Saturday, 29 February 2020

صفائی و احتیاطی تدابیر ہی کورونا وائرس سے بچاؤ کا راستہ ہے

کراچی: کورونا وائرس سے شہریوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، شہری افواہوں پر کان نہ دھریں بلکہ اس مشکل گھڑی میں قومی سطح پر معالج اپنا کردار ادا کریں۔

بقائی میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر افتخار احمد صدیقی نے بقائی میڈیکل یونیورسٹی میں کورونا وائرس کی علامات اور بچاؤ کی تدابیر پر عمل کرنے کے لیے ہنگامی آگاہی پروگرام میں کہا کہ کورونا عام جراثیم ہے جو سرد موسم میں ابھر کر اپنا اثر دکھاتا ہے، روزمرہ اور معمول کی صفائی اپناکر اس کا تدارک کیا جاسکتا ہے، کورونا کوئی نیا جراثیم نہیں ہے نزلہ، کھانسی کی وجہ سے ہونے والا جراثیمی عمل ہے، شہری احتیاط کے شعور کو اجاگر کرکے کورونا وائرس سے نجات پاسکتے ہیں۔

ڈین فیکلٹی آف میڈیسن اور ایم ا یس فاطمہ اسپتال پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ کورونا کا جراثیم 19ویں صدی میں دریافت ہوا تھا یہ موروثی جراثیم ہے احتیاطی تدابیر سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے، انفلوئنزا کی طرح اس میں بھی احتیاط کی ضرورت ہے، گڈاپ کے لوگوں کے لیے بقائی یونیورسٹی کے فاطمہ اسپتال میں علیحدہ وارڈ قائم کردیا گیا ہے کورونا سے متاثرہ فرد گھر میں آرام کرے تو اسپتال سے بہتر نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر آف فیملی میڈیسن ڈاکٹر فیصل صدیقی نے کہا کہ کورونا کوئی نیا جرثومہ نہیں ہے نزلہ، کھانسی کی وجہ سے ہونے والا جراثیمی عمل ہے اس کی ابتدا گلے کی سوجن سے اور درد سے ہوسکتی ہے اس انفیکشن سے بخار بھی ہوسکتا ہے، کمزور اور نحیف افراد اور بچوں کے علاوہ سانس کے مریضوں پر کورونا کے جراثیم کا حملہ زیادہ ہوتا ہے، حفظان صحت کے اصولوں اور ضابطوں کا خیال رکھیں تو پریشانی سے بچا جاسکتا ہے، ڈاکٹر خوش بخت نے کہا کہ کورونا سے تحفظ کے لیے عالمی ادارہ صحت کا بتایا ہوا گولڈ ٹیسٹ کرایا جائے۔

انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز میں ایم پی ایچ پروگرام کے استاد ڈاکٹر ظفر اقبال حیدری نے کہا کہ ہمیں اپنے معاشرتی رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہے ہم لوگوں میں احتیاط کے شعور کو اجاگر کرکے کورونا وائرس سے نجات پاسکتے ہیں، کورونا وائرس سے نجات حاصل کرنے کے لیے ماہرین طب اور ڈاکٹر سرکاری اور غیر سرکاری طور پر کام کررہے ہیں ہم سب کا ہے کہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو خوف سے نجات دلائیں، موجودہ حالات میں آپس میں مصافحہ اور معانقہ سے گریز کیا جائے کھانسی کی صورت میں منہ ڈھانپ کر کھانسیں۔

 

The post صفائی و احتیاطی تدابیر ہی کورونا وائرس سے بچاؤ کا راستہ ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2VB2BVM

کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کرنے سے دماغ مضبوط ہوتا ہے

کراچی: اسکول میں بچوں کی غلطیوں پر ان سے کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کروانا ہمارے یہاں بہت عام سی سزا ہے لیکن یوگا ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے دماغ کو بہت فائدہ پہنچتا ہے اور ذہانت میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کرنے کا یہ انداز دنیا بھر میں ’’سپر برین یوگا‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔

ویسے تو اس میں سب کچھ وہی ہوتا ہے کہ جیسا کان پکڑ کر بیٹھکیں لگانے والی سزا میں ہوتا ہے، لیکن سپر برین یوگا کرنے کےلیے دائیں ہاتھ سے بائیں کان اور بائیں ہاتھ سے دائیں کان کی لو پکڑ کر دبائی جاتی ہے۔

یوگا ماسٹر چو کوک سوئی نے اس بارے میں ’’سپر برین یوگا‘‘ کے نام سے ایک پوری کتاب لکھی ہے جو 2005 میں شائع ہوئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یوگا کا یہ انداز سانس کی مشق اور آکوپریشر کا مجموعہ ہے جو دائیں اور بائیں دماغ کو ایک ساتھ تقویت پہنچاتا ہے۔

یعنی اس سے نہ صرف یادداشت بہتر ہوتی ہے بلکہ ذہانت میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو تعلیم و تدریس کے علاوہ پیشہ ورانہ کارکردگی بہتر بنانے میں بھی ہماری مدد کرتا ہے۔

سب سے اچھی بات یہ ہے کہ کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک (سپر برین یوگا) کےلیے آپ کو کسی خاص جگہ یا ماحول کی ضرورت نہیں، جبکہ پورے دن میں صرف تین سے پانچ منٹ تک یہ ’’یوگا‘‘ کرنے پر آپ کو اس کے بہترین نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

مغربی ممالک میں مختلف مراکز یہ منفرد یوگا کروا رہے ہیں اور لوگ اس کے مفید ہونے کا اعتراف بھی کررہے ہیں۔ گزشتہ برس ہریانہ اسکول ایجوکیشن بورڈ نے اسی افادیت کے پیشِ نظر اپنے زیرِ انتظام تمام اسکولوں میں متعارف بھی کروایا تھا۔

شاید ہمیں بھی بچوں اور بڑوں کی ذہانت میں اضافہ کرنے کےلیے ’’سپر برین یوگا‘‘ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

The post کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کرنے سے دماغ مضبوط ہوتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2wg3NmD

Friday, 28 February 2020

کورونا وائرس سے اموات کی شرح صرف 2 فیصد ہے، ڈبلیو ایچ او

کراچی:  2ماہ قبل پھیلنے والا کورونا وائرس آج دنیا کیلیے خطرہ بن چکا ہے، پاکستان میں کورونا وائرس کے 2تصدیق شدہ کیسوں کے سامنے آتے ہی ملک بھر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوگئی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا وائرس کی ایسی اقسام سے تعلق رکھتا ہے جو انسانوں اور جانوروں میں تنفس یعنی سانس لینے میں دشواری جیسے انفیکشن کا سبب بنتے ہیں،لوگ قدرتی طور پر خوفزدہ ہیں کیونکہ وائرس پوری دنیا میں پھیل رہا ہے جس میں روزانہ تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، رواں ماہ کے آخر تک دنیا بھر میں تقریباً82ہزار افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ سب سے زیادہ تعداد چین میں ہے جہاں 78 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 2663افراد ہلاک ہوچکے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس میں وبا کی صلاحیت موجود ہے۔کورونا وائرس کی کچھ عام علامات میں بخار ، خشک کھانسی اور تھکاوٹ شامل ہیں، ڈبلیو ایچ او کے مطابق متاثرہ افراد سر درد ، جسم میں درد ، ناک بہنا ، گلے میں سوزش یا اسہال کا بھی سامنا کرسکتے ہیں، علامات اچانک ظاہر نہیں ہوتیں، وائرس آہستہ آہستہ نشونما پاتا ہے جبکہ کچھ لوگ اس مرض سے بیمار ہو سکتے ہیں اور ان میں کوئی علامات بھی ظاہر نہیں ہوتیں وہ لوگ جو COVID-19 کی وجہ سے شدید بیمار ہو جاتے ہیں انھیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بیماری سنگین ہونے کی صورت میں اعضا کام کرنا بھی چھوڑ سکتے ہیں، ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ COVID-19- ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے عام طور پر جب کسی متاثرہ شخص کو کھانسی آتی ہے یا چھینک آتی ہے تو وہ اپنی ناک یا منہ سے چھوٹی بوندوں کے ذریعے وائرس پھیلاتے ہیں، وائرس ہوا کے ذریعے نہیں پھیلتا،یہ بیماری شدید صورتوں میں مہلک ہوسکتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ 80 فیصد مریض کسی خاص علاج معالجے کے بغیر صحتیاب ہو سکتے ہیں۔ ابھی تک کوویڈ 19 میں اموات کی شرح صرف 2فیصد ہے۔فی الحال کوویڈ 19 سے بچاؤ کی کوئی ویکسین موجود نہیں ہے لہٰذا وائرس سے روک تھام کے اقدامات کرنا انتہائی ضروری ہیں ،ڈبلیو ایچ او کے رہنما اصولوں کے مطابق لوگوں کو کورونا وائرس سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے چند اقدامات کرنے چاہئیں۔

The post کورونا وائرس سے اموات کی شرح صرف 2 فیصد ہے، ڈبلیو ایچ او appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3aijKro

موٹے افراد جلدی بوڑھے ہوجاتے ہیں، تحقیق

ٹورانٹو: کیا موٹے لوگ دیگر افراد کے مقابلے میں تیزی سے بوڑھے ہوسکتے ہیں؟ ایک نئے سروے سے یہ حیرت انگیز بات سامنے آئی ہے کہ موٹاپا بڑھاپے کو تیزی سے بڑھاتا ہے اور اس سے عمررسیدگی سے وابستہ امراض بھی وقت سے پہلے نمودار ہوسکتے ہیں۔

اس ضمن میں کینیڈا کی یونیورسٹی آف کونکارڈیا کے ماہرِ غذائیات پروفیسر سلیویا سانتوسا اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ موٹاپا اور بڑھاپا ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جو لوگ فربہ ہوتے ہیں وہ دیگر افراد کے مقابلے میں جلد بوڑھے ہونے لگتے ہیں۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے سائنس دانوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ موٹاپے اور بڑھاپے کا طریقہ کار اور جسمانی کیمائی عمل یکساں ہوتا ہے۔ اس ضمن میں انہوں ںے ایک دو نہیں بلکہ 200 سے زائد ایسے مطالعات کا جائزہ لیا ہے جن میں موٹاپے، خلوی ٹوٹ پھوٹ، سالماتی کیفیات اور اس کے امنیاتی، دماغی اور دیگر عوامل پر اثرات کو نوٹ کیا ہے۔

اپنی تحقیق میں انہوں نے بڑھاپے کو موٹاپے کا عکس قرار دیا ہے لیکن تشویش ناک بات یہ ہے کہ موٹاپا وقت سے پہلے ہی اس کے شکار کو ایسی بیماریوں میں جکڑ سکتا ہے جو بزرگی میں حملہ کرتی ہیں۔ یعنی بڑھاپے کے ظاہری اثرات بعد میں ظاہر ہوتے ہیں مگر اس سے وابستہ بیماریاں پہلے ہی آگھیرتی ہیں۔

ماہرین کا یہ مطلب نہیں کہ بڑھاپا اور موٹاپا ہم معنی ہیں، بلکہ ایک حد تک یہ دونوں ایک سکے کے دورخ ہیں اور ساتھ ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔

مثلاً موٹاپے سے پورے جسمانی نظام میں سوزش بڑھتی ہے، مائٹو کونڈریائی عمل متاثر ہوتا ہے یا پھر امنیاتی نظام کمزور ہوجاتا ہے اور عین یہی علامات بڑھاپے میں بھی رونما ہوتی ہیں۔

اس وقت دنیا میں دو ارب سے زائد افراد موٹاپے کے شکار ہیں اور اس لحاظ سے یہ تحقیق بہت اہمیت رکھتی ہے۔ موٹاپے پر قابو پاکر کئی امراض کو روکا جاسکتا ہے اور دنیا بھر کے ہسپتالوں سے مریضوں کے بوجھ کو کم کیا جاسکتا ہے۔

The post موٹے افراد جلدی بوڑھے ہوجاتے ہیں، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/38a9pfw

ہر شخص کو ماسک لگانے کی ضرورت نہیں، ماہرین صحت

کراچی: ماہرین صحت نے کہا ہے کہ ہر شخص کو ماسک لگانے کی ضرورت نہیں، شہری کھلی فضا میں سانس لیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہر شخص کو ماسک لگانے کی ضرورت نہیں، شہری کھلی فضا میں سانس لیں اور خوف محسوس نہ کریں جو متاثرہ یا ممکنہ مریض کے قریب یا ایسے علاقے میں ہوں جہاں کورونا کا خطرہ قرار دے دیا گیا وہاں ماسک کا استعمال کیا جائے، اس وائرس سے اموات کی شرح صرف 2فیصد ہے اورپاکستان میں الحمداللہ حالات قابو میں ہیں۔

کورونا وائرس کے دونوں مریضوں کی حالت خطرے سے باہر ہے، اس سے متاثرہ مریض 5 سے 15دن میں صحت مند ہوجاتے ہیں۔عوام کو چاہیے کہ اجتماعات میں نہ جائیں اور دور رہیں۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ اجتماعات والے ایونٹس کو عارضی طور پر موخر کر دے۔ سندھ کے اسپتالوں میں مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سینٹر کے سیکریٹر ی جنرل ڈاکٹر ایس ایم قیصر سجاد، ڈاکٹر سہیل اختر ڈاکٹر عافیہ ظفر، پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے صدرڈاکٹر نثار راؤ، میڈیکل مائیکرو بیالوجی اینڈ انفیکشیزسوسائٹی آف پاکستان کی ڈاکٹر ثمرین سرفراز، پی ایم اے کراچی کے صدر ڈاکٹر محمد شریف ہاشمانی اورجنرل سیکریٹری ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے جمعے کو پی ایم اے ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

The post ہر شخص کو ماسک لگانے کی ضرورت نہیں، ماہرین صحت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2T9A0oI

Thursday, 27 February 2020

پرندوں کی چہک اور پھولوں کی مہک،آپ کومسرور رکھتی ہے

 لندن: سبزے میں وقت گزارنے، پھولوں کو چھونے اور سونگھنے اور پرندوں کی چہکار سننے سے انسانی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

دوسری جانب جو بچے قدرتی ماحول میں وقت گزارتے ہیں وہ بڑے ہوکر ماحول کےتحفظ میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں اور جنگلی حیات کے محافظ بن سکتے ہیں۔ اسی سروے میں کہا گیا ہے کہ ہر شخص کو ہفتے میں چار گھنٹے کسی باغ، سبزے یا پرفضا مقام پر گزارنا چاہیے۔

یہ تحقیق برٹش نیشنل ٹرسٹ اور یونیورسٹی آف ڈربی میں مشترکہ طور پر کی گئی ہے جس میں شہریوں سے سبزے اور جنگلی حیات کے درمیان گزارے گئے وقت کے بارے میں سوالات کیے گئے۔  نتیجہ یہ سامنے آیا کہ جو لوگ فطرت سے قریب ہوتے ہیں وہ بقیہ افراد کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ خوش اور مطمئن ہوتے ہیں۔

اسی طرح سروے میں شامل اکثر بچوں اور بڑوں نے اعتراف کیا کہ وہ باغ میں نہیں جاتے، نہ ہی پرندوں کی چہکار سنتے ہیں اور نہ ہی پھول سونگھتے ہیں۔ ایسے افراد کی تعداد 70 سے 80 فیصد تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے شہری فطرت اور قدرتی نظاروں سے کس قدر دور ہیں۔

اس ضمن میں دس میں سے سات بچوں نے کہا کہ انہوں نے سراٹھا کر بادل کو نہیں دیکھا۔ ماہرین نے سروے کے بعد کہا ہے کہ بالخصوص بچوں کو سکھائیں کہ پودا کیسے اگایا جاتا ہے۔ انہیں تتلیاں دکھائیں، سورج طلوع ہوتے وقت جگا کر منظر دکھائیں اور پرندے کا گھر بنانے میں مدد کریں۔

اس موقع پر سروے میں شامل ماہر، پروفیسر مائلس رچرڈسن نے کہا ہے کہ روزمرہ کے سادہ معمولات اور باہر وقت گزارنے سے زندگی پر بہت فرق پڑسکتا ہے اور اس کے صحت مندانہ نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کا اصرار ہے کہ سبزے میں وقت گزارنے سے زندگی میں بامعنی فرق آسکتا ہے۔

The post پرندوں کی چہک اور پھولوں کی مہک،آپ کومسرور رکھتی ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2T51vQ8

زبان پر انگلی لگا کر نوٹ گننا نقصان دہ ہوسکتا ہے

 

کرنسی نوٹ پر عوامی بیت الخلا کے دروازے کے ہینڈل سے بھی زیادہ جراثیم ہوتے ہیں، اس لیے زبان پر انگلی لگا کر گننا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نوٹ کی سطح پر موجود جراثیموں میں سے بہت کم تعداد ہی انگلیوں سے چپکتی ہے اور صحت کے لیے زیادہ مضر نہیں ہوتی لیکن جو لوگ نوٹوں کا زیادہ لین دین کرتے ہیں انہیں ہاتھوں کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔

نوٹ کئی ہاتھوں میں جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان پر ایک خاص طرح کے بیکٹیریا موجود ہوسکتے ہیں جو معدے کی سوزش، جلد کی بیماریوں جیسے مسائل کا باعث بنتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گننے کے لیے انگلی کو زبان یا کسی  نم سطح کو چھونے کے بعد جب نوٹ پر لگایا جاتا ہے تو اس سے بھی جراثیم منتقل ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عام طور پر تانبے کے بارے میں یہ غلط  تصور پایا جاتا ہے اس پر جراثیم زندہ نہیں رہتے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بعض جراثیموں کو بڑھنے سے تو روکتا ہے لیکن انہیں ختم نہیں کرتا، اس لیے دھاتی سکوں پر بھی جراثیم موجود ہوتے ہیں۔

The post زبان پر انگلی لگا کر نوٹ گننا نقصان دہ ہوسکتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/32ysnv8

Wednesday, 26 February 2020

پرانی اور مسلسل کھانسی کے خاتمے کےلیے نئی امید افزا دوا تیار

مانچسٹر: آپ کے اردگرد بھی کئی افراد ایسے ہوں گے جو بظاہر صحت مند دکھائی دیتے ہیں لیکن مسلسل کھانسی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ اس دیرینہ بیماری کے خلاف ایک مؤثر دوا بنائی گئی ہے جسے جیفاپکسنٹ (ایم کے 7264) کا نام دیا گیا ہے۔  

دنیا میں 10 فیصد بالغ اور بظاہر صحت مند افراد ایسے ہیں جو کسی مرض کے شکار نہیں لیکن مسلسل اور دیرینہ کھانسی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ لاکھ تدبیروں کے باوجود وقتی طور پر کچھ افاقہ ہوتا ہے لیکن اس کے بعد دوبارہ کھانسی کا دورہ شروع ہوجاتا ہے۔

کئی افراد عشروں سے اس کے شکار ہیں اور ان پر کوئی دوا کارگر نہیں ہوتی۔ اب یونیورسٹی آف مانچسٹر کے سائنسدانوں نے محدود افراد پر اس کے مطالعے کے بعد کہا ہے کہ ان کی تیارکردہ نئی دوا جیفاپکسنٹ اس مرض کی شدت کم کرسکتی ہے۔ مریضوں پر اس کے بہت اچھے اثرات سامنے آئے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق امریکہ اور برطانیہ میں 253 مردوں اور عورتوں پر اسے آزمایا گیا جو اوسطاً 14 برس سے مسلسل کھانسی کے شکار تھے۔ تمام افراد بظاہر صحت مند تھے اور کھانسی کے شکار تھے۔ تمام افراد کو 12 ہفتے تک دوا دی گئی۔ ایک گروہ کو فرضی دوا یا پلے سیبو دی گئیں اور دوسرے گروپ کو  7.5، 20 اور 50 ملی گرام دوا دی گئی۔

علاج سے پہلے تمام مریضوں نے بتایا کہ وہ ایک گھنٹے میں 24 سے 30 مرتبہ کھانستے ہیں۔ اب جن لوگوں نے تین ماہ تک دوا استعمال کی تو ان میں کھانسنے کی شرح کم ہوتے ہوتے فی گھنٹہ 11 تک جاپہنچی۔ تاہم فرضی دوا والے لوگوں نے کہا کہ ان میں بھی کھانسنے کی شرح کم ہوکر 18 کھانسی فی گھنٹہ نوٹ کی گئی۔

تحقیق سے وابستہ پروفیسر جیکی اسمتھ نے بتایا تین ماہ تک استعمال کی جانے والی دوا کا اثر طویل وقفے تک دیکھا گیا۔ ’ ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ طریقہ علاج بالکل محفوظ بھی ہے،‘ ڈاکٹرجیکی نے بتایا۔ دوسری جانب مسلسل کھانسی کا علاج کرنے والے ماہر ڈاکٹر گیبریئل مکولے نے اس دوا کو زندگی بدلنے والی قرار دیا ہے۔

The post پرانی اور مسلسل کھانسی کے خاتمے کےلیے نئی امید افزا دوا تیار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/392NWWZ

نومولود بچوں کی اموات میں پاکستان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، ماہرین طب

کراچی: ماہرین  صحت نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحت مند نوجوان خواتین کی سب سے زیادہ اموات دورانِ زچگی ہوتی ہے۔

حالیہ سروے کے مطابق نومولود بچوں کی اموات میں پاکستان بدقسمتی سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، پیدائش کے دن سے ایک ماہ کی عمر تک سب سے زیادہ بچے ہمارے یہاں لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں صرف 66 فیصد بچوں کی امیونائزیشن ہوتی ہے۔

ماہرین صحت نے کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان اور سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے اشتراک سے مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والی تیسری پاکستان ہیلتھ کیئر سمٹ 2020 کے ٹیکنیکل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس سے دنیا کی اقتصادی ترقی جمود کا شکار ہو گئی ہے، ایران اور افغانستان میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد پاکستان کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں، ہمارا ہیلتھ کیئر سسٹم اتنا مضبوط نہیں کہ ایسی کسی وبا کی صورت میں ترقی یافتہ ممالک کی طرح قابو پاسکیں، ہمارے یہاں کوئی جدید وائرولوجی لیب بھی قائم نہیں ہوسکی۔

ڈاکٹر پیر زادہ قاسم رضا صدیقی، ڈاکٹر عذرا احسان، پروفیسر خالد شیفع، پروفیسر محمد سعید خان، پی این سی اے کے ڈائریکٹر جنرل عتیق الرحمن، ڈاکٹر فرحان عیسٰی، ڈاکٹر سید عمران علی شاہ، بریگیڈیر وقار شیخ خلیل، محمود باری اور دیگر نے خطاب کیا۔

The post نومولود بچوں کی اموات میں پاکستان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، ماہرین طب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/32uECZD

بچوں کو صحت مند زندگی اور ماحول کی فراہمی: بڑا عالمی چیلنج

دنیا میں کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں ہے جو اپنے بچوں کی صحت کے تحفظ کے لئے موزوں اقدامات کررہا ہو یا انھیں محفوظ مستقبل فراہم کرنے کے لئے صحت مند ماحول فراہم کررہا ہو۔ یہ بات دنیا بھر کے 40 ماہرین  پر مشتمل ایک کمیشن کی مرتب کردہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ یہ کمیشن ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)، ’یونیسف‘ اور ’لانسیٹ‘نے قائم کیا ہے۔ رپورٹ کا عنوان ہے:’’ دنیابھر کے بچوں کا مستقبل‘‘۔

رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ دنیا کے ہر بچے اور نوجوانوں کی صحت اور مستقبل کو ماحولیاتی انحطاط، آب و ہوا میں تبدیلی اور استحصالی مارکیٹنگ کے حربوں سے فروخت ہونے والے فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات، شراب اور  تمباکو سے فوری طور پر خطرہ ہے۔

نیوزی لینڈ کی سابق وزیراعظم اور کمیشن کی شریک چیئرپرسن ہیلن کلارک کا کہناہے کہ پچھلے20 برسوں میں بچوں کی صحت  میں بہتری کا عمل نہ صرف رک چکاہے بلکہ اب خرابی کی طرف بڑھ رہاہے۔ یہ اندازہ لگایاگیاہے کہ کم اور اوسط آمدنی والے ممالک میں، پانچ سال سے کم عمر تقریباً ڈھائی کروڑ بچے نشوونما نہ ہونے کے خطرہ سے دوچار ہیں۔اس کا سبب غربت ہے یا پھر نشوونما دینے والے متبادل اقدامات کا نہ ہونا ہے۔

اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اب دنیا میں ہر بچے کو آب و ہوا میں تبدیلی اورکمرشل دباؤ سے بہت زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ یادرہے کہ کمرشل دباؤ سے مراد ہے چیزوں کے خریدنے اور بالخصوص فروخت کرنے کے عمل کا دباؤ۔ مثلاً آپ کے اردگرد موجود کاروباریکمپنیاں ایک بھرپور دباؤ پیدا کرکے لوگوں کو اپنی مصنوعات خریدنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اس کے لئے وہ نت نئی ، مختلف تدابیر اختیار کرتی ہیں۔ ہیلن کلارک نے مزید کہا کہ  کم اور اوسط آمدنی والے ممالک کوچاہیے، وہ بچوں اور نوعمر افراد کی صحت کے متعلق طریقہ کار پر سوچ بچار کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیںکہ ہم ایک محفوظ دنیا انھیں وراثت میں دیں۔

٭شدید ماحولیاتی تبدیلی،بچوں کے مستقبل کے لیے خطرناک

آب و ہوا کی تبدیلی میں شدت ہربچے کے مستقبل کے لئے خطرات پیدا کررہی ہے۔ مذکورہ بالا رپورٹ میں 180ممالک کا نیا عالمی انڈیکس بھی شامل کیاگیا ہے، اس میں بچوں کی نشوونما کے عمل کا موازنہ کیاگیاہے، ان ممالک کے اقدامات پر بھی نظر رکھی گئی ہے جو وہ بچوں کی بڑھوتری کے لئے کررہے ہیں۔ اس میں صحت ، تعلیم، تغذیہ، گرین ہاؤس گیس کے اخراج، بچوں کے حقوق اور آمدنی میں فرق کو بنیاد بنایاگیاہے، یہ سب پہلوبچوں کی بقا اور بہبود کے لئے ضروری ہیں۔

یادرہے کہ اس انڈیکس میں پاکستان کا 140 واں نمبر ہے۔ گیمبیا، کینیا، لاؤس، سینیگال، گھانا، انڈیا، روانڈا، سولومن آئی لینڈ جیسے ممالک نے پاکستان کی نسبت بہتر رینکنگ حاصل کی ہے۔اس رپورٹ سے پتہ چلتاہے کہ غریب ترین ممالک کو  اپنے بچوں کی صحت مند زندگی گزارنے کی صلاحیت میں بہتری اور نشوو نما  اور ضرورت سے زیادہ کاربن کے اخراج کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

اگرموجودہ اندازوں کے مطابق سال 2100 تک عالمی درجہ حرارت میںمزید 4 ڈگری سنٹی گریڈ کا اضافہ ہوگیا تو اس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح بلند ہوگی، گرمی کی لہر شدید ہوگی، ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریاں وباؤں کی شکل اختیار کریں گی، غدائیت کی کمی کا معاملہ بھی بحران بن جائے گا، نتیجتاً بچوں کی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

اس انڈیکس میں ناروے، جمہوریہ کوریا اور نیدرلینڈ میں بچوں کو بقا اور فلاح کے بہترین مواقع میسر ہیں جبکہ وسطی افریقہ، جمہوریہ چاڈ ، صومالیہ ، نائیجر اور مالی میں بچوں کو صحت سے متعلق بدترین مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے۔ جب مصنفین نے فی کس کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا جائزہ لیا تو رینکنگ میں بلند ترین ممالک نظر نہ آئے کیونکہ اس باب میںناروے کی رینکنگ156، جمہوریہ کوریا کی 166 اور نیدرلینڈ  کی 160 ہے۔ تینوں ممالک میں سے ہر ایک اپنے2030ء کے ہدف سے210 فیصد  زیادہ فی کسکاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتاہے ۔اس حوالے سے امریکا، آسٹریلیا اور سعودی عرب بھی دس بدترین ممالک میں شامل ہے۔

کمیشن کی شریک چیئرپرسن سینیگال سے تعلق رکھنے والی وزیر آوا کول سیک کا کہناہے کہ دو ارب سے زیادہ افراد ان ممالک میں رہتے ہیں جہاں انسانی بحران، تنازعات  اور قدرتی آفات کی وجہ سے ترقی کے سامنے رکاوٹیں کھڑی ہیں اور ان کا ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ تعلق جڑا ہواہے۔ بعض ایسے بھی غریب ممالک ہیں جہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ بہت کم خارج ہوتی ہے۔ اور اکثر ممالک ماحولیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات کے قابو میں آچکے ہیں۔ دنیا میں بعض ایسے ممالک بھی ہیں جہاں بچوں کو پلنے بڑھنے کے اچھے مواقع میسر ہیں، ان میں البانیا، آرمینیا، اردن، مالدوا، سری لنکا، تیونس، گریناڈا،  یوراگائے اور ویت نام شامل ہیں۔

٭کمرشل مارکیٹنگ کے بُرے اثرات، بچے11گنا موٹے ہوگئے

رپورٹ میں مارکیٹنگ کے بچوں کی صحت پر برے اثرات کا جائزہ بھی لیاگیا۔

بچوں کو نقصان دہ کاروباری مارکیٹنگ کی وجہ سے بچپن کا موٹاپا 11گناہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ شواہد سے پتہ چلتاہے کہ بعض ممالک کے بچے صرف ایک سال میں ٹیلی ویژن پر30ہزار سے زیادہ اشتہارات دیکھتے ہیں جبکہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں دو برسوںکے دوران ای سگریٹ کی تشہیر میں 250 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اشتہارات24 ملین سے زیادہ نوجوانوں نے دیکھے۔

کمیشن کے مصنفین میں شامل ایک پروفیسر انتھونی کوسٹیلو کا کہنا ہے کہ صنعت کا سیلف ریگولیشن کانظام ناکام ہوچکاہے۔ آسٹریلیا، کینیڈا، میکسیکو، نیوزی لینڈ اور امریکا سمیت بہت سے دوسرے ممالک کے لوگوں کے مطالعہ سے ثابت ہوا ہے کہ سیلف ریگولیشن بچوں کو اشتہارات دکھانے کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہیں کرسکے۔ مثلاً آسٹریلیا میں صنعتوں نے سیلف ریگولیشن کے معاہدے پر دستخط کرنے کے باوجود ایک سال میں فٹ بال ، کرکٹ، رگبی کے میچز کے دوران میں  بچوں اور نوعمر افراد کو شراب کے 51 ملین اشتہارات دیکھنے پڑتے ہیں۔حقیقت اس سے بھی بدتر اور خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایڈورٹائزنگ کے ذریعے یہ چیزیں اس سے بھی کہیں زیادہ بڑی تعداد میں دکھائی جاتی ہیں۔

بچے جنک فوڈ اور چینی والے مشروبات کے اشتہارات دیکھتے ہیں، اس کے نتیجے میں وہ غیر صحت مندانہ مصنوعات خریدتے ہیں،

بچوں میں زیادہ وزن اور موٹاپا کی وجہ سے جنک فوڈ اور شوگربیوریجز کی خریداری ہے۔ جنک فوڈ کی اس حد تک مارکیٹنگ کی وجہ سے اس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہاہے۔یہ صورت حال خطرناک شکل اختیار کرچکی ہے۔ موٹے بچوں اور نوعمروں کی تعداد1975ء میں 11ملین تھی جو 2016ء میں 124ملین ہوچکی ہے۔ یعنی گیارہ گنا اضافہ۔

بچوں کے تحفظ کے لئے قائم کمیشن کے مصنفین نے بچوںکے تحفظ کے لئے ایک عالمی تحریک چلانے کا مطالبہ کیا ہے اور درج ذیل سفارشات تجویز کی ہیں:

٭کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو فی الفور روکا جائے تاکہ اس دنیا میں بچوں کا مستقبل روشن اور محفوظ بنایا جاسکے۔

٭پائیدار ترقی  کے حصول کے لئے ہماری کوششوں کا مرکز و محور بچے اور نوعمر ہونے چاہئیں۔

٭ تمام شعبوں میں پالیسی سازی اور سرمایہ کاری کرتے ہوئے بچوں کی صحت اور حقوق کو مدنظر رکھاجائے۔

٭بچوں کی آواز کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے۔

٭وفاقی سطح پر ایسے ضابطوں کو سخت کرناچاہئے جن کے نتیجے میں صحت کے لئے نقصان دہ اشتہارات کو پابند کیا جاسکے۔

جریدے ’لانسیٹ فیملی آف جرنلز‘کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر رچرڈ ہارتن کا کہناہے کہ  یہ ایک اچھا موقع ہے، شواہد موجود ہیں اور اوزار ہاتھوں میں ہیں۔ ریاست کے سربراہ سے لے کر مقامی حکومت تک، اقوام متحدہ کے رہنماؤں سے لے کر بچوں تک ،یہ کمیشن  مطالبہ کرتاہے کہ بچوں اور نوعمروں کی صحت کے لئے ایک نیا دور شروع کیاجائے،اس کے لئے ہمیں ہمت اور بلند عزم کی ضرورت ہے۔یہ ہماری نسل کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہنریتا ایچ فور کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی بحران  سے لے کر موٹاپے اور نقصان دہ کاروباری مارکیٹنگ تک دنیا بھر کے بچوں کو سخت خطرات کا مقابلہ کرنا پڑرہاہے، چند نسلیں پہلے تک ان خطرات کا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔

اب وقت آگیاہے کہ بچوں کی صحت کے بارے میں دوبارہ غوروفکرکیا جائے، ہرحکومت اپنے ترقیاتی ایجنڈے میں اسے سرفہرست رکھے،  ان کی فلاح وبہبود کو تمام امور پر مقدم رکھے۔

اس رپورٹ سے پتہ چلتاہے کہ دنیابھر میں فیصلے کرنے والے اکثر لوگ بچوں اور نوجوانوں کی صحت کی حفاظت میں، ان کے حقوق کے تحفظ میں بلکہ اس سیارے کی حفاظت میں ناکام ہوچکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ بچوں کی صحت اور ترقی میں سرمایہ کاری کرنے ، ان کی آواز کو سننے، ان کے حقوق کی حفاظت کرنے اور بچوں کے لئے موزوں مستقبل کی تشکیل کے لئے اقدامات کرنا نہایت ناگزیر ہیں کیونکہ یہی بچے ہماری دنیا کے وارث اور ہمارا مستقبل ہیں۔

The post بچوں کو صحت مند زندگی اور ماحول کی فراہمی: بڑا عالمی چیلنج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2T3L3Qe

ہمیں بھوک کیوں نہیں لگتی؟

پہلا سوال تو یہ ہے کہ بھوک کیا ہے اور کیوں محسوس ہوتی ہے؟

جس وقت اعضاء غذا کے محتاج ہوتے ہیں تو وہ غذا کو رگوں سے چوسنے کے طور پر طلب کرتے ہیں، اسی طرح رگیں اپنے اْگنے کے مقام (جگر) سے اور جگر عروقِ ما ساریقا (میزین ٹِرک آرٹریز) سے اور یہ عروق معدے سے غذا طلب کرتی ہیں۔ معدے کا منہ (فمِ معدہ) ذکی الحس (احساس سے جَلد متاثر ہونیوالا) ہے اس لئے وہ چوسنے کے عمل سے متاثر ہو جاتا ہے۔

اسی اثناء میں ’اسٹی میولس‘ کے طور پر ’سوداء ‘ طحال سے فمِ معدہ پر گرتی ہے، جس کے نتیجے میں معدہ سْکڑتا ہے۔ اس کیفیت کو بھوک (اشتہا) کہا جاتا ہے۔اگر ان میں سے کسی حالت میں کسر باقی رہ جائے، تو بھوک میں کوتاہی واقع ہو جاتی ہے۔

بھو ک کی کمی، کیا کسی مرض کی علامت ہے یا بذاتِ خود ایک مرض ہے؟

یہ نکتہ ذہن نشین رہے کہ بھو ک کی کمی جگر کی برودت (ٹھنڈک) یا حدت(گرمی) کو ظاہر کرتی ہے کیونکہ ان دونوں کی وجہ سے جگر ضعیف ہو جاتا ہے اور معدے سے غذا کا خلاصہ(کیلوس) جذب نہیں کرتا۔ مگر اس کے مختلف اسباب ہیں۔

بھوک نہ لگنے کی وجوہات

ورمِ معدہ (گیسٹرایٹس): کیونکہ ورم معدے کو تکلیف پہنچاتا ہے لہذا طبیعت غذا سے متنفر ہوتی ہے۔

معدے میں زخم (السر): اس کی موجودگی معدے کی ہاضم رطوبات کو غیر طبعی کر دیتی ہیں۔

تیل میں پکائی گئی اشیاء کا زیادہ استعمال: کیونکہ ان سے معدے میں بلغم کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

دیر ہضم اور گیس پیدا کرنے والی غذا کا بکثرت کھانا: ایسی غذا معدے کی قوت کر کمزور کرتی ہیں۔

معدے کے مزاج کا بگڑنا: اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ معدہ ڈھیلا ہو جاتا ہے۔ مشاہدہ ہے کہ موسم ِ گرما میں بھوک کم ہو جاتی ہے،

معدے یا تمام بدن میں غیر طبعی اخلاط کا جمع ہونا:ان کی موجودگی سے معدے میں صفراوی یا نمکین مواد معدے کو اذیت پہنچاتا ہے۔ کبھی لیس دار بلغم معدے میں جمع ہو کر بھوک کی حِس کو کم کر دیتا ہے۔

معدے کے منہ اور طحال (تلی) کے درمیانی راستے میں رکاوٹ ہونا:اس کیفیت میں ترش غذا کی خواہش ہوتی ہے اور یوں بھوک لگنا شروع ہو جاتی ہے۔ اگر معدے کی حِس باطل ہو اور اس وجہ سے بھوک نہ محسوس ہو تو ترش غذا کے کھانے سے کچھ فرق نہیں ہوتا۔کبھی ذہنی تفکرات اور صدمات بھو ک کی کمی کا شکار کر دیتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بدن غذا کی طرف مائل نہیں ہوتاکیونکہ بدن سرد مواد کو پکانے کی طرف مائل ہوتا ہے اور طبیعت مدبرہ اسے جزوِ بدن بنانے کی طرف کوشاں ہوتی ہے۔ اس لئے اعضاء عروق سے اور عروق معدے سے غذا کو چوسنا چھوڑ دیتی ہیں۔کبھی بدن میں موجود غیر طبعی رطوبتیں کم تحلیل ہوتی ہیں، اس لیے بھی بھوک کم ہو جاتی ہیں، کیونکہ اعضاء کی غذا کی مانگ کم ہو جاتی ہے۔

بعض افراد کے معدے میں حموضت (ایسڈ) کی کمی سے بھوک کم ہو جاتی ہے۔

بھوک کی کمی کی علامات

1۔ اگر معدے کے مزاج میں خرابی کی وجہ گرمی ہے تو جلی ہوئی ڈکاریں آتی ہیں، پیاس کم لگتی ہے گرم اشیاء  سے نفرت اور سرد غذا سے سکون ملتا ہے۔ اور اگر مزاج کی خرابی ٹھنڈک سے ہے تو سرد غذا سے نفرت ہو گی۔ ایسی کیفیت میں اجوائن دیسی اور پودینہ کا قہوہ پینا چاہیے۔

2۔ اگر معدے میں لیس دار بلغم جمع ہو تو مریض کو پیاس نہیں لگتی، مریض کا ایسی غذا کو دل کرتا ہے جو گرم ہو اور اس میں تیزی بھی ہو۔ ایسی غذا کھانے کے بعد پیٹ پھول جاتا ہے، اور ڈکاروں سے آرام آتا ہے۔ ایسی کیفیت میں زیرہ اور سونف ہم وزن استعمال کریں۔

3۔ اگر معدے میں صفراء یا نمکین بلغم جمع ہو تو معدے میں جلن، متلی اور قے عارض ہوتی ہے نیز منہ کا ذائقہ کڑوا یا نمکین ہوتا ہے۔ ایسے میں دارچینی مفید ہوتی ہے۔

کبھی غیر ضروری مواد یا اخلاط متلی، قے، منہ سے بدبو، نرم براز جس میں کافی بدبو ہوتی ہے۔ ایسے میں قے کرنا چاہیے۔

4۔ امراضِ جگر میں مختلف رنگوں کے دست آتے ہیں۔ اس کے لیے جگر کی اصلاح کریں۔

5۔ اگر بدن کی جلد ٹھوس ہو اور مریض ایک عرصے تک غذا کے بغیر رہ سکے تو سمجھ لینا چاہیے کہ بدن کی رطوبات تحلیل نہیں ہو رہیں۔ لہذا مالش کریں، پسینہ لائیں۔

بھوک کی کمی کا علاج طب یونانی میں

پودینہ، سماق، کالی مرچ، زیرہ ۔ ہم وزن قہوہ استعمال کریں یا جوارش جالینوس حسبِ ضرورت لیں۔

بھوک کی کمی کا علاج طبِ مغربی میں

کیپسول ایسو میپرازول 20 ملی گرام نہار منہ لیں آدھا گھنٹے بعد جلد ہضم ہونے والی غذا لیں۔ اگر معدے میں بوجھ ہو تو ’پوٹاشیم ایلی جینیٹ اور پوٹاشیم بائی کاربونیٹ کا ایک چھوٹا چمچ لیں۔

بہتر ہے کہ یہ علاج کرنے سے پہلے معالج سے مشورہ کرلیں۔

غذا و پرہیز:

بکری کا شوربہ، مرغ کا شوربہ، مونگ کی دال، کھچڑی دیں۔ قبض نہ ہونے دیں، چہل قدمی کی ہدایت کریں۔ دیر ہضم غذا سے پرہیز کریں۔ یاد رکھیں کہ معدے کے امراض کا آسان ترین علاج غذا کی اصلاح اور مناسب ورزش ہے۔

The post ہمیں بھوک کیوں نہیں لگتی؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3859C3q

Tuesday, 25 February 2020

’’مضبوط اعصاب‘‘ والے مردوں میں خودکشی کا زیادہ رجحان ہوتا ہے، تحقیق

نیو یارک: مضبوط اعصاب کا مالک ہونا مردانگی کی دلیل ہے جس کےلیے ہمارے یہاں ’’مرد کو درد نہیں ہوتا‘‘ جیسے جملے بھی مشہور ہیں لیکن ایک حالیہ مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ ’’مضبوط‘‘ ہونے کے دعوے کرنے والے مردوں میں خودکشی کا رجحان بھی اپنے کمزور ہونے کا اعتراف کرنے والے آدمیوں کے مقابلے میں تقریباً ڈھائی گنا زیادہ ہوتا ہے۔

یہ تحقیق گریجویٹ اسکول آف سوشل سروسز، فورڈہام یونیورسٹی، نیویارک سٹی میں کی گئی جس میں بیس سال تک جاری رہنے والے ایک مطالعے میں 20,700 افراد سے حاصل شدہ معلومات سے استفادہ کیا گیا۔ 1995 میں یہ مطالعہ ایسے امریکی لڑکے اور لڑکیوں پر شروع کیا گیا جو اُس وقت 13 سے 17 سال تک کے، یعنی ’’نوبالغ‘‘ تھے۔

2014 تک جاری رہنے والے اس مطالعے میں ان تمام افراد سے ان کی عادت، مزاج، رہن سہن، خاندانی پس منظر، ارد گرد کے ماحول، چلنے پھرنے اور پڑھنے لکھنے سمیت، زندگی کے تقریباً ہر پہلو سے متعلق سوالنامے بھروائے جاتے رہے تاکہ ان کی جسمانی اور نفسیاتی صحت پر نظر رکھی جاسکے۔

ان تمام معلومات کا تجزیہ کرنے پر انکشاف ہوا کہ مطالعے میں حصہ لینے والے 22 لوگ اس دوران خودکشی کرچکے تھے جن میں سے 21 مرد تھے۔

جب مزید کھنگالا گیا تو یہ بھی معلوم ہوا کہ خودکشی کرنے والے زیادہ تر لوگ وہ تھے جنہوں نے مطالعے کے دوران اپنے بارے میں کہا تھا کہ وہ نہیں روتے، جذباتی نہیں ہوتے، اپنے موڈ کی غلامی نہیں کرتے، جسمانی طور پر خود کو مضبوط اور صحت مند رکھتے ہیں، اور ’’خطروں کے کھلاڑی‘‘ ہیں۔ دوسرے الفاظ میں وہ ’’مضبوط اعصاب‘‘ والے ’’بہادر مرد‘‘ ہونے کے دعویدار تھے۔

ان کے برعکس وہ لوگ تھے جنہوں نے خود کو کمزور قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ جلد ہی جذباتی ہوجاتے ہیں، رو پڑتے ہیں اور مشکل کا احساس کرتے ہی فوراً کسی نہ کسی سے مدد مانگنے پہنچ جاتے ہیں۔

جب ان ’’مضبوط‘‘ اور ’’کمزور‘‘ افراد کا آپس میں موازنہ کیا گیا تو پتا چلا کہ کمزور لوگوں کی نسبت مضبوط ’’مردوں‘‘ میں خودکشی کا رجحان 240 فیصد (تقریباً ڈھائی گنا) زیادہ تھا۔

ایسا کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مطالعے کے سربراہ ڈینیئل کولمین کا کہنا ہے کہ دنیا میں ’’مردانگی‘‘ پر فخر کے نتیجے میں ایسے لوگ اپنی حقیقی جذباتی کیفیت چھپانے کے عادی ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے نفسیاتی الجھنیں ان کے اندر ہی اندر پروان چڑھتی رہتی ہیں۔ نتیجتاً یہ لوگ جذباتی طور پر کھوکھلے ہوجاتے ہیں اور دوسروں کے سامنے اپنا حالِ دل بیان کرنے کے بجائے مایوسی کی دلدل میں اترتے چلے جاتے ہیں؛ اور بالآخر خودکشی کرلیتے ہیں۔

اس مطالعے کی تفصیلات تحقیقی مجلے ’’جاما سائیکیاٹری‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

The post ’’مضبوط اعصاب‘‘ والے مردوں میں خودکشی کا زیادہ رجحان ہوتا ہے، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2w5MODs

موٹاپا جان لیوا بیماریوں تک لے جاتا ہے، ماہرین صحت

کراچی: ماہرین صحت نے کہا ہے کہ پاکستان میں ساڑھے4کروڑافراد موٹاپے کاشکار ہیں جبکہ ایک کروڑ40 لاکھ کے قریب بچے موٹاپے کے مرض میں مبتلاہیں.

ماہرین صحت نے پریس کلب میں موٹاپے (اوبیسٹی)کے موضوع پرمنعقدہ کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ہرسال 40 لاکھ افراد موٹاپے اوراس سے لاحق بیماریوں کے نتیجے میں ہلاک ہورہے ہیں، موٹاپے سے لاحق بیماریوں کے سبب پاکستان میں معذورافراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جبکہ اوسط عمر بھی 5سے 10 سال کم ہو رہی ہے، عوام سمیت اسکول جانے والے بچوں میں موٹاپے سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے، موٹاپے کی وجہ سے لاحق بیماریوں کے سبب پاکستان میں معذورافراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جبکہ اوسط عمر بھی 5 سے 10 سال کم ہو رہی ہے۔

سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر و کپتان یونس خان، سرجن ڈاکٹر تنویر راضی احمد، پاکستان سائیکاٹرک سوسائٹی کے صدر پروفیسر اقبال آفریدی، پاکستان نیوٹریشن اینڈ ڈائبیٹک سوسائٹی کی صدر فائزہ خان اور وائس پریزیڈنٹ رابعہ انور نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔

ڈاکٹر تنویر راضی احمد نے کہا کہ پاکستان میں ساڑھے 4کروڑ افراد بشمول ڈیڑھ کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں ہونے والی بیماریوں سے پاکستان میں معذور افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ،لوگوں کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے کہ موٹاپا قابل علاج بیماری ہے لیکن اس کے نتیجے میں ہونے والی دیگر بیماریوں سے پاکستان میں ہر سال 40لاکھ لوگ مرجاتے ہیں، موٹاپے کے نتیجے میں ہونے والا سب سے اہم خطرہ مختلف اقسام کے کینسرز ہیں، موٹاپے کے باعث عورتوں میں چھاتی اور بچہ دانی کا کینسر جبکہ مردوںمیں جگرکاکینسرہوجاتاہے۔

عوام سمیت اسکول جانے والے بچوں میں موٹاپے سے بچاؤکے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے، موٹاپے سے بچاؤ کے لیے نوجوانوں اور بچوں میں آگاہی پیداکی جائے تاکہ وہ آنے والی بیماریوں اور معذوری سے محفوظ رہ سکیں، حکومتی اور نجی اداروں کو مل کر اس وباکے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کرکٹر یونس خان نے کہاکہ لوگوںکواپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ وہ اپنے والدین اور بچوںکاخیال رکھ سکیں، موٹاپا ایک بیماری ہے اوراس سے بچاؤکاواحدراستہ خودکومتحرک رکھناہے،کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ ہونے چاہیں لیکن بہت زیادہ فٹنس ٹیسٹ لینے سے کھلاڑیوں پرذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی نے کہا کہ موٹاپے کی وجہ سے ڈپریشن اور چڑچڑے پن میں اضافہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں دیگر بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں، اس وقت پاکستان میں خوراک کی زیادتی اورکمی کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، موٹاپے کا سوچ، رویے اور جزبات سے براہ راست تعلق ہوتا ہے۔

ماہر غذائیت فائزہ خان نے کہا کہ ہمارے ملک کی 50فیصد سے زائدآبادی جن بیماریوں کا شکار ہے ان کا تعلق غذا سے ہے، متوازن غذاکے استعمال سے موٹاپے کوروکا جاسکتا ہے، طرز زندگی کو بہتر بنانے اور عوام میںآگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے،معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے سب کو مل کر اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

The post موٹاپا جان لیوا بیماریوں تک لے جاتا ہے، ماہرین صحت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2wO0p2K

Monday, 24 February 2020

کورونا وائرس عالمگیر وبا بن سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت کی وارننگ

جنیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایران، اٹلی اور جنوبی کوریا میں ناول کورونا وائرس کے نئے کیسز ’’انتہائی تشویشناک‘‘ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ یہ وائرس اب تک عالمگیر وبا (پینڈیمک) نہیں بنا ہے لیکن اس میں عالمی وبا بننے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔

’’فی الحال ہم اس وائرس کے بے قابو انداز میں عالمی پھیلاؤ کا مشاہدہ نہیں کررہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر شدید بیماری یا اموات کے شواہد ہمارے پاس ہیں،‘‘ انہوں نے میڈیا کو بتایا۔

یہ خبر بھی پڑھیے: کرونا وائرس ہے کیا؟ 10 بنیادی سوالات کے جوابات

’’میں تمام ممالک کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ امید، ہمت اور اعتماد رکھیں کہ اس وائرس پر قابو پایا جاسکتا ہے؛ اور درحقیقت بہت سے ممالک نے ایسا کر بھی لیا ہے،‘‘ ٹیڈروس نے کہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابھی ناول کورونا وائرس کےلیے ’’عالمگیر وبا‘‘ کا لفظ استعمال کرنا مناسب نہیں کیونکہ اس سے یقینی طور پر بہت خوف پھیلے گا۔

یہ مضمون بھی پڑھیے: 98 فیصد مریضوں میں کورونا وائرس خود ختم ہو جاتا ہے، ماہرین طب

البتہ عالمی ادارہ صحت میں ہیلتھ ایمرجنسی پروگرام کے سربراہ مائیک ریان نے کہا کہ ہمیں ابھی سے ایسی تیاریاں شروع کردینی چاہئیں جو کسی ممکنہ عالمی وبا سے نبرد آزما ہونے کےلیے کی جاتی ہیں۔

ناول کورونا وائرس کی عالمی وبائیت اور ہلاکت خیزی کے بارے میں جامعہ کراچی کے عالمی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے ’’ایکسپریس نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس وائرس کے خطرے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین میں ناول کورونا وائرس سے اموات اس لیے کم ہیں کیونکہ انہوں نے ہنگامی طور پر بہترین حفاظتی طبّی اقدامات کیے ہیں۔ لیکن جن دوسرے ممالک میں یہ وائرس پہنچ رہا ہے، ان میں سے بیشتر ملکوں میں صحت سے متعلق سہولیات انتہائی ناقص ہیں۔ اسی بناء پر ناول کورونا وائرس کے عالمگیر وبا بننے کا خطرہ بہت شدید ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیے: ایران میں کورونا وائرس سے 50 افراد ہلاک

ناول کورونا وائرس کی موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ اس سے اب تک چین سمیت 31 ممالک میں 80,150 افراد متاثر ہوچکے ہیں جن میں سے 2,701 لوگ موت کے منہ میں جاچکے ہیں جبکہ 27,672 صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیے: ناول کورونا وائرس کا توڑ؛ صحت یاب ہوجانے والوں کا بلڈ پلازما

سرِدست دنیا بھر میں ناول کورونا وائرس کی بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد 49,777 ہے جن میں سے 40,563 افراد اوسط درجے پر متاثر ہیں جبکہ 9,214 کی حالت شدید خراب ہے۔

گزشتہ روز عراق، افغانستان، کویت، اومان اور بحرین میں بھی ناول کورونا وائرس کے اوّلین مریضوں کا انکشاف ہوا؛ اور یہ تمام لوگ حال ہی میں ایران سے ہو کر آئے تھے۔

اُدھر ایران میں بھی ناول کورونا وائرس کی وبا تشویشناک صورت اختیار کررہی ہے جس میں سرکاری اور غیر سرکاری اعداد و شمار میں فرق اس کیفیت کو اور بھی زیادہ پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ایران کے سرکاری ذرائع کے مطابق وہاں کورونا وائرس سے 6 اموات ہوئی ہیں لیکن نیم سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق یہ تعداد کم از کم 50 ہے؛ اور خدشہ ہے کہ اصل تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

The post کورونا وائرس عالمگیر وبا بن سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت کی وارننگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2STvZEG

ڈیری مصنوعات کا باقاعدہ استعمال فالج کا خطرہ کم کرسکتا ہے، تحقیق

 لندن: ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں کہا ہے کہ دودھ ، دہی، پنیر اور ڈیری سے بنی مصنوعات کا باقاعدہ استعمال مستقل اپاہج بنانے والے خوف ناک مرض فالج کے خطرے کو دور رکھتا ہے۔

یہ تحقیق آکسفرڈ یونیورسٹی میں ہوئی جس میں ایک بہت بڑا سروے کیا گیا۔ سروے میں یورپ کے 9 ممالک کے 4 لاکھ افراد نے کم ازکم ایک سال تک کے لیے حصہ لیا اور ان سے سوال نامے پر کروائے گئے جس میں لوگوں سے ان کی صحت اور غذا کے بارے میں ایک مخصوص عرصے تک سوالات کیے گئے۔

سروے سے نتیجہ برآمد ہوا کہ ڈیری مصنوعات اس انتہائی تکلیف دہ فالج کے حملے کو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح روزانہ ایک گلاس دودھ پینے سے اشکیامک اسٹروک کا خطرہ پانچ فیصد کم ہوسکتا ہے۔

دودھ اور اس سے بنی اشیا کے علاوہ شرکا سے پھلوں اور سبزیوں کے متعلق بھی سوالات کیے گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ریشے دار (فائبر) پھل اور سبزیوں کا استعمال بھی ہر طرح کے فالج سے دور رکھتا ہے۔ اگرچہ اس سے قبل ڈیری مصنوعات کو دل کے لیے مضر قرار دیا جاتا رہا تھا لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ دودھ اور اس سے بنی اشیا بلڈ پریشر کو بھی قابو میں رکھتی ہیں۔

اس تحقیق کی تفصیلات یورپی ہارٹ جرنل میں شائع ہوئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ روزانہ دو سو گرام پھل اور سبزیاں کھائی جائیں تو اس سے فالج کا خطرہ 13 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انڈہ مضر نہیں اور درحقیقت ایک انڈہ کھانا فالج روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

The post ڈیری مصنوعات کا باقاعدہ استعمال فالج کا خطرہ کم کرسکتا ہے، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/39YFYyn

پرامید جیون ساتھی آپ کی دماغی صحت بھی اچھی رکھتا ہے، تحقیق

مشی گن: امریکا میں کیے گئے ایک 8 سالہ مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ اگر کسی فرد کا جیون ساتھی پُرامید رہنے والا ہو تو خود اس فرد کی اپنی ذہنی کیفیت بھی اچھی رہتی ہے جبکہ سیکھنے سے متعلق اس کی صلاحیتیں (اکتسابی صلاحیتیں) بھی بخوبی کام کرتی رہتی ہیں۔

آسان الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر شوہر کی سوچ پرامید ہو تو اس کا فائدہ بیوی کو بھی ہوتا ہے جبکہ بیوی کی پرامید سوچ، شوہر کے ذہن اور اکتسابی صلاحیتوں کو بہتر بناتی ہے۔

مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی میں یہ مطالعہ 4,457 امریکی جوڑوں پر کیا گیا جن کی عمریں 50 سال یا اس سے زیادہ تھیں۔ مطالعے کی ابتداء سے لے کر اختتام تک، دو سال کے وقفے سے ان جوڑوں میں شوہر اور بیوی، دونوں سے اُمید اور رجائیت پسندی جانچنے کے لیے سوال نامے پُر کروائے گئے۔ ان کے ساتھ ساتھ بھروائے گئے ایک اور سوال نامے کا مقصد ان میں ذہنی صحت، بالخصوص سیکھنے کی صلاحیت کا تجزیہ کرنا تھا۔

آٹھ سال کے دوران جمع کیے گئے اعداد و شمار اور نتائج سے یہ بات واضح ہوئی کہ اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک بھی پُرامید ہو تو دوسرے کی ذہنی صحت بھی اچھی دیکھی گئی جبکہ اس نے ادھیڑ عمری کے باوجود بھی بہتر اکتسابی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

اس مطالعے کی تفصیلات ’’جرنل آف پرسنیلٹی‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ پرامید اور رجائیت پسند جیون ساتھی کا دماغی صحت اور اکتسابی صلاحیتوں کی بحالی سے تعلق تو ہے لیکن اب بھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ آیا جیون ساتھی کا پرامید ہونا ہی اس کی وجہ ہے یا دیگر عوامل بھی اس معاملے میں اپنا اپنا کوئی کردار ادا کرتے ہیں۔

The post پرامید جیون ساتھی آپ کی دماغی صحت بھی اچھی رکھتا ہے، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3c5x1VV

Sunday, 23 February 2020

پھیپھڑوں کو صحتمند رکھنے کے لیے ان تین باتوں پر عمل کیجئے

 نیویارک: پھیپھڑے جسم میں ایک نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی تندرستی سے ہر عضو کی صحت وابستہ ہے کیونکہ آکسیجن جذب کرنے  اور اسے پورے بدن تک پھیلانے کاعمل پھیپھڑوں میں ہی شروع ہوتا ہے۔

نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں پھیپھڑوں کی منتقلی کی ماہر لوری شاہ کہتی ہیں کہ ایک مرض سی او پی ڈی یعنی کرونِک آسٹرکٹوو پلمونری ڈیزیز میں سانس لینے میں دقت ہوتی ہے ۔ یہ مرض تمباکو نوشی، کمزور امنیاتی نظام اور ماحولیاتی آلودگی یا زہریلے نظام میں کام کرنے سے لاحق ہوسکتا ہے۔

لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ سی او پی ڈی کا علاج بھی ممکن ہےاور صرف تین اہم باتوں پر عمل کرکے اس سے دور رہا جاسکتا ہے۔

تمباکو نوشی ترک کردیجئے

سگریٹ نوشی پھیپھڑوں کی نمبر ایک دشمن ہے جو دل کو بھی شدید متاثر کرتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے سگریٹ نوشی ترک کردی جائے۔ سگریٹ سی او پی ڈی ، سانس کے امراض اور کینسر کی بڑی وجہ بھی ہے۔

جیسے ہی سگریٹ ترک کی جائے سانس کا نظام اور پھیپھڑے تیزی سے صحتمند ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور روبہ صحت ہوجاتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ سگریٹ چھوڑدی جائے ۔ قدرت نے پھیپھڑوں میں اپنی بحالی کی حیرت انگیز صلاحیت رکھی ہے۔

باقاعدگی سے ورزش

پیراکی جیسی ایئروبک ورزشیں ایک جانب تو انسانی قوت بڑھاتی ہیں تو دوسری جانب پھیپھڑوں کو تقویت دیتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ایسی ورزشیں کی جائیں جس سے سانس پھولے اور پھیپھڑوں میں مناسب ہوا داخل ہو۔

برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف 12 ہفتے کی ورزش سے درمیانےدرجے کی سی او پی ڈی کے شکار مریض بہتر محسوس کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ہفتے میں تین سے چار مرتبہ نصف گھنٹے کی واک، سائیکل چلانے سے بھی پھیپھڑے مضبوط ہوتے ہیں۔ اس سے ڈپریشن بھی دور ہوتی ہے اور صحت پر مجموعی طور پر بہتر اثر پڑتا ہے۔

وزن کم کیجئے

اپنےوزن کو ایک حد میں رکھ کر پھیپھڑوں کی صحت کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ زائد وزن اور فربہ خواتین و حضرات کے گوشتت اور چربی کا وزن ان کے پھیپھڑوں پر پڑتا ہے اور انہیں سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔ اسی لیے کوشش کیجئے کہ وزن کو معمول پر رکھا جائے ۔ غذا اور ورزش کی مدد سے وزن کو کم کیا جاسکتا ہے۔

The post پھیپھڑوں کو صحتمند رکھنے کے لیے ان تین باتوں پر عمل کیجئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/32pFRcG

Saturday, 22 February 2020

یاداشت کی کمرزوری کیوں واقع ہوتی ہے؟

سورج کی پہلی کرن نکلتے ہی ہر طرف چہل پہل بڑھنے لگی۔ روزانہ کے معمول کے مطابق بچوں اور اپنے میاں کا ناشتہ بنانے کے لیے رابیعہ (فرضی نام) بے حد مصروف تھی۔ اسی دوران ماتھے پر تیوری چڑھائے ان کے شوہر اجمل سر پر آکھڑے ہوئے۔ رابیعہ نے گھبرا کردیکا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں وجہ پوچھ ڈالی۔ ’’تم نے میری نیوی بلیو فائل کہاں رکھی ہے؟‘‘ بہت دیر سوچنے کے بعد بھی رابیعہ کو جب جواب نہ مل پایا کہ فائل کہاں رکھی تو کہا پتہ نہیں میں کہاں رکھ کر بھول گئی۔ اور بس یہیں سے جھگڑا شروع ہوگیا۔

بچے الگ سہمے بیٹھے ناشتے کو، تو کبھی لڑے جھگڑتے ماں باپ کو دیکھتے۔ ’’یہ تمہارا روز کا معمول ہے‘‘ اجمل نے بیزاریت بھرے لہجے میں کہا اور روزانہ جھگڑے کا اختتام اسی جملے پر ہوا کرتا کیونکہ… خیر اس وقت کچھ لوگ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر رابیعہ بیچاری فائل رکھ کر بھول گئی تو اس میں اس کا کیا قصور؟ اور کچھ لوگوںکا یہ بھی خیال ہوگا کہ شوہر نے خود اپنی چیزوں کا خیال کیوں نہیں رکھا۔ تو آپ کی ہمدردی کس کے ساتھ ہے؟ خیر قارئین کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ تو جھگڑوں کی ایک ہلکی سی جھلک ہے اس طرح کے کئی جھگڑے روزانہ کی بنیاد پر ہوتے ہیں جن محرک رابیعہ کی بھولنے، خاص طور پر چیزیں رکھ کر بھول جانے کی عادت ہے۔

بچوں کی کتابیں ہوں یا شوہر کی جرابیں، رابیعہ اپنی قوی یادداشت کے سبب رکھ کر بھول جاتی ہیں۔ ایسا صرف یہی نہیں ہوتا بلکہ آج کل کم و بیش ہر گھر کی یہ صورت حال ہے۔ خواتین اس کا زیادہ شکار کیوں اور کیسے ہوتی ہیں۔ یہ کافی طویل گفتگو ہے لیکن یادداشت کی کمزوری واقعتاً ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکی ہے جس سے بوڑھے تو بوڑھے نوجوان بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔

زندگی جب مصروف ہوجائے تو یادداشت کی کمزوری واقع ہوجانا ایک امر ہے مگر بعض اوقات یہ وبال جان بھی بن جاتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یادداشت کی کمزوری کے پیچھے جہاں دوسرے عوامل کارفرما ہوتے ہیں ونہی جینز کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ خاص طور پر ذہنی امراض جیسے الزائمرز کے مرض میں۔ لیکن اس کے بعد آنے والی تحقیق اس بات پر زور ڈالتی دکھائی دیتی ہے کہ متوازن خوراک اور طرز زندگی یادداشت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ آج کے دور میں جہاں ہم ہر بیماری کے علاج کے لیے دواؤں پر انحصار کرتے ہیں وہاں ہم دراصل قدرت کے بنائے ہوئے اصولوں کو فراموش کرنے کی سزا کاٹ رہے ہوتے ہیں۔

میٹھا

ویسے تو شاید سب نے یہ سن رکھا ہو کہ زیادہ میٹھا کھانے سے دماغ تیز ہوتا ہے لیکن ایسا زیادہ میٹھا جیسے آپ تیار ہوئی چیز میں اوپر سے مزید ڈال کر کھاتے ہیں وہ ناصرف صحت کے مسائل پیدا کرتا ہے بلکہ دائمی مسائل جیسے کہ ذہنی استدعا کو بھی متاثر کرتا ہے۔

تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ چینی سے بھرے کھانے ناصرف کمزور یادداشت بلکہ ذہن کے حجم کو کم کرنے خصوصاً محدود یادداشت کو ذہن میں محفوظ نہ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک تحقیق میں (4000) چار ہزار افراد جوکہ زیادہ میٹھا کھاتے اور پیتے انہیں کم میٹھا کھانے اور پینے والے افراد کی نسبت یادداشت کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بہت زیادہ میٹھا دماغی صحت کے لیے درست نہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ میٹھا کھانا ہی بند کردیا جائے۔ میٹھا کاربوہائٹس کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ضرور کھانا چاہیے لیکن اس کی مقدار کے معملے میں احتیاط برتنا ضروری ہے۔

مچھلی کا تیل

مچھلی کا تیل اومیگا تھری Omega-3 آئل سے بھرپور ہوتا ہے جس میں ایکوسپٹانک ایسڈ (EPA) اور ڈوکوسکینیک ایسڈ (DHA) موجود ہوتے ہیں جوکہ بنیادی طور پر صحت کے لیے سود مند ہونے کے ساتھ دل کی بیماریوں، سوجن، دباؤ اور دماغی امراض سے بھی بچاتے ہیں۔ بہت سی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مچھلی کے تیل میں موجود سپلی منٹس ذہنی استعداد کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ دماغ کو قوت بھی فراہم کرتے ہیں۔ خصوصاً بڑی عمر کے افراد میں یہ چیز زیادہ دیکھنے کو ملی۔ چونکہ عمر بڑھنے کے ساتھ جہاں باقی جسم کمزوری کا شکار ہوتا ہے۔ ونہی یادداشت بھی آن کی زد میں آجاتی ہے۔

چھتیس برس کی عمر کے افراد پر کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ انہیں مختصر عرصے کے لیے باتوں کو یاد رکھنے اور اپنی یادداشت کو بہتر بنانے میں مسلسل بارہ ماہ اومیگا آئل/ فیش آئل سپلی مینٹ سے مدد ملی۔ گزشتہ 28 ریسرچ پہ نگاہ ڈالنے سے یہ خلاصہ سامنے آیا کہ بڑھتی عمر میں گھٹتی یادداشت کو بہتر بنانے کے لیے DHA اور EPA جیسے فیٹس جیسے کہ مچھلی کے تیل میں پائے جاتے ہیں۔ نفع بخش ہوتے ہیں۔ DHA اور PHA دونوں ذہنی صحت کی بہتری اور بہترین کارکردگی کے لیے مفید ہونے کے ساتھ جہاں یادداشت کو بہتر بنانے میں معاون ہیں ونہی جسمانی سوجن سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔

مراقبہ

مراقبہ کا لفظ آتے ہی لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ شاید کوئی گیان دھیان والے، بزرگ یا کوئی اللہ والے ہی مراقبہ کرسکتے ہیں۔ مگر درحقیقت مراقبہ کا تعلق آپ کے ذہنی سکون سے ہے کیونکہ یہ عادت اپنانے سے آپ کی صحت پر بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔ یہ سکون بخش اور درد کشا ہونے کے ساتھ ساتھ یادداشت کو بھی بہتر بنانا ہے۔ مراقبہ کرنے سے ذہن کے اندر دماغ کے اندر اندر گرے میٹر بڑھتا ہے۔

جوکہ سیل باڈیز پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کا کام یادداشت کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔ اگر گرے مادہ گھٹ جائے تو اس کے نتائج یادداشت اور شعور کی خرابی کی صورت نکلتے ہیں۔ سکون آور تراکیب اور مراقبہ تمام عمر کے لوگوں میں محدود یادداشت کو محفوظ رکھنے کے لیے بہترین عمل ہیں۔

تائیوان کے طلباء پر کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ طلباء جوکہ مراقبہ کرتے ہیں ان کی یادداشت مراقبہ نہ کرنے والے سٹوڈنٹس کی نبت بہت قوی ہوتی ہے۔ متوازن یادداشت سے مراد دماغ کی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے کسی بھی چیز کو دیکھا سمجھا اور اس سے متعلق معلومات کو ذہن نشین کیا جاسکتا ہو۔

نیند

ایک تندرت ذہن تندرست جسم میں ہوتا ہے۔ یہ محاورا درست ہے کیونکہ ذہن کو اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے ایک تندرست صحت مند جسم درکار ہوتا ہے تاکہ ذہن نئے خیالات پر عمل پیرا ہونے کا سوچ سکے۔ اگر جسم ہی بیمار ہو اور اپنی بہتر حالت میں نہ ہو تو ذہن اس خرابی کے بارے میں تو سوچ ہے مگر نئے خیالات کے حوالے سے نہیں۔ اس ضمن میں وزن کا اہم کردار ہے۔ بہت سی تحقیقات اس طرف واضح اشارہ کرتی ہیں کہ موٹاپا ذہنی استعداد میں کمی کی بڑی وجہ ہے۔ حیرت انگیز طور پر موٹاپے سے ذہن کے جنیز پر اثر پڑتا ہے اور یادداشت سے سوجن پیدا ہوتی ہے اور انسولین میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جس کا ذہن پر منفی اثر پڑتا ہے۔

18 سے 35 برس کے افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ جسم کے بڑھتے حجم اور بدترین ذہنی کارکردگی میں مثبت تعلق پایا جاتا ہے۔ الزائمر کی ایک بڑی وجہ موٹاپا بھی ہے جس سے شعور اور یادداشت تباہ وکر رہ جاتے ہیں۔

نیند میں کمی یادداشت کی خرابی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دور حاضر میں جہاں ہر شخص ایک مصروف زندگی گزار رہا ہے اور آسائشات کے لیے تگ و دو کررہا ہے وہاں نیند اور آرام کے لیے بہت کم وقت نکلتا ہے جس سے جسمانی اور ذہنی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ نیند جہاں یادداشت کو استحکام بخشتی ہے ونہی محدود یادداشت کو قوی یادداشت میں بدلنے کا کام کرتی ہے۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ کم سونے سے یادداشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ نرسیں جو رات کی ڈیوٹی کرتی ہیں دن میں ڈیوٹی کرنے والی نرسوں کے مقابلے میں 68% فیصد زیادہ غلطیاں کرتی ہیں۔ جن میں نمایاں غلطی ریاضیات سے متعلق ہوتی ہیں۔ ماہرین کے نزدیک آٹھ سے نو گھنٹے سونا صحت اور یادداشت کی بہتری کی علامت ہے۔

 فکر و تدبر

ذہن اللہ کی عطا کردہ ایسی نعمت ہے جس کو جس قدر استعمال کریں وہ اتنی فعال ہوگی۔ فکر کرنے سوچنے سے مراد اکثر بس ٹینشن اور پریشانی لی جاتی ہے لیکن دراصل فکر ذہن کی وہ حالت موجود ہے جس میں ذہن سمجھنے محسوس کرنے اور اپنے اردگرد سے باخبر رہنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ فکر و تدبر کو مراقبہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ دونوں ایک ہی سکے کے دوزخ نہیں۔ مراقبہ ایک باقاعدہ عمل ہے جبکہ فکر ایک ذہنی عادت ہے جو کسی بھی حالت میں کی جاسکتی ہے۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ فکر و افکار انسان کے ذہن سے دباؤ کو کم کرنے میں معاونت فراہم کرنے کے ساتھ یادداشت کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔

سیکالوجی کے 293 طلباء پہ کی جانے والی ایک تحقیق کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ وہ طلباء جو فکر پر دھیان نہیں دیتے انہیں دوسرے طلباء کی نسبت چیزوں کو یاد کرنے اور دوہرانے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مزید اس سے عمر کے ساتھ شعوری سطح پر پیدا ہونے والے مسائل سے بھی بچا جاسکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی روزمرہ زندگی میں فکر کرنے کے لیے تھوڑا وقت نکالیں۔ چیزوں کو پرسکون انداز میں سوچنے کی کوشش کیجئے اس سے یادداشت بہتر ہوگی۔

کھیل

آج کے دور کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ٹیکنالوجی پر انحصار کرکے خود کو بیکار بنالیا ہے جس سے ذہنی صلاحیت بڑھنے کے بجائے گھٹنے لگی ہے۔ ایک وقت تھا جب ایسی ذہنی صلاحیت کو استعمال کرنے والے کھیل کھیلے جاتے تھے جن سے ذہانت بڑھتی تھی مگر آج موبائل اور کمپیوٹر پر موجود کھیل صرف وقت کھانے کا ذریعہ ہیں۔ لفظی معمات، لفظوں کو یاد کرکے دہرانا اور پزل ایسی کھیل ہیں جن سے ذہنی استعداد کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ بیالس افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کے شعوری سطح پر کچھ مسائل تھے۔ آٹھ گھنٹوں تک مسلسل چار ہفتے برین ٹرین ایپ پر گیم کھیلنے سے ان کی یادداشت میں بہتری آئی۔ ایک اور تحقیق میں چار ہزار سات سو پندرہ افراد کو شامل کیا گیا اور دیکھا گیا کہ جو لوگ اپنے ذہن کو بہتر بنانے کے لیے ہفتے میں 5 دن پندرہ منٹ کے لیے کسی آن لائن برین ٹرین کا استعمال کرتے ہیں انہیں اپنی یادداشت کو بہتر بننے، غور و فکر کرنے اور مسائل کے حل کی جانب متوجہ ہونے میں مدد ملتی ہے۔ ذہن کو تیز بنانے والی کھیلیں بڑی عمر کے افراد کو ڈینشیا (ذہنی بگاڑ) سے بھی بچانے میں مدد دیتی ہیں۔

کاربوہائیڈریٹس

کاربوہائیڈریٹس ویسے تو صحت کے لیے بہت ضروری ہیں مگر کچھ صورتوں میں ان کا استعمال ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ کاربز کوکیک، کوکیز، سفید چاول، سفید آٹے اور اناج (گندم، مکئی، چنے، جوء سرؤں وغیرہ) کی شکل میں زیادہ مقدار استعمال کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ ایسی خوراک جسم میں بلڈ شوگر کو بڑھا دیتی ہے۔ بیرون ممالک ریفائڈ کاربوہائیڈریٹس والی غذا پر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایسی غذائی، ڈیمنلشیا، شعوری تعطل اور مسائل پیدا کرتی ہے۔ 317 بچوں پر کی جانے والی ایک ریسرچ سے پتہ چلا کہ فاسٹ فوڈ، سفید چاول اور نوڈلز کھانے والے بچوں کی شعوری پختگی اور مختصر یادداشتیں دوسرے بچوں کی نسبت کمزور ہیں۔ ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ بالغ افراد جوکہ ریفائنٹ آٹا اور اناج کھاتے ہیں وہ سادہ اناج کھانے والوں کی نسبت یادداشت اور ذہنی امراض کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

وٹامنز

وٹامنزکا صحت کے ضمن میں اہم کردار فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ وٹامن ڈی بھی ہمارے جسم کی نشوونما میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جسم میں اگر وٹامن کی مقدار کم ہوجائے تو یہ اس بات کے مترادف ہے کہ بیماریوں کو خود دعوت دی جائے۔ ایک ریسرچ سے یہ حقائق سامنے آئے کہ وہ افراد جن کے خون میں وٹامن ڈی 20 نینو گرام فی میل پایا جاتا ہے ان میں ذہنی صلاحیتیں زیادہ تیزی سے پروان چڑھ جاتی ہیں۔ کم مقدار میں وٹامن ڈی کا نتیجہ ڈیمنشیا کی صورت نمودار ہوسکتا ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اگر آپ کسی ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں سرد موم ہے تو آپ کو اس کی کمی وری کرنے کے لیے وٹامن ڈی کے سپلی مینٹس ضرور لینے چاہئیں۔

 ورزش

ورزش ذہنی و جسمانی صحت کی ضمانت ہے۔ اب تو یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ خواہ انسان کا تعلق عمر کے کسی بھی حصے سے ہو ورزش اس کی یادداشت کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ 19 برس سے 93 برس کے 144 افراد پر کی گئی ایک ریسرچ سے معلوم ہوا کہ جو لوگ روزانہ 15 منٹ سائیکل چلانے کی ورزش کرتے ہیں ان کی ذہنی استعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ یادداشت بھی بہتر ہوتی ہے۔

بہت سی ریسرچز نے یہ بھی بتایا کہ ورزش کرنے سے نیوروپووٹیکٹو پروٹین رطوبتیں پیدا ہوتی ہیں جو نیو رونز کی نشوونماء کرنے کے ساتھ انہیں باحفاظت دماغ تک لے جاتی ہیں۔ بڑی عمر میں باقاعدگی سے ورزش کرنا بھولنے کی بھاری سے بچاسکتا ہے۔

سوزش

رافع سوزش (سوزش کم کرنے والے) خوراک کا استعمال یادداشت کو بہتر بناتا ہے۔ اینٹی اکسیڈنٹ مادے جسم میں سوزش کو کم کردیتے ہیں جیسا کہ پھل، سبزیاں اور قہوے۔ 13,000 افراد پر مشتمل ایک سروے سے معلوم ہوا کہ جو لوگ زیادہ پھل اور سبزیاں کھاتے ہیں وہ یادداشت کے مسائل سے کم ہی دوچار ہوتے ہیں۔ بیریز میں اینٹی اکسیڈنٹ زیادہ موجود ہوتے ہیں جوکہ یادداشت کو کم ہونے سے بچاتے ہیں۔ 16,000 خواتین پر کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ خواتین جو سٹابریز اور بلیو بیریز زیادہ کھاتی ہیں، ناکھانے والی خواتین کی بانسبت کم یادداشت کے مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔

 ہلدی

ہلدی کے بارے میں بزرگ خواتین سے فوائد سن کر تو شاید آپ یقین نہ کرتے ہوں مگر اب جدید سائنس نے بھی یہ ثابت کردیا ہے کہ ہلدی میں موجود اینٹی اکسیڈنٹس جسم میں سوزش کو روکنے کا کام کرتے ہیں اور نیورونز کو دماغ تک باآسانی پہنچنے میں مدد فراہم کرتے ہیں جس سے یادداشت جانے کا خدشہ کم سے کم ہوتا ہے۔ جانوروں پر کی جانے والی متعدد ریسرچز سے تو یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ہلدی یادداشت کو بہتر بناتی ہے اور شعور کو نقصان سے بچاتی ہے۔

 روابط

دور حاضر  میں جہاں ہر شخص مصروفیت کا شکار ہے وہاں ملنا جلنا اور معاشرتی روابط کا رحجان ماند پڑ چکاہے۔ رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنا ملانا فقطہ شادی بیاہ اور فوتگی تک محدو ہو کر رہ گیا ہے۔ لیکن تحقیق سے بات سامنے آئی ہے کہ جو شخص معاشرتی روابطہ رکھتا ہو وہ یاداشت کے مسائل کا کم شکار ہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب لوگ آپس میں ملتے ہیں تو ذہنی دباؤ اور ڈپریشن سے چھٹکارا ملتا ہے جو کہ یاداشت کی کمی کی بڑی وجہ بنتا ہے۔ اسی لئے ضروری ہے کہ اپنے دوستوں خاندان کے افراد اور کولیگز کے ساتھ وقتاً فوقتاً ملتے رہیں اور کوشش کریں کے ملاقات خوش گوار موڈ میں ہو جس کا محرک کوئی کام نہ ہو بلکہ وہ لیئر ٹائم ہو جسے گزار کر آپ اپنے آپ کو پرسکون وتوانا محسوس کریں۔ جب ذہن پر سکون ہو گا تو یاداشت خود بخود ٹھیک رہے گی۔ پھر کچھ بھی دوہرانا یا اپنی یاداشت میں محفوظ کرنا مشکل نہ رہے گا۔

نظم و ضبط

اس وقت بے حد پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کوئی چیز ڈھونڈنا مقصود ہو اور وہ چیز مل نہ رہی ہو بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ یہ تو یاد ہوتا ہے چیز رکھی تھی کہاں رکھی تھی یہ بھولنا وبال جان سے کم نہیں ہوتا کیونکہ اسے ڈھونڈنے کی خاطر ہر چیز کو اپنی جگہ سے ہلا دینا بھی پریشانی کا باعث بنتا ہے۔

اس کی ایک بنیادی وجہ اپنے روز معاملات میں نظم وضبط کا نہ ہونا ہے۔ اپنے ذہن میں اگر چیزوں کو ترتیب دے لیا جائے مثلاً آج کیا کرنا ہے؟ کس سے کس دن ملاقات کرنی ہے؟ کونسا وقت فارغ مل سکتا ہے۔اس قسم کے سوالات کا جواب اگر ذہن میں ترتیب دے دیا جائے تومشکل نہیں ہوتی لیکن اس کا ایک اور طریقہ یہ بھی ہے کہ کیلنڈر یا کسی ڈائری یا اپنے موبائل فون کے نوٹس میں لکھ لیا جائے ایسا کرنے سے بھولنے والا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ چیزوں کو یاد کرنے کیلئے اونچی آواز میں بھی دوہرایا جا سکتا ہے جس سے ذہن کو باور کرایا جاتا ہے کہ کونسا کام کب کرنا ہے۔

ترجیحات بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اگر انسان یہ طے کر لے کہ کونسا کام اس کے لئے زیادہ ضروری ہے تو وہ وہ بے کار کام جن پہ وقت ضائع ہوتا رہتا ہے ان سے جان چھوٹ سکتی ہے ۔ ایک وقت میں ایک کام کرنا بہتر میں عمل ہے کیونکہ اس سے توجہ ایک جگہ مرکوز رہتی ہے اور ذہن میں انتشار پیدا نہیں ہوتا ۔ جس کا یاداشت پہ اچھا اثر پڑتا ہے۔ اپنی ضروری استعمال کی اشیاء کے لئے جگہ ترتیب دینا بھی ایک بہترین اور آسان طریقہ ہے جس سے کوئی بھی چیز ڈھونڈنے میں دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ جیسے اپنے پرس یا بٹوے ‘ چربوں‘ عینک اور دیگر ضروری چیزوں کی کوئی مخصوص جگہ بنا لینے سے ڈھونڈنے کی پریشانی لاحق نہ ہو گی۔

مدد

کوئی بھی چیز یا معاملہ جب ایک حد سے زیادہ خراب ہو جائے تو اس وقت چوکنا ہونے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یاداشت کی کمزوری کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں کہ اسے سر پر سوار کر لیا جائے۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ ’’بھول جانا بھی اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی یاداشت موجود ہے‘‘۔ اپنے روز مرہ معمولات پر دھیان دے کر اپنی یاداشت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ مگر خطرے کی گھنٹی اس وقت بجتی ہے جب آپ اپنی زندگی میں یاداشت کی کمزوری کا بری طرح شکار ہو کر اپنے روز مرہ کے کام سرانجام نہ دے سکیں اگر آپ روزانہ کی بنیاد پر اپنے اندر یاداشت کی کمی کی بدترین نشانیاں جیسے کہ کھانا یا دوا کھانا بھول جاتے ہوں تو آپ کو چوکنا ہونے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں فوری کسی ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر بہترین انداز میں بتا سکے گا کہ یاداشت کہ اس مسئلے کو کیسے حل کرنا ہے۔ اس ضمن میں اگر کچھ ٹیسٹوں کی بھی ضرورت ہو گی تو ڈاکٹر کے ساتھ تعاون کیجئے ۔ سائیکو تھراپی یا بعداوقات دواؤں سے یاداشت کی کمزوری کو دور کیا جا سکتاہے۔

The post یاداشت کی کمرزوری کیوں واقع ہوتی ہے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2PhVkWE

Friday, 21 February 2020

کیمیائی مصنوعات سے فرش کی صفائی ، بچوں میں دمے کی وجہ قرار

کینیڈا: کینیڈا میں کئے گئے ایک طویل سروے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ اگر گھر کے فرش کو بار بار کیمیکل اور دیگر خوشبودار مائعات سے صاف کیا جائے تو اس سے فرش پر کھیلنے والے بچے دمے کے مریض بن سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچے کی زندگی کے ابتدائی تین برسوں میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اس دوران ان کےپھیپھڑے اور نظامِ تنفس تشکیل پارہاہوتا ہے۔ اس لیے والدین کے لیے مشورہ ہے کہ وہ اپنے گھر کے فرش صاف رکھنے کے لیے فینائل اور دیگر جراثیم کش ادویہ کا پونچھا لگانے میں احتیاط کریں۔

سائمن فریزر یونیورسٹی سے وابستہ سائنسداں ٹِم ٹکارو نے کہا ہے کہ اس سے قبل ثابت ہوچکا ہے کہ کیمیکل سے فرش کی صفائی اور بڑی عمر کے افراد میں دمے کے درمیان تعلق ہے۔ ایسے لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں جو اپنا 80 سے 90 فیصد وقت کیمیکل سے بھرے ماحول میں گزارتے ہیں۔ اس سے وہ لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں جن کے پھیپھڑوں اور جلد میں کیمیکل سرایت کرجاتے ہیں۔

کینیڈا میں بچوں پر تحقیق کے ایک ادارے نے 3400 بچوں کا ماں کے پیٹ سے لے کر بچپن تک جائزہ لیا اور اس کے بعد ایک اور تحقیق میں مزید 2000 بچوں کا مطالعہ کیا گیا۔ سروے میں والدین سے 26 مختلف کیمیائی مرکبات کے بارے میں پوچھا گیا جو بچے کے ابتدائی تین برسوں میں استعمال کئے گئے تھے۔ ان میں برتن دھونے کے صابن، سطح صاف کرنے کے اسپرے، ایئر فریشنر اور فینائل وغیرہ شامل تھے۔

سروے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر کسی گھر میں بچے کی پیدائش کے فوری بعد ہی یہ کیمیکل استعمال ہوں تو تین سال کی عمر تک بچے میں دمے یا سانس کے کسی مرض کا خطرہ 37 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ سائنسدانوں نے یہ بھی کہا کہ صفائی ستھرائی کے کیمیائی بخارات بچوں کے سانس کی نالی میں جاکر اوپری تہہ کو متاثر کرتے ہیں اور وہاں سوزش اور تکلیف کی وجہ بن سکتے ہیں۔

اگرچہ اب تک مزید تحقیق نہیں ہوئی لیکن مشاہداتی لحاظ سے کہا جاسکتا ہےکہ کیمیکل اور بچوں میں دمے کے دوران تعلق پایا جاتا ہے۔ لیکن دو سال قبل ناروے اور اسکینڈینیویائی ممالک میں سینکڑوں اسکولوں کے ہزاروں بچوں پر ایک تفصیلی سروے کیا گیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ فینائل کا اندھا دھند استعمال چھوٹے بچوں میں سانس کے امراض اور دمے وغیرہ کی وجہ بن سکتا ہے۔

The post کیمیائی مصنوعات سے فرش کی صفائی ، بچوں میں دمے کی وجہ قرار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/32fPRVG

ٹیرا میڈیکا (Terra Medica) : دواؤں کو زمین سے اُگتا دیکھیے

اسٹیفورٹ میں دوائی پودوں کی کاشت کی حیر ت انگیز دنیا کو ’ٹیرا میڈیکا‘ کہا جاتاہے۔ یہ نام اس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ اسٹیفورٹ میں واقع ’ڈی ایچ یو‘  اور  ’شوابے‘ کے دوائی پودوں کی نرسریاں محض ایسا قطعۂ اراضی نہیں جہاںدوائی پودوں کی کاشت کی جاتی ہے۔

در حقیقت یہ ایک ایسی  سر زمین ہے جہاں دوائی مصنوعات جنم لیتی ہیں  یعنی صحیح معنوں میں ایک ’’ دوائی سر زمین ‘‘۔ ڈی ایچ یو میں پروسیس کیے جانے والے زیادہ تر دوائی پودے’’ ٹیرا میڈیکا ‘‘ میں کی جانے والی ہماری اپنی کاشت سے حاصل کیے جاتے ہیں اور انہیں مثالی حیاتیاتی ما حول میں اُ گایا جاتاہے ۔ یہاں کاشت کیے جانے والے تمام پودے اپنی منفرد خصوصیات رکھتے ہیں ۔ ان تمام پودوں کو نشو و نما پانے کے لیے مختلف اقسام کے ماحول اور حالات کی ضرورت ہوتی ہے، بالکل انسانوں کی طرح جنہیں ان پودوں کے مختلف دوائی اجزاء سے قدرتی شفایا بی حاصل ہوتی ہے۔

اسٹیفورٹ میں تقریبا ً 13ہیکڑ پر محیط سائٹ پر تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کام کرتے ہیں ۔ وہ 600 مختلف دوائی پودوں کی کاشت ، ان کی پرورش اور دیکھ بھال کرتے ہیں ۔ مارچ سے اکتوبر تک ان کا اہم موسم ہے، لیکن وہ سردیوں میں بھی بہت مصروف رہتے ہیں ۔ گرین ہاؤسز میں، بیج کیپسول اور پھولوں کے سروں سے ہاتھ سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ موسم بہار میں دو لاکھ تک پودے کھلی جگہ میں ٹرانسپلانٹیشن کے منتظر ہوتے ہیں۔

دواؤں کے پودے کسی بھی طرح کی ہربیسائیڈ یا کیڑے مار دواکے استعمال کے بغیر اُگتے ہیں ۔ خود اپنی فصلوں کی کاشت کر نے کے بہت سے فوائد ہیں ۔کٹائی انتہائی سازگار مدت کے دوران کی جاسکتی ہے، منصوبہ بندی طویل المدتی بنیاد پر ہو سکتی ہے اور محفوظ پودوں کو ماحول دوست اور پائیدار طریقے سے حاصل کیا جاسکتاہے اور سب سے اہم ’شوابے‘ کی قدرتی دوائیں استعمال کرنے کے لیے دواؤں کے پودے جرمنی کی کاشت سے آتے ہیں اور تصدیق شدہ نامیاتی باغبا نی سے اعلیٰ ترین معیار کی ضمانت دیتے ہیں ۔

گزشتہ صدی کے دوران ڈاکٹر ولمار شوابے نے خود لائپزگ میں دوائی پودوں کی کاشت کی ۔1946میں عالمی جنگ کے بعد کارلسروئے میں نئے سرے سے کمپنی شروع کرنے پر خود اپنے پودے لگانے کو دوبارہ دوائی پودوں کی کاشت میں شامل کیا گیا ۔ 70ئکی دہائی میں ماحولیاتی تحفظ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیشِ نظر ہمارے لیے دوائی پودوں کی کاشت ، اعلیٰ ماحولیاتی اور بلند معیار دوائی پودوںکی فراہمی کو یقینی بنانے کا بہترین طریقہ تھا۔

اسٹیفورٹ میں دوائی پودوںکی کاشت کا آغاز خشک دوائی پودوں کے گودام سے کیا گیا۔ آس پاس کا علاقہ بعد میں حاصل کر لیاگیا تھا اور سائٹ پر دوائی پودوںکی کاشت کے قابل ہونے کے لیے مزید پراپرٹی لیز پر لی گئی تھی ۔ یہ علاقے ٹریفک اور صنعتوں سے بہت دور ہیں لہٰذا یہ ماحولیاتی نقطہ ٔ  نظر سے موزوں ہیں۔ 1977ء میں کھلی جگہوں پر کاشت شروع ہوئی، 1989ء میں دواؤں کے پودوں کی کاشت کے لیے نئے گرین ہاؤسز کو کام میں لایاگیا اور اس پورے باغبانی احاطے کو ’’ٹیرامیڈیکا ‘‘کا نام دیاگیا ہے ۔

The post ٹیرا میڈیکا (Terra Medica) : دواؤں کو زمین سے اُگتا دیکھیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2SP5cJS

کرونا وائرس اور ہومیوپیتھی طریقہ علاج

کرونا وائرس کے نام سے پھیلنے والا وبائی مرض  جو چین کے شہر واہان سے پھیلا، اس وقت دنیا بھر کے29 ممالک میں پھیل چکا ہے جن میں تھائی لینڈ، فرانس، فلپائن، امریکا، آسٹریلیا اور انڈیا، جاپان،ملائیشیا اورجرمنی وغیرہ شامل ہیں۔تادم تحریر عالمی سطح پر مجموعی 75223 ا فراد ’کرونا وائرس‘ سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس وبائی مرض سے چین میں مرنے والوں کی تعداد اب تک 2012 ہوچکی ہے۔ یورپ میں اب تک اس وائرس سے ایک فرد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن) نے کرونا وائرس کو عالمی وباء قرار دیا ہے۔ادارہ نے چین سے پھیلنے والے اس وبائی وائرس کو Covid-19کا نام دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر  ٹیڈروس ایڈانوم نے جینیوا میں میڈیا کو بتایا کہ کرونا وائرس سے جب ہلاکتوں نے ایک ہزار سے تجاوز کیا تو اس مرض کو ایک خاص نام دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ دراصل محققین وائرس کی وجہ سے نمودار ہونے والے مرض کیلئے ایک مخصوص نام رکھنے کا مطالبہ کر رہے تھے تا کہ کسی بھی ملک اور گروپ سے منسوب ہونے والی پریشانی یا طنز سے بچ سکیں۔

اس حوالے سے ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسا نام تلاش کرنا پڑا جو کسی جگہ، جانور،کسی گروپ یا فرد سے نہ ملتا جلتا ہو اور بیماری کو بھی واضح کرے ۔اُن کا کہنا تھا کہ نام رکھنے سے نامناسب اور بدنامی کا باعث بننے والے ناموں سے تحفظ مقصود ہوتا ہے۔ یہ نام مستقبل میں وائرس پھیلنے کی صورت میں ایک معیار دے سکتا ہے۔

غیرملکی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق وبا کا نیا نام کورونا وائرس اور بیماری کا مرکب جس میں2019ء کا سال نمایاں ہے کیونکہ ’عالمی ادارہ صحت‘ کو اس وائرس کی اطلاع گزشتہ برس31 دسمبر کو ملی تھی۔ ماہرین اس مرض کی روک تھام کیلئے ویکسین کی تیاری میں دن رات کوشاں ہیںاور جلد ہی اس موذی  اور جان لیوا بیماری کے تدارک کیلئے پُرامید بھی ہیں۔

اس موذی بیماری کے حوالے سے ’مائیکروسافٹ‘ کے بانی بل گیٹس نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کرونا وائرس کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ وائرس افریقی ممالک میں وبائی صورت اختیار کرتا ہے جہاں صحت کی سہولیات اسے قابو نہیں کرسکیں گی تو اس کے نتیجے میںاندازاً ایک کروڑ افراد کی موت ہوسکتی ہے۔

علامات

کرونا وائرس سے متاثر ہ افراد میں بنیادی طور پر جو علامات ظاہر ہوتی ہیں ان میں تیز بخار،سانس لینے میں دشواری اور کھانسی شامل ہوتی ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کیلئے طبی ماہرین کی جانب سے چند ہدایات جاری کی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ کھانسنے یا چھینکنے کے دوران منہ اور ناک کو ٹشوپیپر یا صاف کپڑے سے ڈھانپا جائے اور استعمال کرنے کے بعد کوڑا دان میں ڈالا جائے۔ہاتھوں کو صابن اور پانی کے ساتھ اکثر دھویا جائے۔ہاتھ صاف نہ ہونے کی صورت میں اپنی آنکھوں،ناک اور منہ کو نہ چھوا جائے،جو افراد بیمار ہیں ان کے ساتھ قریبی رابطہ کرنے سے پرہیز کیا جائے۔

علاج

کرونا وائرس کی بیماری کی شرو عات جن علامات سے ظاہر ہوتی ہے ان کامستند علاج ہومیو پیتھی میں موجود ہے جیسے کہ بخار کی حالت میں سردی لگنا اور فلوہونا۔ ان دونوں امراض کا علاج ہومیو پیتھی کے ذریعے گزشتہ 200 سال سے زائد عرصہ سے نہایت کامیابی کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ اس کی مثال اس واقعے سے سمجھی جا سکتی ہے، جب1918ء میں سپین کے اندر فلو کی وباء پھوٹی تو اس نے یورپ کے ایک  بڑے حصے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔اس دوران میں ہومیو پیتھی علاج نے ایک اہم کردار ادا کیا جو تاریخ میںایک ریکارڈہے۔اب چونکہ ہومیو پیتھی میںکافی ریسرچ ہوچکی ہے لہذا ان دونوں بیان کردہ امراض کے علاج کیلئے پوری دنیا میںہومیو پیتھی دواؤں کووسیع پیمانے پراعتمادکے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے ہومیو پیتھک ڈاکٹرز کی اکثریت بعض دواؤں بالخصوص مندرجہ ذیل کو کرونا وائرس کے علاج کیلئے موثر قرار دے رہی ہے۔

آرسینک البم

شدید چھینکنے اور کھانسنے کے دوران آنکھوں سے پانی کا اخراج ہونا،پیاس لگنا اور ٹھنڈا پانی پینے کی طلب کرنا، سانس لینے میں دشواری، کمزوری اور نقاہت محسوس ہونا، ہیضے اور الٹی کا ہونا۔ ان تمام صورتوں میں آرسینک البم کا استعمال بہت موثر ہے۔

بیلاڈونا

ہومیو پیتھی طریقہ علاج میں استعمال ہونے والی یہ ایک اہم دوا ہے۔جسم میں کسی حصے پرسوزش کا پایا جانا جس میں سرخی ظاہر ہو یا سرخ دانے ہوں، گردوں اور مثانے کی نالی میں سوزش کا ہونا۔بلند فشار خون کا ہونا۔ ان تمام علامتوں میں بیلا ڈونا بہت کام کرتی ہے۔

برائیونیا ایلبا

نزلہ، زکام اور بخار کی صورت میں بھی اس دوائی کا استعما ل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ  یہ دوا جسمانی دردوں کو دور کرنے کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے۔

احتیاط

اگرمعاشرے میں اس مرض کے غالب آنے کاخدشہ ہو تو معاشرے میں تمام افراد کو احتیاطی  تدبیرکے طور پر سفر کے دوران منہ پر ماسک پہننا چاہئیے۔اگر کسی شخص میںکرونا وائرس کی علامات ظاہر ہوں توا سے فوراً ہسپتال منتقل کیا جانا ضروری ہے۔ سرکاری سطح پرہومیو پیتھی کی دوا کو کورونا وائرس کے توڑ کیلئے عوام الناس کو ترغیب دینا ایک خوش آئین اقدام ہے۔ خاص طور پر بھارت جیسے ملک میں جہاں ایک اندازے کے مطابق 10کروڑ افراد ہومیوپیتھی کو اختیار کرتے ہیں۔

بھارت میں کرونا وائر س کا پہلا کیس29 جنوری2020ء کو  سامنے آیا، جب ایک 29 سالہ لڑکے کو یہ مرض لاحق ہوا جو چین میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے واہان یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا۔ اس لڑکے کا تعلق بھارت کی ریاست کیرالہ سے ہے۔ اس کا کرونا وائرس  ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ہسپتال کی ایک الگ وارڈ میں رکھا گیا اور اس کا علاج جاری ہے۔

اب تک مجموعی طور پر انڈیا میں کرونا وائرس کے کل تین کیس سامنے آئے ہیں۔ بھارتی حکومت کی وزارت صحت کے ماتحت کام کرنے والے ادارے ’سینٹرل کونسل فار ریسرچ آف ہومیوپیتھی‘ کے سائینٹیفک بورڈ نے29 جنوری ہی کو عوام الناس کیلئے ایک ایڈوائزی جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ہومیو پیتھی طریقہ علاج موزوں ہے۔ اس میں ایک دوا کے استعمال کیلئے راغب کیا ہے جس کا نام Arsenicum Album 30 ہے۔

اس سرکاری بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ اس دوا کو کرونا وائرس سے بچاؤ سے پیشگی احتیاط کے طور پر استعمال میں لایا جائے، صبح نہار منہ اس دوائی کی ایک خوراک تین یوم کیلئے استعمال کی جائے تاکہ کرونا وائرس کے ممکنہ حملے سے بچا جاسکے۔ دوا استعمال کرنے کی اس ترتیب کو ایک ماہ کے بعد دوبارہ دہرالیا جائے۔

The post کرونا وائرس اور ہومیوپیتھی طریقہ علاج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2SN6DZ2

کھانے پینے کی عادات کے بگاڑ سے مریض بڑھ رہے ہیں، مقررین

کراچی: سماجی شخصیت سردار یاسین ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطس کی بڑھنے کی ایک وجہ بے وقت اور رات میں دیر سے کھانا کھانا بھی ہے، جو نہ صرف مریض کی شوگر کی مقدار کو بڑھاتا ہے۔

سردار یاسین ملک نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے اوجھا کیمپس میں ’’رمضان کے دوران محفوظ روزہ‘‘ سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب میں کہا کہ پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے لحاظ سے اسپتالوں کی گنجائش کم ہورہی ہے، فوری احتیاطی اقدامات میں تیزی نہ لائی گئی تو آئندہ چند برس میں پاکستان شوگر کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر آ جائے گا، ملک میں شوگرکے مریضوں کے حالیہ اعداد و شمار تشویش ناک ہیں۔

سیمینار سے مہمانِ اعزازی پرو وائس چانسلر پروفیسر کرتار ڈاوانی، رجسٹرار پروفیسر امان اللہ عباسی، نائیڈ کے سربراہ پروفیسر اخترعلی بلوچ، ڈپٹی ڈائریکٹر پروفیسر عمر خان، اسسٹنٹ پروفیسر زرین کرن، اسسٹنٹ پروفیسر ایس محمد حسن، ڈاکٹر تہمینہ راشد، ڈاکٹر فرید الدین و دیگر نے خطاب کیا، اس موقع پر سردار یاسین ملک نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈایابیٹس اینڈ انڈو کرائنالوجی کی عمارت میں توسیع اور شوگر کے مریضوں کے پاؤں کی صورتحال کا تجزیہ کرنے والی ایک نئی مشین “pedograph” دینے کا بھی اعلان کیا۔

مقررین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے اسلام نے جو اصول متعین کر دیے، آج وہی طبی سائنس نے دریافت کیے ہیں، جسم اور روح کے درمیان توازن رکھنے کے لیے کھانے پینے کے عادات و اطوار مثبت ہوں گے تو روح اور جسم کے مابین توازن رہے گا، اس کے لیے نماز، روزہ زکوۃ اور دیگر فرائض کی ادائیگی سے روح اور جسم کے مابین توازن قائم رہتا ہے اور بیماریاں دور ہوجاتی ہیں، دنیا میں شوگر کی پیچیدگی باعث ہر 20 سیکنڈ میں ذیابیطس کے مریض کا پاؤں کاٹا جاتاہے، ملک میں ذیابیطس کی بڑھنے کی ایک وجہ بے وقت اور رات میں دیر سے کھانا کھانا بھی ہے، جو نہ صرف مریض کی شوگر کی مقدار کو بڑھاتا ہے، سیمینار کے دوران فری شوگر کیمپ کا بھی انعقاد کیا گیا تھا۔

The post کھانے پینے کی عادات کے بگاڑ سے مریض بڑھ رہے ہیں، مقررین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/37K3229

Thursday, 20 February 2020

دنیا کی سب سے چھوٹی اور کم خرچ ایم آر آئی مشین فروخت کے لیے پیش

کیلیفورنیا: امریکی ادارے ’’ہائپر فائن ریسرچ انکارپوریٹڈ‘‘ نے اعلان کیا ہے اسے اپنی تیار کردہ مختصر اور کم خرچ ایم آر آئی مشین فروخت کرنے کےلیے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی جانب اجازت مل گئی ہے جس کے بعد اس کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر آرڈرز لینا بھی شروع کردیئے ہیں۔

واضح رہے کہ ایک عام ایم آر آئی مشین لگ بھگ 6 ٹن وزنی ہوتی ہے اور جسامت میں بھی بہت بڑی ہوتی ہے جبکہ ایسی ایک مشین کو چلانے میں جتنی بجلی خرچ ہوتی ہے وہ دس اوسط پاکستانی گھروں کےلیے کافی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں، ایم آر آئی مشین کی قیمت بھی پانچ کروڑ روپے یا اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایم آر آئی کی تنصیب کےلیے خصوصی کمرہ اور بجلی کا تھری فیز کنکشن درکار ہوتے ہیں، جیسے کسی کارخانے میں ہوتا ہے۔ اسی طرح ایم آر آئی اسکین کا نتیجہ آنے میں بھی کم از کم 15 گھنٹے لگ جاتے ہیں جبکہ ایک سادہ سے ایم آر آئی اسکین کی لاگت بھی پچیس سے تیس ہزار روپوں کے درمیان ہوتی ہے۔

چھ سال کی مسلسل تحقیق کے بعد تیار ہونے والی، ہائپرفائن کی اس مختصر ایم آر آئی مشین نے یہ تمام مسائل ایک ساتھ حل کردیئے ہیں۔ مثلاً اس کی اونچائی صرف 4.75 فٹ ہے۔ یہ صرف 635 کلوگرام وزنی ہے (یعنی موجودہ ایم آر آئی مشین سے دس گنا کم وزن ہے)۔

یہ ایک چھوٹی ٹرالی پر نصب ہے جسے بہ آسانی ایک سے دوسری جگہ لے جایا جاسکتا ہے اور مریض کے بستر کے ساتھ کھڑا کرکے ایم آر آئی اسکین کیا جاسکتا ہے۔ یہ مروجہ ایم آر آئی مشین کے مقابلے میں 35 گنا کم توانائی کھاتی ہے جبکہ اس سے صرف دو منٹ میں اسکین حاصل ہوجاتا ہے جسے آئی پیڈ (ٹیبلٹ) پر فوراً دیکھا جاسکتا ہے۔

قیمت کی بات کریں تو ہائپرفائن کی لاگت بھی روایتی ایم آر آئی مشینوں کے مقابلے میں 20 گنا کم ہے۔ یعنی اگر اس وقت ایک ایم آر آئی مشین 5 کروڑ روپے کی ہے تو یہ صرف 25 لاکھ روپے میں دستیاب ہوگی۔ علاوہ ازیں، یہ امید بھی ہے کہ روایتی ایم آر آئی مشینوں سے جس اسکیننگ پر 20000 روپے کی لاگت آتی ہے، وہ ایک ہزار روپے سے بھی کم رقم میں کیا جاسکے گا۔

ہائپرفائن کے چیف میڈیکل آفیسر، ڈاکٹر خان صدیقی نے اسے انقلابی طبّی ایجاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایم آر آئی اسکیننگ کی جدید ٹیکنالوجی اُن لوگوں کی دسترس میں بھی ہوگی جو کمتر مالی حیثیت رکھتے ہیں۔

The post دنیا کی سب سے چھوٹی اور کم خرچ ایم آر آئی مشین فروخت کے لیے پیش appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/37Lw41m

Wednesday, 19 February 2020

سکون کی نیند چاہتے ہیں تو موٹی زبان سے چھٹکارا پائیے، تحقیق

پنسلوانیا: امریکا میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چکنائی کی وجہ سے زبان موٹی ہوجانے کے نتیجے میں سوتے دوران سانس میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جس کے باعث نیند بار بار متاثر ہوتی ہے۔

سانس میں خلل سے نیند متاثر ہونے کو طبّی اصطلاح میں ’’اوبسٹرکٹیو سلیپ ایپنیا‘‘ (او ایس اے) کہا جاتا ہے جس کا سامنا موٹے افراد کو اکثر کرنا پڑتا ہے۔ اس کیفیت میں یہ لوگ زوردار خراٹے لیتے ہیں، رات میں ان کی آنکھ بار بار کھلتی ہے اور دن کے وقت وہ غنودگی کے عالم میں رہتے ہیں۔

غرض اس سے سونے جاگنے کے معمولات کے علاوہ دن کے اوقات میں کارکردگی پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔

2014 میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ جن موٹے لوگوں نے اپنا وزن مناسب حد تک کم کیا تھا، ان میں ’او ایس اے‘ کی شدت بھی خاصی کم رہ گئی تھی۔ تب یہ خیال کیا گیا تھا کہ شاید اس کی وجہ سانس کی نالی اور زبان کو موٹا کرنے والی چکنائی کی بافتیں ہیں؛ لیکن بات پوری طرح واضح نہ تھی۔

یونیورسٹی آف پنسلوانیا میں کیا گیا یہ تازہ مطالعہ اسی تسلسل میں ہے جس میں ’او ایس اے‘ کے 67 مریضوں کو شریک کیا گیا تھا۔

ان میں سے 47 مریضوں نے ورزشوں، سرجری یا معمولاتِ زندگی میں تبدیلی لاتے ہوئے اپنا وزن اوسطاً 14 فیصد کم کیا، جبکہ 20 افراد کا وزن بڑھ گیا یا پھر ویسے کا ویسا ہی رہا۔ وزن کم کرنے والے مریضوں میں عمومی صحت کے علاوہ نیند بھی بہتر ہوئی، یعنی ’او ایس اے‘ کی شدت میں کمی واقع ہوئی۔

تحقیق کی ابتداء سے لے کر ان کی زبان میں چکنائی والی بافتوں اور حلق میں موجود چربی کو بھی نظر میں رکھا گیا۔

مطالعے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے کامیابی سے اپنا وزن کم کرلیا تھا، ان میں دیگر جسمانی حصوں کے ساتھ ساتھ زبانوں کی موٹائی بھی کچھ کم ہوئی ہے جس سے انہیں سوتے دوران سانس لینے میں دشواری، خراٹوں اور بار بار نیند ٹوٹنے جیسے مسائل کا سامنا بھی نمایاں طور پر کم کرنا پڑا۔

فی الحال یہ تو واضح نہیں کہ وزن کم ہونے کے ساتھ ساتھ زبان کی موٹائی میں کس بناء پر کمی واقع ہوتی ہے لیکن اتنا ضرور طے ہوچکا ہے کہ اگر موٹی زبان پتلی ہوجائے تو اس سے نیند میں خلل بھی کم پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ زبان کی موٹائی کم کرنے کےلیے علیحدہ سے کوئی خاص ورزش نہیں اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ پورے جسم کا وزن گھٹانا ہی اس مسئلے کا مناسب ترین حل ہے۔

اس تحقیق کی تفصیلات ’’امریکن جرنل آف ریسپائریٹری اینڈ کریٹیکل کیئر میڈیسن‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

The post سکون کی نیند چاہتے ہیں تو موٹی زبان سے چھٹکارا پائیے، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/39S0YH8

ہاتھوں اور منہ کی صفائی درجنوں بیماریوں سے بچاتی ہے، ماہرین صحت

کراچی: ماہرین صحت نے کہا ہے کہ نیا کورونا وائرس جانوروں کی منڈی سے پھیلا ہے جو ایک شخص سے دوسرے شخص کو لگتا ہے، دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیلنے کی اہم وجہ کورونا وائرس کے علاج کے لیے کوئی ویکسین نہ ہونا ہے، یہ وائرس دوسری اقسام کی وائرس سے کم مہلک ہے، اب غیرمسلم ممالک بھی اسلام کے طبی اصولوں پر اپنا صحت کا نظام بنارہے ہیں،ہاتھوں اور منہ کی صفائی درجنوں بیماریوں سے بچاتی ہے۔

سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں کورونا وائرس کے حوالے سے مباحثہ کا انعقاد کیا گیا جس میں ماہرین نے کورونا وائرس کے تمام پہلوؤں پر اظہار خیال کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ چین میں اس مرض کی شدت میں آرہی ہے، پروگرام کا انعقاد ایس آئی یو ٹی کے شعبہ وبائی امراض نے کیا۔

گفتگو کا آغازکرتے ہوئے شعبہ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اسما نسیم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس صدیوں سے انسان کو متاثر کرتا آرہا ہے لیکن اب اس وائرس کی نئی اقسام سامنے آئی ہیں انھوں نے کہا کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نیا کورونا وائرس جانوروں کی منڈی سے پھیلا ہے اور ایک شخص سے دوسرے شخص کو لگتا ہے چونکہ یہ وائرس کی ایک نئی قسم ہے لہٰذا دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا جس کی ایک اہم وجہ اس کا ویکسین نہ ہونا بھی ہے، اس انتہائی وبائی بیماری سے متعلق انھوں نے کہا کہ یہ وائرس دوسری اقسام کی وائرس سے کم مہلک ہے۔

ایس آئی یو ٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹر سنیل دودانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کو بخار، خشک کھانسی اور سانس لینے میں دشواری پیش آرہی ہو اور وہ چین کا سفر کیا ہو تو وائرس کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چین میں اب اس وبا کی شدت میں کمی ہو رہی ہے، انھوں نے کہا کہ 18 فروری تک 71429 افراد میں اس بیماری کی تصدیق ہوئی جس میں سے 1775 لوگ زندگی کی بازی ہار گئے، جس میں 98 فیصد لوگوں کا تعلق چین سے تھا، انھوں نے کہا کہ پاکستان میں تاحال کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

پروفیسر شہلا باقی نے اس مرض سے بچاؤ کے مختلف پہلوؤں کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے ہاتھوں کی حفظان صحت کو بنیاد قرار دیا۔

The post ہاتھوں اور منہ کی صفائی درجنوں بیماریوں سے بچاتی ہے، ماہرین صحت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2Va5b4D

Tuesday, 18 February 2020

مضبوط بیکٹیریا، کیموتھراپی کو ناکام بناسکتے ہیں

 لندن: ماہرین نے کہا ہے کہ جس تیزی سے بیکٹیریا (جراثیم) توانا ہوکر اینٹی بایوٹکس کو ناکام بنارہے ہیں تو بہت جلد وہ کیموتھراپی کو بھی ناکام بنادیں گے۔ خیال ہے کہ شاید یہ مشکل لمحہ اگلے دس برس میں سامنے آجائے گا۔

اس کی وجہ ایک سروے ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کینسر کے علاج کے لیے کیموتھراپی کا طریقہ ترک کرنا ہوگا کیونکہ جراثیم اب اتنے طاقتور ہوچکے ہیں کہ وہ مؤثر ترین اینٹی بیکٹیریل ادویہ سے بھی ختم نہیں ہوتے۔ کیموتھراپی سے مریض کا اپنا قدرتی دفاعی نظام کمزور ہوجاتا ہے اور وہ کئی بیماریوں کے سامنے ایک تر نوالہ بن سکتا ہے۔ اب اگر اس حالت میں کوئی مرض لاحق ہوجاتا ہے تو اینٹی بایوٹک ادویہ اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گی۔

اس سروے میں برطانیہ میں چوٹی کے 100 ماہرینِ سرطان نے حصہ لیا اور ان کی 95 فیصد تعداد نے کہا کہ وہ تیزی سے توانا ہوتے جراثیم یا سپر بگز سے اپنے مریضوں کے متعلق مایوس ہوتے جارہے ہیں۔

اسی طرح کینسر کے 20 فیصد مریضوں کو علاج کے دوران اینٹی بایوٹکس دی جاتی ہیں، مثلاً لیوکیمیا کےعلاج میں اینٹی بایوٹکس ایک لازمی جزو کا درجہ رکھتی ہے۔ اس طرح 46 فیصد ڈاکٹروں کا اصرار ہے کہ اگلے پانچ برس میں ادویہ سے مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا اور جراثیم کیموتھراپی کو ناکام بنادیں گے لیکن اس میں پانچ سال لگیں گے اور اگلے دس برس بعد یہ صورتحال مزید گھمبیر ہوجائے گی۔

اس ضمن میں کسی مخصوص کینسر کا نام نہیں لیا جارہا کیونکہ اکثر اقسام کے کینسر کی کیموتھراپی ہر طرح سے جسم کو کمزور کرتی ہے۔ دوسری جانب کیموتھراپی شروع ہوتے ہی 41 فیصد مریضوں میں ایک سال کے بعد ہی جو انفیکشن پیدا ہوئے وہ کسی اینٹی بایوٹکس سے قابو میں نہ آسکے۔ اس طرح اگر کینسر کا کوئی مریض جراحی کے عمل سے گزرتا ہے تو اس میں کسی بیماری کے جراثیم سے متاثر ہونے کا خدشہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

یہ سب کیموتھراپی کی وجہ سے ہورہا ہے کیونکہ وہ جسم کی امراض سے لڑنے کی صلاحیت کو کمزور کردیتی ہے۔ لیکن یہ کیفیت صرف کینسر کے مریضوں تک مخصوص نہیں کیونکہ ٹی بی جیسے مریضوں پر بھی ٹی بی کی پرانی اینٹی بایوٹکس ادویہ اثر نہیں کررہیں اور ہر سال سات لاکھ افراد صرف اس وجہ سے مررہے ہیں کہ انفیکشن کسی بھی اینٹی بایوٹکس سے ٹھیک نہیں ہوپارہا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اگر ہم نئی اینٹی بایوٹکس بنانے میں ناکام ہوگئے تو سال 2050 تک ہر سال مرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ تک جاپہنچے گی۔

The post مضبوط بیکٹیریا، کیموتھراپی کو ناکام بناسکتے ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3bP18Ay

کیا کھانسی کی یہ دوا دماغی بیماری کا علاج بھی کرسکتی ہے؟

لندن: آج سے پچاس سال پہلے کھانسی کی ایک دوا ’’ایمبروکسول‘‘ تیار کی گئی تھی۔ حالیہ تجربات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ یہی دوا ’’پارکنسن‘‘ کہلانے والے ایک دماغی مرض کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ پارکنسن، دماغ میں موجود اعصابی خلیات کو متاثر کرنے والی بیماری ہے جس کی ابتداء بظاہر معمولی رعشے سے ہوتی ہے۔ بعد ازاں جسمانی حرکت سست پڑنے لگتی ہے، پٹھے سخت رہنے لگتے ہیں، چلتے پھرتے اور بیٹھتے دوران توازن برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے، لاشعوری حرکات (جیسے کہ چلتے ہوئے ہاتھ ہلانا اور آنکھیں جھپکانا وغیرہ) کم ہوجاتی ہیں جبکہ بولنے کے علاوہ لکھنے کا انداز (رائٹنگ اسٹائل) بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔

فی الحال ایسی کوئی دوا موجود نہیں جو پارکنسن کا علاج کرسکے، یا اس بیماری کی پیش رفت ہی آہستہ کرسکے۔ کچھ سال قبل ایمبروکسول استعمال کرنے والے عمر رسیدہ افراد میں کچھ ایسے واقعات بھی سامنے آئے کہ انہیں اس دوا کے استعمال سے پارکنسن میں بھی کچھ افاقہ ہوا تھا۔ ان معلومات کو سامنے رکھتے ہوئے ایمبروکسول کی نئی طبّی آزمائشیں شروع کی گئیں جن کے پہلے مرحلے میں یہ دوا کامیاب رہی۔

اس ضمن میں دوسرے مرحلے کی طبّی آزمائشیں گزشتہ سال یونیورسٹی کالج لندن کے تحت شروع کی گئیں جو 6 ماہ تک جاری رہنے کے بعد کامیابی سے اختتام پذیر ہوئیں۔ ان آزمائشوں کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’جاما نیورولوجی‘‘ (JAMA Neurology) کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوچکی ہیں۔

اِن آزمائشوں میں 17 ایسے رضاکار شریک تھے جو پارکنسن بیماری کے مریض بھی تھے۔ چھ ماہ تک انہیں روزانہ ایمبروکسول دینے کے ساتھ ساتھ ان کا روزانہ کی بنیادوں پر طبی معائنہ بھی جاری رکھا گیا۔

سابقہ تحقیقات سے یہ امکان سامنے آیا تھا کہ ایمبروکسول خون کے راستے دماغ تک پہنچ کر وہاں ایک خاص قسم کے پروٹین کی مقدار میں اضافے کی وجہ بنتی ہے۔ یہ پروٹین ہمارے دماغ میں بننے والے فاسد مادّوں کی صفائی کا کام کرتا ہے۔ البتہ عمر رسیدگی یا کسی جینیاتی خرابی کی وجہ سے اس کی مقدار کم ہونے لگتی ہے جس کے باعث دماغ کی صفائی کا عمل بھی مناسب طور پر جاری نہیں رہ پاتا۔ یہی بات آگے چل کر پارکنسن سمیت مختلف دماغی اور اعصابی امراض کی وجہ بنتی ہے۔

نئے مطالعے میں ایمبروکسول لینے والے مریضوں کا جائزہ اس پہلو سے بھی لیا گیا جس سے واضح ہوا کہ یہ امکان بے وجہ نہیں تھا۔ یہ نتائج اتنے امید افزاء ہیں کہ انہیں دیکھتے ہوئے برطانیہ میں پارکنسن پر تحقیق کے لیے رقم فراہم کرنے والی سب سے بڑی تنظیم ’’کیور پارکنسنز ٹرسٹ‘‘ نے تیسرے مرحلے کی طبّی آزمائشوں کے لیے فنڈز جاری کردیئے ہیں۔

متوقع طور پر تیسرے مرحلے کی طبّی آزمائشیں زیادہ تفصیلی ہوں گی جن میں مریضوں کی زیادہ بڑی تعداد بھی شریک ہوگی۔ علاوہ ازیں، ان میں صرف دماغ کے اندر بننے والے مخصوص پروٹین کی بڑھتی ہوئی مقداروں کا جائزہ ہی نہیں لیا جائے گا بلکہ مریضوں میں پارکنسن کی ظاہری علامات میں رونما ہونے والی تبدیلیاں بھی مدنظر رکھی جائیں گی۔

The post کیا کھانسی کی یہ دوا دماغی بیماری کا علاج بھی کرسکتی ہے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/37Cinlm

Monday, 17 February 2020

کورونا وائرس، پاکستان میں سرجیکل ماسک کی قلت ہو گئی

کراچی:  چین انتہائی مستعدی کے ساتھ کورونا وائرس پر قابو پانے کیلیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان کورونا وائرس کے حوالے سے طبی سامان کی فراہمی کرکے چین مدد کررہا ہے، خاص طور پر پاکستان نے نہ صرف چین سے سرجیکل ماسک کی درآمد کو روک دیا ہے بلکہ اس نے اپنے اہم پڑوسی کو وائرس کی اہم روک تھام کرنے والے اہم سامان کا اسٹاک بھجوایا،اس اقدام کے بعد ملک میں سرجیکل ماسک کی قلت پیدا ہوگئی۔

عام طور پر دسمبر تک سرجیکل ماسک کے ایک باکس کی قیمت 200 روپے کے لگ بھگ ہوتی تھی کراچی میں کچھ فارمیسیوں کے دورے کے دوران انکشاف ہوا کہ ماسک کی عدم دستیابی سے قبل آخری قیمت 700 روپے تھی۔ ماسک ابھی بھی بلیک میں ایک ہزار فی باکس کے حساب سے فروخت ہورہے ہیں۔

ایکسپریس ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے شہر کے تھوک فروشوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کی وجہ مقامی مارکیٹ میں سرجیکل ماسک کی فراہمی پر عارضی پابندی ہے۔

ایک سپر مارکیٹ فارمیسی کے نمائندے نے مقامی مارکیٹوں نے سرجیکل ماسک کی کمی کی تصدیق کی،انھوں نے کہا کہ جہاں یہ دستیاب ہیں وہاں معیاری قیمت دگنی کردی گئی جبکہ معیاری بھی نہیں ،ٹائم میڈیکوس کے ایک فارماسسٹ نے بتایا ،ان کی دکان میں سرجیکل ماسک دستیاب ہیں ،خریداروں میں اضافے کی وجہ سے قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔

ذرائع کے مطابق کچھ معروف اسپتالوں کی فارمیسیوں کو سرجیکل ماسک و دیگر طبی اشیا کی فراہمی میں بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔

The post کورونا وائرس، پاکستان میں سرجیکل ماسک کی قلت ہو گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/39OjNLj

کورونا وائرس کے علاج کےلیے 80 طبی آزمائشیں شروع

بیجنگ: چین میں کورونا وائرس کی وبا کے بعد اب صرف چین میں ہی اس وائرس  کے علاج کے لیے لگ بھگ 80 طبی آزمائشیں جاری ہیں جنہیں سائنسی زبان میں کلینکل ٹرائلز کہا جاتا ہے۔ تاہم ان میں سے بعض طبی آزمائشوں میں تعطل کا سامنا بھی ہے۔

اس نئے وائرس کو COVID-19 کا نام دیا گیا ہے جس کی ایک جانب ویکسین بنانے کی کوششیں جاری ہیں تو خود دنیا بھر میں اس کے مؤثر علاج پر زور دیا جارہا ہے۔ اب تک کورونا وائرس 1700 سے زائد جانیں لے چکا ہے اور صرف چین میں ہی 50 ہزار سے زائد مریض اس سے متاثر ہوچکے ہیں جبکہ دنیا میں ہزاروں مریض موجود ہیں۔

چین میں طبی آزمائشوں کے دوران ہزاروں سال قدیم روایتی نسخوں، جڑی بوٹیوں سے لے کر جدید طبی ادویہ اور طریقہ کار پر غور کیا جارہا ہے۔ اب تک کورونا وائرس کا مؤثر علاج سامنے نہیں آسکا ہے۔ لیکن بین الاقوامی ماہرین نے چینی کاوشوں پر تبصرہ کرتے ہوئے حد درجہ احتیاط کا مشورہ دیا ہے کیونکہ اس کے بعد ہی کوئی دوا سامنے آسکے گی۔

عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) سے وابستہ سائنسداں سومیا سوامی ناتھن نے کہا ہے کہ چینی تجربات پر ان کی نظر ہے اور وہ اس کےلیے رہنما ہدایات (پروٹوکولز) وضع کررہے ہیں تاکہ اسے فوری طور پر دنیا بھر کی ان تجربہ گاہوں میں بھی بھیجا جاسکے جہاں کورونا وائرس کے علاج کا کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت چین 600 افراد پرتحقیق کررہا ہے لیکن اگر سائنسی تدابیر اور ضابطوں کا خیال نہیں رکھا گیا تو یہ ساری محنت اکارت چلی جائے گی۔ اس میں کنٹرول گروپ، نتائج، مریضوں کی بحالی یا صحت مزید بگڑنے کی ساری تفصیلات شامل کرنا بہت ضروری ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی رہنما ہدایات بہت تفصیلی لیکن قابلِ عمل ہیں جنہیں دنیا بھر کے ماہرین استعمال کرکے کورونا وائرس کے دو یا تین مؤثر ترین علاج تجویز کریں گے اور اس کی توثیق عالمی ادارہ برائے صحت کرے گا۔ چین نے کہا ہے کہ اس نے اپنے کلینکل ٹرائلز کا ایک ڈیٹابیس بنا رکھا ہے جس کے مختلف پہلوؤں پر بھی غورکیا جارہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک تجربے میں ایچ آئی وی کی ادویہ کورونا وائرس کے خلاف مؤثر ثابت ہوئیں اور ان سے دو اینزائم بلاک ہوئے جو وائرس کی تعداد بڑھانے میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دوسری جانب 760 افراد پر جاری ایک اور طبی آزمائش اپریل تک مکمل کرلی جائے گی۔

اس کے علاوہ اسٹیم سیل کے ذریعے بھی کورونا وائرس کے علاج کی کوششیں جاری ہیں۔ توقع ہے کہ اگلے چند ماہ میں کورونا وائرس کے مؤثر علاج کی کوئی نوید مل سکے گی۔

The post کورونا وائرس کے علاج کےلیے 80 طبی آزمائشیں شروع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3bOrqCY

روشنی کے ذریعے منہ کو جراثیم سے پاک کرنے والا گھریلو ماؤتھ واش

ہیلسنکی، فن لینڈ: فن لینڈ کے سائنس دانوں نے ایک ایسا نیا ماؤتھ واش ایجاد کرلیا ہے جو روشنی کی مدد سے منہ میں موجود 99 فیصد مضر جراثیم کو ہلاک کردیتا ہے جبکہ منہ کے مفید بیکٹیریا کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

اگر دانت روزانہ ٹھیک سے صاف نہ کیے جائیں تو یہ کھوکھلے ہو کر کمزور پڑجاتے ہیں جبکہ دانتوں میں کیڑا لگنے کے علاوہ مسوڑھوں میں سوجن اور جلن کی شکایات بھی بڑھ جاتی ہیں؛ اور صحیح معنوں میں کھانا پینا تک حرام ہوجاتا ہے۔

اکثر لوگ یہ بات بخوبی جانتے ہیں لیکن پھر بھی دانتوں کی صفائی پر سنجیدگی سے بہت کم توجہ دیتے ہیں جس کی وجہ سے جلد یا بدیر وہ دانتوں، مسوڑھوں اور منہ کی مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ البتہ اس حوالے سے نیا ماؤتھ واش بہت کارآمد ہوسکتا ہے۔

اس ماؤتھ واش میں ایک خاص قسم کا مرکب (کمپاؤنڈ) شامل ہے جو روشنی جذب کرکے سرگرم ہوتا ہے اور مضر جراثیم کا خاتمہ شروع کردیتا ہے۔ یہ ایک گولی کی شکل میں ہوتا ہے جو منہ میں رکھتے ہی گھل جاتی ہے اور اگلے 30 سیکنڈ میں ماؤتھ واش، اپنے جراثیم کش مرکب سمیت، دانتوں اور مسوڑھوں سے چپک جاتا ہے۔

اگلے مرحلے میں باکسنگ کے دوران جبڑوں میں دبائے جانے والے سخت فوم جیسا ایک خصوصی ’’لیمپ‘‘ منہ میں رکھا جاتا ہے جسے روشن کرنے کے لیے یو ایس بی سے بجلی فراہم کی جاتی ہے۔

ایل ای ڈیز سے لیس، اس لیمپ سے سرخ اور نیلی روشنیاں خارج ہوتی ہیں۔ سرخ روشنی اس جراثیم کش مادّے میں کیمیکل ری ایکشن شروع کرواتی ہے جبکہ نیلی روشنی اس عمل کو بہتر بناتی ہے۔ اس طرح سے صرف 10 منٹ میں دانتوں سے مضر جراثیم کا 99 فیصد خاتمہ ہوجاتا ہے۔

ابتدائی آزمائشوں کے دوران معلوم ہوا کہ نیا ماؤتھ واش ایسے سخت جان بیکٹیریا کو بھی ہلاک کردیتا ہے جو اینٹی بایوٹکس سے بھی ختم نہیں ہوتے، جبکہ ان میں ماؤتھ واش والے مرکب کے خلاف مزاحمت بھی پیدا نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں، یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اس پوری کارروائی کے دوران منہ میں پائے جانے والے مفید جرثومے (بیکٹیریا) محفوظ رہتے ہیں اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

نیا ماؤتھ واش آلٹو یونیورسٹی اور ہیلسنکی یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا مشترکہ کارنامہ ہے جسے مارکیٹ میں فروخت کرنے کےلیے ’’کیوٹے ہیلتھ‘‘ کے نام سے ایک نجی کمپنی بھی بنائی جاچکی ہے۔

واضح رہے کہ دانتوں کی سرجری/ آپریشن کے دوران روشنی سے جراثیم ہلاک کرنے کا طریقہ برسوں سے رائج ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اس سے ملتی جلتی تدبیر کو گھروں میں عام استعمال کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

The post روشنی کے ذریعے منہ کو جراثیم سے پاک کرنے والا گھریلو ماؤتھ واش appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3227x6X

Sunday, 16 February 2020

متاثرہ دل کی مرمت کرنے والا جدید پولیمر پیوند

ڈبلن: دل کے دورے کے بعد ڈاکٹر اکثر کہتے ہیں کہ دل کا کچھ حصہ ناکارہ ہوچکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حصہ مردہ ہوجاتا ہے اور دل کمزور ہوجاتا ہے۔ لیکن اب ایک نیا پولیمر دل سے چپک کر ناکارہ حصے کو دھڑکنے کے قابل بنا سکتا ہے۔

آئرلینڈ میں واقع ٹرینٹی کالج، ڈبلن کے سائنسدانوں نے قلب کی بیرونی طرف چپک کر دل کے ساتھ دھڑکنے والا ایک پولیمر پیوند بنایا ہے جو ہارٹ اٹیک کے بعد ہونے والے نقصان کا ازالہ کرسکتا ہے۔ یہ پولیمر پہلے ہی طبی مقاصد کےلیے منظور کیا جاچکا ہے۔

یہ پولیمر غیرمعمولی طور پر لچک دار ہے اور اس کے اوپر الگ سے الیکٹروکنڈکٹیو پولیمر لگایا گیا ہے جسے ’پولی پائرول‘ کا نام دیا گیا ہے۔ پولی پائرول کی تیاری کےلیے ’پگھلاؤ کی حامل الیکٹرورائٹنگ‘ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ اس ادارے کو ٹرینٹی کالج کی ذیلی کمپنی اسپرے بیس نے تیار کیا ہے۔ اس کےلیے کئی تجربات اور برسوں کی محنت شامل ہے۔

واضح رہے کہ اسپرے بیس کمپنی اب تک طبی استعمال کے سیکڑوں آلات بھی بناچکی ہے جو 35 سے زائد ممالک کو فروخت کئے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایک مرتبہ دل پر لگنے کے بعد وہ اطراف کے قلبی خلیات سے ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اور ان کی بجلی کے لحاظ سے ہم آہنگ ہوکر سکڑتے اور پھیلتے ہیں۔ فی الحال اسے تجربہ گاہوں میں آزمایا گیا ہے اور بہت جلد بڑے جانوروں پر بھی اس کی آزمائش شروع ہوجائے گی۔

اس ٹیم کے سربراہ نائب پروفیسر مائیکل منوگن ہیں جنہوں نے اس کام کی تفصیل جرنل آف ایڈوانسڈ فنکشنل مٹیریل میں شائع کرائی ہے۔ محققین کا دعویٰ ہے کہ ان کی ایجاد عین انسانی دل کی زندہ بافتوں کی طرح ہی پھڑکتی ہے اور خودکار انداز میں کام کرتی ہے۔

The post متاثرہ دل کی مرمت کرنے والا جدید پولیمر پیوند appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2uFnCU9

چین میں کورونا سے بچاؤ کے لیے دیسی ادویات کا استعمال

بیجنگ: چین میں مہلک وائرس ناول کورونا کاعلاج کرنے لیے  چین کی دیسی ادویات کا استعمال بھی کیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے قومی ہیلتھ کمیشن کے نائب سربراہ وانگ ہی شینگ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے ہوبی میں نصف سے زائد مریضوں کو مغربی ادویہ کے ساتھ چین کی روایتی ادویہ بھی دی گئیں۔
COVID-19یا کورونا وائرس کا کوئی باقاعدہ علاج تاحال دریافت نہیں ہوسکا ہے اس لیے اس سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے روایتی ادویہ کا استعمال غیرمعمولی اقدام قرار دیا جارہا ہے۔

ہیلتھ کمیشن کے حکام کے مطابق چین کی روایتی طریقۂ علاج کی یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے طبی عملے کے 2220 افراد کو ہوبی صوبے بھیجا گیا جہاں اس وائرس سے بچاؤ اورعلاج کے لیے روایتی دواؤں کا استعمال کیا گیا۔ وانگ ہی شینگ کا کہنا ہے کہ مغربی ادویہ کے ساتھ روایتی دواؤں کے استعمال سے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

دنیا میں بھر میں اس مہلک وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 69ہزار تک پہنچ گئی ہے جب کہ چین میں اس سے ہونے والی ہلاکتیں 1500سے تجاوز کرچکی ہیں۔

The post چین میں کورونا سے بچاؤ کے لیے دیسی ادویات کا استعمال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/3bGJFdv

Saturday, 15 February 2020

ناول کورونا وائرس کا توڑ؛ صحت یاب ہوجانے والوں کا بلڈ پلازما

بیجنگ: چینی ماہرین نے ناول کورونا وائرس کے حملے کے بعد صحت یاب ہوجانے والے افراد سے کہا ہے کہ وہ اپنا خون عطیہ کریں تاکہ اس بیماری میں مبتلا مریضوں کو بھی افاقہ ہوسکے۔

واضح رہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 67 ہزار سے زیادہ افراد ناول کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں جن میں سے 1526 لوگ موت کے منہ میں جاچکے ہیں جبکہ 8410 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔

بچنے والے تمام افراد کے جسمانی دفاعی نظام قدرتی طور پر ایسے پروٹین (اینٹی باڈیز) تیار کرنے لگے ہیں جنہوں نے ناول کورونا وائرس کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے، بالآخر، ان مریضوں کو مکمل طور پر صحت یاب کردیا۔

طبّی حقائق کے مطابق، یہ اینٹی باڈیز ان افراد کے خوناب (بلڈ پلازما) میں آئندہ کئی مہینوں تک شامل رہیں گی تاکہ جیسے ہی کوئی ناول کورونا وائرس دکھائی دے، فوراً اسے تباہ کر ڈالیں۔

اگرچہ ماہرین اب تک ان اینٹی باڈیز کو دریافت تو نہیں کر پائے ہیں مگر انہیں یقین تھا کہ اگر ناول کورونا وائرس کے حملے سے صحت یاب ہوجانے والے افراد کا بلڈ پلازما، اس وائرس سے شدید متاثرہ مریضوں کو لگا دیا جائے تو نہ صرف ان کی بیماری کی شدت میں کمی آجائے گی بلکہ وہ جلد صحت یاب بھی ہوسکتے ہیں… کیونکہ اس بلڈ پلازما میں ناول کورونا وائرس کو شکست دینے والی اینٹی باڈیز بھی یقیناً موجود ہوں گی۔

اسی خیال کے پیشِ نظر چین کی سرکاری کمپنی ’’چائنا نیشنل بایوٹیک‘‘ کے سائنسدانوں نے ناول کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد مکمل صحت یاب ہوجانے والے چند رضاکاروں سے بلڈ پلازما کا عطیہ لیا جو ایسے 10 مریضوں کو لگایا گیا جو اس وائرس کے باعث شدید بیمار تھے اور بستر سے اٹھنے کے قابل بھی نہیں تھے۔

یہ تجربہ کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جن مریضوں کو یہ عطیہ کردہ بلڈ پلازما لگایا گیا تھا، ان سب کی صحت اگلے 12 سے 24 گھنٹوں میں بہتر ہونے لگی۔ یعنی کورونا وائرس سے متاثر ہو کر صحت یاب ہوجانے والوں کا بلڈ پلازما، دوسرے کئی مریضوں کی جانیں بچا سکتا ہے۔

اس تجربے پر دنیا بھر سے ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ ماہرین کو اعتراض ہے کہ چین کو اس معاملے کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لینے کے بعد ہی صحت یاب ہوجانے والے افراد کا بلڈ پلازما لگانا چاہیے تھا جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ ایک شخص کا بلڈ پلازما دوسرے شخص میں منتقل کرنے کے منفی اثرات بھی ہوسکتے ہیں جنہیں مدنظر نہیں رکھا گیا۔

تاہم طبّی ماہرین کے ایک طبقے کا کہنا ہے کہ چین کو اس وقت ناول کورونا وائرس کی وجہ سے شدید ترین ہنگامی صورتِ حال کا سامنا ہے اور اگر ایسے حالات میں کوئی امکانی لیکن غیر مصدقہ علاج سامنے آرہا ہے تو اسے آزمانے میں کوئی قباحت ہر گز نہیں۔ یونیورسٹی آف ہانگ کانگ میں وبائی امراض کے پروفیسر، بنجمن کاؤلنگ نے چین کی اس حکمتِ عملی کو بالکل مناسب قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں مختلف مواقع پر، جب انفلوئنزا کی عالمی وبائیں اپنے عروج پر تھیں، کئی ممالک میں نئے انفلوئنزا سے صحت یاب ہوجانے والوں کا بلڈ پلازما، مریضوں کو لگایا جاچکا ہے لہذا یہ کوئی غیر آزمودہ طریقہ ہر گز نہیں۔

یہ بھی واضح رہے کہ فی الحال ہمارے پاس ناول کورونا وائرس کا کوئی باقاعدہ اور تصدیق شدہ علاج موجود نہیں۔ تاہم اسے قابو میں رکھنے کےلیے ایک طرف نئی ویکسین پر کام جاری ہے تو دوسری جانب پرانے کورونا وائرس (MERS) کےلیے بنائی گئی ویکسین کو بندروں پر آزمایا جارہا ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں ویکسین کی دستیابی اگلے چند ماہ سے لے کر 18 ماہ تک ہی ممکن ہوسکے گی۔

The post ناول کورونا وائرس کا توڑ؛ صحت یاب ہوجانے والوں کا بلڈ پلازما appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/31Y9BNm

کڑی پتہ خون میں شوگر کی مقدار قابورکھنے کے لیے مددگار

نئی دہلی: تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مختلف پکوانوں کا مزہ دوبالا کرنے والا کڑی پتہ خون میں شوگر کی مقدار کو قابو میں رکھنے کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔

دال، سبزی، کڑہی اور بھگار میں استعمال ہونے والا کڑی پتہ نظام انہضام، دل، جلد اور بالوں کے لیے بھی مفید ہیں۔ بھارت سے تعلق رکھنے والی غذائی ماہر نمامی اگروال کا کہنا ہے کہ کڑی پتے میں پائے جانے والے اجزا  اسٹارچ کو گلوکوز میں تبدیل ہونے سے روکتے ہیں جن کی مدد سے خون  میں شوگر کی مقدار قابو رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پتوں میں سوزش کو زائل کرنے اور جراثیموں کا خاتمہ کرنی کی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ کڑی پتے کا باقاعدگی کے ساتھ استعمال کولیسٹرول میں اضافے کو بھی روکنے کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ایک عالمی جریدے میں شایع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چوہوں پر ہونے والے ایک تجربے سے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کڑی پتے میں شامل اجزا انسولین کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کار آمد ہیں۔

The post کڑی پتہ خون میں شوگر کی مقدار قابورکھنے کے لیے مددگار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2HsZyXi

Friday, 14 February 2020

کوما میں بے ہوش رہنے والے مریضوں کو جگانا ممکن

میڈی سن: اب سے چند ماہ قبل ایک ماہر نے حرام مغز میں نیا دماغی گوشہ دریافت کیا تھا اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ دماغ کی گہرائی میں ایک گوشے کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ یہ ’شعور کا سوئچ‘ ہے جسے بجلی کی ہلکی مقدار سے سرگرم کیا جاسکتا ہے۔

اکیسویں صدی کی ہوشربا ترقی کے باوجود اب بھی ہم دماغ کے گوشوں سے واقف نہیں۔ اس ضمن میں یونیورسٹی آف وسکانسن، میڈیسن کے سائنس دانوں نے مکاک بندروں پر دلچسپ تجربات کیے ہیں جس کی تفصیلات جرنل نیورون میں شائع ہوئی ہیں۔ انہوں نے دوا کے ذریعے بے ہوش کیے گئے بندروں کے ایک دماغی گوشے سینٹرل لیٹرل تھیلیمس پر 50 ہرٹز کی فریکوئنسی کی بجلی کی جھماکے دیئے تو وہ مکمل طور پر نارمل ہوکر بیدار ہوگئے۔

تھیلیمس کا گوشہ دماغی جڑ یا اسٹیم کے پاس واقع ہوتا ہے اور یہ سونے، جاگنے، ہوش میں رکھنے اور چاق و چوبند بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن اس تجربے نے ہمیں بتایا کہ آخر دماغ کا وہ کونسا حصہ ہے جو بیداری اور شعور میں اپنا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیق میں استعمال ہونے والے برقیرے یعنی الیکٹروڈز خاص طور پر ڈیزائن کیے گئے تھے۔

تحقیق میں اہم کردار ادا کرنے والے پروفیسر یوری سالمان نے کہا کہ دماغ کے اس باریک سے حصے کو ہم نے عین قدرتی انداز میں بجلی فراہم کی تو جانور جاگ گئے اور جیسے ہی دماغ میں سرگرمی روکی گئی وہ فوری طور پر بے ہوش ہوگئے۔

توقع ہے کہ اس دریافت کے بعد نہ صرف طویل عرصے تک کوما میں بے ہوش رہنے والے مریضوں کو جگانا ممکن ہوگا بلکہ لوگوں کو چاق و چوبند رکھنے والے آلات بھی تیار کیے جاسکیں گے۔

The post کوما میں بے ہوش رہنے والے مریضوں کو جگانا ممکن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » صحت https://ift.tt/2SMIpNy

کھانا نگلنے میں مشکل دور کرنے والا برقی آلہ

 لندن:  چوٹ، فالج یا کسی حادثے کےبعد مریضوں کو لقمہ نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے لیے دوائیں تجویز کی جاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس کا م...