔ سائنسداں پر امید ہیں کہ بہت جلد اسے ماحول میں موجود مچھروں پر آزمایا جائے گا کیونکہ اب یہ ٹیکنالوجی عملی آزمائش کے لیے تیار ہے۔

The post پاکستان میں ملیریا پھیلانے والے مچھر کی جینیاتی انجینئرنگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3n6m1ML

کورونا 2 سال رہے گا، بس احتیاط، ویکسین 2 ماہ میں آجائیگی، ایکسپریس فورم

 لاہور: کورونا کی دوسری لہر آ نہیں رہی، آگئی ہے جو پہلے سے زیادہ تشویشناک اور مہلک ہوسکتی ہے لہٰذا احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمدکرنا ہوگا۔

کورونا کا واحد حل ویکسین ہے، الحمدللہ! پاکستان ان 28 ممالک میں شامل ہے جہاں اس کا کامیاب ٹرائل جاری ہے، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں لوگوں کی بلامعاوضہ ویکسینیشن کی جارہی ہے، امید ہے آئندہ دو ماہ میں یہ ویکسین کمرشل بنیادوں پر مارکیٹ میں دستیاب ہوگی،لاک ڈاؤن کے بجائے مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن ہوگا، کاروبار کے اوقات کم نہیں کیے جائیں گے تاہم ’’ایس او پیز‘‘ پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائیگا۔

ان خیالات کا اظہار حکومت، بزنس کمیونٹی و سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ماہرین صحت نے ’’کورونا وائرس کی دوسری لہر اور ہماری ذمے داریاں‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔

ترجمان پنجاب حکومت و چیئرپرسن اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ پنجاب اسمبلی مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ لوگ کورونا وبا سے آگاہ ہیں،اگر احتیاط نہ کی گئی تو خدانخواستہ حالات بگڑ سکتے ہیں، کاروبار کے اوقات کم کرنا حل نہیں ہے۔

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ کورونا وائرس تقریباً دو سال رہے گا، اس کا واحد حل صرف ویکسین ہے، جب تک 30 سے 40 فیصد لوگوں کی ویکسی نیشن نہیں ہوجاتی، تب تک خطرہ رہے گا۔

نمائندہ سول سوسائٹی شاہنواز خان نے کہاکہ کورونا کا خوف ختم ہوگیا اور اب لوگ بالکل احتیاط نہیں کر رہے، پاکستان غریب ملک ہے ، ہم لاک ڈاؤن کی طرف بھی نہیں جاسکتے، نمائندہ بزنس کمیونٹی راجہ حسن اختر نے کہاکہ ہر دکان کے باہر کورونا کے حوالے سے احتیاتی تدابیر کا نوٹس لگا ہے۔

The post کورونا 2 سال رہے گا، بس احتیاط، ویکسین 2 ماہ میں آجائیگی، ایکسپریس فورم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/32egk74

کان کا میل، ڈپریشن کا ٹیسٹ بن سکتا ہے

 لندن: وہ دن دور نہیں جب کان کے میل جیسی شے کو ذہنی تناؤ اور ڈپریشن میں کلیدی حیثیت حاصل ہوجائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا جسم ڈپریشن کی صورت میں ایک ہارمون ’کارٹیسول‘ خارج کرتا ہے اور یہ کارٹیسول کان کے میل میں جمع ہوکر ہمیں مرض کی شدت سے آگاہ کرسکتا ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس طرح ذہنی دباؤ اور اس سے وابستہ امراض کو شناخت کرنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کی اہمیت یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ کان کے میل کو دیکھ کر ذیابیطس اور کووڈ 19 کے خلاف اینٹی باڈیز کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کی بڑی مقدار کان کے میل میں جمع ہوتی رہتی ہے۔

سائنسداں پرامید ہیں کہ اس طرح کسی ماہر کی نگرانی کے بغیر بھی کان کے میل کا ٹیسٹ گھر بیٹھے انجام دیا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن میں اعصابی علوم کے ماہر ڈاکٹر اینڈرس ہیران وائیوز اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ ہے اگرچہ کارٹیسول کے لیے خون، تھوک اور پیشاب کے ٹیسٹ عام ہیں لیکن ان سے تھوڑے وقفے کے لیے ڈپریشن کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ کان کا ٹٰیسٹ بہت آسان ہے اور کوئی بھی اسے آسانی سے انجام دے سکتا ہے۔

اگرچہ ابھی وسیع پیمانے پر انسانی آزمائش کی ضرورت ہے لیکن اس سے کارٹیسول اور ڈپریشن کی پیمائش میں انقلاب آجائے گا اور اس سے کروڑوں افراد میں مرض کی تشخیص اور بہتر علاج میں مدد ملے گی۔ خون اور تھوک وغیرہ میں کارٹیسول کی سطح کم یا زیادہ ہوسکتی ہے لیکن کان کے میل میں ان کی مقدار برقرار رہتی ہے اور یوں کم خرچ طریقے سے تناؤ کا درجہ معلوم کیا جاسکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر ہیران نے ایک آلہ بھی بنایا ہے جو کان صاف کرنے والی روئی لگی تیلی جیسا ہے۔ لیکن اس میں ایک رکاوٹ ہے جو آلے کو کان میں مزید اندر تک جانے نہیں دیتی۔ اس کے کنارے پر نامیاتی محلول ہے جو کان سے نمونے لیتا ہے۔

اس کے بعد جرمنی، برطانیہ اور چلی میں اسے آزمایا گیا اور 37 مطالعات کئے گئے۔ اس دوران بال اور خون کے ڈپریشن ٹیسٹ بھی جمع کئے گئے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ان دونوں کے مقابلے میں کارٹیسول کی بڑی مقدار کان میں ہی موجود ہوتی ہے۔ اس طرح یہ کم خرچ طریقہ ڈپریشن کی شناخت اور علاج میں انقلابی تبدیلی کی وجہ بن سکتا ہے۔

The post کان کا میل، ڈپریشن کا ٹیسٹ بن سکتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/34U5Prm

Tuesday, 3 November 2020

دماغ کو قابو میں رکھنا ہے تو پوری نیند لیجیے!

یارک شائر: ماہرینِ نفسیات نے دریافت کیا ہے کہ اگر انسان کی نیند پوری نہ ہو یا وہ کسی بھی وجہ سے بے خوابی کا شکار ہو تو اس کے دماغ میں الٹے سیدھے اور ناپسندیدہ خیالات ابھرتے رہتے ہیں جنہیں کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ البتہ، اگر پوری نیند لی جائے تو انسان اپنے دماغ پر، اور دماغ میں آنے والے بے تُکے خیالات پر قابو پا سکتا ہے۔

ریسرچ جرنل ’’کلینیکل سائیکالوجیکل سائنسز‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی یہ تحقیق برطانیہ کی یارک یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات میں مارکس ہیرنگٹن کی نگرانی میں کی گئی ہے۔

یہ جاننے کےلیے کہ انسانی دماغ اور خیالات پر نیند پوری نہ ہونے کے اثرات کیا اور کس نوعیت کے ہوتے ہیں، انہوں نے 60 صحت مند رضاکار بھرتی کیے جنہیں مساوی تعداد کے دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا: ایک گروپ میں وہ افراد تھے جنہوں نے پوری نیند لی تھی جبکہ دوسرے گروپ میں شامل رضاکاروں کو نیند پوری ہونے سے پہلے ہی جگا دیا گیا۔

اس کے فوراً بعد دونوں گروہوں میں شامل افراد کی کچھ نفسیاتی آزمائشیں کی گئیں جن کا مقصد یہ جاننا تھا کہ انہیں اپنے خیالات پر کس حد تک قابو ہے۔

آزمائشوں سے معلوم ہوا کہ جن رضاکاروں نے پوری نیند لی تھی، وہ اپنی سوچ اور خیالات پر قابو پانے میں بہتر طور پر کامیاب رہے تھے۔

ان کے برعکس، وہ رضاکار جنہیں نیند پوری کیے بغیر ہی جگا دیا گیا تھا، ان کا اپنے دماغ پر کنٹرول خاصا کمزور ہوگیا تھا جبکہ ان کے ذہنوں میں الٹے سیدھے، بے ہنگم اور ناگوار خیالات کا غلبہ ہوچکا تھا۔

یہ تحقیق بطورِ خاص صدمے کے بعد پیدا ہونے والے نفسیاتی اور اعصابی تناؤ کی وضاحت کرتی ہے جس میں کوئی انسان بار بار ایک ہی چیز کے بارے میں سوچتا ہے اور اس کے اپنے ہی خیالات اس کے قابو میں نہیں رہتے۔ یہ اور اس طرح کے تمام نفسیاتی مریضوں کےلیے پوری نیند لینا ایک کارگر علاج ثابت ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر ہیرنگٹن کہتے ہیں پوری نیند لے کر نہ صرف کئی طرح کے نفسیاتی امراض سے بچا جاسکتا ہے بلکہ ذہنی بیماریوں کے علاج میں مدد بھی لی جاسکتی ہے۔

The post دماغ کو قابو میں رکھنا ہے تو پوری نیند لیجیے! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2JDkC1L

Face Coverings Could Save 130,000 American Lives from COVID-19 by March

Credit: Diane Baker The coronavirus disease 2019 (COVID-19) pandemic has already claimed the lives of more than 230,000 Americans, the population of a mid-sized U.S. city. As we look ahead to winter and the coming flu season, the question weighing on the minds of most folks is: Can we pull together to contain the spread of this virus and limit its growing death toll? I believe that we can, but only if each of us gets fully engaged with the public health recommendations. We need all Americans to do the right thing and wear a mask in public to protect themselves and their communities from spreading the virus. Driving home this point is a powerful new study that models just how critical this simple, low-cost step will be this winter and through the course of this pandemic [1]. Right now, it’s estimated that about half of Americans always wear a mask in public. According to the new study, published in Nature Medicine, if this incomplete rate of mask-wearing continues and social distancing guidelines are not adhered to, the total number of COVID-19 deaths in the United States could soar to more than 1 million by the end of February. However, the model doesn’t accept that we’ll actually end up at this daunting number. It anticipates that once COVID mortality reaches a daily threshold of 8 deaths per 1 million citizens, U.S. states would re-instate limits on social and economic activity—as much of Europe is now doing. If so, the model predicts that by March, such state-sanctioned measures would cut the projected number of deaths in half to about 510,000—though that would still add another 280,000 lives lost to this devastating virus. The authors, led by Christopher Murray, Institute of Health Metrics and Evaluations, University of Washington School of Medicine, Seattle, show that we can do better than that. But doing better will require action by all of us. If 95 percent of people in the U.S. began wearing masks in public right now, the death toll would drop by March from the projected 510,000 to about 380,000. In other words, if most Americans pulled together to do the right thing and wore a mask in public, this simple, selfless act would save more than 130,000 lives in the next few months alone. If mask-wearers increased to just 85 percent, the model predicts it would save about 96,000 lives across the country. What’s important here aren’t the precise numbers. It’s the realization that, under any scenario, this pandemic is far from over, and, together, we have it within our power to shape what happens next. If more people make the decision to wear masks in public today, it could help to delay—or possibly even prevent—the need for future shutdowns. As such, the widespread use of face coverings has the potential to protect lives while also minimizing further damage to the economy and American livelihoods. It’s a point that NIH’s Anthony Fauci and colleagues presented quite well in a recent commentary in JAMA [2]. As we anxiously await the approved vaccines for COVID-19 and other advances in its prevention and treatment, the life-saving potential of face coverings simply can’t be overstated. I know that many people are tired of this message, and, unfortunately, mask-wearing has been tangled up in political perspectives at this time of deep divisions in our country. But think about it in the same way you think about putting on your seat belt—a minor inconvenience that can save lives. I’m careful to wear a mask outside my home every time I’m out and about. But, ultimately, saving lives and livelihoods as we head into these winter months will require a collective effort from all of us. To do so, each of us needs to follow these three W’s: Wear a mask. Watch your distance (stay 6 feet apart). Wash your hands often. References: [1] Modeling COVID-19 scenarios for the United States. IHME COVID-19 Forecasting Team. Nat Med. 2020 Oct 23. [2] Preventing the spread of SARS-CoV-2 with masks and other “low-tech” interventions. Lerner AM, Folkers, GK, Fauci AS. JAMA. 2020 October 26. Links: Coronavirus (COVID-19) (NIH) Institute for Health Metrics and Evaluations (University of Washington School of Medicine, Seattle)

Post Link

Face Coverings Could Save 130,000 American Lives from COVID-19 by March

NIH Blog Post Date



from National Institutes of Health (NIH) https://ift.tt/3mPn57w

امریکا میں ’دوہری وبا‘ اور ’تاریک سردیوں‘ کا خطرہ

نیویارک: امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن سے اتفاق کرتے ہوئے طبّی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سال سردیوں کے دوران امریکا میں کورونا وائرس کی وبا اور بھی شدید ہوجائے گی۔ اس کیفیت کو انہوں نے ’تاریک سردیوں‘ کا نام دیا ہے۔ لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی کیونکہ ہر سال سردیوں ہی میں امریکا کو بڑے پیمانے پر موسمی زکام (سیزنل فلو) کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح خدشہ ہے کہ موجودہ سال میں امریکا کو موسمی زکام کے ساتھ ساتھ کورونا وبا کا بھی سامنا ہوگا؛ اور اسی کیفیت کو ماہرین نے ’دوہری وبا‘ (twindemic) کا نام دیا ہے۔

واضح رہے کہ طبّی ماہرین پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ 2020 کے اختتام تک امریکا میں کورونا وبا سے ہلاکتوں کی تعداد تین لاکھ کا ہندسہ عبور کرسکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی مرکز برائے امراض ’’سی ڈی سی‘‘ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، وہاں صرف گزشتہ ایک سال میں موسمی زکام سے تقریباً 3 کروڑ 55 لاکھ افراد متاثر ہوچکے ہیں جن میں سے 490,000 افراد کو اسپتال میں داخل کروانا پڑا جبکہ اموات کی تعداد 34,200 رہی ہے۔

کورونا وبا اور موسمی زکام کی ایک ساتھ کی موجودگی سے امریکیوں میں بیماری، اسپتال میں داخل ہونے اور اموات کا خطرہ کئی گنا بڑھ جائے گا۔

طبّی ویب سائٹ ’’ہیلتھ لائن‘‘ پر شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ اکتوبر 2020 میں گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں نئے کورونا کیسز کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے اور اس وبا سے متاثر ہونے والے امریکیوں کا ہفت روزہ اوسط 44,765 یومیہ سے بڑھ کر 78,981 یومیہ پر پہنچ چکا ہے؛ جو بلاشبہ ایک تشویشناک بات ہے۔ ویب سائٹ نے یہ اعداد و شمار جان ہاپکنز یونیورسٹی کے حوالے سے بیان کیے ہیں۔

اسی رپورٹ میں ماہرین نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ امریکی ریاستیں جہاں پہلے کورونا وبا کی شدت کم تھی، اب اُن ریاستوں میں بھی یہ وبا بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ لوگوں کو متاثر کررہی ہے۔

یہی نہیں، بلکہ کورونا وبا میں مسلسل پابندیوں سے امریکی شہری بھی شدید اکتاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہاں سماجی فاصلے سے لے کر ماسک پہننے تک، بیشتر احتیاطی تدابیر (ایس او پیز) کی خلاف ورزیاں بڑھ چکی ہیں۔ یہ عوامی رویہ بھی ماہرین کی تشویش میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گھروں میں کھڑکیاں دروازے بند کرکے بیٹھے کا رجحان بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ تازہ ہوا کا گزر نہ ہونے کے نتیجے میں گھروں کے اندر کورونا وائرس کا پھیلاؤ اور بھی شدید ہوسکتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اگر ایک فرد کورونا سے متاثر ہوجائے تو جلد ہی باقی کے تمام یا اس کے ساتھ رہنے والے بیشتر لوگ بھی اس بیماری میں مبتلا ہوجائیں۔

کورونا وبا کی وجہ سے امریکا میں اسپتالوں اور طبّی سہولیات فراہم کرنے والے مراکز پر پہلے ہی بہت دباؤ ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سردیوں میں موسمی زکام سے اس دباؤ میں مزید اضافہ ہوجائے گا، جسے سنبھالنا امریکی نظامِ صحت کے بس سے باہر ہوگا۔

ایسی صورت میں قوی امکان ہے کہ امریکا میں ’’طبّی راشن بندی‘‘ کرنا پڑجائے، یعنی ہر اسپتال اور طبّی مرکز پر سہولیات کا کوٹا مقرر کردیا جائے تاکہ جانی نقصان کم کیا جاسکے۔

اسی تسلسل میں ایک سوال جو بہت زیادہ پوچھا جارہا ہے، وہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین کب تک دستیاب ہوگی؟ اگرچہ امریکا سمیت پوری دنیا میں ہنگامی بنیادوں پر سیکڑوں طرح کی کورونا وائرس ویکسینز پر کام جاری ہے، اور ان میں سے کچھ ویکسینز آخری طبّی مراحل میں داخل بھی ہوچکی ہیں، لیکن ایک ویکسین کا طبّی آزمائشوں میں کامیاب ہوجانا اور بڑے پیمانے پر اس کا دستیاب ہوجانا دو الگ الگ باتیں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں کورونا وائرس کی کوئی بھی ویکسین اس سال دسمبر یا پھر جنوری 2021 سے پہلے دستیاب نہیں ہوسکے گی؛ اور اگر ہوئی بھی تو شاید محدود پیمانے پر۔ تب تک کورونا وائرس امریکا میں اچھی خاصی تباہی اور ہلاکت کا باعث بن چکا ہوگا۔

البتہ، ماہرین نے ایک اچھی خبر یہ بھی سنائی ہے کہ وہ تمام احتیاطی تدابیر جو موسمی زکام سے بچانے میں مفید ہیں، ٹھیک وہی تدابیر کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں بھی کارآمد ہیں۔

تلخیص، ترجمہ و استفادہ: علیم احمد

The post امریکا میں ’دوہری وبا‘ اور ’تاریک سردیوں‘ کا خطرہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2I171Rd

Monday, 2 November 2020

ڈپریشن اور فالج کے درمیان تعلق کا انکشاف

الاباما: اگرچہ یہ کوئی باقاعدہ تحقیق نہیں لیکن پہلی مرتبہ انکشاف ہوا ہے کہ ڈپریشن (یاسیت) اور فالج (اسٹروک) کے درمیان تعلق ہوسکتا ہے۔

ایک عرصے سے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ مایوسی، بے چینی اور ڈؑپریشن سے پورا جسم متاثرہوتا ہے۔ اگر یہ عارضہ مستقل ہوجائے تو اس سے فالج سے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

اگرچہ یہ تحقیق مشاہدے کی بنا پر کی گئی ہے لیکن اس کا ثبوت یہ ہے کہ ڈپریشن مستقل بنیادوں پر غیرصحتمندانہ طریقوں کو جنم دیتی ہے۔ انسان ورزش چھوڑدیتا ہے، پھر ذیابیطس اور بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے جس سے فالج کا عارضہ لاحق ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ کیفیت امراضِ قلب کی وجہ بھی بنتی ہے۔

سب سے پہلے 2012 میں  بہت سے مطالعات کا جائزہ (میٹااسٹڈی) کیا گیا تھا۔ ماہرین نے ڈپریشن کو بلڈ پریشر اور ذیابیطس سے الگ رکھتے ہوئے فالج کی بیرونی وجہ کہا۔ پھر 2014 میں بعض حوالوں سے تصدیق ہوئی کہ ڈپریشن سے فالج لاحق ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے اعصابی فعلیاتی طور پر ایک کیفیت معلوم کی ہے جسے ’قبل ازفالج ڈپریشن‘ کا نام دیا ہے۔ فالج کے شکار بننے والے تین میں سے ایک مریض اس کیفیت میں متبلا ہوتے ہیں لیکن ڈپریشن کے ساتھ فالج میں ہلاکت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

دل کے امراض، فالج، اور بلڈ پریشر کی بلندی کے تینوں راستے ہی فالج تک جاتے ہیں۔ اب اس میں غیرروایتی طورپرشامل کیا جارہا ہے۔ یہ تحقیق ورجینیا ہاروڈ نے کی ہے جو الابامہ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ 2003 سے مختلف خطوں اور غیرروایتی انداز میں فالج پر غور کررہی ہیں۔ اس منصوبے میں وہ دریافت کرچکی ہیں کہ سیاہ فام امریکیوں میں گوروں کے مقابلے میں فالج کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

اب تک وہ 25 ہزار سے زائد افراد کا مطالعہ کرچکی ہیں اور ان میں ڈپریشن کے پیمانے (یعنی شدت) اور پھر فالج کا مشاہدہ کرتی رہی ہیں۔  9 برس میں انہوں نے دیکھا کہ ڈپریشن کی کیفیت فالج کو 39 فیصد تک بڑھادیتی ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹروں کو مایوسی کے مریضوں پر بطورِ خاص توجہ دینی چاہیے۔

The post ڈپریشن اور فالج کے درمیان تعلق کا انکشاف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/386ZMSA

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن:  چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا م...